Ayahs 31:20–26خلاصہ تفسیر
کیا تم لوگوں کو (مشاہدہ دلائل سے) یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کو (بواسطہ یا بلاواسطہ) تمہارے کام میں لگا رکھا ہے جو کچھ آسمانوں میں (موجود) ہیں اور جو کچھ زمین میں (موجود) ہیں اور اس نے تم پر اپنی نعمتیں ظاہری اور باطنی پوری کر رکھی ہیں (ظاہری وہ کہ آنکھ کان وغیرہ سے معلوم ہوں اور باطنی وہ جو کہ عقل سے سمجھی جائیں، اور مراد نعمتوں سے وہ نعمتیں ہیں جو تسخیر سموات و ارض پر مرتب ہوتی ہیں پس اس سے سب مخاطبین کا مشرف باسلام ہونا لازم نہیں ہوتا) اور باوجودیکہ (اس دلیل سے توحید ثابت ہوتی ہے مگر) بعضے آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں (یعنی اس کی توحید میں) بدون واقفیت (یعنی علم ضروری) اور بدون دلیل (یعنی علم استدلال عقلی) اور بدون کسی روشن کتاب (یعنی علم استدلال نقلی) کے جھگڑا کرتے ہیں اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کا اتباع کرو جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے (یعنی حق کو ثابت کرنے والے دلائل میں غور کر کے ان کا اتباع کرو) تو (جواب میں) کہتے ہیں کہ (ہم اس کا اتباع) نہیں (کرتے) ہم (تو) اسی کا اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا ہے، (آگے ان پر رد ہے کہ) کیا اگر شیطان ان کے بڑوں کو عذاب دوزخ کی طرف (یعنی گمراہی کی طرف جو کہ سبب ہے عذاب دوزخ کا) بلاتا رہا ہو تب بھی (انہی کا اتباع کریں گے، مطلب یہ کہ ایسے معاند ہیں کہ باوجود اس کے کہ ان کی دلیل کی طرف بلایا جاتا ہے مگر پھر بھی بلا دلیل بلکہ خلاف دلیل محض گمراہ باپ دادا کی راہ پر چلتے ہیں یہ حالت تو اہل ضلالت کی ہوئی) اور جو شخص (حق کا اتباع کر کے) اپنا رخ اللہ کی طرف جھکا دے (یعنی فرمانبرداری اختیار کرے عقائد میں بھی اعمال میں بھی، مراد اسلام و توحید ہے) اور (اس کے ساتھ) وہ مخلص بھی ہو (یعنی محض ظاہری اسلام نہ ہو) تو اس نے بڑا مضبوط حلقہ تھام لیا (یعنی وہ اس شخص کے مشابہ ہوگیا جو کہ کسی مضبوط رسی کا حلقہ ہاتھ میں تھام کر گرنے سے مامون رہتا ہے، اسی طرح یہ شخص ہلاکت و خسران سے محفوظ ہوگیا) اور آخر سب کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف پہنچے گا (پس یہ اعمال یعنی اتباع باطل و اتباع حق بھی اسی کے حضور میں پیش ہوں گے، پس وہ ہر ایک کو مناسب جزاء وسزا دے گا) اور جو شخص (حق کو ثابت کرنے والے دلائل کے باوجود) کفر کرے سو آپ کے لئے اس کا کفر باعث غم نہ ہونا چاہئے، (یعنی آپ غم نہ کریں) ان سب کو ہمارے ہی پاس لوٹنا ہے سو ہم ان سب کو جتلا دیں گے جو جو کچھ وہ (دنیا میں) کیا کرتے تھے (کیونکہ) اللہ تعالیٰ کو (تو) دلوں کی باتیں (تک) خوب معلوم ہیں (تو ظاہری اعمال کا معاملہ ظاہر ہے، پس ہم سے کوئی امر مخفی نہیں سب جتلا دیں گے اور مناسب سزا دیں گے، اس لئے آپ کچھ غم نہ کریں اور یہ لوگ اگر محض چند روزہ عیش پر پھول رہے ہیں تو ان کی بڑی غلطی ہے، کیونکہ یہ دائمی نہیں بلکہ ہم ان کو چند روزہ عیش دیئے ہوئے ہیں پھر ان کو کشاں کشاں ایک سخت عذاب کی طرف لے آویں گے (پس اس پر ناز کرنا جہالت ہے) اور (ہم جس توحید کی طرف ان کو بلا رہے ہیں اس کے مقدمات کو خود یہ لوگ بھی تسلیم کرتے ہیں، مگر اس سے صحیح نتیجہ تک پہنچنے کا کام نہیں لیتے چنانچہ) اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو ضرور یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے (اس پر) آپ کہئے کہ الحمد للہ (جو مقدمہ مہتم بالشان تھا وہ تو تمہارے اعتراف سے ثابت ہوا اور دوسرا مقدمہ نہایت ہی ظاہر ہے کہ جو خود مخلوق و مصنوع ہو وہ مستحق عبادت نہیں پس مطلوب ثابت ہوگیا، مگر یہ لوگ مطلوب کو نہیں مانتے) بلکہ ان میں اکثر (تو مجموعہ مقدمات کو بھی) نہیں جانتے (چنانچہ دوسرے مقدمہ جلیہ کی طرف بھی توجہ نہیں کرتے کہ معبود ہونا صرف خالق کا حق ہے اور اللہ کی وہ شان ہے کہ) جو کچھ آسمان و زمین میں موجود ہے سب اللہ ہی کا (مملوک) ہے (پس سلطنت تو ان کی ایسی) اور بیشک اللہ تعالیٰ (خود اپنی ذات میں بھی) بےنیاز (اور) سب خوبیوں والا ہے (پس سزا دار الوہیت وہی ہے) اور (اس کی خوبیاں اس کثرت سے ہیں کہ) جتنے درخت زمین بھر میں ہیں اگر وہ سب قلم بن جائیں (یعنی متعارف قلم کے برابر ان کے اجزاء