Ayahs 30:1–2(30:2) غلبت الروم ۔ غلبت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب ، مغلوب ہوئی۔ شکست کھائی۔ ہرادی گئی۔ الروم سے مراد سلطنت روم۔ روم کی فوجیں یا خود اہل روم ہیں۔ الروم سے مراد یہاں قدیم رومن ائمپائر کا وہ مشرقی حصہ ہے جو 295 ء میں اس سے کٹ کر ایک مستقل حصہ بن گیا تھا۔ یہ سلطنت 1454 ء تک رہی اس میں شام فلسطین۔ ایشیائے کوچک کے علاقے سب شامل تھے 1454 ء کے بعد یہ سلطنت ترکوں کے قبضہ میں آگئی۔
حکومت روم کی جس شکست کا یہاں ذکر ہے وہ 14، 613 ء میں وقوع پذیر ہوئی ۔ جب مسیح رومیوں کو مجوس ایران کے مقابلہ میں سخت ہزیمت اٹھانا پڑی اور انطاکیہ دمشق کے علاقوں پر ایرانیوں نے قبضہ کرلیا۔ اور ہزاروں عیسائیوں کو یہ تیغ کردیا گیا۔
اس زمانہ میں مکہ میں واضح طور پر مشرکین اور اہل اسلام دو جماعتوں میں بٹ گئے تھے اہل ایران کو فتح پر اہل مکہ شاداں تھے کہ ان کی طرح کے منکرین توحید کو فتح ہوئی ہے۔ اور مسلمان جو اہل روم کے ساتھ ہمدردی رکھتے تھے کہ کم از کم اہل کتاب تو تھے۔ ان کی شکست پر غمگین نظر آتے تھے اس وقوعہ کے تھوڑے عرصہ بعد 615 ء یا 616 ء میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
Ayah 30:3(30:3) فی ادنی الارض : ادنی، دنا یدنو دنو (نصر) سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے بمعنی نزدیک تر۔ بہت قریب اور الارض ملک اور علاقہ۔ یہاں قریب کی سرزمین سے مراد زمین دمش ہے جہاں رومیوں کو 14، 613 ء میں ایرانیوں کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ فی ادنی الارض قریب کی زمین ۔ قریب کا علاقہ ۔ قریب کا ملک۔
غلبھم : غلب مصدر۔ مضاف ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ مضاف الیہ اس کا مرجع اہل روم ہیں۔ غلب قوت کے ساتھ غالب آنا۔ یا مغلوب ہونا۔ یہاں مصدر مجہول ہے اور معنی مغلوب ہونا ہے۔ من بعد غلبھم۔ ان کے مغلوب ہونے کے بعد ان کے ہار جانے کے بعد ۔
سیغلبون : س اگرچہ مستقبل قریب کے لئے ہے لیکن یہاں تاکید کیلئے آیا ہے یعنی رومی ضرور غالب آئیں گے مستقبل قریب کا مفہوم فی بضع سنین میں آگیا ہے۔ ایک مفہوم ادا کرنے کے لئے دو لفظ شان فصاحت کے خلاف ہے۔ وہ ضرور غالب آئیں گے۔
Ayah 30:4(30:4) بضع سنین۔ چند سال۔ بضع (باء کے کسرہ کے ساتھ) وہ عدد جو دس سے الگ کئے گئے ہوں یہ لفظ تین سے لے کر نو تک بولا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک پانچ سے اوپر۔ اور دس سے کم پر۔ بضاعۃ مال کا وافر حصہ جو تجارت کے لئے الگ کیا گیا ہو۔ سرمایہ۔ پونجی۔ ھذا بضاعتنا ردت الینا (12:65) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کردی گئی ہے۔
بضعۃ (باء کے فتح کے ساتھ) ٹکڑہ۔ فلان بضعۃ منی فلاں میرے جسم کا ٹکڑا ہے۔ یعنی نہایت قریبی رشتہ دار ہے۔
للہ الامرحکم اللہ ہی کا ہے یعنی احکام کا اجراء اللہ ہی کے اختیار میں ہے یہاں الامر سے مراد انفاذ الاحکام (اجراء احکام) ہے
من قبل ومن بعد۔ پہلے بھی اور بعد میں بھی۔
یومئذ۔ اس روز ای یوم اذ یغلب الروم فارسا۔ جس روز رومی ایرانیوں پر فتح حاصل کریں گے۔
یفرح المؤمنون بنصر اللہ۔ اللہ کی امداد پر اہل ایمان خوش ہوں گے۔ یہ عین وہ وقت تھا جب ادھر مسلمانوں کو مشرکوں کے مقابلہ میں غزوہ بدر میں نمایاں فتح حاصل ہوئی اور یہی وہ سال ہے جس میں قیصر روم نے زرتشت کا مؤلد تباہ کیا اور ایران کے سب سے بڑے آتشکدے کو مسمار کردیا۔
Ayahs 30:5–6(30:6) وعد اللہ : وعد مصدر مؤکدہ ہے (اسے مصدر مؤکد لنفسہ بھی کہتے ہیں) کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ : وھم من بعد غلبھم سیغلبون ۔ فی بضع سنین ۔ للہ الامر من قبل ومن بعد ، ویومئذ یفرح المؤمنون ۔ بنصر اللہ۔ نفس وعدہ کو متضمن ہے اور مصدر کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے ای وعد اللہ ذلک وعدا۔ یہ کیا ہے اللہ نے وعدہ۔
اس کی اور مثال : صبغۃ اللہ ومن احسن من اللہ صبغۃ (2:138) ، ونصبھا علی انھا مصدر مؤکد لقولہ تعالیٰ (امنا آیۃ 136) ، وہی من المصادر المؤکدۃ لانفسھا کانہ قیل صبغنا اللہ صبغتہ۔ منصوب بوجہ مصدر مؤکد کے ہے اور یہ مصادر مؤکدہ لانفسہا میں سے ہے۔
لایخلف۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب اخلاف (افعال) مصدر وہ خلاف نہیں کرے گا۔
وعدہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ منصوب بوجہ مفعول لا یخلف اللہ کا۔
Ayah 30:7(30:7) ظاھرا۔ کھلا، اوپری، سطحی، ظاہری پہلو، اسم فاعل واحد مذکر۔ تنوین تحقیر اور تخسیس کے لئے ہے۔
