Ayah 30:1خلاصہ تفسیر
الۗمّۗ، (اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں) اہل روم ایک قریب کے موقع میں (یعنی ارض روم کے ایسے مقام میں جو بہ نسبت فارس کے عرب سے قریب تر ہے، مراد اس سے اذرعات و بصری ہے، جو ملک شام میں دو شہر ہیں۔ کذا فی القاموس، اور حکومت روم کے تحت میں ہونے سے ارض روم میں داخل ہیں۔ اس موقع پر اہل روم اہل فارس کے مقابلہ میں) مغلوب ہوگئے (جس سے مشرکین خوش ہوئے) اور وہ (رومی) اپنے (اس) مغلوب ہونے کے بعد عنقریب (اور یہ مغلوب اور غالب ہونا سب خدا کی طرف سے ہے، کیونکہ مغلوب ہونے سے) پہلے بھی اختیار اللہ ہی کو تھا (جس سے مغلوب کردیا تھا) اور (مغلوب ہونے سے) پیچھے بھی (اللہ ہی کو اختیار ہے جس سے غالب کر دے گا) اور اس روز (یعنی جب اہل روم غالب آئیں گے) مسلمان اللہ تعالیٰ کی اس امداد پر خوش ہوں گے (امداد سے یا تو یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان کے قول میں سچا اور غالب فرما دے گا۔ کیونکہ اس پیشنگوئی کو مسلمانوں نے کفار پر ظاہر کیا اور انہوں نے تکذیب کی تو اس کے وقوع سے مسلمانوں کی جیت ہوجائے گی اور یا یہ مراد ہے کہ مسلمانوں کو مقاتلہ میں بھی غالب کر دے گا۔ چناچہ وہ وقت جنگ بدر میں منصور ہونے کا تھا اور ہر حال میں نصرت کا محل اہل اسلام ہی ہیں اور مسلمانوں کی حالت ظاہری مغلوبیت کی دیکھ کر یہ بات مستبعد نہ سمجھی جائے کہ یہ مغلوب مسلمان مقابلہ کے وقت کفار پر غالب آجائیں گے، کیونکہ نصرت اللہ کے قبضے میں ہے) وہ جس کو چاہے غالب کردیتا ہے اور وہ زبردست ہے (کفار کو جب چاہے قولاً یا فعلاً مغلوب کرا دے اور) رحیم (بھی) ہے (مسلمانوں کو جب چاہے قولاً یا فعلاً مغلوب کرا دے اور) رحیم (بھی) ہے (مسلمانوں کو جب چاہے غالب کر دے) اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ فرمایا ہے (اور) اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کو خلاف نہیں فرماتا (اس واسطے یہ پیشنگوئی ضرور واقع ہوگی) و لیکن اکثر لوگ (اللہ تعالیٰ کے تصرفات کو) نہیں جانتے (بلکہ صرف ظاہری اسباب کو دیکھ کر ان اسباب پر حکم لگا دیتے ہیں، اس لئے اس پیشنگوئی میں استبعاد کرتے ہیں، حالانکہ مسبب الاسباب اور مالک اسباب حق تعالیٰ ہے اس کو اسباب بدلنا بھی آسان ہے اور اسباب کے خلاف مسبب کا واقع کرنا بھی آسان۔
اور جس طرح پیشنگوئی کے واقع ہونے سے پہلے اسباب ظاہرہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کا انکار کرتے ہیں اسی طرح پیشین گوئی کو پورا ہوتا ہوا دیکھ کر بھی اس کو ایک اتفاقی امر قرار دیتے ہیں، وعدہ الہیہ کا ظہور نہیں سمجھتے اس لئے لفظ لَا يَعْلَمُوْنَ میں یہ دونوں چیزیں آگئیں ان لوگوں کا اللہ تعالیٰ اور نبوت سے غافل و جاہل رہنا اس سبب سے ہے کہ) یہ لوگ صرف دنیوی زندگانی کی ظاہر (حالت) کو جانتے ہیں اور یہ لوگ آخرت سے (بالکل ہی) بیخبر ہیں (کہ وہاں کیا ہوگا، اس لئے ان کو دنیا میں نہ اسباب عذاب سے بچنے کی فکر ہے نہ اسباب نجات ایمان اور عمل صالح کی تلاش ہے۔)
Ayahs 30:2–3معارف و مسائل
قصہ ناول سورت روم اور فارس کی جنگ
سورة عنکبوت اس آیت پر ختم ہوتی ہے جس میں حق تعالیٰ نے اپنے راستہ میں جہاد و مجاہدہ کرنے والوں کے لئے اپنے راستے کھول دینے اور ان کے لئے مقاصد میں کامیابی کی بشارت دی تھی۔ سورة روم کی ابتداء جس قصہ سے ہوئی ہے وہ اسی نصرت الہیہ کا ایک مظہر ہے اس سورت میں جو واقعہ روم اور فارس کی جنگ کا مذکور ہے یہ دونوں کفار ہی تھے، ان میں سے کسی کی فتح کسی کی شکست بظاہر اسلام اور مسلمانوں کے لئے کوئی دلچسپی کی چیز نہیں، مگر ان دونوں کفار میں اہل فارس مشرکین آتش پرست تھے اور روم و نصاری اہل کتاب اور ظاہر ہے کہ دونوں قسم کے کفار میں اہل کتاب مسلمانوں سے نسبتاً قریب ہیں۔ کیونکہ بہت سے اصول دین آخرت پر ایمان، رسالت اور وحی پر ایمان، ان کے ساتھ قدر مشترک ہے۔ اسی قدر مشترک سے رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس مکتوب میں کام لیا جو روم کے بادشاہ کو دعوت اسلام دینے کے لئے بھیجا تھا کہ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَاۗءٍۢ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ الایتہ اہل کتاب کے ساتھ مسلمانوں کا ایک گونہ قرب ہی اس کا سبب بنا کر آنحضرت ﷺ کے قیام مکہ مکرمہ کے زمانہ میں فارس نے روم پر حملہ کیا۔ حافظ ابن حجر وغیرہ کے قول کے مطابق ان کی یہ جنگ ملک شام کے مقام اذرعات اور بصری کے درمیان واقع ہوئی۔ اس جنگ کے دوران میں مشرکین مکہ یہ چاہتے تھے کہ فارس غالب آجائے کیونکہ وہ بھی شرک و بت پرستی میں ان کے شریک تھے اور مسلمان یہ چاہتے تھے کہ روم غالب آئیں، کیونکہ وہ دین و مذہب کے اعتبار سے اسلام کے قریب تھے۔ مگر ہوا یہ کہ اس وقت فارس روم پر غالب آگئے، یہاں تک کہ قسطنطنیہ بھی فتح کرلیا اور وہاں اپنی عبادت کے لئے ایک آتشکدہ تعمیر کیا اور یہ فتح کسری پرویز کی آخری فتح تھی، اس کے بعد اس کا زوال شروع ہوا اور پھر مسلمانوں کے ہاتھوں اس کا خاتمہ ہوا۔ (از قرطبی)
اس واقعہ پر مشرکین مکہ نے خوشیاں منائیں اور مسلمانوں کو عار دلائی کہ تم جس کو چاہتے تھے وہ ہار گیا اور جیسا کہ روم اہل کتاب کو بمقابلہ فارس شکست ہوئی ہمارے مقابلہ میں تم کو شکست ہوگی۔ اس سے مسلمانوں کو رنج ہوا (ابن جریر، ابن ابی حاتم)
قرآن میں سورة روم کی ابتدائی آیتیں اسی واقعہ کے متعلق نازل ہوئیں جن میں یہ پیشین گوئی اور بشارت دی گئی ہے کہ چند سال بعد پھر روم فارس پر غالب آجائیں گے۔
