Ayah 30:54خلاصہ تفسیر
اللہ ایسا ہے جس نے تم کو ناتوانی کی حالت میں بنایا (مراد اس سے ابتدائی حالت بچپن کی ہے) پھر (اس) ناتوانی کے بعد توانائی (یعنی جوانی) عطا کی پھر (اس) توانائی کے بعد ضعف اور بڑھاپا کیا (اور) وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ (ہر تصرف کو) جاننے والا (اور اس تصرف کے نافذ کرنے پر) قدرت رکھنے والا ہے (پس جو ایسا قادر ہو اس کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ یہ تو بیان تھا بعث کے امکان کا) اور (آگے اس کے وقوع کا بیان ہے یعنی) جس روز قیامت ہوگی مجرم (یعنی کافر) لوگ (وہاں کی ہول وہیبت و پریشانی کو دیکھ کر قیامت کی آمد کو غایت درجہ ناگوار سمجھ کر) قسم کھا بیٹھیں گے کہ (قیامت بہت جلدی آگئی اور) وہ لوگ (یعنی ہم لوگ عالم برزخ میں) ایک ساعت سے زیادہ نہیں رہے (یعنی جو میعاد قیامت کے آنے کی مقرر تھی وہ بھی پوری نہ ہونے پائی کہ قیامت آپہنچی جیسا مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ اگر پھانسی والے کی میعاد ایک ماہ مقرر کی جائے تو جب مہینہ گذر چکے گا تو اس کو ایسا معلوم ہوگا کہ گویا مہینہ نہیں گذرا اور مصیبت جلدی آگئی، حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ) اسی طرح یہ لوگ (دنیا میں) الٹے چلا کرتے تھے (یعنی جس طرح یہاں آخرت میں قیامت کے قبل از وقت آجانے پر قسمیں کھانے لگے، اسی طرح دنیا میں قیامت کے وجود ہی کے منکر تھے اور نہ آنے پر قسمیں کھایا کرتے تھے)
اور جن لوگوں کو ایمان اور علم عطا ہوا ہے (مراد اہل ایمان ہیں کہ اخبار شرعیہ کا علم ان کو حاصل ہے) وہ (ان مجرمین کے جواب میں) کہیں گے کہ (تم برزخ میں میعاد سے کم تو نہیں رہے، تمہارا یہ دعویٰ غلط ہے بلکہ) تم تو (میعاد) نوشتہ خداوندی کے موافق قیامت کے دن تک رہے، سو قیامت کا دن یہی ہے، (جو میعاد مقرر تھی برزخ میں رہنے کی) و لیکن (وجہ اس بات کی کہ قیامت کو میعاد سے پہلے آیا ہوا سمجھتے ہو یہ ہے کہ) تم (دنیا میں قیامت کے وقوع کا) یقین (اور اعتقاد) نہ کرتے تھے (بلکہ تکذیب و انکار کیا کرتے تھے اس انکار کے وبال میں آج پریشانی کا سامنا ہوا اس وجہ سے گھبرا کر یہ خیال ہوا کہ ابھی تو میعاد پوری بھی نہیں ہوئی اور اگر تصدیق کرتے اور ایمان لے آتے تو اس کے وقوع کو جلدی نہ سمجھتے بلکہ یوں چاہتے کہ اس سے بھی جلدی آجائے کیونکہ انسان جب اس سے کسی راحت و آرام کا وعدہ ہو تو طبعی طور پر اس کا جلدی آنا چاہتا ہے اور انتظار شاق اور اس کی مدت طویل معلوم ہوا کرتی ہے۔ جیسا حدیث میں بھی ہے کہ کافر قبر میں کہتا ہے رب لاتفم الساعة اور مومن کہتا ہے رب لا تقسم الساعة اور مومن کہتا ہے رب اقم الساعۃ، اور مومنین کے اس جواب سے بھی جو یہاں مذکور ہے کہ مقام برزخ کو انہوں نے بہت سمجھا ہے یہ مترشح ہوتا ہے کہ وہ مشتاق تھے، اس لئے چاہتے تھے کہ جلد آجائے) غرض اس روز ظالموں (یعنی کافروں کی پریشانی اور مصیبت کی یہ کیفیت ہوگی کہ ان) کو ان کا (کسی قسم کا جھوٹا سچا) عذر کرنا نفع نہ دے گا اور نہ ان سے خدا کی خفگی کا تدارک چاہا جائے گا (یعنی اس کا موقع نہ دیا جائے گا کہ توبہ کرے کے خدا کو راضی کرلیں) اور ہم نے لوگوں (کی ہدایت) کے واسطے اس قرآن (کے مجموعہ یا اس کے اس خاص جزو یعنی اس سورة) میں ہر طرح کے عمدہ (اور عجیب) مضامین (ضروریہ) بیان کئے ہیں (جو اپنی بلاغت اور کمال کی وجہ سے مقتضی اس کو ہیں کہ ان کافروں کو ہدایت ہوجاتی، مگر ان لوگوں نے غایت عناد سے اس کو قبول نہ کیا اور اس سے منتفع نہ ہوئے) اور (قرآن کی کیا تخصیص ہے ان لوگوں کا عناد اس درجہ بڑھ گیا ہے کہ) اگر (قرآن کے علاوہ ان معجزات سے جن کی یہ خود فرمائش کیا کرتے ہیں) آپ ان کے پاس کوئی نشان لے آئیں تب بھی یہ لوگ جو کہ کافر ہیں یہی کہیں گے کہ تم سب (یعنی پیغمبر ﷺ اور مومنین جو آیات تشریعیہ و تکوینیہ کی تصدیق کرتے ہیں) نرے اہل باطل ہو (پیغمبر کو سحر کی تہمت لگا کر صاحب باطل کہیں اور مسلمانوں کو سحر کی تصدیق کرنے سے اہل باطل کہیں اور ان لوگوں کے اس عناد کے بارے میں اصل بات یہ ہے کہ) جو لوگ (باوجود مکرر نشانیاں اور دلائل حق ظاہر ہونے کے) یقین نہیں کرتے (اور نہ اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں) اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر یوں ہی مہر کردیا کرتا ہے (جیسا کہ ان کے دلوں پر ہو رہی ہے، یعنی روزانہ استعداد قبول حق کی مضمحل و ضعیف ہوتی جاتی ہے، اس لئے انقیاد میں ضعف اور عناد میں قوت بڑھتی جاتی ہے) سو (جب یہ ایسے معاندین ہیں تو ان کی مخالفت اور ایذا رسانی اور بدکلامی وغیرہ پر آپ صبر کیجئے بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ (کہ آخر میں یہ ناکام اور اہل حق کامیاب ہوں گے) سچا ہے (وہ وعدہ ضرور واقع ہوگا پس صبر و تحمل تھوڑے ہی دن کرنا پڑتا ہے) اور یہ بدیقین لوگ آپ کو بےبرداشت نہ کرنے پائیں (یعنی ان کی طرف سے خواہ کیسی ہی بات پیش آئے مگر ایسا نہ ہو کہ آپ برداشت نہ کریں۔
معارف و مسائل
اس سورت کا بڑا حصہ منکرین قیامت کے شبہات کے ازالہ سے متعلق ہے جس کے لئے حق تعال کی قدرت مطلقہ کاملہ اور حکمت بالغہ کی بہت سی آیات اور نشانیاں دکھلا کر غافل انسان کو غفلت سے بیدار کرنے کا سامان کیا گیا ہے۔ مذکور الصد پہلی آیت میں ایک نئے انداز سے اسی مضمون کا اثبات ہے وہ یہ کہ انسان اپنی طبیعت سے جلد باز واقع ہوا ہے اور سامنے کی چیزوں میں لگ کر ماضی و مستقبل کو بھلا دینے کا عادی ہے اور اس کی یہی عادت اس کو بہت سی مہلک غلطیوں میں مبتلا کرتی ہے۔ جس وقت انسان جوان ہوتا ہے اس کی قوت اپنے شباب پر ہوتی ہے، یہ اپنی قوت کے نشہ میں کسی کو کچھ نہیں سمجھتا، حدود پر قائم رہنا اس کو دو بھر معلوم ہوتا ہے۔ اس کو متنبہ کرنے کے لئے اس آیت میں قوت و ضعف کے اعتبار سے انسانی وجود کا ایک مکمل خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ جس میں دکھلایا ہے کہ انسان کی ابتداء بھی کمزور ہے اور انتہا بھی درمیان میں بہت تھوڑے دنوں کے لئے اس کو ایک قوت ملتی ہے۔ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ اس چند روزہ قوت کے زمانہ میں اپنی پہلی کمزوری اور آنے والی کمزوری سے کبھی غافل نہ ہو، بلک اپنی اس کمزوری کے مختلف درجات کو ہمیشہ سامنے رکھے۔ جن سے گذر کر یہ قوت و شباب تک پہنچا ہے۔
خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ میں انسان کو یہی سبق دیا گیا کہ اپنی اصل بنیاد کو دیکھ کس قدر ضعیف بلکہ عین ضعف ہے کہ ایک قطرہ بےجان، بےشعور، ناپاک، گھناؤنی چیز ہے۔ اس میں غور کر کہ کس کی قدرت و حکمت نے اس گھناؤنے قطرہ کو ایک خون منجمد کی صورت میں پھر خون کو گوشت کی صورت میں پھر اس گوشت کے اندر ہڈیاں پیوست کرنے میں تبدیلیاں کیں۔ پھر اس کے اعضاء وجوارح کی نازک نازک مشینیں بنائیں کہ یہ ایک چھوٹا سا وجود ایک چلتی پھتری فیکٹری بن گیا، جس میں سینکڑوں عجیب و غریب خود کار مشینیں لگی ہوئی ہیں۔ اور زیادہ غور سے کام لو تو ایک فیکٹری نہیں بلکہ ایک عالم اصغر ہے کہ پورے جہان کے نمونے اس کے وجود میں شامل ہیں۔ اس کی تخلیق وتکوین بھی کسی بڑے ورکشاپ میں نہیں، بلکہ بطن مادر کی تین اندھیریوں میں ہوئی اور نو مہینے اسی تنگ و تاریک جگہ میں بطن مادر کے خون اور آلائشوں سے غذا پاتے ہوئے حضرت انسان کا وجود تیار ہوا۔
ثُمَّ السَّبِيْلَ يَسَّرَهٗ ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظہور کے لئے راستہ آسان فرما دیا اس عالم میں آئے تو ان کی شان یہ تھی کہ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَـيْـــًٔـا، یعنی تمہیں شکم مادر سے اللہ تعالیٰ نے اس حالت میں نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے، اب قدرت نے تعلیم و تلقین کا سلسلہ شروع کیا، سب سے پہلا ہنر رونے کا سکھلایا جس سے ماں باپ متوجہ ہو کر اس کی بھوک پیاس اور ہر تکلیف کو دور کرنے پر لگ جائیں۔ پھر ہونٹوں، مسوڑوں کو دبا کر ماں کی چھاتیوں سے دودھ نکالنے کا ہنر سکھلایا جس سے وہ اپنی غذا حاصل کرے۔ کس کی مجال تھی جو اس لایعقل بچے کو یہ دونوں ہنر سکھا دے جو اس کی موجودہ ساری ضرورتوں کی کفالت کرتے ہیں، بجز اس قدرت کے جو اس کی تخلیق کی مالک ہے اب ضعیف بچہ ہے ذرا ہوا لگ جائے تو پژمردہ ہوجائے، ذرا سردی یا گرمی لگ جائے تو بیمار ہوجائے نہ اپنی کسی ضرورت کو مانگ سکتا ہے نہ کسی تکلیف کو دور کرسکتا ہے۔ یہاں سے چلئے اور جوانی کے عالم تک اس کی تدریجی منازل تک غور کرتے جایئے تو قدرت حق جل شانہ کا ایسا عظیم شاہکار سامنے آئے گا کہ عقل حیران رہ جائے گی۔
ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ﮨـعْفٍ قُوَّةً ، اب یہ قوت کی منزل میں پہنچے تو زمین آسمان کے قلابے ملانے لگے، چاند اور مریخ پر کمند پھینکنے لگے، بحر و بر پر اپنے قبضے جمانے لگے، اپنے ماضی و مستقبل سے غافل ہو کر مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً (ہم سے زیادہ کون قوی ہوسکتا ہے) کے نعرے لگانے لگے۔ یہاں تک کہ اسی قوت کے نشہ میں اپنے پیدا کرنے والے کو بھی بھول گئے اور اس کے احکام کی پیروی کو بھی مگر قدرت نے اس کو بیدار کرنے کے لئے فرمایاثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ﮨـعْفًا وَّشَيْبَةً کہ غافل ! خوب سمجھ لے کہ یہ قوت تیری چند روزہ ہے۔ پھر اسی ضعف کے عالم کی طرف لوٹنا ہے اور اسی تدریج سے ضعف بڑھنا شروع ہوگا جس کا اثر ایک وقت کے بعد شیبہ بالوں کی سفیدی کی صورت میں ظاہر ہوگا اور پھر سب ہی اعضا وجوارح کی شکل و صورت میں تبدیلیاں لائے گا۔ دنیا کی تاریخ اور دوسری کتابیں نہیں خود اپنے وجود میں لکھی ہوئی اس مخفی تحریر کو پڑھ لو تو اس یقین کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہوگا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۚ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ کہ یہ سب کار سازی اس رب العزت کی ہے جو پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جس طرح چاہتا ہے اور علم میں بھی سب سے بڑا ہے اور قدرت میں بھی کیا اس کے بعد بھی اس میں کچھ شبہ کی گنجائش رہ گئی، کہ وہ جب چاہے مردوں کو دوبارہ بھی زندہ کرسکتا ہے۔
Ayahs 30:55–60آگے پھر منکرین قیامت کی لغو گوئی اور ان کی جہالت کا بیان ہے، وَيَوْمَ تَــقُوْمُ السَّاعَةُ يُـقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ڏمَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَاعَةٍ۔ یعنی جس روز قیامت قائم ہوگی تو یہ منکرین قیامت اس وقت کے ہولناک مناظر سے مدہوش ہو کر یہ قسمیں کھانے لگیں گے کہ ہمارا قیام تو ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہا۔ مراد اس قیام سے ہوسکتا ہے کہ دنیا کا قیام ہو کیونکہ ان کی دنیا آرام و عیش سے گذری تھی اور اب مصائب شدیدہ سامنے آئے تو جیسے انسان کی طبعی عادت ہے کہ راحت کے زمانے کو بہت مختصر سمجھا کرتا ہے اس لئے قسمیں کھا جائیں کہ دنیا میں تو ہمارا قیام بہت ہی مختصر ایک گھڑی کا تھا۔
اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس قیام سے مراد قبر اور برزخ کا قیام ہو اور مطلب یہ ہو کہ ہم تو سمجھتے تھے کہ قبر یعنی عالم برزخ میں قیام بہت طویل ہوگا اور قیامت بہت زمانہ کے بعد آئے گی، مگر معاملہ برعکس ہوگیا کہ ہم برزخ میں تھوڑے ہی دیر ٹھہرنے پائے تھے کہ قیامت آگئی اور یہ راحت کی چیز تو تھی نہیں مصیبت ہی مصیبت تھی اور انسانی فطرت یہ ہے کہ مصیبت آنے کے وقت پچھلی راحت کے زمانے کو بہت مختصر سمجھنے لگتا ہے اور کافروں کو اگرچہ قبر و برزخ میں بھی عذاب ہوگا مگر قیامت کے عذاب کے مقابلہ میں وہ بھی راحت محسوس ہونے لگے گا اور اس زمانے کو مختصر سمجھ کر قسم کھائیں گے کہ قبر میں ہمارا قیام بہت مختصر ایک گھڑی کا تھا۔
کیا محشر میں اللہ کے سامنے کوئی جھوٹ بول سکے گا ؟
اس آیت سے معلوم ہوا کہ محشر میں کفار قسم کھا کر یہ جھوٹ بولیں گے کہ ہم تو دنیا میں یا قبر میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے، اسی طرح ایک دوسری آیت میں مشرکین کا یہ قول مذکور ہے کہ وہ قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہیں تھے واللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ۔ وجہ یہ ہے کہ محشر میں رب العالمین کی عدالت قائم ہوگی وہ سب کو آزادی دیں گے کہ جو چاہے بیان دے، جھوٹ بولے یا سچ بولے۔ کیونکہ رب العزت کو ذاتی علم بھی پورا پورا ہے اور عدالتی تحقیقات کے لئے وہ ان کے اقرار کرنے نہ کرنے کا محتاج نہیں جب انسان جھوٹ بولے گا تو اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے ہاتھ پاؤں اور کھال و بال سے شہادت لی جاوے گی وہ سچ مچ سارا واقعہ بیان کردیں گے، جس کے بعد اس کو کوئی حجت باقی نہ رہے گی، اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓي اَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَآ اَيْدِيْهِمْ الایتہ کا یہی مطلب ہے اور قرآن کریم کی دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ محشر میں مختلف مواقف ہوں گے، ہر موقف کے حالات الگ ہیں۔ ایک موقف وہ بھی ہوگا جس میں بغیر اذن الہی کسی کو بولنے کا اختیار نہ ہوگا اور وہ صرف سچ اور صحیح بات ہی بول سکے گا، جھوٹ پر قدرت نہ ہوگی، جیسا ارشاد ہے۔ لَّا يَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا۔
قبر میں کوئی جھوٹ نہ بول سکے گا
اس کے برخلاف قبر کے سوال و جواب میں احادیث صحیحہ میں مذکور ہے کہ جب کافر سے پوچھا جائے گا کہ تیرا رب کون ہے اور محمد مصطفیٰ ﷺ کون ہیں ؟ تو وہ کہے گا، ھاہ ھاہ لا ادری، یعنی ہائے ہائے میں کچھ نہیں جانتا۔ اگر وہاں جھوٹ بولنے کا اختیار ہوتا تو کیا مشکل تھا، کہہ دیتا کہ میرا رب اللہ ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ تو یہ ایک عجیب بات ہے کہ کافر لوگ اللہ کے سامنے تو جھوٹ بولنے پر قادر ہوں اور فرشتوں کے سامنے جھوٹ نہ بول سکیں۔ مگر غور کیا جائے تو کچھ تعجب کی بات نہیں وجہ یہ ہے کہ فرشتے نہ تو عالم الغیب ہیں نہ ان کو یہ اختیار ہے کہ ہاتھ پاؤں کی گواہی لے کر اس پر حجت تمام کردیں، اگر ان کے سامنے جھوٹ بولنے کا اختیار ہوتا تو سب کافر فاجر عذاب قبر سے بےفکر ہوجاتے، بخلاف اللہ جل شانہ کے کہ وہ دلوں کے حال سے بھی واقف ہیں اور اعضاء وجوارح کی شہادت سے اس کا جھوٹ کھول دینے پر قادر بھی ہیں۔ اس لئے محشر میں یہ آزادی دے دینا عدالتی انصاف میں کوئی خلل پیدا نہیں کرتا۔ واللہ اعلم۔ تمت
سورة الروم بحمد اللہ فی یوم السبت 28 ذیقعدہ 1391 ھ