کے قلم بنا لئے جائیں اور ظاہر ہے کہ اس طرح ایک ایک درخت میں ہزاروں قلم تیار ہوں) اور یہ جو سمندر ہیں اس کے علاوہ سات سمندر (روشنائی کی جگہ) اس میں اور شامل ہوجائیں (اور پھر ان قلموں اور اس روشنائی سے حق تعالیٰ کے کمالات لکھنا شروع کریں) تو (سب قلم روشنائی ختم ہوجائیں اور) اللہ کی باتیں (یعنی وہ کلمات جن سے اللہ تعالیٰ کے کمالات کی حکایت ہوتی ہو) ختم نہ ہوں، بیشک اللہ تعالیٰ زبردست حکمت والا ہے (کہ وہ قدرت میں بھی کامل ہے اور علم میں بھی، اور یہ دونوں صفتیں چونکہ تمام صفات و افعال سے تعلق رکھتی ہیں، شاید اس لئے بعد عموم کے ان کو خصوصاً بیان فرما دیا اور اس کمال صنف قدرت کی ایک فرع عالم آخرت بھی ہے، جس کو بدفہم دشوار سمجھ رہے ہیں، حالانکہ وہ ایسا قادر ہے کہ) تم سب کا (پہلی بار) پیدا کرنا اور (دوسری بار) زندہ کرنا (اس کے نزدیک) بس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا (پیدا کرنا اور زندہ کرنا۔ گو یہاں مقصود قرینہ مقام سے بعث کا ذکر فرمانا ہے، لیکن ذکر خلق سے استدلال اور قوی ہوگیا ہے) بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا اور سب کچھ دیکھتا ہے، (پس جو لوگ باوجود ان دلائل کے قیامت کا انکار کر رہے ہیں اور اس جرأت پر فسق و فجور کرتے ہیں ان سب کو سن رہا ہے دیکھ رہا ہے ان کو سزا دے گا، آگے پھر توحید کا بیان ہے، کہ) اے مخاطب کیا تجھ کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ رات (کے اجزاء) کو دن میں اور دن (کے اجزاء) کو رات میں داخل کردیتا ہے، اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے کہ ہر ایک مقررہ وقت تک (یعنی قیامت تک) چلتا رہے گا اور (کیا تجھ کو) یہ (معلوم نہیں) کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب عملوں کی پوری خبر رکھتا ہے (پس اس کمال علمی و عقلی کا مقتضٰی یہ ہے کہ شرک چھوڑ دیا جائے اور اوپر جو ان افعال مذکورہ کا اختصاص حق تعالیٰ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے) یہ (اختصاص) اس سبب سے ہے کہ اللہ ہی ہستی میں کامل (اور واجب الوجود) ہے اور جن چیزوں کی اللہ کے سوا یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں بلکہ ہی لچر ہیں اور اللہ ہی عالی شان اور (سب سے) بڑا ہے (اس لئے یہ سب تصرفات اسی کے لئے مختص ہیں، البتہ اگر دوسرے موجودات باطل اور فانی اور ممکن نہ ہوتے، بلکہ نعوذ باللہ کوئی اور بھی واجب الوجود ہوتا تو پھر یہ تصرفات حق تعالیٰ کے ساتھ مختص نہ ہوتے، چناچہ ظاہر ہے)۔
اے مخاطب کیا تجھ کو (توحید کی) یہ (دلیل) معلوم نہیں کہ اللہ ہی کے فضل سے کشتی دریا میں چلتی ہے، تاکہ تم کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھلا دے (چنانچہ ہر ممکن کا وجود اپنے پیدا کرنے والے کے وجود کی دلیل ہے، اسی طور پر) اس میں (بھی قدرت کی) نشانیاں ہیں ہر ایسے شخص کے لئے جو صابر و شاکر ہو (مراد اس سے مومن ہے کہ صبر و شکر میں کامل ہونا اسی کی صفت ہے، نیز صبر و شکر محرک ہے تذکر و تدبر عالم کو اور استدلال کے لئے تذکر و تفکر ضروری ہے، اسی لئے یہ دونوں وصف یہاں مناسب ہوئے بالخصوص کشتی کی حالت کے اعتبار سے کہ موجوں کا اٹھنا محل صبر ہے، اور بسلامت کنارہ پر جا لگنا محل شکر ہے، پس جو لوگ ان سب واقعات میں فکر کرتے رہتے ہیں استدلال کی توفیق انہی کو ہوتی ہے) اور (جیسا اوپر آیت ولئن سالتھہم میں مقدمات دلیل کا اعتراف ان کفار کی طرف سے ثابت ہے، بعض اوقات خود نتیجہ دلیل یعنی توحید کا بھی اعتراف کرتے ہیں جس سے توحید خوب ہی واضح ہوگئی چنانچہ) جب ان لوگوں کو موجیں سائبانوں (یعنی بادلوں) کی طرح (محیط ہو کر) گھیر لیتی ہیں تو وہ خالص اعتقاد کر کے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں، پھر جب ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے، سو بعضے تو ان میں اعتدال پر رہتے ہیں (یعنی کجی سڑک کو چھوڑ کر توحید کو جو کہ اعدل الطرق ہے اختیار کرلیتے ہیں) اور (بعضے پھر ہماری آیتوں کے منکر ہوجاتے ہیں اور) ہماری آیتوں کے بس وہی لوگ منکر ہوتے ہیں جو بدعہد اور ناشکرے ہیں (کہ کشتی میں جو عہد توحید کا کیا تھا اس کو توڑ دیا اور خشکی میں آنے کا مقتضی تھا شکر کرنا اس کو چھوڑ دیا)۔
معارف و مسائل
