29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsمعارف القرآن

Ayah 29:1
خلاصہ تفسیر الۗمّۗ، اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں، بعضے مسلمان جو کفار کی ایذاؤں سے گھبرا جاتے ہیں تو) کیا ان لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ اتنا کہنے میں چھوٹ جائیں گے کہ ہم ایمان لے آئے اور ان کو (انواع مصائب سے) آزمایا نہ جائے گا، (یعنی ایسا نہ ہوگا بلکہ اس قسم کے امتحانات بھی پیش آئیں گے) اور ہم تو (ایسے ہی واقعات سے) ان لوگوں کو بھی آزما چکے ہیں جو ان سے پہلے (مسلمان) ہو گذرے ہیں (یعنی اور امتوں کے مسلمانوں پر بھی یہ معاملے گذرے ہیں) سو (اسی طرح ان کی آزمائش بھی کی جائے گی اور اس آزمائش میں) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو (ظاہری علم سے) جان کر رہے گا جو (ایمان کے دعویٰ میں) سچے تھے، اور جھوٹوں کو بھی جان کر رہے گا (چنانچہ جو صدق و اعتقاد سے مسلمان ہوتے ہیں وہ ان امتحانات میں ثابت رہتے ہیں بلکہ اور زیادہ پختہ ہوجاتے ہیں اور جو دفع الوقتی کے لئے مسلمان ہوجاتے ہیں وہ ایسے وقت میں اسلام کو چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ یعنی یہ ایک حکمت ہے امتحان کی کیونکہ مخلص اور غیر مخلص کے خلط ملط میں بہت سی مضرتیں ہوتی ہیں، خصوص ابتدائی حالات میں یہ مضمون تو مسلمانوں کے متعلق ہوا آگے ان ایذا دینے والے کفار کی نسبت فرماتے ہیں کہ) ہاں کیا جو لوگ برے برے کام کر رہے ہیں وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم سے کہیں نکل بھاگیں گے، ان کی یہ تجویز نہایت ہی بیہودہ ہے (یہ جملہ معترضہ کے طور پر تھا جس میں کفار کی بد انجامی سنا کر مسلمانوں کی ایک گونہ تسلی کردی کہ ان ایذاؤں کا ان سے بدلہ لیا جاوے گا، آگے پھر مسلمانوں کی طرف روئے سخن ہے کہ) جو شخص اللہ سے ملنے کی امید رکھتا ہو سو (اس کو تو ایسے ایسے حوادث سے پریشان ہونا ہی نہ چاہئے کیونکہ اللہ (کے ملنے) کا وہ معین وقت ضرور ہی آنے والا ہے (جس سے سارے غم غلط ہوجائیں گے۔ کقولہ تعالیٰ وَقَالُوا الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ) اور وہ سب کچھ سنتا سب کچھ جانتا ہے (نہ کوئی قول اس سے مخفی نہ کوئی فعل پس لقاء کے وقت تمہاری سب طاعات قولیہ و فعلیہ کا صلہ دے کر سب غم دور کر دے گا) اور (یاد رکھو کہ ہم جو تم کو ترغیب دے رہے ہیں مشقتوں کے برداشت کرنے کی سو اس میں ظاہر اور مسلم ہے کہ ہماری کوئی منفعت نہیں بلکہ) جو شخص محنت کرتا ہے وہ اپنے ہی (نفع کے) لئے محنت کرتا ہے (ورنہ) اللہ تعالیٰ کو (تو) تمام جہان والوں میں کسی کی حاجت نہیں (اس میں بھی ترغیب ہے) تحمل مشاق کی کیونکہ اپنے نفع پر متنبہ ہونے سے وہ فعل زیادہ آسان ہوجاتا ہے) اور (وہ نفع جو اطاعت سے پہنچتا ہے اس کا بیان یہ ہے کہ) جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں ہم ان کے گناہ ان سے دور کردیں گے (جس میں بعض گناہ جیسے کفر و شرک تو ایمان سے زائل ہوجاتے ہیں اور بعض گناہ توبہ سے کہ اعمال صالحہ میں داخل ہے اور بعضے گناہ صرف حسنات سے اور بعضے گناہ محض فضل سے معاف ہوجائیں گے اور کوئی گناہ بعد قدرے سزا کے، یہاں تکفیر سب کو عام ہے اور ان کو ان کے (ان) اعمال (ایمان و اعمال صالحہ) کا (استحقاق سے) زیادہ اچھا بدلہ دیں گے۔ (پس اتنی ترغیبات پر اطاعت اور مجاہدہ پر استقامت کا اہتمام ضروری ہے۔
Ayah 29:2

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا یہ سمجھتے ہیں لوگ کہ چھوٹ جائیں گے اتنا کہہ کر کہ ہم یقین لائے اور ان کو جانچ نہ لیں گے

معارف و مسائل وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ ، فتنہ سے مشتق ہے جس کے معنی آزمائش کے ہیں، اہل ایمان خصوصا انبیاء و صلحاء کو دنیا میں مختلف قسم کی آزمائشوں سے گذرنا ہوتا ہے پھر انجام کار فتح اور کامیابی ان کی ہوتی ہے، یہ آزمائشیں مخالفین کبھی کفار و فجار کی دشمنی اور ان کی طرف سے ایذاؤں کے ذریعہ ہوتی ہیں، جیسا کہ اکثر انبیاء اور خاتم الانبیاء ﷺ کو اور آپ کے اصحاب کو اکثر پیش آیا ہے، جس کے بیشمار واقعات سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں مذکورہ ہیں اور کبھی یہ آزمائش امراض اور دوسری قسم کی تکلیفوں کے ذریعہ ہوتی ہے جیسا کہ حضرت ایوب ؑ کو پیش آیا اور بعض کے لئے یہ سب قسمیں جمع بھی کردی جاتی ہیں۔ شان نزول اس آیت کا اگرچہ ازروئے روایات وہ صحابہ ہیں جو ہجرت مدینہ کے وقت کفار کے ہاتھوں ستائے گئے، مگر مراد عام ہے ہر زمانے کے علماء و صلحاء اور اولیاء امت کو مختلف قسم کی آزمائشیں پیش آتی ہیں اور آتی رہیں گی۔ (قرطبی)
Ayahs 29:3–7

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور ہم نے جانچا ہے ان کو جو ان سے پہلے تھے سو البتہ معلوم کرے گا اللہ جو لوگ سچے ہیں اور البتہ معلوم کرے گا جھوٹوں کو

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

کیا یہ سمجھتے ہیں جو لوگ کہ کرتے ہیں برائیاں کہ ہم سے بچ جائیں، بری بات طے کرتے ہیں

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو کوئی توقع رکھتا ہے اللہ کی ملاقات کی سو اللہ کا وعدہ آ رہا ہے، اور وہ ہے سننے والا جاننے والا

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو کوئی محنت اٹھائے سو اٹھاتا ہے اپنے ہی واسطے اللہ کو پروا نہیں جہان والوں کی

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ یقین لائے اور کئے بھلے کام ہم اتار دیں گے ان پر سے برائیاں ان کی اور بدلہ دیں گے ان کو بہتر سے بہتر کاموں کا۔

فَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا، یعنی ان امتحانات اور شدائد کے ذریعہ مخلص اور غیر مخلص اور نیک و بد میں ضرور امتیاز کریں گے۔ کیونکہ مخلصین کے ساتھ منافقین کا خلط ملط بعض اوقات بڑے نقصانات پہنچا دیتا ہے مقصد اس آیت کا نیک و بد اور مخلص و غیر مخلص کا امتیاز واضح کردینا ہے، جس کو اس طرح تعبیر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جان لے گا صادقین کو اور کا ذبین کو، اللہ تعالیٰ کو تو ہر انسان کا صادق یا کاذب ہونا اس کے پیدا ہونے سے پہلے بھی معلوم ہے، امتحانات اور آزمائشوں کے جان لینے کے معنی یہ ہیں کہ اس امتیاز کو دوسروں پر بھی ظاہر فرما دیں گے۔ اور حضرت سیدی حکیم الامت تھانوی نے اپنے شیخ مولانا محمد یعقوب صاحب سے اس کی توجیہ یہ بھی نقل فرمائی ہے کہ بعض اوقات عوام کے درجہ علم پر تنزل کر کے بھی کلام کیا جاتا ہے، عام انسان مخلص اور منافقت میں فرق آزمائش ہی کے ذریعہ معلوم کرتے ہیں ان کے مذاق کے مطابق حق تعالیٰ نے فرمایا کہ ان مختلف قسم کے امتحانات کے ذریعہ ہم یہ جان کر رہیں گے کہ کون مخل ہے کون نہیں، حالانکہ اس کے علم میں یہ سب کچھ ازل سے ہے۔ واللہ اعلم
Ayahs 29:8–9

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے تاکید کردی انسان کو اپنے ماں باپ سے بھلائی سے رہنے کی، اور اگر وہ تجھ سے زور کریں کہ تو شریک کرے میرا جس کی تجھ کو خبر نہیں تو ان کا کہنا مت مان، مجھی تک پھر آنا ہے تم کو سو میں بتلا دوں گا تم کو جو کچھ تم کرتے تھے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ یقین لائے اور بھلے کام کئے ہم ان کو داخل کریں گے نیک لوگوں میں۔

خلاصہ تفسیر اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اور (اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا ہے کہ) اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تو ایسی چیز کو میرا شریک ٹھہرائے جس (کے معبود ہونے) کی کوئی (صحیح) دلیل تیرے پاس نہیں ہے، (اور ہر چیز ایسی ہی ہے کہ کل اشیاء کے ناقابل عبادت ہونے پر دلائل قائم ہیں) تو (اس باب میں) ان کا کہنا نہ ماننا، تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے سو میں تم کو تمہارے سب کام (نیک ہوں یا بد) جتلا دوں گا اور (تم میں) جو لوگ ایمان لائے ہوں گے ہم ان کو نیک بندوں (کے درجہ) میں (جو کہ بہشت ہے داخل کردیں گے (ور اسی طرح اعمال بد پر ان کے مناسب سزا دیں گے، پس اسی بناء پر جس نے والدین کی اطاعت کو ہماری اطاعت پر مقدم رکھا ہوگا۔ وہ سزا پائے گا اور جس نے اس کا عکس کیا ہوگا نیک جزا پائے گا، حاصل یہ ہوا کہ واقعہ بالا میں ماں باپ کی نافرمانی سے وسوسہ گناہ کا نہ کیا جائے۔ معارف و مسائل وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ ، وصیت کہتے ہیں کسی شخص کو کسی عمل کی طرف بلانے کو جبکہ وہ بلانا نصیحت و خیر خواہی پر مبنی ہو (مظہری) بِوَالِدَيْهِ حُسْـنًا، لفظ حسن مصدر ہے بمعنی خوبی، اس جگہ خوبی والے طرز عمل کو مبالغہ کے لئے حسن سے تعبیر کیا ہے۔ مراد واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ وصیت فرمائی کہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ وَاِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِيْ ، یعنی والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے حکم کی اطاعت اسی حد تک کی جائے کہ وہ حکم اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف نہ ہو، وہ اگر اولاد کو کفر و شرک پر مجبور کریں تو اس میں ان کی اطاعت ہرگز نہ کی جائے جیسا کہ حدیث میں ہے لا طاعة لمخلوق فی معصیة الخالق (رواہ احمد و الحاکم و صححہ) یعنی خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔ یہ آیت حضرت سعد بن ابی وقاص کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ صحابہ کرام میں سے ان دس حضرات میں شامل ہیں جن کو آپ نے بیک وقت جنتی ہونے کی بشارت دی ہے جن کو عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے یہ اپنی والدہ کے بہت فرمانبردار اور ان کی راحت رسانی میں بڑے مستعد تھے۔ ان کی والدہ حمنہ بنت ابی سفیان کو جب یہ معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے سعد مسلمان ہوگئے تو انہوں نے بیٹے کو تنبیہ کی اور قسم کھالی کہ میں اس وقت تک نہ کھانا کھاؤں گی نہ پانی پیوں گی جب تک کہ تم پھر اپنے آبائی دین پر واپس آجاؤ یا میں اسی طرح بھوک پیاس سے مرجاؤں اور ساری دنیا میں ہمیشہ کے لئے یہ رسوائی تمہارے سر رہے کہ تم اپنی ماں کے قاتل ہو (مسلم، ترمذی) اس آیت قرآن نے حضرت سعد کو ان کی بات ماننے سے روک دیا۔ بغوی کی روایت میں ہے کہ حضرت سعد کی والدہ ایک دن رات اور بعض اقوال کے مطابق تین دن تین رات اپنی قسم کے مطابق بھوکی پیاسی رہی۔ حضرت سعد حاضر ہوئے ماں کی محبت و اطاعت اپنی جگہ تھی، مگر اللہ تعالیٰ کے فرمان کے سامنے کچھ نہ تھی، اس لئے والدہ کو خطاب کر کے کہا کہ اماں جان اگر تمہارے بدن میں سو روحیں ہوتیں اور ایک ایک کر کے نکلتی رہتی ہیں اس کو دیکھ کر بھی کبھی اپنا دین نہ چھوڑتا، اب تم چاہو کھاؤ پیو یا مر جاؤ، بہرحال اپنے دین سے نہیں ہٹ سکتا، ماں نے ان کی اس گفتگو سے مایوس ہو کر کھانا کھالیا۔
Ayahs 29:10–11

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور ایک وہ لوگ ہیں کہ کہتے ہیں یقین لائے ہم اللہ پر پھر جب اس کو ایذا پہنچے اللہ کی راہ میں کرنے لگے لوگوں کے ستانے کو برابر اللہ کے عذاب کی اور اگر آپہنچے مدد تیرے رب کی طرف سے تو کہنے لگیں ہم تو تمہارے ساتھ ہیں، کیا یہ نہیں کہ اللہ خوب خبردار ہے جو کچھ سینوں میں ہے جہان والوں کے ،

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور البتہ معلوم کرے گا اللہ ان لوگوں کو جو یقین لائے ہیں اور البتہ معلوم کرے گا جو لوگ دغا باز ہیں