Ayah 30:8(30:8) اولم یتفکروا۔ ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے۔ واؤ مقدرہ پر عطف کے لئے ہے۔ لم یتفکروا۔ مضارع مجزوم نفی جحد بلم صیغہ جمع مذکر غائب۔ کیا انہوں نے غور نہیں کیا۔
ما خلق اللہ میں ما نافیہ ہے۔
اجل مسمی۔ موصوف و صفت، مقررہ مدت۔ میعاد معین اس کا عطف بالحق پر ہے ای وباجل مسمی۔
Ayah 30:9(30:9) فینظروا۔برائے عطف سببی۔ ینظروا کا عطف یسیروا پر ہے۔ تاکہ وہ دیکھتے۔
اشد۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ سخت۔ قوۃ تمیز ہے یعنی وہ قوت میں شدید تر تھے۔ قوت میں بڑھے ہوئے تھے۔ منصوب بوجہ خبر کانوا۔
اثاروا ماضی جمع مذکر غائب اثارۃ (افعال) مصدر۔ بمعنی ہل جوتنا۔ بونا۔ اثاروا الارض۔ انہوں نے زمین کو جوتا۔ زمین میں ہل چلائے۔ اثار کا لغوی معنی ہے کسی چیز کو اس طرح متحرک کرنا اور اسے جنبش دیتا ہے کہ اس سے گردو غبار اڑنے لگے۔
اثر۔ نشان ۔ اثر۔ اثارو اثور جمع ۔ علم الآثار۔ اگلی قوموں کی چھوڑی ہوئی یادگاروں کا علم۔
عمروھا : ای عمرو الارض ، عمررا عمارۃ سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب انہوں نے اس کو بسایا۔ انہوں نے اس کو آباد کیا۔ عمر یعمر (باب نصر) سے ۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے انما یعمر مساجد اللہ من امن باللہ ۔۔ (9:18) بیشک اللہ کی مسجدوں کو تو وہ آباد کرتا ہے جو ایمان لاتا ہے خدا پر۔
فما کان اللہ لیظلمہم میں لام لام جحد ہے اس کے بعد ان مقدرہ ہے جس کی وجہ سے منصوب ہے پس اللہ ایسا نہ تھا یا اللہ کی شان یہ نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتا ۔
Ayah 30:10(30:10) اساء وا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے برا کیا۔ اساء ۃ (افعال) مصدر۔
السواے برا فعل۔ اسوء کی تانیث ہے بروزن احسن حسنی۔
ثم کان عاقبۃ الذین اساء والسواے : عاقبۃ (تاء کی فتح کے ساتھ) کان کی خبر مقدم ہے اور السوء اس کا اسم۔ عبارت یوں ہوگی : کانت السوای عاقبۃ الذین اساء وا جنہوں نے برا کیا ان کا انجام برا ہوا۔ اور بعض نے عاقبۃ کی تاء کو ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں عاقبۃ کان کا اسم ہوگا اور السوء یاس کی خبر، ان لوگوں کی عاقبت جنہوں نے برا کیا بہت بری ہوئی اس صورت میں کان کا صیغہ مؤنث ہونا چاہیے تھا یعنی کانت عاقبۃ ۔۔ لیکن عاقبۃ مؤنث غیر حقیقی ہونے کی وجہ سے کان کی تذکیر جائز ہے۔
ان کذبوا بایت اللہ میں ان بمعنی لان۔ بان ۔ لاجل کیونکر۔
کانوا یستھزء ون۔ ماضی استمراری جمع مذکر غائب ۔ وہ استہزا (مذاق) کیا کرتے تھے۔
ان کذبوا بایت اللہ وکانوا بھا یستھزء ون۔ علت ہے حکم بالا کی ۔
Ayah 30:11(30:11) یبدؤا۔ مضارع واحد مذکر غائب بدء یبدؤ بدء (فتح) مصدر سے ابتدائی تخ (رح) یق کرتا ہے۔ یعنی عدم سے وجود میں لاتا ہے۔ نیست سے ہست کرتا ہے۔ ابتداء (افتعال) آغاز۔
یعیدہ۔ مضارع واحد مذکر غائب اعادۃ (افعال) مصدر وہ اعادہ کرتا ہے یا کرے گا۔ وہ دوبارہ پیدا کرتا ہے یا کرے گا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ الخلق کی طرف راجع ہے۔
ترجعون۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ رجع یرجع رجع مصدر (ضرب) سے تم لوٹائے جاؤ گے۔
Ayah 30:12(30:12) یوم۔ فعل محذوف کا مفعول۔ ای اذکر یوم۔ بعد میں آنے والے فعل کا ظرف بھی ہے۔
تقوم الساعۃ۔ قیامت برپا ہوگی۔
یبلس۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ابلاس (افعال) مصدر۔ ناامید ہوں گے۔ چپ ہوں گے۔ رسوا ہوں گے۔ دلیل سے عاجز ہوکر یا غم و یاس کی وجہ سے خاموش ہوجانا ۔ ابلس الرجل اذا سکت وانقطعت حجتہ جب آدمی چپ ہوجائے اور اس کے دلائل ختم ہوجائیں اور وہ مزید کہنے سے عاجز ہوجائے تو کہتے ہیں ابلس الرجل۔ بعض کا خیال ہے کہ ابلیس بھی اسی سے مشتق ہے۔
Ayah 30:13(30:13) لم یکن۔ مضارع نفی جحد بلم۔ اگرچہ مضارع کے ساتھ لم اسے ماضی منفی میں تبدیل کردیتا ہے لیکن یہاں اس کا استعمال تحقیق کے لئے آیا ہے۔ بمعنی تحقیق نہیں ہوں گے ان کے لئے ان کے شریکوں میں سے شفاعت کرنے والے۔
شرکائہم۔ مضاف مجاف الیہ۔ ان کے شریک۔ اصل میں مراد ہے ان کے وہ معبود ان باطل جن کو انہوں نے اللہ کا زریک ٹھہرایا ہوا تھا۔ لم یکن لہم من شرکائہم شفعؤا تحقیق ان کے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے ہوئے معبودوں میں سے ان کی شفاعت کرنے والے نہیں ہوں گے۔ یعنی کوئی بھی ان کی سفارش نہیں کرے گا۔ بصورت فعل ماضی معنی یقین پیدا کر رہا ہے۔
وکانوا بشرکائہم کفرین۔ اس کی مندرجہ ذیل دو صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) یکفرون بالھتھم۔ یعنی وہ خود اپنے شریکوں سے منکر ہوجائیں گے۔
(2) وکانوا فی الدنیا کافرین بسببھم حالانکہ وہ دنیا میں اپنے ان شریکوں کی وجہ سے ہی کافر تھے۔