حضرت صدیق اکبر نے جب یہ آیات سنیں تو مکہ کے اطراف اور مشرکین کے مجامع اور بازار میں جاکر اس کا اعلان کیا کہ تمہارے خوش ہونے کا کوئی موقع نہیں، چند سال میں پھر روم فارس پر غالب آجائیں گے، مشرکین مکہ میں سے ابی بن خلف نے مقابلہ کیا اور کہنے لگا کہ تم جھوٹ بولتے ہو، ایسا نہیں ہو سکتا۔ صدیق اکبر نے فرمایا کہ خدا کے دشمن تو ہی جھوٹا ہے اور میں تو اس واقعہ پر شرط کرنے کو تیار ہوں کہ اگر تین سال کے اندر روم غالب نہ آگئی تو دس اونٹنیاں میں تمہیں دوں گا اور وہ غالب آگئے تو دس اونٹیاں تمہیں دینا پڑیں گی (یہ معاملہ قمار کا تھا مگر اس وقت قمار حرام نہیں تھا) یہ کہہ کر صدیق اکبر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس واقعہ کا ذکر کیا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تو تین سال کی مدت متعین نہیں کی تھی کیونکہ قرآن میں اس کے لئے لفظ بِضْعِ سِنِيْنَ مذکور ہے، جس کا اطلاق تین سے نو سال تک ہوسکتا ہے، تم جاؤ اور جس سے یہ معاہدہ ہوا ہے اس سے کہہ دو کہ میں دس اونٹینوں کے بجائے سو کی شرط کرتا ہوں، مگر مدت تین سال کے بجائے نو سال اور بعض روایات کی رو سے سات سال) مقرر کرتا ہوں۔ صدیق اکبر نے حکم کی تعمیل کی اور ابی بن خلف اس نئے معاہدہ پر راضی ہوگیا۔ (ابن جریر بسندہ عن مجاہد وروی القصتہ الترمذی عن ابی سعید الخدری و دینار بن مکرم الاسلمی بتغیر یسیر)
روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پانچ سال پہلے پیش آیا ہے اور پورے سات سال ہونے پر غزوہ بدر کے وقت روم دوبارہ فارس پر غالب آگئے اس وقت ابی بن خلف مر چکا تھا۔ صدیق اکبر نے اس کے وارثوں سے اپنی شرط کے مطابق سو اونٹنیوں کا مطالبہ کیا، انہوں نے اونٹیاں دے دیں۔
بعض روایات میں ہے کہ ہجرت سے پہلے ابی بن خلف کو جب اندیشہ ہوا کہ ابوبکر بھی شاید ہجرت کر کے چلے جائیں تو اس نے کہا کہ میں آپ کو اس وقت تک نہ چھوڑوں گا جب تک آپ کوئی کفیل پیش نہ کریں کہ میعاد معین تک روم غالب نہ آئے تو سو اونٹنیاں وہ مجھے دے دے گا۔ حضرت صدیق اکبر نے اپنے صاحبزادے عبدالرحمن کو اس کا کفیل بنادیا تھا۔
جب شرط کے مطابق صدیق اکبر جیت گئے اور سو اونٹنیاں ان کو ہاتھ آئیں تو وہ سب لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ ان اونٹنیوں کو صدقہ کردو اور ابو یعلی، ابن عساکر میں حضرت براء بن عازب کی روایت ہے اس میں یہ الفاظ منقول ہیں ہذا السحت تصدق بہ، یہ تو حرام ہے اس کو صدقہ کردو (روح المعانی)
مسئلہ قمار
قمار یعنی جوا از روئے نصوص قرآن حرام قطعی ہے۔ ہجرت مدینہ کے بعد جس وقت شراب حرام کی گئی اسی کے ساتھ قمار بھی حرام کردیا گیا اور اس کو شیطانی عمل قرار دیا۔ آیت اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ میں میسر اور ازلام جوے (قمار) ہی کی صورتیں ہیں جن کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
اور یہ دو طرفہ لین دین اور ہار جیت کی شرط جو حضرت صدیق اکبر ؓ نے ابی بن خلف کے ساتھ ٹھہرائی یہ بھی ایک قسم کا جوا اور قمار ہی تھا، مگر یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے جب قمار حرام نہیں تھا اس لئے اس واقعہ میں جب یہ قمار کا مال آنحضرت ﷺ کے پاس لایا گیا تو کوئی مال حرام نہیں تھا۔
اس لئے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے اس کے صدقہ کردینے کا حکم کیوں فرمایا، خصوصاً دوسری روایت میں جو اس کے متعلق لفظ سحت آیا ہے جس کے مشہور معنی حرام کے ہیں یہ کیسے درست ہوگا ؟ اس کا جواب حضرات فقہاء نے یہ دیا ہے کہ یہ مال اگرچہ اس وقت حلال تھا مگر قمار کے ذریعہ اکتساب مال اس وقت بھی رسول اللہ ﷺ کو پسند نہ تھا، اس لئے صدیق اکبر کی شان کے مناسب نہ سمجھ کر ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا اور یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے شراب حلال ہونے کے زمانے میں رسول اللہ ﷺ اور صدیق اکبر نے کبھی استعمال نہیں فرمائی۔
اور لفظ سحت جو بعض روایات میں آیا ہے اول تو اس روایت کو محدثین نے صحیح تسلیم نہیں کیا اور اگر صحیح بھی مانا جائے تو یہ لفظ بھی کئی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ جیسے بمعنے حرام مشہور ہے دوسرے معنی اس کے مکروہ و ناپسندیدہ کے بھی آتے ہیں۔ جیسا ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسب الحجام سحت یعنی پچھنے لگانے والے کی کمائی سخت ہے یہاں جمہور فقہاء نے اس کے معنی ناپسندیدہ اور مکروہ کے لئے ہیں اور امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں اور ابن اثیر نے نہایہ میں لفظ سحت کے یہ مختلف معانی محاورات عرب اور احادیث نبویہ سے ثابت کئے ہیں۔
حضرات فقہاء کا یہ کلام اس لئے بھی واجب القبول ہے کہ اگر واقع میں یہ مال حرام تھا تو شرعی اصول کے مطابق یہ مال اسی شخص کو واپس کرنا لازم تھا جس سے لیا گیا ہے مال حرام کو صدقہ کرنے کا حکم صرف ان صورتوں میں ہوتا ہے جبکہ اس کا مالک معلوم نہ ہو یا اس کو پہنچانا مشکل ہو یا اس کو واپس کرنے میں کوئی اور شرعی قباحت ہو۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Ayahs 30:4–6يَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ ، بِنَصْرِ اللّٰهِ ، یعنی اس روز (جبکہ روم فارس پر غالب آئیں گے) مسلمان خوش ہوں گے اللہ کی مدد سے۔ نظم عبارت کے اعتبار سے ظاہر یہ ہے کہ یہاں نصر اور مدد سے رومیوں کی نصرت و امداد ہے، وہ اگرچہ کافر تھے مگر دوسرے کے مقابل کافروں کے اعتبار سے کفر میں ہلکے تھے، اس لئے ان کی نصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا کوئی امر مستبعد نہیں، خصوصاً جبکہ ان کی نفرت سے مسلمانوں کو بھی خوشی حاصل ہو اور کفار کے مقابلہ میں ان کی جیت بھی ہو۔
اور یہ بھی احتمال ہے کہ نصرت سے مراد یہاں مسلمانوں کی نصرت ہو جو دو وجہ سے ہو سکتی ہے۔ اول تو یہی کہ مسلمانوں نے رومیوں کے غلبہ کو قرآن کی سچائی اور اسلام کی حقانیت کی دلیل بنا کر پیش کیا تھا، اس لئے رومیوں کا غلبہ درحقیقت مسلمانوں کی نفرت تھی، دوسری وجہ نصرت مسلمین کی یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس زمانے میں کفار کی بڑی طاقتیں بھی دو فارس اور روم تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو باہم بھڑا کر دونوں کو کمزور کردیا۔ جو آئندہ مسلمانوں کی فتوحات کا پیش خیمہ بنی۔ (کذا فی الروح)
