Ayahs 30:28–29خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ (شرک کو مذموم و باطل ثابت کرنے کے لئے) تم سے ایک مضمون عجیب تمہارے ہی حالات میں سے بیان فرماتے ہیں (وہ یہ کہ غور کرو) کیا تمہارے غلاموں میں کوئی شخص تمہارا اس مال میں جو ہم نے تم کو دیا ہے شریک ہے کہ تم اور وہ (باعتبار اختیارات کے) اس میں برابر ہوں جن کا تم (تصرفات کے وقت) ایسا خیال کرتے ہو جیسا اپنے آپس (کے شریک وسہیم آزاد خود مختار کا) خیال کیا کرتے ہو (اور ان سے اجازت لے کر تصرفات کیا کرتے ہو یا کم از کم اندیشہ مخالفت ہی ان سے رہتا ہے اور ظاہر ہے کہ غلام اس طرح شریک نہیں ہوتا۔ پس جب تمہارا غلام جو نوع بشر اور بہت سی چیزوں میں تمہارا شریک ہے اور تمہیں جیسا ہے، فرق صرف ایک چیز میں ہے کہ تم مال و دولت کے مالک ہو وہ نہیں، اس کے باوجود جب وہ تمہارے خاص حق تصرف میں تمہارا شریک نہیں ہوسکتا تو تمہارے قرار دیئے ہوئے معبودات باطلہ جو کہ حق تعالیٰ کے غلام ہیں اور کسی کمال ذاتی یا وصفی میں اللہ تعالیٰ کے مماثل نہیں، بلکہ بعض تو ان میں سے مخلوقات الہیہ کے مصنوع ہیں۔ یہ معبودین حق تعالیٰ کے خاص حق معبودیت میں کس طرح اس کے ساتھ شریک ہو سکتے ہیں اور ہم نے جس طرح یہ دلیل شافی کافی بطلان شرک کی بیان فرمائی، ہم اس طرح سمجھداروں کے لئے دلائل صاف صاف بیان کرتے رہتے ہیں (اور مقتضا یہ تھا کہ وہ لوگ حق کا اتباع اختیار کرلیتے اور شرک چھوڑ دیتے مگر وہ حق کا اتباع نہیں کرتے) بلکہ ان ظالموں نے بلا (کسی صحیح) دلیل (کے محض) اپنے خیالات (فاسدہ) کا اتباع کر رکھا ہے سو جس کو (اس کی ہٹ دھرمی اور عناد و اصرار علی الباطل کی وجہ سے) خدا (ہی) گمراہ کرے اس کو کون راہ پر لاوے (اس کا مقصد یہ نہیں کہ وہ معذور ہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ آپ غم نہ کریں آپ کا جو کام تھا وہ آپ کرچکے، اور جب ان گمراہوں کو عذاب ہونے لگے گا تو) ان کا کوئی حمایتی نہ ہوگا اور جب اوپر کے مضمون سے توحید کی حقیقت واضح ہوگئی) تو (مخاطبین میں سے ہر ہر شخص سے کہا جاتا ہے کہ) تم (ادیان باطلہ سے) یک سو ہو کر اپنا رخ اس دین (حق) کی طرف رکھو (اور سب) اللہ کی دی ہوئی قابلیت کا اتباع کرو جس (قابلیت) پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے (مطلب فطرة اللہ کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص میں خلقۃً یہ استعداد رکھی ہے کہ اگر حق کو سننا اور سمجھنا چاہے تو وہ سمجھ میں آجاتا ہے اور اس کے اتباع کا مطلب یہ ہے کہ اس استبعداد اور قابلیت سے کام لے اور اس کے مقتضا پر عمل کرے غرض اس فطرت کا اتباع چاہئے اور) اللہ تعالیٰ کی اس پیدا کی ہوئی چیز کو جس پر اس نے تمام آدمیوں کو پیدا کیا ہے بدلنا چاہئے پس سیدھا (رستہ) دین (کا) یہی ہے لیکن اکثر لوگ (اس کو بوجہ عدم تدبر کے) نہیں جانتے (اس لئے اس کا اتباع نہیں کرتے غرض) تم خدا کی طرف رجوع ہو کر فطرت الہیہ کا اتباع کرو اور اس (کی مخالفت اور مخالفت کے عذاب) سے ڈرو اور (اسلام قبول کر کے) نماز کی پابندی کرو (جو توحید کا عملی اظہار ہے) اور شرک کرنے والوں میں سے مت رہو، جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرلیا (یعنی حق تو یہ ایک تھا اور باطل بہت ہیں انہوں نے حق کو چھوڑ دیا اور باطل کی مختلف راہیں اختیار کرلیں، یہ ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے کہ ایک نے ایک راہ لے لی دوسرے نے دوسری اور بہت سے (مختلف) گروہ ہوگئے (اور اگر حق پر رہتے تو ایک گروہ ہوتے اور باوجود اس کے کہ ان حق کے چھوڑنے والوں میں سب کے طریقے باطل ہیں، مگر پھر بھی غایت جہل سے ان میں) ہر گروہ اپنے اس طریقے پر نازاں ہیں جو ان کے پاس ہے اور (جس توحید کی طرف ہم بلاتے ہیں باوجود اس کے انکار اور خلاف کرنے کے اضطرار کے وقت عام طور پر لوگوں کے حال و قال سے اس کا اظہار و اقرار بھی ہونے لگتا ہے جس سے مضمون توحید کے فطری ہونے کی بھی تائید ہوتی ہے، چناچہ مشاہد کیا جاتا ہے کہ) جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے (اس وقت بےقرار ہو کر) اپنے رب (حقیقی) کو اسی کی طرف رجوع ہو کر پکارنے لگتے ہیں (اور سب معبودین کو چھوڑ دیتے ہیں مگر) پھر (قریب ہی یہ حالت ہوجاتی ہے کہ) جب اللہ تعالیٰ ان کو اپنی طرف سے کچھ عنایت کا مزہ چکھا دیتا ہے تو بس ان میں سے بعض لوگ (پھر) اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے جو (آرام و عیش) ان کو دیا ہے اس کی ناشکری کرتے ہیں (جو عقلاً بھی قبیح ہے) سو (خیر) چند روز اور حظ حاصل کرلو پھر جلدی تم (حقیقت) معلوم کرلو گے (اور یہ لوگ جو شرک کرتے ہیں خصوصاً اقرار توحید کے بعد تو ان سے کوئی پوچھے کہ اس کی کیا وجہ ہے) کیا ہم نے ان پر کوئی سند (یعنی کوئی کتاب) نازل کی ہے کہ وہ ان کو خدا کے ساتھ شرک کرنے کو کہہ رہی ہے (یعنی ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نقلی بھی نہیں اور مقتضائے ہدایت عقل کے خلاف ہونا خود ان کی تسلیم سے حالت اضطرار میں ظاہر ہوجاتا ہے، پس سرتاسر باطل ٹھہرا) اور (آگے مضمون بالا کا تتمہ ہے اور وہ یہ ہے کہ) ہم جب (ان) لوگوں کو کچھ عنایت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ اس سے (اس طرح) خوش ہوتے ہیں (کہ خوشی میں مست ہو کر شرک کرنے لگتے ہیں جیسا اوپر ذکر آیا) اور اگر ان کے اعمال (بد) کے بدلے میں جو پہلے اپنے ہاتھوں کرچکے ہیں ان پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو بس وہ لوگ ناامید ہوجاتے ہیں (اس مقام میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تتمہ میں اصل مقصود پہلا جملہ اِذَآ اَذَقْنَا النَّاسَ ہے کہ اس میں ان کے مبتلائے شرک ہونے کا سبب بدمست اور غافل ہونا مذکور ہے، دوسرا جملہ محض تقابل کی مناسبت سے ذکر کردیا ہے۔ کیونکہ ان دونوں حالتوں میں اتنی بات ثابت ہوتی ہے کہ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے بہت کم اور ضعیف ہے، ذرا ذرا سی چیز اس تعلق کو فراموش کردیتی ہے۔ آگے اسی کی دوسری دلیل ہے کہ یہ لوگ جو شرک کرتے ہیں تو) کیا ان کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے زیادہ روزی دیتا ہے اور جس کو چاہے کم دیتا ہے (اور مشرکین کے نزدیک یہ مسلم بھی تھا کہ روزی کا گھٹانا بڑھانا اصل میں خدا ہی کا کام ہے، لقولہ تعالیٰ وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ اس (امر) میں (بھی توحید کی) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں (یعنی وہ سمجھتے ہیں اور دوسرے بھی سمجھ سکتے ہیں کیونکہ جو شخص ایسا قادر ہوگا مستحق عبادت کا وہی ہوگا) پھر (جب دلائل توحید میں معلوم ہوا کہ رزق میں بسط و قبض اللہ ہی کی طرف سے ہے تو اس سے ایک بات اور بھی ثابت ہوئی کہ بخل کرنا مذموم ہے، کیونکہ بخل کرنے سے جتنا رزق مقدر ہے اس سے زیادہ نہیں مل سکتا، اس لئے نیک کاموں میں خرچ کرنے سے بخل نہ کیا کر بلکہ) قرابت دار کو اس کا حق دیا کر اور (اسی طرح) مسکین اور مسافر کو بھی (ان کے حقوق دیا کر جن کی تفصیل دلائل شرعیہ سے معلوم ہے) یہ ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو اللہ کی رضا کے طالب ہیں اور ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں اور (ہم نے جو یہ قید لگائی کہ یہ مضمون بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی رضا کے طلبگار ہوں، وجہ اس کی یہ ہے کہ ہمارے نزدیک مطلق مال خرچ کردینا موجب فلاح نہیں ہے بلکہ اس کا قانون یہ ہے کہ) جو چیز تم (دنیا کی غرض سے خرچ کرو گے مثلاً کوئی چیز) اس غرض سے کسی کو دو گے کہ وہ لوگوں کے مال میں (شامل ہو کر یعنی ان کے ملک و قبضہ میں) پہنچ کر (تمہارے لئے) زیادہ ہو (کر آ) جاوے (جیسا نوتہ وغیرہ رسوم دنیویہ میں اکثر اسی غرض سے دیا جاتا ہے کہ یہ شخص ہمارے موقع پر کچھ اور زائد شامل کر کے دے گا) تو یہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا (کیونکہ خدا کے نزدیک پہنچنا اور بڑھنا اس مال کے ساتھ خاص ہے جو اللہ کی خوشنودی کے لئے خرچ کیا جائے جیسا آگے آتا ہے اور حدیث میں بھی ہے کہ ایک تمرہ مقبولہ احد پہاڑ سے بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے اور اس میں یہ نیت تھی نہیں لہٰذا نہ مقبول ہوا نہ زائد ہوا) اور جو زکوٰۃ (وغیرہ) دو گے جس سے اللہ کی رضا طلب کرتے ہو گے تو ایسے لوگ (اپنے دیئے ہوئے کو) اللہ تعالیٰ کے پاس بڑھاتے رہیں گے (جیسا ابھی حدیث کا مضمون گذرا اور یہ مضمون اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا چونکہ اللہ تعالیٰ کی صفت رزاق پر دلالت کرنے کی وجہ سے توحید کی تاکید کا ذریعہ ہے اس لئے یہ تبعاً آ گیا، اصل مقصود توحید کا بیان ہے، اسی لئے آگے پھر اسی توحید کا ذکر ہے۔)
اللہ ہی وہ ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو رزق دیا پھر تم کو موت دیتا ہے پھر (قیامت میں) تم کو جلائے گا (ان میں بعض امور تو مخاطبین کے اقرار سے ثابت ہیں اور بعض دلائل سے، غرض کہ وہ ایسا قادر ہے، اب یہ بتلاؤ کہ) کہ تمہارے شرکاء میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کرسکے (اور ظاہر ہے کہ کوئی بھی نہیں، اس لئے ثابت ہوا کہ) وہ ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے (یعنی اس کا کوئی شریک نہیں۔)
Ayah 30:30معارف و مسائل
آیات مذکورہ میں مضمون توحید کو مختلف شواہد اور دلائل اور مختلف عنوانات میں بتلایا گیا ہے جو ہر انسان کے دل میں اتر جائے۔ پہلے ایک مثال سے سمجھایا کہ تمہارے غلام نوکر جو تمہارے ہی جیسے انسان ہیں شکل و صورت، ہاتھ پاؤں مقتضیات طبعیہ سب چیزوں میں تمہارے شریک ہیں، مگر تم ان کو اپنے اقتدار و اختیار میں اپنی برابر نہیں بناتے کہ وہ بھی تمہاری طرح جو چاہیں کیا کریں جو چاہیں خرچ کریں، بالکل اپنی برابر تو کیا بناتے ان کو اپنے مال و اختیار میں ادنی سی شرکت کا بھی حق نہیں دیتے جیسے کسی جزوی اور معمولی شریک سے آپ ڈرتے ہیں کہ اس کی مرضی کے بغیر کوئی تصرف کرلیا تو وہ اعتراض کرے گا۔ غلاموں نوکروں کو یہ درجہ بھی نہیں دیتے، تو غور کرو کہ تمام مخلوقات جن میں فرشتے، انسان اور دوسری کائنات سبھی داخل ہیں، یہ سب کے سب اللہ کی مخلوق اور اسی کے بندے اور غلام ہیں ان کو تم اللہ کے برابر یا اس کا شریک کیسے یقین کرتے ہو۔
دوسری آیت میں اس پر تنبیہ ہے کہ یہ بات تو سیدھی اور صاف ہے مگر مخالف لوگ اپنی اہواء نفسانی کے تابع ہو کر کوئی علم و حکمت کی بات نہیں مانتے۔
تیسری آیت میں آنحضرت ﷺ کو یا عام مخاطب کو حکم دیا ہے کہ جب شرک کا نامعقول اور ظلم عظیم ہونا ثابت ہوگیا تو آپ سب خیالات مشرکانہ کو چھوڑ کر اپنا رخ صرف دین اسلام کی طرف پھیر لیجئے۔ فَاَقِمْ وَجْهَكَ للدِّيْنِ حَنِيْفًا
اس کے بعد اس دین اسلام کا مطابق اور مقتضائے فطرت ہونا اس طرح بیان فرمایا فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ، فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا یہ جملہ پہلے جملے فَاَقِمْ وَجْهَكَ للدِّيْنِ حَنِيْفًا کی توضیح اور دین حنیف جس کے اتباع کا حکم پہلے جملے میں دیا گیا ہے اس کی ایک مخصوص صفت کا بیان ہے کہ وہ دین فطرت ہے اور فطرة اللہ کی ترکیب نحوی میں منصوب ہونے کی وجہ مفسرین نے مختلف لکھی ہیں کہ لفظ اتبع یہاں سے محذوف ہے، یا لفظ اعنِی، بہرحال یہ متعین ہے کہ دین حنیف جس کا اتباع کا پہلے جملے میں حکم دیا گیا ہے اس کو اس جملے میں فطرة اللہ قرار دیا ہے اور معنی اس کے خود اگلے جملے میں یہ بتلائے کہ اللہ کی فطرت سے مراد یہ ہے کہ جس فطرت پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔
فطرت سے کیا مراد ہے ؟:
اس معاملہ میں مفسرین کے متعدد اقوال منقول ہیں ان میں دو زیادہ مشہور ہیں۔