Ayah 30:14(30:14) یتفرقون۔ مضارع جمع مذکر غائب تفرق (تفعل) مصدر ۔ وہ الگ ہوجائیں گے۔ یعنی مومن الگ۔ کافر الگ۔
Ayah 30:15(30:15) روضۃ : الروض اصل میں اس زمین کو کہتے ہیں جہاں پانی جمع ہو اور سرسبز بھی ہو چناچہ کہا جاتا ہے اراض الوادی وادی میں پانی وافر ہوگیا۔ باغ و سبزہ زار کو روضۃ کہتے ہیں اس کی جمع ریاض ہے قرآن مجید میں روضت آئی ہے۔ مثلاً والذین امنوا وعملوا الصلحت فی روضت الجنت (42:22) روضت الجنت باغات کی پربہار جگہیں۔ یہاں روضہ سے مراد جنت ہے اور تنوین تفخیم (تعظیم و تکریم) کے لئے ہے۔
یحبرون ۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ حبر یحبر حبرا (باب نصر) مصدر۔ ان کو خوش کیا جائے گا۔ ان کی عزت کی جاوے گی۔ ان کو نعمتیں دی جائیں گی۔ الحبر وہ نشان جو عمدہ اور خوبصورت معلوم ہو چناچہ حدیث شریف میں ہے یخرج رجل من النار قد ذھب حبرہ۔ آگ سے ایک آدمی نکلے گا جس کا حسن و جمال اور چہرے کی رونق ختم ہوچکی ہوگی۔ اسی سے روشنائی کو حبر کہا جاتا ہے۔ حبر فلان اس کے جسم پر زخم کا نشان باقی ہے۔ الحبر عالم کو کہتے ہیں اس لئے کہ لوگوں کے دلوں پر اس کے علم کا اثر باقی رہتا ہے۔ اور افعال حسنہ میں لوگ اس کے نقش قدم پر چلتے ہیں اس کی جمع احبار ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ (9:31) انہوں نے اپنے علماء و مشائخ کو اللہ کے سوا خدا بنا لیا ہے۔
علامہ جوہری رقمطراز ہیں :۔ ای ینعمون ویکرمون ویسرون۔ وہ انعام و اکرام سے نوازے جائیں گے اور شاداں وفرحاں ہوں گے۔
Ayah 30:16(30:16) محضرون۔ اسم مفعول جمع مذکر احصضار (افعال) مصدر۔ وہ لوگ جن کو حاضر کیا جائے گا۔
ضیاء القرآن میں ہے :۔ علامہ ابن منظور لسان العرب میں اس (لفظ محضرون) کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :۔
الحاضر القوم النزول علی ماء یقیمون بہ ولا یرحلون عنہ یعنی وہ قوم جو کسی چشمہ پر اقامت گزیں ہوجائے اور وہاں سے کوچ کرنے کا کوئی ارادہ نہ رکھتی ہو۔ اسے اہل عرب الحاضر کہتے ہیں۔ آیت میں بھی المحضرون کا یہی معنی ہے کہ انہیں عذاب جہنم میں مبتلا کردیا جائے گا نہ اس کی میعاد ختم ہوگی اور نہ وہ کسی حیلہ سے وہاں سے راہ فرار اختیار کرنے پر قادر ہوں گے ! یعنی ہمیشہ ہمیشہ اس میں مبتلا رہیں گے۔
اسی لئے علامہ قرطبی نے محضرون کی تفسیر مقیمون سے کی ہے۔
علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) نے فرمایا ہے مدخلون لا یغیبون عنہ۔ اور اہل ایمان کے لئے یحبرون مضارع کا صیغہ استعمال ہوا ہے جو تجدد پر دلالت کرتا ہے یعنی ہر آن انہیں نئی لذت اور ہر لمحہ انہیں نئے اکرام سے نوازا جائے گا اس کے برعکس کفار کے لئے اسم مفعول کا صیغہ ذکر کیا گیا ہے جو دوام اور ثبوت پر دلالت کرتا ہے۔
مولانا اشرف علی تھانوی (رح) نے محضرون کا ترجمہ ” گرفتار “ کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ یہ معنی ہیں ” جدا جدا ہونے کے ‘
Ayah 30:17(30:17) فسبحن اللہ :ترتیب کا ہے ماقبل پر مابعد کی ترتیب کے لئے۔ سبحان مدر ہے اور بوجہ مصدر منصوب ہے اس سے فعل نہیں آتا ۔ اس کی اضافت فعل مفرد کی طرف لازم ہے خواہ وہ اسم ظاہر ہو جیسے سبحان اللہ یا اسم ضمیر ہو جیسے سبحنہ یہ صرف خدا کی شان میں آتا ہے اور اس کے معنی ہیں پاکی بیان کرنا۔ آیت ہذا میں اس سے قبل فعل امر محذوف ہے ای فسبحوا سبحان اللہ پس تم تسبیح پڑھو سبحان اللہ (اس صورت میں سبحان اللہ کا نصب بوجہ امر کے بھی ہوسکتا ہے) ۔
Ayah 30:18(30:18) ولہ الحمد فی السموت والارض یہ جملہ معطوف بھی ہوسکتا ہے اور اس کا عطف جملہ ماقبل پر ہے بمعنی اور (اس کی تسبیح میں یوں بھی کہو) اسی کے لئے ہیں ساری تعریفیں آسمانوں میں اور زمین میں۔ یا یہ جملہ معترضہ ہے۔
وعشیاو۔ اس کا عطف حین تمسون یا حین تصبحون پر ہے ۔ بعد دوپہر۔ بقول امام اصفہانی رحمۃ اللہ کے زوال سے لے کر صبح تک کا وقت۔ اہل لغت سے اس کے کئی معانی منقول ہیں :۔
(1) زوال کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک۔ اسی لئے ظہر اور عصر کو صلوتا العشی بولتے ہیں۔
(2) دن کا پچھلا وقت۔
(3) زوال سے لے کر صبح تک کا وقت۔
(4) نماز مغرب سے لے کر عشاء کی نماز تک کا وقت۔
وحین تظھرون اور جب تم دوپہر گرتے ہو۔ یعنی دوپہر کو۔
فائدہ : آیات 17-18 سے بعض مفسرین نے تسبیح سے مراد نماز لیا ہے۔ اور شام صبح بعد دوپہر اور ظہر سے صلوۃ المغرب، صلوۃ الصبح، صلوۃ العصر اور صلوۃ الظھر مراد لی ہے۔ اس سلسلہ میں آیات 17: 78، و 11:114، اور 20:130 بھی ملاحظہ ہوں۔
Ayah 30:19(30:19) یحی الارض بعد موتھا۔ وہ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ زمین کی موت اور زندگی مجازی ہے۔ مراد یہ ہے کہ خشک بےآب وگیاہ ۔ بنجر زمین کو اپنی قدرت سے سرسبز و شادات کردیتا ہے۔
تخرجون ۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ اخراج (افعال) مصدر سے۔ تم نکالے جاؤ گے (قبروں میں سے)
Ayah 30:20(30:20) ثم ازا : اذا مفاجاتیہ ہے۔ ثم تراخی فی الوقت کے لئے بھی ہوسکتا ہے۔ اور اس صورت میں معنی ہوں گے۔ کچھ مدت گزرنے کے بعد (تم آدمی بن کر زمین میں پھیل گئے ہو) یا یہ تراخی فی الرتبہ کے لئے بھی ہوسکتا ہے۔ بمعنی پھر تم اچانک (مٹی کے پتلے سے) بشر بن کر زمین میں پھیل گئے ہو۔
تنتشرون ۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ انتشار (افتعال) مصدر۔ تم پھیلتے ہو ۔ تم منتشر ہوتے ہو، تم چلتے پھرتے ہو۔
Ayah 30:21(30:21) من انفسکم۔ تم ہی میں سے۔ یعنی تمہاری ہی جنس سے۔
ازواجا۔ جوڑے۔ زوج کی جمع۔ حیوانات کے جوڑے میں سے نر یو یا مادہ ہر ایک کو زوج کہتے ہیں۔ یہاں ازواجا سے مراد بیویاں ہیں (منصوب بوجہ مفعول ہونے کے) ۔
لتسکنوا الیہا۔ لام تعلیل کا ہے۔ تسکنوا مضارع جمع مذکر حاضر۔ لام کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا ہے۔ سکن الی۔ آرام لینا۔ آرام حاصل کرنا۔ لتسکنوا الیہا تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ازواجا کے لئے ہے۔
مودۃ۔ مصدر۔ ودیود (باب سمع) محبت، دوستی، ولی۔ رغبت۔
Ayahs 30:22–23(30:33) منامکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہاری نیند۔ نوم، نیام ، منام ، نوام نیند۔ خواب۔ منام اسم ظرف بھی ہے بمعنی خواب گاہ
ابتغاء کم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ابتغاء (افتعال) مصدر۔ تلاش کرنا۔ چاہنا۔ ابتغاؤکم تمہارا تلاش کرنا۔ تمہارا طلب کرنا۔ تمہارا چاہنا۔
فضلہ۔ مضاف مضاف الیہ ۔ اس کا فضل (یعنی خدا کا فضل) فضل اس عطیہ کو کہتے ہیں جو دینے والے پر فرض نہیں ہوتا۔ یہاں فضل سے مراد رزق، اسباب معاش ہے۔ لقوم یسمعون ۔ ان لوگوں کے لئے جو (گوش ہوش) سے سنتے ہیں۔
Ayah 30:24(30:24) یریکم البرق سے قبل ان مصدریہ مقدرہ ہے ای ومن ایتہ ان یریکم البرق اور اس کی نشانیوں میں سے اس کا تمہیں بجلی دکھانا بھی ہے ان کو حذف کرکے فعل کو مرقوع لایا گیا ہے۔ اگلی آیت میں ہے ومن ایتہ ان تقوم السماء والارض۔
کو فا وطمعا۔ منصوب ہونے کی دو وجوہات ہیں :۔
(1) مضاف کو حذف کرکے مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام لایا گیا ہے ای ارادۃ کووارادۃ طمع اور یہ دنوں مفعول لہ ہیں۔
(2) یہ دونوں حال ہیں بمعنی خائفین وطامعین۔
یریکم البرق خوفا وطمعا۔ اس کا بجلی دکھانا خوف کے ارادہ سے اور طمع کے ارادہ سے یا وہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے خوف کی راہ سے بھی اور امید کی راہ سے بھی (خوف اس امر کا کہ بجلی گرے تو جان و مال کے نقصان کا خطرہ ، اگر بارش برسے تو مسافر کو اپنی حفاظت کی فکر اور اگر زیادہ ہوجائے تو بھی جان و مال و فصلات کے نقصان کا خطرہ وغیرہ وغیرہ)
(اور طمع (امید) یہ کہ بجلی چمکی ہے تو بارش کی امید ہے بارش ہوگی تو خشک زمین سرسبز ہوجائے گی اور فصلیں ہر ی بھری ہوجائیں گی پیداوار زیادہ ہوگی وغیرہ وغیرہ) ۔ بہ باء سببیہ ہے اور ہ کا مرجع ماء ہے۔
Ayah 30:25(30:25) ان تقوم السماء والارض بامرہ میں ان مصدریہ ہے۔ ای قیام السماء والارض بامرہ۔
تقوم مضارع واحد مؤنث غائب ۔ وہ کھڑی ہے۔ وہ قائم ہے۔ یعنی آسمان اور زمین اس کے حکم سے کھڑے ہیں۔ یا قائم ہیں۔
ثم اذا دعاکم دعوۃ من الارض اذا انتم تخرجون : ثم عطف کے لئے ہے اذا شرطیہ ہے اور دوسرا اذا مفاجاتیہ ہے۔ پہلا جملہ شرطیہ ہے دوسرا جزائیہ ہے یہ ساری عبارت معطوف ہے اور اس کا عطف جملہ ماقبل پر ہے۔ ؎
کانہ قیل : ومن ایتہ قیام السماء والارض بامرہ ثم خروجکم من قبورکم بسرعۃ اذا دعاکم۔ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس کے حکم سے آسمان اور زمین کا کھڑے رہنا اور اس کے بلانے پر قبروں سے تمہارا فورا نکل آنا۔
Ayah 30:26(30:26) قنتون۔ اسم فاعل جمع مذکر قانت واحد اطاعت گزار۔ فرمانبردار۔ القنوت کے معنی خشوع و خضوع کے ساتھ اطاعت کا التزام کرنے کے ہیں۔ قنت یقنت قنوت (باب نصر) خاکساری کرنا ۔ اطاعت کرنا۔
Ayah 30:27(30:27) یبدوا الخلق ثم یعیدہ (ملاحظہ ہو آیت 11) ۔
اھون۔ افعل التفضیل کا صیغہ۔ ھان یھون ھونا (نصر) مھان و مھانۃ ذلیل و حقیر ہونا۔ مسکین ہونا۔ اھون بڑا آسان۔ بہت ہی سہل۔
المثل الاعلی : مثل و مثل دونوں ہم معنی ہیں جیسے نقض و نقض۔ یہ دو طرح استعمال ہوتا ہے ایک بمعنی وصف دوسرا بمعنی مشابہ۔ اگرچہ مثل (بمعنی وصف) انسان کے لئے بھی لایا جاتا ہے مگر خدا تعالیٰ سے منسوب صفات کے وہ معنی نہیں جو بشر سے منسوب صفات کے لئے جاتے ہیں۔ المثل کو معرف باللام کرکے صرف خدا کی ذات کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے المثل الاعلی۔ عظیم الشان و صف۔ الوصف لیس لغیرہ۔ ایسا وصف جو کسی دوسرے میں ممکن نہیں۔
مثل ال معرفہ کے ساتھ قرآن مجید میں صرف دو جگہ آیا ہے ایک آیت ہذا میں اور دوسرا (16:60) میں وللہ المثل الاعلی دونوں جگہ بالتخصیص ذات باری تعالیٰ کے وصف کے لئے ہے۔ عظیم الشان وصف صرف اللہ ہی کے لئے ہے ملکا و خلقا۔ مالک کی حیثیت سے بھی اور خالق کی حیثیت سے بھی۔ قتادہ اور مجاہد کا قول ہے کہ یہ صفت لا الہ الا اللہ ہے۔
Ayah 30:28(30:28) ضرب مثلا۔ اس نے ایک مثال بیان کی ہے۔ الضرب کثیر المعانی لفظ ہے۔ اس کے اصل معنی ایک چیز کو دوسری چیز پر واقع کرنا یعنی مارنا کے ہیں مختلف اعتبارات سے یہ لفظ بہت سے معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلا
(1) فاضربوا فوق الاعناق (8:12) ان کے گردنوں کے اوپر مارو، یعنی مار کر ان کی گردنیں اڑا دو ۔
(2) ضرب الارض بالمطر۔ زمین پر بارش کا برسنا۔
(3) ضرب الدراہم (دھات کو کوٹ کر) دراہم میں ڈالنا۔
(4) ضرب فی الارض۔ بمعنی سفر کرنا۔ (کیونکہ انسان پیدل چلتے وقت زمین پر پاؤں رکھتا ہے۔ اسی سے ہے فاضرب لہم طریقا فی البحر (20:77) پھر ان کے لئے سمندر میں خشک راستہ بنا لینا۔
(5) ضرب الحیمۃ۔ خیمہ لگانا۔ کیونکہ خیمہ لگانے کے لئے میخوں کو ہتھوڑے سے زمین ٹھونکا جاتا ہے۔
(6) ضرب اللین۔ اینٹیں چننا۔ ایک اینٹ کو دوسری پر لگانا۔
(7) ضرب المثل۔ کسی بات کو اس طرح بیان کرنا کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہوجائے وغیرہ۔
ضرب لکم مثلا۔ اللہ تمہارے لئے ایک مثال بیان کرتا ہے۔
من انفسکم : ای من احوال انفسکم۔ تمہارے ہی حالات میں سے۔ من ابتدائیہ ہے۔
ہل لکم من ما ملکت ایمانکم من شرکائ۔ صاحب ضیاء القرآن فرماتے ہیں :۔
ہل لکم۔ یہ استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہیں ہوتا۔ لکم خبر مقدم ہے اور من شرکاء مبتدا مؤخر ہے۔ یہاں من زائدہ ہے اور استفہام انکاری ہے ۔ اور من ما ملکت ایمانکم حال ہے اور من شرکاء ذوالحال۔ کیونکہ ذوالحال نکرہ ہے اس لئے اس کا حال پہلے ذکر کیا جاسکتا ہے۔ ما ملکت ایمانکم جو تمہارے دائیں ہاتھوں کی ملکیت ہیں۔ یعنی تمہارے غلام ۔
فی ما رزقنکم۔ ما موصولہ رزقنا ماضی جمع متکلم کم ضمیرمفعول جمع مذکر حاضر اس رزق میں جو ہم نے تمہیں عطا کیا۔
ہل ۔۔ فیما رزقنکم کیا اس رزق میں جو ہم نے تمہیں عطا کیا ہے تمہارے بعض غلام تمہارے شریک ہوتے ہیں ؟
فانتم فیہ سوائ۔ یہ جملہ استفہام انکاری کے جواب میں ہے۔ انتم یا تو معطوف علیہ ہے اور معطوف مقدر ہے۔ ای انتم وھم یعنی تم اور وہ یا بطور تغلیب انتم۔ ما ملکت ایمانکم (ای الممالیک) کو بھی متضمن ہے یعنی تم دونوں۔ احرار و ممالیک فیہ میں واحد مذکر غائب ما رزقنکم کی طرف راجع ہے اور فیہ متعلق سواء ہے۔ سواء برابر۔ مساوی الحقوق۔ ای لا فرق بینکم وبینھم فی التصرف فیہ۔ یعنی تم اور تمہارے غلام اس مال کے تصرف میں یکساں اختیارات رکھتے ہوں۔
تخافونھم : تخافون مضارع جمع مذکر حاضر۔ خوف مصدر۔ (باب فتح) ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ تم ان سے ڈرتے ہو۔ تم ان سے ڈرتے رہو۔ یہ ضمیر انتم سے حال ہے۔ یا اس کی خبر ثانی ہے۔
کخیفتکم۔ کاف حرف جر ہے تشبیہ کے لئے آیا ہے۔ خیفتکم مضاف مضاف الیہ تمہارا ڈر۔ انفسکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے اپنے اشخاص ۔ تمہارے اپنے جی۔ یعنی تمہارے اپنے ہی احرار بھائیوں سے ای کما تخافون انفسکم جیسا تم اپنے ہی احرار بھائیوں سے یعنی اپنے ہی آدمیوں سے ڈرتے ہو۔ ڈر کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) اگر غلاموں کو شریک کریں تو مال میں تصرف اپنی مرضی سے مشکل ہوجائے گا کیونکہ شریک کی رضا مندی لازمی ہے۔
(2) شریک وراثت میں بھی دخل انداز ہوگا۔
(3) یا یہ ڈر کہ شریک جائداد یا ملکیت بانٹ کر نہ لے جائے۔ وغیرہ۔
کذلک : ای مثل ذلک التفصیل الواضح۔ جس طرح ہم نے یہ مثال واضح اور مفصل بتائی ہے ایسے ہی ۔۔
نفصل الایت۔ ہم (اپنی) آیات کو مفصل بیان کرتے ہیں۔
Ayah 30:29(30:29) بل حرف اضراب ہے بمعنی بلکہ۔ یعنی یہ عقل سے تو کام لیتے نہیں بلکہ بےانصافی اور ہٹ دھرمی کے ساتھ اپنی خواہشات کا اتباع کر رہے ہیں۔
یھدی : یھدی یھدی ھدایۃ (ضرب) سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب وہ ہدایت کرتا ہے۔ من یھدی میں من سوالیہ ہے۔ کون ہدایت دے سکتا ہے ؟ کون راہ راست پر لاسکتا ہے ؟
من اضل اللہ : من موصوفہ ہے اضل ماضی صیغہ واحد مذکر غائب۔ اضلال (افعال) مصدر جس کو اللہ نے گمراہ کیا۔ (اللہ کی طرف سے اضلال یا گمراہی ان لوگوں کی کج روی کے لازمی نتیجہ کے طور پر ہے)
مالہم نہیں ہے ان کے لئے (ہم صیغہ جمع باعتبار معنی ہے۔ ایسے لوگوں کا کوئی (حمائیتی) نہ ہوگا۔ ای لمن اضل اللہ تعالیٰ یعنی جن کو (پیہم نافرمانی کے باعث) اللہ گمراہ کر دے) ۔
من نصرین : من نفی کی مزید تاکید کے لئے آیا ہے۔ ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوگا۔
Ayah 30:30(30:30) فاقم :تاکید کے لئے ہے اقم فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تو سیدھا کر تو قائم رکھ۔ اقامۃ (افعال) سے اقام المعوج ٹیڑھی چیز کو سیدھا کرنا کہ اس کی کجی بالکل جاتی رہے۔ اقامۃ الوجہ للشیء کسی چیز کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجانا۔
فاقم وجھک للدین۔ اپنا رخ تمام تر دین کی طرف راست کر۔ یعنی اپنی تمام تر توجہ صرف دین کی طرف مرکوز رکھ۔
حنیفا۔ حال ہے اور اقم میں ضمیر فاعل اس کا ذوالحال ہے الحنف کے معنی گمراہی سے رخ پھیر کر ہدایت اور استقامت کی طرف مائل ہونے کے ہیں۔ جس طرح الجنف کے معنی استقامت سے گمراہی کی طرف مائل ہونے کے ہیں۔
حنیف بروزن فعیل، صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ جو صرف راہ حق کو پکڑے اور سب باطل راہوں سے رخ موڑ لے۔ قرآن مجید میں اور جگہ ہے ما کان ابراہیم یھودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما (3:67) ابراہیم نہ یہودی تھے ۔ نہ نصرانی بلکہ تمام باطل راہوں سے ہٹ کر راہ راست والے مسلم تھے۔
فطرت اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کی فطرت۔ فطرت سے مراد وہ معرفت الٰہی ہے جو تخلیقی طور پر انسان کے اندر ودیعت کی گئی ہے۔ معرفت الٰہی کی وہ استعداد جو انسان کی جبلت میں پائی جاتی ہے چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیہا دین اللہ تعالیٰ فطرت الٰہی جس پر خداوند تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا وہ دین اللہ ہے یعنی جبلۃ انسان اللہ کے دین پر پیدا کیا گیا ہے
عرب جب کسی کام پر کسی کو برانگیختہ کرتے ہیں تو فعل کو حذف کرکے اس کے مفعول کے ذکر پر اکتفاء کرتے ہیں۔ کلام میں اس طرح جو زور پیدا ہوتا ہے وہ اظہار فعل سے زیادہ ہوتا ہے یہاں بھی فطرۃ الللہ علی سبیل الاغراء (برانگیختہ کرنا) مطلوب ہے۔
تقدیر کلام یوں ہوگی ! الزموا فطرۃ اللہ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی فطرت کو مضبوطی سے پکڑ لو اور اس پر کاربند ہوجاؤ فطرۃ کا نصب بوجہ فعل محذوف کا مفعول ہونے کے ہے۔ ای اتبع فطرۃ اللہ۔
فطر الناس۔ فطر فعل ماضی مرتبہ طول میں پھاڑنے کے ہیں سو لغوی لحاظ سے فطر کے مفہوم میں پھاڑنے کے معنی ضرور ہونا چاہیے۔ فطر کو پیدا کرنے کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ وہ بھی عدم کے پردہ کو پھاڑ کر وجود میں لانا ہے۔ لہٰذا فطر الناس : اس نے لوگوں کو پیدا کیا اور تکاد السموت یتفطرن من فوقھن (42:5) کچھ بعید نہیں کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑے۔ اور اذا السماء انفطرت (82:1) جب آسمان پھٹ جائے۔ اسی سے ہے فطرۃ بمعنی تخلیق، بناوٹ۔ بنائی ہوئی چیز۔ نیچر۔ فطرت۔
ذلک اس کا مشار الیہ یا دین ہے جس کی طرف تمام تر توجہ مبذول کرنے کی تاکید کی گئی ہے یا وہ فطرۃ اللہ جس کو مضبوطی سے پکڑنے اور اس پر کاربند رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
الدین القیم۔ موصوف و صفت۔ القیم درست۔ ٹھیک۔ سیدھا جس میں کوئی کجی نہ ہو۔ اور اگر اسے بمعنی المقوم لیا جائے تو (ایسا دین) جو معاش و معاد اور دنیا و آخرت کو درست کرنے والا ہے۔
قیم صفت مشبہ کا صیغہ بروزن فیعل بہ اجوف وادی ہے۔ اور قوم مصدر سے ہے فیعل کے وزن پر یہ قیوم ہوا۔ واؤ اور ی اکٹھے ہوگئے پہلا حرف ساکن ہے واؤ کو یاء میں تبدیل کیا دو یاء اکٹھے ہوگئے یاء کو یاء میں مدغم کیا۔ قیم ہوگیا۔ اس کی مثال سید ہے۔
Ayah 30:31(30:31) منیبین۔ اسم فاعل جمع مذکر ۔ منصوب۔ منیب واحد۔ انابۃ افعال مصدر نوب مادہ۔ ہر طرف سے مڑ کر اللہ کی طرف لوٹنے والا۔ اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ناب ینوب نوبۃ (نصر) کسی چیز کا بار بار لوٹنا۔ اسی سے ہے نوبت بمعنی باری ۔
منیبین یا تو اقم کی ضمیر فاعل سے حال ہے یا الناس سے حال ہے اور دریں وجہ منصوب ہے۔
اتقوہ۔ فعل امر جمع مذکر حاضر ہ ضمیر واحد مذکر غائب (جس کا مرجع اللہ ہے) تم اس سے ڈرو۔ اتقاء (افتعال) مصدر مادہ وقی باب افتعال میں واؤ کو تاء میں تبدیل کرکے تاء میں مدغم کیا گیا۔
Ayah 30:32(30:32) من الذین فرقوا وینھم یہ جملہ من المشرکین سے بدل ہے من (حرف جار) عادۃ آیا ہے ای لاتکونوا من المشرکین الذین فرقوا دینھم یعنی ان مشرکین میں سے مت نبو جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور خود گروہ گروہ ہوگئے۔ اکثر مفسرین کے نزدیک ان لوگوں سے مراد یہود و نصاری ہیں کہ نہ صرف فروعات میں کئی فرقوں میں بٹ گئے ہیں بلکہ منہیات میں بھی مختلف گروہوں میں منقسم ہوگئے ہیں۔
فرقوا ماضی جمع مذکر غائب تفریق (تفعیل) مصدر ۔ انہوں نے ٹکڑے کر دئیے۔
وکانوا شیعا : شیعۃ کی جمع ہے ۔ بمعنی فرقے۔ گروہ۔ شیعا بوجہ کانوا کی خبر کے منصوب ہے ۔ اور وہ گروہ گروہ ہوگئے۔
حزب۔ گروہ ۔ جماعت۔ احزاب جمع ۔
لدیہم : لدی مضاف ہم جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ ان کے پاس۔
فرحون : مسرورن۔ خوش ۔ فرحاں۔ اتراتے ہوئے۔ کل حزب بما لدیہم فرحون یا یہ جملہ معترضہ ہے۔ یا موضع نصب میں ہے اور شیعا کی صفت ہے۔
Ayah 30:33(30:33) مسن۔ ماضی واحد مذکر غائب اس نے چھوا ۔ وہ لگ گیا۔
دعوا ماضی جمع مذکر غائب۔ الناس کی رعایت سے جمع کا صیغہ آیا ہے۔ اصل میں دعو وا تھا۔ واؤ متحرک اس کا ما قبل مفتوح اس کو الف سے بدلا۔ اب الف اور واؤ دو ساکن جمع ہوئے اس لئے الف کو حذف کرلیا گیا۔ دعوا رہ گیا۔ انہوں نے پکارا۔ یہاں مس اور دعوا ماضی کے صیغے حال کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں ۔ جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو اسی کی طرف رجوع ہوکر پکارنے لگتے ہیں۔ دعاء مصدر ہے د ع و مادہ۔
اذانھم : اذاق ماضی واحد مذکر غائب۔ اذاقۃ (افعال) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (جب) اس نے ان کو چکھایا۔ یا (جب) وہ ان کو چکھاتا ہے ۔ منہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب اللہ کی طرف راجع ہے۔ یعنی اپنی طرف سے ) اپنی جانب سے جیسے اور جگہ ارشاد ہے ۔ ولئن اذقنا الانسان منا رحمۃ (11:9) اور اگر ہم انسان کو اپنے پاس سے نعمت بخشیں۔
رحمۃ۔ مفعول ہے اذاقہم کا۔ پھر جب وہ اپنی جناب سے ان کو رحمت سے نوازتا ہے۔
اذا فریق منھم۔ میں اذا مفاجاتیہ ہے تو یکایک ان میں سے کا ایک گروہ۔
Ayah 30:34(30:34) لیکفروا بما اتینھم میں لام کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) یہ لام امر کا ہے اور تہدید اور دھمکی کے معنی دیتا ہے جیسے کسی کو غصہ سے کہا جاتا ہے۔ اعصنی ما استطعت تو میری نافرمانی کرلے جتنی کرسکتا ہے (انجام کار تجھے اس کا مزہ چکھاؤں گا) یہاں معنی یہ ہیوں گے کہ بیشک وہ کفر کی روشن اختیار کرلیں۔ اور چند روزہ زندگی میں مزے اڑالیں۔ لیکن جب ان کو اپنا انجام معلوم ہوگا تو پچھتائیں گے مگر بےسود۔ لفظی ترجمہ : وہ کرلیں ناشکری اس نعمت کی جو ہم نے ان کو عطا کی ہے۔
(2) یہ لام، لام عاقبت ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ کہ عاقبت کار وہ ناشکری کریں اس نعمت و رحمت کی جو ہم نے ان کو عطا کی ۔ مثال ملاحظہ ہو ؛ 28ـ:8) ۔ لیکون لہم عدوا وحزنا۔
(3) لام کی ہے یعنی کی کے معنی دیتا ہے ۔ تاکہ : جیسے جاء کی یسئل وہ آیا تاکہ پوچھے۔
فتمتعوا : تمتعوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تمتع (تفعیل) مصدر سے۔ تم فائدہ اٹھالو۔ تم لطف اندوز ہولو۔ مزے لے لو۔ امر تہدید کیلئے۔ یعنی اب تم دنیا کی زندگی کے لطف اٹھالو (عنقریب تمہیں اس شرک اور ناشکری کا مزہ چکھنا ہی ہوگا) ۔
فتمتعوا فسوف تعلمون میں غیبت سے خطاب کی طرف التفات ہے۔ اور یہ ان کے شرک اور ناشکری کے انجام کی شدت کو ان کے ذہن نشین کرانے کے لئے ہے۔
Ayah 30:35(30:35) ام۔ منقطعہ ہے۔ اضراب کے معنی میں ہے اور استفہام انکاری کو بھی شامل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ شرک اور ناشکری کا ارتکاب کرتے ہیں جو بزاتہ گناہ عظیم ہے۔ اس پر مستزادیہ کہ اس کے لئے ان کے پاس کوئی دلیل بھی تو نہیں ہے۔
سلطانا۔ بحالت نصب بوجہ مفعول انزلنا۔ سلطان دلیل ۔ برہان ۔ حجت ۔ سند۔ زور۔ طاقت۔
بما کانوا بہ یشرکون ۔ یاء سببیہ ہے۔ ما کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) ما۔ مصدریہ ہے اس صورت میں بہ میں ضمیر واحد مذکر غائب اللہ کی طرف راجع ہے۔
(2) ما۔ موصولہ ہے اور ضمیر ہ اس چیز کے لئے ہے جس کو وہ اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے۔
پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا۔ کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل یا حجت ایسی نازل کی ہے جو ان کے خدا کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے۔
دوسری صورت میں ترجمہ ہوگا : ۔ کیا ہم نے ان کو کوئی ایسی سند یا دلیل نازل کی ہے کہ جو ان کو اس چیز کے متعلق بتائے جس کو وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں۔
فائدہ : سابقہ آیت میں غیبت سے خطاب کی طرف التفات ضمائر تھا۔ اب پھر خطاب سے غائب کی طرف التفات ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے اظہار کے لئے کہ وہ لوگ اس قابل ہی نہیں کہ ان سے خطاب کیا جائے۔
Ayah 30:36(30:36) فرحوا بھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب رحمۃ کی طرف راجع ہے تو وہ اس سے خوش ہوجاتے ہیں۔
تصیبھم۔ مضارع مجزوم (بوجہ عمل ان) واحد مؤنث غائب اصابۃ (افعال) مصدر۔ وہ پہنچتی ہے۔ نازل ہوتی ہے یا آلیتی ہے ۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (اگر) انہیں (کوئی تکلیف) پہنچتی ہے۔
بما۔ میں ب سببیہ ہے اور ما موصولہ ہے۔
اذاہم میں اذا مفاجاتیہ ہے۔ تو وہ۔ تو یکایک وہ۔ تو فوراً وہ۔ یقنطون مضارع جمع مذکر غائب قنط یقنط قنوط (سمع) سے۔ وہ ناامید ہوجاتے ہیں ۔ وہ مایوس ہوجاتے ہیں۔
Ayah 30:37(30:37) یقدر مضارع واحد مذکر غائب قدر (باب ضرب) مصدر سے۔ وہ تنگ کرتا ہے۔ مقدار مقرر کردیتا ہے۔ اندازہ مقرر کردیتا ہے۔ وہ جچاتلا ہے۔ بسط کی ضد ہے۔
Ayah 30:38(30:38) فات۔ پس تو دے۔ فعل امر واحد مذکر حاضر ایتاء (افعال) مصدر ۔ مصدر اتی یؤتی سے ۔ یہاں خطاب حضور ﷺ سے ہے اور آپ کی وساطت سے ساری امت کے ان اشخاص کو ہے جن کو کھلی روزی دی گئی ہو۔ لمن بسط لہ رزقہ۔
ابن السبیل۔ راہی، مسافر۔
یریدون وجہ اللہ۔ جو اللہ کی رضا کے طالب ہیں۔ وجہ اسم مفرد۔ مضاف اللہ مضاف الیہ۔ اللہ کی خوشنودی۔ اللہ کی رضا۔ اللہ کا ثواب۔ اولئک۔ وہ لوگ جو اللہ کی رضا کی خاطر (اپنے مال سے) قرابت داروں کا حق ادا کرتے ہیں اور مساکین و مسافروں کو دیتے ہیں۔ المفلحون۔ اسم فاعل جمع مذکر ۔ افلاح مصدر۔ فلاح پانے والے۔ مراد حاصل کرنے والے۔
Ayah 30:39(30:39) ربا۔ مادہ ربو سے مشتق ہے ربوۃ بلند جگہ یا ٹیلے کو کہتے ہیں ربا یربوا (باب نصر) رباء وربوۃ مصدر۔ مال کے متعلق ہو تو بمعنی مال کا بڑھنا۔ مال کا زیادہ ہونا۔ بلندی کے متعلق ہو تو ٹیلہ پر چڑھنا۔
آیت شریف ہے فاذا انزلنا رلیہا الماء اھتزت وربت (22:5) پھر جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو وہ لہلہانے اور ابھرنے لگتی ہے۔
الربا زیادتی۔ سود۔ بیاج۔ قرآن مجید میں ہے یمحق اللہ الربوا ویربی الصدقات (2:276) اللہ تعالیٰ سود کو بےبرکت کردیتا ہے اور خیرات کو بڑھاتا ہے۔ وما اتیتم من ربا۔ اور جو (روپیہ) تم بیاج پر دیتے ہو۔
لیربوا۔ لام تعلیل کا ہے۔ یربوا مضارع منصوب بوجہ ان محذوف ای لان یربوا۔ تاکہ وہ بڑھے۔
تفسیر ماجدی میں ہے :۔ نیوتہ وغیرہ کے نام سے جن رقموں سے برادی کی تقریبات میں اکثر شرکت اس امید سے کی جاتی ہے کہ وہ رقم زائد ہوکر پھر اپنے پاس آجائے گی اکثر محققین نے یہاں یہی مراد لی ہے۔
فی اموال الناس۔ دوسرے لوگوں کے مال میں مل کر۔
وما اتیتم من زکوۃ تریدون وجہ اللہ۔ یہاں زکوۃ سے مراد اصطلاحی زکوۃ مراد نہیں ہے کیونکہ شریعت کی یہ اصطلاح تو بہت بعد کی ہے بلکہ مطلق صدقہ مراد ہے جو اللہ کی رضا جوئی کے لئے دیا جائے۔ (الماجدی)
اولئک ای الذین یؤتون الزکوۃ لوجہ اللہ جو اللہ کی رضا کے لئے صدقہ دیتے ہیں۔
المضعفون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ المضعف واحد اضعاف مصدر ضعف مادہ۔ چند در چند کرنے والے ۔ کئی گناہ بڑھانے والے۔ باب افعال کے خواص میں سے صیرورت ہے یعنی صاحب ماخذ ہونا۔ المضعف ای صار ذا ضعف وہ کئی گنا کا مالک ہوگیا ۔ المضعفون (تو یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دئیے ہوئے صدقہ کے عوض) کئی گنا والے بن گئے۔
Ayah 30:40(30:40) ہل من شرکائکم : ہل استفہام انکاری ہے۔ من تبعیضیہ ہے۔ شرکائکم مضاف مضاف الیہ ہے۔ تمہارے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی ایک۔
من ذلکم۔ ان کاموں میں سے کوئی ۔ یہ شئی کی صفت ہے من تبعیض کا ہے کوئی شئی۔ (یہاں صفت کو موصوف سے مقدم لایا گیا ہے) شئی یفعل کا مفعول ہے کیا تمہارے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی جو ان کاموں میں کچھ بھی کرسکتا ہو۔
تعالیٰ : ماضی واحد مذکر غائب تعالیٰ (تفاعل) مصدر سے۔ بمعنی وہ برتر ہے۔ وہ بلند ہے۔ باب تفاعل مبالغہ کے لئے لایا گیا ہے
عما : عن اور ما سے مرکب ہے ما موصولہ ہے۔ اس چیز سے جسے۔
یشرکون۔ (جیسے) وہ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اشتراک (باب افعال) سے مصدر ۔