Ayahs 31:1–3خلاصہ تفسیر
الم (اس کے معنی اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ (جو اس سورة یا قرآن میں مذکور ہیں) آیتیں ہیں ایک پر حکمت کتاب (یعنی قرآن) کی جو کہ ہدایت اور رحمت (کا سبب) ہے، نیک کاروں کے لئے جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ لوگ آخرت کا پورا یقین رکھتے ہیں (سو) یہ لوگ (اس قرآن کے اعتقاد اور عمل کی بدولت) اپنے رب کے سیدھے راستہ پر ہیں اور یہی لوگ (اس ہدایت کی بدولت) فلاح پانے والے ہیں (پس قرآن اس طرح ان کے لئے ہدایت اور رحمت کا جس کا اثر فلاح ہے سبب ہوگیا، پس بعضے آدمی تو ایسے ہیں جیسا بیان کیا گیا) اور (برخلاف ان کے) بعض آدمی ایسا (بھی) ہے جو (قرآن سے اعراض کر کے) ان باتوں کا خریدار بنتا ہے (یعنی ایسی باتیں اختیار کرتا ہے) جو (اللہ سے) غافل کرنے والی ہیں (سو اول تو لہو کا اختیار کرنا جب کہ اس کے ساتھ آیات آلہیہ سے اعراض بھی ہو خود ہی کفر اور ضلال ہے، پھر خاص کر جب کہ اس کو اس غرض سے اختیار کیا جائے) تاکہ (اس کے ذریعہ سے دوسروں کو بھی) اللہ کی راہ (یعنی دین حق سے) بےسمجھے بوجھے گمراہ کرے اور (اسی گمراہ کرنے کے ساتھ) اس (راہ حق) کی ہنسی اڑا دے (تا کہ دوسروں کے دل سے بالکل اس کی وقعت اور تاثیر نکل جاوے، تب تو کفر بر کفر اور ضلال کے ساتھ اضلال بھی ہے اور) ایسے لوگوں کیلئے (آخرت میں) ذلت کا عذاب (ہونے والا) ہے (جیسا کہ ان کے اضداد کے لئے فلاح کا ہونا معلوم ہوا) اور (اس شخص مذکور کے اعراض کی یہ حالت ہے کہ) جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ شخص تکبر کرتا ہوا (ایسی بےالتفاتی سے) منہ موڑ لیتا ہے جیسے اس نے سنا ہی نہیں، جیسے اس کے کانوں میں ثقل ہے (یعنی جیسے بہرا ہے) سو اس (شخص) کو ایک دردناک عذاب کی خبر سنا دیجئے (یہ تو اعراض کرنے والے کی سزا کا بیان ہوا، آگے اہل ہدیٰ کی جزا کا بیان ہے جو کہ فلاح موعود کی تفصیل ہے، یعنی) البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کے لئے عیش کی جنتیں ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ اللہ نے سچا وعدہ فرمایا ہے اور وہ زبردست حکمت والا ہے (پس کمال قدرت سے وعدہ اور وعید کو واقع کرسکتا ہے اور حکمت سے اس کو حسب وعدہ واقع کرے گا)
Ayahs 31:4–5معارف و مسائل
یوتون الزکوٰة، اس آیت میں زکوٰۃ کا حکم ہے، حالانکہ آیت مکی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اصل زکوٰۃ کا حکم مکہ معظمہ ہی میں ہجرت سے پہلے آ چکا تھا۔ اور یہ جو مشہور ہے کہ زکوٰۃ کا حکم ہجرت کے دوسرے سال میں نافذ ہوا اس سے مراد نصابوں کا تقرر اور مقدار واجب کی تفصیلات اور حکومت اسلامیہ کی طرف سے اس کی وصول یابی اور مصرف پر خرچ کرنے کا انتظام ہے، یہ ہجرت کے دوسرے سال میں ہوا ہے۔
ابن کثیر نے سورة مزمل کی آیت اقیموا الصلوة واتوالزکوٰة کے تحت میں یہی تحقیق فرمائی ہے، کیونکہ سورة مزمل تو مکی سورتوں میں بالکل ابتداء نزول قرآن کے زمانے میں نازل ہوئی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح قرآن کریم کی آیات میں اکثر صلوٰة اور زکوٰۃ کو ساتھ ساتھ بیان فرمایا ہے، اس کی فرضیت بھی ساتھ ساتھ ہی ہوئی ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 31:6–9(آیت) و من الناس من یشتری لہو الحدیث، لفظ اشتراء کے لغوی معنی خریدنے کے ہیں اور بعض اوقات ایک کام کے بدلے دوسرے کام کو اختیار کرنے کے لئے بھی لفظ اشتراء استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے الذین اشتروا الضللۃ بالہدیٰ وغیرہ آیات قرآن میں یہی معنی اشتراء کے مراد ہیں۔
اس آیت کا شان نزول ایک خاص واقعہ ہے کہ نضر بن حارث مشرکین مکہ میں سے ایک بڑا تاجر تھا اور تجارت کے لئے مختلف ملکوں کا سفر کرتا تھا۔ وہ ملک فارس سے شاہان عجم کسریٰ وغیرہ کے تاریخی قصے خرید کر لایا اور مکہ کے مشرکین سے کہا کہ محمد ﷺ تم کو قوم عاد وثمود وغیرہ کے واقعات سناتے ہیں، میں تمہیں ان سے بہتر رستم اور اسفند یار اور دوسرے شاہان کے قصے سناتا ہوں۔ یہ لوگ اس کے قصہ کو شوق ورغبت سے سننے لگے کیونکہ ان میں کوئی تعلیم تو تھی نہیں جس پر عمل کرنے کی محنت اٹھانی پڑے صرف لذیذ قسم کی کہانیاں تھیں۔ ان کی وجہ سے بہت سے مشرکین جو اس سے پہلے کلام الٰہی کے اعجاز اور یکتائی کی وجہ سے اس کو سننے کی رغبت رکھتے اور چوری چوری سنا بھی کرتے تھے، ان لوگوں کو قرآن سے اعراض کا بہانہ ہاتھ آ گیا۔ (ذکرہ فی الروح عن اسباب النزول للواحدی و مقاتل و ذکر نحوہ فی الدار لمنثور بروایة البہیقی)
اور در منثور میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ مذکور الصدر تاجر باہر سے ایک گانے والی کنیز (لونڈی) خرید کر لایا تھا اور اس کے ذریعہ اس نے لوگوں کو قرآن سننے سے روکنے کی یہ صورت نکالی کہ جو لوگ قرآن سننے کا ارادہ کریں اپنی اس کنیز سے ان کو گانا سنواتا تھا اور کہتا تھا کہ محمد ﷺ تم کو قرآن سنا کر کہتے ہیں کہ نماز پڑھو، روزہ رکھو اور اپنی جان دو جس میں تکلیف ہی تکلیف ہے، آؤ تم یہ گانا سنو اور جشن طرب مناؤ۔
قرآن کریم کی مذکورہ آیت اسی واقعہ پر نازل ہوئی، اور اس میں اشتراء لہو الحدیث سے وہ قصے کہانیاں شاہان عجم کی یا یہ لونڈی گانے والی مراد ہے۔ واقعہ نزول کے اعتبار سے لفظ اشتراء بھی اس جگہ عام ہے۔ یعنی ایک کام کے بدلے میں دوسرے کو اختیار کرنا، اس میں سامان لہو کی خریداری بھی داخل ہے۔
اور لہو الحدیث میں لفظ ”حدیث“ تو باتوں اور قصے کہانیوں کے معنی میں ہے اور لہو کے لفظی معنی غفلت میں پڑنے کے ہیں۔ جو چیزیں انسان کو ضروری کاموں سے غفلت میں ڈالیں وہ لہو کہلاتی ہیں اور بعض اوقات ایسے کاموں کو بھی لہو کہا جاتا ہے جن کا کوئی معتد بہ فائدہ نہ ہو، محض وقت گزاری کا مشغلہ یا دل بہلانے کا سامان ہو۔
آیت مذکورہ میں لہو الحدیث کے معنے اور تفسیر میں مفسرین کے اقوال مختلف ہیں۔ حضرت ابن مسعود، ابن عباس و جابر ؓ کی ایک روایت میں اس کی تفسیر گانے بجانے سے کی گئی ہے۔ (رواہ الحاکم وصححہ البیہقی فی الشعب وغیرہ)