اولیہ کہ فطرت سے مراد اسلام ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان اپنی فطرت اور جبلت کے اعتبار سے مسلمان پیدا کیا ہے۔ اگر اس کو گرد و پیش اور ماحول میں کوئی خراب کرنے والا خراب نہ کردے تو ہر پیدا ہونے والا بچہ مسلمان ہی ہوگا۔ مگر عادةً ہوتا یہ ہے کہ ماں باپ اس کو بعض اوقات اسلام کے خلاف چیزیں سکھا دیتے ہیں، جس کے سبب وہ اسلام پر قائم نہیں رہتا۔ جیسا کہ صحیحین کی ایک حدیث میں مذکور ہے۔ قرطبی نے اسی قول کو جمہور سلف کا قول قرار دیا ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ فطرت سے مراد استعداد ہے۔ یعنی تخلیق انسانی میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ ہر انسان میں اپنے خالق کو پہچاننے اور اس کو ماننے کی صلاحیت و استعداد موجود ہے جس کا اثر اسلام کا قبول کرنا ہوتا ہے، بشرطیکہ اس استعداد سے کام لے۔
مگر پہلے قول پر متعدد اشکالات ہیں، اول یہ کہ خود اسی آیت میں یہ بھی آگے مذکور ہے لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ اور یہاں خلق اللہ سے مراد وہی فطرة اللہ ہے جس کا اوپر ذکر ہوا ہے اس لئے معنی اس جملے کے یہ ہیں کہ اللہ کی اس فطرت کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا، حالانکہ حدیث صحیحین میں خود یہ آیا ہے کہ پھر ماں باپ بعض اوقات پچے کو یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔ اگر فطرت کے معنی خود اسلام کے لئے جائیں جس میں تبدیلی نہ ہونا خود اسی آیت میں مذکور ہے تو حدیث مذکور میں یہودی، نصرانی بنانے کی تبدیلی کیسے صحیح ہوگی اور یہ تبدیلی تو عام مشاہدہ ہے کہ ہر جگہ مسلمانوں سے زیادہ کافر ملتے ہیں، اگر اسلام ایسی فطرت ہے جس میں تبدیلی نہ ہو سکے تو پھر یہ تبدیلی کیسے اور کیوں ؟
دوسرے حضرت خضر ؑ نے جس لڑکے کو قتل کیا تھا اس کے متعلق صحیح حدیث میں ہے کہ اس لڑکے کی فطرت میں کفر تھا، اس لئے خضر ؑ نے اس کو قتل کیا، یہ حدیث بھی اس کے منافی ہے کہ ہر انسان اسلام پر پیدا ہوتا ہو۔
تیسرا شبہ یہ ہے کہ اگر اسلام کوئی ایسی چیز ہے جو انسان کی فطرت میں اس طرح رکھ دیا گیا ہے جس کی تبدیلی پر بھی اس کو قدرت نہیں تو وہ کوئی اختیاری فعل نہ ہوا پھر اس پر آخرت کا ثواب کیسا ؟ کیونکہ ثواب تو اختیاری عمل پر ملتا ہے۔
چوتھا شبہ یہ ہے کہ احادیث صحیحہ کے مطابق فقہاء امت کے نزدیک بچہ بالغ ہونے سے پہلے ماں باپ کے تابع سمجھا جاتا ہے، اگر ماں باپ کافر ہوں تو بچے کو بھی کافر قرار دیا جائے گا۔ اس کی تجہیز و تکفین اسلامی طرز پر نہیں کی جائے گی۔
یہ سب شبہات امام توریشتی نے شرح مصابیح میں بیان کئے ہیں اور اسی بناء پر انہوں نے دوسرے قول کو ترجیح دی ہے۔ کیونکہ اس خلقی استعداد کے متعلق یہ بھی صحیح ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی، جو شخص ماں باپ یا کسی دوسرے کے گمراہ کرنے سے کافر ہوگیا اس میں استعداد اور قابلیت حق یعنی اسلام کی حقانیت کے پہچاننے کی ختم نہیں ہوتی غلام خضر کے واقع میں اس کے کفر پر پیدا ہونے سے بھی یہ لازم نہیں آتا کہ اس میں حق کو سمجھنے کی استعداد ہی نہ رہی تھی اور چونکہ اس خدا داد استعداد و قابلیت کا صحیح استعمال انسان اپنے اختیار سے کرتا ہے اس لئے اس پر ثواب عظیم کا مرتب ہونا بھی واضح ہوگیا اور حدیث صحیحین میں جو یہ مذکور ہے کہ بچے کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں اس کا مفہوم بھی اس دوسرے معنی کے اعتبار سے واضح اور صاف ہوگیا کہ اگرچہ اس میں استعداد اور قابلیت فطری ہے جو اللہ نے اس کی تخلیق میں رکھی تھی وہ اسلام ہی کی طرف لے جانے والی تھی، مگر عوارض اور موانع حائل ہوگئے اور اس طرف نہ جانے دیا اور حضرات سلف سے جو پہلا قول منقول ہے بظاہر اس کی مراد بھی اصل اسلام نہیں، بلکہ یہی استعداد اسلام اور اس کی قابلیت و صلاحیت ہے۔ محدث دھلوی نے لمعات شرح مشکوة میں جمہور کے قول کا یہی مطلب بیان فرمایا ہے۔
اور اسی کی تائید اس مضمون سے ہوتی ہے جو حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے حجۃ اللہ البالغہ میں تحریر فرمایا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے بیشمار قسم کی مخلوقات مختلف طبائع اور مزاج کی بنائی ہیں، ہر مخلوق کی فطرت اور جبلت میں ایک خاص مادہ رکھ دیا ہے، جس سے وہ مخلوق اپنی تخلیق کے منشاء کو پورا کرسکے قرآن کریم میں اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى سے بھی یہی مفہوم ہوتا ہے کہ جس مخلوق کو خالق کائنات نے کسی خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اس کو اس مقصد کے لئے ہدایت بھی دے دی ہے، وہ ہدایت یہی مادہ اور استعداد ہے۔ شہد کی مکھی میں یہ مادہ رکھ دیا کہ وہ درختوں اور پھولوں کو پہچانے اور انتخاب کرے پھر اس کے رس کو اپنے پیٹ میں محفوظ کر کے اپنے چھتے میں لا کر جمع کرے۔ اسی طرح انسان کی فطرت وجبلت میں ایسا مادہ اور استعداد رکھ دی ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانے، اس کی شکر گزاری اور اطاعت شعاری کرے، اس کا نام اسلام ہے۔
لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ، مذکور الصدر تقریر سے اس جملے کا مطلب بھی واضح ہوگیا کہ اللہ کی دی ہوئی فطرت یعنی حق کو پہچاننے کی صلاحیت و استعداد میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتا۔ اس کو غلط ماحول کافر تو بنا سکتا ہے مگر اس کی استعداد قبول حق کو بالکل فنا نہیں کرسکتا۔
اور اسی سے اس آیت کا مفہوم بھی واضح ہوجاتا ہے جس میں ارشاد ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ ، یعنی ہم نے جن اور انسان کو اور کسی کام کے لئے نہیں پیدا کیا، بجز اس کے وہ ہماری عبادت کیا کریں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی فطرت میں ہم نے عبادت کی رغبت اور استعداد رکھ دی ہے۔ اگر وہ اس استعاد سے کام لیں تو بجز عبادت کے کوئی دوسرا کام اس کے خلاف ہرگز سرزد نہ ہو۔
اہل باطل کی صحبت اور غلط ماحول سے الگ رہنا فرض ہے
آیت مذکورہ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ کا جملہ اگرچہ بصورت خبر ہے یعنی اللہ کی اس فطرت کو کوئی بدل نہیں سکتا، لیکن اس میں ایک معنی امر کے بھی ہیں کہ بدلنا نہیں چاہئے۔ اس لئے اس جملے سے یہ حکم بھی مستفاد ہوا کہ انسان کو ایسے اسباب سے بہت پرہیز کرنا چاہئے جو اس قبول حق کی استعداد کو معطل یا کمزور کردیں اور وہ اسباب بیشتر غلط ماحول اور بری صحبت ہے، یا اہل باطل کی کتابیں دیکھنا جب کہ خود اپنے مذہب اسلام کا پورا عالم اور مبصر نہ ہو۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Ayah 30:31وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ، پچھلی آیت میں انسان کی فطرت کو قبول حق کے قابل اور مستعد بنانے کا ذکر تھا۔ اس آیت میں اول قبول حق کی صورت یہ بتلائی گئی کہ نماز قائم کریں کہ وہ عملی طور پر ایمان و اسلام اور اطاعت حق کا اظہار ہے اس کے بعد فرمایا وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ، یعنی شرک کرنے والوں میں شامل نہ ہوجاؤ جنہوں نے اپنی فطرت اور قبول حق کی استعداد سے کام لیا، آگے ان کی گمراہی کا ذکر ہے۔
Ayahs 30:32–37مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا، یعنی یہ مشرکین وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین فطرت اور دین حق میں تفریق پیدا کردی، یا یہ کہ دین فطرت سے مفارق اور الگ ہوگئے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مختلف پارٹیوں میں بٹ گئے۔ شیعاً شیعہ کی جمع ہے، ایسی جماعت جو کسی مقتداء کی پیرو ہو، اس کو شیعہ کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دین فطرت تو توحید تھا جس کا اثر یہ ہونا چاہئے تھا کہ سب انسان اس کو اختیار کر کے ایک ہی قوم ایک ہی جماعت بنتے مگر انہوں نے اس توحید کو چھوڑا اور مختلف لوگوں کے خیالات کے تابع ہوگئی اور انسانی خیالات اور رایوں میں اختلاف ایک طبعی امر ہے، اس لئے ہر ایک نے اپنا اپنا ایک مذہب بنا لیا، عوام ان کے سبب مختلف پارٹیوں میں بٹ گئے اور شیطان نے ان کو اپنے اپنے خیالات و معتقدات کو حق قرار دینے میں ایسا لگا دیا کہ كُلُّ حِزْبٍۢ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ ، یعنی ان کی ہر پارٹی اپنے اپنے اعتقادات و خیالات پر مگن اور خوش ہے اور دوسروں کو غلطی پر بتاتی ہے حالانکہ یہ سب کے سب گمراہی کے غلط راستوں پر پڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 30:38فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ ، اس سے پہلی آیت میں بیان کیا گیا تھا کہ رزق کا معاملہ صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق کو پھیلا دیتا ہے اور زیادہ کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے رزق سمیٹ کر تنگ کردیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو اس کے مصارف میں خرچ کرتا رہے تو اس سے اس میں کمی نہیں آتی اور اگر کوئی خرچ کرنے میں بخل کرے اور جو کچھ اپنے پاس ہے اس کو جمع کر کے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے اس سے مال میں وسعت نہیں ہوتی۔
اس مضمون کی مناسبت سے آیت مذکورہ میں رسول اللہ ﷺ کو اور بقول حسن بصری ہر مخاطب انسان کو جس کو اللہ نے مال میں وسعت دی ہو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جو مال اللہ نے آپ کو دیا ہے اس میں بخل نہ کرو بلکہ اس کو ان کے مصارف میں خوش دلی کے ساتھ خرچ کرو اس سے تمہارے مال اور زق میں کمی نہیں آئے گی۔ اور اس حکم کے ساتھ اس آیت میں مال کے چند مصارف بھی بیان کردیئے، اول ذوی القربی، دوسرے مساکین، تیسرے مسافر کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کئے ہوئے مال میں سے ان لوگوں کو دو اور ان پر خرچ کرو اور ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ یہ ان لوگوں کا حق ہے جو اللہ نے تمہارے مال میں شامل کردیا ہے اس لئے ان کو دینے کے وقت ان پر کوئی احسان نہ جتلاؤ کیونکہ حق والے کا حق ادا کرنا مقتضائے عدل و انصاف ہے کوئی احسان و انعام نہیں ہے۔
اور ذوی القربی سے مراد ظاہر یہ ہے کہ عام رشتہ دار ہیں، خواہ ذو رحم محرم ہوں یا دوسرے (کما ہو قول الجمہور من المفسرین) اور حق سے مراد بھی عام ہے خواہ حقوق واجبہ ہوں جیسے ماں باپ، اولاد اور دوسرے ذوی الارحام کے حقوق یا محض تبرع و احسان ہو جو رشتہ داروں کے ساتھ بہ نسبت دوسروں کے بہت زیادہ ثواب رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ امام تفسیر مجاہد نے فرمایا کہ جس شخص کے ذوی الارحام رشتہ دار محتاج ہوں وہ ان کو چھوڑ کر دوسروں پر صدقہ کرے تو اللہ کے نزدیک مقبول نہیں اور ذوی القربی کا حق صرف مالی امداد ہی نہیں ان کی خبر گیری، جسمانی خدمت اور کچھ نہ کرسکے تو کم از کم زبانی ہمدردی اور تسلی وغیرہ جیسا کہ حضرت حسن نے فرمایا کہ ذوی القربی کا حق اس شخص کے لئے جس کو مالی وسعت حاصل ہو یہ ہے کہ مال سے ان کی امداد کرے اور جس کو یہ وسعت حاصل نہ ہو اس کے لئے جسمانی خدمت اور زبانی ہمدردی ہے۔ (قرطبی)
ذوی القربی کے بعد مسکین اور مسافر کا حق بتلایا گیا ہے یہ بھی اسی طرح عام ہے۔ وسعت ہو تو مالی امداد نہ ہو تو اچھا سلوک۔
Ayahs 30:39–40وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَال النَّاسِ ، اس آیت میں ایک بری رسم کی اصلاح کی گئی ہے، جو عام خاندانوں اور اہل قرابت میں چلتی ہے۔ وہ یہ کہ عام طور پر کنبہ رشتہ کے لوگ جو کچھ دوسرے کو دیتے ہیں اس پر نظر رکھتے ہیں کہ وہ بھی ہمارے وقت میں کچھ دے گا بلکہ رسمی طور پر کچھ زیادہ دے گا، خصوصاً نکاح، شادی وغیرہ کی تقریبات میں جو کچھ دیا لیا جاتا ہے اس کی یہی حیثیت ہوتی ہے جس کو عرف میں نوتہ کہتے ہیں۔ اس آیت میں ہدایت کی گئی ہے کہ اہل قرابت کا جو حق ادا کرنے کا حکم پہلی آیت میں دیا گیا ہے ان کو یہ حق اس طرح دیا جائے کہ نہ ان پر احسان جتائے اور نہ کسی بدلے پر نظر رکھے اور جس نے بدلے کی نیت سے دیا کہ ان کا مال دوسرے عزیز رشتہ دار کے مال میں شامل ہونے کے بعد کچھ زیادتی لے کر واپس آئے گا تو اللہ کے نزدیک اس کا کوئی درجہ اور ثواب نہیں اور قرآن کریم نے اس زیادتی کو لفظ ربو سے تعبیر کر کے اس کی قباحت کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ ایک صورت سود کی سی ہوگئی۔
مسئلہہدیہ اور ہبہ دینے والے کو اس پر نظر رکھنا کہ اس کا بدلہ ملے گا یہ تو ایک بہت مذموم حرکت ہے، جس کو اس آیت میں منع فرمایا گیا ہے۔ لیکن بطور خود جس شخص کو کوئی ہبہ عطیہ کسی دوست عزیز کی طرف سے ملے اس کے لئے اخلاقی تعلیم یہ ہے کہ وہ بھی جب اس کو موقع ملے اس کی مکافات کرے۔ رسول اللہ ﷺ کی عادت شریفہ یہی تھی کہ جو شخص آپ کو کوئی ہدیہ پیش کرتا تو اپنے موقع پر آپ بھی اس کو ہدیہ دیتے تھے۔ (کذاروی عن عائشہ قرطبی) ہاں اس مکافات کی صورت ایسی نہ بنائے کہ دوسرا آدمی یہ محسوس کرے کہ یہ میرے ہدیہ کا بدلہ دے رہا ہے۔
Ayahs 30:41–45خلاصہ تفسیر
(شرک و معصیت ایسی بری چیز ہے کہ) خشکی اور تری (یعنی تمام دنیا) میں لوگوں کے (برے) اعمال کے سبب بلائیں پھیل رہی ہیں (مثلاً قحط و وباء و طوفان) تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بعضے اعمال (کی سزا) کا مزہ ان کو چکھا دے تاکہ وہ (اپنے ان اعمال سے) باز آجائیں (جیسا دوسری آیت میں ہے وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ ، اور بعض اعمال کا مطلب یہ ہے کہ اگر سب اعمال پر یہ عقوبتیں مرتب ہوں تو ایک دم زندہ نہ رہیں، کقولہ تعالیٰ وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ ، اسی معنی سے آیت بالا میں وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ فرمایا ہے، یعنی بہت سے گناہوں کو تو اللہ تعالیٰ معاف ہی کردیتے ہیں، بعض ہی اعمال کی سزا دیتے ہیں۔ غرض جب اعمال بد مطلقاً سبب وبال ہیں تو شریک و کفر تو سب سے بڑھ کر موجب عذاب ہوگا اور اگر مشرکین کو اس کے ماننے میں تردد ہو تو) آپ (ان سے) فرما دیجئے کہ ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ جو (کافر و مشرک) لوگ پہلے ہو گذرے ہیں ان کا اخیر کیسا ہوا ان میں اکثر مشرک ہی تھے (سو دیکھ لو وہ عذاب آسمانی سے کس طرح ہلاک ہوئے جس سے صاف واضح ہوا کہ شرک کا بڑا وبال ہے اور بعضے کفر کی دوسری انواع میں مبتلا تھے، جیسے قوم لوط اور قارون اور جو لوگ مسخ ہو کر بندر اور خنازیر ہوگئے تھے، کیونکہ آیات کی تکذیب اور نہی کی مخالفت کر کے مبتلائے کفر و لعن ہوئے۔ اور شاید شرک کا بالتخصیص ذکر اس لئے ہو کہ کفار مکہ کی خاص اور مشہور حالت یہی تھی اور جب شرک کا موجب وبال ہونا محقق ہوگیا) سو (اے مخاطب) تم اپنا رخ اس دین راست (یعنی توحید اسلامی) کی طرف رکھو قبل اس کے کہ ایسا دن آئے جس کے واسطے پھر خدا کی طرف سے ہٹنا نہ ہوگا (یعنی جیسے دنیا میں خاص عذاب کے وقت کو اللہ تعالیٰ قیامت کے وعدہ پر ہٹانا جاتا ہے، جب وہ موعود دن آجائے گا پھر اس کو نہ ہٹائے گا اور توقف و امہال نہ ہوگا۔ اس جملہ میں شرک کے وبال اخروی کا ذکر ہوگیا جیسا اوپر ظَهَرَ الْفَسَاد الخ اور كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الخ میں وبال دنیوی مذکور تھا اور) اس دن (یہ ہوگا کہ) سب (عمل کرنے والے) لوگ (باعتبار جزاء کے) جدا جدا ہوجائیں گے (اس طور پر کہ) جو شخص کفر کر رہا ہے اس پر تو اس کا (وبال) کفر پڑے گا اور جو نیک عمل کر رہا ہے سو یہ لوگ اپنے (نفع کے) لئے سامان کر رہے ہیں جس کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اپنے فضل سے (نیک) جزا دے گا جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے اور اس سے کفار محروم رہیں گے جیسا اوپر فَعَلَيْهِ كُفْرُهٗ سے معلوم ہوا جس کی وجہ یہ ہے کہ) واقعی اللہ تعالیٰ کافروں کو پسند نہیں کرتا) بلکہ ان کے کفر پر ان سے ناخوش ہے۔)
معارف و مسائل
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ ، یعنی خشکی اور دریا میں سارے جہان میں فساد پھیل گیا لوگوں کے اعمال بد کی وجہ سے۔ تفسیر روح المعانی میں ہے کہ فساد سے مراد قحط اور وبائی امراض اور آگ لگنے اور پانی میں ڈوبنے کے واقعات کی کثرت اور ہر چیز کی برکت کا مٹ جانا، نفع بخش چیزوں کا نفع کم نقصان زیادہ ہوجانا وغیرہ آفات ہیں اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ ان دنیوی آفات کا سبب انسانوں کے گناہ اور اعمال بد ہوتے ہیں جن میں شرک و کفر سب سے زیادہ اشد ہیں، اس کے بعد دوسرے گناہ ہیں۔
اور یہی مضمون دوسری ایک آیت میں اس طرح آیا ہے وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ ، یعنی تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمارے ہی ہاتھوں کی کمائی کے سبب سے ہے۔ یعنی ان معاصی کے سبب جو تم کرتے رہتے ہو اور بہت سے گناہوں کو تو اللہ تعالیٰ معاف ہی کردیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جو مصائب اور آفات تم پر آتی ہیں ان کا حقیقی سبب تمہارے گناہ ہوتے ہیں، اگرچہ دنیا میں نہ ان گناہوں کا پورا بدلہ دیا جاتا ہے اور نہ ہر گناہ پر مصیبت و آفت آتی ہے، بلکہ بہت سے گناہوں کو تو معاف کردیا جاتا ہے، بعض بعض گناہوں پر ہی گرفت ہوتی اور آفت و مصیبت بھیج دی جاتی ہے۔ اگر ہر گناہ پر دنیا میں مصیبت آیا کرتی تو ایک انسان بھی زمین پر زندہ نہ رہتا۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ بہت سے گناہوں کو تو حق تعالیٰ معاف ہی فرما دیتے ہیں اور جو معاف نہیں ہوتے ان کا بھی پورا بدلہ دنیا میں نہیں دیا جاتا، بلکہ تھوڑا سا مزہ چکھایا جاتا ہے جیسا کہ اسی آیت کے آخر میں فرمایا لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا یعنی تاکہ چکھاوے اللہ تعالیٰ کچھ حصہ ان کے برے اعمال کا اور اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ اعمال بد اور گناہوں کی وجہ سے جو مصیبت و آفت دنیا میں بھیج دی جاتی ہے وہ بھی غور کرو تو اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت ہی ہے۔ کیونکہ مقصود اس دنیا کی مصیبت سے یہ ہوتا ہے کہ غافل انسان کو تنبیہ ہوجائے اور وہ اپنے گناہوں اور نافرمانیوں سے باز آجائے جو انجام کار اس کے لئے مفید اور بڑی نعمت ہے، جیسا کہ آخر آیت میں فرمایا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ۔