Ayah 30:7يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ ، یعنی یہ لوگ دنیا کی زندگی کے ایک پہلو کو تو خوب جانتے ہیں کہ تجارت کس طرح کریں، کس مال کی کریں، کہاں سے خریدیں، کہاں بیچیں، اور کھیتی کس طرح کریں، کب بیچ ڈالیں کب کاٹیں، تعمیرات کیسی کیسی بنائیں، سامان عیش و عشرت کیا کیا مہیا کریں۔ لیکن اسی حیات دنیا کا دوسرا پہلو جو اس کی حقیقت اور اس کے اصلی مقصد کو واضح کرتا ہے کہ دنیا کا چند روزہ قیام درحقیقت ایک مسافرانہ قیام ہے، انسان یہاں کا مقامی آدمی (نیشنل) نہیں بلکہ دوسرے ملک آخرت کا باشندہ ہے، یہاں کچھ مدت کے لئے ویزا پر آیا ہوا ہے، اس کا اصلی کام یہ ہے کہ اپنے اصلی وطن کے لئے یہاں سے سامان راحت فراہم کر کے وہاں بھیجے اور وہ سامان راحت ایمان اور عمل صالح ہے اس دوسرے رخ سے بڑے بڑے عاقل کہلانے والے بالکل غافل اور جاہل ہیں۔
قرآن کریم کے الفاظ میں غور کیجئے کہ يَعْلَمُوْنَ کے ساتھ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا فرمایا ہے۔ جس میں لفظ ظاہراً کو تنوین کے ساتھ نکرہ لا کر قواعد عربیت کی رو سے اس طرف اشارہ ہے کہ درحقیقت یہ لوگ حیات ظاہر کو بھی پورا نہیں جانتے، اس کے صرف ایک رخ کو جانتے ہیں دوسرے رخ سے غافل ہیں اور آخرت سے بالکل ہی غافل و جاہل ہیں۔
دنیا کے فنون معاش اگر آخرت سے غفلت کے ساتھ حاصل ہوں تو وہ کوئی دانشمندی نہیں
قرآن کریم اقوام دنیا کے عبرتناک قصوں سے بھرا ہوا ہے، جو مکاسب دنیا اور عیش و عشرت کے سامان جمع کرنے میں بڑے نام آور تھے، پھر ان کا انجام بد بھی دنیا ہی میں لوگوں کے سامنے آیا اور آخرت کا دائمی عذاب ان کا حصہ بنا، اس لئے ان کو کوئی سمجھدار آدمی عقلاء یا حکماء نہیں کہہ سکتا۔ افسوس ہے کہ آج کل عقل و حکمت کا سارا انحصار اسی میں سمجھ لیا گیا ہے کہ جو شخص زیادہ سے زیادہ مال جمع کرے اور اپنی عیش و عشرت کا سامان سب سے بہتر بنا لے وہ سب سے بڑا عقلمند کہلاتا ہے، اگرچہ اخلاق انسانیت سے بھی گوارا ہو۔ عقل و شرع کی رو سے اس کو عقلمند کہنا عقل کی توہین ہے۔ قرآن کریم کی زبان میں عقل والے صرف وہ لوگ ہیں جو اللہ کو اور آخرت کو پہچانیں، اس کے لئے عمل کریں۔ دنیا کی ضروریات کو بقدر ضرورت رکھیں، اپنی زندگی کا مقصد نہ بنائیں۔ آیت قرآن اِنَّ فِيْ .... لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ ، الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِيٰمًا وَّقُعُوْدًا الآیتہ کا یہی مفہوم ہے۔
Ayah 30:8خلاصہ تفسیر
کیا (دلائل وقوع آخرت کے سن کر بھی ان کی نظر دنیا ہی پر مقصود رہی اور) انہوں نے اپنے دلوں میں یہ غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو اور ان چیزوں کو جو ان کے درمیان میں ہیں کسی حکمت ہی سے اور ایک میعاد معین (تک) کے لئے پیدا کیا ہے (جیسا اس نے آیات میں خبر دی ہے کہ ان حکمتوں میں سے ایک حکمت جزاء و سزا کی ہے اور میعاد معین قیامت ہے۔ اگر اپنے دلوں میں غور کرتے تو ان واقعات کا امکان عقل سے اور ان کا وقوع نقل یعنی قرآن سے اور اس نقل کا صدق صفت اعجاز سے منکشف ہوجاتا اور آخرت کے منکر نہ ہوتے، مگر غور نہ کرنے سے منکر ہو رہے ہیں) اور (یہی کیا اور) بہت سے آدمی اپنے رب کے ملنے کے منکر ہیں کیا یہ لوگ (کبھی گھر سے نہیں نکلے اور) زمین میں چلے پھرے نہیں، جس میں دیکھتے بھالتے کہ جو (منکر) لوگ ان سے پہلے ہو گذرے ہیں ان کا (آخری) انجام کیا ہوا (کیفیت ان کی یہ تھی کہ) وہ ان سے قوت میں بڑھے ہوئے تھے اور انہوں نے زمین کو بھی (ان سے زیادہ) بویا تھا اور جتنا انہوں نے (سامان اور مکان سے) اس کو آباد کر رکھا ہے اس سے زیادہ انہوں نے اس کو آباد کیا تھا اور ان کے پاس بھی ان کے پیغمبر معجزے لے کر آئے تھے (جن کو انہوں نے نہیں مانا اور عذاب سے ہلاک ہوئے جن کی ہلاکت کے آثار ان کے ویران مکانات سے جو طریق شام میں ملتے ہیں نمودار ہیں) سو (اس ہلاکت میں) اللہ تعالیٰ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا وہ تو خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے (کہ انکار پیغمبروں کا کر کے مستحق ہلاکت ہوئے یہ تو ان کی حالت دنیا میں ہوئی اور) پھر (آخرت میں) ایسے لوگوں کا انجام جنہوں نے (ایسا برا کام (یعنی رسل کا انکار) کیا تھا برا ہی ہوا (محض) اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو (یعنی احکام و اخبار کو) جھٹلایا تھا اور (تکذیب سے بڑھ کر یہ کہ) ان کی ہنسی اڑاتے تھے (وہ انجام سزائے دوزخ ہے۔)
معارف و مسائل
مذکور الصدر دونوں آیتیں مضمون سابق کا تکملہ اور اس پر بطور شہادت کے ہیں کہ یہ لوگ دنیا کی چند روزہ چمک دمک اور فانی لذتوں میں ایسے مست ہوگئے کہ اس کارخانہ کی حقیقت اور انجام سے بالکل غافل ہوگئے، اگر یہ خود بھی ذرا اپنے دل میں سوچتے اور غور کرتے تو ان پر یہ راز کائنات منکشف ہوجاتا کہ خالق کائنات نے یہ آسمان و زمین اور ان دونوں کے درمیان کی مخلوقات کو فضول اور بیکار پیدا نہیں کیا۔ ان کی تخلیق کا کوئی بڑا مقصد اور بڑی حکمت ہے اور وہ یہی ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ان بیشمار نعمتوں کے ذریعہ ان کے پیدا کرنے والے کو بھی پہچانیں، اور اس کی تلاش میں لگ جائیں کہ وہ کن کاموں سے راضی ہوتا ہے کن سے ناراض تاکہ اس کی رضا جوئی کا سامان کریں اور ناراضی کے کاموں سے بچیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ان دونوں قسموں کے کاموں کی کچھ جزاء و سزا بھی ہونا ضروری ہے ورنہ نیک و بد کو ایک ہی پلے میں رکھنا عدل و انصاف کے خلاف ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ یہ دنیا دار الجزاء نہیں ہے جس میں انسان کو اس کے اچھے یا برے عمل کی پوری جزاء ضرور مل ہی جائے، بلکہ یہاں تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جرائم پیشہ آدمی خوش خرم اور بامراد نظر آتا ہے اور برے کاموں سے پرہیز کرنے والا مصائب اور تنگی کا شکار دیکھا جاتا ہے۔
