Ayahs 29:41–42وَاِنَّ اَوْهَنَ الْبُيُوْتِ لَبَيْتُ الْعَنْكَبُوْتِ ، عنکبوت مکڑی کو کہا جاتا ہے، اس کی مختلف قسمیں ہیں۔ بعض ان میں سے زمین میں گھر بناتی ہیں، بظاہر وہ یہاں مراد نہیں، بلکہ مراد وہ مکڑی ہے جو جالا تانتی ہے اور اس میں معلق رہتی ہے اس جالے کے ذریعہ مکھی کو شکار کرتی ہے، یہ ظاہر ہے کہ جانوروں کی جتنی قسم کے گھونسلے اور گھر معروف ہیں، یہ جالے کے تار ان سب سے زیادہ کمزور ہیں کہ معمولی ہوا سے بھی ٹوٹ سکتے ہیں۔ اس آیت میں غیر اللہ کی پرستش کرنے والوں اور ان پر اعتماد کرنے والوں کی مثال مکڑی کے اس جالے سے دی ہے جو کہ نہایت کمزور ہے۔ اسی طرح جو لوگ اللہ کے سوا بتوں پر یا کسی انسان وغیرہ پر بھروسہ کرتے ہیں ان کا بھروسہ ایسا ہی ہے جیسا یہ مکڑی اپنے جالے کے تاروں پر بھروسہ کرتی ہے۔
مسئلہمکڑی کو مارنے اور اس کے جالے صاف کردینے کے متعلق علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ بعض حضرات اس کو پسند نہیں کرتے، کیونکہ یہ جانور بوقت ہجرت غار ثور کے دہانے پر جالا تان دینے کی وجہ سے قابل احترام ہوگیا، جیسا کہ خطیب نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے اس کے قتل کی ممانعت نقل کی ہے۔ مگر ثعلبی نے اور ابن عطیہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہی سے یہ روایت نقل کی ہے طھروا بیوتکم من نسج العکنبوت فان ترکہ یورث الفقر، یعنی مکڑی کے جالوں سے اپنے مکانات کو صاف رکھا کرو، کیونکہ اس کے چھوڑ دینے سے فقرو فاقہ پیدا ہوتا ہے، سند ان دونوں روایتوں کی قابل اعتماد نہیں اور دوسری روایت کی دوسری احادیث سے تائید ہوتی ہے جن میں مکانات اور فناء دار کو صاف رکھنے کا حکم ہے۔ (روح المعانی)
Ayahs 29:43–44تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا للنَّاسِ ۚ وَمَا يَعْقِلُهَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ ، مشرکین کے خداؤں کی کمزوری کی مثال مکڑی کے جالے سے دینے کے بعد یہ ارشاد فرمایا کہ ہم ایسی ایسی واضح مثالوں سے توحید کی حقیت کا بیان کرتے ہیں، مگر ان مثالوں سے بھی سمجھ بوجھ صرف علماء دین ہی حاصل کرتے ہیں، دوسرے لوگ تدبر اور غور و فکر ہی نہیں کرتے کہ حق ان پر واضح ہوجائے۔
اللہ کے نزدیک عالم کون ہے ؟
امام بغوی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت جابر سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی تلاوت فرما کر فرمایا کہ عالم وہی شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کے کلام میں غور و فکر کرے اور اس کی اطاعت پر عمل کرے اور اس کو ناراض کرنے والے کاموں سے بچے۔
اس سے معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث کے محض الفاظ سمجھ لینے سے اللہ کے نزدیک کوئی شخص عالم نہیں ہوتا، جب تک قرآن میں تدبر اور غور و فکر کی عادت نہ ڈالے اور جب تک کہ اپنے عمل کو قرآن کے مطابق نہ بنائے۔
مسند احمد میں حضرت عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک ہزار امثال سیکھی ہیں، ابن کثیر اس کو نقل کر کے لکھتے ہیں کہ یہ حضرت عمر و بن عاص کی بہت بڑی فضیلت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت مذکورہ میں عالم انہی کو فرمایا ہے جو اللہ و رسول کی بیان کردہ امثال کو سمجھیں۔
اور حضرت عمرو بن مرہ نے فرمایا کہ جب میں قرآن کی کسی آیت پر پہنچتا ہوں جو میری سمجھ میں نہ آئے تو مجھ بڑا غم ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا للنَّاسِ ۚ وَمَا يَعْقِلُهَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ (ابن کثیر)
Ayah 29:45خلاصہ تفسیر
(اے محمد ﷺ چونکہ آپ رسول ہیں، اس لئے) جو کتاب آپ پر وحی کی گئی ہے آپ (تبلیغ کے واسطے) اس کو (لوگوں کے سامنے) پڑھا کیجئے (اور تبلیغ قولی کے ساتھ تبلیغ عملی بھی کیجئے کہ دین کے کام ان کو عمل کر کے بھی بتلائیے، خصوصاً) نماز کی پابندی رکھئے (کیونکہ تمام اعمال میں نماز اعظم عبادت بھی ہے اور اس کے اثرات بھی دور رس ہیں کہ) بیشک نماز (اپنی وضع کے اعتبار سے) بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی رہتی ہے (یعنی بزبان حال کہتی ہے کہ تو جس معبود کی انتہائی تعظیم کر رہا ہے اور اس کی اطاعت کا اقرار کر رہا ہے فحشا اور منکر میں مبتلا ہونا اس کی شان میں بےادبی ہے) اور (اسی طرح نماز کے سوا جتنے نیک کام ہیں سب پابندی کے لائق ہیں، کیونکہ وہ سب قولاً یا فعلاً اللہ کی یاد ہی ہیں) اور اللہ کی یاد بہت بڑی چیز ہے اور (اگر تم اللہ کی یاد میں غفلت کرو تو یہ بھی سن لو کہ) اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کو جانتا ہے (جیسا کرو گے ویسا بدلہ ملے گا۔)
معارف و مسائل
اُتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ ، سابقہ آیات میں چند انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کا ذکر تھا، جن میں چند بڑے بڑے سرکش کفار اور ان پر طرح طرح کے عذابوں کا بیان تھا جس میں رسول اللہ ﷺ اور مومنین امت کے لئے تسلی بھی ہے کہ انبیاء سابقین نے مخالفین کی کیسی کیسی ایذاؤں پر صبر کیا اور اس کی تلقین بھی کہ تبلیغ و دعوت کے کام میں کسی حال میں ہمت نہیں ہارنا چاہئے۔
اصلاح خلق کا مختصر جامع نسخہ
مذکور الصدر آیت میں رسول اللہ ﷺ کو دعوت الی اللہ کا ایک مختصر جامع نسخہ بتلایا گیا ہے، جس پر عمل کرنے سے پورے دین پر عمل کرنے کے راستے کھل جاتے ہیں اور اس کی راہ میں جو رکاوٹیں عادة پیش آتی ہیں وہ دور ہوجاتی ہیں، اس نسخہ اکسیر کے دو جزو ہیں، ایک تلاوت قرآن، دوسرے نماز کی اقامت، اور اس جگہ اصل مقصود تو یہی ہے کہ لوگوں کو ان دونوں چیزوں کا پابند کیا جائے لیکن ترغیب و تاکید کے لئے ان دونوں چیزوں کا حکم اولاً خود نبی کریم ﷺ کو دیا گیا ہے تاکہ امت کو اس پر عمل کرنے کی زیادہ رغبت ہو اور رسول اللہ ﷺ کی عملی تعلیم سے ان کو خود عمل کرنا بھی آسان ہوجائے۔
ان میں تلاوت قرآن تو سب کاموں کی روح اور اصل بنیاد ہے، اس کے بعد دوسری چیز اقامت صلوة ہے جس کو تمام دوسرے فرائض اور اعمال سے ممتاز کر کے بیان کرنے کی یہ حکمت بھی بیان فرما دی کہ نماز خود اپنی ذات میں بھی بہت بڑی اہم عبادت اور دین کا عمود ہے اس کے ساتھ اس کا یہ بھی فائدہ ہے کہ جو شخص نماز کی اقامت کرلے تو نماز اس کو فحشاء اور منکر سے روک دیتی ہے۔ فحشاء ہر ایسے برے فعل یا قول کو کہا جاتا ہے جس کی برائی کھلی ہوئی اور ایسی واضح ہو کہ ہر عقل والا مومن ہو یا کافر اس کو برا سمجھے، جیسے زنا، قتل ناحق، چوری ڈاکہ وغیرہ اور منکر وہ قول و فعل ہے جس کے حرام و ناجائز ہونے پر اہل شرع کا اتفاق ہو، اس لئے ائمہ فقہاء کے اجتہادی اختلافات میں کسی جانب کو منکر نہیں کہا جاسکتا۔