دنیا کی بڑی بڑی آفتیں اور مصائب انسانوں کے گناہوں کے سبب سے آتے ہیں
اسی لئے بعض علماء نے فرمایا کہ جو انسان کوئی گناہ کرتا ہے وہ ساری دنیا کے انسانوں چوپاویوں اور چرندے و پرندے جانوروں پر ظلم کرتا ہے۔ کیونکہ اس کے گناہوں کے وبال سے جو بارش کا قحط اور دوسرے مصائب دنیا میں آتے ہیں اس سے سب ہی جان دار متاثر ہوتے ہیں۔ اس لئے قیامت کے روز یہ سب بھی گناہگار انسان کے خلاف دعوی کریں گے۔
اور شقیق زاہد نے فرمایا کہ جو شخص حرام مال کھاتا ہے وہ صرف اس پر ظلم نہیں کرتا جس سے یہ مال ناجائز طور پر حاصل کیا ہے، بلکہ پورے انسانوں پر ظلم کرتا ہے (روح) کیونکہ اول تو ایک کے ظلم سے دوسرے لوگوں میں ظلم کرنے کی رسم پڑتی ہے اور یہ سلسلہ ساری انسانیت کو محیط ہوجاتا ہے۔ دوسرے اس کے ظلم کی وجہ سے دنیا میں آفتیں اور مصائب آتے ہیں جس سے سب ہی انسان متاثر ہوتے ہیں۔
ایک شبہ کا جواب
احادیث صحیحہ میں رسول اللہ ﷺ کے یہ ارشادات بھی موجود ہیں کہ دنیا مومن کے لئے جیل خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے اور یہ کہ کافر کو اس کے نیک اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں بصورت مال و دولت و صحت دے دیا جاتا ہے اور مومن کے اعمال کا بدلہ آخرت کے لئے محفوظ کردیا جاتا ہے اور یہ کہ مومن کی مثال دنیا میں ایک نازک شاخ کی سی ہے، کہ ہوائیں اس کو کبھی ایک طرف کبھی دوسری طرف جھکا دیتی ہیں کبھی سیدھا کردیتی ہیں یہاں تک کہ اسی حالت میں وہ دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے اور یہ کہ اشد الناس بلاء الانبیآء ثم الامثل فالامثل، یعنی دنیا میں بلائیں سب سے زیادہ انبیاء پر آتی ہیں پھر جو ان کے قریب ہو پھر جو ان کے قریب ہو۔
یہ تمام احادیث صحیحہ بظاہر اس آیت کے مضمون سے مختلف ہیں اور عام دنیا کے مشاہدات بھی یہی بتلاتے ہیں کہ دنیا میں عام طور پر مومن مسلمان تنگی اور تکلیف میں اور کفار فجار عیش و عشرت میں رہتے ہیں۔ اگر آیت مذکورہ کے مطابق دنیا کے مصائب اور تکلیفیں گناہوں کے سبب سے ہوتیں تو معاملہ برعکس ہوتا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ آیت مذکورہ میں گناہوں کو مصائب کا سبب ضرور بتلایا ہے مگر علت تامہ نہیں فرمایا کہ جب کسی پر کوئی مصیبت آئے تو گناہ ہی کے سبب سے ہوگی۔ جس پر کوئی مصیبت آئے اس کا گناہگار ہونا ضروری ہو بلکہ عام اسباب کا جو دنیا میں دستور ہے کہ سبب واقع ہونے کے بعد اس کا سبب اکثر واقع ہوجاتا ہے اور کبھی کوئی دوسرا سبب اس کے اثر کے ظاہر ہونے سے مانع ہوجاتا ہے تو اس سبب کا اثر ظاہر نہیں ہوتا، جیسے کوئی مسہل یا ملین دواء کے متعلق یہ کہے کہ اس سے اسہال ہوں گے، یہ اپنی جگہ صحیح ہے، مگر بعض اوقات کسی دوسری دواء غذاء یا ہوا وغیرہ کے اثر سے اسہال نہیں ہوتے، جو دوائیں بخار اتارنے کی ہیں بعض اوقات ایسے عوارض پیش آجاتے ہیں کہ ان دواؤں کا اثر ظاہر نہیں ہوتا، خواب آور گولیاں کھا کر بھی نیند نہیں آتی۔ جس کی ہزاروں مثالیں دنیا میں ہر وقت مشاہدہ کی جاتی ہیں۔
اس لئے حاصل آیت کا یہ ہوا کہ اصل خاصہ گناہوں کا یہ ہے کہ ان سے مصائب و آفات آئیں، لیکن بعض اوقات دوسرے کچھ اسباب اس کے منافی جمع ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے مصائب کا ظہور نہیں ہوتا، اور بعض صورتوں میں بغیر کسی گناہ کے کوئی آفت و مصیبت آجانا بھی اس کے منافی نہیں۔ کیونکہ آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ بغیر گناہ کے کوئی تکلیف و مصیبت کسی کو پیش نہیں آتی، بلکہ ہوسکتا ہے کہ کسی کو کوئی مصیبت و آفت کسی دوسرے سبب سے پیش آجائے جیسے انبیاء و اولیاء کو جو مصیبتیں اور تکلیفیں پیش آتی ہیں ان کا سبب کوئی گناہ نہیں ہوتا بلکہ ان کی آزمائش اور آزمائش کے ذریعہ ان کے درجات کی ترقی اس کا سبب ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ قرآن کریم نے جن آفات و مصائب کو گناہوں کے سبب سے قرار دیا ہے اس سے مراد وہ آفات و مصائب ہیں جو پوری دنیا پر یا پورے شہر یا بستی پر عام ہوجائیں، عام انسان اور جانور ان کے اثر سے نہ بچ سکیں۔ ایسی مصائب و آفات کا سبب عموماً لوگوں میں گناہوں کی کثرت خصوصاً علانیہ گناہ کرنا ہی ہوتا ہے۔ شخصی اور انفرادی تکلیف و مصیبت میں یہ ضابطہ نہیں بلکہ وہ کبھی کسی انسان کی آزمائش کرنے کے لئے بھی بھیجی جاتی ہے اور جب وہ اس آزمائش میں پورا اترتا ہے تو اس کے درجات آخرت بڑھ جاتے ہیں۔ یہ مصیبت درحقیقت اس کے لئے رحمت و نعمت ہوتی ہے۔ اس لئے انفرادی طور پر کسی شخص کو مبتلائے مصیبت دیکھ کر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ بہت گناہگار ہے۔ اسی طرح کسی کو خوش عیش بعافیت دیکھ کر یہ حکم نہیں لگایا جاسکتا کہ وہ بڑا نیک صالح بزرگ ہے۔ البتہ عام مصائب و آفات جیسے قحط، طوفان، وبائی امراض، گرانی اشیاء ضرورت، چیزوں کی برکت مٹ جانا وغیرہ اس کا اکثر اور بڑا سبب لوگوں کے علانیہ گناہ اور سرکشی ہوتی ہے۔
فائدہحضرت شاہ ولی اللہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں فرمایا کہ اس دنیا میں خیر و شر یا مصیبت و راحت، مشقت و سہولت کے اسباب دو طرح کے ہیں۔ ایک ظاہری، دوسرے باطنی، ظاہری اسباب تو وہی مادی اسباب ہیں جو عام دنیا کی نظر میں اسباب سمجھے جاتے ہیں اور باطنی اسباب انسانی اعمال اور ان کی بناء پر فرشتوں کی امداد و نصرت یا ان کی لعنت و نفرت ہیں۔ جیسے دنیا میں بارش کے اسباب اہل فلسفہ و اہل تجربہ کی نظر میں سمندر سے اٹھنے والے بخارات (مان سون) اور پھر اوپر کی ہوا میں پہنچ کر ان کا منجمد ہونا، پھر آفتاب کی شعاعوں سے پگھل کر برس جانا ہیں، مگر روایات حدیث میں ان چیزوں کو فرشتوں کا عمل بتلایا گیا ہے۔ درحقیقت ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں، ایک چیز کے اسباب متعدد ہو سکتے ہیں۔ اس لئے ہوسکتا ہے کہ ظاہری اسباب یہی ہوں اور باطنی سبب فرشتوں کا تصرف ہو یہ دونوں طرح کے اسباب جمع ہوجائیں تو بارش امید اور ضرورت کے مطابق ہو اور جہاں یہ دونوں اسباب جمع نہ ہوں وہاں بارش کے وقوع میں اختلال رہے۔
حضرت شاہ صاحب نے فرمایا کہ اس طرح دنیا کے مصائب و آفات کے کچھ اسباب طبعیہ مادیہ ہیں جو نیک و بد کو نہیں پہچانتے۔ آگ جلانے کے لئے ہے وہ بلا امتیاز متقی اور فاجر کے سب کو جلائے ہی گی بجز اس کے کسی خاص فرمان کے ذریعہ اس کو اس عمل سے روک دیا جائے، جیسے نار نمرود ابراہیم ؑ کے لئے برد وسلام بنادی گئی۔ پانی وزنی چیزوں کو غرق کرنے کے لئے ہے وہ یہی کام کرے گا اسی طرح دوسرے عناصر جو خاص خاص کاموں کے لئے ہیں وہ اپنی مفوّضہ خدمت میں لگے ہوئے ہیں، یہ اسباب طبعیہ کسی انسان کے لئے راحت و سہولت کے سامان بھی فراہم کرتے ہیں اور کسی کے لئے مصیبت و آفت بھی بن جاتے ہیں۔
انہی اسباب ظاہرہ کی طرح مصائب و آفات اور راحت و سہولت میں موثر انسان کے اپنے اعمال خیر و شر بھی ہیں۔ جب دونوں ظاہری اور باطنی اسباب کسی فرد یا جماعت کی راحت و آرام اور سہولت و خوش عیشی پر جمع ہوجاتے ہیں تو اس فرد یا جماعت کو دنیا میں عیش و راحت مکمل طور پر حاصل ہوتی ہے جس کا مشاہدہ ہر شخص کرتا ہے۔ اس کے بالمقابل جس فرد یا جماعت کے لئے اسباب طبعیہ مادیہ بھی مصیبت و آفت لا رہے ہوں اور اس کے اعمال بھی مصیبت و آفت کے مقتضی ہوں تو اس کی مصیبت و آفت بھی مکمل ہوتی ہے جس کا عام مشاہدہ ہوتا ہے۔
اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اسباب طبعیہ مادیہ تو مصیبت و آفت پر مجتمع ہیں، مگر اس کے اعمال حسنہ باطنی طور پر راحت و سکون کے مقتضی ہیں ایسی صورت میں یہ اسباب باطنہ اس کی ظاہری آفتوں کو دور کرنے یا کم کرنے میں صرف ہوجاتے ہیں اس کی عیش و راحت مکمل طور پر سامنے نہیں آتی۔ اسی طرح اس کے برعکس بعض اوقات اسباب مادیہ عیش و آرام کے مقتضی ہوتے ہیں مگر اسباب باطنیہ یعنی اس کے اعمال بری ہونے کی وجہ سے ان کا تقاضا مصیبت و آفت لانے کا ہوتا ہے، تو ان متضاد تقاضوں کی وجہ سے نہ عیش و راحت مکمل ہوتی ہے اور نہ بہت زیادہ مصیبت و آفت ان کو گھیرتی ہے۔
اسی طرح بعض اوقات مادی اسباب طبعیہ کو کسی بڑے درجہ کے نبی و رسول اور ولی و مقبول کے لئے ناسازگار بنا کر اس کی آزمائش و امتحان کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے، اس تفصیل کو سمجھ لیا جائے تو آیات قرآن اور مذکورہ احادیث کا باہم ارتباط اور اتفاق واضح ہوجاتا ہے، تعارض و تضاد کے شبہات رفع ہوجاتے ہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
مصائب کے وقت ابتلاء و امتحان یا سزا و عذاب میں فرق
مصائب و آفات کے ذریعہ جن لوگوں کو ان کے گناہوں کی کچھ سزا دی جاتی ہے اور جن نیک لوگوں کو رفع درجات یا کفارہ سیئات کے لئے بطور امتحان مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہے، ظاہری صورت ابتلاء کی ایک ہی سی ہوتی ہے، ان دونوں میں فرق کیسے پہچانا جائے ؟ اس کی پہچان حضرت شاہ ولی اللہ نے یہ لکھی ہے کہ جو نیک لوگ بطور ابتلاء و امتحان کے گرفتار مصائب ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے قلوب کو مطمئن کردیتے ہیں اور وہ ان مصائب و آفات پر ایسے ہی راضی ہوتے ہیں جیسے بیمار کڑوی دواء یا آپریشن پر باوجود تکلیف محسوس کرنے کے راضی ہوتا ہے بلکہ اس کے لئے مال بھی خرچ کرتا ہے۔ سفارشیں مہیا کرتا ہے۔ بخلاف ان گنہگاروں کے جو بطور سزا مبتلا کئے جاتے ہیں ان کی پریشانی اور جزع و فزع کی حد نہیں رہتی، بعض اوقات ناشکری بلکہ کلمات کفر تک پہنچ جاتے ہیں۔
سیدی حکیم الامت تھانوی قدس سرہ نے ایک پہچان یہ بتلائی کہ جس مصیبت کے ساتھ انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اپنے گناہوں پر تنبہ اور توبہ و استغفار کی رغبت زیادہ ہوجائے وہ علامت اس کی ہے کہ یہ قہر نہیں بلکہ مہر اور عنایت ہے اور جس کو یہ صورت نہ بنے بلکہ جزع و فزع اور معاصی میں اور زیادہ انہماک بڑھ جائے وہ علامت قہر الہی اور عذاب کی ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 30:46خلاصہ تفسیر
اور اللہ تعالیٰ کی (قدرت و وحدت و نعمت کی) نشانیوں میں سے ایک یہ (بھی) ہے کہ وہ (بارش سے پہلے) ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ (بارش کی) خوش خبری دیتی ہیں (پس ان کا بھیجنا ایک تو جی خوش کرنے کے لئے ہوتا ہے) اور (نیز اس واسطے) تاکہ (اس کے بعد بارش ہو اور) تم کو اپنی (اس) رحمت (بارش) کا مزہ چکھاوے (یعنی بارش کے فوائد عنایت فرماوے) اور (نیز اس واسطے ہوا بھیجتا ہے) تاکہ (اس کے ذریعے سے بادبانی) کشتیاں اس کے حکم سے چلیں اور تاکہ (اس ہوا کے ذریعہ سے بواسطہ کشتی دریا کے سفر سے) تم اس کی روزی تلاش کرو (یعنی کشتیوں کا چلنا اور روزی تلاش کرنا دونوں ارسال ریاح سے حاصل ہوتے ہیں اول بلا واسطہ اور ثانی بواسطہ کشتی کے) اور تاکہ تم شکر کرو اور (ان دلائل بالغہ اور نعم سابغہ پر بھی یہ مشرکین حق تعالیٰ کی جو ناشکریاں کرتے ہیں، یعنی شرک اور مخالفت رسول اور ایذاء مومنین وغیرہ، تو آپ اس پر غمگین نہ ہوں، کیونکہ ہم عنقریب ان سے انتقام لینے والے اور اس میں ان کو مغلوب اور اہل حق کو غالب کرنے والے ہیں جیسا کہ پہلے بھی ہوا ہے چنانچہ) ہم نے آپ سے پہلے بہت سے پیغمبر ان کی قوموں کے پاس بھیجے اور وہ ان کے پاس دلائل (ثبوت حق کے) لے کر آئے (جس پر بعضے ایمان لائے اور بعضے نہ لائے) سو ہم نے ان لوگوں سے انتقام لیا جو مرتکب جرائم کے ہوئے تھے (اور وہ جرائم تکذیب حق و مخالفت اہل حق ہیں اور اس اتنقام میں ہم نے ان کو مغلوب اور اہل ایمان کو غالب کیا) اور اہل ایمان کو غالب کرنا (حسب وعدہ و عادت) ہمارے ذمہ تھا (وہ انتقام عذاب الہی تھا اور اس میں کفار کا ہلاک ہونا یا ان کا مغلوب ہونا ہے اور مسلمانوں کا بچ جانا ان کا غالب آنا ہے۔ غرض اسی طرح ان کفار سے انتقام لیا جائے گا۔ خواہ دنیا میں خواہ بعد موت اور یہ مضمون تسلی کا بطور جملہ معترضہ کے تھا آگے ارسال ریاح کے بعضے آثار مذکورہ بالاجمال کی تفصیل ہے کہ) اللہ ایسا (قادر و حکیم و منعم) ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے پھر وہ (ہوائیں) بادلوں کو (جو کہ کبھی ان ہواؤں سے پہلے بخارات اٹھ کر بادل بن چکتے ہیں اور کبھی وہ بخارات انہی ہواؤں سے بلند ہو کر بادل بن جاتے ہیں پھر وہ ہوائیں بادلوں کو ان کی جگہ سے یعنی فضائے آسمانی سے یا زمین سے) اٹھاتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ اس (بادل) کو (کبھی تو) جس طرح چاہتا ہے آسمان (یعنی فضائے آسمانی میں پھیلا دیتا ہے اور (کبھی) اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے (بسط کا مطلب یہ ہے کہ مجتمع کر کے دور تک پھیلا دیتا ہے اور كَيْفَ يَشَاۗءُ کا مطلب یہ ہے کہ کبھی تھوڑی دور تک کبھی بہت دور تک اور کسفاً کا مطلب یہ کہ مجتمع نہیں ہوتا متفرق رہتا ہے) پھر (دونوں حالت میں) تم مینھ کو دیکھتے ہو کہ اس (بادل) کے اندر سے نکلتا ہے (مجتمع بادل سے برسنا تو بکثرت ہے اور بعض موسموں میں اکثر بارش متفرق بدلیوں سے بھی ہوتی ہے) پھر (بادل سے نکلنے کے بعد) جب وہ (مینھ) اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے پہنچا دیتا ہے تو بس وہ خوشیاں کرنے لگتے ہیں اور وہ لوگ قبل اس کے کہ ان کے خوش ہونے سے پہلے ان پر برسے (بالکل ہی) ناامید (ہو رہے) تھے (یعنی ابھی ابھی ناامید تھے اور ابھی خوش ہوگئے۔ اور ایسا ہی مشاہدہ بھی ہے کہ انسان کی کیفیت ایسی حالت میں بہت جلدی جلدی بدل جاتی ہے) سو (ذرا) رحمت الٰہی (یعنی بارش) کے آثار (تو) دیکھو کہ اللہ تعالیٰ (اس کے ذریعہ سے) زمین کو اس کے مردہ (یعنی خشک) ہونے کے بعد کس طرح زندہ (یعنی ترو تازہ) کرتا ہے (اور یہ بات نعمت اور دلیل وحدت ہونے کے علاوہ اس کی بھی دلیل ہے کہ اللہ کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر پوری قدرت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس خدا نے مردہ زمین کو زندہ کردیا) کچھ شک نہیں کہ وہی (خدا) مردوں کو زندہ کرنے والا ہے (پس عقلاً ممکن ہونے میں دونوں برابر اور قدرت ذاتی دونوں کے ساتھ برابر اور مشاہدہ میں دونوں کاموں کا یکساں ہونا یہ سب چیزیں اس استبعاد کو دفع کرنے والی ہیں کہ مرنے کے بعد پھر کیسے زندہ ہوں گے) اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے (یہ مضمون احیاء موتی کا بمناسب حیات ارض کے جملہ معترضہ تھا) اور (آگے پھر بارش و ریاح کے متعلق مضمون ہے، جس میں اہل غفلت کی ناشکری کا بیان ہے۔ یعنی اہل غفلت ایسے حق ناشناس و ناسپاس ہیں کہ اتنی بڑی بڑی نعمتوں کے بعد) اگر ہم ان پر اور (قسم کی) ہوا چلا دیں پھر (اس ہوا سے) یہ لوگ کھیتی کو (خشک اور) زرد دیکھیں (کہ اس کی سبزی اور شادابی جاتی رہی) تو یہ اس کے بعد ناشکری کرنے لگیں (اور پچھلی نعمتیں سب طاق نسیاں میں رکھ دیں) سو (جب ان کی غفلت اور ناشکری پر اقدام اس درجہ میں ہے تو اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ یہ بالکل ہی بےحس ہیں تو ان کے عدم ایمان و عدم تدبر پر غم بھی بےکار ہے کیونکہ) آپ مردوں کو (تو) نہیں سنا سکتے اور بہروں کو (بھی) آواز نہیں سنا سکتے (خصوصاً) جب کہ پیٹھ پھیر کر چل دیں (کہ اشارہ کو بھی نہ دیکیں) اور (اسی طرح) آپ (ایسے) اندھوں کو (جو کہ بصیر کا اتباع نہ کریں) ان کی بےراہی سے راہ پر نہیں لا سکتے (یعنی یہ تو ماؤف الحواس والحیوة کے مشابہ ہیں) آپ تو بس ان کو سنا سکتے ہیں، جو ہماری آیتوں کا یقین رکھتے ہیں (اور) پھر وہ مانتی (بھی) ہیں (اور جب یہ لوگ مردوں، بہروں، اندھوں کے مشابہ ہیں پھر ان سے توقع ایمان کی نہ رکھئے اور غم نہ کیجئے۔
Ayahs 30:47–51معارف و مسائل
فَانْتَـقَمْنَا مِنَ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا ۭ وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ ، ہم نے مجرموں کافروں سے انتقام لے لیا اور ہمارے ذمہ تھا کہ ہم مومنین کی مدد کرتے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومنین کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اس کا تقاضا بظاہر یہ تھا کہ مسلمانوں کو کفار کے مقابلہ میں کبھی شکست نہ ہو، حالانکہ بہت سے واقعات اس کے خلاف بھی ہوئے ہیں اور ہوتے رہتے ہیں۔ اس کا جواب خود اسی آیت میں موجود ہے کہ مومنین سے مراد وہ مجاہدین فی سبیل اللہ ہیں جو خالص اللہ کے لئے کفار سے جنگ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا ہی انتقام اللہ تعالیٰ مجرمین سے لیتے ہیں اور ان کو غالب کرتے ہیں، جہاں کہیں اس کے خلاف کوئی صورت پیش آتی ہے وہاں عموماً مجاہدین کی کوئی لغزش ان کی شکست کا سبب بنتی ہے، جیسے غزوہ احد کے متعلق خود قرآن کریم میں ہے اِنَّمَا اسْتَزَلَّھُمُ الشَّـيْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا ”یعنی شیطان نے ان لوگوں کو لغزش دے دی، ان کے بعض اعمال کی غلطی کے سبب، اور ایسے حالات میں بھی انجام کار اللہ تعالیٰ پھر انہی کو غلبہ اور فتح عطا فرما دیتے ہیں جبکہ ان کو اپنی غلطی پر تنبہ ہوجائے جیسا غزوہ احد میں ہوا اور جو لوگ محض اپنا نام مومن مسلمان رکھ لیں، احکام خداوندی سے غفلت و سرکشی کے عادی ہوں اور غلبہ کفار کے وقت بھی اپنے گناہوں سے تائب نہ ہوں وہ اس وعدہ میں شامل نہیں، وہ نصرت الہیہ کے مستحق نہیں ہیں۔ یوں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے بغیر کسی استحقاق کے بھی نصرت و غلبہ عطا فرما دیتے ہیں، اس کی امید رکھنا اور اس سے دعا مانگنا ہر حال میں مفید ہی مفید ہے۔
Ayahs 30:52–53فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى، اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ رہا یہ معاملہ کہ مردوں میں سننے کی صلاحیت ہے یا نہیں اور عام مردے زندہ کا کلام سنتے ہیں یا نہیں ؟ اس مسئلہ کی مختصر تحقیق معارف القرآن سورة نمل کی تفسیر میں گذر چکی ہے، اور مکمل تحقیق احقر کے مستقل رسالہ بزبان عربی میں ہے جس کا نام " تکمیل الحبور بسماع اہل القبور " ہے اور جو احکام القرآن بزبان عربی کے حزب خامس کا جز ہو کر شائع ہوچکا ہے۔