اس لئے ضروری ہے کہ کوئی ایسا وقت آئے جب یہ سب کارخانہ ختم ہو اور اچھے برے اعمال کا حساب ہو اور ان پر جزاء و سزا مرتب ہو، جس کا نام قیامت اور آخرت ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ لوگ اگر غور و فکر کرتے تو یہی آسمان و زمین اور ان کی مخلوقات اس کی شہادت دے دیتیں کہ یہ چیزیں دائمی نہیں کچھ مدت کے لئے ہیں اور ان کے بعد دوسرا عالم آنے والا ہے جو دائمی ہوگا۔ مذکورہ دو آیتوں میں سے پہلی آت کا یہی حاصل ہے اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ الآیتہ یہ مضمون تو ایک عقلی استدلال کا ہے۔ اگلی آیت میں دنیا کی محسوسات و مشاہدات اور تجربات کو اس کی شہادت میں پیش کیا گیا ہے اور اہل مکہ کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ
Ayahs 30:9–10اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ ، یعنی یہ اہل مکہ تو ایک ایسی زمین کے باشندے ہیں جہاں نہ زراعت ہے نہ صنعت نہ تجارت کے مواقع اور نہ بلند وبالا حسین تعمیرات، مگر ملک شام اور یمن کے سفر ان لوگوں کو اپنے تجارتی مقاصد کے لئے پیش آتے ہیں کہ ان سفروں میں ان لوگوں نے اپنے سے پہلی اقوام دنیا کے انجام کا مشاہدہ نہیں کیا جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں بڑے بڑے تصرفات کرنے کا سلیقہ دیا تھا کہ زمین کو کھود کر اس سے پانی نکالنا اور اس سے باغات اور کھیتوں کو سیراب کرنا اور چھپے ہوئے معادن سے سونا چاندی اور دوسری قسم کی معدنی دھاتیں نکالنا اور ان سے انسانی فوائد کے لئے مختلف قسم کی مصنوعات تیار کرنا ان کا وظیفہ زندگی تھا اور یہ اپنے زمانے کی متمدن قومیں سمجھ جاتی تھیں۔ مگر انہوں نے اسی مادی اور فانی عیش و عشرت میں مست ہو کر اللہ کو اور آخرت کو بھلا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو یاد دلانے کے لئے اپنے پیغمبر اور کتابیں بھیجیں، مگر انہوں نے کسی کی طرف التفات نہیں کیا اور بالاخر دنیا میں بھی مبتلائے عذاب ہوئے جس پر ان کی بستیوں کے ویران کھنڈرات اس وقت تک شہادت دے رہے ہیں۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ غور کرو کہ کیا اس عذاب میں ان پر اللہ کی طرف سے کوئی ظلم ہوا ہے یا انہوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے کہ اسباب عذاب جمع کر لئے۔
Ayahs 30:11–14خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ خلق کو اول بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی اس کو پیدا کرے گا پھر (پیدا ہونے کے بعد) اس کے پاس (حساب کتاب کے لئے) لائے جاؤ گے اور جس روز قیامت قائم ہوگی (جس میں اعادہ مذکور ہونے والا ہے) اس روز مجرم (یعنی کافر) لوگ (باز پرس کے وقت) حیرت زدہ رہ جائیں گے (یعنی کوئی معقول بات ان سے نہ بن پڑے گی۔ اور ان کے (تراشے ہوئے) شریکوں میں سے (جن کو شریک عبادت بناتے تھے) ان کا کوئی سفارشی نہ ہوگا اور (اس وقت خود) یہ لوگ (بھی) اپنے شریکوں میں سے منکر ہوجائیں گے (کہ واللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ) اور جس روز قیامت قائم ہوئی اس روز (علاوہ واقعہ مذکورہ کے ایک واقعہ یہ بھی ہوگا کہ مختلف طریقوں کے) سب آدمی جدا جدا ہوجائیں گے۔ یعنی جو لوگ ایمان لائے تھے اور انہوں نے اچھے کام کئے تھے وہ تو (بہشت کے) باغ میں مسرور ہوں گے اور جن لوگوں نے کفر کیا تھا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کے پیش آنے کو جھٹلایا تھا وہ لوگ عذاب میں گرفتار ہوں گے (یہ معنی ہیں جدا جدا ہونے کے، جب ایمان و عمل صالح کی فضیلت تم کو معلوم ہوگئی) سو تم اللہ کی تسبیح (اعتقاداً و قلباً بھی جس میں ایمان آ گیا اور قولاً و لساناً بھی جس میں اقرار و دیگر اذکار آگئے اور عملاً و ارکاناً بھی جس میں تمام عبادتیں عموماً اور نماز خصوصاً آگئیں، غرض تم اللہ کی تسبیح ہر وقت کیا کرو (اور خصوصاً) شام کے وقت اور صبح کے وقت اور (اللہ کی تسبیح کرنے کا جو حکم ہوا ہے تو وہ واقع میں اس کا مستحق بھی ہے، کیونکہ) تمام آسمانوں اور زمین میں اسی کی حمد ہوتی ہے (یعنی آسمان میں فرشتے اور زمین میں بعض اختیار اور بعض اضطراراً اس کی حمد وثناء کرتے ہیں۔ کقولہ تعالیٰ وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ پس جب وہ ایسا محمود الصفات کامل الذات ہے تو تم کو بھی ضرور اس کی تسبیح کرنی چاہئے) اور بعد زوال (بھی تسبیح کیا کرو) اور ظہر کے وقت (بھی تسبیح کیا کرو کہ یہ اوقات تجدد نعمت و زیادت ظہور آثار قدرت کے ہیں ان میں تجدید تسبیح کی مناسب ہے بالخصوص نماز کے لئے یہی اوقات مقرر ہیں، چناچہ مَسَا میں مغرب و عشاء آگئی اور عَشِی میں ظہر اور عصر دونوں داخل تھے مگر ظہر صراحۃً مذکور ہے اس لئے صرف عصر مراد رہ گئی، اور صبح بھی تصریحاً مذکور ہے اور اس کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے، کیونکہ اس کی ایسی قدرت ہے کہ) وہ جاندار کو بےجان سے باہر لاتا ہے اور بےجان کو جان دار سے باہر لاتا ہے۔ (مثلاً نطفہ اور بیضہ سے انسان اور بچہ اور انسان اور پرندہ سے نطفہ اور بیضہ) اور زمین کو اس کے مردہ (یعنی خشک) ہونے کے بعد زندہ (یعنی تازہ و شاداب) کرتا ہے اور اسی طرح تم لوگ (قیامت کے روز) قبروں سے نکالے جاؤ گے۔
Ayahs 30:15–16معارف و مسائل