شروع سورة میں کفار و مشرکین کو اس پر تنبیہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط اور قدرت مطلقہ کے مظاہر دیکھنے کے باوجود یہ لوگ اپنے کفر و شرک پر مصر ہیں، اور ان کے بالمقابل اطاعت شعار مومنین کی مدح اور ان کے انجام خیر کا ذکر تھا۔ درمیان میں حضرت لقمان ؑ کی وصایا کا ذکر بھی ایک حیثیت سے انہی مضامین کی تکمیل تھی۔ آیات مذکورہ میں حق تعالیٰ کے علم وقدرت کے محیط ہونے اور مخلوق پر اس کے انعامات و احسانات کا ذکر کر کے پھر توحید کی طرف دعوت ہے۔
سخرلکم ما فی السموٰت وما فی الارض، یعنی مسخر کردیا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ان تمام چیزوں کو جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں۔ مسخر کرنے کے مشہور معنی کسی چیز کو کسی کے تابع فرمان بنا دینے کے ہیں۔ یہاں اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اول تو زمین کی سب چیزیں بھی انسان کے تابع فرمان نہیں بلکہ بہت سی چیزیں اس کے مزاج کے خلاف کام کرتی ہیں۔ خصوصاً جو چیزیں آسمانوں میں ہیں ان میں تو انسان کے تابع فرمان ہونے کا کوئی احتمال ہی نہیں۔ جواب یہ ہے کہ دراصل تسخیر کے معنی کسی چیز کو زبردستی کسی کام میں لگا دینا اور اس پر مجبور کردینا ہے۔ آسمان و زمین کی سب مخلوقات کو انسان کے لئے مسخر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام مخلوقات کو انسان کی خدمت اور نفع رسانی میں لگا دیا۔ ان میں بہت سی چیزوں کو تو اس طرح خدمت میں لگایا کہ ان کو انسان کا تابع فرمان بھی بنادیا وہ جس وقت جس طرح چاہے ان کو استعمال کرتا ہے۔ بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ ان کو انسان کے کام میں تو لگا دیا گیا ہے کہ وہ انسان کی خدمت میں لگی ہوتی ہیں، مگر بتقاضائے حکمت ربانی ان کو انسان کے تابع نہیں بنایا گیا، جیسا کہ آسمانی مخلوق اور سیارات اور برق و باراں وغیرہ، کہ ان کو انسان کے حکم کا تابع بنادیا جاتا تو انسانوں کی طبائع اور مزاجوں اور حالات کے اختلافات کا ان پر اثر پڑتا۔ ایک انسان چاہتا کہ آفتاب جلدی طلوع ہوجائے دوسرے کی ضرورت اس پر موقوف ہوتی کہ اس میں دیر لگے، ایک شخص بارش مانگتا دوسرا سفر میں ہے کھلے میدان میں ہے وہ چاہتا کہ بارش نہ ہو، تو یہ متضاد تقاضے آسمانی کائنات کے عمل میں تضاد اور خلل پیدا کرتے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان سب چیزوں کو انسان کی خدمت میں لگا دیا مگر اس کا تابع حکم نہیں بنایا، یہ بھی ایک قسم کی تسخیر ہی ہے۔ واللہ اعلم۔
(آیت) واسبغ علیکم نعمہ ظاہرةً وباطنةً ، اسباغ کے معنی مکمل کرنے کے ہیں معنی یہ ہیں کہ مکمل کردیا اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنی ظاہری نعمتوں کو اور باطنی نعمتوں کو۔ ظاہری نعمتوں سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو انسان اپنے حواس خمسہ سے محسوس اور معلوم کرلیتا ہے، مثلاً حسن صورت، اعضائے انسانی کا اعتدال اور ہر عضو کو ایسے تناسب سے بنانا جو انسان کے عمل میں زیادہ سے زیادہ معین بھی ہو اور اس کی شکل و صورت کو بھی نہ بگاڑے۔ اسی طرح رزق مال و دولت، اسباب معیشت، تندرستی اور عافیت یہ سب ظاہری نعمتیں اور محسوس نعمتیں ہیں۔ اسی طرح دین اسلام کو سہل کردینا اور اللہ و رسول کی اطاعت کی توفیق ہونا اور اسلام کا دوسرے ادیان پر غالب آنا اور دشمنوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی مدد ہونا بھی انہی نعمائے ظاہرہ میں داخل ہیں۔ اور باطنی نعمتیں وہ ہیں جو انسان کے قلب سے متعلق ہوں، جیسے ایمان اور اللہ تعالیٰ کی معرفت اور علم و عقل، حسن اخلاق، گناہوں کی پردہ پوشی، اور جرائم پر فوری سزا نہ ملنا وغیرہ ہیں۔
Ayahs 31:27–32(آیت) ولو ان ما فی الارض من شجرة اقلام، اس آیت میں حق تعالیٰ نے اپنی معلومات اور اپنی قدرت کے تصرفات اور اپنی نعمتوں کی ایک مثال دی ہے کہ وہ غیر متناہی ہیں۔ نہ کسی زبان سے، وہ سب ادا ہو سکتے ہیں نہ کسی قلم سے سب کو لکھا جاسکتا ہے۔ مثال یہ فرمائی کہ ساری زمین میں جتنے درخت ہیں اگر ان سب شاخوں کے قلم بنا لئے جائیں اور ان کے لکھنے کے لئے سمندر کو روشنائی بنادیا جائے اور یہ سب قلم حق تعالیٰ کی معلومات اور تصرفات قدرت کو لکھنا شروع کریں تو سمندر ختم ہوجائے گا اور معلومات و تصرفات ختم نہ ہوں گے۔ اور ایک سمندر نہیں اس جیسے سات سمندر اور بھی شامل کردیئے جائیں، جب بھی سب سمندر ختم ہوجائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ کلمات اللہ سے مراد اس کے علم و حکمت کے کلمات ہیں (روح و مظہری) اور شیون قدرت اور نعمائے آلہیہ بھی اس میں داخل ہیں۔ اور سات سمندر سے مطلب یہ نہیں کہ کہیں سات سمندر موجود ہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ ایک سمندر کے ساتھ فرض کرلو اور سات سمندر مل جائیں جب بھی ان سب سے سب کلمات اللہ کو ضبط تحریر میں نہیں لایا جاسکتا۔ اور سات کا عدد بھی بطور مثال ہے، حصر مقصود نہیں۔ اور دلیل اس کی دوسری آیت قرآن ہے جس میں فرمایا ہے (آیت) قل لوکان البحر مداداً لکمت ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمت ربی ولوجئنا بمثلہ مدداً ، یعنی اگر سمندر کو کلمات اللہ کو لکھنے کے لئے روشنائی بنا لیا جائے تو سمندر ختم ہوجائے گا اور کلمات اللہ ختم نہ ہوں گے، اور صرف یہی سمندر نہیں اسی جیسے اور سمندر کو بھی شامل کردیں تب بھی بات یہی رہے گی۔ اس آیت میں بمثلہ فرما کر اشارہ کردیا کہ یہ سلسلہ دور تک چلایا جائے کہ اس سمندر کے مثل دوسرا سمندر مل گیا پھر اس کی مثل تیسرا چوتھا، غرض سمندروں کی کتنی ہی مقدار فرض کرلو ان کی روشنائی کلمات اللہ کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ عقلی طور پر وجہ ظاہر ہے کہ سمندر سات نہیں سات ہزار بھی ہوں وہ بہرحال محدود اور متناہی ہیں اور کلمات اللہ یعنی معلومات اللہ غیر متناہی ہیں، کوئی متناہی چیز غیر متناہی کا احاطہ کیسے کرسکتی ہے۔
بعض روایات میں ہے کہ یہ آیت احبار یہود کے ایک سوال کے جواب میں نازل ہوئی وجہ یہ تھی کہ قرآن کی آیت ہے (آیت) وما اوتیتم من العلم الاً قلیلاً ، یعنی تمہیں نہیں دیا گیا مگر تھوڑا سا علم، جب آنحضرت ﷺ مدینہ طیبہ میں تشریف لائے تو چند احبار یہود حاضر ہوئے اور اس آیت کے بارے میں معارضہ کیا کہ آپ جو کہتے ہیں کہ تمہیں تھوڑا علم دیا گیا، یہ آپ نے اپنی قوم کا حال ذکر کیا ہے، یا اس میں آپ نے ہمیں بھی داخل کیا ہے ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری مراد سب ہیں، یعنی ہماری قوم بھی اور یہود و نصاریٰ بھی۔ تو انہوں نے یہ معارضہ کیا کہ ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے تورات عطا فرمائی ہے جس کی شان تبیان لکل شئی، یعنی ہر چیز کا بیان ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ بھی علم الٰہی کے مقابلہ میں قلیل ہی ہے۔ پھر تورات میں جتنا علم ہے اس کا بھی تمہیں پورا علم نہیں، بقدر کفایت ہی ہے۔ اس لئے علم الہٰی کے مقابلہ میں ساری آسمانی کتابوں اور سب انبیاء کے علوم کا مجموعہ بھی قلیل ہی ہے۔ اسی کلام کی تائید کے لئے یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت) ولو ان ما فی الارض من شجرة اقلام۔ الایة (ابن کثیر)
Ayah 31:33خلاصہ تفسیر
اے لوگواپنے رب سے ڈرو (اور کفر و شرک چھوڑ دو) اور اس دن سے ڈرو جس میں نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ مطالبہ ادا کرسکے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی ہے کہ وہ اپنے باپ کی طرف سے ذرا بھی مطالبہ ادا کر دے (اور یہ دن آنے والا ضرور ہے، کیونکہ اس کی نسبت اللہ کا وعدہ ہے اور) یقینا اللہ کا وعدہ سچا (ہوتا) ہے سو تم کو دنیاوی زندگانی دھوکہ میں نہ ڈالے (کہ اس میں منہمک ہو کر اس دن سے غافل رہو) اور نہ تم کو وہ دھوکہ باز (یعنی شیطان) اللہ سے دھوکہ میں ڈالے (کہ تم اس کے بہکانے میں آجاؤ کہ اللہ تم کو عذاب نہ دے گا جیسا کہا کرتے تے (آیت) ولئن رجعت الیٰ ربی ان لی عندہ للحسنیٰ) بیشک اللہ ہی کو قیامت کی خبر ہے اور وہی (اپنے علم کے موافق) مینہ برساتا ہے (پس اس کا علم اور قدرت بھی اسی کے ساتھ خاص ہے) اور وہی جانتا ہے جو کچھ (لڑکا لڑکی حاملہ کے رحم میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا عمل کرے گا (اس کی بھی اسی کو خبر ہے)۔
اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا (اس کی بھی اسی کو خبر ہے اور انہی چیزوں کی کیا تخصیص ہے جتنے غیوب ہیں) بیشک اللہ (ہی ان) سب باتوں کا جاننے والا (اور ان سے) باخبر ہے (کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں)۔