خلاصہ تفسیر اور بعض آدمی ایسے بھی ہیں جو کہہ دیتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے پھر جب ان کو راہ خدا میں کچھ تکلیف پہنچائی جاتی ہے تو لوگوں کی ایذا رسانی کو ایسا (عظیم) سمجھ بیٹھتے ہیں جیسے خدا کا عذاب) جس سے آدمی بالکل ہی مجبور ہوجائے حالانکہ کسی مخلوق کو ایسے عذاب پر قدرت ہی نہیں اب تو ان کا یہ حال ہے) اور اگر (کبھی) کوئی مدد (مسلمانوں کی) آپ کے رب کی طرف سے آپہنچتی ہے (مثلاً جہاد ہو اور اس میں ایسے لوگ ہاتھ آجائیں) تو (اس وقت) کہتے ہیں کہ ہم تو (دین اور عقیدہ میں) تمہارے ساتھ تھے (یعنی مسلمان ہی تھے، گو کفار کے اکراہ اور زبردستی کی وجہ سے کفار کے ساتھ ہوگئے تھے، اس پر حق تعالیٰ کا ارشاد یہ ہے کہ) کیا اللہ تعالیٰ کو دنیا جہان والوں کے دلوں کی باتیں معلوم نہیں ہیں (یعنی ان کے دل ہی میں ایمان نہ تھا) اور (یہ واقعات اس لئے ہوتے رہتے ہیں کہ) اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو معلوم کر کے رہے گا اور منافقوں کو بھی معلوم کر کے رہے گا۔ اور کفار مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم (دین میں) ہماری راہ چلو اور (قیامت میں) تمہارے گناہ (جو کفر و معاصی سے ہوں گے) ہمارے ذمہ (اور تم سبکدوش) حالانکہ یہ لوگ ان کے گناہوں میں سے ذرا بھی (اس طور پر کہ وہ سبکدوش ہوجائیں) نہیں لے سکتے یہ بالکل جھوٹ بک رہے ہیں اور (البتہ یہ تو ہوگا کہ) یہ لوگ اپنے گناہ (پورے پورے) اپنے اوپر لادے ہوں گے اور اپنے گناہوں کے ساتھ کچھ گناہ اور بھی (لادے ہوں گے اور یہ گناہ وہ ہیں جن کے لئے یہ سبب بنتے تھے، اور یہ گناہ ان پر لادنے سے اصل گناہگار سبکدوش نہیں ہوں گے، غرض دوسرے تو ہلکے نہ ہوئے مگر یہ لوگ ان کو گمراہ کرنے کے سبب اور زیادہ بھاری ہوگئے) اور یہ لوگ جیسی جیسی جھوٹی باتیں بناتے تھے قیامت میں ان سے باز پرس (اور پھر اس پر سزا) ضرور ہوگی۔
Ayahs 29:12–13

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور کہنے لگے منکر ایمان والوں کو تم چلو ہماری راہ اور ہم اٹھالیں گے تمہارے گناہ، اور وہ کچھ نہ اٹھائیں گے ان کے گناہ بیشک وہ جھوٹے ہیں

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور البتہ اٹھائیں گے اپنے بوجھ اور کتنے بوجھ ساتھ اپنے بوجھ کے، اور البتہ ان سے پوچھ ہوگی قیامت کے دن جو باتیں کہ جھوٹ بناتے تھے۔

معارف و مسائل وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا، کفار کی طرف سے اسلام کا راستہ روکنے اور مسلمانوں کو بہکانے کی تدبیریں مختلف طریقوں سے ہوتی رہی ہیں، کبھی زور و زر کی نمائش سے کبھی شکوک و شبہات پیدا کرنے سے اس آیت میں بھی ان کی ایک ایسی ہی تدبیر مذکور ہے، کہ کفار مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم لوگ بلا وجہ عذاب آخرت کے خوف سے ہمارے طریقہ پر نہیں چلتے، لو ہم ذمہ داری لیتے ہیں کہ اگر تمہاری ہی بات سچی ہوئی کہ اس طریقہ پر چلنے کی وجہ سے آخرت میں عذاب ہوگا تو تمہارے گناہوں کا بوجھ ہم اٹھا لیں گے جو کچھ عذاب، تکلیف پہنچنے گی ہمیں پہنچنے گی تم پر آنچ نہ آئے گی۔ اسی طرح کا ایک شخص کا واقعہ سورة نجم کے آخری رکوع میں ذکر کیا گیا ہے اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ تَوَلّٰى وَاَعْطٰى قَلِيْلًا وَّاَكْدٰى جس میں مذکور ہے کہ ایک شخص کو اس کے کافر ساتھیوں نے یہ کہہ کر دھوکا دیا کہ تم ہمیں کچھ مال یہاں دے دو تو ہم قیامت اور آخرت کے دن تمہارے عذاب کو اپنے ذمہ لے کر تمہیں بچا دیں گے، اس نے کچھ دینا بھی شروع کردیا پھر بند کردیا۔ اس کی بےوقوفی اور اس کے عمل کے لغو ہونے کا بیان سورة نجم میں تفصیل سے مذکور ہے۔ اسی طرح کا ایک قول کفار کا عام مسلمانوں سے یہاں مذکور ہے، یہاں حق تعالیٰ نے ان کے جواب میں ایک تو یہ فرمایا کہ ایسا کہنے والے بالکل جھوٹے ہیں، یہ قیامت میں ان لوگوں کے گناہوں کا کوئی بوجھ نہ اٹھائیں گے۔ وَمَا هُمْ بِحٰمِلِيْنَ مِنْ خَطٰيٰهُمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ ، یعنی وہاں کے ہولناک عذاب کو دیکھ کر ان کو ہمت نہ ہوگی کہ اس کے اٹھانے کے لئے تیار ہوجائیں اس لئے یہ وعدہ ان کا جھوٹا ہے اور سورة نجم میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اگر یہ لوگ کچھ بوجھ اٹھانے کو تیار بھی ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو اس کا اختیار نہیں دیا جائے گا۔ کیونکہ یہ قانون عدل کے خلاف ہے کہ ایک کے گناہ میں دوسرے کو پکڑ لیا جاے۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ ان لوگوں کا یہ کہنا تو غلط اور جھوٹ ہے کہ وہ تمہارے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر تمہیں سبکدوش کردیں گے، البتہ یہ ضرور ہوگا کہ تمہارا بہکانا اور تمہیں راہ حق سے ہٹانے کی کوشش کرنا خود ایک بڑا گناہ ہے جو ان کے اپنے اعمال کے عذاب کے علاوہ ان پر لاد دیا جائے گا۔ اس طرح ان پر اپنے اعمال کا بھی وبال ہوگا اور جن کو بہکایا تھا ان کا بھی۔ گناہ کی دعوت دینے والا بھی گناہگار ہے گناہ کرنے والے کو جو عذاب ہوگا وہی اس کو بھی ہوگا اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی دوسرے کو گناہ میں مبتلا کرنے کی تحریک کرے یا گناہ میں اس کی مدد کرے وہ بھی ایسا ہی مجرم ہے جیسا یہ گناہ کرنے والا۔ ایک حدیث جو حضرت ابوہریرہ اور انس بن مالک سے روایت کی گئی ہے یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ہدایت کی طرف لوگوں کو دعوت دے تو جتنے لوگ اس کی دعوت کی وجہ سے ہدایت پر عمل کریں گے ان سب کے عمل کا ثواب اس داعی کے نامہ اعمال میں بھی لکھا جائے گا بغیر اس کے کہ عمل کرنے والوں کے اجر وثواب میں کوئی کمی کی جائے اور جو شخص کسی گمراہی اور گناہ کی طرف دعوت دے تو جتنے لوگ اس کے کہنے سے اس گمراہی میں مبتلا ہوں گے ان سب کا گناہ اور وبال اس شخص پر بھی پڑے گا بغیر اس کے کہ ان لوگوں کے وبال و عذاب میں کوئی کمی ہو (مسلم عن ابی ہریرة و ابن ماجہ عن انس، قرطبی)
Ayahs 29:14–18

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور ہم نے بھیجا نوح کو اس کی قوم کے پاس پھر رہا ان میں ہزار برس پچاس برس کم پھر پکڑا ان کو طوفان نے اور وہ گنہگار تھے ،

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر بچا دیا ہم نے اس کو اور جہاز والوں کو اور رکھا ہم نے جہاز کو نشانی جہان والوں کے واسطے ،

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ابراہیم کو جب کہا اس نے اپنی قوم کو بندگی کرو اللہ کی اور ڈرتے رہو اس سے یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم سمجھ رکھتے ہو

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تم تو پوجتے ہو اللہ کے سوائے یہی بتوں کے تھان اور بناتے ہو جھوٹی باتیں، بیشک جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوائے وہ مالک نہیں تمہاری روزی کے سو تم ڈھونڈو اللہ کے یہاں روزی اور اس کی بندگی کرو اور اس کا حق مانو اسی کی طرف پھر جاؤ گے

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم جھٹلاؤ گے تو جھٹلا چکے ہیں بہت فرقے تم سے پہلے، اور رسول کا ذمہ تو بس یہی ہے پیغام پہنچا دینا کھول کر۔

خلاصہ تفسیر اور ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا سو وہ ان میں پچاس سال کم ایک ہزار برس رہے (اور قوم کو سمجھاتے رہے) پھر (جب اس پر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو) ان کو طوفان نے آ دبایا اور وہ بڑے ظالم لوگ تھے (کہ اتنی مدت دراز کی فرمائش سے بھی متاثر نہ ہوئے) پھر (اس طوفان آنے کے بعد) ہم نے ان کو اور کشتی والوں کو (جو ان کے ساتھ سوار تھے اس طوفان سے) بچا لیا اور ہم نے اس واقعہ کو تمام جہان والوں کے لئے (جن کو تواتر کے ساتھ خبر پہنچی) موجب عبرت بنایا (کہ غور کر کے سمجھ سکتے ہیں کہ مخالفت حق کا کیا انجام ہے) اور ہم نے ابراہیم ؑ کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے (جو کہ بت پرست تھے) فرمایا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو (اور ڈر کر شرک چھوڑ دو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم کچھ سمجھ رکھتے ہو (بخلاف طریقہ شرک کے کہ محض بےوقوفی ہے کیونکہ) تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر محض بتوں کو (جو بالکل عاجز اور ناکارہ ہیں) پوج رہے ہو اور (اس کے متعلق) جھوٹی باتیں تراشتے ہو، (کہ ان سے ہماری روزی روزگار کی کار برآری ہوتی ہے اور یہ محض جھوٹ ہے کیونکہ) تم خدا کو چھوڑ کر جن کو پوج رہے ہو وہ تم کو کچھ بھی رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے، سو تم لوگ رزق خدا کے پاس سے تلاش کرو، (یعنی اس سے مانگو، مالک رزق وہی ہے) اور (جب مالک رزق وہی ہے تو) اسی کی عبادت کرو اور (چونکہ پچھلا رزق بھی اسی کا دیا ہوا ہے تو) اسی کا شکر کرو (ایک تو سبب وجوب عبادت کا یہ ہے کہ وہ مالک نفع کا ہے) اور (دوسرا سبب یہ ہے کہ وہ مالک ضرر کا بھی ہے چنانچہ) تم سب کو اسی کی طرف لوٹ جانا ہے (اس وقت کفر پر تم کو سزا دے گا) اور اگر تم (ان باتوں میں) مجھ کو جھوٹا سمجھو تو (یاد رکھو کہ میرا کوئی ضرر نہیں) تم سے پہلے بھی بہت سی امتیں (اپنے پیغمبروں کو) جھوٹا سمجھ چکی ہیں (مگر ان پیغمبروں کا کوئی ضرر نہیں ہوا) اور (وجہ اس کی یہ ہے کہ) پیغمبر کے ذمہ تو صرف (بات کا) صاف طور پر پہنچا دینا ہے (منوانا اس کا کام نہیں پس سب انبیاء تبلیغ کے بعد سبکدوش ہوگئے، اسی طرح میں بھی، پس ہم کو کوئی ضرر نہیں پہنچا۔ البتہ ماننا تمہارے ذمہ واجب تھا اس کے ترک سے تمہارا ضرر ضرور ہوا۔ معارف و مسائل سابقہ آیات میں کفار کی مخالفت اور ان کی ایذاؤں کا بیان تھا جو مسلمانوں کو پہنچتی رہتی ہیں۔ آیات صدر میں اس طرح کے واقعات پر رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لئے انبیاء سابقین اور ان کی امتوں کے چھ حالات کا بیان ہے، کہ قدیم سے یہ سلسلہ اہل ہدایت کو کفار کی طرف سے ایذاؤں کا جاری ہے۔ مگر ان تکلیفوں کی وجہ سے انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری، اس لئے آپ بھی ایذاء کفار کی پرواہ نہ کریں، اپنے فریضہ رسالت کی ادائیگی میں مضبوطی سے کام کرتے رہیں۔ انبیاء سابقین میں سب سے پہلے حضرت نوح ؑ کا قصہ ذکر فرمایا، اول تو اس وجہ سے کہ وہ ہی سب سے پہلے پیغمبر ہیں جن کو کفر و شرک کا مقابلہ کرنا پڑا۔ دوسرے اس لئے بھی کہ جتنی ایذائیں اپنی قوم سے ان کو پہنچیں وہ کسی دوسرے پیغمبر کو نہیں پہنچیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عمر طویل دینے کا خصوصی امتیاز عطا فرمایا، اور ساری عمر کفار کی ایذاؤں میں بسر ہوئی، ان کی عمر قرآن کریم میں جو نو سو پچاس سال مذکور ہے وہ تو قطعی اور یقینی ہے ہی، بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ یہ عمر زمانہ تبلیغ و دعوت کی ہے اور اس سے پہلے اور طوفان کے بعد مزید عمر کا ذکر ہے۔ واللہ اعلم بہرحال اتنی غیر معمولی طویل عمر مسلسل دعوت و تبلیغ میں صرف کرنا اور ہر تبلیغ و دعوت کے وقت کفار کی طرف سے طرح طرح کی ایذائیں مار پیٹ اور گلا گھونٹنے کی سہتے رہنا اور ان سب کے باوجود کسی وقت ہمت نہ ہارنا یہ سب خصوصیات حضرت نوح ؑ کی ہیں۔ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر فرمایا جو بڑے بڑے سخت امتحانات سے گذرے ہیں۔ آتش نمرود، پھر ملک شام سے ہجرت کر کے ایک لق و دق جنگل بےآب وگیاہ کا قیام، پھر صاحبزداے کے ذبح کرنے کا واقعہ وغیرہ حضرت ابراہیم ؑ ہی کے قصہ کے ضمن میں حضرت لوط ؑ اور ان کی امت کے واقعات اور آخر سورة تک دوسرے بعض انبیاء اور ان کی سرکش امتوں کے حالات کا سلسلہ یہ سب رسول اللہ ﷺ اور امت محمدیہ کی تسلی کے لئے اور ان کو دین کے کام پر ثابت قدم رکھنے کے لئے بیان ہوا ہے۔
Ayahs 29:19–23

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا دیکھتے نہیں کیوں کر شروع کرتا ہے اللہ پیدائش کو پھر اس کو دہرائے گا، یہ اللہ پر آسان ہے ،

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

تو کہہ ملک میں پھرو پھر دیکھو کیوں کر شروع کیا ہے پیدائش کو پھر اللہ اٹھائے گا پچھلا اٹھانا، بیشک اللہ ہر چیز کرسکتا ہے ،

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

دکھ دے گا جس کو چاہے اور رحم کرے گا جس پر چاہے، اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے،

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور تم عاجز کرنے والے نہیں زمین میں اور نہ آسمان میں، اور کوئی نہیں تمہارا اللہ سے ورے حمایتی اور نہ مددگار،

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جو لوگ منکر ہوئے اللہ کی باتوں سے اور اس کے ملنے سے وہ ناامید ہوئے میری رحمت سے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

خلاصہ تفسیر کیا ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح مخلوق کو اول بار پیدا کرتا ہے (عدم محض سے وجود میں لاتا ہے) پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا، یہ اللہ کے نزدیک بہت ہی آسان بات ہے (بلکہ ابتدائی نظر میں دوبارہ پیدا کرنا اول آفرینش سے زیادہ سہل ہے، گو قدرت ذاتیہ کے اعتبار سے دونوں مساوی ہیں اور یہ لوگ امر اول یعنی اللہ تعالیٰ کے خالق کائنات ہونے کا تو اعتراف کرتے تھے، لقولہ تعالیٰ وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ الخ اور امر ثانی یعنی دوبارہ پیدا کرنا اسی کے مماثل ہے اس کا داخل قدرت ہونا اور زیادہ واضح ہے اس لئے اَوَلَمْ يَرَوْا اس سے بھی متعلق ہوسکتا ہے اور زیادہ اہتمام کے لئے آگے پھر یہی مضمون قدرے تفاوت عنوان سے سنانے کے لئے حضور ﷺ کو ارشاد فرماتے ہیں کہ) آپ (ان لوگوں سے) کہئے کہ تم لوگ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو کس طور پر اول بار پیدا کیا ہے، پھر اللہ پچھلی بار بھی پیدا کرے گا، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے (پہلے عنوان میں ایک عقلی استدلال ہے اور دوسرے عنوان میں حسی، جس کا تعلق احوال کائنات کے مشاہدہ سے ہے، یہ تو قیامت کا اثبات تھا آگے جزاء کا بیان ہے کہ بعد بعث کے) جس کو چاہے گا عذاب دے گا (یعنی جو اس کا مستحق ہوگا) اور جس پر چاہے رحمت فرما دے گا، یعنی جو اس کا اہل ہوگا) اور (اس تعذیب و رحمت میں اور کسی کا دخل نہ ہوگا، کیونکہ) تم سب اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے، (نہ کہ اور کسی کے پاس) اور (اس کی تعذیب سے بچنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے) تم نہ زمین میں (چھپ کر خدا کو) ہرا سکتے ہو (کہ اس کے ہاتھ نہ آؤ) اور نہ آسمان میں (اڑ کر) اور نہ خدا کے سوا تمہارا کوئی کارساز ہے اور نہ کوئی مددگار، (پس نہ اپنی تدبیر سے بچ سکے نہ دوسرے کی حمایت سے) اور (اوپر جو ہم نے کہا تھا يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ اب قاعدہ کلیہ سے اس کا مصداق بتلاتے ہیں کہ) جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے اور (بالخصوص) اس کے سامنے جانے کے منکر ہیں وہ لوگ (قیامت میں) میری رحمت سے ناامید ہوں گے (یعنی اس وقت مشاہدہ ہوجائے گا کہ ہم محل رحمت نہیں ہیں) اور یہی ہیں جن کو عذاب درد ناک ہوگا۔
Ayahs 29:24–25

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

پھر کچھ جواب نہ تھا اس کی قوم کا مگر یہی کہ بولے اس کو مار ڈالو یا جلا دو پھر اس کو بچا دیا اللہ نے آگ سے اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو یقین لاتے ہیں

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور ابراہیم بولا جو ٹھہرائے تم نے اللہ کے سوائے بتوں کے تھان سو دوستی کر کر آپس میں دنیا کی زندگانی میں، پھر دن قیامت کے منکر ہوجائے گے ایک سے ایک اور لعنت کرو گے ایک کو ایک، اور ٹھکانا تمہارا آگ ہے اور کوئی نہیں تمہارا مددگار

خلاصہ تفسیر سو (ابراہیم ؑ کی اس تقریر دلپذیر کے بعد) ان کی قوم کا (آخری) جواب بس یہ تھا کہ (آپس میں) کہنے لگے کہ ان کو یا تو قتل کر ڈالو یا ان کو جلا دو (چنانچہ جلانے کا سامان کیا) سو اللہ نے ان کو اس آگ سے بچا لیا (جس کا قصہ سورة انبیاء میں گذر چکا ہے) بیشک اس واقعہ میں ان لوگوں کے لئے جو کہ ایمان رکھتے ہیں کئی نشانیاں ہیں (یعنی یہ واقعہ کئی چیزوں کی دلیل ہے اللہ کا قادر ہونا، ابراہیم ؑ کا نبی ہونا، کفر و شرک کا باطل ہونا اس لئے یہ ایک ہی دلیل متعدد دلائل کے قائم مقام ہوگئی) اور ابراہیم ؑ نے (وعظ میں یہ بھی) فرمایا کہ تم نے جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو (معبود) تجویز کر رکھا ہے، بس یہ تمہارے باہمی دنیا کے تعلقات کی وجہ سے ہے (چنانچہ مشاہدہ ہے کہ اکثر آدمی اپنے تعلقات اور دوستی اور رشتہ داروں کے طریقہ پر رہتا ہے اور اس وجہ سے حق بات میں غور نہیں کرتا اور حق کو سمجھ کر بھی ڈرتا ہے کہ سب دوست اور رشتہ دار چھوٹ جاویں گے) پھر قیامت میں (تمہارا یہ حال ہوگا کہ) تم میں ایک دوسرے کا مخالف ہوجائے گا اور ایک دوسرے پر لعنت کرے گا (جیسا کہ سورة اعراف میں ہے لَّعَنَتْ اُخْتَهَا اور سورة سباء میں ہے يَرْجِــعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِۨ الْقَوْلَ اور سورة بقرہ میں ہے اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا الخ خلاصہ یہ ہے کہ آج جن احباب و اقارب کی وجہ سے تم گمراہی کو اختیار کئے ہوئے ہو قیامت کے روز یہی احباب تمہارے دشمن بن جائیں گے اور (اگر تم اس بت پرستی سے باز نہ آئے تو) تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور تمہا را کوئی حمایتی نہ ہوگا سو (اتنے وعظ پند پر بھی ان کی قوم نے نہ مانا) صرف لوط ؑ نے ان کی تصدیق فرمائی اور ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ میں (تم لوگوں میں نہیں رہتا، بلکہ) اپنے پروردگار کی (بتلائی ہوئی جگہ کی) طرف ترک وطن کر کے چلا جاؤں گا بیشک وہ زبردست حکمت والا ہے (وہ میری حفاظت کرے گا اور مجھ کو اس کا ثمرہ دے گا) اور ہم نے (ہجرت کے بعد) ان کو اسحاق (بیٹا) اور یعقوب (پوتا) عنایت فرمایا اور ہم نے ان کی نسل میں نبوت اور کتاب (کے سلسلہ) کو قائم رکھا اور ہم نے ان کا صلہ ان کو دنیا میں بھی دیا اور آخرت میں بھی (بڑے درجہ کے) نیک بندوں میں ہوں گے (اس صلہ میں مراد قرب و قبول ہے، کقولہ تعالیٰ فی البقرة لَقَدِ اصْطَفَيْنٰهُ فِي الدُّنْيَا الخ)
Ayah 29:26

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

پھر مان لیا اس کو لوط نے اور وہ بولا میں تو وطن چھوڑتا ہوں اپنے رب کی طرف بیشک وہی ہے زبردست حکمت والا،

معارف و مسائل ڎفَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ ، حضرت لوط ؑ ابراہیم علیہ الصلوة والسلام کے بھانجے تھے، آتش نمرود میں ابراہیم ؑ کا معجزہ دیکھ کر سب سے پہلے انہوں نے تصدیق کی۔ یہ اور آپ کی اہلیہ حضرت سارہ جو آپ کی چچا زاد بہن بھی تھیں اور مسلمان ہوچکی تھیں ان دونوں کو ساتھ لے کر ابراہیم ؑ نے وطن سے ہجرت کا ارادہ کیا، ان کا وطن مقام کو ثا تھا، جو کوفہ کی ایک بستی ہے اور فرمایا اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ ، یعنی میں وطن کو چھوڑ کر اپنے رب کی طرف جاتا ہوں۔ مراد یہ ہے کہ کسی ایسے مقام کی طرف جاؤں گا جہاں رب کی عبادت میں رکاوٹ نہ ہو۔ حضرت نخعی اور قتادہ نے اِنِّىْ مُهَاجِرٌ کا قائل حضرت ابراہیم ؑ کو قرار دیا ہے۔
Ayah 29:27

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور دیا ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب اور رکھ دی اس کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب اور دیا ہم نے اس کو اس کا ثواب دنیا میں، اور وہ آخرت میں البتہ نیکوں سے ہے۔

کیونکہ اس کے بعد وَوَهَبْنَا لَهٗٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ تو یقینا انہی کا حال ہے اور بعض حضرات مفسرین نے اِنِّىْ مُهَاجِرٌ کو حضرت لوط ؑ کا قول قرار دیا ہے، خلاصہ تفسیر کا ترجمہ اسی کے مطابق ہے، مگر سیاق کلام سے پہلی تفسیر راجح معلوم ہوتی ہے اور حضرت لوط ؑ بھی اگرچہ اس ہجرت میں شریک ضرور تھے مگر جیسا حضرت سارہ کا ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ وہ حضرت ابراہیم ؑ کے تابع تھیں اسی طرح لوط ؑ کی ہجرت کا ذکر مستقلاً نہ ہونا کچھ بعید نہیں۔ دنیا میں سب سے پہلی ہجرت حضرت ابراہیم ؑ پہلے پیغمبر ہیں جن کو دین کے لئے ترک وطن اور ہجرت اختیار کرنا پڑی، ان کی یہ ہجرت پچھتر سال کی عمر میں ہوئی (یہ سب بیان قرطبی سے لیا گیا ہے۔) بعض اعمال کی جزاء دنیا میں بھی مل جاتی ہے وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا، یعنی ہم نے ابراہیم ؑ کی اللہ کی راہ میں قربانیوں اور دوسرے اعمال صالحہ کی جزاء دنیا میں بھی دے دی کہ ان کو تمام مخلوق میں مقبول و امام بنادیا، یہودی، نصرانی، بت پرست سبھی ان کی عزت کرتے ہیں اور اپنا مقتداء مانتے ہیں اور آخرت میں وہ صالحین اہل جنت میں سے ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اعمال کی اصل جزاء تو آخرت میں ملے گی مگر اس کا کچھ حصہ دنیا میں بھی نقد دیا جاتا ہے، جیسا کہ احادیث معتبرہ میں بہت سے اچھے اعمال کے دنیوی فوائد اور برے اعمال کے دنیوی مفاسد کا بیان آیا ہے، ایسے اعمال کو سیدی حضرت حکیم الامت نے ایک مستقل رسالہ " جزا اعمال " میں جمع فرما دیا ہے۔
Ayahs 29:28–35

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور بھیجا لوط کو جب کہا اپنی قوم کو تم آتے ہو بےحیائی کے کام پر تم سے پہلے نہیں کیا وہ کسی نے جہان میں

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم دوڑتے ہو مردوں پر اور تم راہ مارتے ہو اور کرتے ہو اپنی مجلس میں برا کام، پھر کچھ جواب نہ تھا اس کی قوم کا مگر یہی کہ بولے لے آ ہم پر عذاب اللہ کا اگر تو ہے سچا،

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

بولا اے رب میری مدد کر ان شریر لوگوں پر ،

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب پہنچے ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر، بولے ہم کو غارت کرنا ہے اس بستی والوں کو بیشک اس بستی کے لوگ ہو رہے ہیں گنہگار،

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

بولا اس میں تو لوط بھی ہے وہ بولے ہم کو خوب معلوم ہے جو کوئی اس میں ہے ہم بچالیں گے اس کو اور اس کے گھر والوں کو مگر اس کی عورت کہ رہے گی رہ جانے والوں میں

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

جب پہنچے ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس ناخوش ہوا ان کو دیکھ کر اور تنگ ہوا دل میں اور وہ بولے مت ڈر اور غم نہ کھا، ہم بچائیں گے تجھ کو اور تیرے گھر کو مگر عورت تیری رہ گئی وہ جانے والوں میں ،

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہم کو اتارنی ہے اس بستی والوں پر ایک آفت آسمان سے اس بات پر کہ وہ نافرمان ہو رہے تھے

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور چھوڑ رکھا ہم نے اس کا نشان نظر آتا ہوا سمجھ دار لوگوں کے واسطے

خلاصہ تفسیر اور ہم نے لوط ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں نہیں کیا، کیا تم مردوں سے برا فعل کرتے ہو، (وہ بےحیائی کا کام یہی ہے) اور (اس کے علاوہ دوسری نامعقول حرکتیں بھی کرتے ہو، مثلاً یہ کہ) تم ڈاکہ ڈالتے ہو (کذا فی الدر عن ابن زید) اور (غضب یہ ہے کہ) اپنی بھری مجلس میں نامعقول حرکت کرتے ہو (اور معصیت کا اعلان یہ خود ایک معصیت وقبح عقلی ہے) سو ان کی قوم کا (آخری) جواب بس یہ تھا کہ ہم پر اللہ کا عذاب لے آؤ اگر تم (اس بات میں) سچے ہو (کہ یہ افعال موجب عذاب ہیں) لوط ؑ نے دعا کی کہ اے میرے رب مجھ کو ان مفسد لوگوں پر غالب اور ان کو عذاب سے ہلاک) کر دے اور (ان کی دعا قبول ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے عذاب کی خبر دینے کے لئے فرشتے معین فرمائے اور دوسرا کام ان فرشتوں کو یہ بتلایا گیا کہ ابراہیم ؑ کو اسحاق ؑ کے تولد کی بشارت دیں چنانچہ) ہمارے (وہ) بھیجے ہوئے فرشتے جب ابراہیم ؑ کے پاس (ان کے فرزند اسحاق کے تولد کی) بشارت لے کر آئے تو (اثنائے گفتگو میں جس کا مفصل بیان دوسرے موقع پر ہے قال فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ الخ) ان فرشتوں نے (ابراہیم ؑ سے) کہا کہ ہم اس بستی والوں کو (جس میں قوم لوط آباد ہے) ہلاک کرنے والے ہیں (کیونکہ) وہاں کے باشندے بڑے شریر ہیں، ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ وہاں تو لوط (علیہ السلام بھی موجود) ہیں (وہاں عذاب نہ بھیجا جائے کہ ان کو گزند پہنچے گا) فرشتوں نے کہا کہ جو جو وہاں (رہتے) ہیں ہم کو سب معلوم ہیں ہم ان کو اور ان کے خاص متعلقین کو (یعنی ان کے خاندان والوں کو اور جو مومن ہوں اس عذاب سے) بچا لیں گے (اس طرح سے کہ نزول عذاب کے قبل ان کو بستی سے باہر نکال لے جائیں گے) بجز ان کی بی بی کے کہ وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں سے ہوگی (جس کا ذکر سورة ہود اور سورة حجر میں گذر چکا ہے، یہ گفتگو تو ابراہیم ؑ سے ہوئی) اور (پھر وہاں سے فارغ ہوکر) جب ہمارے وہ فرستادے لوط ؑ کے پاس پہنچنے تو لوط ؑ ان (کے آنے) کی وجہ سے (اس لئے) مغموم ہوئے (کہ وہ بہت حسین جوانوں کی شکل میں آئے تھے اور لوط ؑ نے ان کو آدمی سمجھا اور اپنی قوم کی نامعقول حرکت کا خیال آیا) اور (اس وجہ سے) ان (کے آنے) کے سبب تنگ دل ہوئے اور (فرشتوں نے جو یہ حال دیکھا تو) وہ فرشتے کہنے لگے (آپ کسی بات کا) اندیشہ نہ کریں اور نہ مغموم ہوں (ہم آدمی نہیں ہیں بلکہ عذاب کے فرشتے ہیں، کقولہ تعالیٰ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ اور اس عذاب سے) ہم آپ کو اور آپ کے خاص متعلقین کو بچا لیں گے بجز آپ کی بی بی کے کہ وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی (اور آپ کو مع متعلقین کے اس سے بچا کر) ہم اس بستی کے (بقیہ) باشندوں پر ایک آسمانی عذاب (یعنی اسباب طبعیہ غیر ارضیہ سے) ان کی بدکاریوں کی سزا میں نازل کرنے والے ہیں (چنانچہ وہ بستی الٹ دی گئی اور غیبی پتھروں سے سنگباری کی گئی) اور ہم نے اس بستی کے کچھ ظاہر نشان (اب تک) رہنے دیئے ہیں ان لوگوں (کی عبرت) کے لئے جو عقل رکھتے ہیں (چنانچہ اہل مکہ سفر شام میں ان ویران مقامات کو دیکھتے تھے اور جو اہل عقل تھے وہ منتفع بھی ہوتے تھے کہ ڈر کر ایمان لے آتے تھے۔) معارف و مسائل وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖٓ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ اس جگہ حضرت لوط ؑ نے اپنی قوم کے لوگوں کے تین سخت گناہوں کا ذکر کیا ہے، اول مرد کی مرد کے ساتھ بدفعلی دوسرے قطع طریق یعنی مسافروں پر ڈاکہ زنی، تیسرے اپنی مجلسوں میں اعلاناً سب کے سامنے گناہ کرنا۔ قرآن کریم نے اس تیسرے گناہ کی تعیین نہیں فرمائی، اس سے معلوم ہوا کہ ہر گناہ جو اپنی ذات میں گناہ ہے اگر اس کو علانیہ بےپروائی سے کیا جائے تو یہ دوسرا مستقل گناہ ہوجاتا ہے وہ کوئی بھی گناہ ہو، بعض ائمہ تفسیر نے اس جگہ ان گناہوں کو شمار کیا ہے جو یہ بےحیا اپنی مجلسوں میں سب کے سامنے کیا کرتے تھے، مثلاً راستہ چلتے لوگوں کو پتھر مارنا اور ان کا استہزاء کرنا جیسا کہ ام ہانی کی ایک حدیث میں اس کا ذکر ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ جو بےحیائی ان کی مشہور تھی اس کو وہ کہیں چھپ کر نہیں کھلی مجلسوں میں ایک دوسرے کے سامنے کرتے تھے۔ العیاذ باللہ جن تین گناہوں کا اس آیت میں ذکر ہے ان سب میں اشد پہلا گناہ ہے، جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا تھا اور جنگل کے جانور بھی اس سے پرہیز کرتے ہیں۔ باتفاق امت یہ گناہ زنا سے زیاہ شدید ہے (کذا فی الروح)
Ayahs 29:36–37

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور بھیجا مدین کے پاس اس کے بھائی شعیب کو پھر بولا اے قوم بندگی کرو اللہ کی اور توقع رکھو پچھلے دن کی اور مت پھرو زمین میں خرابی مچاتے

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

پھر اس کو جھٹلایا تو پکڑ لیا ان کو زلزلہ نے پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے،

خلاصہ تفسیر اور مدین والوں کے پاس ہم نے ان (کی برادری) کے بھائی شعیب ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا سو انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو (اور شرک چھوڑ دو) اور روز قیامت سے ڈرو (اور اس کے انکار سے باز آؤ) اور سر زمین میں فساد مت پھیلاؤ (یعنی حقوق اللہ و حقوق العباد کو ضائع مت کرو، کیونکہ یہ لوگ کفر و شرک کے ساتھ کم ناپنے کم تولنے کے بھی خوگر تھے، جس سے فساد پھیلنا ظاہر ہے) سو ان لوگوں نے شعیب ؑ کو جھٹلایا پس زلزلہ نے ان کو آپکڑا، پھر وہ اپنے گھروں میں گھر کر رہ گئے۔ اور ہم نے عاد وثمود کو بھی (ان کے عناد و خلاف کی وجہ سے) ہلاک کیا اور یہ ہلاک ہونا تم کو ان کے رہنے کے مقامات سے نظر آ رہا ہے (کہ ان کی ویران بستیوں کے کھنڈرات ملک شام کو جاتے ہوئے تمہارے راستہ پر ملتے ہیں) اور (حالت ان کی یہ تھی کہ) شیطان نے ان کے اعمال (بد) کو ان کی نظر میں مستحسن کر رکھا تھا اور (اس ذریعہ سے) ان کو راہ (حق) سے روک رکھا تھا اور وہ لوگ (ویسے) ہوشیار تھے (مجنون و بیوقوف نہ تھے، مگر اس جگہ انہوں نے اپنی عقل سے کام نہ لیا) اور ہم نے قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی (ان کے کفر کے سبب) ہلاک کیا اور ان (تینوں) کے پاس موسیٰ ؑ کھلی دلیلیں (حق کی) لے کر آئے تھے، پھر ان لوگوں نے زمین میں سرکشی کی اور ہمارے (عذاب سے) بھاگ نہ سکے تو ہم نے (ان پانچوں میں سے) ہر ایک کو اس کے گناہ کی سزا میں پکڑ لیا، سو ان میں بعضوں پر تو ہم نے سخت ہوا بھیجی (مراد اس سے قوم عاد ہے) اور ان میں بعضوں کو ہولناک آواز نے آدبایا (مراد اس سے قوم ثمود ہے، لقولہ تعالیٰ فی سورة ہود، وَاَخَذَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ) اور ان میں بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا (مراد اس سے قارون ہے) اور ان میں بعض کو ہم نے (پانی میں) ڈبو دیا (مراد اس سے فرعون و ہامان ہے) اور (ان لوگوں پر جو عذاب نازل ہوئے تو) اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا (یعنی بلاوجہ سزا دیتا جو ظاہراً مشابہ ظلم کے ہے گو واقع میں بوجہ اپنی ملک میں تصرف کرنے کے یہ بھی ظلم نہ تھا۔ غارت ہوئے تو اپنا ضرر خود کیا) جن لوگوں نے خدا کے سوا اور کار ساز تجویز کر رکھے ہیں ان لوگوں کی مکڑی کی سی مثال ہے جس نے ایک گھر بنایا اور کچھ شک نہیں کہ سب گھروں میں زیادہ بودا مکڑی کا گھر ہوتا ہے، (پس جیسا اس مکڑی نے اپنے زعم میں ایک اپنی جائے پناہ بنائی ہے۔ مگر واقع میں وہ پناہ انتہائی کمزور ہونے کے سبب کالعدم ہے، اسی طرح یہ مشرک لوگ معبودات باطلہ کو اپنے زعم میں اپنی پناہ سمجھتے ہیں مگر واقع میں وہ پناہ کچھ نہیں ہے) اگر وہ (حقیقت حال کو) جانتے تو ایسا نہ کرتے (یعنی شرک نہ کرتے، لیکن وہ نہ جانیں تو کیا ہوا) اللہ تعالیٰ (تو) ان سب چیزوں (کی حقیت اور ضعف) کو جانتا ہے جس جس کو وہ لوگ خدا کے سوا پوج رہے ہیں (پس وہ چیزیں تو نہایت ضعیف ہیں) اور وہ (خود یعنی اللہ تعالی) زبردست حکمت والا ہے (جس کا حاصل قوت علمیہ و عملیہ میں کامل ہونا ہے) اور (چونکہ ہم ان چیزوں کی حقیت کو جانتے ہیں اسی لئے) ہم ان (قرآنی) مثالوں کو (جس میں سے ایک مثال اس مقام پر مذکور ہے) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے بیان کرتے ہیں اور (ان مثالوں سے چاہئے تھا کہ ان لوگوں کا جہل علم سے بدل جاتا مگر) ان مثالوں کو بس علم والے ہی سمجھتے ہیں (خواہ بالفعل عالم ہوں یا انجام کے اعتبار سے، یعنی علم اور حق کے طالب ہوں اور یہ لوگ عالم بھی نہیں طالب بھی نہیں، اس لئے جہل میں مبتلا رہتے ہیں۔ لیکن ان کے جہل سے حق حق ہی رہے گا جس کو خدا جانتا ہے اور اپنے بیان سے ظاہر فرماتا ہے، پس غیر اللہ کا مستحق عبادت نہ ہونا تو ثابت ہوا۔ آگے اللہ تعالیٰ کے مستحق عبادت ہونے کی دلیل ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو مناسب طور پر بنایا ہے، (چنانچہ وہ بھی تسلیم کرتے ہیں) ایمان والوں کے لئے اس میں (اس کے استحقاق عبادت کی) بڑی دلیل ہے۔
Ayahs 29:38–40

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور ہلاک کیا عاد کو اور ثمود کو اور تم پر حال کھل چکا ہے ان کے گھروں سے اور فریفتہ کیا ان کو شیطان نے ان کے کاموں پر پھر روک دیا ان کو راہ سے اور وہ تھے ہوشیار

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور ہلاک کیا قارون اور فرعون اور ہامان کو اور ان کے پاس پہنچا موسیٰ کھلی نشانیاں لے کر، پھر بڑائی کرنے لگے ملک میں اور نہیں تھے ہم سے جیت جانے والے

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

پھر سب کو پکڑا ہم نے اپنے اپنے گناہ پر، پھر کوئی تھا کہ اس پر ہم نے بھیجا پتھراؤ ہوا سے اور کوئی تھا کہ اس کو پکڑا چنگھاڑ نے، اور کوئی تھا کہ اس کو دھنسا دیا ہم نے زمین میں، اور کوئی تھا کہ اس کو ڈبا دیا ہم نے، اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے پر تھے وہ اپنا آپ ہی برا کرتے ،

معارف و مسائل ان آیات میں جن انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے واقعات اجمالاً بیان کئے گئے ہیں وہ پچھلی سورتوں میں مفصل آ چکے ہیں، مثلاً شعیب ؑ کا قصہ سورة اعراف اور ہود میں، اسی طرح عاد وثمود کا قصہ بھی اعراف اور ہود میں گذر چکا ہے اور قارون، فرعون، ہامان کا قصہ سورة قصص میں ابھی گذرا ہے۔ وَكَانُوْا مُسْتَبْصِرِيْنَ ، استبصار سے مشتق ہے، جو بصیرت کے معنی میں ہے اور مستبصر بمعنی مبصر، مراد یہ ہے کہ یہ لوگ جو کفر و شرک پر اصرار کر کے عذاب میں اور ہلاکت میں مبتلا ہوئے کچھ بیوقوف یا دیوانے نہ تھے، دنیا کے کاموں میں بڑے مبصر اور ہوشیار تھے، مگر ان کی عقل اور ہوشیاری اسی مادی دنیا میں مقید ہو کر رہ گئی یہ نہ پہچانا کہ نیک و بد کی جزا و سزا کا کوئی دن آنا چاہئے جس میں مکمل انصاف ہو۔ کیونکہ دنیا میں تو اکثر مجرم ظالم دندناتے پھرتے ہیں اور مظلوم و مصیبت زدہ مجبور ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی انصاف کے دن کا نام قیامت اور آخرت ہے، اس کے معاملہ میں ان کی عقل ماری گئی۔ یہی مضمون سورة روم میں بھی آگے آنے والا ہے، يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ ، یعنی یہ لوگ دنیاوی زندگی کے کاموں کو تو خوب جانتے ہیں مگر آخرت سے غافل ہیں۔ اور بعض ائمہ تفسیر نے وَكَانُوْا مُسْتَبْصِرِيْنَ کے معنی یہ بتلائے کہ یہ لوگ ایمان اور آخرت پر بھی دل میں تو یقین رکھتے تھے اور اس کا حق ہونا خوب سمجھتے تھے، مگر دنیوی اغراض نے ان کو انکار پر مجبور کر رکھا تھا۔