فَهُمْ فِيْ رَوْضَةٍ يُّحْبَرُوْنَ ، يُّحْبَرُوْنَ حبور سے مشتق ہے جس کے معنی سرور اور خوشی کے ہیں اور اس لفظ کے عموم میں ہر طرح کا سرور داخل ہے جو نعمائے جنت سے اہل جنت کو حاصل ہوگا۔ قرآن کریم میں اس کو یہاں بھی عام رکھا گیا ہے۔ اسی طرح دوسری جگہ یہ ارشاد ہے فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ یعنی کسی شخص کو دنیا میں معلوم نہیں کہ اس کے لئے جنت میں آنکھوں کی ٹھنڈک (اور راحت و سرور) کے کیا کیا سامان جمع ہیں۔ بعض مفسرین نے جو خاص خاص سرور کی چیزوں کو اس آیت کے تحت میں ذکر کیا ہے وہ سب اسی اجمال میں داخل ہیں۔
Ayahs 30:17–19فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ ، وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ ، لفظ سـبْحٰنَ اللّٰهِ مصدر ہے، اس کا فعل محذوف ہے یعنی سبحوا اللہ سبحانا، حِيْنَ تُمْسُوْنَ ، یعنی جب تم شام کے وقت میں داخل ہو اور وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ ، یعنی جب تم پر صبح کا وقت آئے وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یہ جملہ درمیان میں بطور دلیل کے لایا گیا ہے کہ صبح شام اللہ کی تسبیح اس لئے ضروری ہے کہ آسمان و زمین میں صرف وہی مستحق حمد ہے اور تمام آسمان و زمین والے اس کی حمد کرنے میں مشغول ہیں اور جس طرح شروع آیت میں صبح شام کی تسبیح کا حکم ہے، آخر آیت میں عَشِـيًّا اور حِيْنَ تُظْهِرُوْنَ سے اور دو وقتوں میں تسبیح کرنے کا حکم دیا گیا ہے ایک وقت عَشِی جو دن کے آخری حصہ کو کہا جاتا ہے جو عصر کا وقت ہے دوسرا وقت ظہر یعنی بعد زوال آفتاب کے۔
اور ترتیب بیان میں جس طرح شام کو صبح سے مقدم کر کے بیان کیا گیا ہے اسی طرح دن کے آخری حصہ کو ظہر پر مقدم کر کے بیان کیا گیا ہے، شام یعنی رات کو مقدم کرنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ اسلامی تاریخ میں رات مقدم ہوتی ہے اور تاریخ غروب آفتاب سے بدلتی ہے اور عشی یعنی وقت عصر کو ظہر سے مقدم کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ عصر کا وقت عموماً کاروبار کی مشغولیت کا وقت ہوتا ہے، اس میں کوئی دعا تسبیح یا نماز عادة مشکل ہے۔ اسی لئے قرآن کریم میں صلوة وسطی جس کی تفسیر جمہور کے نزدیک نماز عصر ہے، اس کی خصوصی تاکید آئی ہے۔ حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى۔
آیت مذکورہ کے الفاظ میں نماز یا صلوة کی تصریح نہیں۔ اس لئے ہر قسم کے ذکر اللہ قولی اور عملی کو شامل ہے، جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں بیان کیا گیا ہے اور ذکر اللہ کی تمام اقسام میں چونکہ نماز سب سے اعلی اور افضل ہے، اس لئے وہ اس میں بدرجہ اولی داخل ہے۔ اسی لئے علماء نے کہا ہے کہ اس آیت میں پانچوں نمازوں کا مع ان کے اوقات کے ذکر آ گیا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس سے کسی نے دریافت کیا کہ کیا قرآن میں پانچ نمازوں کا ذکر صریح ہے ؟ تو فرمایا ہاں ! اور استدلال میں یہی آیت پیش کر کے فرمایا کہ حِيْنَ تُمْسُوْنَ میں نماز مغرب اور حِيْنَ تُصْبِحُوْنَ میں نماز فجر اور عَشِـيًّا میں نماز عصر اور حِيْنَ تُظْهِرُوْنَ میں نماز ظہر کا ذکر صریح موجود ہے۔ اب صرف ایک نماز عشاء رہی، اس کے ثبوت میں دوسری آیت کا جملہ ارشاد فرمایا مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَاۗءِ۔
اور حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ حِيْنَ تُمْسُوْنَ میں نماز مغرب و عشاء دونوں داخل ہیں۔
فائدہ عظیمہ
یہ آیت حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوة والسلام کی وہ دعا ہے جس کی وجہ سے قرآن کریم نے ان کو دعائے عہد کا خطاب دیا ہے، ارشاد فرمایا وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ حضرت ابراہیم ؑ یہ کلمات صبح شام پڑھا کرتے تھے۔
جیسا کہ اسانید صحیحہ کے ساتھ حضرت معاذ بن انس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی تعریف وفاء عہد سے کرنے کا سبب ان کی یہ دعا تھی۔
اور ابو داؤد، طبرانی، ابن سنی وغیرہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ ، وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ ، يُخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْـحَيِّ وَيُـحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَ آ وَكَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ ، ان دو آیتوں کے متعلق فرمایا کہ جس شخص نے صبح کو یہ کلمات پڑھ لئے تو دن بھر میں اس کے عمل میں جو کوتاہی ہوگی وہ ان کلمات کی برکت سے پوری کردی جائے گی اور جس نے شام کے وقت یہ کلمات پڑھ لئے تو اس کے رات کے اعمال کی کوتاہی اس کے ذریعے پوری کردی جائے گی۔ (روح)
Ayah 30:20خلاصہ تفسیر
اور اسی کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے ایک یہ (امر) ہے کہ تم کو مٹی سے پیدا کیا (یا تو اس طرح کہ آدم ؑ مٹی سے پیدا ہوئے جو مشتمل تھے تمام ذریت پر اور یا اس طرح کہ نطفہ کی اصل غذا ہے اور اس کی اصل عناصر ہیں جس میں جزو غالب مٹی ہے) پھر تھوڑے ہی روز بعد (کیا ہوا کہ) تم آدمی بن کر (زمین پر) پھیلے ہوئے پھرتے (نظر آتے) ہو اور اسی کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے یہ (امر) ہے کہ اس نے تمہارے (فائدے کے) واسطے تمہاری جنس کی بیبیاں بنائیں (اور وہ فائدہ یہ ہے کہ) تاکہ تم کو ان کے پاس آرام ملے اور تم میاں بی بی میں محبت اور ہمدردی پیدا کی، اس (امر مذکور) میں (بھی) ان لوگوں کے لئے (قدرت کی نشانیاں ہیں جو فکر سے کام لیتے ہیں (کیونکہ استدلال کے لئے فکر کی ضرورت ہے اور نشانیاں جمع اس لئے فرمایا کہ امر مذکور کئی امر پر مشتمل ہے) اور اسی کی قدرت کی) نشانیوں میں سے آسمان اور زمین کا بنانا ہے اور تمہارے لب و لہجہ اور رنگتوں کا الگ الگ ہونا ہے، (لب و لہجہ سے مراد یا لغات ہوں یا آواز و طرز گفتگو) اس (امر مذکور) میں (بھی) دانشمندوں کے لئے (قدرت کی) نشانیاں ہیں (یہاں بھی صیغہ جمع لانے کی وہی توجیہہ مذر ہو سکتی ہے اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے تمہارا سونا لیٹنا ہے رات میں اور دن میں (گو رات کو زیادہ اور دن کو کم ہو) اور اس کی روزی کو تمہارا تلاش کرنا ہے (دن کو زیادہ اور رات کو کم، اسی لئے دوسری آیات میں نیند کو رات کے ساتھ اور تلاش معاش کو دن کے ساتھ خاص کر کے بیان کیا گیا ہے) اس امر مذکور) میں (بھی) ان لوگوں کے لئے (قدرت کی) نشانیاں ہیں جو (دلیل کو توجہ سے) سنتے ہیں اور اسی کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے یہ (امر) ہے کہ وہ تم کو (بارش کے وقت) بجلی (چمکتی ہوئی) دکھلاتا ہے جس سے (اس کے گرنے کا) ڈر بھی ہوتا ہے اور (اس سے بارش کی) امید بھی ہوتی ہے اور وہی آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اس سے زمین کو اس کے مردہ (یعنی خشک) ہوجانے کے بعد زندہ (یعنی ترو تازہ) کردیتا ہے اس (امر مذکور) میں (بھی) ان لوگوں کے لئے (قدرت کی) نشانیاں ہیں جو عقل (نافع رکھتے ہیں) اور اسی کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے یہ (امر) ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم (یعنی ارادہ) سے قائم ہیں (اس میں بیان ہے کہ ان کے ابقاء کا اور اوپر خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ میں ذکر تھا ان کی ابتداء آفرنیش کا اور یہ تمام نظام عالم جو مذکور ہوا، یعنی تمہارا سلسلہ توالد و تناسل کا جاری ہونا اور باہم ازواج ہونا اور آسمان و زمین کا بہیئت کذائیہ موجود و قائم ہونا اور زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف اور لیل و نہار کے انقلاب میں خاص مصلحتوں کا ہونا اور بارش کا نزول اور اس کے مبادی و آثار کا ظہور وہ سب اسی وقت تک باقی ہیں جب تک دنیا کو باقی رکھنا مقصود ہے اور ایک روز یہ سب ختم ہوجائے گا) پھر (اس وقت یہ ہوگا کہ) جب تم کو پکار کر زمین میں سے بلاوے گا تو تم یکبارگی نکل پڑو گے (اور دوسرا نظام شروع ہوجائے گا جو مقصود مقام ہے) اور (اوپر دلائل قدرت سے معلوم ہوگیا ہوگا کہ) جتنے (فرشتے اور انسان وغیرہ) آسمان اور زمین میں موجود ہیں سب اسی کے (مملوک) ہیں (اور) سب اسی کے تابع (یعنی مسخر قدرت) ہیں اور (اس ثبوت و اختصاص قدرت کاملہ سے یہ ثابت ہوگیا کہ) وہی ہے جو اول بار پیدا کرتا ہے (چنانچہ یہ مخاطبین کے نزدیک بھی مسلم تھا) پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا (جیسا کہ دلائل مذکورہ کے ساتھ خبر صادق کے مل جانے سے معلوم ہوا) اور یہ (دوبارہ پیدا کرنا) اس کے نزدیک (با اعتبار مخاطبین کے بادی النظر کے بہ نسبت اول بار پیدا کرنے کے) زیادہ آسان ہے (جیسا قدرت بشریہ کے اعتبار سے عادت غالبہ یہی ہے کہ کسی چیز کو پہلی بار کے بنانے سے دوسری بار بنانا سہل تر ہوتا ہے) اور آسمان اور زمین میں اسی کی شان (سب سے) اعلی ہے (یعنی نہ آسمانوں میں کوئی ایسا بڑا ہے اور نہ زمین میں کقولہ وَلَهُ الْكِبْرِيَاۗءُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ) اور وہ (بڑا) زبردست (یعنی قادر مطلق اور) حکمت والا ہے چناچہ اوپر کے تصرفات سے قدرت اور حکمت دونوں ظاہر ہیں، پس وہ اپنی قدرت سے اعادہ کرے گا اور اس اعادہ تخلیق میں جتنا توقف ہو رہا ہے اس میں حکمت و مصلحت ہے، پس قدرت و حکمت کے ثبوت کے بعد فی الحال واقع نہ ہونے سے انکار کرنا جہل ہے۔)
معارف و مسائل
سورة روم کے شروع میں روم وفارس کی جنگ کا ایک واقعہ سنانے کے بعد منکرین اور کفار کی گمراہی اور حق بات کے سننے سمجھنے سے بےپروائی کا سبب ان کا صرف دنیا کی فانی زندگی کو اپنا مقصد حیات بنا لینا اور آخرت کی طرف کوئی توجہ نہ دینا قرار دیا گیا تھا اس کے بعد قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے اور حساب کتاب اور جزاء و سزا کے واقع ہونے پر جو سطحی نظر والوں کو استبعاد ہوسکتا ہے، اس کا جواب مختلف پہلوؤں سے دیا گیا ہے، پہلے خود اپنے نفس میں غور و فکر کی پھر گرد و پیش میں گذرنے والی اقوام کے حالات اور ان کے انجام میں نظر کرنے کی دعوت دی گئی۔ پھر حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ مطلقہ کا ذکر فرمایا جس میں اس کا کوئی سہیم و شریک نہیں، ان سب شواہد و دلائل کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مستحق عبادت صرف اس کی یکتا ذات کو قرار دیا جائے اور اس نے جو اپنے انبیاء کے ذریعہ قیامت قائم ہونے اور تمام اولین و آخرین کے دوبارہ زندہ ہو کر حساب کتاب کے بعد جنت یا دوزخ میں جانے کی خبر دی ہے اس پر ایمان لایا جائے۔ مذکور الصدر آیات میں اسی قدرت کاملہ اور اس کے ساتھ حکمت بالغہ کے چھ مظاہر آیات قدرت کے عنوان سے بیان فرمائے گئے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی بےمثال قدرت و حکمت کی نشانیاں ہیں۔
پہلی آیت قدرتانسان جیسے اشرف المخلوقات اور حاکم کائنات کو مٹی سے حس و حرکت اور شعور و ادراک کا کوئی شمہ نظر نہیں آتا، کیونکہ مشہور چار عناصر آگ، پانی، ہوا، اور مٹی، میں سے مٹی کے سوا اور سب عناصر میں کچھ نہ کچھ حرکت تو ہے، مٹی اس سے بھی محروم ہے، قدرت نے تخلیق انسانی کے لئے اس کو منتخب فرمایا۔ ابلیس کی گمراہی کا سبب یہی بنا کہ اس نے آگ کے عنصر کو مٹی سے اشرف و اعلی سمجھ کر تکبر اختیار کیا اور یہ نہ سمجھا کہ شرافت اور بزرگی خالق ومالک کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہے بڑا بنا سکتا ہے۔
اور انسان کی تخلیق کا مادہ مٹی ہونا حضرت آدم ؑ کے اعتبار سے ظاہر ہی ہے اور وہ چونکہ تمام بنی آدم کے وجود کی اصل بنیاد ہیں اس لئے دوسرے انسانوں کی تخلیق بالواسطہ ان ہی کی طرف منسوب کرنا کچھ بعید نہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ عام انسان جو توالد و تناسل کے سلسلہ سے نطفہ کے ذریعہ پیدا ہوتے ہیں ان میں بھی نطفہ جن اجزاء سے مرکب ہوتا ہے ان میں مٹی کا جزو غالب ہے۔
Ayah 30:21دوسری آیت قدرتیہ ہے کہ انسان ہی کی جنس میں اللہ تعالیٰ نے عورتیں پیدا کردیں جو مردوں کی بیبیاں بنیں، ایک ہی مادہ سے ایک ہی جگہ میں ایک ہی غذا سے پیدا ہونے والے بچوں میں یہ دو مختلف قسمیں پیدا فرما دیں جن کے اعضاء وجوارح، صورت و سیرت، عادات و اخلاق میں نمایاں تفاوت و امتیاز پایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت و حکمت کے لئے یہ تخلیق ہی کافی نشانی ہے۔ اس کے بعد عورتوں کی اس خاص نوع کی تخلیق کی حکمت و مصلحت یہ بیان فرمائی لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا یعنی ان کو اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ تمہیں ان کے پاس پہنچ کر سکون ملے۔ مرد کی جتنی ضروریات عورت سے متعلق ہیں ان سب میں غور کیجئے تو سب کا حاصل سکون قلب اور راحت و اطمینان نکلے گا، قرآن کریم نے ایک لفظ میں ان سب کو جمع فرما دیا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ ازدواجی زندگی کے تمام کاروبار کا خلاصہ سکون و راحت قلب ہے جس گھر میں یہ موجود ہے وہ اپنی تخلیق کے مقصد میں کامیاب ہے جہاں قلبی سکون نہ ہو اور چاہے سب کچھ ہو وہ ازدواجی زندگی کے لحاظ سے ناکام و نامراد ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ باہمی سکون قلب صرف اسی صورت سے ممکن ہے کہ مرد و عورت کے تعلق کی بنیاد شرعی نکاح اور ازدواجی پر ہو، جن ممالک اور جن لوگوں نے اس کے خلاف کی حرام صورتوں کو رواج دیا اگر تفتیش کی جائے تو ان کی زندگی کو کہیں پرسکون نہ پائیں گے، جانوروں کی طرح وقتی خواہش پوری کرلینے کا نام سکون نہیں ہو سکتا۔
ازدواجی زندگی کا مقصد سکون ہے جس کے لئے باہمی الفت و محبت اور رحمت ضروری ہے
اس آیت نے مرد و عورت کی ازدواجی زندگی کا مقصد سکون قلب قرار دیا ہے اور یہ جب ہی ممکن ہے کہ طرفین ایک دوسرے کا حق پہچانیں اور ادا کریں، ورنہ حق طلبی کے جھگڑے خانگی سکون کو برباد کردیں گے۔ اس ادائے حقوق کے لئے ایک صورت تو یہ تھی کہ اس کے قوانین بنا دینے اور احکام نافذ کردینے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ جیسے دوسرے لوگوں کے حقوق کے معاملہ میں ایسا ہی کیا گیا ہے کہ ایک دوسرے کی حق تلفی کو حرام کر کے اس پر سخت وعیدیں سنائی گئیں سزائیں مقرر کی گئیں، ایثار و ہمددی کی نصیحت کی گئی لیکن تجربہ شاہد ہے کہ صرف قانون کے ذریعہ کوئی قوم اعتدال پر نہیں لائی جاسکتی جب تک اس کے ساتھ خدا کا خوف نہ ہو، اسی لئے معاشرتی معاملات میں احکام شرعیہ کے ساتھ ساتھ پورے قرآن میں ہر جگہ اتَّقُوا اللّٰهَ ، وَاخْشَوْا وغیرہ کے کلمات بطور تکملہ کے لائے گئے ہیں۔
مرد و عورت کے باہمی معاملات کچھ اس نوعیت کے ہیں کہ ان کے حقوق باہمی پورے ادا کرانے پر نہ کوئی قانون حاوی ہوسکتا ہے نہ کوئی عدالت ان کا پورا انصاف کرسکتی ہے اس لئے خطبہ نکاح میں رسول اللہ ﷺ نے قرآن کریم کی وہ آیات انتخاب فرمائی ہیں جن میں تقوی اور خوف خدا اور آخرت کی تلقین ہے کہ وہی درحقیقت زوجین کے باہمی حقوق کا ضامن ہوسکتا ہے۔
اس پر ایک مزید انعام حق تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ازدواجی حقوق کو صرف شرعی اور قانونی نہیں رکھا بلکہ طبعی اور نفسانی بنادیا۔ جس طرح ماں باپ اور اولاد کے باہمی حقوق کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ فرمایا، کہ ان کے قلوب میں فطرةً ایک ایسی محبت پیدا فرما دی کہ ماں باپ اپنی جان سے زیادہ اولاد کی حفاظت کرنے پر مجبور ہیں اور اسی طرح اولاد کے قلوب میں بھی ایک فطری محبت ماں باپ کی رکھ دی گئی ہے۔ یہی معاملہ زوجین کے متعلق بھی فرمایا گیا۔ اس کے لئے ارشاد فرمایا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً ، یعنی اللہ تعالیٰ نے زوجین کے درمیان صرف شرعی اور قانونی تعلق نہیں رکھا بلکہ ان کے دلوں میں مودت اور رحمت پیوست کردی۔ وُدَّ اور مودت کے لفظی معنی چاہنے کے ہیں جس کا ثمرہ محبت و الفت ہے۔ یہاں حق تعالیٰ نے دو لفظ اختیار فرمائے ایک مودت دوسرے رحمت ممکن ہے اس میں اشارہ اس طرف ہو کہ مودت کا تعلق جوانی کے اس زمانے سے ہو جس میں طرفین کی خواہشات ایک دوسرے سے محبت و الفت پر مجبور کرتی ہیں اور بڑھاپے میں جب یہ جذبات ختم ہوجاتے ہیں تو باہمی رحمت و ترحم طبعی ہوجاتا ہے۔ (کما ذکرہ القرطبی عن البعض)
اس کے بعد فرمایا اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ ، یعنی اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر کرتے ہیں، یہاں ذکر تو ایک نشانی کا کیا گیا ہے اور اس کے آخر میں اس کو آیات اور نشانیاں فرمایا، وجہ یہ ہے کہ ازدواجی تعلق جس کا ذکر اس میں کیا گیا اس کے مختلف پہلوؤں پر اور ان سے حاصل ہونے والے دینی اور دنیوی فوائد پر نظر کی جائے تو یہ ایک نہیں بہت سی نشانیاں ہیں۔
تیسری آیت قدرتآسمان و زمین کی تخلیق اور انسانوں کے مختلف طبقات کی زبانیں اور لب و لہجہ کا مختلف ہونا اور مختلف طبقات کے رنگوں میں امتیاز ہونا ہے کہ بعض سفید ہیں بعض سیاہ بعض سرخ بعض زرد، اس میں آسمان و زمین کی تخلیق تو قدرت کا عظیم شاہکار ہے ہی، انسانوں کی زبانیں مختلف ہونا بھی ایک عجیب کرشمہ قدرت ہے۔ زبانوں کے اختلاف میں لغات کا اختلاف بھی داخل ہے، عربی، فارسی، ہندی، ترکی، انگریزی وغیرہ کتنی مختلف زبانیں ہیں، جو مختلف خطوں میں رائج ہیں اور ایک دوسرے سے بعض تو ایسی مختلف ہیں کہ کوئی باہمی ربط و مناسبت بھی معلوم نہیں ہوتی اور اس اختلاف السنہ میں لب و لہجہ کا اختلاف بھی شامل ہے کہ قدرت حق نے ہر فرد انسان مرد، عورت، بچے، بوڑھے کی آواز میں ایسا امتیاز پیدا فرمایا ہے کہ ایک فرد کی آواز کسی دوسرے فرد سے ایک صنف کی آواز دوسری صنف سے پوری طرح نہیں ملتی، کچھ نہ کچھ امتیاز ضرور رہتا ہے۔ حالانکہ اس آواز کے آلات زبان، ہونٹ، تالو، حلق، سب میں مشترک اور یکساں ہیں۔ تبارک اللہ احسن الخالقین
Ayah 30:22اسی طرح الوان کا اختلاف ہے کہ ایک ہی ماں باپ سے ایک ہی قسم کے حالات میں دو بچے مختلف رنگوں کے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ تو تخلیق و صنعت گری کا کمال تھا، آگے زبانیں اور لہجے مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسانوں کے رنگ مختلف ہونے میں کیا کیا حکمتیں مستور ہیں، ان کا بیان طویل ہے اور بہت سی حکمتوں کا معمولی غور و فکر سے سمجھ لینا مشکل بھی نہیں۔
اس آیت قدرت میں متعدد چیزیں آسمان، زمین، اختلاف السنہ، اختلاف الوان اور ان کے ضمن میں اور بہت سی قدرت و حکمت کی نشانیاں ہیں اور وہ ایسی کھلی ہوتی ہیں کہ کسی مزید غور و فکر کی بھی ضرورت نہیں، ہر آنکھوں والا دیکھ سکتا ہے اس لئے اس کے ختم پر ارشاد فرمایا اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــلْعٰلِمِيْنَ یعنی اس میں بہت سی نشانیاں ہیں سمجھ رکھنے والوں کے لئے۔
Ayah 30:23چوتھی آیت قدرتانسانوں کا سونا رات میں اور دن میں اسی طرح ان کی تلاش معاش ہے رات میں اور دن میں اس آیت میں تو نیند کو بھی دن و رات دونوں میں بیان فرمایا ہے اور تلاش معاش کو بھی اور بعض دوسری آیات میں نیند کو صرف رات میں اور تلاش معاش کو دن میں بتلایا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ رات میں اصل کام تلاش معاش کا ہے اور کچھ سونے آرام کرنے کا بھی وقت ملتا ہے۔ اس لئے دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔ بعض مفسرین نے تاویل کر کے اس آیت میں بھی نیند کو رات کے ساتھ اور تلاش معاش کو دن کے ساتھ مخصوص کیا ہے مگر اس کی ضرورت نہیں۔
سونا اور تلاش معاش زہد و توکل کے منافی نہیں
اس آیت سے ثابت ہوا کہ سونے کے وقت سونا اور جاگنے کے وقت تلاش معاش انسان کی فطرت بنائی گئی ہے اور ان دونوں چیزوں کا حاصل کرنا انسانی اسباب و کمالات کے تابع نہیں، بلکہ درحقیقت یہ دونوں چیزیں خالص عطاء حق ہیں۔ جیسا کہ رات دن کا مشاہدہ ہے کہ بعض اوقات نیند اور آرام کے سارے بہتر سے بہتر سامان جمع ہونے کے باوجود نیند نہیں آتی، بعض اوقات ڈاکٹری گولیاں بھی نیند لانے میں فیل ہوجاتی ہیں اور جس کو مالک چاہتا ہے کھلی زمین پر دھوپ اور گرمی میں نیند عطا فرما دیتا ہے۔
یہی حال تحصیل معاش کا رات دن مشاہدہ میں آتا ہے کہ دو شخص یکساں علم و عقل والے برابر کے مال والے، برابر کی محنت والے تحصیل معاش کا یکساں ہی کام لے کر بیٹھتے ہیں ایک ترقی کرجاتا ہے دوسرا رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو عالم اسباب بڑی حکمت و مصلحت سے بنایا ہے۔ اس لئے تلاش معاش اسباب ہی کے ذریعہ کرنا لازم ہے مگر عقل کا کام یہ ہے کہ حقیقت شناسی سے دور نہ ہو ان اسباب کو اسباب ہی سمجھے اور اصل رازق اسباب کے بنانے والے کو سمجھے۔
اس آیت قدرت کے ختم پر ارشاد فرمایا اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ یعنی اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو بات کو دھیان دے کر سنتے ہیں۔ اس میں سننے پر مدار رکھنے کی وجہ شاید یہ ہو کہ دیکھنے میں تو نیند خود بخود آجاتی ہے جب آدمی ذرا آرام کی جگہ کر کے لیٹ جائے۔ اسی طرح معاش کا حصول محنت مزدوری تجارت وغیرہ سے ہوجاتا ہے۔ اس لئے دست قدرت کی کار سازی ظاہری نظروں سے مخفی رہتی ہے، وہ اللہ کا پیام لانے والے انبیاء بتلاتے ہیں۔ اس لئے فرمایا کہ یہ نشانیاں انہی کو کارآمد ہوتی ہیں جو بات کو دھیان دے کر سنیں اور جب سمجھ میں آجائے تو تسلیم کرلیں، ہٹ دھرمی اور ضد نہ کریں۔
Ayah 30:24پانچویں آیت قدرت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو بجلی کا کوندنا دکھاتے ہیں جس میں اس کے گرنے اور نقصان پہنچانے کا خطرہ بھی ہوتا ہے اور اس کے پیچھے بارش کی امید بھی اور پھر بارش نازل فرماتے ہیں اور اس خشک بےجان زمین کو زندہ ترو تازہ کر کے اس میں طرح طرح کے درخت اور پھل پھول اگاتے ہیں۔ اس کے آخر میں فرمایا اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ ، یعنی اس میں بہت سی نشانیاں ہیں عقل والوں کے لئے، کیونکہ برق و باراں اور ان کے ذریعہ حاصل ہونے والی نباتات اور ان کے پھل پھول کی تخلیق منجانب اللہ ہونا یہ عقل و حکمت ہی سے سمجھا جاسکتا ہے۔
Ayahs 30:25–26چھٹی آیت قدرت یہ ہے کہ آسمان و زمین کا قیام اللہ ہی کے امر سے ہے، اور جب اس کا امر یہ ہوگا کہ یہ نظام توڑ پھوڑ دیا جائے تو یہ سب مضبوط مستحکم چیزیں جن میں ہزاروں سال چل کر بھی کہیں کوئی نقصان یا خلل نہیں آتا، دم کے دم میں ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہوجائیں گی اور پھر اللہ تعالیٰ ہی کے امر سے دوبارہ سب مردے زندہ ہو کر میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے۔
یہ چھٹی آیت قدرت درحقیقت پہلی سب آیات کا ماحصل اور مقصد ہے، اسی کے سمجھانے کے لئے اس سے پہلی پانچ آیتیں بیان فرمائی ہیں اور اس کے بعد کئی آیات تک اسی مضمون کا ذکر فرمایا ہے۔
Ayah 30:27لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى، لفظ مثل بفتح میم وثاء ہر ایسی چیز کے لئے بولا جاتا ہے جو دوسرے سے کچھ مماثلت اور مناسبت رکھتی ہو بالکل اس جیسی ہونا اس کے مفہوم میں داخل نہیں اسی لئے حق تعالیٰ کے لئے مثل ہونا تو قرآن میں کئی جگہ آیا ہے، ایک یہیں دوسرے فرمایا مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ لیکن مثل اور مثال سے حق تعالیٰ کی ذات پاک اور وراء الوراء ہے۔ واللہ اعلم