معارف و مسائل
مذکورہ الصدر دو آیتوں میں سے پہلی آیت میں مومن و کافر عام لوگوں کو خطاب فرما کر اللہ تعالیٰ اور قیامت کے حساب و کتاب سے ڈرا کر اس کے لئے تیاری کی ہدایت کی گئی ہے۔ (آیت) یایہا الناس اتقوا ربکم۔ یعنی اے لوگوڈرو اپنے پروردگار سے۔ اس جگہ اللہ تعالیٰ کے نام یا کسی دوسری صفت کے بجائے صفت رب کے انتخاب کرنے میں اشارہ اس طرف ہے کہ اللہ تعالیٰ سے خوف کا جو حکم ہے یہ وہ خوف نہیں جو کسی درندہ یا دشمن سے عادتاً ہوا کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو تمہارا رب اور پالنے والا ہے، اس سے اس طرح کا کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہئے۔ بلکہ خوف سے مراد اس جگہ وہ خوف ہے جو اپنے بڑوں اور بزرگوں کی عظمت وہیبت کی وجہ سے ہونا لازم ہے، جیسے بیٹا اپنے باپ سے، شاگرد استاد سے ڈرتا ہے۔ وہ کوئی اس کے دشمن یا ضرر پہنچانے والے نہیں مگر ان کی عظمت وہیبت دلوں میں ہوتی ہے، وہی ان کو باپ اور استاد کی اطاعت پر مجبور کرتی ہے۔ یہاں بھی یہی مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت وہیبت تمہارے قلوب پر حاوی ہونی چاہئے تاکہ تم اس کی مکمل اطاعت آسانی سے کرسکو۔
(آیت) واخشوا یوماً لا یحزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شئیاً ، یعنی اس روز سے ڈرو جس میں نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کو کوئی نفع پہنچا سکے گا، اور نہ بیٹا باپ کو نفع پہنچانے والا ہوگا۔
مراد اس سے وہ باپ اور بیٹے ہیں جن میں ایک مومن ہو دوسرا کافر۔ کیونکہ مومن باپ نہ اپنے کافر بیٹے کے عذاب میں کوئی کمی کرسکے گا نہ اس کو کوئی نفع پہنچا سکے گا اس طرح مومن بیٹا اپنے کافر باپ کے کچھ کام نہ آسکے گا۔
وجہ اس تخصیص کی قرآن کریم کی دوسری آیات اور روایات حدیث ہیں جن میں اس کی تصریح ہے کہ قیامت کے روز ماں باپ اولاد کی اور اولاد ماں باپ کی شفاعت کریں گے، اور اس شفاعت کی وجہ سے ان کو کامیابی بھی ہوگی۔ قرآن کریم میں ہے (آیت) والذین امنوا اتبہتھم ذریتہم بایمان الحقنا بہم ذریتہم۔ ”یعنی جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان میں ان کے تابع ہوئی، یعنی وہ بھی مومن ہوگئے تو ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے ماں باپ صالحین کے درجہ میں پہنچا دیں گے“ اگرچہ ان کے اپنے اعمال اس درجہ کے قابل نہ ہوں مگر صالح والدین کی برکت سے قیامت میں بھی ان کو یہ نفع پہنچے گا کہ والدین کے مقام پر پہنچا دیا جائے گا مگر اس میں شرط یہی ہے کہ اولاد مومن ہو، اگرچہ عمل میں کچھ کوتاہی ہوئی ہو۔
اسی طرح ایک دوسری آیت میں ہے (آیت) جنت عدن یدخلونہا ومن صلح من اباءہم وازواجہم وذریتہم، یعنی ہمیشہ رہنے کی جنتوں میں داخل ہوں گے اور ان کے ساتھ وہ لوگ بھی داخل ہوں گے جو ان کے ماں باپ بیویوں اور اولاد میں سے اس قابل ہوں گے، مراد قابل ہونے سے مومن ہونا ہے۔
ان دونوں آیتوں سے ثابت ہوا کہ ماں باپ اور اولاد، اسی طرح شوہر اور بیوی اگر مومن ہونے میں مشترک ہوں تو پھر ایک سے دوسرے کو محشر میں بھی فائدہ پہنچے گا۔ اسی طرح متعدد روایات حدیث میں اولاد کا ماں باپ کی شفاعت کرنا منقول ہے۔ اس لئے آیت مذکورہ کا یہ ضابطہ کہ کوئی باپ بیٹے کو اور بیٹا باپ کو محشر میں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا، یہ اسی صورت میں ہے کہ ان میں سے ایک مومن ہو دوسرا کافر (مظہری)
فائدہ
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اس آیت میں باپ، بیٹے کو نفع نہ پہنچا سکے گا یہاں تو جملہ فعلیہ کی صورت میں (آیت) لا یجزی والدعن ولدہ کے الفاظ سے ذکر فرمایا اور دوسری جانب میں دو تغیر کئے گئے، ایک یہ کہ اس کو جملہ اسمیہ کی صورت میں بیان فرمایا، دوسرے اس میں ولد کے بجائے لفظ مولود اختیار فرمایا۔ حکمت اس میں یہ ہے کہ جملہ اسمیہ بہ نسبت فعلیہ کے زیادہ موکد ہوتا ہے۔ اس تغیر جملہ میں اس فرق کی طرف اشارہ کردیا جو باپ اور اولاد میں ہے کہ باپ کی محبت اولاد کے ساتھ اشد ہے، اس کے برعکس اولاد کی محبت کا یہ درجہ دنیا میں بھی نہیں ہوتا محشر میں نفع رسانی کی نفی تو دونوں سے کردی گئی، مگر اولاد کی عدم نفع رسانی کو موکد کر کے بیان فرمایا۔ اور لفظ ولد کے بجائے مولود اختیار کرنے میں یہ حکمت ہے کہ مولود صرف اولاد کو کہا جاتا ہے اور لفظ ولدعام ہے اولاد کی اولاد کو بھی شامل ہے۔ اس میں دوسرے رخ سے اسی مضمون کی تائید اسی طرح ہوگئی کہ خود صلبی بیٹا بھی باپ کے کام نہ آئے گا، تو پوتے پڑپوتے کا حال معلوم ہے۔