فحشاء اور منکر کے دو لفظوں میں تمام جرائم اور ظاہر و باطنی گناہ آگئے، جو خود بھی فساد ہی فساد ہیں اور اعمال صالحہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہیں۔
نماز کا تمام گناہوں سے روکنے کا مطلب
متعدد مستند احادیث کی رو سے یہ مطلب ہے کہ اقامت صلوة میں بالخاصہ تاثیر ہے کہ جو اس کو ادا کرتا ہے اس سے گناہ چھوٹ جاتے ہیں بشرطیکہ صرف نماز پڑھنا نہ ہو، بلکہ الفاظ قرآن کے مطابق اقامت صلوة ہو۔ اقامت کے لفظی معنی سیدھا کھڑا کرنے کے ہیں، جس میں کسی طرف جھکاؤ نہ ہو۔ اس لئے اقامت صلوة کا مفہوم یہ ہوا کہ نماز کے تمام ظاہری اور باطنی آداب اس طرح ادا کرے جس طرح رسول اللہ ﷺ نے عملی طور پر ادا کر کے بتلایا اور عمر بھر ان کی زبانی تلقین بھی فرماتے رہے کہ بدن اور کپڑے اور جائے نماز کی مکمل طہارت بھی ہو، پھر نماز جماعت کا پورا اہتمام بھی اور نماز کے تمام اعمال کو سنت کے مطابق بنانا بھی، یہ تو ظاہری آداب ہوئے۔ باطنی یہ کہ مکمل خشوع خضوع سے اس طرح اللہ کے سامنے کھڑا ہو کہ گویا وہ حق تعالیٰ سے عرض و معروض کر رہا ہے۔ اس طرح اقامت صلوة کرنے والے کو منجانب اللہ خود بخود توفیق اعمال صالحہ کی بھی ہوتی ہے اور ہر طرح کے گناہوں سے بچنے کی بھی اور جو شخص نماز پڑھنے کے باوجود گناہوں سے نہ بچا تو سمجھ لے کہ اس کی نماز ہی میں قصور ہے۔ جیسا کہ حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ کا کیا مطلب ہے۔ آپ نے فرمایا من لم تنھہ صلوتہ عن الفحشآء والمنکر فلا صلوة لہ (رواہ ابن ابی حاتم بسندہ عن عمران بن حصین والطبرانی من حدیث ابی معاویة) یعنی جس شخص کو اس کی نماز نے فحشاء اور منکر سے نہ روکا اس کی نماز کچھ نہیں۔
اور حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لا صلوة لمن لم یطع الصلوة (رواہ ابن جریر بسندہ) یعنی اس شخص کی نماز ہی نہیں جس نے اپنی نماز کی اطاعت نہ کی اور نماز کی اطاعت یہی ہے کہ فحشاء اور منکر سے باز آجائے۔
اور حضرت ابن عباس نے آیت مذکورہ کی تفسیر میں فرمایا کہ جس شخص کی نماز نے اس کو اعمال صالحہ پر عمل اور منکرات سے پرہیز پر آمادہ نہیں کیا تو ایسی نماز اس کو اللہ سے اور زیادہ دور کردیتی ہے۔
ابن کثیر نے ان تینوں روایتوں کو نقل کر کے ترجیح اس کو دی ہے کہ یہ احادیث مرفوعہ نہیں، بلکہ عمران بن حصین اور عبداللہ بن مسعود اور ابن عباس ؓ کے اقوال ہیں جو ان حضرات نے اس آیت کی تفسیر میں ارشاد فرمائے ہیں۔
اور حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ ایک شخص آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ فلاں آدمی رات کو تہجد پڑھتا ہے اور جب صبح ہوجاتی ہے تو چوری کرتا ہے، آپ نے فرمایا کہ عنقریب نماز اس کو چوری سے روک دے گی۔ (ابن کثیر)
بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کے بعد وہ اپنے گناہ سے تائب ہوگیا۔
ایک شبہ کا جواب
یہاں بعض لوگ یہ شبہ کیا کرتے ہیں کہ ہم بہت سے لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ نماز کے پابند ہونے کے باوجود بڑے بڑے گناہوں میں مبتلا رہتے ہیں جو بظاہر اس آیت کے ارشاد کے خلاف ہے۔
اس کے جواب میں بعض حضرات نے تو یہ فرمایا کہ آیت سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ نماز نمازی کو گناہوں سے منع کرتی ہے، لیکن یہ کیا ضروری ہے کہ جس کو کسی کام سے منع کیا جائے وہ اس سے باز بھی آجائے۔ آخر قرآن و حدیث سب لوگوں کو گناہ سے منع کرتے ہیں، مگر بہت سے لوگ اس منع کرنے کی طرف توجہ نہیں دیتے اور گناہ سے باز نہیں آتے۔ خلاصہ تفسیر مذکور میں یہی توجیہ لی گئی ہے۔
مگر اکثر حضرات مفسرین نے فرمایا کہ نماز کے منع کرنے کا مفہوم صرف حکم دینا نہیں بلکہ نماز میں بالخاصہ یہ اثر بھی ہے کہ اس کے پڑھنے والے کو گناہوں سے بچنے کی توفیق ہوجاتی ہے، اور جس کو توفیق نہ ہو تو غور کرنے سے ثابت ہوجائے گا کہ اس کی نماز میں کوئی خلل تھا اور اقامت صلوة کا حق اس نے ادا نہیں کیا، احادیث مذکورہ سے اسی مضمون کی تائید ہوتی ہے۔
وَلَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ ، یعنی اللہ کا ذکر بہت بڑا ہے، اور وہ تمہارے سب اعمال کو خوب جانتا ہے، یہاں ذکر اللہ کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ بندے جب اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے ذاکر بندوں کا ذکر فرشتوں کے مجمع میں کرتے ہیں (فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ) اور یہ عبادت گزار بندوں کو اللہ کا یاد کرنا سب سے بڑی نعمت ہے۔ بہت سے صحابہ وتابعین سے اس جگہ ذکر اللہ کا یہی دوسرا مفہوم منقول ہے، ابن جریر اور ابن کثیر نے اسی کو ترجیح دی ہے اور اس مفہوم کے لحاظ سے اس میں اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ نماز پڑھنے میں گناہوں سے نجات کا اصل سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اس کا ذکر فرشتوں میں کرتے ہیں اور اس کی برکت سے اس کو گناہوں سے نجات مل جاتی ہے۔
Ayahs 29:46–47خلاصہ تفسیر
اور جب پیغمبر ﷺ کی رسالت ثابت ہے تو اے مسلمانوں منکرین رسالت میں سے جو اہل کتاب ہیں ہم ان سے طریقہ گفتگو بتلاتے ہیں اور یہ تخصیص اس لئے کہ اول تو وہ بوجہ اہل علم ہونے کے بات کو سنتے ہیں اور مشرکین تو بات سننے سے پہلے ہی ایذا کے در پے ہوجاتے ہیں، دوسرے اہل علم کے ایمان لے آنے سے عوام کا ایمان زیادہ متوقع ہوجاتا ہے اور وہ طریقہ یہ ہے کہ) تم اہل کتاب کے ساتھ بجز مہذب طریقے کے مباحثہ مت کرو ہاں جو ان میں زیادتی کریں (تو ان کو جو ترکی بہ ترکی دین کا مضائقہ نہیں، گو افضل جب بھی طریقہ احسن ہے) اور (وہ مہذب طریقہ یہ ہے کہ مثلاً ان سے) یوں کہو کہ ہم اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل ہوئی اور ان کتابوں پر بھی (ایمان رکھتے ہیں) جو تم پر نازل ہوئیں، (کیونکہ مدار ایمان کا منزل من اللہ ہونا ہے، پس جب ہماری کتاب کا منزل من اللہ ہونا تمہاری کتب سے بھی ثابت ہے پھر تم کو قرآن پر بھی ایمان لانا چاہئے) اور (یہ تم بھی تسلیم کرتے ہو کہ) ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہے کقولہ تعالیٰ اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَاۗءٍۢ بَيْنَنَا الخ جب توحید متفق علیہ ہے اور اپنے احبارو رہبان کی اطاعت کی وجہ سے نبی آخر الزماں پر ایمان نہ لانا خلاف توحید ہے، تو تم کو ہمارے نبی پر ایمان لانا چاہئے (کقولہ تعالیٰ وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا الخ) اور (اس گفتگو کے ساتھ اپنا مسلمان ہونا تنبیہ کے لئے سنا دو کہ) ہم تو اس کی اطاعت کرتے ہیں (اس میں عقائد و اعمال سب آگئے یعنی اسی طرح تم کو بھی چاہئے جب کہ مقتضی موجود ہے کقولہ تعالیٰ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ) اور (جس طرح ہم نے پہلے انبیاء پر کتابیں نازل کیں) اسی طرح ہم نے آپ پر کتاب نازل فرمائی (جس کی بناء پر مجادلہ بالاحسن کی تعلیم کی گئی) سو جن لوگوں کو ہم نے کتاب (کی نافع سمجھ) دی ہے وہ اس (آپ والی) کتاب پر ایمان لے آتے ہیں (اور ان سے مجادلہ کی بھی نوبت شاذ و نادر آتی ہے) اور ان (اہل عرب مشرک) لوگوں میں بھی بعض ایسے (منصف) ہیں کہ اس کتاب پر ایمان لے آتے ہیں (خواہ خود سمجھ کر یا اہل علم کے ایمان سے استدلال کر کے) اور (وضوح دلائل کے بعد) ہماری (اس کتاب کی) آیتوں سے بجز (ضدی) کافروں کے اور کوئی منکر نہیں ہوتا (اوپر مجادلہ کی تقریر دلیل نقلی تھی جس سے خاص اہل نقل کو تخاطب تھا آگے دلیل عقلی ہے جس میں ام تخاطب ہے یعنی) اور (جو لوگ آپ کی نبوت کے منکر ہیں، ان کے پاس کوئی منشاء اشتباہ بھی تو نہیں، کیونکہ) آپ اس کتاب (یعنی قرآن سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھے ہوئے تھے اور نہ کوئی کتاب اپنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے کہ ایسی حالت میں یہ ناحق شناس لوگ کچھ شبہ نکالتے (کہ یہ لکھے پڑھے آدمی ہیں آسمانی کتابیں دیکھ بھال کر ان کی مدد سے مضامین سوچ کر فرصت میں بیٹھ کر لکھ لئے اور یاد کر کے ہم لوگوں کو سنا دیئے یعنی اگر ایسا ہوتا تو کچھ تو منشاء اشتباہ کا ہوتا، گو جب بھی یہ شبہ کرنے والے مبطل ہوتے، کیونکہ اعجاز قرآنی پھر بھی دلالت علی النبوة کے لئے کافی تھا، لیکن اب تو اتنا منشاء اشتباہ بھی نہیں۔ اس لئے یہ کتاب محل ارتیاب نہیں) بلکہ یہ کتاب (باوجود واحد ہونے کے چونکہ ہر حصہ اس کا معجزہ ہے اور حصص کثیر ہیں، اس لئے وہ تنہا گویا) خود بہت سی واضح دلیلیں ہیں ان لوگوں کے ذہن میں جن کو علم عطا ہوا ہے اور (باوجود ظہور اعجاز کے) ہماری آیتوں سے بس ضدی لوگ انکار کئے جاتے ہیں (ورنہ منصف کو تو ذرا شبہ نہیں رہنا چاہئے) اور یہ لوگ (باوجود عطاء معجزہ قرآن کے محض براہ تعنت وعناد) یوں کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر) پر ان کے رب کے پاس سے (ہماری فرمائشی) نشانیاں کیوں نہیں نازل ہوئیں، آپ یوں کہہ دیجئے کہ وہ نشانیاں تو خدا کے قبضہ (قدرت) میں ہیں اور (میرے اختیار کی چیزیں نہیں) میں تو صرف ایک صاف صاف (عذاب الہی سے) ڈرانے والا (یعنی رسول) ہوں (اور رسول ہونے پر صحیح دلیلیں رکھتا ہوں جن میں سب سے بڑی دلیل قرآن ہے۔ پھر خاص دلیل کی کیا ضرورت ہے خصوصاً جبکہ اس کے واقع نہ ہونے میں حکمت بھی ہو۔ آگے قرآن کا اعظم فی الدلالتہ ہونا فرماتے ہیں) کیا (دلالت علی النبوة میں) ان لوگوں کو یہ بات کافی نہیں ہوئی کہ ہم نے آپ پر یہ کتاب (معجز) نازل فرمائی ہے جو ان کو (ہمیشہ) سنائی جاتی رہتی ہے (کہ اگر ایک بار سننے سے اعجاز ظاہر نہ ہو تو دوسری بار میں ہوجائے یا اس کے بعد ہوجائے اور دوسرے معجزات میں تو یہ بات بھی نہ ہوتی، کیونکہ اس کا خارق ہونا دائمی نہ ہوتا جیسا ظاہر ہے اور ایک ترجیح اس معجزہ میں یہ ہے کہ) بلاشبہ اس کتاب میں (معجزہ ہونے کے ساتھ) ایمان لانے والے لوگوں کے لئے بڑی رحمت اور نصیحت ہے (رحمت یہ کہ تعلیم احکام کی ہے جو نفع محض ہے اور نصیحت ترغیب و ترہیب سے ہے اور یہ بات دوسرے معجزات میں کب ہوتی، پس ان ترجیحات سے تو اس کو غنیمت سمجھتے اور ایمان لے آتے اور اگر اس وضوح دلائل کے بعد بھی ایمان نہ لائیں تو آخری جواب کے طور پر) آپ کہہ دیجئے کہ (خیر بھائی مت مانو) اللہ میرے اور تمہارے درمیان (میری رسالت کا) گواہ بس ہے اس کو سب چیز کی خبر ہے جو آسمان میں ہے اور زمین میں ہے اور (جب میری رسالت اور اللہ کا علم محیط ثابت ہوا تو) جو لوگ جھوٹی باتوں پر یقین رکھتے ہیں اور اللہ (کی باتوں) کے منکر ہیں (جن میں رسالت بھی داخل ہے) تو وہ لوگ بڑے زیاں کار ہیں (یعنی جب اللہ کے ارشاد سے میری رسالت ثابت ہے تو اس کا انکار کفر باللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا علم محیط ہے تو اس کو اس انکار و کفر کی بھی خبر ہے اور اللہ تعالیٰ کفر پر سزائے خسارہ دیتے ہیں۔ پس لامحالہ ایسے لوگ خاسر ہوں گے) اور یہ لوگ آپ سے عذاب (واقع ہونے کا) تقاضا کرتے ہیں (اور فوراً عذاب نہ آنے سے آپ کی نبوت و رسالت میں شبہ و انکار کرتے ہیں) اور اگر (علم الٰہی میں عذاب آنے کے لئے) میعاد معین نہ ہوتی تو (ان کے تقاضہ کے ساتھ ہے) ان پر عذاب آچکا ہوتا اور (جب وہ معیاد آ جاوے گی تو) وہ عذاب ان پر دفعۃً آپہونچے گا اور ان کو خبر بھی نہ ہوگی (آگے ان لوگوں کی جہالت کے اظہار کے لئے ان کی جلد بازی کو مکرر ذکر کر کے عذاب کی میعاد معین اور اس میں پیش آنے والے عذاب کا ذکر کرتے ہیں کہ) یہ لوگ آپ سے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں اور (عذاب کی صورت یہ ہے کہ) اس میں کچھ شک نہیں کہ جہنم ان کافروں کو (چاروں طرف سے) گھیر لے گا جس دن ان پر عذاب ان کے اوپر سے اور ان کے نیچے سے گھیر لے گا اور (اس وقت ان سے) حق تعالیٰ فرمائے گا کہ جو کچھ (دنیا میں) کرتے رہے ہو (اب اس کا مزہ) چکھو۔
معارف و مسائل
وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بالَّتِيْ ھِىَ اَحْسَنُ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا، یعنی اہل کتاب سے بحث و مباحثہ کی نوبت آوے تو مجادلہ بھی ایسے طریقہ سے کرو جو بہتر ہو مثلاً سخت بات کا جواب نرم الفاظ سے، غصہ کا جواب بردباری سے، جاہلانہ شور و شغب کا جواب باوقار گفتگو سے، اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا، مگر وہ لوگ جنہوں نے تم پر ظلم کیا کہ تمہاری باوقار نرم گفتگو اور دلائل واضحہ کے مقابلہ میں ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لیا تو وہ اس احسان کے مستحق نہیں رہے، بلکہ ایسے لوگوں کا جواب ترکی بہ ترکی دیا جائے تو جائز ہے، اگرچہ اولی اور بہتر اس وقت بھی یہی ہے کہ ان کی بدخوئی کا جواب بدخوئی سے اور ظلم کا جواب ظلم سے نہ دیں۔ بلکہ کج خلقی کے جواب میں خوش خلقی کا اور ظلم کے جواب میں انصاف کا مظاہرہ کریں جیسا کہ دوسری آیات قرآن میں اس کی تصریح ہے وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ یعنی اگر ظلم وجور کا بدلہ تم ان سے برابر سرابر لے لو تو تمہیں اس کا حق ہے، لیکن صبر کرو تو یہ زیادہ بہتر ہے۔“
اس آیت میں اہل کتاب سے مجادلہ میں جو ہدایت طریقہ حسنہ کے ساتھ کرنے کی دی گئی ہے یہی سورة نحل میں مشرکین کے متعلق بھی ہے۔ اس جگہ اہل کتاب کی تخصیص اس کلام کی وجہ سے ہے جو بعد میں آ رہا ہے کہ ہمارے اور تمہارے دین میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں تم غور کرو تو ایمان اور اسلام کے قبول کرنے میں تمہیں کوئی مانع نہ ہونا چائے، جیسا کہ ارشاد فرمایا قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَاُنْزِلَ اِلَيْكُمْ یعنی تم اہل کتاب سے مجادلہ کے وقت ان کو اپنے قریب کرنے کے لئے یہ کہو کہ ہم مسلمان تو اس وحی پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو ہماری طرف بواسطہ ہمارے رسول کے بھیجی گئی ہے اور اس وحی پر بھی جو تمہاری طرف تمہارے پیغمبر کے ذریعہ بھیجی گئی ہے، اس لئے ہم سے مخالفت کی کوئی وجہ نہیں۔
کیا اس آیت میں موجودہ تورات و انجیل کے مضامین کی تصدیق کا حکم ہے
اس آیت میں اہل کتاب کی طرف آنے والی کتابوں تورات و انجیل پر مسلمانوں کے ایمان کا تذکرہ جن عنوان سے کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ہم ان کتابوں پر اجمالی ایمان رکھتے ہیں بایں معنی کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں نازل فرمایا تھا اس پر ہمارا ایمان ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ موجودہ تورات و انجیل کے سب مضامین پر ہمارا ایمان ہے جن میں آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک میں بھی بہت تحریفات ہوچکی تھیں اور اس وقت سے اب تک ان میں تحریف کا سلسلہ چل ہی رہا ہے۔ ایمان صرف ان مضامین تورات و انجیل پر ہے جو اللہ کی طرف سے حضرت موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) پر نازل ہوئے تھے، تحریف شدہ مضامین اس سے خارج ہیں۔
موجودہ تورات و انجیل کی مطلقاً تصدیق کی جائے نہ مطلقاً تکذیب
صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ اہل کتاب تورات و انجیل کو ان کی اصلی زبان عبرانی میں پڑھتے تھے، اور مسلمانوں کو ان کا ترجمہ عربی زبان میں سناتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق مسلمانوں کو یہ ہدایت دی کہ تم اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو نہ تکذیب کرو، بلکہ یوں کہو اٰمَنَّا بالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَاُنْزِلَ اِلَيْكُمْ ، یعنی ہم اجمالاً اس وحی پر ایمان لاتے ہیں جو تمہارے انبیاء پر نازل ہوئی ہے اور جو تفصیلات تم بتلاتے ہو وہ ہمارے نزدیک قابل اعتماد نہیں۔ اس لئے ہم اس کی تصدیق و تکذیب سے اجتناب کرتے ہیں۔
Ayahs 29:48–55تفسیروں میں جو عام مفسرین نے اہل کتاب کی روایات نقل کی ہیں ان کا بھی یہی درجہ ہے اور نقل کرنے کا منشاء بھی صرف اس کی تاریخی حیثیت کو واضح کرنا ہے، احکام حلال و حرام کا ان سے استنباط نہیں کیا جاسکتا، مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُــطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ ، یعنی نزول قرآن سے پہلے نہ آپ کوئی کتاب پڑھتے تھے، نہ کچھ لکھ سکتے تھے، بلکہ آپ امی تھے، اگر ایسا نہ ہوتا اور آپ لکھے پڑھے ہوتے تو اہل باطل کے لئے شک و شبہ کی گنجائش نکل آتی کہ یہ الزام لگاتے کہ آپ نے پچھلی کتابیں تورات و انجیل پڑھی ہیں یا نقل کی ہیں۔ آپ جو کچھ قرآن میں فرماتے ہیں وہ انہی پچھلی کتابوں کا اقتباس ہے، کوئی وحی اور نبوت و رسالت نہیں ہے۔
نبی کریم ﷺ کا امی ہونا آپ کی بڑی فضیلت اور بڑا معجزہ ہے
حق تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت پر جس طرح بہت سے واضح اور کھلے ہوئے معجزات ظاہر فرمائے انہی میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ کو پہلے سے امی رکھا، نہ کچھ لکھا ہوا پڑھ سکتے تھے، نہ خود کچھ لکھ سکتے تھے اور عمر کے چالیس سال اسی حال میں تمام اہل مکہ کے سامنے گذرے۔ آپ کا اختلاط اہل کتاب سے بھی کبھی نہیں ہوا کہ ان سے کچھ سن لیتے۔ کیونکہ مکہ میں اہل کتاب تھے ہی نہیں۔ چالیس سال ہونے پر یکایک آپ کی زبان مبارک سے ایسا کلام جاری ہونے لگا جو اپنے مضامین اور معانی کے ا عتبار سے بھی معجزہ تھا اور لفظی فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بھی۔
بعض علماء نے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ آپ کا امی ہونا ابتداء میں تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو لکھنا پڑھنا سکھا دیا تھا اور اس کی دلیل میں واقعہ حدیبیہ کی ایک حدیث نقل کرتے ہیں جس میں یہ ہے کہ جب معاہدہ صلح لکھا گیا تو اس میں من محمد عبداللہ و رسولہ اول لکھا تھا، اس پر مشرکین مکہ نے اعتراض کیا کہ ہم آپ کو رسول مانتے تو یہ جھگڑا ہی کیوں ہوتا، اس لئے آپ کے نام کے ساتھ " رسول اللہ " کا لفظ ہم قبول نہیں کریں گے۔ لکھنے والے حضرت علی مرتضی تھے، آپ نے ان کو فرمایا کہ یہ لفظ مٹا دو ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ادب سے مجبور ہو کر ایسا کرنے سے انکار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے کاغذ خود اپنے ہاتھ میں لیا اور یہ لفظ مٹا کر یہ لکھ دیا، من محمد بن عبداللہ۔
اس روایت میں لکھنے کی نسبت آنحضرت ﷺ کی طرف کی گئی ہے جس سے کچھ حضرات نے استدلال کیا ہے کہ آپ لکھنا جانتے تھے، مگر صحیح بات یہی ہے کہ کسی دوسرے سے لکھوانے کو بھی عرف میں یہی کہا جاتا ہے کہ " اس نے لکھا " جیسا کہ محاورات میں عام ہے، اس کے علاوہ یہ بھی امکان ہے کہ اس واقعہ میں بطور معجزہ آپ سے نام مبارک بھی اللہ تعالیٰ نے لکھوا دیا، اس کے علاوہ صرف اپنے نام کے چند حروف لکھ دینے سے کوئی آدمی لکھا پڑھا نہیں کہلا سکتا، اس کو ان پڑھ اور امی ہی کہا جائے گا جب لکھنے کی عادت نہ ہو، اور بلا دلیل کتابت کا آپ کی طرف منسوب کرنا آپ کی فضیلت کا اثبات نہیں، غور کریں تو بڑی فضیلت امی ہونے میں ہے۔