اور جمہور صحابہ وتابعین اور عامہ مفسرین کے نزدیک لہو الحدیث عام ہے تمام ان چیزوں کے لئے جو انسان کو اللہ کی عبادت اور یاد سے غفلت میں ڈالے، اس میں غناء مزامیر بھی داخل ہے اور بےہودہ قصے کہانیاں بھی۔ امام بخاری نے اپنی کتاب الادب المفرد میں اور بیہقی نے اپنی سنن میں لہو الحدیث کی یہی تفسیر اختیار کی ہے۔ اس میں فرمایا ہے کہ لہو الحدیث ھوالغناء واشباھہ، یعنی لہو الحدیث سے مراد گانا اور اس کے مشابہ دوسری چیزیں ہیں (یعنی جو اللہ کی عبادت سے غافل کردیں) اور سنن بیہقی میں ہے کہ اشتراء لہو الحدیث سے مراد گانے بجانے والے مرد یا عورت کو خریدنا یا اس کے امثال ایسی بےہودہ چیزوں کو خریدنا ہے جو اللہ کی یاد سے غافل کریں۔ ابن جریر نے بھی اسی عام معنی کو اختیار فرمایا ہے (روح ملخصاً) اور ترمذی کی ایک روایت سے بھی یہی عموم ثابت ہوتا ہے جس میں آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ گانے والی لونڈیوں کی تجارت نہ کرو، اور پھر فرمایا فی مثل ہذا انزلت ہذہ الاٰیة ومن الناس من یشتری الخ
لَہو و لعب اور اس کے سامان کے شرعی احکام
ان احکام کی پوری تفصیل قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ احقر کے مستقل رسالہ ”العی الحثیث فی تفسیر لہو الحدیث“ میں مذکور ہے۔ جس میں غناء و مزامیر پر بھی مفصل کلام قرآن و حدیث سے پھر فقہاء امت اور صوفیائے کرام کے اقوام سے مذکور ہے، یہ رسالہ بزبان عربی احکام القرآن حزب خامس میں شائع ہوچکا ہے۔ اہل علم اس کا مطالعہ کرسکتے ہیں، عوام کے لئے اس کا خلاصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔
پہلی بات قابل نظر یہ ہے کہ قرآن کریم نے جتنے واقع میں لہو یا لعب کا ذکر کیا ہے وہ مذمت اور برائی ہی کے مواقع ہیں، جس کا ادنیٰ درجہ کراہت ہے (روح المعانی وکشاف) اور آیت مذکورہ لہو کی مذمت میں بالکل واضح اور صریح ہے۔
اور مستدرک حاکم کتاب الجہاد میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
”یعنی دنیا کا ہر لہو (کھیل) باطل ہے مگر تین چیزیں ایک یہ کہ تم تیر کمان سے کھیلو دوسرے اپنے گھوڑے کو سدھانے کیلئے کھیلو، تیسرے اپنی بی بی کے ساتھ کھیل کرو۔“
(حاکم نے اس حدیث کو صحیح علیٰ شرط مسلم کہا ہے، مگر ذہبی وغیرہ نے اس کی سند کے متصل السند ہونے کو تسلیم نہیں کیا بلکہ حدیث مرسل کہا ہے، مگر جمہور محدثین کے نزدیک حدیث مرسل بھی حجت ہے)
اس حدیث میں ہر لہو کو باطل قرار دیا ہے اور جن تین چیزوں کو مستثنیٰ قرار دیا ہے در حقیقت وہ لہو میں داخل ہی نہیں، کیونکہ لہو تو اس کام کو کہا جاتا ہے جس میں کوئی دینی و دینوی فائدہ معتدبہا نہ ہو۔ اور یہ تینوں چیزیں مفید کام ہیں جن سے بہت سے دینی اور دنیوی فوائد وابستہ ہیں۔ تیر اندازی اور گھوڑے کو سدھانا تو جہاد کی تیاری میں داخل ہیں، اور بیوی کے ساتھ ملاعبت توالد و تناسل کے مقاصد کی تکمیل ہے۔ ان کو صرف صورت اور ظاہر کے اعتبار سے لہو کہہ دیا گیا ہے وہ حقیقت کے اعتبار سے لہو میں داخل ہی نہیں۔ اسی طرح ان تین چیزوں کے علاوہ اور بھی بہت سے ایسے کام ہیں جن سے دینی یا دنیوی فوائد متعلق ہیں اور صورت کے اعتبار سے وہ لہو (کھیل) سمجھے جاتے ہیں ان کو بھی دوسری روایات حدیث میں جائز بلکہ بعض کو مستحسن قرار دیا گیا ہے جس کی تفصیل آگے آجائے گی۔
خلاصہ یہ ہے کہ جو کام حقیقتاً لَہو ہوں، یعنی جن میں نہ کوئی دینی فائدہ ہو نہ دنیوی، وہ سب کے سب مذموم اور مکروہ تو ضرور ہی ہیں، پھر ان میں تفصیل ہے۔ بعض تو کفر کی حد تک پہنچ جاتے ہیں، بعض حرام صریح ہیں اور کم سے کم درجہ مکروہ تنزیہی، یعنی خلاف اولیٰ ہونے کا ہے، جس سے کوئی لَہو جو درحقیقت لہو ہو مستثنیٰ نہیں، جیسا کہ ایک حدیث میں خود اس کی تصریح موجود ہے۔ ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ میں حضرت عقبہ بن عامر کی روایت کتاب الجہاد میں ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔ لیس من اللہو ثلاث تادیب الرجل فرسہ وملاعبتہ اہلہ ورمیہ بقوسہ ونبلہ، الحدیث، (نصب الرایہ ص 273، ج 4) اس حدیث نے خود یہ تصریح کردی کہ یہ تین چیزیں جو مستثنیٰ کی گئی ہیں درحقیقت وہ لہو میں داخل ہی نہیں اور جو حقیقتاً لَہو ہے وہ باطل اور مذموم ہے، آگے اس کے مذموم ہونے کے مختلف درجات ہیں۔
1:۔ جو کھیل دین سے گمراہ ہونے یا دوسرے کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بنے وہ کفر ہے۔ جیسا کہ آیت مذکورہ الصدر (آیت) ومن الناس من یشتری لہو الحدیث میں اس کا کفر و ضلال ہونا بیان فرمایا گیا اور اس کی سزا عذاب مہین قرار دی ہے، جو کفار کی سزا ہے کیونکہ یہ آیت نضر بن حارث کے جس واقعہ پر نازل ہوئی ہے اس میں اس لہو کو اس نے اسلام کے خلاف لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے استعمال کیا تھا۔ اس لئے یہ لہو حرام ہونے کے ساتھ کفر تک پہنچ گیا۔
2:۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی لَہو لوگوں کو اسلامی عقائد سے تو گمراہ نہیں کرتا مگر ان کو کسی حرام اور معصیت میں مبتلا کرتا ہے۔ وہ کفر تو نہیں مگر حرام اور سخت گناہ ہے جیسے وہ تمام جیل جس میں قمار اور جوا ہو یعنی ہار جیت پر مال کا لین دین ہو، یا جو انسان کو ادائے فرائض نماز روزہ وغیرہ سے مانع ہوں۔
فحش اور فضول ناول یا فحش اشعار اور اہل باطل کی کتابیں بھی دیکھنا ناجائز ہیں
اس زمانے میں بیشتر نوجوان فحش ناول یا جرائم پیشہ لوگوں کے حالات پر مشتمل قصے یا فحش اشعار دیکھنے کے عادی ہیں۔ یہ سب چیزیں اس قسم لہو حرام میں داخل ہیں۔ اس طرح گمراہ اہل باطل کے خیالات کا مطالعہ بھی عوام کے لئے گمراہی کا سبب ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، راسخ العلم علماء ان کے جواب کے لئے دیکھیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔
3:۔ اور جن کھیلوں میں نہ کفر ہے نہ کوئی کھلی ہوئی معصیت، وہ مکروہ ہیں کہ ایک بےفائدہ کام میں اپنی توانائی اور وقت کو ضائع کرنا ہے۔
کھیلوں کے سامان کی خریدو فروخت
مذکورہ تفصیل سے کھیلوں کے سامان کی خریدو فروخت کا حکم بھی معلوم ہوگیا کہ جو سامان کفر و ضلال یا حرام و معصیت ہی کے کھیلوں میں استعمال ہوتا ہے اس کی تجارت اور خریدو فروخت بھی حرام ہے۔ اور جو لہو مکروہ میں استعمال ہوتا ہے اس کی تجارت بھی مکروہ ہے۔ اور جو سامان جائز اور مستثنیٰ کھیلوں میں استعمال ہوتا ہے اس کی تجارت بھی جائز ہے۔ اور جس سامان کو جائز اور ناجائز دونوں طرح کے کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے اس کی تجارت جائز ہے۔
مباح اور جائز کھیل
ادھر یہ بات تفصیل سے آ چکی ہے کہ مذموم اور ممنوع وہ لہو اور کھیل ہے جس میں کوئی دینی دنیوی فائدہ نہیں۔ جو کھیل بدن کی ورزش، صحت اور تندرستی باقی رکھنے کے لئے یا کسی دوسری دینی و دنیوی ضرورت کے لئے یا کم از کم طبیعت کا تھکان دور کرنے کے لئے ہوں اور ان میں غلو نہ کیا جائے کہ انہی کو مشغلہ بنا لیا جائے اور ضروری کاموں میں ان سے حرج پڑنے لگے تو ایسے کھیل شرعاً مباح اور دینی ضرورت کی نیت سے ہوں تو ثواب بھی ہیں۔
مذکورہ حدیث میں تین کھیلوں کو ممانعت سے مستثنیٰ کرنا اوپر گزر چکا ہے۔ تیر اندازی، گھوڑے کی سواری، اپنے اہل کے ساتھ ملاعبت۔ اور حضرت ابن عباس سے ایک مرفوع حدیث میں ہےخیر لہو المومن السباحة وخیر لہو المراة المغزل (جامع صغیر برمزا بن عدی باسناد ضعیف) ”یعنی مومن کا اچھا کھیل تیراکی ہے اور عورت کا اچھا کھیل چرخہ ہے۔“
صحیح مسلم اور مسند احمد میں حضرت سلمہ ابن اکوع کی روایت ہے کہ انصار مدینہ میں ایک صاحب دوڑ میں بڑے ماہر تھے، کوئی ان سے سبقت نہ لے جاسکتا تھا، انہوں نے ایک روز اعلان کیا کہ کوئی ہے جو میرے ساتھ دوڑ میں مقابلہ کرے ؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کشتی ٹھہرائی تو آپ نے اس کو کشتی میں پچھاڑ دیا (ابو داؤد فی المراسیل)
حبشہ کے کچھ نوجوان مدینہ طیبہ میں فن سپہ گری کی مشق کرنے کے لئے نیزوں وغیرہ سے کھیلتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا کھیل حضرت عائشہ کو اپنی پشت کے پیچھے کھڑا کر کے دکھلایا اور ان لوگوں کو فرمایا کہ الہوا والعبوا ”یعنی کھیل کود کرتے رہو“ (رواہ البیہقی فی الشعب کذا فی الکنز من باب اللہو) اور بعض روایات میں اس کے ساتھ یہ الفاظ بھی آئے ہیں، فانی اکوہ ان یریٰ فی دینکم غلظة“ یعنی میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ تمہارے دین میں خشکی اور شدت دیکھی جائے“
اسی طرح بعض صحابہ کرام سے منقول ہے کہ جب وہ قرآن و حدیث کے مشاغل میں تھک جاتے تو بعض اوقات عرب کے اشعار یا تاریخی واقعات سے دل بہلاتے تھے۔ (ذکرہ عن ابن عباس فی کف الرعاع)
ایک حدیث میں ارشاد ہےروحوا القلوب ساعةً فساعةً اخرجہ ابو داؤد فی مراسیلہ عن ابن شہاب مرسلاً ”یعنی تم اپنے قلوب کو کبھی آرام دیا کرو“ جس سے قلب و دماغ کی تفریح اور اس کے لئے کچھ وقت نکالنے کا جواز ثابت ہوا۔
شرط ان سب چیزوں میں یہ ہے کہ نیت ان مقاصد صحیحہ کی ہو جو ان کھیلوں میں پائے جاتے ہیں، کھیل برائے کھیل مقصد نہ ہو اور وہ بھی بقدر ضرورت ہو، اس میں توسع اور غلو نہ ہو۔ اور وجہ ان کھیلوں کے جواز کی وہی ہے کہ درحقیقت یہ جب اپنی حد کے اندر ہوں تو لہو کی تعریف میں داخل ہی نہیں۔
بعض کھیل جو صراحةً ممنوع کئے گئے
اس کے ساتھ بعض کھیل ایسے بھی ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ نے خاص طور پر منع فرما دیا ہے، اگرچہ ان میں کچھ فوائد بھی بتلائے جاویں مثلاً شطرنج، چوسر وغیرہ اگر ان کے ساتھ ہار جیت اور مال کا لین دین ہو تو یہ جوا اور قطعی حرام ہیں اور یہ نہ ہو محض دل بہلانے کے لئے کھیلے جائیں، تب بھی حدیث میں ان کو منع فرمایا ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت بریدہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جو شخص نرد شیر یعنی چوسر کھیلتا ہے وہ ایسا ہے جیسے اس نے اپنے ہاتھ خنزیر کے خون میں رنگے ہوں۔ اسی طرح ایک روایت میں شطرنج کھیلنے والے پر لعنت کے الفاظ آئے ہیں۔ (عقیلی فی الضعفاء عن ابی ہریرة کذا فی نصب الرایہ)
اسی طرح کبوتر بازی کو رسول اللہ ﷺ نے ناجائز قرار دیا (ابو داؤد فی المراسیل عن شریح کذا فی الکنز) ان کی ممانعت کی ظاہری وجہ یہ ہے کہ عموماً ان میں مشغولیت ایسی ہوتی ہے کہ آدمی کو ضروری کام یہاں تک کہ نماز اور دوسری عبادت سے بھی غافل کردیتی ہے۔
غناء و مزامیر کے احکام
آیت مذکورہ میں چند صحابہ کرام نے تو لہو الحدیث کی تفسیر گانے بجانے سے کی ہے۔ اور دوسرے حضرات نے اگرچہ تفسیر عام قرار دی ہے، ہر ایسے کھیل کو جو اللہ سے غافل کرے لہو الحدیث فرمایا ہے، مگر ان کے نزدیک بھی گانا بجانا اس میں داخل ہے۔
اور قرآن کریم کی ایک دوسری آیت (آیت) لا یشھدون الزور۔ میں امام ابوحنیفہ اور مجاہد اور محمد بن الخفیہ وغیرہ نے زور کی تفسیر غناء (گانے بجانے) سے کی ہے۔
اور ابو داؤد اور ابن ماجہ نے سنن میں اور ابن حبان نے اپنی کتاب صحیح میں حضرت ابو مالک اشغری سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
”میری امت کے کچھ لوگ شراب کو اس کا نام بدل کر پئیں گے ان کے سامنے معازف و مزامیر کے ساتھ عورتوں کا گانا ہوگا اللہ تعالیٰ ان کو زمین میں خسف کر دے گا اور بعض کی صورتیں مسخ کر کے بندر اور سور بنا دے گا“
اور حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے اور طبلہ وسارنگی کو حرام کیا ہے اور فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ (رواہ الامام احمد و ابوداؤد و ابن حبان)
”حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب مال غنیمت کو شخصی دولت بنا لیا جائے اور جب لوگوں کی امانت کو مال غنیمت سمجھ لیا جائے اور جب زکوٰۃ کو ایک تاوان سمجھا جانے لگے اور جب علم دین کو دنیا طلبی کے لئے سیکھا جانے لگے اور جب مرد اپنی بیوی کی اطاعت اور ماں کی نافرمانی کرنے لگے اور دوست کو اپنے قریب کرے اور باپ کو دور رکھے، اور مسجدوں میں شور و غل ہونے لگے اور قبیلہ کا سردار ان کا فاسق بدکار بن جائے اور جب قوم کا سردار ان میں ارذل بدترین آدمی ہوجائے، اور جب شریر آدمیوں کی عزت ان کے شر کے خوف سے کی جانے لگے، اور جب گانے والی عورتوں اور باجوں گاجوں کا رواج عام ہوجائے، اور جب شرابیں پی جانے لگیں اور اس امت کے آخری لوگ پہلے لوگوں پر لعنت کرنے لگیں، تو اس وقت تم انتظار کرو ایک سرخ آدمی کا اور زلزلہ کا اور زمین خسف ہوجانے اور صورتیں مسخ ہوجانے کا اور قیامت کی ایسی نشانیوں کا جو یکے بعد دیگرے اس طرح آئیں گی جیسے کسی ہار کی لڑی ٹوٹ جائے اور اس کے دانے بیک وقت بکھر جاتے ہیں“
تنبیہ ضروری
اس حدیث کے الفاظ کو بار بار پڑھئے اور دیکھئے کہ اس وقت کی دنیا کا پورا پورا نقشہ ہے، اور وہ گناہ جو مسلمانوں میں عام ہوچکے ہیں اور بڑھتے جا رہے ہیں، ان کی خبر چودہ سو برس پہلے رسول اللہ ﷺ نے دے دی ہے۔ مسلمانوں کو اس پر متنبہ کیا ہے کہ ایسے حالات سے باخبر رہیں، اور گناہوں سے بچنے بچانے کا پورا اہتمام کریں۔ ورنہ جب یہ گناہ عام ہوجائیں گے تو ایسے گناہ کرنے والوں پر آسمانی عذاب نازل ہوں گے، اور پھر قیامت کی آخری علامات سامنے آجائیں گی۔ ان گناہوں میں سے عورتوں کا گانا اور گانے بجانے کے آلات طبلہ سارنگی وغیرہ بھی ہیں، اس جگہ اس روایت کو اسی مناسبت سے نقل کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ اور بہت سی مستند احادیث ہیں جن میں گانے بجانے کو حرام و ناجائز فرمایا ہے اور اس پر وعید شدید ہے۔ ان تمام روایات کو احقر نے اپنے رسالہ کشف الغناء عن وصف الغنا میں لکھ دیا ہے۔ یہ رسالہ بھی بزبان عربی احکام القرآن حزب خامس میں شائع ہوچکا ہے، یہاں ان میں سے چند نقل کی گئی ہیں۔
خوش آوازی کے ساتھ بغیر مزامیر کے مفید اشعار کا پڑھنا ممنوع نہیں
اس کے مقابل بعض روایات سے غنا یعنی گانے کا جواز بھی معلوم ہوتا ہے، یہ روایات بھی رسالہ مذکورہ میں جمع کردی گئی ہیں۔ تطبیق ان دونوں میں اس طرح ہے کہ جو گانا اجنبی عورت کا ہو یا اس کے ساتھ طبلہ سارنگی وغیرہ مزامیر ہوں وہ حرام ہے۔ جیسا کہ مذکورہ الصدر آیات قرآن اور احادیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہوا۔ اور اگر محض خوش آوازی کے ساتھ کچھ اشعار پڑھے جائیں اور پڑھنے والی عورت یا مرد نہ ہوں، اور اشعار کے مضامین بھی فحش یا کسی دوسرے گناہ پر مشتمل نہ ہوں تو جائز ہے۔
بعض صوفیائے کرام سے جو سماع غنا منقول ہے وہ اسی قسم کے جائز غنا پر محمول ہے۔ کیونکہ ان کا اتباع شریعت اور اطاعت رسول اللہ ﷺ آفتاب کی طرح یقینی ہے، ان سے ایسے گناہ کے ارتکاب کا گمان نہیں کیا جاسکتا۔ محققین صوفیائے کرام نے خود اس کی تصریح فرمائی ہے۔ اس معاملہ میں مذاہب اربعہ کے فقہاء اور صوفیائے کرام کے اقوال مذکور الصدر رسالہ میں تفصیل سے جمع کردیئے گئے ہیں، یہاں اسی اختصار پر اکتفا کیا گیا۔ واللہ المستعان۔
Ayahs 31:10–11خلاصہ تفسیر۔
اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو بلا ستون بنایا (چنانچہ) تم ان کو دیکھ رہے ہو اور زمین میں (بھاری بھاری) پہاڑ ڈال رکھے ہیں کہ وہ تم کو لے کر ڈانوا ڈول نہ ہونے لگے اور اس (زمین) میں ہر قسم کے جانور پھیلا رکھے ہیں اور ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس زمین میں ہر طرح کے عمدہ اقسام (نباتات کے) اگائے (اور ان لوگوں سے جو کہ شرک کرتے ہیں کہئے کہ) یہ تو اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیزیں ہیں (سو اگر تم دوسروں کو شریک الوہیت قرار دیتے ہو تو) اب تم لوگ مجھ کو دکھاؤ کہ اس کے سوا جو (معبود تم نے بنا رکھے) ہیں انہوں نے کیا کیا چیزیں پیدا کی ہیں (تاکہ ان کا استحقاق الوہیت ثابت ہو اور اس دلیل کا مقتضیٰ یہ تھا کہ وہ لوگ ہدایت پر آجاتے، مگر انہوں نے ہدایت کو قبول نہیں کیا) بلکہ یہ ظالم لوگ (بدستور) صریح گمراہی میں (مبتلا) ہیں۔
معارف و مسائل
(آیت) خلق السموٰت بغیر عمد ترونہا، اسی مضمون کی ایک آیت سورة رعد کے شروع میں گزر چکی ہے، (آیت) اللہ الذی رفع السموٰت بغیر عمد ترونہا، ترکیب نحوی کے اعتبار سے اس عبارت کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں
ایک یہ کہ ترونہا کو عمد کی صفت قرار دیا جائے اور اس کی ضمیر عمد کی طرف راجع کی جائے تو معنے یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو پیدا کیا اور بغیر ستونوں کے جن کو تم دیکھتے ہو، یعنی اگر ستون ہوتے تو تم ان کو دیکھتے، جب ستون نظر نہیں آتے تو معلوم ہوا کہ یہ آسمان کی عظیم الشان چھت بغیر ستونوں کے بنائی گئی ہے، یہ تفسیر حضرت حسن اور قتادہ سے منقول ہے۔ (ابن کثیر)
دوسری صورت یہ ہے کہ ترونہا کی ضمیر سموات کی طرف راجع ہو اور یہ جملہ مستقل قرار دیا جائے۔ معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو بغیر ستون کے پیدا کیا، جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ اور پہلی ترکیب کی صورت میں ایک معنی یہ بھی کئے جاسکتے ہیں کہ آسمان ستونوں پر قائم ہیں ان کو تم دیکھ نہیں سکتے وہ غیر مرئی ہیں۔ یہ تفسیر حضرت ابن عباس اور عکرمہ اور مجاہد سے منقول ہے۔ (ابن کثیر)
بہر صورت اس آیت نے حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی یہ نشانی بتلائی کہ آسمان کی اتنی وسیع و عریض اور اتنی بلند عظیم الشان چھت کو ایسا بنایا ہے کہ اس میں کوئی عمود اور ستون نہیں دیکھا جاتا ہے۔
ایک سوال و جواب
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آسمان جیسا کہ فلاسفہ کہتے ہیں اور عام طور پر مشہور ہے کہ ایک کرہ یعنی گول چیز ہے، اور ایسے گول کرہ میں وہ جہاں بھی ہو عادةً عمود اور ستون نہیں ہوتے، تو آسمان کی کیا خصوصیت ہے ؟
اس کا جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح قرآن کریم نے اکثر مواقع میں زمین کو فراش فرمایا، جو گول اور کرہ ہونے کے بظاہر منافی ہے۔ مگر اس کی وسعت کی وجہ سے وہ عام نظروں میں ایک سطح کی طرح دیکھی جاتی ہے، اسی طرح تخیل کی بناء پر قرآن کریم نے اس کو فراش فرمایا، اسی طرح آسمان ایک چھت کی طرح نظر آتا ہے جس کے لئے عادةً ستونوں اور عماد کی ضرورت ہوتی ہے، اس عام خیال کے مناسب اس کا بلا ستون ہونا بیان فرمایا گیا ہے۔ اور درحقیقت قدرت کاملہ کے ثبوت کے لئے اتنے بڑے عظیم الشان کرہ کی تخلیق ہی کافی ہے۔ اور بعض مفسرین ابن کثیر وغیرہ کی تحقیق یہ ہے کہ آسمان اور زمین کا مکمل کرہ ہونا قرآن و سنت کی رو سے ثابت نہیں، بلکہ بعض آیات و روایات سے اس کا ایک قبہ کی شکل میں ہونا معلوم ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک صحیح حدیث میں جو ہر روز آفتاب کا تحت العرش پہنچ کر سجدہ کرنا مذکور ہے وہ اسی صورت پر ہوسکتا ہے کہ آسمان مکمل کرہ نہ ہو، اسی صورت میں اس میں فوق و تحت یعنی اوپر نیچے کی جہت متعین ہو سکتی ہے، مکمل کرہ میں کسی جہت و سمت کو اوپر یا نیچے نہیں کہہ سکتے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
Ayah 31:12خلاصہ تفسیر
اور ہم نے لقمان کو دانشمندی (جس کی حقیقت علم مع العمل ہے) عطا فرمائی (اور ساتھ ہی یہ حکم دیا) کہ (سب نعمتوں پر عموماً اور اس نعمت حکمت پر کہ افضل النعم ہے خصوصاً) اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے رہو اور جو شخص شکر کرے گا وہ اپنے ذاتی نفع کے لئے شکر کرتا ہے (یعنی اسی کا نفع ہے کہ اس سے نعمت میں ترقی ہوتی ہے کما قال (آیت) لئن شکرتم لازیدنکم) ، دینی نعمت میں تو ترقی دنیا میں بھی ہوتی ہے اور آخرت میں بھی، دنیا میں تو شکر نعمت سے علم بڑھتا ہے اور توفیق عمل میں اضافہ ہوتا ہے اور آخرت میں ثواب عظیم ملتا ہے، اور دنیوی میں آخرت کی ترقی یعنی ثواب میں اضافہ تو یقینی ہے اور کبھی دنیا میں شکر کرنے سے نعمت بڑھ جاتی ہے) اور جو ناشکری کرے گا تو (اپنا ہی نقصان کرے گا، کیونکہ) اللہ تعالیٰ (تو) بےنیاز (اور سب) خوبیوں والا ہے (یعنی چونکہ وہ اپنی ذات میں کامل ہے جو مدلول ہے حمید کا اس لئے وہ غنی ہے، اس کو کسی کے شکر وثناء کی احتیاج نہیں، کہ اس میں استکمال بالغیر لازم آتا ہے اور چونکہ لقمان موصوف ہیں حکمت یعنی علم و عمل کے ساتھ اس سے مفہوم ہوا کہ انہوں نے تعلیم شکر پر بھی شکر کیا ہوگا پس وہ شاکر بھی تھے اور شاکر ہونے سے ان کی حکمت میں ترقی بھی ہوئی ہوگی، پس وہ اعلیٰ درجہ کے حکیم ہوئے) اور (ایسے حکیم کی تعلیم ضرور قابل عمل ہونی چاہئے سو ان کی تعلیمات ان لوگوں کے سامنے ذکر کیجئے) جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا خدا کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہرانا، بیشک شرک کرنا بڑا بھاری ظلم ہے (ظلم کی حقیقت علماء نے یہ بیان کی ہے کہ کسی چیز کو بےمحل استعمال کیا جائے اور یہ بات شرک میں سب سے زیادہ واضح ہے کہ پیدا کرنے والے کی جگہ بتوں کی پرستش کی جائے) اور (درمیان قصہ کے امر توحید کی تاکید کے لئے حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ) ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق تاکید کی ہے (کہ ان کی اطاعت اور خدمت کرے) کیونکہ انہوں نے اس کے لئے بڑی مشقتیں جھیلی ہیں بالخصوص ماں نے چنانچہ) اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اس کو پیٹ میں رکھا، (کیونکہ جوں جوں حمل بڑھتا جاتا ہے حاملہ کا ضعف بڑھتا جاتا ہے) اور (پھر) دو برس میں اس کا دودھ چھوٹتا ہے (ان دنوں میں بھی وہ ہر طرح کی خدمت کرتی ہے، اسی طرح اپنی حالت کے موافق باپ بھی مشقت اٹھاتا ہے، اس لئے ہم نے اپنے حقوق کے ساتھ ماں باپ کے حقوق ادا کرنے کا حکم فرمایا، چناچہ یہ ارشاد کیا) کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کیا کر (حق تعالیٰ کی شکر گزاری تو عبادت و اطاعت حقیقیہ کے ساتھ اور ماں باپ کی خدمت و ادائے حقوق شرعیہ کے ساتھ کیونکہ) میری ہی طرف (سب کو) لوٹ کر آنا ہے (اس وقت میں اعمال کی جزاء و سزا دوں گا، اس لئے احکام کی بجا آوری ضروری ہے) اور (باوجودیکہ ماں باپ کا اتنا بڑا حق ہے جیسا ابھی معلوم ہوا، لیکن امر توحید ایسا عظیم الشان ہے کہ) اگر تجھ پر وہ دونوں (بھی) اس بات کا زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس (کے شریک الوہیت ہونے) کی تیرے پاس کوئی دلیل (اور سند) نہ ہو (اور ظاہر ہے کہ کوئی چیز بھی ایسی نہیں کہ جس کے استحقاق شرکت پر کوئی دلیل قائم ہو بلکہ عدم استحقاق پر بہت سی دلیلیں قائم ہیں، پس مراد یہ ہوئی کہ اگر وہ کسی چیز کو بھی شریک الوہیت ٹھہرانے کا تجھ پر زور دیں) تو تو ان کا کہنا نہ ماننا اور (ہاں یہ ضرور ہے کہ) دنیا (کے حوائج و معاملات) میں (جیسے ان کے ضروری اخراجات اور خدمت وغیرہ) ان کے ساتھ خوبی کے ساتھ بسر کرنا اور (دین کے بارے میں صرف) اس (ہی) شخص کی راہ پر چلنا جو میری طرف رجوع ہو (یعنی میرے احکام کا معتقد اور عامل ہو) پھر تم سب کو میرے پاس آنا ہے پھر (آنے کے وقت) میں تم کو جتلا دوں گا جو جو کچھ تم کرتے تھے (اس لئے کسی امر میں میرے حکم کے خلاف مت کرو آگے پھر تکمیل ہے نصائح لقمانیہ کی کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو اور نصیحتیں بھی کیں چناچہ توحید و عقائد کے بارے میں یہ بھی نصیحت کی کہ) بیٹا (حق تعالیٰ کا علم اور قدرت اس درجہ ہے کہ) اگر (کسی کا) کوئی عمل (کیسا ہی مخفی ہو، مثلاً فرض کرو کہ وہ) رائی کے دانہ کے برابر (مقدار میں) ہو (اور) پھر (فرض کرو کہ) وہ کسی پتھر کے اندر (چھپا رکھا) ہو (جو کہ ایسا حجاب ہو کہ اس کا رفع ہونا دشوار ہے اور بدون رفع کسی کو اس کے اندر کا علم نہیں ہوتا) یا وہ آسمانوں کے اندر ہو (جو کہ عام خلائق سے مکاناً بہت بعید ہے) یا وہ زمین کے اندر ہو (جہاں خوب ظلمت رہتی ہے، اور یہی اسباب ہیں عام مخلوق کی نظروں سے پوشیدہ رہنے کے، کیونکہ کبھی کوئی چیز چھوٹی اور باریک ہوتی ہے کہ نظر میں نہیں آتی اور کبھی کوئی شدید حجاب حائل ہونے سے کبھی مکان کے بعید ہونے سے کبھی ظلمت سے، لیکن حق تعالیٰ کی ایسی شان ہے کہ اگر یہ اسباب بھی چھیننے کے مجتمع ہوں) تب بھی (قیامت کے روز حساب کے وقت) اس کو اللہ تعالیٰ حاضر کر دے گا (جس سے علم اور قدرت دونوں ثابت ہوں) بیشک اللہ تعالیٰ بڑا باریک بیں (اور) باخبر ہے (اور اعمال کے باب میں یہ نصیحت کی کہ) بیٹا نماز پڑھا کرو (کہ بعد تصیح عقائد کے اعلیٰ درجہ کا عمل ہے) اور (جیسا تصحیح عقائد و اعمال سے اپنی تکمیل کی ہے اسی طرح دوسروں کی تکمیل کی بھی کوشش کرنا چاہئے، پس لوگوں کو) اچھے کاموں کی نصیحت کیا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر اور (اس امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں بالخصوص اور ہر حالت میں بالعموم) تجھ پر جو مصیبت واقع ہو اس پر صبر کیا کر یہ (صبر کرنا) ہمت کے کاموں سے ہے اور (اخلاق و عادات کے باب میں یہ نصیحت کی کہ بیٹا) لوگوں سے اپنا رخ مت پھیر اور زمین پر اترا کر مت چل، بیشک اللہ تعالیٰ کسی تکبر کرنے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتے اور اپنی رفتار میں اعتدال اختیار کر (نہ بہت دوڑ کر چل کہ وقار کے خلاف ہے، نیز گر جانے کا بھی احتمال ہے، اور نہ بہت گن گن کر قدم رکھ کہ وضع متکبرین کی ہے، بلکہ بےتکلف اور متوسط رفتار تواضع و سادگی کی چال اختیار کر، جس کو دوسری آیت میں اس عنوان سے ذکر کیا ہے، (آیت) یمشون علیٰ الارض ھوناً) اور (بولنے میں) اپنی آواز کو پست کر (یعنی بہت غل مت مچا اور یہ مطلب نہیں کہ اتنی پستی کر کہ دوسرا سنے بھی نہیں آگے غل مچانے سے نفرت دلاتے ہیں کہ) بیشک آوازوں میں سے سب سے بری آواز گدھوں کی آواز (ہوتی) ہے (تو آدمی ہو کر گدھوں کی طرح چیخنا اور چلانا کیا مناسب ہے، نیز چیخ چلاؤ سے بعض اوقات دوسروں کو وحشت و اذیت بھی ہوتی ہے)
معارف و مسائل
(آیت) ولقد اتینا لقمٰن الحکمة، حضرت لقمان علیہ السلام، وہب بن منبہ کی روایت کے مطابق حضرت ایوب ؑ کے بھانجے تھے، اور مقاتل نے ان کا خالہ زاد بھائی بتلایا ہے۔ اور تفسیر بیضاوی وغیرہ میں ہے کہ ان کی عمر دراز ہوئی، یہاں تک کہ حضرت داؤد ؑ کا زمانہ پایا۔ یہ بات دوسری روایات سے بھی ثابت ہے کہ لقمان ؑ حضرت داؤد ؑ کے زمانے میں ہوئے ہیں۔
اور تفسیر درمنثور میں حضرت ابن عباس کی روایت یہ ہے کہ لقمان ایک حبشی غلام تھے، نجاری کا کام کرتے تھے (اخرجہ ابن ابی شیبہ و احمد فی الزہد وابن جریر وابن المنذر وغیرہ) اور حضرت جابر بن عبداللہ سے ان کے حالات دریافت کئے گئے تو فرمایا کہ پست قد پست ناک کے حبشی تھے اور مجاہد نے فرمایا کہ حبشی غلام موٹے ہونٹ والے پھٹے ہوئے قدموں والے تھے۔ (ابن کثیر)
ایک سیاہ رنگ حبشی حضرت سعید بن مسیب کے پاس کوئی مسئلہ دریافت کرنے کے لئے حاضر ہوا تو حضرت سعید نے اس کی تسلی کے لئے فرمایا کہ تم اپنے کالے ہونے پر غم نہ کرو، کیونکہ کالے لوگوں میں تین بزرگ ایسے ہیں جو لوگوں میں سب سے بہتر تھے۔ حضرت بلال حبشی اور محجع حضرت عمر بن خطاب کے آزاد کردہ غلام اور حضرت لقمان علیہ السلام۔
لقمان جمہور سلف کے نزدیک نبی نہیں بلکہ ولی اور حکیم تھے
ابن کثیر نے فرمایا کہ جمہور سلف کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ نبی نہیں تھے، صرف حضرت عکرمہ سے ان کا نبی ہونا نقل کیا جاتا ہے، مگر اس کی مسند ضعیف ہے۔ اور امام بغوی نے فرمایا کہ اس پر اتفاق ہے کہ وہ فقیہ اور حکیم تھے نبی نہیں تھے۔ (مظہری)
ابن کثیر نے فرمایا کہ حضرت قتادہ سے ان کے بارے میں ایک عجیب روایت منقول ہے کہ حق تعالیٰ نے حضرت لقمان کو اختیار دیا تھا کہ نبوت لے لو یا حکمت، انہوں نے حکمت کو اختیار کرلیا۔ اور بعض روایات میں ہے کہ ان کو نبوت کا اختیار دیا گیا تھا، انہوں نے عرض کیا کہ اگر اس کے قبول کرنے کا حکم ہے تو میرے سر آنکھوں پر ورنہ مجھے معاف فرمایا جائے۔
اور حضرت قتادہ ہی سے یہ بھی منقول ہے کہ لقمان ؑ سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے حکمت کو نبوت پر کیوں ترجیح دی جبکہ آپ کو دونوں کا اختیار دیا گیا تھا ؟ آپ نے فرمایا کہ نبوت بڑی ذمہ داری کا منصب ہے، اگر وہ مجھے بغیر میرے اختیار کے دے دیا جاتا تو حق تعالیٰ خود اس کی کفالت فرماتے کہ میں اس کے فرائض ادا کرسکوں اور اگر میں اپنے اختیار سے اس کو طلب کرتا تو ذمہ داری مجھ پر ہوتی۔ (ابن کثیر)
اور جبکہ لقمان ؑ کا نبی نہ ہونا جمہور کے نزدیک مسلم ہے، تو پھر ان کو وہ حکم جو قرآن میں مذکور ہے ان اشکرلی یہ بذریعہ الہام ہوسکتا ہے جو اولیاء اللہ کو حاصل ہوتا ہے۔
حضرت لقمان ؑ حضرت داؤد ؑ سے پہلے شرعی مسائل میں لوگوں کو فتویٰ دیا کرتے تھے، جب داؤد ؑ کو نبوت عطا ہوئی تو فتویٰ دینا چھوڑ دیا کہ اب میری ضرورت نہیں رہی، بعض روایات میں ہے کہ بنی اسرائیل کے قاضی تھے۔ حضرت لقمان ؑ سے کلمات حکمت بہت منقول ہیں۔ وہب بن منبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت لقمان ؑ کی حکمت کے دس ہزار سے زیادہ ابواب پڑھے ہیں۔ (قرطبی)
حضرت لقمان ایک روز ایک بڑی مجلس میں لوگوں کو حکمت کی باتیں سنا رہے تھے، ایک شخص آیا اور اس نے سوال کیا کہ تم وہی ہو جو میرے ساتھ فلاں جنگل میں بکریاں چرایا کرتے تھے ؟ لقمان ؑ نے فرمایا کہ ہاں میں وہی ہوں، اس شخص نے پوچھا کہ پھر آپ کو یہ مقام کیسے حاصل ہوا کہ خلق خدا آپ کی تعظیم کرتی ہے اور آپ کے کلمات سننے کے لئے دور دور سے جمع ہوتی ہے۔ لقمان ؑ نے فرمایا کہ اس کا سبب میرے دو کام ہیں ایک ہمیشہ سچ بولنا، دوسرے فضول باتوں سے اجتناب کرنا۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت لقمان نے فرمایا کہ چند کام ایسے ہیں جنہوں نے مجھے اس درجہ پر پہنچایا، اگر تم اختیار کرلو تو تمہیں بھی یہی درجہ اور مقام حاصل ہوجائے گا۔ وہ کام یہ ہیں اپنی نگاہ کو پست رکھنا اور زبان کو بند رکھنا، حلال روزی پر قناعت کرنا، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنا، بات میں سچائی پر قائم رہنا، عہد کو پورا کرنا، مہمان کا اکرام کرنا، پڑوسی کی حفاظت کرنا اور فضول کام اور کلام کو چھوڑ دینا۔ (ابن کثیر)
حکمت جو لقمان کو دی گئی اس سے کیا مراد ہے ؟
لفظ حکمت قرآن کریم میں متعدد معانی کے لئے استعمال ہوا ہے۔ علم، عقل، حلم و بردباری، نبوت، اصابت رائے۔
ابوحیان نے فرمایا کہ حکمت سے مراد وہ کلام ہے جس سے لوگ نصیحت حاصل کریں اور ان کے دلوں میں موثر ہو اور جس کو لوگ محفوظ کر کے دوسروں تک پہنچائیں۔ اور ابن عباس نے فرمایا کہ حکمت سے مراد عقل و فہم اور ذہانت ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ علم کے مطابق عمل کرنا حکمت ہے اور درحقیقت ان میں کوئی تضاد نہیں، یہ سبھی چیزیں حکمت میں داخل ہیں۔ اوپر خلاصہ تفسیر میں حکمت کا ترجمہ دانشمندی سے اور اس کی تفسیر علم باعمل سے کی گئی ہے یہ بہت جامع اور واضح ہے۔
آیت مذکورہ میں حضرت لقمان ؑ کو حکمت عطا کرنے کا ذکر فرما کر آگے فرمایا ہے ان اشکرلی، اس میں ایک احتمال تو یہ ہے کہ یہاں قلنا مخدوف مانا جائے۔ مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے لقمان کو حکمت دی اور یہ حکم دیا کہ میرا شکر ادا کیا کرو، اور بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ان اشکرلی خود حکمت کی تفسیر ہے، یعنی وہ حکمت جو لقمان کو دی گئی یہ تھی کہ ہم نے اس کو شکر کا حکم دیا انہوں نے تعمیل کی۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر گزار ہونا سب سے بڑی حکمت ہے۔ اس کے بعد یہ جتلا دیا کہ یہ شکر گزاری کا حکم ہم نے کچھ اپنے فائدہ کے لئے نہیں دیا ہمیں کسی شکر کی حاجت نہیں، بلکہ یہ خود انہی کے فائدے کے لئے دیا ہے۔ کیونکہ ہمارا ضابطہ یہ ہے کہ جو شخص ہماری نعمت کا شکر ادا کرتا ہے ہم اس کی نعمت میں اور زیادتی کردیتے ہیں۔
اس کے بعد لقمان ؑ کے کچھ کلمات کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائے تھے، وہ کلمات حکمت قرآن کریم نے اس لئے نقل فرمائے کہ دوسرے لوگ بھی ان سے فائدہ اٹھائیں۔
Ayah 31:13ان کلمات حکمت میں سب سے اول تو عقائد کی درستگی ہے، اور ان میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو سارے عالم کا خالق ومالک بلاشرکت غیرے یقین کرے، اس کے ساتھ کسی غیر اللہ کو شریک عبادت نہ کرے کہ اس دنیا میں اس سے بڑا بھاری ظلم کوئی نہیں ہوسکتا کہ خدا تعالیٰ کسی مخلوق کو خالق کے برابر ٹھہرائے، اس لئے فرمایا یبنی لا تشرک باللہ ان الشرک الظلم عظیم، آگے حضرت لقمان کی دوسری نصائح اور کلمات حکمت آئے ہیں، جو اپنے بیٹے کو مخاطب کر کے فرمائے تھے۔ درمیان میں حق تعالیٰ نے شرک کے ظلم عظیم ہونے اور کسی حال میں اس کے پاس نہ جانے کی ہدایات کے لئے ایک اور حکم ارشاد فرمایا
والدین کی شکر گزاری اور اطاعت فرض ہے، مگر حکم الٰہی کے خلاف کسی کی اطاعت جائز نہیں
کہ اگرچہ ہم نے اولاد کو اپنے ماں باپ کی اطاعت اور شکرگزاری کی بڑی تاکید کی ہے، اور اپنی شکرگزاری و اطاعت کے ساتھ ساتھ والدین کی شکرگزاری اور اطاعت کا حکم دیا ہے، لیکن شرک ایسا ظلم عظلم اور سنگین جرم ہے کہ وہ ماں باپ کے کہنے سے اور مجبور کرنے سے بھی کسی کے لئے جائز نہیں ہوتا، اگر کسی کو اس کے والدین اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دینے پر مجبور کرنے لگیں تو اس معاملہ میں والدین کا کہنا بھی ماننا جائز نہیں۔
اور یہاں جبکہ والدین کے حقوق اور ان کی شکرگزاری کا حکم دیا گیا تو اس کی حکمت یہ بتلا دی کہ اس کی ماں نے اس کے وجود وبقاء میں بڑی محنت برداشت کی ہے کہ نو مہینے تو اس کو اپنے شکم میں رکھ کر اس کی حفاظت کی اور اس کی وجہ سے جو روز بروز اس کو ضعف پر ضعف اور تکلیف پر تکلیف بڑھتی گئی اس کو برداشت کیا، پھر اس کے پیدا ہونے کے بعد بھی دو سال تک اس کو دودھ پلانے کی زحمت برداشت کی، جس میں ماں کو خاصی محنت بھی شب و روز اٹھانی پڑتی ہے، اور اس کا ضعف بھی اس سے بڑھتا ہے، اور چونکہ بچے کی پرورش میں محنت و مشقت زیادہ ماں اٹھاتی ہے، اس لئے شریعت میں ماں کا حق باپ سے بھی مقدم رکھا گیا ہے،
Ayah 31:14(آیت) ووصینا الانسان بوالدیہ حملتہ امہ وھناً علیٰ وھن وفصلہ فی عامین۔ کا یہی مطلب ہے اور اس کے بعد (آیت) وان جاھداک میں یہ بتلایا ہے کہ غیر اللہ کو اللہ کے ساتھ شریک کرنے کے معاملہ میں والدین کی اطاعت بھی حرام ہے۔
اسلام کا بےنظیر قانون عدل
اور ایسی صورت میں کہ ماں باپ اس کو شرک و کفر پر مجبور کریں اور اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہو کہ ان کی بات مانو، تو طبعی طور پر انسان حد پر قائم نہیں رہتا۔ اس پر عمل کرنے میں اس کا امکان تھا کہ بیٹا والدین کے ساتھ بدکلامی یا بدخوئی سے پیش آئے ان کی توہین کرے۔ اسلام ایک قانون عدل ہے، ہر چیز کی ایک حد ہے، اس لئے شرک میں والدین کی اطاعت نہ کرنے کے حکم کے ساتھ ہی یہ حکم بھی دیدیا۔
Ayah 31:15(آیت) صاحبھما فی الدنیا معروفاً ، یعنی دین میں تو تم ان کا کہنا نہ مانو مگر دنیا کے کاموں میں مثلاً ان کی جسمانی خدمت یا مالی اخراجات وغیرہ اس میں کمی نہ ہونے دو ، بلکہ دنیوی معاملات میں اس کے عام دستور کے مطابق معاملہ کرو ان کی بےادبی نہ کرو، ان کی بات کا جواب ایسے نہ دو جس سے بلاضرورت دل آزاری ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے شرک و کفر کے معاملہ میں نہ ماننے سے جو ان کی دل آزاری ہوگی وہ تو مجبوری کے لئے برداشت کرو، مگر ضرورت کو ضرورت کی حد میں رکھو، دوسرے معاملات میں ان کی دل آزاری سے پرہیز کرتے رہو۔
فائدہ
اس آیت میں جو بچے کے دودھ چھڑانے کی مدت دو سال بتلائی گئی ہے، یہ عام عادت کے مطابق ہے۔ اس میں اس کی کوئی تشریح و تصریح نہیں کہ اس سے زیادہ مدت تک دودھ پلایا جائے تو اس کا کیا حکم ہے۔ اس مسئلہ کی تشریح سورة احقاف کی (آیت) وحملہ وفصلہ ثلثون شہراً۔ کے تحت میں انشاء اللہ تعالیٰ آئے گی۔
Ayah 31:16دوسری وصیت لقمانی متعلقہ عقائد
یہ ہے کہ اس کا اعتقاد جازم رکھا جائے کہ آسمان و زمین اور ان کے اندر جو کچھ ہے اس کا ایک ایک ذرہ پر اللہ تعالیٰ کا علم بھی محیط اور وسیع ہے اور سب پر اس کی قدرت بھی کامل ہے۔ کوئی چیز کتنی ہی چھوٹی سے چھوٹی ہو جو عام نظروں میں نہ آسکتی ہو اس طرح کوئی چیز کتنی ہی دور دراز پر ہو اس طرح کوئی چیز کتنے ہی اندھیروں اور پردوں میں ہو اللہ تعالیٰ کے علم و نظر سے نہیں چھپ سکتی، اور وہ جس کو جب چاہیں جہاں چاہیں حاضر کرسکتے ہیں۔ (آیت) یبنی انہا ان تک مثقال حبة من خردل الایة کا یہی مطلب ہے۔ اور حق تعالیٰ کے علم وقدرت کا ہر چیز پر محیط ہونا خود بھی اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، اور عقیدہ توحید کی بہت بڑی دلیل ہے۔
Ayah 31:17تیسری وصیت لقمانی متعلقہ اصلاح عمل
اعمال واجبہ تو بہت ہیں مگر ان سب میں سب سے بڑا اور اہم عمل نماز ہے، اور خود اہم ہونے کے ساتھ وہ دوسرے اعمال کی درستی کا ذریعہ بھی ہے۔ جیسا کہ نماز کے بارے میں ارشاد ربانی ہے۔ (آیت) ان الصلوٰة تنھی عن الفحشاء والمنکر، اس لئے اعمال صالحہ واجبہ میں سے نماز کے ذکر پر اکتفا فرمایا یبنی اقیم الصلوٰة، یعنی اے میرے بیٹے نماز کو قائم کرو۔ اور جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کہ اقامت صلوٰة کا مفہوم صرف نماز پڑھ لینا نہیں بلکہ اس کے تمام ارکان و آداب کو پوری طرح بجا لانا، اس کے اوقات کی پابندی کرنا اور اس پر مداومت کرنا سب اقامت صلوٰة کے مفہوم میں داخل ہیں۔
چوتھی وصیت لقمانی متعلقہ اصلاح خلق
اسلام ایک اجتماعی دین ہے فرد کی اصلاح کے ساتھ جماعت کی اصلاح اس کے نظام کا اہم جزو ہے۔ اس لئے نماز جیسے اہم فریضہ کے ساتھ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ذکر فرمایا گیا کہ لوگوں کو نیک کاموں کی دعوت دو اور برے کاموں سے روکو، وامر بالمعروف وانہ عن المنکر یہ دو فریضے ہیں ایک اپنی اصلاح اور دوسرا عام مخلوق کی اصلاح۔ دونوں ایسے ہیں کہ دونوں کی پابندی میں خاصی مشقت و محنت برداشت کرنا پڑتی ہے۔ اس پر ثابت قدم رہنا آسان نہیں، خصوصاً اصلاح خلق کے لئے امر بالمعروف کی خدمت کا صلہ دنیا میں ہمیشہ عداوتوں اور مخالفتوں سے ملا کرتا ہے۔ اس لئے وصیت کے ساتھ ہی یہ وصیت بھی فرمائی کہ (آیت) واصبر علیٰ ما اصابک ان ذلک من عزم الامور، یعنی ان کاموں میں تمہیں جو کچھ تکلیف پیش آئے اس پر صبر وثبات سے کام لو۔
Ayah 31:18پانچویں وصیت لقمانی متعلقہ آداب معاشرت
(آیت) ولا تصعر خدک للناس، لاتصعر، صعر سے مشتق ہے جو اونٹ کی ایک بیماری ہے جس سے اس کی گردن مڑ جاتی ہے، جیسے انسانوں میں لقوہ معروف بیماری ہے جس سے چہرہ ٹیڑھا ہوجاتا ہے، مراد اس سے رخ پھیرلینا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی ملاقات اور گفتگو میں ان سے منہ پھیر کر گفتگو نہ کرو جو ان سے اعراض کرنے اور تکبر کرنے کی علامت ہے اور اخلاق شریفانہ کے خلاف ہے۔
(آیت) ولا تمش فی الارض مرحاً ، مرح اکڑ کر، اترا کر چلنا ہے۔ معنی یہ ہیں کہ زمین کو اللہ تعالیٰ نے سارے عناصر سے پست افتادہ بنایا ہے تم اسی سے پیدا ہوئے اسی پر چلتے پھرتے ہو اپنی حقیقت کو پہچانو اترا کر نہ چلو جو متکبرین کا طریقہ ہے۔ اسی لئے اس کے بعد فرمایا (آیت) ان اللہ لا یحب کل مختال فخور، ”یعنی اللہ نہیں پسند کرتا کسی متکبر فخر کرنے والے کو“
Ayah 31:19(آیت) واقصد فی مشیک، یعنی اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو، نہ بہت دوڑ بھاگ کر چلو کہ وہ وقار کے خلاف ہے۔ حدیث میں ہے کہ چلنے میں بہت جلدی کرنا مومن کی رونق ضائع کردیتا ہے۔ (جامع صغیر عن ابی ہریرہ) اور اس طرح چلنے میں خود اپنے آپ کو یا کسی دوسرے کو تکلیف بھی پہنچنے کا خطرہ رہتا ہے، اور نہ بہت آہستہ چلو، جو یا تو ان تکبر اور تصنع کرنے والوں کی عادت ہے جو لوگوں پر اپنا امتیاز جتانا چاہتے ہیں، یا عورتوں کی عادت ہے جو شرم وحیا کی وجہ سے تیز نہیں چلتیں، یا پھر بیماروں کی عادت ہے جو اس پر مجبور ہیں۔ پہلی صورت حرام اور دوسری بھی اگر عورتوں کی مشابہت پیدا کرنے کے قصد سے ہو تو ناجائز ہے اور یہ قصد نہ ہو تو پھر مردوں کے لئے ایک عیب ہے۔ اور تیسری صورت میں اللہ کی ناشکری ہے، کہ تندرستی کے باوجود بیماروں کی ہئیت بنائے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ صحابہ کرام کو یہود کی طرح دوڑنے سے بھی منع کیا جاتا تھا اور نصاریٰ کی طرح بہت آہستہ چلنے سے بھی۔ اور حکم یہ تھا کہ ان دونوں چالوں کی درمیانی چال اختیار کرو۔
حضرت عائشہ نے کسی شخص کو بہت آہستہ چلتے دیکھا جیسے ابھی مر جائے گا تو لوگوں سے پوچھا کہ یہ ایسے کیوں چلتا ہے ؟ لوگوں نے بتلایا کہ یہ قراء میں سے ہے۔ قراء قاری کی جمع ہے، اس زمانے میں قاری اس کو بھی کہا جاتا تھا جو تلاوت قرآن کی صحت و آداب کے ساتھ قرآن کا عالم بھی ہو۔ مطلب یہ تھا کہ یہ کوئی بڑا قاری عالم ہے، اس لئے ایسا چلتا ہے۔ اس پر حضرت عائشہ نے فرمایا کہ عمر بن خطاب اس سے زیادہ قاری تھے، مگر ان کی عادت یہ تھی کہ جب چلتے تو تیز چلتے تھے (مراد تیزی نہیں جس کی ممانعت کی گئی ہے بلکہ اس کے بالمقابل تیزی ہے) اور جب وہ کلام کرتے تھے تو اس طرح کہ لوگ اچھی طرح سن لیں (ایسی پست آواز نہ ہوتی تھی کہ سننے والوں کو پوچھنا پڑے کہ کیا فرمایا)۔
و اغضض من صوتک، ”یعنی آواز کو پست کرو“ مراد پست کرنے سے یہ ہے کہ ضرورت سے زیادہ بلند آواز نہ نکالو، اور شور نہ کرو۔ جیسا کہ ابھی حضرت فاروق اعظم کے متعلق گزرا کہ کلام ایسا کرتے تھے کہ حاضرین سن لیں، انہیں سننے میں تکلیف نہ ہو۔
اس کے بعد فرمایا (آیت) ان انکرا الاصوات تصوف الحمیر، ”یعنی چوپاؤں میں سب سے زیادہ مکروہ آواز گدھے کی ہے جو بہت شور کرتا ہے۔“
یہاں آداب معاشرت میں چار چیزیں ذکر کی گئی ہیںاول لوگوں سے گفتگو اور ملاقات میں متکبرانہ انداز سے رخ پھیر کر بات کرنے کی ممانعت، دوسرے زمین پر اترا کر چلنے کی ممانعت، تیسرے درمیانی چال چلنے کی ہدایت، چوتھے بہت زور سے شور مچا کر بولنے کی ممانعت، حضرت رسول اللہ ﷺ کے عادات و شمائل میں یہ سب چیزیں جمع تھیں۔
شمائل ترمذی میں حضرت حسین فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد علی مرتضیٰ سے دریافت کیا کہ آنحضرت ﷺ جب لوگوں کے ساتھ بیٹھتے تھے تو آپس میں آپ کا کیا طرز ہوتا تھا ؟ انہوں نے فرمایا
”کہ رسول اکرم ﷺ ہمیشہ خوش و خرم معلوم ہوتے تھے، آپ کے اخلاق میں نرمی اور برتاؤ میں سہولت مندی تھی، آپ کی طبیعت سخت نہ تھی، بات بھی درشت نہ تھی، آپ نہ شور مچانے والے تھے نہ فحش گو تھے، نہ کسی کو عیب لگاتے تھے، نہ بخل کرتے تھے، جو چیز دل کو نہ بھاتی اس کی جانب سے غفلت برتتے تھے (مگر) دوسرے کو اس کی طرف سے ناامید بھی نہ کرتے تھے، (اگر حلال ہو اور اس کی رغبت ہو) اور جو چیز اپنی مرغوب نہ ہو دوسرے کے حق میں اس کی کاٹ نہ کرتے تھے (بلکہ خاموشی اختیار فرماتے تھے) تین چیزیں آپ نے بالکل چھوڑ رکھی تھیں، (1) جھگڑنا (2) تکبر کرنا (3) جو چیز کام کی نہ ہو اس میں مشغول ہونا۔“