اور دوسری آیت میں پانچ چیزوں کے علم کا بالخصوص حق تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہونا، اس کے سوا کسی مخلوق کو ان کا علم نہ ہونا بیان فرمایا ہے اور اسی پر سورة لقمٰن ختم کی گئی ہے۔
Ayah 31:34(آیت) ان اللہ عندہ علم الساعة وینزل الغیث ویعلم ما فی الارحام وما تدری نفس ماذا تکسب غداوما تدری نفس بای ارض تموت، یعنی اللہ ہی کے پاس ہے علم قیامت کا (کہ کس سال کس تاریخ میں آئے گی) اور وہی بارش کو اتارتا ہے اور وہی جانتا ہے جو شکم مادر میں ہے (کہ لڑکی ہے یا لڑکا اور کس شکل و صورت کا ہے) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کو کیا کمائے گا (یعنی خیر و شر میں سے کیا حاصل کرے گا) اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔
پہلی تین چیزوں میں اگرچہ یہ تصریح نہیں کی گئی کہ ان کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے، مگر کلام ایسے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے جس سے ان چیزوں کے علم کا انحصار علم الٰہی میں معلوم ہوتا ہے، اور باقی دو چیزوں میں اس کی تصریح موجود ہے کہ ان کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں۔ انہی پانچ چیزوں کو سورة انعام کی آیت میں مفاتح الغیب فرمایا گیا ہے۔ (آیت) وعندہ مفاتح الغیب لا یعلہما الا ہو، یعنی صرف اللہ ہی کے پاس ہے علم مفاتح غیب کا، کوئی نہیں جانتا ان کو بجز اللہ تعالیٰ کے“ حدیث میں اس کو مفاتیح الغیب فرمایا گیا ہے۔ مفاتح اور مفاتیح مفتاح کی جمع ہے، کجی یا چابی کو کہتے ہیں، جس سے قفل کھلتے ہیں مراد اس سے اصول الغیب ہیں، جن سے معلومات غیب کھلتے ہیں۔
مسئلہ علم غیب
اس مسئلہ کی تفصیل بقدر ضرورت سورة نمل کی آیت (آیت) قل لا یعلم من فی السموٰت والارض الغیب الا اللہ، کے تحت میں گزر چکی ہے۔ اس آیت میں مطلقاً علم غیب کا حق تعالیٰ کے لئے مخصوص ہونا صراحةً بیان فرمایا گیا ہے اور یہی پوری امت کا عقیدہ سلفا و خلفاً رہا ہے۔ آیت زیر بحث میں جو صرف پانچ چیزوں کو خصوصیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ ان کا علم کسی مخلوق کو نہیں، صرف اللہ تعالیٰ ہی ان کو جانتا ہے، یہ کوئی تخصیص کے لئے نہیں، ورنہ سورة نمل کی آیت سے تضاد ہوجائے گا بلکہ ان پانچ چیزوں کا خاص اہتمام بتلانے کے لئے یہاں ان کا ذکر فرمایا ہے۔
اور وجہ تخصیص و اہتمام کی یہ ہے کہ عام طور پر جن غیب کی چیزوں کو انسان معلوم کرنے کا شائق ہوتا ہے وہ یہی پانچ چیزیں ہیں، نیز علم غیب کا دعویٰ کرنے والے نجومی وغیرہ جن چیزوں کی خبریں لوگوں کو بتا کر اپنا عالم الغیب ہونا ثابت کرتے ہیں وہ یہی پانچ چیزیں ہیں۔ اور بعض روایات میں ہے کہ کسی شخص نے آنحضرت ﷺ سے انہی پانچ چیزوں کے متعلق دریافت کیا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی، جن میں ان پانچوں کے علم کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہونا بیان فرمایا گیا ہے۔ (روح)
اور حدیث میں جو بروایت ابن عمر وابن مسعود یہ ارشاد آیا ہے کہ اوتیت مفاتح کل شئی الاً الخمس (اخرجہ الامام احمد، ابن کثیر) اس میں لفظ اوتیت نے خود یہ بات واضح کردی کہ ان پانچ چیزوں کے علاوہ جن غائبات کا علم آنحضرت محمد ﷺ کو حاصل ہوا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور وحی دیا گیا تھا، اس لئے وہ علم غیب کی تعریف میں شامل نہیں۔ کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کو بذریعہ وحی اور اولیاء کو بذریعہ الہام جو غیب کی چیزوں کی خبریں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دے دی جاتی ہیں وہ حقیقت کے اعتبار سے علم غیب نہیں، جس کی بنا پر ان کو عالم الغیب کہا جاسکے بلکہ وہ انباء الغیب یعنی غیب کی خبریں ہیں۔ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے اپنے فرشتوں اور رسولوں اور مقبول بندوں کو عطا فرما دیتا ہے۔ قرآن کریم میں ان کو انباء الغیب فرمایا گیا ہے۔ (آیت) من انباء الغیب نوحیھا الیک۔
اس لئے مطلب حدیث کا یہ ہے کہ ان پانچ چیزوں کو تو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے ساتھ ایسا مخصوص فرمایا ہے کہ بطور انباء غیب کے بھی فرشتے اور رسول کو اس کا علم نہیں دیا گیا۔ اس کے علاوہ دوسری مغیبات کا علم بہت کچھ انبیاء (علیہم السلام) کو بذریعہ وحی دے دیا جاتا ہے۔
اس تقریر سے بھی ایک اور وجہ ان پانچ چیزوں کے خصوصی ذکر کی معلوم ہوگئی۔
ایک شبہ اور جواب
مذکورہ آیت سے یہ ثابت ہوا کہ مطلق علم غیب جو حق تعالیٰ کی خصوصیت ہے اس میں بھی خاص طور سے پانچ مذکورہ چیزیں ایسی ہیں کہ ان کا علم کسی پیغمبر کو بذریعہ وحی بھی نہیں دیا جاتا۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ یہ چیزیں کسی کو بھی معلوم نہ ہوں، حالانکہ امت کے بہت سے اولیاء اللہ سے ایسے بیشمار واقعات منقول ہیں کہ انہوں نے کہیں بارش کی خبر دی یا کسی حمل کے متعلق کوئی خبر دی، کسی کے متعلق آئندہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی خبر دی، کسی کے مرنے کی جگہ متعین کر کے بتلا دی اور پھر یہ پیشنگوئی مشاہدہ سے صحیح بھی ثابت ہوئی۔
اسی طرح بعض نجومی یا جعفر و رمل وغیرہ کا فن جاننے والے ان چیزوں کے متعلق بعض خبریں دے دیتے ہیں، اور بعض اوقات وہ صحیح بھی ہوجاتی ہیں، تو پھر ان پانچ چیزوں کی خصوصیت علم الٰہی کے ساتھ کس طرح رہی۔
اس کا ایک جواب تو وہی ہے جو سورة نمل میں تفصیل سے آ چکا ہے، اور اختصار کے ساتھ اوپر مذکور ہوا ہے کہ علم غیب درحقیقت اس علم کو کہا جاتا ہے جو سبب طبعی کے واسطہ سے نہ ہو، بلاواسطہ خودبخود ہو۔ یہ چیزیں انبیاء (علیہم السلام) کو بذریعہ وحی اور اولیاء کو بذریعہ الہام اور نجومیوں وغیرہ کو اپنے حسابات و اسباب طبیعیہ کے ذریعہ حاصل ہوجائیں تو وہ علم غیب نہیں بلکہ انباء الغیب ہیں، جو کسی جزئی و شخصی معاملہ میں کسی مخلوق کو حاصل ہوجانا آیت مذکورہ کے منافی نہیں۔ کیونکہ اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ ان پانچ چیزوں کا کلی علم جو تمام مخلوقات اور تمام حالات پر حاوی ہو وہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو بذریعہ وحی یا الہام نہیں دیا، کسی ایک آدھ واقعہ میں کوئی جزئی علم بذریعہ الہام حاصل ہوجانا اس کے منافی نہیں۔
اس کے علاوہ علم سے مراد علم قطعی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں، الہام کے ذریعہ جو علم کسی ولی کو حاصل ہوتا ہے وہ قطعی نہیں ہوتا، اس میں مغالطوں کے بہت سے احتمالات رہتے ہیں، اور نجومیوں وغیرہ کی خبروں میں تو روز مرہ مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ دس جھوٹ میں ایک صحیح کا بھی تناسب نہیں ہوتا، اس کو علم قطعی کیسے کہہ سکتے ہیں۔
مسئلہ علم غیب کے متعلق ایک فائدہ مہمہ
استاذ محترم شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی نے اپنے فوائد تفسیر میں ایک مختصر جامع بات فرمائی ہے، جس سے مذکورہ قسم کے سب اشکالات ختم ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ غیب کی دو قسمیں ہیں، ایک احکام غیبیہ ہیں جیسے احکام شرائع جن میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا علم بھی داخل ہے جس کو علم عقائد کہا جاتا ہے، اور وہ تمام احکام شرعیہ بھی جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کون سے کام پسند ہیں کون سے ناپسند، یہ سب چیزیں غیب ہی کی ہیں۔
دوسری قسم اکوان غیبیہ یعنی دنیا میں پیش آنے والے واقعات کا علم۔ پہلی قسم کے غائبات کا علم حق تعالیٰ نے اپنے انبیاء و رسل کو عطا فرمایا ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں اس طرح آیا ہے۔ (آیت) فلایظہر علیٰ غیبہ احداً الا من ارتضیٰ من رسول، یعنی اللہ تعالیٰ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتے، بجز اس رسول کے جس کو اللہ تعالیٰ اس کام کے لئے پسند فرما لیں۔
اور دوسری قسم یعنی اکوان غیبیہ، ان کا علم کلی تو حق تعالیٰ کسی کو عطا نہیں فرماتے وہ بالکل ذات حق کے ساتھ مخصوص ہے، مگر علم جزئی خاص خاص واقعات کا جب چاہتا ہے جس قدر چاہتا ہے عطا فرما دیتا ہے۔ اس طرح اصل علم غیب تو سب کا سب حق تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے، پھر وہ اپنے علم غیب میں سے احکام غیب کا علم تو عادتاً انبیاء (علیہم السلام) کو بذریعہ وحی بتلاتے ہی ہیں، اور یہی علم ان کی بعثت کا مقصد ہے۔
اکوان غیب کا علم جزئی بھی انبیاء و اولیاء کو بذریعہ وحی یا الہام جس قدر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے عطا فرما دیتا ہے، جو منجانب اللہ عطا کیا ہوا علم ہے۔ اس کو حقیقی معنی کے اعتبار سے علم الغیب نہیں کہا جاسکتا بلکہ غیب کی خبریں (انباء الغیب) کہا جاتا ہے۔
فوائد متعلقہ الفاظ آیت
اس آیت میں پانچ چیزوں کے علم کا حق اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہونا ایک خاص اہتمام کے ساتھ بیان کرنا مقصود ہے، جس کا ظاہری تقاضا یہ تھا کہ ایک ہی عنوان سے پانچ چیزوں کو شمار کر کے کہہ دیا جاتا کہ ان کا علم اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے کسی مخلوق کو ان کا علم نہیں دیا گیا۔ مگر آیت مذکورہ میں ایسا نہیں کیا گیا بلکہ ابتدائی تین چیزوں کے علم کو تو مثبت طور پر اللہ کے لئے خاص ہونے کا ذکر فرمایا اور دو چیزوں میں غیر اللہ سے علم کی نفی فرمائی۔ اور پہلی تین چیزوں میں بھی علم ساعت یعنی قیامت کا ذکر تو اس طرح فرمایا کہ ان اللہ عندہ علم الساعة، یعنی اللہ ہی کے پاس ہے علم قیامت کا۔ اور دوسری چیز کا ذکر عنوان بدل کر جملہ فعلیہ میں اس طرح ذکر فرمایا ینزل الغیث، یعنی اللہ تعالیٰ اتارتا ہے بارش، اس میں بارش کے علم کا ذکر ہی نہیں، بلکہ اس میں اتارنے کا ذکر ہے۔ تیسری چیز کا ذکر پھر عنوان بدل کر اس طرح فرمایا کہ ویعلم ما فی الارحام، اس تغیر عنوان کو بلاغت کلام کا ایک تفنن بھی کہا جاسکتا ہے اور غور کرنے سے اس میں کچھ اور حکمتیں بھی معلوم ہوتی ہیں، جو بیان القرآن میں حضرت نے بیان فرمائی ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ آخری دو چیزیں یعنی آئندہ کل میں انسان کیا کمائے گا، اور یہ کہ وہ کس زمین میں مرے گا خود انسان کی ذات کے متعلق حالات ہیں ان میں احتمال ہوسکتا تھا کہ انسان ان کا علم حاصل کرلے۔ اس لئے ان دونوں میں خصوصیت سے غیر اللہ کے علم کو منفی کر کے بیان فرمایا گیا، جس سے پہلی تین چیزوں کا علم غیر اللہ کے لئے نہ ہونا بدرجہ اولیٰ ثابت ہوگیا کہ جب انسان خود اپنے اعمال و مکاسب کو اور ان کی انتہا یعنی موت اور اس کی جگہ نہیں جانتا تو آسمان اور نزول مطر اور شکم مادر کی اندھیریوں میں مخفی چیز کو کیا جانے گا ؟ اور آخری چیز میں صرف مکان موت کا علم انسان کو نہ ہونا بیان فرمایا ہے، حالانکہ مکان موت کی طرح زمان موت بھی انسان کے علم میں نہیں ہوتا۔ وجہ یہ ہے کہ مکان موت اگرچہ متعین طور پر معلوم نہ ہو مگر ظاہری حالات کے اعتبار سے انسان کچھ سمجھ سکتا ہے، کہ جہاں رہتا سہتا ہے وہیں مرے گا اور کم از کم وہ مکان جس میں اس کو مرنا ہے دنیا میں موجود تو ہے، بخلاف زمان موت کے جو زمانہ مستقبل ہے ابھی وجود میں بھی نہیں آیا، تو جو شخص مکان موت کو موجود بالفعل ہونے کے باوجود نہیں جان سکتا، اس کے متعلق یہ تصور کیسے کیا جائے کہ زمان موت جس کا اس وقت وجود ہی نہیں اس کو جان لے۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہاں ایک چیز کی نفی سے خودبخود دوسری چیزوں کی نفی بدرجہ اولیٰ معلوم ہوجاتی ہے۔ اس لئے ان دونوں کو منفی عنوان سے بیان فرمایا۔ اور پہلی تین چیزیں تو انسانی دسترس سے ظاہر حالات میں خود ہی خارج ہیں، ان میں انسان کے علم کا دخل نہ ہونا واضح ہے۔ اس لئے ان میں مثبت عنوان اختیار کر کے ان کا اختصاص حق تعالیٰ کے ساتھ بیان کردیا گیا۔
اور ان میں سے پہلے جملے کو جملہ اسمیہ سے اور بعد کے دونوں جملوں کو فعلیہ کے عنوان سے ذکر کرنے میں شاید یہ حکمت ہے کہ قیامت تو ایک امر متعین ہے اس میں تجدد نہیں بخلاف نزول مطر اور خمل کے کہ ان کے حالات میں تجدد ہوتا رہتا ہے، اور جملہ فعلیہ تجدد پر دلالت کرتا ہے۔ اس لئے ان دونوں میں وہ استعمال کیا گیا، اور ان دونوں میں بھی حمل کے حالات میں تو علم الٰہی کا ذکر فرمایا (آیت) ویعلم ما فی الارحام، اور نزول بارش میں علم کا ذکر ہی نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہاں بارش نازل کرنے کا ذکر کر کے ضمناً یہ بھی بتلا دیا کہ بارش جس سے انسان کے ہزاروں منافع وابستہ ہیں وہ اللہ ہی کے کرنے سے آتی ہے، اور کسی کے تصرف میں نہیں، اور اس کا علمی اختصاص تو سیاق کلام ہی سے ثابت ہوجاتا ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم