30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 30:1
Ayahs 30:2–3

غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader

مغلوب ہوگئے روم والے

فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader

زمین کے قریب والے حصے میں مغلوب ہوگئے،

اہل فارس پر رومیوں کے غالب ہونے کی پیشین گوئی اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا ابی بن خلف سے ہار جیت کی بازی لگانا حضرات مفسرین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ان آیات کا سبب نزول ذکر فرماتے ہوئے لکھا ہے کہ فارس اور روم کے درمیان جنگ ہونے کی صورت بن گئی تھی، اہل فارس جن کا بادشاہ کسریٰ تھا، یہ لوگ مشرک تھے، اور رومیوں کا بادشاہ قیصر تھا یہ لوگ اہل کتاب تھے۔ اہل اسلام کی خواہش تھی کہ روم والے فارس پر غالب ہوجائیں کیونکہ اہل روم اہل کتاب تھے اور مشرکین کی خواہش تھی کہ فارس والے اہل روم پر غالب ہوجائیں کیونکہ وہ اہل شرک تھے، قریش مکہ کے ہم مذہب تھے، کسریٰ نے بھی اپنا لشکر بھیجا اور قیصر نے بھی، اور مقام اذرعات اور بصریٰ پر دونوں لشکر کی مڈبھیڑ ہوئی۔ یہ شام کا علاقہ ہے جو سرزمین عرب سے قریب ہے جس میں مسلمان رہتے تھے۔ جنگ کے نتیجہ میں اہل فارس رومیوں پر غالب آگئے جب یہ خبر پھیلی تو مسلمانوں کو رنج ہوا اور کفار مکہ نہ صرف یہ کہ خوش ہوئے بلکہ انہوں نے مسلمانوں سے یہ بھی کہا کہ تم اہل کتاب ہو اور نصاریٰ یعنی رومی بھی اہل کتاب ہیں اور ہمارے بھائی اہل فارس تمہارے رومی بھائیوں پر غالب آگئے، اس سے معلوم ہوا کہ اگر تم نے ہم سے جنگ کی تو ہم بھی تم پر غالب ہوجائیں گے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں جن میں بتادیا کہ عنقریب ہی رومی لوگ اہل فارس پر چند سال میں غالب ہوجائیں گے۔ یہ پیشین گوئی فرماتے ہوئے لفظ بِضْعِ سِنِیْنَ فرمایا ہے، لفظ بِضْعِ عربی زبان میں تین سے لے کر نو تک کے عدد کے لیے بولا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے بتادیا کہ جس دن اہل روم اہل فارس پر غالب ہوں گے اس دن اہل ایمان خوش ہوں گے۔ جب مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں تو ابوبکر صدیق ؓ نے کفار مکہ سے کہا کہ تم آج اس بات پر خوش ہو رہے ہو کہ تمہارے ہم مذہب غلبہ پاگئے، تم خوشی نہ مناؤ اللہ کی قسم ہم فارس پر غالب ہوں گے جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں خبر دی ہے۔ اس پر ابی بن خلف نے کہا کہ تم جھوٹ کہتے ہو، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جواب میں فرمایا کہ اے اللہ کے دشمن ! تو جھوٹا ہے، چل تو مشارطہ کرلے، یعنی ہم اور تم اپنے درمیان ایک میعاد مقرر کرلیں اور دس دس اونٹ لینے دینے کی ذمہ داری قبول کرلیں، اگر اس مدت میں رومی فارس پر غالب آگئے تو مجھے دس اونٹ دے گا اور اگر اہل فارس غالب ہوگئے تو میں دس اونٹ دوں گا آپس میں اس کا معاہدہ کرلیا گیا اور تین سال کی مدت مقرر کرلی گئی۔ حضرت ابو بکرصدیق ؓ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جو معاملہ اور معاہدہ کیا تھا وہ خدمت عالی میں پیش کردیا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تو بِضْعِ سِنِیْنَ فرمایا ہے جس میں تین سے لے کر نو سال کے درمیان رومیوں کے غالب ہونے کی خبر دی ہے لہٰذا تم ایسا کرو کہ مدت بڑھا لو جو آپس میں لینا دینا طے کیا ہے اس میں بھی اضافہ کرلو۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے پھر ابی بن خلف سے ملاقات کی ابی نے دیکھتے ہی کہا کہ تم نے جو شرط باندھی ہے اس پر نادم ہو رہے ہو، حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے فرمایا میں نادم نہیں ہوں اپنی بات پر قائم ہوں بلکہ مجھے مدت اور اونٹوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ اس کے بعد مدت مقررہ کو آپس میں طے کرکے نو سال کردیا گیا اور بجائے دس دس اونٹ دینے کے ہر جانب سے سو سو اونٹ دینے کی بات ہوگئی۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ سات سال کے اندر ہار جیت ہونے پر معاہدہ و معاملہ کیا گیا تھا ابی بن خلف کو یہ خوف ہوا کہ کہیں ابوبکر ؓ مکہ معظمہ سے باہر چلے جائیں، وہ ان سے آکر کہنے لگا کہ مجھے ضامن دے دو ، اگر شرط میں تم ہارے تو تمہارے ضامن سے مقررہ تعداد میں اونٹ لے لوں گا، اس پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے بیٹے 1 ؂ عبد اللہ کو ضامن بنا دیا (کچھ عرصہ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لے آئے) اس کے بعد ابی بن خلف کو مکہ معظمہ سے نکلنے کی ضرورت پیش آئی، وہ قریش مکہ کے ساتھ جنگ احد کے موقع پر مکہ معظمہ روانہ ہونے لگا، اس پر ابی بن خلف سے ابوبکر ؓ نے کہا تو مجھے ضامن دے دے اگر تیری ہار ہوجائے تو تیرے ضامن سے سو اونٹ لے لوں، چناچہ اس نے ایک شخص کو ضامن بنا دیا اس کے بعد یہ ہوا کہ واقعہ حدیبیہ کے پہلے سال اہل روم اہل فارس پر غالب آگئے جبکہ مشارطہ اور معاہدہ کو چھ سال گزر گئے تھے اور ساتواں سال شروع ہوچکا تھا (ابی بن خلف زندہ نہ تھا اس سے پہلے مقتول ہوچکا تھا) رومیوں نے جو اہل فارس پر غلبہ پایا تو اس سے حضرت ابوبکرصدیق ؓ کی جیت ہوگئی اور ابی بن خلف کے وارثوں سے سو اونٹ وصول کرلیے گئے۔ حضرت ابوبکرصدیق ؓ یہ مال لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس مال کو صدقہ کردو۔ 2 ؂ چونکہ مذکورہ مشارطہ قمار یعنی جوا ہے اس لیے آنحضرت ﷺ نے اس کو صدقہ کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ جس وقت معاہدہ کیا تھا اس وقت قمار یعنی جوا ممنوع نہ تھا، جب مال وصول ہوا اس وقت قمار کی حرمت نازل ہوچکی تھی، یہ وجہ صدقہ کا حکم فرمانے کی سمجھ میں آتی ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت تک حرمت نازل نہ ہوئی ہو یوں ہی مسلمانوں کی عام ضرورتوں میں خرچ کرنے کا حکم فرمایا ہو۔ اور بعض روایات میں اس کے لیے جو لفظ حرام وارد ہوا ہے اگر روایۃً صحیح ہو تو مکروہ اور ناپسندیدہ کے معنی میں لیا جائے گا۔ (کما قال صاحب الروح) (لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ بَعْدُ ) (اللہ ہی کے لیے اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی) یعنی جو کچھ پہلے ہوا کہ اہل فارس غالب ہوئے اور رومی مغلوب ہوئے اور جو اس کے بعد ہوگا کہ رومی غالب ہوں گے اور اس کے علاوہ جو بھی کچھ ہوگا وجود میں آئے گا وہ 1 ؂ معالم التنزیل میں عبد اللہ بن ابی بکر ؓ اور روح المعانی میں عبد الرحمن بن ابی بکر ؓ ہے۔ 2 ؂ یہ تفصیل ہم نے معالم التنزیل جلد 3 ص 475 سے نقل کی ہے، اس سلسلہ میں اور بھی متعدد روایات ہیں جنہیں حافظ ابن کثیر ؓ نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے، روح المعانی میں سنن ترمذی سے نقل کیا ہے کہ غزوہ بدر کے موقعہ پر رومیوں نے اہل فارس پر غلبہ پایا، امام ترمذی ؓ نے اس کی سند کو حسن بتایا ہے، غزوۂ بدر 2 ھ میں ہوا تھا اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے یوں کہا جائے گا کہ حضرت ابو بکرصدیق ؓ نے ابی بن خلف ہی سے سو اونٹ وصول کیے کیونکہ ابی بن خلف کی موت رسول اللہ ﷺ کے نیزہ مارنے سے ہوئی تھی، یہ واقعہ غزوہ احد کا ہے جو 3 ھ میں پیش آیا تھا۔
Ayahs 30:4–5

فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader

اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب چند سال میں غالب ہوجائیں گے۔ اللہ ہی کے لیے اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور ایمان والے اس دن خوش ہوں گے

بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader

اللہ کی مدد کی وجہ سے۔ وہ مدد فرماتا ہے جس کی چاہے اور وہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔

سب اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار سے ہوگا اور اسی کی قدرت کا مظاہرہ ہوگا۔ (وَ یَوْمَءِذٍیَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ بِنَصْرِ اللّٰہِ ) (اور جس دن رومی اہل فارس پر غالب ہوں گے مومن بندے اللہ کی مدد کے ساتھ خوش ہوں گے) مومنین کی خوشی ایک تو اس اعتبار سے ہوگی کہ انہوں نے کفار مکہ کو جو بتایا تھا کہ عنقریب اہل روم اہل فارس پر غالب ہوں گے اس بات کی سچائی سب کے سامنے آجائے گی۔ اور یوں بھی خوشی ہوگی کہ انہی دنوں میں بدر کا واقعہ پیش آئے گا خوشی کے اسباب جمع ہوجائیں گے، لفظ بِنَصْرِ اللّٰہِ کا تعلق ان سب باتوں سے ہوسکتا ہے کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ کی مدد ہوئی۔ (یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ ) (وہ جس کی چاہے مدد فرمائے) جسے چاہے غالب کرے جسے چاہے مغلوب کرے۔ اس میں مسلمانوں کی آئندہ مدد ہونے کی طرف اشارہ ہوگیا، چناچہ بعد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے برابر مدد ہوتی رہی۔ (وَ ھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ) (اللہ زبردست ہے رحم فرمانے والا ہے) جسے چاہے غلبہ دے دے اور جس پر چاہے رحم فرما دے کوئی اسے روکنے والا نہیں۔
Ayah 30:6

وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader

اللہ نے وعدہ فرمایا ہے۔ اللہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں فرماتا۔ اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے،

(وَعْدَاللّٰہِ ) (اللہ نے وعدہ فرمایا ہے) (لَا یُخْلِفُ اللّٰہُ وَعْدَہٗ ) (اللہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں فرماتا) (وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ) (اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے) نہ ان کو اللہ کے قادر اور مطلق ہونے کا علم ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین ہے، محض ظاہری اسباب کو دیکھتے ہیں، خالق کائنات جل مجدہ کی صفات، قدرت، عزت اور رحمت اور صدق الوعد کو نہیں جانتے۔
Ayah 30:7

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader

یہ لوگ دنیا والی زندگی کے ظاہر کو جانتے ہیں اور وہ آخرت سے غافل ہیں۔

جنہیں اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل نہیں دنیاوی علم کے باوجود جاہل ہیں (یَعْلَمُوْنَ ظَاھِرًا مِّنَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا) (یہ لوگ دنیا والی زندگی کے ظاہر کو جانتے ہیں) (وَ ھُمْ عَنِ الْاٰخِرَۃِ ھُمْ غٰفِلُوْنَ ) (اور وہ آخرت سے غافل ہیں) یہاں جن لوگوں کے حق میں (لَا یَعْلَمُوْنَ ) فرمایا انہی کے حق میں (یَعْلَمُوْنَ ظَاھِرًا مِّنَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا) بھی فرما دیا، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور اس کے تصرفات کو نہ جاننا اور اس کی معرفت حاصل نہ کرنا یہ جہالت ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات کی معرفت حاصل نہ ہو اور دنیاوی زندگی کے آلات اور اسباب کو جانتے ہوں نئی نئی چیزیں ایجاد کرتے ہوں دنیاوی ترقی میں آگے بڑھ گئے ہوں اور مال جمع کرنے کے طریقوں سے واقف ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کو نہ جانتے ہوں اور آخرت سے غافل ہوں ( جہاں دائمی زندگی ملے گی جس کی خبر اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور رسولوں نے دی ہے) تو ایسے لوگ اصحاب علم نہیں ہیں۔ انسان کی اصل ضرورت آخرت کے عذاب سے بچنا اور جنت کی نعمتوں سے مالا مال ہونا ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان نہ لایا اور اپنی آخرت کے لیے فکر مند نہ ہوا وہ شخص دنیا کے اسباب کو کتنا ہی جانتا اور سمجھتا ہو صاحب علم اور صاحب عقل نہیں ہے۔ سورة آل عمران میں فرمایا : (اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّھَارِ لَاٰیٰتِ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِھِمْ وَ یَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) (بلاشبہ آسمانوں اور زمینوں کے پیدا فرمانے میں ضرور نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے، جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے ہوئے بھی بیٹھے بھی اور لیٹے بھی، اور وہ آسمانوں اور زمینوں کے بارے میں فکر کرتے ہیں) اس آیت شریفہ میں ان لوگوں کو عقل والا فرمایا ہے جو اللہ کی یاد میں لگے رہتے ہیں اور آسمان و زمین کی تخلیق کے بارے میں فکر کرتے ہیں یعنی ان کے وجود کو دیکھ کر خالق تعالیٰ شانہ کی ذات اور صفات کی معرفت حاصل کرتے ہیں، جو لوگ دنیا ہی پر دل دئیے ہوتے ہیں خواہ وہ کیسی ہی مشینیں ایجاد کرتے ہوں اور دنیا کو ترقی دینے میں مشہور ہوں وہ حقیقی صاحب عقل نہیں ہیں۔ سورة زمر میں فرمایا (قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ اِِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ ) (آپ فرما دیجیے کیا وہ لوگ برابر ہیں جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے پس عقل والے ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں) جس کا علم اللہ تعالیٰ کی توحید نہ سکھائے اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانے پر آمادہ نہ کرے اور آخرت کا فکر مند نہ بنائے اس کا دنیاوی علم اس لائق نہیں ہے کہ اسے علم کہا جائے۔
Ayah 30:8

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے نفسوں میں غور نہیں کیا، اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو ان دونوں کے درمیان ہے پیدا نہیں فرمایا مگر حق کے ساتھ اور ایک معینہ مدت تک، اور بلاشبہ بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔

آسمان و زمین کی تخلیق میں فکر کرنے کی تلقین قرآن کریم کے اولین مخاطبین مشرکین عرب تھے۔ ان آیات میں ان کو ان کے بعد آنے والے پوری دنیا جہاں کے انسانوں کو غور و فکر کی دعوت دی ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ ان لوگوں کو وجود بخشا، یہ سب یوں ہی نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے یعنی ان کے پیدا فرمانے میں بڑی حکمتیں ہیں اور بات یہی ہے کہ ان کو ایک معین مدت تک کے لیے وجود بخشا ہے، یہ سب چیزیں خالق کائنات کے پہچاننے کے لیے ہیں، اس وجود کی بقاء کے لیے ایک مدت معین ہے، جب قیامت آئے گی تو آسمان پھٹ جائے گا، زمین پھیلا دی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر ڈال دے گی، پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے، زندے مرجائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی ہوگی اور اعمال کی جزا اور سزا سامنے آئے گی، جس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیان کی کائنات کو پیدا فرمایا ہے جس میں بنی آدم بھی ہیں اس نے بلاحکمت پیدا نہیں فرمایا، اس نے زندگی بخشی پھر موت دے گا پھر زندہ فرمائے گا، یہ ہونا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کے جو مومن بندے ہیں وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور بہت سے لوگ آخرت کو نہیں مانتے اور اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں، ان منکرین میں وہ بھی ہیں جو وقوع قیامت کے قائل ہی نہیں اور وہ لوگ بھی ہیں جن کے نزدیک جزا و سزا کا صرف دھندلا سا تصور ہے اور کچھ لوگوں نے جزا و سزا کے لیے اپنے طور پر تناسخ یعنی آوا گون کا عقیدہ تراش رکھا ہے، اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ دنیا یوں ہی رہے گی۔ ان سب لوگوں کو تنبیہ فرما دی، مانو یا نہ مانو دنیا اس کے خالق کی مقررہ مدت تک باقی رہے گی پھر اس پر فنا طاری ہوگی اور خالق تعالیٰ شانہ کی بارگاہ میں پیشی ہوگی لہٰذا ہر شخص فکر مند ہو اور اپنی جان کی سلامتی اور قیامت کے دن کی نجات کے لیے سوچے۔
Ayah 30:9

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھرے، سو دیکھ لیتے کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے، وہ لوگ قوت کے اعتبار سے ان سے بڑھے ہوئے تھے اور انہوں نے زمین کو بویا جوتا اور اس سے زیادہ آباد کیا جتنا ان لوگوں نے آباد کیا ہے، اور ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں لے کر آئے، سو اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا، اور لیکن وہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے،

زمین پر چلنے پھرنے کی تلقین اور امم سابقہ سے عبرت حاصل کرنے کا حکم اس کے بعد فرمایا (اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ) (الآیۃ) کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھا تاکہ پرانے لوگوں کے احوال سے عبرت حاصل کرتے، ان سے پہلے جو لوگ تھے وہ ان سے زیادہ قوت والے تھے انہوں نے زمین کو جوتا اور بویا بیج ڈالا اور اس کی پیداوار کو اپنے تصرف میں لائے، نیز کھیتی باڑی کے علاوہ بھی انہوں نے زمین کو آباد کیا، اپنے مکانات بنائے، قلعے تعمیر کیے، باغات لگائے، نہریں جاری کیں، اور بہت کچھ کیا لیکن وہ اس سب کو چھوڑ کر چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنے رسول بھیجے جو ان کے پاس دعوت حق لے کر آئے لیکن ان لوگوں نے نہیں مانا، بالآخر فنا کے گھاٹ اتر گئے، ان کے قلعوں اور محلات کے کھنڈرات ابھی تک دنیا میں موجود ہیں، دیکھنے والے انہیں دیکھ کر عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو ان کو ہلاک فرمایا اس کا سبب ان کا اپنا ظلم تھا، وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے، انہوں نے اپنے خالق کو نہیں مانا، اس کے رسولوں کو جھٹلایا، معجزات سامنے آنے پر بھی برابر کفر پر اڑے رہے، ان کے اعمال ہی ان کی بربادی کا سبب بنے۔
Ayahs 30:10–14

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے برے کام کیے ان لوگوں کا برا انجام ہوا۔ اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور وہ ان کا مذاق بناتے تھے۔

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader

اللہ مخلوق کو ابتدائً پیدا فرماتا ہے پھر اسے دوبارہ پیدا فرمائے گا، پھر تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے،

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader

اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرمین ناامید ہو کر رہ جائیں گے

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader

اور ان کے شرکاء میں سے کوئی سفارش کرنے والا نہ ہوگا اور وہ اپنے شرکاء کے منکر ہوں گے،

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader

اور جس دن قیامت قائم ہوگی، اس دن لوگ متفرق حالتوں میں ہوں گے۔

(ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِیْنَ ) (الآیۃ) پھر دنیاوی ہلاکت کے بعد موت کے بعد بھی برے کاموں میں لگنے والوں کا برا انجام ہوگا، کیونکہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا ہی نہیں ان کا مذاق بھی اڑایا، ان کے اپنے اعمال ہی موت کے بعد عذاب میں مبتلا ہونے کا سبب بن گئے، قولہ تعالیٰ : ثم کان عاقبۃ الذین اسآؤا بنصب ” العاقبۃ “ واضافتہ الی الموصول ونصبھا علیٰ انھا خبر کان وقولہ تعالیٰ : ” السوء “ تانیث الاسوء کالحسنیٰ تانیث الاحسن، وھی مرفوعۃ علیٰ انھا اسم کان وھذا علی قرأۃ حفص ومن وافقہ وقرء الحرمیان وأبو عمرو ” عاقبۃ “ بالرفع علیٰ انہ اسم کان و ” السوء “ بالنصب علی الخبریۃ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد (ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاآی) عاقبہ کی نصب کے ساتھ ہے اور موصول کی طرف مضاف ہے اور یہ منصوب اس لیے ہے کہ یہ کان کی خبر ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول السُّوٓءُ یہ اَلْاَسْوَء کی تانیث ہے جیسے (اَلْحُسْنٰی اَلْاَحْسَنُ ) کی تانیث ہے اور یہ السوء مرفوع ہے اس لیے کہ یہ کان کا اسم ہے اور امام حفص اور ان کے موافقین کی قرأت کے مطابق ہے اہل حرم اور ابو عمرو نے عاقبۃ کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے اس بنیاد پر کہ یہ کان کا اسم ہے اور السوءَ کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے اس لیے کہ یہ کان کی خبر ہے۔
Ayahs 30:15–16

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader

سو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہ باغ میں مسرور ہوں گے۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا، سو یہ لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔

قیامت کے دن مختلف جماعتیں ہوں گی، مومنین باغوں میں مسرور ہوں گے، مجرمین بدحال ہوں گے ان آیات میں اول تو یہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا فرماتا ہے پھر جب سب مرجائیں گے تو دوبارہ زندہ فرما دے گا اور یہ دوبارہ زندہ ہونا قیامت کے دن ہوگا، مرنے والے زندہ ہو کر اس دن حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اس کے بعد مجرمین کی حالت بیان فرمائی کہ جب قیامت قائم ہوگی تو وہ ناامید ہوجائیں گے، ان مجرموں میں مشرک بھی ہوں گے جنہوں نے دنیا میں مخلوق کو عبادت میں اللہ کا شریک بنا رکھا تھا اور یہ سمجھتے تھے کہ یہ ہمارے لیے سفارش کریں گے ان میں سے کوئی بھی ان کی سفارش نہیں کرے گا نہ کرسکے گا بلکہ شفاعت کے امیدوار خود ہی منکر ہوجائیں گے اور یوں کہیں گے کہ ہم تو مشرک تھے ہی نہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن حاضر ہونے والے مختلف حالتوں میں ہوں گے، اہل ایمان کی حالت اہل کفر کی حالت سے مختلف ہوگی، جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہ تو بہشت کے باغوں میں مسرور اور خوش و خرم ہوں گے اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا اور قیامت کے دن کی ملاقات کو نہ مانا، یہ لوگ عذاب میں حاضر کردئیے جائیں گے۔
Ayahs 30:17–18

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader

سو تم اللہ کی تسبیح بیان کرو شام کے وقت اور صبح کے وقت،

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader

اور اسی کے لیے سب تعریف ہے آسمانوں میں اور زمین اور دن کے پچھلے اوقات میں اور دوپہر کے وقت اس کی تسبیح بیان کرو۔

صبح و شام اور دن کے پچھلے اوقات میں اللہ کی تسبیح کرنے کا حکم اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہ کی پاکی بیان کرنے کا حکم دیا کہ شام کے وقت اور صبح کے وقت اور دن کے پچھلے اوقات میں اور ظہر کے وقت اللہ کی پاکی بیان کرو، اوقات مذکورہ میں اللہ کی تسبیح اور تنزیہ بیان کرنے کا حکم دیتے ہوئے درمیان میں یہ بھی فرما دیا کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالیٰ ہی کی حمد ہے، یعنی آسمانوں میں فرشتے اور زمین میں اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتے ہیں اور جو لوگ اہل کفر ہیں ان کا وجود ہی اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنے کے لیے کافی ہے گو زبان سے اس کی حمد بیان نہ کرتے ہوں، جیسا کہ سورة النور میں فرمایا (اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّیْرُ صٰفّٰتٍ کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلاَتَہُ وَتَسْبْیْحَہٗ ) (کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور زمین میں ہیں اور پرندے بھی جو پر پھیلائے ہوئے ہیں، ہر ایک نے اپنی نماز اور تسبیح کو جان لیا ہے) یوں تو ہر وقت ہی اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید میں مشغول رہنا چاہیے لیکن چونکہ یہ اوقات تجدد نعمت اور آثار قدرت ظاہر ہونے کے خصوصی اوقات ہیں اس لیے ان میں تسبیح کا حکم دیا گیا ہے۔ صاحب روح المعانی جلد 21 ص 28 پر تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ سے سوال کیا گیا کہ قرآن مجید میں پانچ نمازوں کا کس جگہ ذکر ہے ؟ تو انہوں نے یہ آیت پڑھ کر بتایا کہ (تُمْسُوْنَ ) سے مغرب کی نماز، اور (تُصْبِحُوْنَ ) سے صبح کی نماز اور (عَشِیًّا) سے عصر کی نماز (تُظْھِرُوْنَ ) سے ظہر کی نماز مراد ہے۔ اس طرح آیت شریف میں چار نمازوں کا ذکر آگیا اور پانچویں نماز ثابت کرنے کے لیے انہوں نے سورة النور کی ایک آیت کا یہ حصہ پڑھ دیا (وَمِنْ بَعْدِ صَلاَۃِ الْعِشَاءِ ) اور ایک روایت میں یوں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ لفظ (تُمْسُوْنَ ) ہی سے مغرب اور عشاء دونوں مراد ہیں، اور اسی آیت سے پانچوں نمازوں کو ثابت کردیا۔ نماز چونکہ افضل الاعمال ہے اور سراپا اللہ کے ذکر پر مشتمل ہے اس لیے ان اوقات میں عام ذکر کے علاوہ فرض نمازوں کا اہتمام کرنے کا بھی خصوصیت کے ساتھ حکم فرمایا۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پانچ نمازیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے فرض فرمائی ہیں، جس نے ان نمازوں کو اچھی طرح ادا کیا اور ان کو بروقت پڑھا اور ان کا رکوع اور سجدہ پورا کیا ایسے شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا عہد ہے کہ اس کی مغفرت فرما دے گا، اور جس نے ایسا نہ کیا تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا کوئی عہد نہیں اگر چاہے تو اس کی مغفرت فرما دے اور چاہے تو اسے عذاب دے (رواہ احمد و ابو داؤد کما فی المشکوٰۃ ص 58) لفظ ” عشی “ عربی زبان میں زوال سے لے کر غروب آفتاب کے لیے بولا جاتا ہے جس کا ترجمہ ہم نے ” دن کے پچھلے اوقات “ کیا ہے۔ آیت شریف میں یہ لفظ (وَّ حِیْنَ تُظْھِرُوْنَ ) سے پہلے آیا ہے اور اس سے عصر کا وقت مراد لیا ہے۔ بعض اکابر نے اس میں یہ نکتہ بتایا ہے کہ نماز عصر چونکہ صلوٰۃ وسطیٰ ہے اور اس کی ادائیگی کے لیے خاص تاکید وارد ہوئی ہے اور چونکہ یہ وقت عموماً کاروبار کا ہوتا ہے اور اس میں مشغولیت کی وجہ سے نماز کی طرف سے غافل ہوجاتے ہیں (جیسا کہ بازاروں میں دیکھا جاتا ہے کہ عام حالات میں نمازوں کا اہتمام کرنے والے بھی نماز کو چھوڑ بیٹھے ہیں) اس لیے اس کا ذکر مقدم فرمایا۔
Ayah 30:19

یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader

وہ جاندار کو بےجان سے باہر لاتا ہے اور بےجانوں کو جاندار سے نکالتا ہے اور زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندگی بخشتا ہے اور اسی طرح تم نکالے جاؤ گے۔

(یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ ) (الآیۃ) (اللہ تعالیٰ مردہ کو زندہ سے اور زندہ کو مردہ سے پیدا کرتا ہے) اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کو بیان فرمایا ہے کہ وہ جاندار کو مردہ سے اور مردہ کو جاندار سے نکالتا ہے۔ مفسرین نے اس کی شرح میں فرمایا ہے کہ مردہ سے نطفہ مراد ہے جو بےجان ہے، اور بعض حضرات نے اس کی مثال بچہ اور انڈے سے دی ہے کہ چوزے کو انڈے سے اور انڈے کو پرندے سے نکالتا ہے۔ (وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا) (اور زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ فرماتا ہے) یعنی جب زمین خشک ہو کر مردہ ہوجاتی ہے اس میں ایسی جان ہی نہیں رہتی جس سے کھیتی اور گھاس وغیرہ پیدا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو زندہ فرماتا ہے وہ ترو تازہ اور شاداب ہوجاتی ہے، اس میں سے کھیتیاں نکل کر لہلہانے لگتی ہیں۔ آخر میں فرمایا (وَ کَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ ) (اور تم بھی اسی طرح نکالے جاؤ گے) یعنی قیامت کے دن قبروں سے زندہ ہو کر اٹھو گے۔ موت کے بعد زندہ ہونے کی یہ نشانی تمہارے سامنے ہے پھر بھی قیامت کا انکار کرتے ہو اور قیامت کے دن زندہ اٹھنے کو نہیں مانتے۔ فائدہ : حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص صبح کو یہ تین آیات (فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ ) سے (وَ کَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ ) تک پڑھ لے اس کا جو ورد چھوٹ جائے گا اس کا ثواب پالے گا اور جو شخص یہ آیات شام کو پڑھ لے اس رات کو جو اس کا ورد چھوٹ جائے گا اس کا ثواب پالے گا۔
Ayah 30:20

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا فرمایا پھر اچانک تم آدمی بن کر پھیلے ہوئے پھرتے ہو۔

اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر اور توحید کے دلائل یہ پوری آٹھ آیات کا ترجمہ ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق اور مخلوقات میں تصرف فرمانے کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق اور تصرفات بیان فرماتے ہوئے بار بار یوں فرمایا ہے کہ اس میں نشانیاں ہیں، یہ بات چار جگہ فرمائی ہے۔ اولاً : (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ) اور ثانیاً : (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ ) اور ثالثاً : (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ) اور رابعاً : (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ) فرمایا ہے، درحقیقت ان آیات میں جن مظاہر قدرت کو بیان فرمایا ہے، ان میں غور وفکر کرنے سے اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق اور صفت ربوبیت والوہیت اور اس کا وحدہٗ لاشریک لہٗ ہونا پوری طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ آخری تین آیتوں میں قیامت کے دن دوبارہ پیدا فرمانے کا تذکرہ فرمایا ہے، اور یہ فرمایا کہ جس نے ابتداءً تخلیق فرمائی وہ دوبارہ بھی پیدا فرمائے گا۔ اول : تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یعنی تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا فرمایا ہے تم لوگ انہیں کی نسل سے ہو، سورة نساء میں فرمایا : (یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَ بَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّ نِسَآءً ) (اے لوگو ! اللہ سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا اور اسی ایک جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے خوب زیادہ مرد و عورت پھیلائے) (نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ) (ایک جان) سے حضرت آدم (علیہ السلام) مراد ہیں، ان کی تخلیق مٹی سے تھی لہٰذا سب انسانوں کی اصل مٹی ہی ہوئی۔ اسی لیے یہاں سورة روم میں (خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ) فرمایا، حضرت آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے ان کا جوڑا پیدا کیا یعنی حضرت حوا [ وجود میں آئیں، پھر دونوں میاں بیوی سے نسل چلی، نسلیں چلتی ہیں مرد و عورت پیدا ہوتے ہیں، تدریجی طور پر نشوونما ہوتی ہے، ہوش سنبھالتے ہیں، جسم میں قوت آتی ہے، اپنی حاجات اور ضروریات کے لیے زمین میں پھیل پڑتے ہیں، مٹی جو بالکل بےجان چیز تھی، اللہ تعالیٰ نے اس سے حضرت آدم (علیہ السلام) کا پتلہ بنایا پھر اس میں جان ڈال دی، اس طرح سب سے پہلے انسان کی تخلیق ہوئی۔ اس کے بعد برابر مادہ منویہ سے تخلیق ہو رہی ہے جس نے بےجان مٹی میں جان ڈال دی اور بےجان مادہ سے جاندار کو پیدا فرما دیا۔ اسے قدرت ہے کہ وہ موت دینے کے بعد دوبارہ پیدا فرما دے، جبکہ مٹی میں رل مل چکے ہوں گے۔ پہلے رکوع کے ختم پر جو (وَکَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ ) فرمایا تھا اس کی مزید تفہیم اس رکوع کی پہلی آیت میں فرما دی۔
Ayah 30:21

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader

اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس آرام کرو اور تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی پیدا فرما دی، اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو فکر کرتے ہیں۔

دوم : یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے جوڑے پیدا فرما دئیے جو تم ہی میں سے ہیں یعنی عورت مرد جو آپس میں شرعی نکاح کے ذریعہ زوجین بن جاتے ہیں، یہ بھی اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے ہے۔ اگر وہ بیویاں پیدا نہ فرماتا تو انسان کو زندگی گزارنا دو بھر ہوجاتا۔ بیویوں کے تذکرہ میں جو (خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ ) فرمایا، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ عورتیں جو تمہاری بیویاں ہیں یہ تمہاری ہی جنس سے ہیں، اگر یہ ہم جنس نہ ہوتیں تو الفت کے ساتھ زندگی نہ گزرتی، اسی لیے (لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا) بھی فرمایا، مطلب یہ ہے کہ ان بیویوں کی تخلیق تمہارے لیے ہے تاکہ تم ان کے پاس جاؤ اور ان سے تمہیں سکون حاصل ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ بیوی وہ ہونی چاہیے جس کے پاس جانے اور رہنے اور زندگی گزارنے سے سکون اور چین نصیب ہو۔ جب میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کے آرام و راحت کا خیال رکھتے ہیں تو اچھی طرح زندگی گزرتی ہے، جن عورتوں کا یہ طریقہ ہوتا ہے کہ نافرمانی کرتی ہیں، بات بات میں لڑتی جھگڑتی ہیں وہ مرد کے لیے وبال بن جاتی ہیں۔ مزید فرمایا : (وَ جَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّ رَحْمَۃً ) (اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا فرما دی) یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام ہے کہ میاں بیوی میں ایسا تعلق پیدا فرما دیتا ہے کہ صرف شرعی قانونی ہی نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کے دل میں الفت بھی پیدا فرما دیتا ہے اور رحمت بھی یہ دونوں ایک دوسرے کے چاہنے والے اور ایک دوسرے کے خیر خواہ اور ہمدرد اور رحمت کا برتاؤ کرنے والے بن جاتے ہیں۔ عموماً دیکھا جاتا ہے کہ شوہر کہاں کا بیوی کہاں کی، جب نکاح ہوجاتا تو ایک دوسرے میں بےمثال محبت پیدا ہوجاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے، (لَمْ تَرَ لِلْمُتَعَابَیْنِ مَثْلَ النِّکَاحِ ) 1 ؂ (کہ اے مخاطب دو محبت کرنے والوں میں نکاح سے بڑھ کر تو نے کوئی چیز نہیں دیکھی) چونکہ نکاح والی زندگی ہے اور اس میں جذبات نفسانیہ کی تسکین کے علاوہ ایک دوسرے کے ساتھ نباہنے کے جذبات بھی ہوتے ہیں اور عموماً زندگی بھر ساتھ رہنے کی نیت ہوتی ہے اس لیے مومن مرد اور عورت آپس میں میل و محبت سے رہنے ہی کو ترجیح دیتے ہیں اور آپس میں اونچ نیچ کو نباہتے ہوئے زندگی گزارتے رہتے ہیں۔ بعض مفسرین نے یہاں یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ (مَّوَدَّۃً ) کا تعلق جوانی کے زمانہ سے ہے جس میں دونوں کی خواہشات آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے پر مجبور کرتی ہیں اور (رَحْمَۃً ) کا تعلق بڑھاپے سے ہے جب جذبات شہوانیہ ختم ہوجاتے ہیں تو آپس میں صرف رحمت ہی کا تعلق رہ جاتا ہے اور طبعی طور پر ایک دوسرے پر رحم کھاتے ہیں کہ جس کے ساتھ اتنی لمبی زندگی گزاری ہے اس کے اعذار اور امراض کے زمانہ میں خدمت کرنی چاہیے اور اس کے کام آنا چاہیے۔ نکاح سے پہلے بھی یہ دیکھ لینا ہے کہ عورت میل و محبت کے ساتھ رہنے والی ہے یا نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے (تَزَوَّجُوا الْوَدُوْدَ الْوَلُوْدَ فَاِنِّیْ مَکَاثِرَ بِکُمُ الْاُمَمَ ) (ایسی عورت سے نکاح کرو جو محبت کے ساتھ گزارہ کرنے والی ہو اور جس سے اولاد زیادہ ہو کیونکہ میں دوسری امتوں کے مقابلہ میں تمہاری کثرت پر فخر کروں گا) 2 ؂ عورت کے خاندان کی عورتوں کے احوال جاننے سے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ خاندان کثیر الاولاد ہے کہ نہیں۔ ) نکاح کے برخلاف جو نفسانی تعلق مردوں اور عورتوں میں پیدا ہوجاتا ہے جس کا مظاہرہ زنا کاری کی صورت میں ہوتا ہے، اس سے آپس میں محبت پیدا نہیں ہوتی، ایک نفسانی اور مطلب بر آری کا تعلق ہوتا ہے یہ تعلق کٹتا رہتا ہے، جہاں جس سے مطلب نکلتا دیکھا اسی سے جوڑ لگالیا پھر جب جی چاہا تعلق توڑ دیا۔ جیسا کہ انگلینڈ میں اس کا عام مزاج اور رواج بن گیا ہے وہاں زنا کار مرد اور عورت جو آپس میں دوست (فرینڈ) بنتے ہیں وہ جھوٹی دوستی ہوتی ہے، آپس میں محبت اور رحمت کے وہ جذبات نہیں ہوتے جو شرعی نکاح کی وجہ سے دلوں میں رچ بس جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ مومن بندہ کو خوف خدا کی نعمت حاصل ہونے کے بعد نیک بیوی سے بڑھ کر کوئی نعمت حاصل نہیں ہوئی، اگر اس بیوی کو حکم دے تو فرمانبرداری کرے اور اس کی طرف دیکھے تو اسے خوش کرے اور اگر وہ اس سے متعلق کوئی قسم کھا بیٹھے تو اسے قسم میں سچا کردے (ایسا معاملہ نہ کرے جس سے اس کی قسم ٹوٹ جائے) اور اگر شوہر کہیں چلا جائے تو اپنی جان میں اور اس کے مال میں اس کی خیرخواہی کرے۔ 3 ؂ (یعنی اس کی خیانت نہ کرے) مرد کو بھی چاہیے کہ نباہنے اور آرام پہنچانے کی فکر رکھے اگر کوئی بات ناگوار ہو تو اسے ٹال دے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی مومن مرد اپنی مومن بیوی سے بغض نہ رکھے اگر اس کی کوئی خصلت ناگوار ہوگی تو دوسری خصلت پسند آجائے گی۔ (رواہ مسلم) (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ) (بلاشبہ ان میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو فکر کرتے ہیں) یعنی میاں بیوی کے 1 ؂ مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 268۔ 2 ؂ رواہ ابو داؤد و النسائی کما فی المشکوٰۃ المصابیح صفحہ 268۔ 3 ؂ مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 268۔ مذکورہ تعلق کے مختلف پہلوؤں پر اور ان سے حاصل ہونے والے دینی اور دنیاوی مقاصد پر نظر کی جائے تو بہت سی نشانیاں سمجھ آسکتی ہیں۔ سوم : آسمان اور زمین کی تخلیق کا اور
Ayah 30:22

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں کا پیدا فرمانا اور تمہاری بولیوں اور رنگتوں کا مختلف ہونا ہے، بلاشبہ اس میں جاننے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

چہار : انسان کی بولیوں اور رنگتوں کا تذکرہ فرمایا، اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ آسمان و زمین کی تخلیق کا دیگر آیات میں بھی تذکرہ ہے، ان دونوں کا وجود سب کے سامنے عیاں ہے، ظاہر ہے، آسمان اور زمین بڑی چیزیں ہیں، بنی آدم آسمان کے نیچے رہتے ہیں، زمین کے فرش پر بستے ہیں انسانوں کی زبانوں کا مختلف ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت عظیمہ کا مظاہرہ ہے، انسانوں کو بولنے کی صفت سے متصف فرمانا اور اسے الفاظ و کلمات سکھانا اور بات کرنے کی قوت اور استعداد عطا فرمانا یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے اور اس میں قدرت الٰہیہ کا مظاہرہ بھی ہے، جس کسی کو گونگا بنا دیا وہ بول نہیں سکتا اور جس کسی کو بولنے کی قوت دی ہے وہ حروف اور کلمات کی ادائیگی میں خود مختار نہیں، حروف کے جو مخارج اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دئیے ہیں انسان انہی مخارج سے حروف ادا کرنے پر مجبور ہے۔ ب دونوں ہونٹوں کے ملنے سے ادا ہوتی ہے اور میم کا مخرج بھی یہی ہے لیکن ب بری ہے اور میم بحری ہے (اسے اصحاب تجوید جانتے ہیں) ایک کو دوسرے کی جگہ سے ادا نہیں کرسکتے، جب ب اور میم کا یہ حال ہے جو بہت زیادہ قریب المخرج ہیں (بلکہ دونوں کا مخرج ایک ہی بتایا جاتا ہے) تو ب کو جیم کے مخرج سے اور جیم کو ح کے مخرج سے کیسے ادا کرسکتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو قوت گویائی عطا فرمائی ہے یہ مختلف لغات میں اور بیشمار بولیوں میں بٹی ہوئی ہیں، مشرق سے مغرب تک اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کتنی زبانیں ہیں، ہر زبان کے لغات علیحدہ ہیں، طرز تکلم مختلف ہے، کسی زبان میں مضاف الیہ پہلے بولا جاتا ہے اور کسی زبان میں مضاف پہلے ہوتا ہے، بعض زبانوں میں مذکر مونث کے لیے ایک ہی فعل ہے (مثلاً فارسی میں) اور بعض زبانوں میں تثنیہ کا صیغہ الگ ہے اور جمع کا صیغہ اس سے مختلف ہے، بعض زبانوں میں وہ حروف ہیں جو دوسری زبانوں میں نہیں ہیں مثلاً ص اور ظ اور ق اور ذ اور ث عربی زبان میں ہیں اور کھ اور گھ اردو زبان میں ہیں جو دوسری زبانوں میں نہیں ہیں، اور برمی زبان میں را نہیں ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ جو حرف جس زبان کا ہے اس کے علاوہ دوسری زبان والے آدمی کو اس کا بولنا مشکل ہوجاتا ہے بلکہ بہت سے لوگ محنت کرنے پر بھی نہیں بول سکتے۔ ان امور کا برابر مظاہرہ ہوتا رہتا ہے، یہ سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بھی مظاہرہ ہے اور اس کی نعمت کا بھی اور انسانوں کے عاجز ہونے کا بھی۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ کلمات اور لغات تو مختلف ہیں ہی لب و لہجہ بھی مختلف ہے، آوازیں بھی مختلف ہیں، مختلف علاقوں کے لوگ مختلف لب و لہجہ میں بات کرتے ہیں، بات سننے سے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ فلاں شخص فلاں علاقہ کا آدمی ہے یا فلاں نسب و نسل سے تعلق رکھتا ہے، پھر مردوں کی آواز الگ اور عورتوں کی آواز جدا، بچوں کی آواز علیحدہ، پھر ہر فرد ہر شخص کی آواز علیحدہ، یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی نشانیاں ہیں۔ زبانوں کا اختلاف بیان فرمانے کے بعد رنگتوں کا اختلاف بیان فرمایا، سارے انسانوں کی صورتیں اس اعتبار سے تو ایک ہی ہیں کہ ہر شخص کے چہرہ ناک ہے اور ناک کے اوپر دو آنکھیں ہیں اور ناک کے نیچے منہ ہے اور اس کے اندر دانت ہیں جو ہونٹوں کے کھولنے سے نظر آتے ہیں، لیکن صورتوں میں اتنا اختلاف ہے کہ نسب و نسل کے اعتبار سے بھی صورتیں مختلف ہیں اور علاقوں کے اعتبار سے بھی، مردانہ صورتیں علیحدہ ہیں اور زنانہ صورتیں الگ، اور باہمی امتیاز بھی ہے، ہر شخص اور ہر فرد کی صورت جدا ہے، یہ تو ہوا صورتوں کی ہئیتوں کا اختلاف، پھر ان صورتوں کا مزید اختلاف رنگوں کے اعتبار سے بھی ہے، کسی کا رنگ کالا ہے کسی کا گورا ہے، پھر ان میں بھی تفاوت ہے۔ یہ الوان و اشکال کا فرق صرف اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے ہے۔ آیت کے ختم پر فرمایا : (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ ) (بلاشبہ اس میں جاننے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ )
Ayah 30:23

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا سونا ہے رات میں اور دن میں اور تمہارا تلاش کرنا ہے اس کے فضل کو بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں۔

پنجم اور ششم : السنہ اور الوان کی نعمت کا تذکرہ فرمانے کے بعد انسانوں کے سونے اور رزق تلاش کرنے کا تذکرہ فرمایا ہے۔ بات یہ ہے کہ انسانوں کا سونا اور سونے کے لیے مجبور ہونا اور نیند کا آجانا اور آرام پانا جو عموماً رات کو ہوتا ہے اور بہت سے افراد دن میں بھی سو جاتے ہیں خاص کر جنہیں قیلولہ کی عادت ہوتی ہے، یہ سونا اور آرام پانا سب اللہ تعالیٰ کی نعمت بھی ہے اور اس کی قدرت کی نشانی بھی، انسان بعض مرتبہ سونا نہیں چاہتا لیکن نیند کا غلبہ اسے سلا ہی دیتا ہے اور بہت مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ سونے کی نیت سے لیٹا، دماغ تھکا ہوا ہے جسم تھکن سے بےجان ہو رہا ہے آنکھیں میچتا ہے، کروٹیں بدلتا ہے، پوری رات گزر جاتی ہے لیکن نیند نہیں آتی، اللہ تعالیٰ ہی چاہتا ہے تو سلا دیتا ہے اور وہی چاہتا ہے تو جگا دیتا ہے۔ اسی لیے تو سو کر اٹھنے کی دعا میں دونوں نعمتوں کی یاد دہانی کرائی گئی ہے، اور نیند چونکہ موت کی بہن ہے اس لیے اسے موت سے تعبیر فرمایا ہے۔ سو کر اٹھنے کی دعا یہ ہے (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَآ اَمَاتَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرِ ) (سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں موت دے کر زندگی بخش دی اور اسی کی طرف زندہ ہو کر قبروں سے نکل کر جانا ہے) کیونکہ بہت سے لوگ رات میں بھی کسب کرتے ہیں اور رزق تلاش کرتے ہیں اس لیے (مَنَامُکُمْ بالَّیْلِ وَ النَّھَارِ وَ ابْتِغَآؤُکُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ) فرمایا۔ جس طرح دن میں بھی سونا ہوجاتا ہے گو عمومی طور پر سونے کے لیے رات ہی کو اختیار کیا جاتا ہے اسی طرح رات میں بھی تحصیل رزق کی صورتیں بن جاتی ہیں، الفاظ کے عموم نے دو باتیں بنا دی ہیں۔ دن کا نکلنا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور رزق تلاش کرنے کے قابل ہونا بھی اس کا انعام ہے، اور ان سب چیزوں میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، آدمی نہ سونے میں مختار ہے نہ جاگنے میں نہ رزق کمانے کے لیے گھر سے باہر نکلنے ہیں، اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت کا ارادہ ہو تو یہ سب چیزیں وجود میں آتی ہیں، آخر میں فرمایا : (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ) (بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں۔ )
Ayah 30:24

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے جس سے ڈر ہوتا ہے اور امید بھی، اور وہ آسمان سے پانی اتارتا ہے پھر اس کے ذریعہ زمین کو زندہ فرما دیتا ہے اس کی موت کے بعد، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

ہفتم وہشتم : بجلی کے چمکنے اور آسمان سے پانی نازل فرمانے اور اس کے ذریعہ زمین کو زندہ فرمانے کا تذکرہ فرمایا۔ جب بجلی چمکتی ہے تو انسان ڈرتے بھی ہیں اور بارش ہونے کی امید بھی رکھتے ہیں، کیونکہ عام طور پر بجلی چمکنے کے بعد بارش ہوجاتی ہے اور جب بارش ہوجاتی ہے تو مردہ زمین میں زندگی آجاتی ہے، زمین سرسبز ہوجاتی ہے اور کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں، ان سب چیزوں میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، عقلمندوں کو چاہیے کہ اس میں غور کریں اور سوچیں، بجلی چمکی، خوف و ہراس طاری ہوا، بارش کی امید بندھی، پانی برسا، زمین سرسبز ہوئی، یہ سب کیسے ہوا ؟ کس کی قدرت سے ہوا ؟ (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ) (بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں) اگر غور کریں گے تو یہی سمجھ میں آئے گا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت اور ارادہ سے ہوا۔
Ayahs 30:25–26

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں، پھر جب وہ تم کو پکار کر زمین سے بلائے گا تو تم اسی وقت نکل پڑو گے۔

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

اور اسی کے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے سب اسی کے حکم کے تابع ہیں۔

نہم اور دہم : یہ فرمایا کہ آسمان اور زمین اسی کے حکم سے قائم ہیں۔ تین آیات میں پہلے آسمان اور زمین کے پیدا فرمانے کا تذکرہ تھا اور اس آیت کریمہ میں آسمان اور زمین کی بقا کا تذکرہ ہے، جب تک ان کے باقی رکھنے کا اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہے اس وقت تک باقی رہیں گے اور جب قیامت کے دن ان کا حال بدلنے کا ارادہ ہوگا تو اس وقت ان کی حالت بدل جائے گی، آسمان پھٹ پڑیں گے اور زمین میں زلزلہ آجائے گا، آسمان کو اپنی مقررہ جگہ پر اور موجودہ حالت پر قائم رکھنا اور زمین کو اس کی مقررہ جگہ پر اور موجودہ حالت پر باقی رکھنا یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے ہے اس میں کسی اور کا کچھ بھی کوئی دخل نہیں۔ سورة فاطر میں فرمایا : (اِنَّ اللّٰہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا وَ لَءِنْ زَالَتَآ اِنْ اَمْسَکَھُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْ بَعْدِہٖ ) (بلاشبہ اللہ آسمان اور زمین کو اس سے روکے ہوئے ہے کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹیں اور اگر وہ اپنی جگہ سے ہٹیں تو اس کے علاوہ کوئی بھی انہیں روکنے والا نہیں ہے۔ ) یہ آسمان قائم ہے، اس کے نیچے جتنے لوگ ہیں زمین کے اوپر بستے ہیں، اس کے بقا کی اللہ تعالیٰ کے علم میں ایک مدت مقرر ہے وہ جب تک اس دنیا کو باقی رکھے گا باقی رہے گی، جب فنا کرنا چاہے گا فنا ہوجائے گی، صور پھونکا جائے گا، اللہ تعالیٰ کا بلاوا ہوگا، قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور حساب کے میدان میں جمع ہوجائیں گے اسی کو فرمایا : (ثُمَّ اِذَا دَعَاکُمْ دَعْوَۃًمِّنَ الْاَرْضِ اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ ) (پھر جب وہ تمہیں بلائے گا زمین سے اچانک تم نکل آؤ گے) پھر فرمایا : (وَ الْاَرْضِ کُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوْنَ ) (آسمانوں میں اور زمین میں جو بھی کچھ ہے سب اللہ تعالیٰ ہی کی مخلوق ہے اور سب اس کے حکم کے تابع ہیں، تکوینی طور پر وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔ )
Ayah 30:27

وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader

اور وہی ہے جو مخلوق کو پیدا فرماتا ہے پھر اسے لوٹائے گا اور وہ اس پر زیادہ آسان ہے اور اسی کے لیے شان اعلیٰ ہے آسمانوں میں اور زمین میں، اور وہ عزت والا ہے حکمت والا ہے۔

آخری آیت میں ابتدا اور اعادہ کا تذکرہ فرمایا : (وَھُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ) (اور وہی ہے جو پہلی بار پیدا فرماتا ہے پھر وہی دوبارہ زندہ فرمائے گا) (وَ ھُوَ اَھْوَنُ عَلَیْہِ ) (اور اسے دوبارہ پیدا فرمانا پہلی بار پیدا فرمانے کے بہ نسبت زیادہ آسان ہے) یہ لوگوں کی سمجھ کے اعتبار سے فرمایا ہے کیونکہ لوگ اس بات کو جانتے ہیں اور مانتے ہیں کہ کسی چیز کا دوبارہ وجود میں لانا پہلی دفعہ لانے کے اعتبار سے زیادہ آسان ہوتا ہے۔ اسی لیے حدیث قدسی میں فرمایا : فاما تکذیبہ ایای فقولہ لن یعیدنی کما بدأنی وَلَیْسَ اوّل الخلق باھون عَلَیَّ من اعادتہ (ابن آدم یوں کہہ کر مجھے جھٹلاتا ہے کہ اللہ نے جو پہلی بار مجھے پیدا کیا تھا اس کے بعد مجھے دوبارہ ہرگز پیدا نہ فرمائے گا حالانکہ میرے لیے پہلی بار پیدا کرنا دوسری بار پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے) یعنی جو قدرت ابتداءً پیدا کرنے پر ہے وہی دوبارہ پیدا کرنے پر ہے، اس کے لیے دونوں برابر ہیں (رواہ البخاری) ھذا اذا ارید باھون مَا یَدُل علیہ اسم التفضیل۔ (قال صاحب الروح وروی الزجاج عن أبی عبیدۃ و کثیر من اھل اللغۃ ان (اھون) ھٰھُنَا بمعنی ھین وروی ذلک عن ابن عباس والربیع وکذا ھو فی مصحف عبد اللہ۔ (یہ اس وقت ہے جب کہ یہاں اھون کو اسم تفضیل کا صیغہ سمجھا جائے تفسیر روح المعانی والے کہتے ہیں زجاج نے ابو عبیدہ اور بہت سارے اہل لغۃ سے روایت کیا ہے کہ یہاں اھون ھینٌ کے معنی میں ہے اور یہی بات حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور ربیع سے بھی مروی ہے اور حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کے مصحف میں بھی اسی طرح تھا۔ ) پھر فرمایا : (وَلَہُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی) (اور آسمانوں اور زمین میں اس کی شان اعلیٰ ہے) یعنی آسمان اور زمین کے رہنے والے جانتے ہیں اور اس کا یہ وصف بیان کرتے ہیں کہ اس کی شان سب سے اعلیٰ وارفع ہے، وہ صفات کمال سے متصف ہے، اس کی صفت قدرت بھی عام ہے اور حکمت بھی تام ہے، قال صاحب الروح فِی السّمٰوٰت والارض متعلق بمضمون الجملۃ المتقدمۃ علیٰ معنی انہ سبحانہ وقد وصف بذلک وعرف بہ فیھما علی السنۃ الخلائق والسنۃ الدلائل (تفسیر روح المعانی کے مصنف علامہ آلوسی ؓ فرماتے ہیں (فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) پچھلے جملہ کے مضمون سے متعلق ہے اس کے معنی ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان صفات کے ساتھ آسمانوں اور زمینوں میں اسی وصف کے ساتھ جانا پہچانا جاتا ہے مخلوقات کی زبانوں پر بھی یہی ہے اور دلائل کی زبان سے بھی) (وَ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) (اور وہ عزت اور غلبہ والا ہے اس کی بڑی قدرت ہے اور وہ حکمت والا بھی ہے) قیامت واقع کرنے اور دوبارہ پیدا فرمانے میں جو تاخیر ہے وہ اس کی حکمت کے موافق ہے۔
Ayahs 30:28–29

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader

اللہ نے تمہارے لیے ایک مثال بیان فرمائی جو تمہارے نفسوں کے اندر سے ہے جن کے تم مالک ہو، کیا ان میں سے کوئی اس ملک میں شریک ہے جو ہم نے تمہیں دیا کہ وہ اور تم اس میں برابر ہو، تم ان سے اسی طرح ڈرتے ہو جیسا اپنے نفسوں سے ڈرتے ہو، ہم اسی طرح آیات کو بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں۔

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader

بلکہ بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے ظلم کیا وہ بغیر علم کے اپنی خواہشوں کا اتباع کرتے ہیں، سو جسے اللہ گمراہ کردے اسے کون ہدایت دے گا اور کوئی بھی ان کے لیے مددگار نہ ہوگا۔

ایک خاص مثال سے شرک کی تردید اور توحید کا اثبات مشرکین جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مخلوق کو شریک کرتے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ نے مثال کے طور پر ایک سوال فرمایا اور وہ یہ کہ تم لوگوں کو ہم نے مال دیا ہے، اس مال میں تمہارے غلام اور باندیاں بھی ہیں، تم ان کے مالک ہو۔ مال تو تمہارے پاس غلام باندیوں کے علاوہ بھی ہے لیکن غلاموں اور باندیوں کے پاس سمجھ ہے کیونکہ وہ انسان ہیں، ان سے تم خدمت لیتے ہو، دوسرے مال کے اٹھانے اور رکھنے اور خرچ کرنے میں انہیں استعمال کرتے ہو، ان غلاموں اور باندیوں سے کام تو لیتے ہو لیکن تم نے انہیں اپنے مالوں میں شریک تو نہیں کیا ؟ اگر تم انہیں اپنے مالوں میں شریک کرلیتے تو یہ بھی اختیارات میں تمہارے برابر ہوجاتے اور تم سے پوچھے بغیر خرچ کرتے، اور جب وہ شریک ہوجاتے تو تم ان سے اسی طرح خوف کھاتے جیسے اپنے شرکاء سے اعتراض کا اندیشہ رکھتے ہو اور انہیں خوش کرکے چلتے ہو اور باوجود اپنی ذاتی شرکت کے اپنے شرکاء سے دریافت کرکے اور مشورہ لے کر صرف کرتے ہو۔ جب تمہارے غلام تمہارے مالوں میں اور مال خرچ کرنے کے اختیار میں شریک نہیں جو تمہاری طرح کی مخلوق ہیں تو وہ جو تم نے اللہ کے سوا معبود بنا رکھے ہیں ان کو تم اللہ تعالیٰ کی صفت خاص یعنی معبودیت میں شریک کیونکر کرتے ہو ؟ وہ تو اللہ کی مخلوق ہیں، اپنے مالوں میں تو تم اپنے غلاموں کی شریک کرنے کو تیار نہیں اور عبادت میں تم نے مخلوق کو خلق کے ساتھ شریک کردیا، یہ کیسی بھونڈی بات ہے اور الٹی سمجھ ہے۔ (کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ) (جو لوگ سمجھتے ہیں اور اپنی عقل کو کام میں لاتے ہیں ہم اسی طرح ان کے لیے واضح طور پر آیات بیان کرتے ہیں) (بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ) (الآیۃ) جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، آیات میں غور نہ کیا یہ لوگ بغیر علم کے جہالت کے ساتھ اپنی (اَھْوَآءَ ) یعنی نفس کی خواہشوں کے پیچھے پڑگئے، جو جی میں آیا اسی کو معبود بنالیا، حق اور حقیقت کی طرف متوجہ نہ ہوئے، جب گمراہی کو قصداً اور ارادۃً اختیار کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں گمراہی میں چھوڑ دیا۔ سو وہ کون ہے جو اسے ہدایت دے جسے اللہ نے گمراہ کردیا۔ جب اس گمراہی پر عذاب ہونے لگے گا تو کوئی بھی مددگار اور عذاب سے چھڑانے والا نہ ملے گا۔
Ayah 30:30

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

آپ ایک طرف ہو کر اسی دین کی طرف اپنا رخ رکھیے، اللہ کی دی ہوئی قابلیت کا اتباع کیجیے جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا فرمایا ہے، اللہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں ہے، یہ دین قیم ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے،

فَاَقِمْ وَجْھَکَ للدِّیْنِ حَنِیْفًا یہ ما قبل کے مضمون پر تفریع ہے، بظاہر آنحضرت ﷺ کو خطاب ہے لیکن مخاطب سب ہی انسان ہیں۔ مطلب یہ کہ جب شرک کی مذمت سامنے آگئی تو جو لوگ موحد ہیں صحیح راستہ پر ہیں وہ سیدھے راستہ پر ہی قائم رہیں اور اپنا رخ دین قیم کی طرف رکھیں اور برابر اسی پر جمے رہیں اور تمام دینوں سے ہٹ کر یکسو ہو کر اسی دین میں لگے رہیں جو دین اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے یعنی دین توحید جس پر اس نے اپنے بندوں کو پیدا فرمایا ہے، اور جو لوگ کافرو مشرک ہیں وہ بھی اسی دین پر آجائیں۔ (فِطْرَتَ اللّٰہِ ) سے کیا مراد ہے ؟ بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے دین اسلام مراد ہے، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے دین اسلام قبول کرنے کی قابلیت مراد ہے، ترجمہ میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی (آتش پرست) بنا دیتے ہیں جیسا کہ چوپایہ کا بچہ بالکل صحیح سالم پیدا ہوتا ہے، کیا تم اس میں دیکھتے ہو کہ اس کا کوئی حصہ کٹا ہوا ہو ؟ اس کے بعد آپ ﷺ نے یہی آیت (فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ ) تلاوت فرمائی۔ (رواہ البخاری و مسلم) معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں قبول حق کی صلاحیت اور قابلیت رکھی ہے، یہ قابلیت ہوش اختیار کرنے سے لے کر بوڑھا ہو کر مرنے تک باقی رہتی ہے۔ اگر انسان اپنے ماں باپ یا معاشرہ کے ماحول میں کافر و مشرک ہوگیا ہو اگر وہ پھر اپنی عقل کو کام میں لائے اور کسی دنیاوی رکاوٹ سے متاثر نہ ہو تو وہ ضرور حق کو قبول کرلے گا اور دین حق پر آجائے گا۔ مندرجہ بالا تشریح سے (لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ) کا مطلب بھی واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے فطری طور پر جو انسان میں دین حق پر غور کرنے کی استعداد رکھی ہے وہ نہیں بدلتی۔ کیسا ہی کافر یا مشرک ہو اگر اپنی عقل سے کام لے گا اور غورو فکر کرے گا تو اسے دین اسلام قبول کرنے کی طرف توجہ ہو ہی جائے گی، اگر غورو فکر کی طرف متوجہ نہ ہو اور حق سے اعراض کرتا رہے تو یہ دوسری بات ہے۔ حضرت حکیم الامت قدس سرہٗ نے (لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ) کو نہیں کے معنی میں لیا ہے (گو وہ بظاہر نفی ہے) اور ترجمہ یوں کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیز کو جس پر اس نے تمام آدمیوں کو پیدا کیا ہے بدلنا نہ چاہیے اگر یہ معنی لیے جائیں تو اس سے ہر اس چیز کی ممانعت ثابت ہوگئی جس سے دینی ماحول خراب ہوتا ہو، مثلاً ملحدوں اور زندیقوں کی کتابیں پڑھنا اور ان کی مجلسوں میں اٹھنا بیٹھنا اور ان کے درس میں جانا کیونکہ ان چیزوں سے قبول حق کی استعداد کمزور ہوجاتی ہے اور پھر انسان ملحدوں اور زندیقوں کے ہی گن گانے لگتا ہے۔ (ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ ) (یہ دین قیم ہے سیدھا راستہ ہے) (وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ) (اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے) غورو فکر نہ کرنے کی وجہ سے دور بھاگتے ہیں۔
Ayah 30:31

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

اللہ کی طرف رجوع ہو کر اس کی فطرت کا اتباع کرو اور اس سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ ہوجاؤ

(مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ ) (اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے فطرت کا اتباع کرو) (وَاتَّقُوْہُ ) (اور اللہ سے ڈرو) (وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ ) (اور نماز قائم کرو) (وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) (اور مشرکین میں سے مت ہوجاؤ)
Ayah 30:32

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

جنہوں نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور مختلف گروہ ہوگئے ہر گروہ اس چیز پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے

(الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَھُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا) (جنہوں نے اپنے دین میں پھوٹ ڈالی اور جو دین اختیار کیا اسے ٹکڑے ٹکڑے کیا) دین حق تو ہمیشہ سے ایک ہی ہے اس کے ٹکڑے نہیں ہوسکتے، جو لوگ اسے چھوڑتے ہیں ان کے سامنے مختلف راہیں ہوتی ہیں، ان راہوں میں سے کسی راہ کو اختیار کرلیتے ہیں، اگر حق پر رہتے تو سب ایک راہ پر ہوتے۔ (کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ ) (ہر جماعت اس سے خوش ہے جو ان کے پاس ہے) حالانکہ ان باطل والوں میں سے کسی کی راہ بھی حق نہیں ہے، اور اگر اللہ کے بھیجے ہوئے دین پر ہوتے تو افتراق بھی نہ ہوتا اور اللہ کے دین پر ہی خوش اور نازاں ہوتے۔ شاید یہاں کوئی یہ سوال کرے کہ مسلمانوں میں بھی تو بہت سے فرقے ہیں ؟ حقیقت میں یہ فرقے اسلام سے تعلق رکھنے والے نہیں ہیں، اسلام سے ہٹے تو یہ فرقے بنے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اور اس کے رسول مکرم ﷺ کی سنت کو سامنے رکھ کر چلتے ہیں سب آپس میں ایک دوسرے کو مسلمان سمجھتے ہیں، جیسا کہ چاروں مذاہب کے مقلدین ہیں۔ جو اشخاص قرآن و حدیث کو چھوڑتے گئے ان کے فرقے الگ الگ بنتے گئے، اگرچہ دھوکہ دینے کے لیے قرآن و حدیث کا دم بھرتے ہیں۔