28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsمعارف القرآن

Ayah 28:1
خلاصہ تفسیر طسم (اس کے معنی اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ (مضامین جو آپ پر وحی کئے جاتے ہیں) کتاب واضح (یعنی قرآن) کی آیتیں ہیں (جن میں اس مقام پر) ہم آپ کو موسیٰ ؑ اور فرعون کا کچھ قصہ ٹھیک ٹھیک پڑھ کر (یعنی نازل کر کے) سناتے ہیں ان لوگوں کے (نفع کے) لئے جو کہ ایمان رکھتے ہیں (کیونکہ مقاصد قصص کے یعنی عبرت اور ان سے نبوت پر استدلال وغیرہ یہ مومنین ہی کے ساتھ خاص ہیں خواہ اس وقت مومن ہوں یا ایمان کا ارادہ رکھتے ہوں اور اجمال تو اس قصہ کا یہ ہے کہ) فرعون سر زمین (مصر) میں بہت چڑھ گیا تھا اور اس نے وہاں کے باشندوں کو مختلف قسمیں کر رکھا تھا (اسی طرح کہ قبطیوں یعنی مصری لوگوں کو معزز بنا رکھا تھا اور سبطیوں یعنی بنی اسرائیل کو پست اور خوار کر رکھا تھا جس کا آگے بیان ہے) کہ ان (باشندوں) میں سے ایک جماعت (یعنی بنی اسرائیل) کا زور گھٹا رکھا تھا (اس طرح سے کہ) ان کے بیٹوں کو (جو نئے پیدا ہوتے تھے جلادوں کے ہاتھوں) ذبح کراتا تھا اور ان کی عورتوں (یعنی لڑکیوں) کو زندہ رہنے دیتا تھا (تاکہ ان سے خدمت لی جاوے و نیز ان سے اندیشہ بھی نہ تھا) واقعی وہ بڑا مفسد تھا (غرض فرعون تو اس خیال میں تھا) اور ہم کو یہ منظور تھا کہ جن لوگوں کا زمین (مصر) میں زور گھٹایا جا رہا تھا ہم ان پر (دنیوی و دینی) احسان کریں اور (وہ احسان یہ کہ) ان کو (دین میں) پیشوا بنادیں اور (دنیا میں) ان کو (اس ملک کا) مالک بنائیں اور (مالک ہونے کے ساتھ) ان کو (ملک بھی بنائیں یعنی زمین میں ان کو حکومت دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے تابعین کو ان (بنی اسرائیل) کی جانب سے وہ (ناگوار) واقعات دکھلائیں جن سے وہ بچاؤ کر رہے تھے (مراد اس سے زوال سلطنت و ہلاکت ہے کہ اسی سے بچاؤ کرنے کے لئے بنی اسرائیل کے بچوں کو ایک تعبیر خواب کی بناء پر جو فرعون نے دیکھا تھا اور نجومیوں نے تعبیر دی تھی قتل کر رہا تھا (کذا فی الدر المنثور) پس ہمارے قضاء و قدر کے سامنے ان لوگوں کی تدبیر کچھ کام نہ آئی، یہ اجمال قصہ کا ہوا) اور (تفصیل اس کی اول سے یہ ہے کہ جب موسیٰ ؑ اسی پر آشوب زمانہ میں پیدا ہوئے تو) ہم نے موسیٰ ؑ کی والدہ کو الہام کیا کہ (جب تک ان کا اخفا ممکن ہو) تم ان کو دودھ پلاؤ پھر جب تم کو ان کی نسبت (جاسوسوں کے مطلع ہونے کا) اندیشہ ہو تو (بےخوف و خطر) ان کو (صندوق میں رکھ کر) دریا (یعنی نیل) میں ڈال دینا اور نہ تو (غرق سے) اندیشہ کرنا اور نہ (مفارقت پر) غم کرنا (کیونکہ) ہم ضرور ان کو پھر تمہارے ہی پاس واپس پہنچا دیں گے اور (پھر اپنے وقت پر) ان کو پیغمبر بنادیں گے (غرض وہ اسی طرح دودھ پلاتی رہیں۔ پھر جب افشائے راز کا خوف ہوا تو صندوق میں بند کر کے اللہ کے نام پر نیل میں چھوڑ دیا، اس کی کوئی شاخ فرعون کے محل میں جاتی تھی یا تفریحاً فرعون کے متعلقین دریا کی سیر کو نکلے تھے۔ غرض وہ صندوق کنارے پر لگا) تو فرعون کے لوگوں نے موسیٰ ؑ کو (یعنی مع صندوق کے) اٹھا لیا تاکہ وہ ان لوگوں کے لئے دشمنی اور غم کا باعث بنیں، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان کے تابعین (اس بارہ میں) بہت چوکے (اپنے دشمن کو اپنی بغل میں پالا) اور (جب وہ صندوق سے نکال کر فرعون کے سامنے لائے گئے تو) فرعون کی بی بی (حضرت آسیہ) نے (فرعون) سے کہا کہ یہ (بچہ) میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے (یعنی اس کو دیکھ کر جی خوش ہوا کرے گا تو) اس کو قتل مت کرو عجب نہیں کہ (بڑا ہو کر) ہم کو کچھ فائدہ پہنچاوے یا ہم اس کو (اپنا) بیٹا ہی بنالیں اور ان لوگوں کو (انجام کی) خبر نہ تھی (کہ یہ وہی بچہ ہے جس کے ہاتھوں فرعون کی سلطنت غارت ہوگی) اور (ادھر یہ قصہ ہوا کہ) موسیٰ ؑ کی والدہ کا دل (خیالات مختلفہ کے ہجوم سے) بیقرار ہوگیا (اور بیقراری بھی ایسی ویسی نہیں بلکہ ایسی سخت بیقراری کہ) قریب تھا کہ (غایت بیقراری سے) وہ موسیٰ ؑ کا حال (سب پر) ظاہر کر دیتیں اگر ہم ان کے دل کو اس غرض سے مضبوط نہ کئے رہیں کہ یہ (ہمارے وعدہ پر) یقین کئے (بیٹھی) رہیں (غرض بمشکل انہوں نے دل کو سنبھالا اور تدبیر شروع کی وہ یہ کہ) انہوں نے موسیٰ ؑ کی بہن (یعنی اپنی بیٹی سے) کہا ذرا موسیٰ کا سراغ تو لگا سو (وہ چلیں اور یہ معلوم کر کے صندوق محل میں کھلا ہے محل میں پہنچیں، یا تو ان کی آمد و رفت ہوگی یا کسی حیلہ سے پہنچیں، اور) انہوں نے موسیٰ ؑ کو دور سے دیکھا اور ان لوگوں کو یہ خبر نہ تھی (کہ یہ ان کی بہن ہیں اور اس فکر میں آئی ہیں) اور ہم نے پہلے ہی سے (یعنی جب سے صندوق سے نکلے تھے) موسیٰ ؑ پر دودھ پلائیوں کی بندش کر رکھی تھی (یعنی کسی کا دودھ نہ لیتے تھے) سو وہ (اس حال کو دیکھ کر موقع پا کر) کہنے لگیں کیا میں تم لوگوں کو کسی ایسے گھرانے کا پتہ بتاؤں جو تمہارے لئے اس بچہ کی پرورش کریں اور وہ (اپنی جبلت کے موافق دل سے) اس کی خیر خواہی کریں (ان لوگوں نے ایسے وقت میں کہ دودھ پلانے کی مشکل پڑ رہی تھی اس مشورہ کو غنیمت سمجھا اور ایسے گھرانے کا پتہ پوچھا انہوں نے اپنی والدہ کا پتہ بتلا دیا چناچہ وہ بلائی گئیں اور موسیٰ ؑ ان کی گود میں دیئے گئے۔ جاتے ہی دودھ پینا شروع کردیا اور ان لوگوں کی اجازت سے چین سے اپنے گھر لے آئیں اور گاہے گاہے لے جا کر ان کو دکھلا آتیں) غرض ہم نے موسیٰ (علیہ السلام کو اس طرح) ان کی والدہ کے پاس (اپنے وعدہ کے موافق) واپس پہنچا دیا تاکہ (اپنی اولاد کو دیکھ کر) ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور تاکہ (فراق کے) غم میں نہ رہیں اور تاکہ (مرتبہ معائنہ میں) اس بات کو (اور زیادہ یقین کے ساتھ) جان لیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا (ہوتا) ہے لیکن (افسوس کی بات ہے کہ) اکثر لوگ (اس کا یقین نہیں رکھتے (یہ تعریض ہے کفار پر)۔
Ayahs 28:2–4

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ آیتیں ہیں کھلی کتاب کی

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

ہم سناتے ہیں تجھ کو کچھ احوال موسیٰ اور فرعون کا تحقیقی ان لوگوں کے واسطے جو یقین کرتے ہیں

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

فرعون چڑھ رہا تھا ملک میں اور کر رکھا تھا وہاں کے لوگوں کو کئی فرقے کمزور کر رکھا تھا ایک فرقہ کو ان میں ذبح کرتا تھا ان کے بیٹوں کو اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتوں کو بیشک وہ تھا خرابی ڈالنے والا

معارف و مسائل سورة قصص مکی سورتوں میں سب سے آخری سورت ہے جو ہجرت کے وقت مکہ مکرمہ اور جحفہ (رابغ) کے درمیان نازل ہوئی۔ بعض روایات میں ہے کہ سفر ہجرت میں جب رسول اللہ ﷺ جحفہ یعنی رابغ کے قریب پہنچے تو جبرئیل امین تشریف لائے اور رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اے محمد ﷺ کیا آپ کو آپ کا وطن جس میں آپ پیدا ہوئے یاد آتا ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہاں ضرور یاد آتا ہے۔ اس پر جبرئیل امین نے یہ سورت قرآن سنائی جس کے آخر میں آنحضرت ﷺ کو اس کی بشارت ہے کہ انجام کار مکہ مکرمہ فتح ہو کر آپ کے قبضہ میں آئے وہ آیت یہ ہے اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَاۗدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ ، سورة قصص میں سب سے پہلے حضرت موسیٰ ؑ کا قصہ پہلے اجمال کے ساتھ پھر تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ نصف سورت تک موسیٰ ؑ کا قصہ فرعون کے ساتھ اور آخر سورت میں قارون کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کا قصہ پورے قرآن میں کہیں مختصر کہیں مفصل بار بار آیا ہے سورة کہف میں تو ان کے اس قصہ کی تفصیل آئی ہے جو خضر ؑ کے ساتھ پیش آیا، پھر سورة طہ میں پورے قصہ کی تفصیل ہے اور یہی تفصیل سورة نمل میں بھی کچھ آئی ہے پھر سورة قصص میں اس کا اعادہ ہوا ہے۔ سورة طہ میں جہاں موسیٰ ؑ کے لئے ارشاد ربانی یہ آیا ہے کہ وَفَتَنّٰكَ فُتُوْنًا حضرات محدثین امام نسائی وغیرہ نے اس پورے قصے کی مکمل تفصیل وہاں لکھی ہے احقر نے بھی ابن کثیر کے حوالہ سے یہ مکمل تفصیل سورة طہ میں بیان کردی ہے۔ اس قصہ کے متعلقہ اجزاء کی تمام بحثیں اور ضروری مسائل اور فوائد کچھ سورة کہف میں باقی سورة طہ میں ذکر کردیئے گئے ہیں۔ مسائل و مباحث کے لئے ان کو دیکھنا کافی ہوگا یہاں صرف الفاظ آیات کی مختصر تفسیر پر اکتفا کیا جائے گا۔
Ayahs 28:5–6

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

اور ہم چاہتے ہیں کہ احسان کریں ان لوگوں پر جو کمزور ہوئے پڑے تھے ملک میں اور کردیں ان کو سردار اور کردیں ان کو قائم مقام

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور جما دیں ان کو ملک میں اور دکھا دیں فرعون اور ہامان کو اور ان کے لشکروں کو ان کے ہاتھ سے جس چیز کا ان کو خطرہ تھا

وَنُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَي الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ اَىِٕمَّةً ، الآیتہ، اس آیت میں تدبیر فرعونی کا بمقابلہ تقدیر الہی کے نہ صرف خائب و خاسر ہونا بلکہ فرعون اور اس کے سب اہل دربار کو انتہائی بیوقوف بلکہ اندھا بنانے کا ذکر ہے کہ جس لڑکے کے متعلق خواب اور تعبیر خواب کی بناء پر فرعون کو خطرہ لاحق ہوا تھا اور جس کی بناء پر بنی اسرائیل کے لاتعداد نوزائیدہ لڑکوں کو ذبح کرنے کا قانون جاری کیا تھا اس کو حق تعالیٰ نے اسی فرعون کے گھر میں اسی کے ہاتھوں پرورش کرایا اور والدہ کے اطمینان کے لئے انہی کی گود میں حیرت انگیز طریقہ پر پہنچا دیا اور فرعون سے رضاعت کا خرچ جو بعض روایات میں ایک دینار روزانہ بتلایا گیا ہے مزید وصول کیا گیا اور دودھ پلانے کا یہ معاوضہ چونکہ ایک کافر حربی سے اس کی رضامندی کے ساتھ لیا گیا ہے اس لئے اس کے جواز میں بھی کوئی اشکال نہیں اور بالاخر جس خطرہ کے دور کرنے کے لئے ساری قوم پر یہ مظالم ڈھائے تھے وہ اسی کے گھر کے اندر سے ایک شدید لاوا بن کر پھوٹا اور خواب کی تعبیر اللہ تعالیٰ نے اس کو آنکھوں سے دکھاوی وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَحْذَرُوْنَ کا یہی حاصل ہے۔
Ayahs 28:7–13

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

اور ہم نے حکم بھیجا موسیٰ کی ماں کو کہ اس کو دودھ پلاتی رہ پھر جب تجھ کو ڈر ہو اس کا تو ڈال دے اس کو دریا میں اور نہ خطرہ کر اور نہ غمگین ہو ہم پھر پہنچا دیں گے اس کو تیری طرف اور کردیں گے اس کو رسولوں سے

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

پھر اٹھا لیا اس کو فرعون کے گھر والوں نے کہ ہو ان کا دشمن اور غم میں ڈالنے والا بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر تھے چوکنے والے

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

اور بولی فرعون کی عورت یہ تو آنکھوں کی ٹھنڈک ہے میرے لئے اور تیرے لئے اس کو مت مارو، کچھ بعید نہیں جو ہمارے کام آئے یا ہم اس کو کرلیں بیٹا اور ان کو کچھ خبر نہ تھی

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

اور صبح کو موسیٰ کی ماں کے دل میں قرار نہ رہا قریب تھی کہ ظاہر کر دے بیقراری کو، اگر نہ ہم نے گرہ دی ہوتی اس کے دل پر اس واسطے کہ رہے یقین کرنے والوں میں

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

اور کہہ دیا اس کی بہن کو پیچھے چلی جا پھر دیکھتی رہی اس کو اجنبی ہو کر اور ان کو خبر نہ ہوئی

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور روک رکھا تھا ہم نے موسیٰ سے دائیوں کو پہلے سے پھر بولی میں بتلاؤں تم کو ایک گھر والے کو اس کو پال دیں تمہارے لئے اور وہ اس کا بھلا چاہنے والے ہیں ،

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

پھر ہم نے پہنچا دیا اس کو اس کی ماں کی طرف کہ ٹھنڈی رہے اس کی آنکھ اور غمگین نہ ہو اور جانے کہ اللہ کا وعدہ ٹھیک ہے پر بہت لوگ نہیں جانتے۔

وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى، وحی کا لفظ اس جگہ لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے، وحی نبوت مراد نہیں اس کی تحقیق سورة طہ میں گزر چکی ہے۔
Ayahs 28:14–15

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

اور جب پہنچ گیا اپنے زور پر اور سنبھل گیا دی ہم نے اس کو حکمت اور سمجھ اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکی والوں کو

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور آیا شہر کے اندر جس وقت بیخبر ہوئے تھے وہاں کے لوگ پھر پائے اس میں دو مرد لڑتے ہوئے یہ ایک اس کے رفیقوں میں اور یہ دوسرا اس کے دشمنوں میں پھر فریاد کی اس سے اس نے جو تھا اس کے رفیقوں میں اس کی جو تھا اس کے دشمنوں میں پھر مکا مارا اس کو موسیٰ نے پھر اس کو تمام کردیا بولا یہ ہوا شیطان کے کام سے بیشک وہ دشمن ہے بہکانے والا صریح

خلاصہ تفسیر اور جب (پرورش پاکر) اپنی بھری جوانی (کی عمر) کو پہنچے اور (قوت جسمانیہ و عقلیہ سے) درست ہوگئے تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا فرمایا (یعنی نبوت سے پہلے ہی فہم سلیم و عقل مستقیم جس سے حسن و قبح میں امتیاز کرسکیں عنایت فرمائی) اور ہم نیکو کاروں کو یوں ہی صلہ دیا کرتے ہیں (یعنی عمل صالح سے فیضان علمی میں ترقی ہوتی ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ فرعون کے مشرب کو موسیٰ ؑ نے کبھی اختیار نہ کیا تھا بلکہ اس سے نفور رہے) اور (اسی زمانہ کا ایک واقعہ یہ ہوا کہ ایک بار) موسیٰ ؑ شہر میں (یعنی مصر میں کذا فی الروح عن ابن اسحاق کہیں باہر سے) ایسے وقت پہنچے کہ وہاں کے (اکثر) باشندے بیخبر (پڑے سو رہے) تھے (اکثر روایات سے یہ وقت دوپہر کا معلوم ہوتا ہے اور بعض روایات سے کچھ رات گئے کا وقت معلوم ہوتا ہے کہ کذا فی الدر المنثور) تو انہوں نے وہاں دو آدمیوں کو لڑتے دیکھا، ایک تو ان کی برادری (یعنی بنی اسرائیل میں کا تھا اور دوسرا ان کے مخالفین (یعنی فرعون کے متعلقین ملازمین) میں سے تھا (دونوں کسی بات پر الجھ رہے تھے اور زیادتی اس فرعونی کی تھی) سو وہ جو ان کی برادری کا تھا اس نے (جو) موسیٰ (علہ السلام کو دیکھا تو ان) سے اس کے مقابلہ میں جو کہ ان کے مخالفین میں سے تھا مدد چاہی (موسیٰ ؑ نے اول اس کو سمجھایا جب اس پر بھی وہ باز نہ آیا) تو موسیٰ ؑ نے (تادیباً دفع ظلم کیلئے) اس کو (ایک) گھوسا مارا سو اس کا کام بھی تمام کردیا (یعنی اتفاق سے وہ مر ہی گیا) موسیٰ (علیہ السلام اس خلاف توقع نتیجہ سے بہت پچھتائے اور) کہنے لگے کہ یہ تو شیطانی حرکت ہوگئی بیشک شیطان (بھی آدمی کا) کھلا دشمن ہے کسی غلطی میں ڈال دیتا ہے (اور نادم ہو کر حق تعالیٰ سے) عرض کیا کہ اے میرے پروردگار مجھ سے قصور ہوگیا آپ معاف کر دیجئے سو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا، بلاشبہ وہ غفور و رحیم ہے (گو ظہور اور علم اس معافی کا قطعی طور پر وقت عطاء نبوت کے ہوا کما فی النمل اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْـنًۢا بَعْدَ سُوْۗءٍ فَاِنِّىْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ اور اس وقت خواہ الہام سے معلوم ہوگیا ہو یا بالکل نہ معلوم ہوا ہو) موسیٰ ؑ نے (توبہ عن الماضی کے ساتھ مستقبل کے متعلق یہ بھی) عرض کیا کہ اے میرے پروردگار چونکہ آپ نے مجھ پر (بڑے بڑے) انعامات فرمائے ہیں (جن کا ذکر طہ میں ہے وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَيْكَ مَرَّةً اُخْرٰٓى الی قولہ وَلَا تَحْزَنَ) سو کبھی میں مجرموں کی مدد نہ کروں گا (یہاں مجرمین سے مراد وہ ہیں جو دوسروں سے گناہ کا کام کرانا چاہیں، کیونکہ گناہ کرانا کسی سے یہ بھی جرم ہے پس اس میں شیطان بھی داخل ہوگیا کہ وہ گناہ کراتا ہے اور گناہ کرنے والا اس کی مدد کرتا ہے خواہ عمداً یا خطاءً جیسے اس آیت میں ہے وکان الکافر علی ربہ ظہیراً ای للشیطان، مطلب یہ ہوا کہ میں شیطان کا کہنا کبھی نہ مانوں گا یعنی مواقع محتملہ خطاء میں احتیاط و تیقظ سے کام لوں گا اور اصل مقصود اتنا ہی ہے مگر شمول حکم کے لئے مجرمین جمع کا صیغہ لایا گیا کہ اوروں کو بھی عام ہوجاوے غرض اس اثناء میں اس کا چرچا ہوگیا مگر بجز اسرائیلی کے کوئی واقف راز نہ تھا اور چونکہ اسی کی حمایت میں یہ واقعہ ہوا تھا اس لئے اس نے اظہار نہیں کیا اس وجہ سے کسی کو اطلاع نہ ہوئی مگر موسیٰ ؑ کو اندیشہ رہا، یہاں تک رات گزری) پھر موسیٰ ؑ کو شہر میں صبح ہوئی خوف اور وحشت کی حالت میں کہ اچانک (دیکھتے کیا ہیں کہ) وہی شخص جس نے کل گزشتہ میں ان سے امداد چاہی ہے وہ پھر ان کو (مدد کے لئے) پکار رہا ہے کہ (کسی اور سے الجھ پڑا تھا) موسیٰ (علیہ السلام یہ دیکھ کر اور کل کی حالت یاد کر کے اس پر ناخوش ہوئے اور) اس سے فرمانے لگے بیشک تو صریح بد راہ (آدمی) ہے کہ روز لوگوں سے لڑا کرتا ہے موسیٰ ؑ کو قرآئن سے معلوم ہوا ہوگا کہ اس کی طرف سے بھی کوئی غصہ ہوا ہے لیکن زیادتی فرعونی کی دیکھ کر اس کو روکنے کا ارادہ کیا) سو جب موسیٰ ؑ نے اس پر ہاتھ بڑھایا جو دونوں کا مخالف تھا (مراد فرعونی ہے کہ وہ اسرائیلی کا بھی مخالف تھا اور موسیٰ ؑ کا بھی کیونکہ موسیٰ ؑ بنی اسرائیل میں سے ہیں اور وہ لوگ سب بنی اسرائیل کے مخالف تھے گویا بالتعیین موسیٰ ؑ کو اسرائیلی نہ سمجھا ہو اور یا موسیٰ ؑ چونکہ فرعون کے طریقہ سے نفور تھے یہ امر مشہور ہوگیا ہو اس لئے فرعون والے ان کے مخالف ہوگئے ہوں۔ بہرحال جب موسیٰ ؑ نے اس فرعونی پر ہاتھ لپکایا اور اس سے پہلے اسرائیلی پر خفا ہوچکے تھے تو اس سے اس اسرائیلی کو شبہ ہوا کہ شاید آج مجھ پر دارو گیر کریں گے تو گھبرا کر) وہ اسرائیلی کہنے لگا اے موسیٰ کیا (آج) مجھ کو قتل کرنا چاہتے ہو جیسا کہ کل ایک آدمی کو قتل کرچکے ہو (معلوم ہوتا ہے کہ) بس تم دنیا میں اپنا زور بٹھلانا چاہتے ہو اور صلح (اور ملاپ) کروانا نہیں چاہتے (یہ کلمہ اس فرعونی نے سنا، قاتل کی تلاش ہو رہی تھی اتنا سراغ لگ جانا بہت ہے فوراً فرعون کو خبر پہنچا دی۔ فرعون اپنے آدمی کے مارے جانے سے برہم تھا یہ سن کر آشفتہ ہوا اور شاید اس سے اس کا وہ خواب کا اندیشہ قوی ہوگیا ہو کہ کہیں وہ شخص یہی نہ ہو، خصوصاً اگر موسیٰ ؑ کا فرعونی طریقہ کو ناپسند کرنا بھی فرعون کو معلوم ہو تو کچھ عداوت اس سبب سے ہوگی اس پر یہ مزید ہوا۔ بہرحال اس نے اپنے درباریوں کو مشورہ کے لئے جمع کیا اور اخیر رائے موسیٰ ؑ کو قتل کرنے کی قرار پائی) اور (اس مجمع میں) ایک شخص (موسیٰ ؑ کے محب اور خیر خواہ تھے وہ) شہر کے (اس) کنارے سے (جہاں یہ مشورہ ہو رہا تھا موسیٰ ؑ کے پاس نزدیک کی گلیوں سے) دوڑتے ہوئے آئے (اور) کہنے لگے کہ اے موسیٰ اہل دربار آپ کے متعلق مشورہ کر رہے ہیں کہ آپ کو قتل کردیں سو آپ (یہاں سے) چل دیجئے میں آپ کی خیر خواہی کر رہا ہوں پس (یہ سن کر) موسیٰ ؑ وہاں سے (کسی طرف کو) نکل گئے، خوف اور وحشت کی حالت میں (اور چونکہ راستہ معلوم نہ تھا دعا کے طور پر) کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار مجھ کو ان ظالم لوگوں سے بچا لیجئے (اور امن کی جگہ پہنچا دیجئے۔ معارف و مسائل وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَاسْتَوٰٓى، اشد کے لفظی معنے قوت و شدت کی انتہا پر پہنچنا ہے یعنی انسان بچپن کے ضعف سے تدریجاً قوت و شدت کی طرف بڑھتا ہے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کے وجود میں جتنی قوت و شدت آسکتی تھی وہ پوری ہوجائے اس وقت کو اشد کہا جاتا ہے اور یہ زمین کے مختلف خطوں اور قوموں کے مزاج کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے کسی کا اشد کا زمانہ جلد آجاتا ہے کسی کا دیر میں۔ لیکن حضرت ابن عباس اور مجاہد سے بروایت عبد ابن حمید یہ منقول ہے کہ اشد عمر کے تینتیس سال میں ہوتا ہے اسی کو سن کمال یا سن وقوف کہا جاتا ہے جس میں بدن کا نشو و نما ایک حد پر پہنچ کر رک جاتا ہے اس کے بعد چالیس کی عمر تک وقوف کا زمانہ ہے اسی کو استوی کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے چالیس سال کے بعد انحطاط اور کمزوری شروع ہوجاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عمر کا اشد تینتیس سال کی عمر سے شروع ہو کر چالیس سال تک رہتا ہے۔ (روح و قرطبی) اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا، حکم سے مراد نبوت و رسالت ہے اور علم سے مراد احکام الہیہ شرعیہ کا علم ہے۔ وَدَخَلَ الْمَدِيْنَةَ عَلٰي حِيْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا، المدینہ سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک شہر مصر ہے۔ اس میں داخل ہونے کے لفظ سے معلوم ہوا کہ موسیٰ ؑ مصر سے باہر کہیں گئے ہوئے تھے پھر ایک روز اس شہر میں ایسے وقت داخل ہوئے جو عام لوگوں کی غفلت کا وقت تھا۔ آگے قتل قبطی کے قصہ میں اس کا بھی تذکرہ ہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جب موسیٰ ؑ نے اپنی نبوت و رسالت کا اور دین حق کا اظہار شروع کردیا تھا اسی کے نتیج میں کچھ لوگ ان کے مطیع و فرمانبردار ہوگئے تھے جو ان کے متبعین کہلاتے تھے مِنْ شِيْعَتِهٖ کا لفظ اس پر شاہد ہے۔ ان تمام قرائن سے اس روایت کی تائید ہوتی ہے جو ابن اسحاق اور ابن زید سے منقول ہے کہ جب موسیٰ ؑ نے ہوش سنبھالا اور دین حق کی کچھ باتیں لوگوں سے کہنے لگے تو فرعون ان کا مخالف ہوگیا اور قتل کا ارادہ کیا مگر فرعون کی بیوی حضرت آسیہ کی درخواست پر ان کے قتل سے باز آیا مگر ان کو شہر سے نکالنے کا حکم دیدیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ شہر میں کسی جگہ رہنے لگے اور کبھی کبھی چھپ کر مصر شہر میں آتے تھے اور عَلٰي حِيْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک دوپہر کا وقت ہے جبکہ لوگ قیلولہ میں تھے۔ (قرطبی) فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى، وکز کے معنے مکا مارنے کے ہیں، فَقَضٰى عَلَيْهِ ، قضاہ اور قضی علیہ کا محاورہ اس وقت بولا جاتا ہے جب کسی شخص کا بالکل کام تمام کردے اور فارغ ہوجائے۔ اسی لئے یہاں اس کے معنی قتل کردینے کے ہیں۔ (مظہری)
Ayah 28:16

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

بولا اے میرے رب میں نے برا کیا اپنی جان کا، سو بخش مجھ کو پھر اس کو بخش دیا بیشک وہی ہے بخشنے والا مہربان

قَالَ رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ فَغَفَرَ لَهٗ ، اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ اس قبطی کافر کا قتل جو حضرت موسیٰ ؑ سے بلا ارادہ صادر ہوگیا تھا موسیٰ ؑ نے اس کو بھی اپنے منصب نبوت و رسالت اور پیغمبرانہ عظمت شان کے لحاظ سے اپنا گناہ قرار دے کر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔ یہاں پہلا سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ قبطی کافر شرعی اصطلاح کے لحاظ سے ایک حربی کافر تھا جس کا قتل عمداً بھی مباح اور جائز تھا کیونکہ نہ یہ کسی اسلامی حکومت کا ذمی تھا نہ موسیٰ ؑ سے اس کا کوئی معاہدہ تھا پھر موسیٰ ؑ نے اس کو عمل شیطان اور گناہ کیوں قرار دیا۔ جواب یہ ہے کہ معاہدہ جیسے قولی اور تحریری ہوتا ہے جیسے عموماً اسلامی حکومتوں میں اہل ذمہ سے معاہدہ یا کسی غیر مسلم حکومت سے صلح کا معاہدہ اور یہ معاہدہ باتفاق واجب العمل اور اس کی خلاف ورزی عذر اور عہد شکین کے سبب حرام ہوتی ہے اسی طرح معاہدہ عملی بھی ایک قسم کا معاہدہ ہی ہوتا ہے۔ اس کی بھی پابندی لازمی اور خلاف ورزی عہد شکنی کے مترادف ہے۔ معاہدہ عملی کی صورت یہ ہے کہ جس جگہ مسلمان اور کچھ غیر مسلم کسی دوسری حکومت میں باہمی امن و اطمینان کے ساتھ رہتے بستے ہوں، ایک دوسرے پر حملہ کرنا یا لوٹ مار کرنا طرفین سے غداری سمجھا جاتا ہو تو اس طرح کی معاشرت اور معاملات بھی ایک قسم کا عملی معاہدہ ہوتے ہیں ان کی خلاف ورزی جائز نہیں اس کی دلیل حضرت مغیرہ بن شعبہ کی وہ طویل حدیث ہے جس کو امام بخاری نے کتاب الشروط میں مفصل روایت کیا ہے اور واقعہ اس کا یہ تھا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ قبل از اسلام اپنے زمانہ جاہلیت میں ایک جماعت کفار کے ساتھ مصاحبت اور معاشرت رکھتے تھے پھر ان کو قتل کر کے ان کے اموال پر قبضہ کرلیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سلمان ہوگئے اور جو مال ان لوگوں کا لیا تھا وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا اس پر آپ نے ارشاد فرمایا، امّا الاسلام فاقبل وامّا المال فلست منہ فی شئی اور ابو داؤد کی روایت میں اس کے الفاظ یہ ہیں، امّا المال فمال غدر لاحاجتہ لنا فیہ، یعنی آپ کا اسلام تو ہم نے قبول کرلیا اور اب آپ مسلمان ہیں مگر یہ مال ایسا مال ہے جو غدر اور عہد شکنی سے حاصل ہوا ہے اس لئے ہمیں اس مال کی کوئی حاجت نہیں۔ شارح بخاری حافظ ابن حجر نے شرح میں فرمایا کہ اس حدیث سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ کفار کا مال حالت امن میں لوٹ لینا حلال نہیں کیونکہ ایک بستی کے رہنے والے یا ایک ساتھ کام کرنے والے ایک دوسرے سے اپنے کو مامون سمجھتے ہیں ان کا یہ عملی معاہدہ بھی ایک امانت ہے جس کا صاحب امانت کو ادا کرنا فرض ہے چاہے وہ کافر ہو یا مسلم اور کفار کے اموال جو مسلمانوں کے لئے حلال ہوتے ہیں تو وہ صرف محاربہ اور مغالبہ کی صورت میں حلال ہوتے ہیں حالت امن وامان میں جبکہ ایک دوسرے سے اپنے کو مامون سمجھ رہا ہو کسی کافر کا مال لوٹ لینا جائز نہیں اور قسطلانی نے شرح بخاری میں فرمایا۔ ان اموال المشرکین ان کانت مغنومۃ عند القھر فلا یحل اخذھا عند الامن فاذا کان الانسان مصاحبا لھم فقد امن کل واحد منھم صاحبہ فسفک الدماء و اخذ المال مع ذلک غدر حرام الا ان ینبذ الیھم عھدھم علی سواء۔ بیشک مشرکین کے اموال جنگ اور جہاد کے وقت مغنوم و مباح ہیں لیکن امن کی حالت میں حلال نہیں اس لئے جو مسلمان کفار کے ساتھ رہتا سہتا ہو کہ عملی طور پر ایک دوسرے سے مامون ہو تو ایسی حالت میں کسی کافر کا خون بہانا یا مال زبردستی لینا غدر حرام ہے جب تک کہ ان کے اس عملی معاہدہ سے دست برداری کا اعلان نہ کرے۔ خلاصہ یہ ہے کہ قبطی کا قتل اس عملی معاہدہ کی بناء پر اگر بالقصد ہوتا تو جائز نہیں تھا مگر حضرت موسیٰ ؑ نے اس کے قتل کا ارادہ نہیں کیا تھا بلکہ اسرائیلی شخص کو اس کے ظلم سے بچانے کے لئے ہاتھ کی ضرب لگائی جو عادة سبب قتل نہیں ہوتی مگر قبطی اس ضرب سے مر گیا تو موسیٰ ؑ کو یہ احساس ہوا کہ اس کو دفع کرنے کے لئے اس ضرب سے کم درجہ بھی کافی تھا یہ زیادتی میرے لئے درست نہ تھی اسی لئے اس کو عمل شیطان قرار دے کر اس سے مغفرت طلب فرمائی۔ فائدہیہ تحقیق حکیم الامۃ مجدد الملۃ سیدی حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ کی ہے جو آپ نے بزبان عربی احکام القرآن سورة قصص لکھتے وقت ارشاد فرمائی تھی، اور یہ آخری علمی تحقیق ہے جس کا استفادہ احقر نے حضرت سے کیا کیونکہ آپ نے یہ ارشاد 2 رجب 1362 ھ میں فرمایا تھا اس کے بعد مرض کی شدت بڑھی اور 16 رجب کو یہ آفتاب عالم غروب ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون اور بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اگرچہ قبطی کا قتل مباح تھا مگر انبیائ (علیہم السلام) مباحات میں بھی اہم معاملات میں اس وقت تک اقدام نہیں کرتے جب تک خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت و اشارہ نہ ملے، اس موقع پر حضرت موسیٰ ؑ نے خصوصی اجازت کا انتظار کئے بغیر یہ اقدام فرمایا تھا اس لئے اپنی شان کے مطابق اس کو گناہ قرار دے کر استغفار کیا (کذا فی الروح وغیرہ ولہ وجہ)
Ayahs 28:17–21

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

بولا اے رب جیسا تو نے فضل کردیا مجھ پر پھر میں کبھی نہ ہوں گا مددگار گنہگاروں کا

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

پھر صبح کو اٹھا اس شہر میں ڈرتا ہوا انتظار کرتا ہوا پھر ناگہاں جس نے کل مدد مانگی تھی اس سے آج پھر فریاد کرتا ہے اس سے کہا موسیٰ نے بیشک تو بےراہ ہے صریح

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

پھر جب چاہا کہ ہاتھ ڈالے اس پر جو دشمن تھا ان دونوں کا بول اٹھا اے موسیٰ کیا تو چاہتا ہے کہ خون کرے میرا جیسے خون کرچکا ہے کل ایک جان کا تیرا یہی جی چاہتا ہے کہ زبردستی کرتا پھرے ملک میں اور نہیں چاہتا کہ ہو صلح کرا دینے والا

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اور آیا شہر کے پرلے سرے سے ایک مرد دوڑتا ہوا کہ اے موسیٰ دربار والے مشورہ کرتے ہیں تجھ پر کہ تجھ کو مار ڈالیں سو نکل جا میں تیرا بھلا چاہنے والا ہوں

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

پھر نکلا وہاں سے ڈرتا ہوا راہ دیکھتا بولا اے رب بچا لے مجھ کو اس قوم بےانصاف سے۔

قَالَ رَبِّ بِمَآ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِيْرًا لِّلْمُجْرِمِيْنَ ، حضرت موسیٰ ؑ کی اس لغزش کو جب حق تعالیٰ نے معاف فرما دیا تو آپ نے اس نعمت کے شکر میں یہ عرض کیا کہ میں آئندہ کسی مجرم کی مدد نہ کروں گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے جس اسرائیلی کی مدد کے لئے یہ اقدام کیا تھا دوسرے واقعہ سے یہ بات ثابت ہوگئی تھی کہ وہ خود ہی جھگڑالو ہے، جھگڑا لڑائی اس کی عادت ہے اس لئے اس کو مجرم قرار دے کر آئندہ کسی ایسے شخص کی مدد نہ کرنے کا عہد فرمایا اور حضرت ابن عباس سے اس جگہ مجرمین کی تفسیر کافرین کے ساتھ منقول ہے اور قتادہ نے بھی تقریباً ایسا ہی فرمایا ہے اس تفسیر کی بنا پر واقعہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی جس کی امداد موسیٰ ؑ نے کی تھی یہ بھی مسلمان نہ تھا مگر اس کو مظلوم سمجھ کر امداد فرمائی۔ حضرت موسیٰ ؑ کے اس ارشاد سے دو مسئلے ثابت ہوئے۔ مسئلہاول یہ کہ مظلوم اگرچہ کافر یا فاسق ہی ہو اس کی امداد کرنا چاہئے۔ دوسرا مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ کسی مجرم ظالم کی مدد کرنا جائز نہیں۔ علماء نے اس آیت سے استدلال فرما کر ظالم حکام کی ملازمت کو بھی ناجائز قرار دیا ہے کہ وہ بھی ان کے ظلم کے شریک سمجھے جائیں گے اور اس پر سلف صالحین سے متعدد روایات نقل کی ہیں (کما فی روح المعانی) کفار یا ظالموں کی امداد و اعانت کی مختلف صورتیں ہیں اور ان کے احکام کتب فقہ میں مفصل مذکور ہیں۔ احقر نے احکام القرآن میں بزبان عربی اسی آیت کے ذیل میں اس مسئلہ کی پوری تحقیق و تنقیح لکھ دی ہے اہل علم اس کو دیکھ سکتے ہیں۔
Ayah 28:22

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

اور جب منہ کیا مدین کی سیدھ پر بولا امید ہے کہ میرا رب لے جائے مجھ کو سیدھی راہ پر

خلاصہ تفسیر اور جب موسیٰ (علیہ السلام یہ دعا کر کے ایک سمت کو توکلا علی اللہ چلے اور بتائید غیبی) مدین کی طرف ہو لئے (چونکہ راستہ معلوم نہ تھا اس لئے تقویت و توکل اور نفس کو تسکین دینے کے لئے آپ ہی آپ) کہنے لگے کہ امید ہے کہ میرا رب مجھ کو (کسی مقام امن کا) سیدھا راستہ چلاوے گا (چنانچہ ایسا ہی ہوا اور مدین جا پہنچے) اور جب مدین کے پانی (یعنی کنوئیں) پر پہنچے تو اس پر (مختلف) آدمیوں کا ایک مجمع دیکھا جو (اس کنوئیں سے کھینچ کھینچ کر اپنے مواشی کو) پانی پلا رہے تھے اور ان لوگوں سے ایک طرف (الگ) دو عورتیں دیکھیں کہ وہ (اپنی بکریاں) روکے کھڑی ہیں، موسیٰ ؑ نے (ان سے) پوچھا تمہارا کیا مطلب ہے وہ دونوں بولیں کہ (ہمارا معمول یہ ہے کہ) ہم (اپنے جانوروں کو) اس وقت تک پانی نہیں پلاتے جب تک کہ یہ چرواہے (جو کنوئیں پر پانی پلا رہے ہیں) پانی پلا کر (جانوروں کو) ہٹا کر نہ لے جاویں (ایک تو حیا کے سبب، دوسرے مردوں سے مزاحمت ناتوانوں سے کب ہو سکتی ہے) اور (اس حالت میں ہم آتے بھی نہیں مگر) ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں (اور گھر پر اور کوئی کام کرنے والا ہی نہیں اور کام ضروری ہے اس مجبوری کو ہم کو آنا پڑتا ہے) پس (یہ سن کر) موسیٰ (علیہ السلام کو رحم آیا اور انہوں نے) ان کے لئے پانی (کھینچ کر ان کے جانوروں کو) پلایا (ور ان کو انتظار اور پانی کھینچنے کی تکلیف سے بچایا) پھر (وہاں سے) ہٹ کر (ایک) سایہ (کی جگہ) میں جا بیٹھے (خواہ کسی پہاڑ کا سایہ ہو یا کسی درخت کا) پھر (جناب باری میں) دعا کی کہ اے میرے پروردگار (اس وقت) جو نعمت بھی (قلیل یا کثیر) آپ مجھ کو بھیج دیں میں اس کا (سخت) حاجتمند ہوں (کیونکہ اس سفر میں کچھ کھانے پینے کو نہ ملا تھا۔ حق تعالیٰ نے اس کا یہ سامان کیا کہ وہ دونوں بیبیاں اپنے گھر لوٹ کر گئیں تو باپ نے معمول سے جلدی آجانے کی وجہ دریافت کی، انہوں نے موسیٰ ؑ کا پورا قصہ بیان کیا انہوں نے ایک لڑکی کو بھیجا کہ ان کو بلا لاؤ) موسیٰ ؑ کے پاس ایک لڑکی آئی کہ شرماتی ہوئی چلتی تھی (جو کہ اہل شرف کی طبعی حالت ہے اور آ کر) کہنے لگی کہ میرے والد تم کو بلاتے ہیں تاکہ تم کو اس کا صلہ دیں جو تم نے ہماری خاطر (ہمارے جانوروں کو) پانی پلا دیا تھا (یہ ان صاحبزادی کو اپنے والد کی عادت سے معلوم ہوا ہوگا کہ احسان کی مکافات کیا کرتے ہوں گے۔ موسیٰ ؑ ساتھ ہو لئے گو مقصود موسیٰ ؑ کا بالیقین اپنی خدمت کا معاوضہ لینا نہ تھا لیکن مقام امن اور کسی رفیق شفیق کے ضرور باقتضائے وقت جویاں تھے اور اگر بھوک کی شدت بھی اس جانے کا ایک جزو علت ہو تو مضائقہ نہیں اور اس کو اجرت سے کچھ تعلق نہیں اور ضیافت کی تو استدعا بھی بالخصوص حاجت کے وقت اور خصوصاً کریم و شریف آدمی سے کچھ ذلت نہیں چہ جائیکہ دوسرے کی استدعا پر ضیافت کا قبول کرلینا، راہ میں موسیٰ ؑ نے ان بی بی سے فرمایا کہ تم میرے پیچھے ہوجاؤ میں اولاد ابراہیم سے ہوں، اجنبیہ کو بےوجہ بےقصد دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا، غرض اسی طرح ان بزرگ کے پاس پہنچے) سو جب ان کے پاس پہنچے اور ان سے تمام حال بیان کیا تو انہوں نے (تسلی دی اور) کہا کہ (اب) اندیشہ نہ کرو تم ظالم لوگوں سے بچ آئے (کیونکہ اس مقام پر فرعون کی عملداری نہ تھی کذا فی الروح، پھر) ایک لڑکی نے کہا کہ ابا جان (آپ کو آدمی کی ضرورت ہے اور ہم سیانی ہوگئیں اب گھر میں رہنا مناسب ہے تو) آپ ان کو نوکر رکھ لیجئے، کیونکہ اچھا نوکر وہ شخص ہی جو مضبوط (ہو اور) امانت دار (بھی) ہو (اور ان میں دونوں صفتیں ہیں، چناچہ قوت ان کے پانی کھینچنے سے اور امانت ان کے برتاؤ سے، خصوصاً راہ میں عورت کو پیچھے کردینے سے ظاہر ہوتی تھی اور اپنے باپ سے بھی بیان کیا تھا اس پر) وہ (بزرگ موسیٰ ؑ سے) کہنے لگے میں چاہتا ہوں کہ ان دو لڑکیوں میں سے ایک کو تمہارے ساتھ بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم آٹھ سال میری نوکری کرو (اور اس نوکری کا بدلہ وہی نکاح ہے، حاصل یہ کہ آٹھ سال کی خدمت اس نکاح کا مہر ہے) پھر اگر تم دس سال پورے کردو تو یہ تمہاری طرف سے (احسان) ہے (یعنی میری طرف سے جبر نہیں) اور میں (اس معاملہ میں) تم پر کوئی مشقت ڈالنا نہیں چاہتا (یعنی کام لینے اور وقت کی پابندی وغیرہ معاملہ کی فروعات میں آسانی برتوں گا اور) تم مجھ کو انشاء اللہ تعالیٰ خوش معاملہ پاؤ گے موسیٰ (علیہ السلام رضا مند ہوگئے اور) کہنے لگے کہ (بس تو) یہ بات میرے اور آپ کے (درمیان (پکی) ہوچکی، میں ان دونوں مدتوں میں سے جس (مدت) کو بھی پورا کر دوں مجھ پر کوئی جبر نہ ہوگا اور ہم جو (معاملہ) کی بات چیت کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کا گواہ (کافی) ہے (اس کو حاضر ناظر سمجھ کر عہد پورا کرنا چاہئے۔) معارف و مسائل وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاۗءَ مَدْيَنَ ، مدین ملک شام کے ایک شہر کا نام ہے جو مدین بن ابراہیم کے نام سے موسوم ہے۔ یہ علاقہ فرعونی حکومت سے خارج تھا۔ مصر سے مدین کی مسافت آٹھ منزل کی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ کو جب فرعونی سپاہیوں کے تعاقب کا طبعی خوف پیش آیا، جو نہ نبوت و معرفت کے منافی ہے نہ توکل کے، تو مصر سے ہجرت کا ارادہ کیا اور مدین کی سمت شاید اس لئے متعین کی کہ مدین بھی اولاد ابراہیم ؑ کی بستی تھی اور حضرت موسیٰ ؑ بھی ان کی اولاد میں تھے۔ اس وقت حضرت موسیٰ ؑ بالکل بےسروسامانی کے ساتھ اس طرح مصر سے نکلے کہ نہ کوئی توشہ ساتھ تھا نہ کوئی سامان اور نہ راستہ معلوم، اسی اضطرار کی حالت میں اللہ تعالیٰ جل شانہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا عَسٰى رَبِّيْٓ اَنْ يَّهْدِيَنِيْ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ ، یعنی امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ دکھائے گا، اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی۔ مفسرین کا بیان ہے کہ اس سفر میں حضرت موسیٰ ؑ کی غذا صرف درختوں کے پتے تھے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ ؑ کا یہ سب سے پہلا ابتلاء اور امتحان تھا۔ موسیٰ ؑ کے ابتلاءات اور امتحانات کی تفصیلات طورہ طہ میں ایک طویل حدیث کے حوالہ سے بیان ہوچکی ہے۔
Ayah 28:23

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

اور جب پہنچا مدین کے پانی پر پایا وہاں ایک جماعت کو لوگوں کی پانی پلاتے ہوئے، اور پایا ان سے ورے دو عورتوں کو کہ روکے ہوئے کھڑی تھیں اپنی بکریاں، بولا تمہارا کیا حال ہے بولیں ہم نہیں پلاتیں پانی چرواہوں کے پھیر لے جانے تک اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا

وَلَمَّا وَرَدَ مَاۗءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُوْنَ ، مآء مدین سے مراد وہ کنواں ہے جس سے اس بستی کے لوگ اپنے مواشی کو پانی پلاتے تھے وَوَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَيْنِ تَذُوْدٰنِ ، یعنی دو عروتوں کو دیکھا کہ وہ اپنی بکریوں کو پانی کی طرف جانے سے روک رہی تھیں تاکہ ان کی بکریاں دوسرے لوگوں کی بکریوں میں رل نہ جائیں۔ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا ۭ قَالَتَا لَا نَسْقِيْ حَتّٰى يُصْدِرَ الرِّعَاۗءُ وَاَبُوْنَا شَيْخٌ كَبِيْرٌ، لفظ خطب شان اور حال کے معنے میں جبکہ وہ کوئی مہم کام ہو۔ معنے یہ ہیں کہ موسیٰ ؑ نے ان دونوں عورتوں سے پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے کہ تم اپنی بکریوں کو روکے کھڑی ہو دوسرے لوگوں کی طرح کنوئیں کے پاس لا کر پانی نہیں پلاتیں ؟ ان دونوں نے یہ جواب دیا کہ ہماری عادت یہی ہے کہ ہم مردوں کے ساتھ اختلاط سے بچنے کے لئے اس وقت تک اپنی بکریوں کو پانی نہیں پلاتیں جب تک یہ لوگ کنوئیں پر ہوتے ہیں، جب یہ چلے جاتے ہیں تو ہم اپنی بکریوں کو پلاتے ہیں اور اس میں جو یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ کیا تمہارا کوئی مرد نہیں جو عورتوں کو اس کام کے لئے نکالا ؟ اس کا جواب بھی ان عورتوں نے ساتھ ہی دے دیا کہ ہمارے والد بوڑھے ضعیف العمر ہیں وہ یہ کام نہیں کرسکتے اس لئے ہم مجبور ہوئے۔ اس واقعہ سے چند اہم فوائد حاصل ہوئے۔ اول یہ کہ ضعیفوں کی امداد انبیاء کی سنت ہے، حضرت موسیٰ ؑ نے دو عورتوں کو دیکھا کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لئے لائی ہیں مگر ان کو لوگوں کے ہجوم کے سبب موقع نہیں مل رہا تو ان سے حال دریافت کیا۔ دوسرا یہ کہ اجنبی عورت سے بوقت ضرورت بات کرنے میں مضائقہ نہیں جب تک کہ کسی فتنہ کا اندیشہ نہ ہو۔ تیسرا یہ کہ اگرچہ یہ واقعہ اس زمانے کا ہے جبکہ عورتوں پر پردہ لازم نہیں تھا جس کا سلسلہ اسلام کے بھی ابتدائی زمانہ تک جاری رہا۔ ہجرت مدینہ کے بعد عورتوں کے لئے پردہ کے احکام نازل ہوئے، لیکن اس وقت بھی پردہ کا جو اصل مقصد ہے وہ طبعی شرافت اور حیاء کے سبب عورتوں میں موجود تھا کہ ضرورت کے باوجود مردوں کے ساتھ اختلاط گوارا نہ کیا اور تکلیف اٹھانا قبول کیا۔ چوتھا یہ کہ عورتوں کا اس طرح کے کاموں کے لئے باہر نکلنا اس وقت بھی پسندیدہ نہیں تھا اسی لئے انہوں نے اپنے والد کے معذور ہونے کا عذر بیان کیا۔
Ayah 28:24

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

پھر اس نے پانی پلا دیا ان کے جانوروں کو پھر ہٹ کر آیا چھاؤں کی طرف، بولا اے رب تو جو چیز اتارے میری طرف اچھی میں اسی کا محتاج ہوں

فَسَقٰى لَهُمَا، یعنی موسیٰ ؑ نے ان عورتوں پر رحم کھا کر کنوئیں سے پانی نکال کر ان کی بکریوں کو سیراب کردیا۔ بعض روایات میں ہے کہ چرواہوں کی عادت یہ تھی کہ اپنے جانوروں کو پانی پلانے کے بعد کنوئیں کو ایک بھاری پتھر سے بند کردیتے تھے اور یہ عورتیں اپنی بکریوں کے لئے بچے کچے پانی پر اکتفا کرتی تھیں۔ یہ بھاری پتھر ایسا تھا جس کو دس آدمی مل کر اٹھاتے تھے مگر موسیٰ ؑ نے اس کو تنہا اٹھا کر الگ کردیا اور کنوئیں سے پانی نکالا۔ شاید اسی وجہ سے ان عورتوں میں سے ایک نے موسیٰ ؑ کے متعلق اپنے والد سے یہ کہا کہ یہ قوی ہیں۔ (قرطبی) ثُمَّ تَوَلّيٰٓ اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّىْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيْرٌ، حضرت موسیٰ ؑ نے سات روز سے کوئی غذا نہیں چکھی تھی، اس وقت ایک درخت کے سائے میں آ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی حالت اور حاجت پیش کی جو دعا کرنے کا ایک لطیف طریقہ ہے۔ لفظ خیر کبھی مال کے معنے میں آتا ہے جیسا اِنْ تَرَكَ خَيْرَۨا الْوَصِيَّةُ میں ہے، کبھی قوت کے معنے میں آتا ہے جیسے اَهُمْ خَيْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّــعٍ میں کبھی کھانے کے معنے میں بھی آتا ہے جو اس جگہ مراد ہے (قرطبی)
Ayah 28:25

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

پھر آئی اس کے پاس ان دونوں میں سے ایک چلتی تھی شرم سے بولی میرا باپ تجھ کو بلاتا ہے کہ بدلے میں دے حق اس کا کہ تو نے پانی پلا دیا ہمارے جانوروں کو پھر جب پہنچا اس کے پاس اور بیان کیا اس سے احوال، کہا مت ڈر بچ آیا تو اس قوم بےانصاف سے

فَجَاۗءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِيْ عَلَي اسْـتِحْيَاۗءٍ ، قرآنی اسلوب کے مطابق یہاں قصہ کو مختصر کردیا گیا ہے۔ پورا واقعہ یہ ہوا کہ یہ عورتیں اپنے مقررہ وقت سے پہلے جلدی سے گھر پہنچ گئیں تو ان کے والد نے وجہ دریافت کی، لڑکیوں نے واقعہ بتلایا۔ والد نے چاہا کہ اس شخص نے احسان کیا ہے۔ اس کی مکافات کرنا چاہئے اس لئے انہیں لڑکیوں میں سے ایک کو ان کے بلانے کے لئے بھجیا۔ یہ حیا کے ساتھ چلتی ہوئی پہنچی۔ اس میں بھی اشارہ ہے کہ باوجود پردہ کے باقاعدہ احکام نازل نہ ہونے کے نیک عورتیں مردوں سے بےمحابا خطاب نہ کرتی تھیں۔ ضرورت کی بناء پر یہ وہاں پہنچی تو حیاء کے ساتھ بات کی جس کی صورت میں بعض مفسرین نے یہ بیان کی ہے کہ اپنے چہرہ کو آستین سے چھپا کر گفتگو کی۔ روایات تفسیر میں ہے کہ موسیٰ ؑ اس کے ساتھ چلنے لگے تو لڑکی سے کہا کہ تم میرے پیچھے ہوجاؤ اور زبان سے مجھے راستہ بتاتی رہو۔ مقصد یہ تھا کہ ان کی نظر لڑکی پر نہ پڑے شاید اسی سبب سے لڑکی نے اپنے والد سے ان کے متعلق ان کے امین ہونے کا ذکر کیا۔ ان لڑکیوں کے والد کون تھے اس میں مفسرین نے اختلاف نقل کیا ہے مگر آیات قرآن سے ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ شعیب ؑ تھے جیسا کہ قرآن میں ہے وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا (قرطبی) اِنَّ اَبِيْ يَدْعُوْكَ یہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لڑکی خود ہی اپنی طرف سے ان کو دعوت دیتی مگر ایسا نہیں کیا بلکہ اپنے والد کا پیغام سنایا کیونکہ کسی اجنبی مرد کو خود دعوت دینا حیاء کے خلاف تھا۔
Ayah 28:26

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

بولی ان دونوں میں سے ایک اے باپ اس کو نوکر رکھ لے البتہ بہتر نوکر جس کو تو رکھنا چاہے وہ ہے جو زور آور ہو امانتدار

اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْـتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ ، یعنی شعیب ؑ کی ایک صاحبزادی نے اپنے والد سے عرض کیا کہ آپ کو گھر کے کاموں کے لئے ملازم کی ضرورت ہے آپ ان کو نوکر رکھ لیجئے کیونکہ ملازم میں دو صفتیں ہونا چاہئیں ایک کام کی قوت و صلاحیت دوسرے امانتداری۔ ہمیں ان کے پتھر اٹھا کر پانی پلانے سے ان کی قوت وقدرت کا، اور راستہ میں لڑکی کو اپنے پیچھے کردینے سے امانتداری کا تجربہ ہوچکا ہے۔
Ayahs 28:27–28

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

کہا میں چاہتا ہوں کہ بیاہ دوں تجھ کو ایک بیٹی اپنی ان دونوں میں سے اس شرط پر کہ تو میری نوکری کرے آٹھ برس پھر اگر تو پورے کر دے دس برس تو وہ تیری طرف سے ہے اور میں نہیں چاہتا کہ تجھ پر تکلیف ڈالوں، تو پائے گا مجھ کو اگر اللہ نے چاہا نیک بختوں سے

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

بولا یہ وعدہ ہوچکا میرے اور تیرے بیچ جونسی مدت ان دونوں میں پوری کر دوں، سو زیادتی نہ ہو مجھ پر اور اللہ پر بھروسہ اس چیز کا جو ہم کہتے ہیں

کوئی ملازمت یا عہدہ سپرد کرنے کے لئے اہم شرطیں دو ہیں حضرت شعیب ؑ کی صاحبزادی کی زبان پر اللہ تعالیٰ نے بڑی حکمت کی بات جاری فرمائی۔ آج کل سرکاری عہدوں اور ملازمتوں کے لئے کام کی صلاحیت اور ڈگریوں کو تو دیکھا جاتا ہے مگر دیانت و امانت کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ عام دفتروں اور عہدوں کی کارروائی میں پوری کامیابی کے بجائے رشوت خوری، اقرباء پروری وغیرہ کی وجہ سے قانون معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ کاش لوگ اس قرآنی ہدایت کی قدر کریں تو سارا نظام درست ہوجائے۔ قَالَ اِنِّىْٓ اُرِيْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَـتَيَّ هٰتَيْنِ ، یعنی لڑکیوں کے والد حضرت شعیب ؑ نے خود ہی اپنی طرف سے اپنی لڑکی کو ان کے نکاح میں دینے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ لڑکیوں کے ولی کو چاہئے کہ کوئی مرد صالح ملے تو اس کا انتظار نہ کرے کہ اسی کی طرف سے نکاح کے معاملہ کی تحریک ہو، بلکہ خود بھی پیش کردینا سنت انبیاء ہے جیسا کہ عمر بن خطاب نے اپنی صاحبزادی حضرت حفصہ کے بیوہ ہوجانے کے بعد از خود ہی صدیق اکبر اور عثمان غنی سے ان کے نکاح کی پیشکش کی تھی۔ (قرطبی) اِحْدَى ابْنَـتَيَّ هٰتَيْنِ ، حضرت شعیب ؑ نے دونوں لڑکیوں میں سے کسی کو معین کر کے گفتگو نہیں فرمائی بلکہ اس کو مبہم رکھا کہ ان میں سے کسی ایک کو آپ کے نکاح میں دینے کا ارادہ ہے مگر چونکہ یہ گفتگو باقاعدہ عقد نکاح کی گفتگو نہ تھی جس میں ایجاب و قبول گواہوں کے سامنے ہونا شرط ہے بلکہ معاملہ کی گفتگو تھی کہ آپ کو آٹھ سال کی نوکری اس نکاح کے عوض میں منظور ہو تو ہم نکاح کردیں گے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اس پر معاہدہ کرلیا۔ آگے یہ خود بخود ظاہر ہے کہ باقاعدہ نکاح کیا گیا ہو اور قرآن کریم عموماً قصہ کے ان اجزاء کو ذکر نہیں کرتا جن کا وقوع سیاق وسباق سے ظاہر اور یقینی ہو۔ اس تحقیق کی بناء پر یہاں یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ زوجہ منکوحہ کو متعین کئے بغیر نکاح کیسے ہوگیا یا گواہوں کے بغیر کیسے ہوگیا (کذا فی الروح وبیان القرآن) عَلٰٓي اَنْ تَاْجُرَنِيْ ثَمٰـنِيَ حِجَجٍ ، یہ آٹھ سال کی ملازمت و خدمت نکاح کا مہر قرار دیا گیا اس میں ائمہ فقہاء کا اختلاف ہے کہ شوہر اپنی بیوی کی خدمت و ملازمت کو اس کا مہر قرار دے سکتا ہے یا نہیں ؟ اس کی مکمل تحقیق مع دلائل کے بزبان عربی احکام القرآن سورة قصص میں مفصل لکھ دی گئی ہے اہل علم وہاں دیکھ سکتے ہیں عوام کے لئے اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ اگر یہ معاملہ مہر کا شریعت محمدیہ کے لحاظ سے درست نہ ہو تو ہوسکتا ہے کہ شریعت شعیب ؑ میں درست ہو اور شرائع انبیاء میں ایسے فروعی فرق ہونا نصوص قطعیہ سے ثابت ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ سے ظاہر الروایت میں یہی صورت منقول ہے کہ خدمت زوجہ کو مہر نہیں بنایا جاسکتا مگر ایک روایت جس پر علماء متاخرین نے فتوی دیا ہے یہ ہے کہ خود بیوی کی خدمت کو مہر بنانا تو شوہر کی تکریم و احترام کے خلاف ہے مگر بیوی کا کوئی ایسا کام جو گھر سے باہر کیا جاتا ہے جیسے مواشی چرانا یا کوئی تجارت کرنا اگر اس میں شرائط اجارہ کے مطابق مدت معین کردی گئی ہو جیسا کہ اس واقعہ میں آٹھ سال کی مدت معین ہے تو اس کی صورت یہ ہوگی کہ اس مدت کی ملازمت کی تنخواہ جو بیوی کے ذمہ لازم ہو تو اس تنخواہ کو مہر قرار دینا جائز ہے (ذکرہ فی البدائع عن نوادر ابن سماعہ) ہاں ایک دوسرا سوال یہاں یہ ہوتا ہے کہ مہر تو بیوی کا حق ہے بیوی کے باپ یا کسی عزیز کو بغیر اجازت زوجہ مہر کی رقم نقد بھی دے دی جائے تو مہر ادا نہیں ہوتا۔ اس واقعہ میں اَنْ تَاْجُرَنِيْ کے الفاظ اس پر شاہد ہیں کہ والد نے ان کو اپنے کام کے لئے ملازم رکھا تو ملازمت کا جو معاوضہ ہے وہ والد کو ملا، تو یہ زوجہ کا مہر کیسے بن گیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اولاً تو یہ بھی ممکن ہے کہ یہ بکریاں لڑکیوں ہی کی ملک ہوں اور یہ ملازمت کا فائدہ اس حیثیت سے خود لڑکی کو پہنچا۔ دوسرے اگر باپ ہی کا کام انجام دیا اور اس کی تنخواہ والد کے ذمہ لازم ہوئی تو یہ زر مہر لڑکی کا ہوگیا لڑکی کی اجازت سے والد کو بھی اس کا استعمال درست ہے یہاں ظاہر ہے کہ یہ معاملہ لڑکی کی اجازت سے ہوا ہے۔ مسئلہلفظ اُنْكِحَكَ سے ثابت ہوا کہ نکاح کا معاملہ والد نے کیا ہے باجماع فقہاء ایسا ہی ہونا چاہئے کہ لڑکی کا ولی اس کے نکاح کے معاملہ کی کفالت کرے، لڑکی خود اپنا نکاح نہ کرے۔ یہ دوسری بات ہے کہ کسی لڑکی نے خود اپنا نکاح کسی ضرورت و مجبوری سے کرلیا تو وہ منعقد ہوجاتا ہے یا نہیں ؟ اس میں ائمہ فقہاء کا اختلاف ہے امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک نکاح منعقد ہوجاتا ہے اور یہ آیت اس کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں دیتی۔
Ayah 28:29

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

پھر جب پوری کرچکا موسیٰ وہ مدت اور لیکر چلا اپنے گھر والوں کو دیکھی کوہ طور کی طرف سے ایک آگ کہا اپنے گھر والوں کو ٹھہرو میں نے دیکھی ہے ایک آگ شاید لے آؤں تمہارے پاس وہاں کی کچھ خبر یا انگارا آگ کا تاکہ تم تاپو

خلاصہ تفسیر غرض جب موسیٰ ؑ اس مدت کو پورا کرچکے اور (باجازت شعیب ؑ کے) اپنی بی بی کو لے کر (مصر کو یا شام کو) روانہ ہوئے تو (ایک شب میں ایسا اتفاق ہوا کہ سردی بھی تھی اور راہ بھی بھول گئے اس وقت) ان کو کوہ طور کی طرف سے ایک (روشنی بشکل) آگ دکھلائی دی، انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم (یہاں ہی) ٹھہرے رہو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید میں تمہارے پاس وہاں سے (راستہ کی) کچھ خبر لاؤں یا کوئی آگ کا (دہکتا ہوا) انگارا لے آؤں تاکہ تم سینک لو، سو وہ جب اس آگ کے پاس پہنچے تو ان کو اس میدان کے داہنی جانب سے (جو کہ موسیٰ ؑ کی داہنی جانب تھی) اس مبارک مقام میں ایک درخت میں سے آواز آئی کہ اے موسیٰ میں رب العالمین ہوں اور یہ (بھی آواز آئی) کہ تم اپنا عصا ڈال دو (چنانچہ انہوں نے ڈال دیا اور وہ سانپ بن کر چلنے لگا) سو انہوں نے جب اس کو لہراتا ہوا دیکھا جیسا پتلا سانپ (تیز) ہوتا ہے تو پشت پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا (حکم ہوا کہ) اے موسیٰ آگے آؤ اور ڈرو مت (ہر طرح) امن میں ہو (اور یہ کوئی ڈر کی بات نہیں بلکہ تمہارا معجزہ ہے اور دوسرا معجزہ اور عنایت ہوتا ہے کہ) تم اپنا ہاتھ گریبان کے اندر ڈالو (اور پھر نکالو) وہ بلا کسی مرض کے نہایت روشن ہو کر نکلے گا اور (اگر مثل انقلاب عصا کے اس معجزہ سے بھی طبعاً خوف اور حیرت پیدا ہو تو) خوف (رفع کرنے) کے واسطے اپنا (وہ) ہاتھ (پھر) اپنے (گریبان اور بغل) سے (بدستور سابق) ملا لینا (تاکہ وہ پھر اصلی حالت پر ہوجائے اور پھر طبعی خوف بھی نہ ہوا کرے) سو یہ (تمہاری نبوت کی) دو سندیں (اور دلیلیں) ہیں تمہارے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس جانے کے واسطے (جس کا تم کو حکم کیا جاتا ہے کیونکہ) وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں، انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے رب (میں جانے کے لئے حاضر ہوں مگر آپ کی خاص امداد کی ضرورت ہے کیونکہ) میں نے ان میں سے ایک آدمی کا خون کردیا تھا سو مجھ کو اندیشہ ہے کہ (کہیں پہلے ہی) وہ لوگ مجھ کو قتل کردیں (تبلیغ بھی نہ ہونے پاوے) اور (دوسری بات یہ ہے کہ زبان بھی زیادہ رواں نہیں ہے اور) میرے بھائی ہارون کی زبان مجھ سے زیادہ رواں ہے تو ان کو بھی میرا مددگار بنا کر میرے ساتھ رسالت دیدیجئے کہ (وہ میری تقریر کی تائید اور) تصدیق (مفصل اور مکمل طور سے) کریں گے (کیونکہ) مجھ کو اندیشہ ہے کہ وہ لوگ (فرعون اور اس کے درباری) میری تکذیب کریں (تو اس وقت مناظرہ کی ضرورت ہوگی اور زبانی مناظرہ کے لئے عادةً وہ آدمی زیادہ مفید ہوتا ہے جو رواں زبان ہو) ارشاد ہوا کہ (بہتر ہے) ہم ابھی تمہارے بھائی کو تمہارا قوت بازو بنائے دیتے ہیں (ایک درخواست تو یہ منظور ہوئی) اور (دوسری درخواست کی منظوری اس طرح ہوئی کہ) ہم تم دونوں کو ایک خاص شوکت (وہیبت) عطا کرتے ہیں جس سے ان لوگوں کو تم پر دسترس نہ ہوگی (پس) ہمارے معجزے لے کر جاؤ تم دونوں اور جو تمہارا پیرو ہوگا (ان لوگوں پر) غالب رہو گے۔ معارف و مسائل فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ ، یعنی جب حضرت موسیٰ ؑ نے مدت معینہ ملازمت کی پوری کردی جو آٹھ سال لازمی اور دو سال اختیاری تھی سو یہاں سوال یہ ہے کہ موسیٰ ؑ نے صرف آٹھ سال پورے کئے یا دس سال۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابن عباس سے یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے زیادہ مدت یعنی دس سال پورے کئے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی یہی شان ہے کہ جو کچھ کہتے ہیں اس کو پورا کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی بھی عادت شریفہ تھی کہ حقدار کو اس کے حق سے زائد ادا فرماتے تھے اور امت کو اسی کی ہدایت فرمائی ہے کہ ملازمت، اجرت اور خریدو فروخت میں مساہلت اور ایثار سے کام لیا جائے۔
Ayahs 28:30–33

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

پھر جب پہنچا اس کے پاس آواز ہوئی میدان کے داہنے کنارے سے برکت والے تختہ میں ایک درخت سے کہ اے موسیٰ میں ہوں میں اللہ جہان کا رب

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور یہ کہ ڈال دے اپنی لاٹھی پھر جب دیکھا اس کو پھنپھناتے جیسے سانپ کی سٹک الٹا پھرا منہ موڑ کر اور نہ دیکھا پیچھے پھر کر اے موسیٰ آگے آ اور مت ڈر تجھ کو کچھ خطرہ نہیں

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

ڈال اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں نکل آئے سفید ہو کر نہ کہ کسی برائی سے اور ملا لے اپنی طرف اپنا بازو ڈر سے سو یہ دو سندیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے سرداروں پر بیشک وہ تھے لوگ نافرمان

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

بولا اے رب میں نے خون کیا ہے ان میں سے ایک جان کا سو ڈرتا ہوں کہ مجھ کو مار ڈالیں گے

نُوْدِيَ مِنْ شَا 8 الْوَادِ الْاَيْمَنِ (الی) اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ، یہ مضمون بضمن قصہ موسیٰ ؑ سورة طہ اور سورة نمل میں گزرا ہے۔ سورة طہ میں ہے اِنِّىْٓ اَنَا رَبُّكَ اور سورة نمل میں ہے نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّار اور اس سورت میں ہے اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ یہ الفاظ اگرچہ مختلف ہیں مگر معنی تقریباً ایک ہی ہیں واقعہ کی حکایت پر ہر مقام کے مناسب الفاظ سے کی گئی ہے (کذا قال الامام) اور یہ تجلی بشکل نار تجلی مثالی تھی کیونکہ تجلی ذاتی کا مشاہدہ اس دنیا میں کسی کو نہیں ہوسکتا اور خود موسیٰ ؑ کو اس تجلی ذاتی کے اعتبار سے لَن تَرَانِی فرمایا گیا ہے۔ یعنی آپ مجھے نہیں دیکھ سکتے مراد مشاہدہ ذات حق ہے۔ نیک عمل سے جگہ بھی متبرک ہوجاتی ہے فِي الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ کوہ طور کے اس مقام کو قرآن کریم نے بقعہ مبارکہ فرمایا ہے اور ظاہر یہ ہے کہ اس کے مبارک ہونے کا سبب یہ تجلی خداوندی ہے جو اس مقام پر بشکل نار دکھائی دی گئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس مقام میں کوئی نیک عمل اہم واقع ہوتا ہے وہ مقام بھی متبرک ہوجاتا ہے۔
Ayahs 28:34–35

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور میرا بھائی ہارون اس کی زبان چلتی ہے مجھ سے زیادہ سو اس کو بھیج میرے ساتھ مدد کو میری تصدیق کرے میں ڈرتا ہوں کہ مجھ کو جھوٹا کریں

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

فرمایا ہم مضبوط کردیں گے تیرے بازو کو تیرے بھائی سے اور دیں گے تم کو غلبہ پھر وہ نہ پہنچ سکیں گے تم تک ہماری نشانیوں سے تم اور جو تمہارے ساتھ ہو غالب رہو گے۔

وعظ میں اچھی خطابت اور فصاحت مطلوب ہے هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا اس سے معلوم ہوا کہ وعظ تبلیغ میں فصاحت کلام اور مقبول طرز خطابت محمود اور مطلوب ہے۔ اس کی تحصیل میں کوشش بھی مذموم نہیں۔
Ayahs 28:36–37

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

پھر جب پہنچا ان کے پاس موسیٰ لے کر ہماری نشانیاں کھلی ہوئی بولے اور کچھ نہیں یہ جادو ہے باندھا ہوا اور ہم نے سنا نہیں یہ اپنے اگلے باپ دادوں میں

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

اور کہا موسیٰ نے میرا رب تو خوب جانتا ہے جو کوئی لایا ہے ہدایت کی بات اس کے پاس سے اور جس کو ملے گا آخرت کا گھر بیشک بھلا نہ ہوگا بےانصافوں کا

خلاصہ تفسیر غرض جب ان لوگوں کے پاس موسیٰ ؑ ہماری صریح دلیلیں لے کر آئے تو ان لوگوں نے (معجزات دیکھ کر) کہا کہ یہ تو محض ایک جادو ہے کہ (خواہ مخواہ اللہ تعالیٰ پر) افترا کیا جاتا ہے (کہ یہ اس کی جانب سے معجزات اور دلیل رسالت ہیں) اور ہم نے ایسی بات کبھی نہیں سنی کہ ہمارے اگلے باپ دادوں کے وقت میں بھی ہوئی ہو اور موسیٰ ؑ نے (اس کے جواب میں) فرمایا کہ (جب باوجود دلائل صحیحہ قائم ہونے کے اور اس میں کوئی شبہ معقول نہ نکال سکنے کے بعد بھی نہیں مانتے تو یہ ہٹ دھرمی ہے اور اس کا اخیر جواب یہی ہے کہ) میرا پروردگار اس شخص کو خوب جانتا ہے جو صحیح دین اس کے پاس سے لے کر آیا ہے اور جس کا انجام (یعنی خاتمہ) اس عالم (دنیا سے) اچھا ہونے والا ہے (اور بالیقین ظالم لوگ (جو کہ ہدایت اور دین صحیح پر نہ ہوں) کبھی فلاح نہ پاویں گے (کیونکہ ان کا انجام اچھا نہ ہوگا۔ مطلب یہ کہ خدا کو خوب معلوم ہے کہ ہم میں اور تم میں کون اہل ہُدٰی ہے اور کون ظالم اور کون محمود العاقبت ہے اور کون محروم عن الفلاح پس ہر ایک کی حالت اور ثمرہ کا جلد ہی مرنے کے ساتھ ہی ظہور ہوجاوے گا اب نہیں مانتے تم جانو) اور (دلائل موسویہ دیکھ کر اور سن کر) فرعون کو (اندیشہ ہوا کہ کہیں ہمارے معتقدین ان کی طرف مائل نہ ہوجاویں تو لوگوں کو جمع کر کے) کہنے لگا اے اہل دربار مجھ کو تو تمہارا اپنے سوا کوئی خدا معلوم نہیں ہوتا (اس کے بعد تلبیس کے واسطے اپنے وزیر سے کہا کہ اگر اس سے ان لوگوں کا اطمینان نہ ہو تو) اے ہامان تم ہمارے لئے مٹی (کی اینٹیں بنوا کر ان) کو آگ میں پزاوہ لگا کر پکواؤ پھر (ان پختہ اینٹوں سے) میرے واسطے ایک بلند عمارت بنواؤ تاکہ (میں اس پر چڑھ کر) موسیٰ کے خدا کو دیکھوں بھالوں اور میں تو (اس دعوی میں کہ کوئی اور خدا ہے) موسیٰ کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں اور فرعون اور اس کے تابعین نے ناحق دنیا میں سر اٹھا رکھا تھا اور یوں سمجھ رہے تھے کہ ان کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا نہیں ہے تو ہم نے (اس تکبر کی سزا میں) اس کو اور اس کے تابعین کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا (یعنی غرق کردیا) سو دیکھئے ظالموں کا انجام کیسا ہوا (اور موسیٰ ؑ کے قول کا ظہور ہوگیا مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ ۭ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ) اور ہم نے ان لوگوں کو ایسا رئیس بنایا تھا جو (لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے رہے اور (اسی واسطے) قیامت کے روز (ایسے بےکس رہ جاویں گے کہ) ان کا کوئی ساتھ نہ دے گا اور (یہ لوگ دونوں عالم میں خائب و خاسر ہوئے چنانچہ) دنیا میں بھی ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے دن بھی بدحال لوگوں میں سے ہوں گے۔