Ayah 29:56خلاصہ تفسیر
اے میرے ایمان دار بندو (جب یہ لوگ غایت عداوت وعناد سے تم کو اقامت شرائع (اختیار دین پر ایذاء پہونچاتے ہیں تو یہاں رہنا کیا ضرور) میری زمین فراخ ہے، سو (اگر یہاں رہ کر عبادت نہیں کرسکتے تو اور کہیں چلے جاؤ اور وہاں جا کر) خالص میری ہی عبادت کرو (کیونکہ یہاں اہل شرک کا زور ہے، تو ایسی عبادت جو توحید محض پر مبنی ہو اور شرک سے خالی ہو، یہاں مشکل ہے، البتہ خدا کے ساتھ غیر خدا کی بھی عبادت ہو یہ ممکن ہے مگر وہ عبادت ہی نہیں اور اگر تم کو ہجرت میں احباب و اوطان کی مفارقت شاق معلوم ہو تو یہ سمجھ لو کہ ایک نہ ایک روز یہ تو ہونا ہی ہے، کیونکہ) ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا (ضرور) ہے (آخر اس وقت سب چھوٹیں گے اور) پھر تم سب کو ہمارے پاس آنا ہے (اور نافرمان ہو کر آنے میں خوف سزا کا ہے) اور (یہ مفارقت اگر ہماری رضا کے واسطے ہو تو ہمارے پاس پہنچنے کے بعد اس وعدہ کے مستحق ہوجاؤ اور وہ وعدہ یہ ہے کہ) جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کئے (جن پر عمل کرنا بعض اوقات ہجرت پر موقوف ہوتا ہے تو ایسے وقت میں ہجرت بھی کی) ہم ان کو جنت کے بالاخانوں میں جگہ دیں گے، جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (اور ان نیک) کام کرنے والوں کا کیا اچھا اجر ہے، جنہوں نے (واقع شدہ سختیوں پر جن میں ہجرت کی سختی بھی داخل ہوگئی) صبر کیا اور (دوسرے ملک یا شہر میں جا کر جو تکالیف کا اور گذارے کی مشکلات کا اندیشہ تھا اس میں) وہ اپنے رب پر توکل کیا کرتے تھے اور (اگر ہجرت میں تم کو یہ وسوسہ ہو کہ پردیس میں کھانے کو کہاں سے ملے گا تو یہ سمجھ لو کہ) بہت سے جانور ایسے ہیں جو اپنی غذا اٹھا کر نہیں رکھتے (یعنی جمع نہیں کرتے گو بعضے جمع بھی کرتے ہیں، مگر بہت سے نہیں بھی کرتے) اللہ ہی ان کو (مقدر) روزی پہنچاتا ہے اور تم کو بھی (مقدور روزی پہنچاتا ہے خواہ تم کہیں ہو پھر ایسا وسوسہ مت لاؤ، بلکہ دل قوی کر کے اللہ پر بھروسہ رکھو) اور (وہ بھرسہ کے لائق ہے کیونکہ) وہ سب کچھ سنتا سب کچھ جانتا ہے (اسی طرح دوسری صفات میں کامل ہے اور جو ایسا کامل الصفات ہو وہ ضرور بھروسہ کے قابل ہے) اور (توحید فی الالوہیت کا جو مبنی ہے یعنی توحید فی التخلیق وہ تو ان لوگوں کے نزدیک بھی مسلم ہے چنانچہ) اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ (بھلا) وہ کون ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور جس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے، تو وہ لوگ یہی کہیں گے کہ وہ اللہ ہے پھر (جب توحید فی التخلیق کو مانتے ہیں تو توحید فی الالوہیت کے بارے میں) کدھر الٹے چلے جا رہے ہیں (اور جیسا خالق اللہ ہی ہے اسی طرح) اللہ ہی (رازق بھی ہے چنانچہ) وہ اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہے روزی فراخ کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہے تنگ کردیتا ہے، بیشک اللہ ہی سب چیز کے حال سے واقف ہے (جیسی مصلحت دیکھتا ہے ویسی ہی روزی دیتا ہے غرض رازق وہی ٹھہرا، اس لئے رزق کا اندیشہ ہجرت سے مانع نہ ہونا چاہئے) اور (جیسا کہ تخلیق کائنات میں اللہ کی توحید ان کے نزدیک بھی مسلم ہے، اسی طرح کائنات کے باقی رکھنے اور ان کا نظام چلانے میں بھی توحید کو تسلیم کرتے ہیں، چنانچہ) اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ وہ کون ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کو بعد اس کے کہ خشک (ناقابل نبات) پڑی تھی ترو تازہ (قابل نبات) کردیا تو (جواب میں) وہ لوگ یہی کہیں گے کہ وہ بھی اللہ ہی ہے آپ کہئے کہ الحمد اللہ (اتنا تو اقرار کیا جس سے توحید فی الالوہیت پر استدلال بھی بدیہی ہے، مگر یہ لوگ مانتے نہیں) بلکہ (اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ) ان میں اکثر سمجھتے بھی نہیں (نہ اس وجہ سے کہ عقل نہیں، بلکہ عقل سے کام نہیں لیتے اور غور نہیں کرتے، اس لئے بدیہی بھی خفی رہتا ہے۔)
معارف و مسائل
شروع سورت سے یہاں تک مسلمانوں کے ساتھ کفار کی عداوت اور توحید و رسالت سے مسلسل انکار اور حق اور اہل حق کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹوں کا بیان تھا، مذکور الصدر آیات میں مسلمانوں کے لئے ان کے شر سے بچنے اور حق کو شائع کرنے اور حق و انصاف کو دنیا میں قائم کرنے کی ایک تدبیر کا بیان ہے جس کا اصطلاحی نام ہجرت ہے، یعنی وہ وطن اور ملک چھوڑ دینا جس میں انسان خلاف حق بولنے اور کرنے پر مجبور کیا جائے۔
ہجرت کے احکام اور اس کی راہ میں پیش آنے والے شکوک و شبہات کا ازالہ
اِنَّ اَرْضِيْ وَاسِعَةٌ فَاِيَّايَ فَاعْبُدُوْنِ ، حق تعالیٰ نے فرمایا کہ میری زمین بہت وسیع ہے، اس لئے کسی کا یہ عذر قابل سماعت نہیں کہ فلاں شہر یا فلاں ملک میں کفار غالب تھے، اس لئے ہم اللہ کی توحید اور اس کی عبادت سے مجبور ہے۔ ان کو چاہئے کہ اس سر زمین کو جہاں وہ کفر و معصیت پر مجبور کئے جائیں اللہ کے لئے چھوڑ دیں اور کوئی ایسی جگہ تلاش کریں جہاں آزادی سے اللہ تعالیٰ کے احکام پر خود بھی عمل کرسکیں اور دوسروں کو بھی تلقین کرسکیں۔ اسی کا نام ہجرت ہے۔
وطن سے ہجرت کر کے کسی دوسری جگہ جانے میں دو قسم کے خطرات انسان کو عادة پیش آیا کرتے ہیں، جو اس کو ہجرت سے روکتے ہیں۔ پہلا خطرہ اپنی جان کا ہے کہ جب اس وطن کو چھوڑ کر کہیں جائیں گے تو یہاں کے کفار اور ظالم لوگ راہ میں حائل ہوں گے اور مقابلہ و مقاتلہ کے لئے آمادہ ہوں گے۔ نیز راستہ میں ممکن ہے کہ دوسرے کفار سے بھی مقابلہ کرنا پڑے جس میں جان کا خطرہ ہے۔ اس کا جواب اگلی آت میں یہ دیا گیا کہ
Ayah 29:57كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ، یعنی ہر ایک جان چکھنے والی ہے مزہ موت کا جس سے کسی کو کسی جگہ کسی حال مفر نہیں اس لئے موت سے خوف اور گھبراہٹ مومن کا کام نہیں ہونا چاہئے۔ وہ تو ہر شخص کو ہر حال میں پیش آئے گی اپنی جگہ میں کیسے ہی حفاظت کے سامان کر کے رہے، پھر بھی آئے گی اور مومن کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ اللہ کے مقرر کردہ وقت سے پہلے موت نہیں آسکتی اس لئے اپنی جگہ رہنے یا ہجرت کر کے دوسری جگہ جانے میں موت کا خوف حائل نہ ہونا چاہئے، خصوصاً جبکہ احکام الہیہ کی اطاعت کرتے ہوئے موت آجانا دائمی راحتوں اور نعمتوں کا ذریعہ ہے جو ان کو آخرت میں ملیں گی جس کا ذکر بعد کی دو آیتوں میں فرمایا ہے
Ayahs 29:58–59وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا الایة۔ دوسرا خطرہ ہجرت کی راہ میں یہ پیش آتا ہے کہ دوسرے وطن دوسرے ملک میں جا کر رزق کا کیا سامان ہوگا ؟ اپنی جگہ تو کچھ آبائی میراث سے کچھ اپنی کمائی سے آدمی کوئی زمین جائیداد یا صنعت و حرفت و تجارت وغیرہ کے سامان کئے رہتا ہے، ہجرت کے وقت یہ سب تو یہیں چھوٹ جائیں گے، آگے گذارہ کس طرح ہوگا ؟ اس کا جواب بعد کی تین آیتوں میں اس طرح دیا گیا ہے کہ تم ان حاصل کردہ سامانوں کو رزق کی علت اور کافی سبب قرار دیتے ہو یہ تمہاری بھول ہے، رزق دینے والا درحقیقت اللہ تعالیٰ ہے وہ جب چاہتا ہے تو بغیر کسی ظاہری سامان کے بھی رزق پہنچا دیتا ہے اور وہ نہ چاہے تو سب سامان و اسباب کے ہوتے ہوئے بھی انسان رزق سے محروم ہوسکتا ہے۔ اس کے بیان کے لئے پہلے تو یہ فرمایا
Ayah 29:60وَكَاَيِّنْ مِّنْ دَاۗبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اَللّٰهُ يَرْزُقُهَا وَاِيَّاكُمْ ، یعنی اس پر غور کرو کہ زمین پر چلنے والے کتنے ہزاروں قسم کے جانور ہیں جو اپنے رزق جمع کرنے اور رکھنے کا کوئی انتظام نہیں کرتے نہ تحصیل رزق کے اسباب جمع کرنے کی کوئی فکر کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ ان کو روزانہ اپنے فضل سے رزق مہیا کرتے ہیں، علماء نے فرمایا ہے کہ عام جانور ایسے ہی ہیں ان میں صرف چیونٹی اور چوہا تو ایسے جانور ہیں جو اپنی غذا کے لئے اپنے بلوں میں جمع کرنے کی فکر کرتے ہیں۔ چیونٹی سردی کے موسم میں باہر نہیں آتی، اس لئے گرمی کے ایام میں کھانے کا سامان اپنی بل میں جمع کرتی ہے اور مشہور ہے کہ پرندہ جانوروں میں سے عقعق (کوا) بھی اپنی غذا اپنے گھونسلہ میں جمع کرتا ہے مگر وہ رکھ کر بھول جاتا ہے۔ بہرحال دنیا کے تمام جانور جن کی انواع و اصناف کا شمار بھی انسان سے مشکل ہے، وہ بیشتر وہی ہیں جو آج اپنی غذا حاصل کرنے کے بعد کل کے لئے نہ غذا مہیا کرتے ہیں نہ اس کے اسباب ان کے پاس ہوتے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ یہ پرندے جانور صبح کو اپنے گھونسلوں سے بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے واپس ہوتے ہیں نہ ان کی کوئی کھیتی باڑی ہے نہ کوئی جائیداد و زمین، نہ یہ کسی کارخانے یا دفتر کے ملازم ہیں جہاں سے اپنا رزق حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ کی کھلی زمین میں نکلتے ہیں اور سب کو پیٹ بھرائی رزق ملتا ہے اور یہ ایک دن کا معاملہ نہیں جب تک وہ زندہ ہیں یہی سلسلہ جاری ہے۔
Ayahs 29:61–63اس کے بعد کی آیات میں رزق کا اصلی ذریعہ بتلایا ہے جو حق تعالیٰ کی عطاء ہے اور فرمایا ہے کہ خود ان منکروں کافروں سے سوال کرو کہ آسمان زمین کس نے پیدا کئے ؟ اور شمس و قمر کس کے تابع فرمان چل رہے ہیں ؟ بارش کون برساتا ہے ؟ پھر اس بارش کے ذریعہ زمین سے نباتات کون اگاتا ہے ؟ تو مشرکین بھی اس کا اقرار کریں گے کہ یہ سب کام ایک ذات حق تعالیٰ ہی کا ہے۔ تو ان سے کہئے کہ پھر تم اللہ کے سوا دوسروں کی پوجا پاٹ اور ان کو اپنا کار ساز کیسے سمجھتے ہو۔ اگلی آیات وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ سے آخر رکوع تک اسی کا بیان ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہجرت سے روکنے والی دوسری فکر معاش کی ہے، وہ بھی انسان کی بھول ہے۔ معاش کا مہیا کرنا اس کے یا اس کے جمع کردہ اسباب و سامان کے قبضہ میں نہیں، وہ بلاواسطہ حق تعالیٰ کی عطاء ہے۔ اسی نے اس وطن میں یہ سامان جمع فرما دیئے تھے وہ دوسری جگہ بھی سامان معاش دے سکتا ہے اور بغیر کسی سامان کے بھی ضروریات معاش فراہم کرسکتا ہے۔ اس لئے یہ دوسرا خطرہ بھی ہجرت سے مانع نہ ہونا چاہئے۔
ہجرت کب فرض یا واجب ہوتی ہے
ہجرت کے معنی اور تعریف اور اس کے فضائل و برکات سورة نساء کی آیت نمبر 97 تا 100 میں اور شرعی احکام میں تبدیلی اسی سورت کی آیت نمبر 89 کے تحت میں معارف القرآن کی جلد دوم صفحہ 525 تا 529 اور کچھ صفحہ 510 میں بیان ہوچکے ہیں ایک مضمون وہاں بیان کرنے سے رہ گیا تھا وہ یہاں لکھا جاتا ہے۔
جب رسول اللہ ﷺ نے بامر الہی مکہ معظمہ سے ہجرت فرمائی اور سب مسلمانوں کو بشرط قدرت ہجرت کا حکم فرمایا اس وقت مکہ معظمہ سے ہجرت کرنا فرض عین تھا جس سے کوئی مرد و عورت مستثنی نہیں تھا، بجز ان لوگوں کے جو ہجرت پر قدرت نہ رکھتے ہوں۔
اور اس زمانے میں ہجرت صرف فرض ہی نہیں، بلکہ مسلمان ہونے کی علامت اور شرط بھی سمجھی جاتی تھی، جو باوجود قدرت کے ہجرت نہ کرے، اس کو مسلمان نہ سمجھا جاتا تھا اور اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جاتا تھا جو کفار کے ساتھ ہوتا ہے، جس کا بیان سورة نساء کی آیت نمبر 89 میں ہے، حَتّٰي يُھَاجِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اس وقت ہجرت کا مقام اسلام میں وہ تھا جو کلمہ شہادت لا الہ الا اللہ کا ہے، کہ یہ شہادت خود بھی فرض ہے اور مسلمان ہونے کی شرط اور علامت بھی کہ جو شخص باوجود قدرت کے زبان سے ایمان کا اقرار اور کلمہ لا الہ الا اللہ کی شہادت نہ دے اگرچہ دل میں یقین اور تصدیق رکھتا ہو وہ مسلمان نہیں سمجھا جاتا۔ عاجز جس کو اس کلمہ کے بولنے پر قدرت نہ ہو وہ مستثنی ہے اسی طرح جن لوگوں کو ہجرت پر قدرت نہ تھی وہ مستثنی سمجھے گئے جس کا ذکر سورة نساء کی آیت نمبر 98 اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ میں آیا ہے اور جو لوگ باوجود ہجرت پر قادر ہونے کے مکہ میں مقیم رہے، ان کے لئے جہنم کی سخت و عید آیت نمبر 97 اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ (الی) ۭفَاُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ میں مذکور ہے۔
جب مکہ مکرمہ فتح ہوگیا تو ہجرت کا یہ حکم بھی منسوخ ہوگیا کیونکہ اس وقت مکہ خود دار السلام بن گیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس وقت حکم جاری فرما دیا۔ لا ھجرة بعد الفتح، یعنی فتح مکہ کے بعد مکہ سے ہجرت کرنے کی ضرورت نہیں، مکہ مکرمہ سے ہجرت کا فرض ہونا پھر منسوخ ہونا قرآن و سنت کی نصوص سے ثابت ہوگیا، جو ایک واقعہ جزئیہ تھا، فقہاء امت نے اس واقعہ سے یہ مسائل مستنبط کئے۔
مسئلہجس شہر یا ملک میں انسان کو اپنے دین پر قائم رہنے کی آزدای نہ ہو، وہ کفر و شرک یا احکام شرعیہ کی خلاف ورزی پر مجبور ہو وہاں سے ہجرت کرکے کسی دوسرے شہر یا ملک میں جہاں دین پر عمل کی آزادی ہو چلا جانا بشرطیکہ قدرت ہو واجب ہے، البتہ جس کو سفر پر قدرت نہ ہو یا کوئی ایسی جگہ میسر نہ ہو جہاں آزادی سے دین پر عمل کرسکے وہ شرعاً معذور ہے۔
مسئلہجس دار الکفر میں عام احکام دینیہ پر عمل کرنے کی آزادی ہو وہاں سے ہجرت فرض و واجب تو نہیں، مگر مستحب بہرحال ہے اور اس میں دار الکفر ہونا بھی ضروری نہیں، دار الفسق جہاں احکام الہیہ کی خلاف ورزی اعلاناً ہوتی ہو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ اگرچہ وہاں کے حکمران کے مسلمان ہونے کی بناء پر اس کو دار الاسلام کہا جاتا ہو۔
یہ تفصیل حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں تحریر فرمائی ہے اور قواعد حنفیہ میں کوئی چیز اس کے منافی نہیں اور مسند احمد کی ایک روایت جو حضرت ابو یحییٰ مولی زبیر ابن عوام سے منقول ہے وہ بھی اس پر شاہد ہے، حدیث یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
البلاد بلاد اللہ والعباد عباد اللہ حیثما اصبت خیرا فاقم (ابن کثیر)
" یعنی سب شہر اللہ کے شہر ہیں اور سب بندے اللہ کے بندے ہیں، اس لئے جس جگہ تمہارے لئے اسباب خیر جمع ہوں وہاں اقامت کرو۔ "
اور ابن جریر نے اپنی مسند کے ساتھ حضرت سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جس شہر میں معاصی اور فواحش عام ہوں اس کو چھوڑ دو اور امام تفسیر حضرت عطاء نے فرمایا کہ جب تمہیں کسی شہر میں معاصی کے لئے مجبور کیا جائے تو وہاں سے بھاگ کھڑے ہو۔ (ابن جریر طبری فی التفسیر)
Ayahs 29:64–66خلاصہ تفسیر
اور (وجہ ان کے غور نہ کرنے کی انہماک ہے مشاغل دنیا میں حالانکہ) یہ دنیوی زندگی (جس کے یہ تمام تر اشغال ہیں فی نفسہ) بجز لہو و لعب کے اور کچھ بھی نہیں اور اصل زندگی عالم آخرت (کی) ہے (چنانچہ دنیا کے فانی ہونے اور آخرت کے باقی ہونے سے یہ دونوں مضمون ظاہر ہیں پس فانی میں اس قدر انہماک کہ باقی کو بھول میں ڈال کر اس سے محروم ہوجائے خود یہ بےعقلی کی بات ہے) اگر ان کو اس کا (کافی) علم ہوتا تو ایسا نہ کرتے (کہ فانی میں منہمک ہو کر باقی کو بھلا دیتے اور اس کے لئے سامان نہ کرتے بلکہ یہ لوگ دلائل میں غور کرتے۔ اور ایمان لے آتے جیسا کہ خود ان کو یہ تسلیم ہے کہ تخلیق کائنات اور اس کے باقی رکھنے میں خدا کا کوئی شریک نہیں) پھر (جیسا کہ ان کے اس اقرار و تسلیم کا مقتضی ہے کہ خدائی اور عبادت میں اسی کو منفرد مانتے اور اس کا بھی کبھی اظہار و اقرار کرتے چنانچہ) جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں (اور وہ کشتی زیر و زبر ہونے لگتی ہے) تو (اس وقت) خالص اعتقاد کر کے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں (کہ لَىِٕنْ اَنْجَيْـتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ای الموحدین جس میں خدائی اختیارات اور معبودیت میں بھی توحید کا اقرار ہے، مگر یہ حالت بوجہ انہماک فی الدنیا کے دیرپا نہیں ہوتی چناچہ اس وقت تو سب قول و اقرار توحید کے ہوچکے ہیں مگر) پھر جب ان کو (اس آفت سے) نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو وہ فوراً ہی شرک کرنے لگتے ہیں، جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے جو نعمت (نجات وغیرہ) ان کو دی ہے۔ اس کی ناقدری کرتے ہیں اور یہ لوگ (عقائد شرکیہ و اعمال فسقیہ میں ہوائے نفسانی کا اتباع کر کے) چندے اور حظ حاصل کرلیں پھر قریب ہی ان کو سب خبر ہوئی جاتی ہے، (اور اب اس انہماک فی الدنیا کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آتا، سو ایک مانع تو ان کو توحید سے یہ انہماک ہے اور دوسرا ایک اور نامعقول حیلہ مانعہ نکالا ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا یعنی اگر ہم مسلمان ہوجائیں تو ہمیں عرب کے لوگ مار دیں گے۔ حالانکہ مشاہدہ سے ان کو خود لغویت اس کی معلوم ہو سکتی ہے) کیا ان لوگوں نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ ہم نے (ان کے شہر مکہ کو) امن والا حرم بنایا ہے اور ان کے گرد و پیش (کے مقامات) میں (جو خارج حرم ہیں) لوگوں کو (مار دھاڑ کر ان کے گھروں سے) نکالا جا رہا ہے (بخلاف ان کے کہ امن سے بیٹھے ہیں اور یہ بات خود محسوسات میں ہے تو بدیہیات سے گذر کر محسوسات میں بھی خلاف کرتے اور خوف ہلاکت کو ایمان لانے میں عذر مانع بتاتے ہیں اور) پھر (وضوح حق کے بعد اس حماقت اور ضد کا) کیا (ٹھکانا ہے کہ) یہ لوگ جھوٹے معبود (ہوں) پر تو ایمان لاتے ہیں (جس پر ایمان لانے کا کوئی مقتضی نہیں اور موانع بہت سے ہیں) اور اللہ (جس پر ایمان لانے کے بہت سے مقتضی اور دلائل صحیحہ ہیں اس کی) نعمتوں کی ناشکری (یعنی اللہ کے ساتھ شرک) کرتے ہیں (کیونکہ شرک سے بڑھ کر کوئی ناشکری نہیں کہ نعمت تخلیق و ترزیق و ابقاء و تدبیر وغیرہ تو وہ عطا فرمادے اور عبادت جو کہ ان نعمتوں کا شکر ہے دوسرے کے لئے تجویز کی جاوے) اور (واقعی بات یہ ہے کہ) اس شخص سے زیادہ کون ناانصاف ہوگا جو (بلا دلیل) اللہ پر جھوٹ افتراء کرے (کہ وہ شریک رکھتا ہے) اور جب سچی بات اس کے پاس (دلیل کے ساتھ) پہنچے وہ اس کو جھٹلا دے (بےانصافی ظاہر ہے کہ بلا دلیل بات کی تو تصدیق کرے اور دلیل والی بات کی تکذیب) کیا ایسے کافروں کا (جو اس قدر ناانصافی کریں) جہنم میں ٹھکانا نہ ہوگا (یعنی ضرور ہے کیونکہ سزا مناسب جرم کے ہوتی ہے۔ پس جیسا جرم عظیم ہے ایسی ہی سزا بھی عظیم ہے اوپر ان کا حال تھا جو اہل کفر اور نفس پرست ہوں) اور اب ان کے اضداد کا بیان ہے کہ) جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم ان کو اپنے (قرب وثواب یعنی جنت) کے راستے ضرور دکھا دیں گے (جس سے وہ جنت میں جا پہنچیں گے کقولہ تعالیٰ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ هَدٰىنَا الآیتہ اور بیشک اللہ تعالیٰ (کی رضا و رحمت) ایسے خلوص والوں کے ساتھ ہے (دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔)
معارف و مسائل
سابقہ آیات میں کفار و مشرکین کا یہ حال مذکور ہوا ہے کہ آسمان و زمین کی پیدائش شمس و قمر کا نظام بارش نازل کرنے اور اس سے نبات اگانے کا سارا نظام یہ لوگ بھی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ میں ہونے پر یقین رکھتے ہیں اس میں کسی بت وغیرہ کی شرکت نہیں مانتے مگر پھر بھی وہ خدائی میں بتوں کو شریک ٹھہراتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ (یعنی ان میں بکثرت لوگ وہ ہیں جو سمجھتے نہیں۔)
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ مجنوں دیوانے تو نہیں ہوشیار سمجھدار ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے کام خوب کرتے ہیں پھر ان کے بےسمجھ ہوجانے کی وجہ کیا ہے ؟ اس کا جواب مذکور الصدر آیات میں سے پہلی آیت میں یہ دیا گیا کہ ان کو دنیا اور اس کی مادی اور فانی لذات و خواہشات کی محبت نے آخرت اور انجام میں غور و فکر کرنے سے اندھا اور بےسمجھ بنادیا ہے حالانکہ یہ دنیا کی زندگی لہو و لعب یعنی وقت گزاری کا مشغلہ اور کھیل کے سوا کچھ نہیں اور اصلی زندگی جو جاودانی ہے وہ آخرت کی زندگی ہے وَمَا هٰذِهِ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا لَهْوٌ وَّلَعِبٌ ۭ وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَھِىَ الْحَـيَوَانُ ، اس جگہ حیوان کا لفظ بمعنی حیات مصدری معنی میں ہے۔ (قرطبی)
اس میں حیات دنیا کو لہو و لعب فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے کھیلوں کا کوئی ثبات وقرار نہیں اور کوئی بڑا مقصد ان سے حل نہیں ہوتا، تھوڑی دیر کے بعد سب تماشہ ختم ہوجاتا ہے یہی حال اس دنیا کا ہے۔
اس کے بعد کی آیت میں ان مشرکین کا ایک اور برا حال یہ بتلایا گیا کہ جیسے یہ لوگ تخلیق کائنات میں اللہ تعالیٰ کو منفرد ماننے کے باوجود اس جہالت کے شکار ہیں کہ بتوں کو خدائی کا ساجھی بتاتے ہیں۔ اس سے زیادہ عجب یہ ہے کہ جب ان پر کوئی بڑی مصیبت آپڑتی ہے تو اس مصیبت کے وقت بھی ان کو یہ یقین اور اقرار ہوتا ہے کہ اس میں کوئی بت ہمارا مددگار نہیں بن سکتا۔ مصیبت سے رہائی صرف اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے اس کے لئے بطور مثال کے فرمایا کہ یہ لوگ جب دریا کے سفر میں ہوتے ہیں اور ڈوبنے کا خطرہ ہوتا ہے، تو اس خطرہ کو ٹالنے کے لئے کسی بت کو پکارنے کے بجائے صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے مضطر اور بیقرار ہونے اور وقتی طور پر دنیا کے سارے سہاروں سے منقطع ہونے کی بناء پر ان کی دعا قبول کر کے ان کو دنیا کے مہلکہ سے نجات دے دیتا ہے۔ مگر یہ ظالم جب خشکی پر پہنچ کر مطمئن ہوجاتے ہیں تو پھر بتوں کو خدا کا شریک کہنے لگتے ہیں۔ آیت فَاِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ کا یہی مطلب ہے۔
فائدہاس آیت سے معلوم ہوا کہ کافر بھی جس وقت اپنے آپ کو بےسہارا جان کر صرف اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے اور اس وقت یہ یقین کرتا ہے کہ خدا کے سوا مجھے اس مصیبت سے کوئی نہیں چھڑا سکتا، تو اللہ تعالیٰ کافر کی بھی دعا قبول فرما لیتے ہیں۔ کیونکہ وہ مضطر ہے اور اللہ تعالیٰ نے مضطر کی دعا قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ (قرطبی وغیرہ)
اور ایک آیت میں جو یہ ارشاد آیا ہے وَمَا دُعٰۗـؤُا الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ ، یعنی کافروں کی دعا ناقابل قبول ہے، یہ حال آخرت کا ہے کہ وہاں کافر عذاب سے رہائی کی دعا کریں گے تو قبول نہ ہوگی۔
Ayahs 29:67–68اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا الآیة۔ اوپر کی آیات میں مشرکین مکہ کی جاہلانہ حرکتوں کا ذکر تھا کہ سب چیزوں کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ کو یقین کرنے کے باوجود پتھر کے خود تراشیدہ بتوں کو اس کی خدائی کا شریک بتاتے ہیں اور صرف تخلیق کائنات ہی کا اللہ تعالیٰ کو مالک نہیں سمجھتے بلکہ آڑے وقت میں مصیبت سے نجات دینا بھی اسی کے اختیار میں جانتے ہیں مگر نجات کے بعد پھر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ان کے کفر و شرک کا ایک عذر بعض مشرکین مکہ کی طرف سے یہ بھی پیش کیا جاتا تھا کہ ہم آپ کے دین کو تو حق و درست مانتے ہیں لیکن اس کی پیروی کرنے اور مسلمان ہوجانے میں ہم اپنی جانوں کا خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ سارا عرب اسلام کے خلاف ہے ہم اگر مسلمان ہوگئے تو باقی عرب ہمیں اچک لے جائیں گے اور مار ڈالیں گے۔ (کما روی عن ابن عباس، روح)
اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کا یہ عذر بھی لغو ہے۔ کیونکہ اہل مکہ کو تو حق تعالیٰ نے بیت اللہ کی وجہ سے وہ شرف اور بزرگی دی ہے جو دنیا میں کسی مقام کے لوگوں کو حاصل نہیں ہے۔ ہم نے مکہ کی پوری زمین کو حرم بنادیا ہے۔ عرب کے باشندے مومن ہوں یا کافر سب کے سب حرم کا احترام کرتے ہیں۔ اس میں قتل و قتال کو حرام سمجھتے ہیں حرم میں انسان تو انسان وہاں کے شکار کو قتل کرنا اور وہاں کے درختوں کو کاٹنا بھی کوئی جائز نہیں سمجھتا باہر کا کوئی آدمی حرم میں داخل ہوجائے تو وہ بھی قتل سے مامون ہوجاتا ہے۔ تو مکہ مکرمہ کے باشندوں کو اسلام قبول کرنے سے اپنی جانوں کا خطرہ بتلانا بھی ایک عذر لنگ ہے۔
Ayah 29:69وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا، جہاد کے اصلی معنی دین میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے میں اپنی پوری توانائی صرف کرنے کے ہیں، اس میں وہ رکاوٹیں بھی داخل ہیں جو کفار و فجار کی طرف سے پیش آتی ہیں، کفار سے جنگ و مقاتلہ اس کی اعلی فرد ہے اور وہ رکاوٹیں بھی داخل ہیں جو اپنے نفس اور شیطان کی طرف سے پیش آتی ہیں۔
جہاد کی ان دونوں قسموں پر اس آیت میں یہ وعدہ ہے کہ ہم جہاد کرنے والوں کو اپنے راستوں کو ہدایت کردیتے ہیں۔ یعنی جن مواقع میں خیر و شر یا حق و باطل یا نفع و ضرر میں التباس ہوتا ہے عقلمند انسان سوچتا ہے کہ کس راہ کو اختیار کروں، ایسے مواقع میں اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو صحیح، سیدھی، بےخطر راہ بتا دیتے ہیں۔ یعنی ان کے قلوب کو اسی طرف پھیر دیتے ہیں جس میں ان کے لئے خیر و برکت ہو۔
علم پر عمل کرنے سے علم میں زیادتی
اور حضرت ابوالدرداء نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ اللہ کی طرف سے جو علم لوگوں کو دیا گیا ہے جو لوگ اپنے علم پر عمل کرنے میں جہاد کرتے ہیں ہم ان پر دوسرے علوم بھی منکشف کردیتے ہیں جو اب تک حاصل نہیں۔ اور فضیل بن عیاض نے فرمایا کہ جو لوگ طلب علم میں کوشش کرتے ہیں ہم ان کے لئے عمل بھی آسان کردیتے ہیں۔ (مظہری) واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم