27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 27:1–3

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

یہ آیتیں ہیں قرآن اور کھلی کتاب کی

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

ہدایت اور خوشخبری ایمان والوں کے واسطے

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

جو قائم رکھتے ہیں نماز کو اور دیتے ہیں زکوٰة اور ان کو آخرت پر یقین ہے

خلاصہ تفسیر طس (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ (آیتیں جو آپ پر نازل کی جاتی ہیں) آیتیں ہیں قرآن کی اور ایک واضح کتاب کی (یعنی اس میں دو صفتیں ہیں قرآن ہونا اور کتاب مبین ہونا) یہ (آیتیں) ایمان والوں کے لئے (موجب) ہدایت اور (اس ہدایت پر جزائے نیک کا) مژدہ سنانے والی ہیں جو (مسلمان) ایسے ہیں کہ (عملاً بھی ہدایت پر چلتے ہیں چنانچہ) نماز کی پابندی کرتے ہیں (جو کہ عبادات بدنیہ میں سب سے بڑی ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں (جو کہ عبادات مالیہ میں سب سے بڑی ہے) اور (عقیدہ کے لحاظ سے بھی ہدایت یافتہ ہیں چنانچہ) وہ آخرت پر پورا یقین رکھتے ہیں (یہ تو ایمان والوں کی صفت ہے اور) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ہم نے ان کے اعمال (بد) ان کی نظر میں مرغوب کر رکھے ہیں سو وہ (اپنے جہل مرکب میں حق سے دور) بھٹکتے پھرتے ہیں (چنانچہ نہ ان کے عقائد درست ہیں نہ اعمال اس لئے وہ قرآن کو بھی نہیں مانتے تو جیسے قرآن اہل ایمان کو بشارت سناتا تھا منکروں کو وعید بھی سناتا ہے کہ) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے (دنیا میں مرنے کے وقت بھی) سخت عذاب (ہونے والا) ہے اور وہ لوگ آخرت میں (بھی) سخت خسارہ میں ہیں (کہ کبھی نجات ہی نہ ہوگی) اور (گو یہ منکر قرآن کو نہ مانیں مگر) آپ کو بالیقین ایک بڑی حکمت والے علم والے کی طرف سے قرآن دیا جا رہا ہے (آپ اس نعمت کے سرور میں ان کے انکار سے غمگین نہ ہو جئے)۔
Ayahs 27:4–6

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

جو لوگ نہیں مانتے آخرت کو اچھے دکھلائے ہم نے ان کی نظروں میں ان کے کام سو وہ بہکے پھرتے ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

وہی ہیں جن کے واسطے بری طرح کا عذاب ہے اور آخرت میں وہی ہیں خراب

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

اور تجھ کو تو قرآن پہنچتا ہے ایک حکمت والے خبردار کے پاس سے۔

معارف و مسائل زَيَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ ، یعنی جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے اعمال بد ان کی نظروں میں مزین کردیئے ہیں۔ اس لئے وہ انہی کو بہتر سمجھ کر گمراہی میں مبتلا رہتے ہیں اور بعض مفسرین نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ اعمالھم سے مراد نیک اعمال ہیں اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے تو نیک اعمال کو مزین کر کے ان کے سامنے رکھ دیا تھا مگر ان ظالموں نے ان کی طرف التفات نہ کیا بلکہ کفر و شرک میں مبتلا رہے اس لئے گمراہی میں بھٹکنے لگے۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ واضح ہے، اول تو اس لئے کہ مزین کرنے کے الفاظ عموماً اعمال بد کے لئے استعمال ہوئے ہیں جیسے زُيِّنَ للنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ ، زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا، زَيَّنَ لِكَثِيْرٍمِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ الخ اور اچھے اعمال کے لئے اس لفظ کا استعمال بہت کم ہے جیسے حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِيْ قُلُوْبِكُمْ الآیتہ دوسرے آیت میں اعمالھم (ان کے اعمال) کا لفظ بھی اس پر دلالت کر رہا ہے کہ مراد اعمال بد ہیں نہ کہ اعمال صالحہ۔
Ayah 27:7

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

جب کہا موسیٰ نے اپنے گھر والوں کو میں نے دیکھی ہے ایک آگ اب لاتا ہوں تمہارے پاس وہاں سے کچھ خبر یا لاتا ہوں انگارا سلگا کر شاید تم سینکو

خلاصہ تفسیر (اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے) جبکہ (مدین سے آتے ہوئے کوہ طور کے قریب رات کو سردی کے وقت پہنچے اور مصر کی راہ بھی بھول گئے تھے تو) موسیٰ ؑ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے (طور کی طرف) آگ دیکھی ہے میں ابھی (جا کر) وہاں سے (یا تو راستہ کی) کوئی خبر لاتا ہیں یا تمہارے پاس (وہاں سے) آگ کا شعلہ کسی لکڑی وغیرہ میں لگا ہوا لاتا ہوں تاکہ تم سینک لو سو جب اس (آگ) کے پاس پہنچے تو ان کو (منجانب اللہ) آواز دی گئی کہ وہ جو اس آگ کے اندر ہیں (یعنی فرشتے) ان پر بھی برکت ہو اور جو اس (آگ) کے پاس ہے (یعنی موسی) اس پر بھی (برکت ہو، یہ دعا بطور تحیتہ وسلام کے ہے جیسے ملاقاتی آپس میں سلام کرتے ہیں۔ چونکہ موسیٰ ؑ جانتے نہ تھے کہ یہ نور انوار الہیہ سے ہے اس لئے خود سلام نہیں کرسکے تو منجانب اللہ ان کے انس کے لئے سلام ارشاد ہوا اور فرشتوں کو ملا لینا شاید اس لئے ہو کہ جس طرح فرشتوں کو سلام حق تعالیٰ کے قرب خاص کی علامت ہوتی ہے یہ سلام بھی موسیٰ ؑ کو قرب خاص کی بشارت ہوگیا) اور (اس امر کے بتلانے کے لئے کہ یہ نور جو بشکل نار ہے خود حق تعالیٰ کی ذات نہیں ارشاد فرما دیا کہ) اللہ رب العالمین (رنگ جہات، مقدار اور حد بندی وغیرہ سے) پاک ہے (اور اس نور میں یہ چیزیں پائی جاتی ہیں، پس یہ نور ذات خداوندی نہیں اور موسیٰ ؑ اگر اس مسئلہ سے خالی الذہن ہوں تو اس کی تعلیم ہے اور اگر دلائل عقلیہ اور فطرت صحیحہ کی بناء پر ان کو پہلے سے معلوم ہو تو زیادہ سمجھانا ہے اس کے بعد ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ بات یہ ہے کہ میں (جو کہ بےکیف کلام کر رہا ہوں) اللہ ہوں زبردست حکمت والا اور (اے موسی) تم اپنا عصا (زمین پر) ڈال دو (چنانچہ انہوں نے ڈال دیا تو وہ اژدھا بن کر لہرانے لگا) سو جب انہوں نے اس کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا جیسے سانپ ہو تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی تو نہ دیکھا (ارشاد ہوا کہ) اے موسیٰ ڈرو نہیں (کیونکہ ہم نے تم کو پیغمبری دی ہے) اور ہمارے حضور میں (یعنی پیغمبری کا اعزاز عطا ہونے کے وقت) پیغمبر (ایسی چیزوں سے جو کہ خود اس کی پیغمبری کی دلیل یعنی معجزات ہوں) نہیں ڈرا کرتے (یعنی تم کو بھی ڈرنا نہ چاہئے) ہاں مگر جس سے کوئی قصور (لغزش سرزد) ہوجاوے (اور وہ اس لغزش کو یاد کر کے ڈرے تو مضائقہ نہیں لیکن اس کی نسبت بھی یہ قاعدہ ہے کہ اگر قصور ہوجاوے اور) پھر برائی (ہو جانے) کے بعد برائی کی جگہ نیک کام کرے (توبہ کرے) تو میں (اس کو بھی معاف کردیتا ہوں کیونکہ میں) مغفرت والا رحمت والا ہوں (یہ اس لئے فرما دیا کہ عصاء کے معجزہ سے مطمئن ہوجانے کے بعد کبھی اپنا قصہ قبطی کو قتل کرنے کا یاد کر کے پریشان ہوں اس لئے اس سے بھی مطمئن فرما دیا تاکہ وحشت جاتی رہے) اور (اے موسیٰ اس معجزہ عصا کے سوا ایک معجزہ اور بھی عطا ہوتا ہے وہ یہ کہ) تم اپنا ہاتھ گریبان کے اندر لے جاؤ (اور پھر نکالو تو) وہ بلا کسی عیب (یعنی بغیر کسی مرض برص وغیرہ) کے (نہایت) روشن ہو کر نکلے گا (اور یہ دونوں معجزے ان) نو معجزوں میں (سے ہیں جن کے ساتھ تم کو) فرعون اور اس کی قوم کی طرف (بھیجا جاتا ہے کیونکہ) وہ بڑے حد سے نکل جانے والے لوگ ہیں غرض جب ان لوگوں کے پاس ہمارے (دیئے ہوئے) معجزے پہنچے (جو) نہایت واضح تھے (یعنی ابتدائے دعوت میں دو معجزے دکھلائے گئے پھر وقتاً فوقتاً باقی دکھلائے جاتے رہے) تو وہ لوگ (ان سب کو دیکھ کر بھی) بولے یہ صریح جادو ہے اور (غضب تو یہ تھا کہ ظلم اور تکبر کی راہ سے ان (معجزات) کے (بالکل) منکر ہوگئے حالانکہ (اندر سے) ان کے دلوں نے ان کا یقین کرلیا تھا سو دیکھئے کیسا (برا) انجام ہوا ان مفسدوں کا (دنیا میں غرق ہوئے اور آخرت میں جلنے کی سزا پائی۔) معارف و مسائل اِذْ قَالَ مُوْسٰي لِاَهْلِهٖٓ اِنِّىْٓ اٰنَسْتُ نَارًا ۭ سَاٰتِيْكُمْ مِّنْهَا بِخَــبَرٍ اَوْ اٰتِيْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ۔ انسان کو اپنی ضروریات کے لئے اسباب طبعیہ کو اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں حضرت موسیٰ ؑ کو اس جگہ دو ضرورتیں پیش آئیں ایک راستہ پوچھنا جو آپ بھول گئے تھے دوسرا آگ سے گرمی حاصل کرنا کہ سردی کی رات تھی اس کے لئے آپ نے کوہ طور کی طرف جانے کی سعی و کوشش کی لیکن اس کے ساتھ ہی اس مقصد میں کامیابی پر یقین اور دعویٰ کرنے کے بجائے ایسے الفاظ اختیار فرمائے جس میں اپنی بندگی اور حق تعالیٰ سے امید ظاہر ہوتی ہے۔ معلوم ہوا کہ ضروریات کے حصول کے لئے جدوجہد توکل کے منافی نہیں۔ لیکن بھروسہ اپنی کوشش کے بجائے اللہ پر ہونا چاہئے اور آگ آپ کو دکھلائے جانے میں بھی شاید یہی حکمت ہو کہ اس سے آپ کے دونوں مقصود پورے ہو سکتے تھے، راستہ کا مل جانا اور آگ سے گرمی حاصل کرنا۔ (کما فی الروح) اس جگہ حضرت موسیٰ ؑ نے امْكُـثُوْٓا اور تَصْطَلُوْنَ جمع کے صیغے بولے حالانکہ آپ کے ساتھ صرف آپ کی بیوی یعنی حضرت شعیب ؑ کی بیٹی تھیں ان کے لئے لفظ جمع استعمال فرمانا بطور اکرام کے ہوا جیسے معزز لوگوں میں کسی ایک فرد سے بھی خطاب ہوتا ہے تو صیغہ جمع کا استعمال کیا جاتا ہے آنحضرت ﷺ سے بھی اپنی ازواج مطہرات کے لئے صیغہ جمع استعمال فرمانا روایات حدیث میں وارد ہوا ہے۔ تخصیص کے ساتھ بیوی کا ذکر عام مجالس میں نہ کرنا بلکہ کنایہ سے کام لینا بہتر ہے آیت مذکورہ میں قال مُوْسٰي لِاَهْلِهٖٓ فرمایا گیا ہے لفظ اھل عام ہے جس میں بیوی اور گھر کے دوسرے افراد بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس مقام میں اگرچہ حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ تنہا اہلیہ محترمہ ہی تھیں، کوئی دوسرا نہ تھا مگر تعبیر میں یہ عام لفظ استعمال کرنے سے اس طرف اشارہ پایا گیا کہ مجالس میں اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا ذکر کرے تو عام لفظوں سے کرنا بہتر ہے جیسے ہمارے عرف میں کہا جاتا ہے میرے گھر والوں نے یہ کہا ہے۔
Ayahs 27:8–10

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

پھر جب پہنچا اس کے پاس آواز ہوئی کہ برکت ہے اس پر جو کوئی کہ آگ میں ہے اور جو اس کے آس پاس ہے اور پاک ہے ذات اللہ کی جو رب سارے جہان کا

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

اے موسیٰ وہ میں اللہ ہوں زبردست حکمتوں والا

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اور ڈال دے لاٹھی اپنی پھر جب دیکھا اس کو پھنپھناتے جیسے سانپ کی سٹک لوٹا پیٹھ پھیر کر اور مڑ کر نہ دیکھا اے موسیٰ مت ڈر میں جو ہوں میرے پاس نہیں ڈرتے رسول

فَلَمَّا جَاۗءَهَا نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا ۭ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، يٰمُوْسٰٓي اِنَّهٗٓ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔ حضرت موسیٰ ؑ کے آگ دیکھنے اور آگ کے اندر سے ایک ندا سننے کی تحقیق قرآن کریم میں حضرت موسیٰ ؑ کا یہ واقعہ بہت سی سورتوں میں مختلف عنوانات کے ساتھ آیا ہے۔ سورة نمل کی مذکورہ آیات میں اس سلسلے کے دو جملے غور طلب ہیں۔ اول (بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ) دوسرا (اِنَّهٗٓ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) اور سورة طہ میں جس کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے اس واقعہ سے متعلق یہ الفاظ آئے ہیں (اِذْ رَاٰ نَارًا الی قولہ تعالیٰ نُوْدِيَ يٰمُوْسٰى، اِنِّىْٓ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۚ اِنَّكَ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى، وَاَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوْحٰى، اِنَّنِيْٓ اَنَا اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدْنِيْ) ان آیات میں بھی دو جملے خاص طور پر سے غور طلب ہیں (اِنِّىْٓ اَنَا رَبُّكَ) اور (اِنَّنِيْٓ اَنَا اللّٰهُ الخ) اور سورة قصص میں اس واقعہ کے یہ الفاظ ہیں (نُوْدِيَ مِنْ شَاطِی الْوَادِ الْاَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ يّٰمُـوْسٰٓي اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ) ان تینوں مواقع میں عنوان تعبیر اگرچہ مختلف ہے مگر مضمون تقریباً ایک ہی ہے وہ یہ کہ حضرت موسیٰ ؑ کو اس رات میں کئی وجہ سے آگ کی ضرورت تھی حق تعالیٰ نے ان کو کوہ طور کے ایک درخت پر آگ دکھلائی۔ اس آگ یا درخت سے یہ آواز سنی گئی۔ اِنِّىْٓ اَنَا رَبُّكَ ، اِنَّهٗٓ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ، اِنَّنِيْٓ اَنَا اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا، اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ، یہ ہوسکتا ہے کہ یہ نداء بار بار ہوئی ہو کبھی ایک لفظ سے کبھی دوسرے لفظ سے اور آواز سننے کی جو کیفیت تفسیر بحر محیط میں ابو حیان نے اور روح المعانی میں آلوسی نے نقل کی ہے وہ یہ ہے کہ یہ آواز اس طرح سنی کہ ہر جانب سے یکساں آ رہی تھی جس کی کوئی جہت متعین نہیں ہو سکتی تھی اور سننا بھی ایک عجیب انداز سے ہوا کہ صرف کان نہیں بلکہ ہاتھ پاؤں وغیرہ تمام اعضائے بدن اس کو سن رہے تھے جو ایک معجزہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک غیبی آواز تھی جو بلاکیف و بلاسمت سنی جا رہی تھی لیکن مبدا اس کا وہ آگ یا درخت تھا جس سے آگ کی شکل ان کو دکھائی گئی۔ ایسے ہی مواقع عام طور پر لوگوں کے لئے مغالطے اور بت پرستی کا سبب بن جاتے ہیں اس لئے ہر عنوان میں مضمون توحید کی طرف ہدایت اور تنبیہ ساتھ ساتھ کی گئی ہے زیر بحث آیت میں لفظ سُبْحٰنَ اللّٰهِ اسی تنبیہ کے لئے بڑھایا گیا۔ سورة طہ میں لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا اور سورة قصص میں اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ اسی مضمون کی تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ اس تفصیل کا حاصل یہ ہے کہ یہ آگ کی شکل حضرت موسیٰ ؑ کو اس لئے دکھلائی گئی تھی کہ وہ اس وقت آگ اور روشنی کے حاجتمند تھے ورنہ اس کلام ربانی اور ذات ربانی کا آگ سے یا شجرہ طور سے کوئی تعلق نہ تھا۔ آگ اللہ تعالیٰ کی عام مخلوقات کی طرح ایک مخلوق تھی اسی لئے زیر بحث آیات میں جو یہ ارشاد ہے اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا، یعنی مبارک ہے وہ جو آگ کے اندر ہے اور وہ جو اس کے آس پاس ہے۔ اس کی تفسیر میں ائمہ تفسیر کے مختلف اقوال ہیں جس کی تفصیل تفسیر روح المعانی میں ہے۔ ایک قول حضرت ابن عباس مجاہد، عکرمہ سے منقول ہے کہ مَنْ فِي النَّارِ سے مراد حضرت موسیٰ ؑ ہوں کیونکہ آگ کوئی حقیقی آگ تو تھی نہیں جس بقعہ مبارکہ میں حضرت موسیٰ ؑ پہنچ گئے تھے وہ دور سے پورا آگ معلوم ہوتا تھا اس لئے موسیٰ ؑ اس آگ کے اندر ہوئے اور مَنْ حَوْلَهَا سے مراد فرشتے ہیں جو آس پاس وہاں موجود تھے اور بعض حضرات نے اس کے برعکس یہ فرمایا کہ مَنْ فِي النَّارِ سے فرشتے اور مَنْ حَوْلَهَا سے حضرت موسیٰ ؑ مراد ہیں۔ تفسیر بیان القرآن کے خلاصہ تفسیر مذکور میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے۔ آیات مذکورہ کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ حضرت ابن عباس اور حسن بصری کی ایک روایت اور اس کی تحقیق یہاں ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ وغیرہ نے حضرت ابن عباس حضرت حسن بصری اور سعید بن جبیر سے مَنْ فِي النَّارِ کی تفسیر میں یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ مَنْ فِي النَّارِ سے خود ذات حق سبحانہ و تعالیٰ مراد ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ آگ ایک مخلوق ہے اور کسی مخلوق میں خالق کا حلول نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اس روایت کا یہ مفہوم تو ہو نہیں سکتا کہ ذات حق سبحانہ و تعالیٰ نے آگ کے اندر حلول فرمایا تھا جیسا کہ بہت سے بت پرست مشرکین بتوں کے وجود میں ذات حق کے حلول کے قائل ہیں اور یہ توحید کے قطعاً خلاف ہے بلکہ مراد ظہور ہے جیسا آئینہ میں جس چیز کو دیکھا جاتا ہے وہ آئینہ میں حلول کئے ہوئے نہیں ہوتی اس سے الگ اور خارج ہوتی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ ظہور جس کو تجلی بھی کہا جاتا ہے خود ذات حق سبحانہ و تعالیٰ کی تجلی نہیں تھی ورنہ اگر ذات حق تعالیٰ کا مشاہدہ موسیٰ ؑ نے کرلیا ہوتا تو بعد میں ان کے اس سوال کی کوئی وجہ نہیں رہتی رَبِّ اَرِنِيْٓ اَنْظُرْ اِلَيْكَ (یعنی اے میرے پروردگار مجھے اپنی ذات پاک دکھا کہ میں دیکھ سکوں) اور اس کے جواب میں حق تعالیٰ کی طرف سے لَنْ تَرٰىنِيْ کا ارشاد بھی پھر کوئی معنے نہ رکھتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابن عباس کے اس قول میں حق تعالیٰ جل شانہ کا ظہور مراد ہے یعنی تجلی جو آگ کی صورت میں ہوئی یہ جس طرح حلول نہیں تھا اسی طرح تجلی ذات بھی نہیں تھی بلکہ لَنْ تَرٰىنِيْ الآیتہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس عالم دنیا میں تجلی ذاتی کا کوئی شخص مشاہدہ نہیں کرسکتا۔ پھر اس ظہور و تجلی کا کیا مفہوم ہوگا اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تجلی مثالی تھی جو حضرات صوفیہ کرام میں معروف ہے اس کی حقیقت کا سمجھنا تو انسان کے لئے مشکل ہے۔ بقدر ضرورت تقریب الی الفہم کے لئے احقر نے اپنی کتاب احکام القرآن بزبان عربی سورة قصص میں اس کی کچھ تفصیل لکھی ہے اہل علم اس میں دیکھ سکتے ہیں عوام کی ضرورت کی چیز نہیں۔
Ayahs 27:11–14

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

مگر جس نے زیادتی کی پھر بدلے میں نیکی کی برائی کے پیچھے تو میں بخشنے والا مہربان ہوں

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

اور ڈال دے ہاتھ اپنا اپنے گریبان میں کہ نکلے سفید ہو کر نہ کسی برائی سے یہ دونوں مل کر نو نشانیاں لیکر جا فرعون اور اس کی قوم کی طرف بیشک وہ تھے لوگ نافرمان

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

پھر جب پہنچیں ان کے پاس ہماری نشانیاں سمجھانے کو بولے یہ جادو ہے صریح

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

اور ان کا انکار کیا اور ان کا یقین کرچکے تھے اپنے جی میں بےانصافی اور غرور سے، سو دیکھ لے کیسا ہوا انجام خرابی کرنے والوں کا۔

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْـنًۢا بَعْدَ سُوْۗءٍ فَاِنِّىْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ، اس سے پہلی آیت میں موسیٰ ؑ کے معجزہ عصا کا ذکر ہے جس میں یہ بھی مذکور ہے کہ عصا جب سانپ بن گیا تو موسیٰ خود بھی اس سے ڈر کر بھاگنے لگے۔ آگے بھی موسیٰ ؑ کے دوسرے معجزہ ید بیضا کا بیان ہے درمیان میں اس استثناء کا ذکر کس لئے کیا گیا اور یہ استثناء منقطع ہے یا متصل اس میں حضرات مفسرین کے اقوال مختلف ہیں بعض حضرات نے استثناء کو منقطع قرار دیا ہے تو مضمون آیت کا یہ ہوگا کہ پہلی آیت میں انبیاء (علیہم السلام) پر خوف نہ ہونے کا ذکر تھا بسبیل تذکرہ ان لوگوں کا بھی ذکر کردیا جن پر خوف طاری ہونا چاہئے یعنی وہ لوگ جن سے کوئی خطا سر زد ہوئی پھر توبہ کر کے نیک عمل اختیار کر لئے ایسے حضرات کی اگرچہ اللہ تعالیٰ خطا معاف کردیتے ہیں مگر معافی کے بعد بھی گناہ کے بعض آثار باقی رہنے کا احتمال ہے اس سے یہ حضرات ہمیشہ خائف رہتے ہیں اور اس استثناء کو متصل قرار دیں تو معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ اللہ کے رسول ڈرا نہیں کرتے بجز ان کے جن سے کوئی خطا یعنی گناہ صغیرہ سر زد ہوگیا ہو پھر اس سے بھی توبہ کرلی ہو، تو اس توبہ سے یہ صغیرہ گناہ معاف ہوجاتا ہے اور صحیح تر یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) سے جو لغزشیں ہوئی ہیں وہ درحقیقت گناہ ہی نہ تھے نہ صغیرہ نہ کبیرہ، البتہ صورت گناہ کی تھی اور درحقیقت وہ اجتہادی خطائیں ہوئی ہیں۔ اس مضمون میں اشارہ اس طرف پایا گیا کہ حضرت موسیٰ سے جو ایک لغزش قبطی کے قتل کی ہوگئی وہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے معاف کردی مگر اس کا یہ اثر اب بھی رہا کہ موسیٰ ؑ پر خوف طاری ہوگیا اگر یہ لغزش نہ ہوتی تو یہ وقتی خوف بھی نہ ہوتا۔ (قرطبی)
Ayah 27:15

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور ہم نے دیا داؤد اور سلیمان کو ایک علم اور بولے شکر اللہ کا جس نے ہم کو بزرگی دی اپنے بہت سے بندوں ایمان والوں پر

خلاصہ تفسیر اور ہم نے داؤد ؑ اور سلیمان ؑ کو (شریعت اور حکمرانی کا) علم عطا فرمایا اور ان دونوں نے (ادائے شکر کے لئے) کہا کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے سزاوار ہیں جس نے ہم کو اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر فضیلت دی اور داؤد (علیہ السلام کی وفات کے بعد ان) قائم مقام سلیمان ؑ ہوئے (یعنی ان کو سلطنت وغیرہ ملی) اور انہوں نے (اظہار شکر کے لئے) کہا کہ اے لوگوہم کو پرندوں کی بولی (سمجھنے) کی تعلیم کی گئی ہے (جو دوسرے بادشاہوں کو حاصل نہیں) اور ہم کو (سامان سلطنت کے متعلق) ہر قسم کی (ضروری) چیزیں دی گئی ہیں (جیسے فوج، لشکر مال اور آلات جنگ وغیرہ) واقعی یہ (اللہ تعالیٰ کا) کھلا ہوا فضل ہے اور سلیمان (علیہ السلام کے پاس سامان سلطنت بھی عجیب و غریب تھا چناچہ ان) کے لئے (جو) ان کا لشکر جمع کیا گیا (تھا ان میں) جن بھی (تھے) اور انسان بھی اور پرندے بھی (جو کسی بادشاہ کے تابع نہیں ہوتے) اور (پھر تھے بھی اس کثرت سے کہ) ان کو (چلنے کے قوت) روکا (جایا کرتا) تھا (تاکہ متفرق نہ ہوجاویں پیچھے والے بھی پہنچ جاویں یہ بات عادة نہایت کثرت میں ہوتی ہے کیونکہ تھوڑے مجمع میں تو اگلا آدمی خود ہی ایسے وقت رک جاتا ہے اور بڑے مجمع میں اگلوں کو پچھلوں کی خبر بھی نہیں ہوتی اس لئے اس کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ ایک بار اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ تشریف لئے جاتے تھے) یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کے ایک میدان میں آئے تو ایک چیونٹی نے (دوسری چیونٹیوں سے) کہا کہ اے چیونٹیو، اپنے اپنے سوراخوں میں جا گھسو، کہیں تم کو سلیمان اور ان کا لشکر بیخبر ی میں کچل نہ ڈالے سو سلیمان (علیہ السلام نے اس کی بات سنی اور) اس کی بات سے (متعجب ہو کر کہ اس چھوٹے وجود پر یہ ہوشیاری اور احتیاط) مسکراتے ہوئے ہنس پڑے اور (یہ دیکھ کر کہ میں اس کی بولی سمجھ گیا جو کہ معجزہ ہونے کی وجہ سے ایک نعمت عظیمہ ہے اور نعمتیں بھی یاد آگئیں اور) کہنے لگے کہ اے میرے رب مجھ کو اس پر ہمیشگی دیجئے کہ میں آپ کی ان نعمتوں کا شکر کیا کروں جو آپ نے مجھ کو اور میرے ماں باپ کو عطا فرمائی ہیں (یعنی ایمان اور علم سب کو اور نبوت خود کو اور اپنے والد داؤد ؑ کو) اور (اس پر بھی ہمیشگی دیجئے کہ) میں نیک کام کیا کروں جس سے آپ خوش ہوں (یعنی عمل مقبول ہو کیونکہ اگر حقیقت میں عمل نیک ہو اور آداب و شرائط کی کمی کی وجہ سے مقبول نہ ہو وہ مقصود نہیں ہے) اور مجھ کو اپنی رحمت (خاصہ) سے اپنے (اعلی درجہ کے) نیک بندوں (انبیاء) میں داخل رکھئے (یعنی قرب کو بعد میں تبدیل نہ کیجئے۔) معارف و مسائل وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ عِلْمًا، ظاہر ہے کہ اس سے مراد علوم انبیاء ہیں جو نبوت و رسالت سے متعلق ہوتے ہیں۔ اس کے عموم میں دوسرے علوم و فنون بھی شامل ہوں تو بعید نہیں جیسے حضرت داؤد ؑ کو زرہ سازی کی صنعت سکھا دی گئی تھی۔ حضرت داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) زمرہ انبیاء میں ایک خاص امتیاز یہ رکھتے ہیں کہ ان کو نبوت و رسالت کے ساتھ سلطنت بھی دی گئی تھی اور سلطنت بھی ایسی بےنظیر کہ صرف انسانوں پر نہیں بلکہ جنات اور جانوروں پر بھی ان کی حکمرانی تھی ان سب عظیم الشان نعمتوں سے پہلے حق تعالیٰ کی نعمت علم کا ذکر فرمانے سے اس طرف اشارہ ہوگیا کہ نعمت علم تمام دوسری نعمتوں سے فائق اور بالاتر ہے۔ (قرطبی)
Ayahs 27:16–18

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور قائم مقام ہوا سلیمان داؤد کا اور بولا اے لوگو ! ہم کو سکھائی ہے بولی اڑتے جانوروں کی اور دیا ہم کو ہر چیز میں سے بیشک یہی ہے فضیلت صریح

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

اور جمع کئے گئے سلیمان کے پاس اس کے لشکر جن اور انسان اور اڑتے جانور پھر ان کی جماعتیں بنائی جاتیں

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پہنچے چیونٹیوں کے میدان پر کہا ایک چیونٹی نے اے چیونٹیو گھس جاؤ اپنے گھروں میں نہ پیس ڈالے تم کو سلیمان اور اس کی فوجیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو

انبیاء میں مال کی وراثت نہیں ہوتی وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ ، وَرِثَ سے وراثت علم اور نبوت مراد ہے وراثت مال نہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا (نحن معاشر الانبیآء لا نرث ولا نورث) یعنی انبیاء نہ وارث ہوتے ہیں اور نہ مورث، حضرت ابوالدرداء سے ترمذی اور ابو داؤد میں روایت ہے۔ العلماء ورثۃ الانبیاء و ان الانبیاء لم یورثوا دینارا ولا درھما ولکن ورثوا العلم فمن اخذہ اخذ بحظ وافر۔ یعنی علماء انبیاء کے وارث ہیں، لیکن انبیاء میں وراثت علم اور نبوت کی ہوتی ہے مال کی نہیں ہوتی۔ حضرت ابوعبداللہ (جعفر صادق) کی روایت اس مسئلہ کو اور زیادہ واضح کردیتی ہے کہ حضرت سلیمان ؑ حضرت داؤد ؑ کے وارث ہوئے اور سرور دو عالم ﷺ حضرت سلیمان ؑ کے وارث ہوئے (روح عن الکلینی) عقلی طور پر بھی یہاں وراثت مال مراد نہیں ہو سکتی کیونکہ حضرت داؤد ؑ کی وفات کے وقت آپ کی اولاد میں انیس بیٹوں کا ذکر آتا ہے اگر وراثت مال مراد ہو تو یہ بیٹے سب کے سب وارث ٹھہریں گے پھر وراثت میں حضرت سلیمان ؑ کی تخصیص کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔ اس سے ثابت ہوا کہ وراثت وہ مراد ہے جس میں بھائی شریک نہ تھے بلکہ صرف حضرت سلیمان ؑ وارث بنے اور وہ صرف علم اور نبوت کی وراثت ہی ہو سکتی ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کا ملک و سلطنت بھی حضرت سلیمان کو عطا فرما دیا اور اس میں مزید اضافہ اس کا کردیا کہ آپ کی حکمت جنات اور دحوش و طیور تک عام کردی، ہوا کو آپ کے لئے مسخر کردیا۔ ان دلائل کے بعد طبرسی کی وہ روایت غلط ہوجائے گی جس میں انہوں نے بعض ائمہ اہل بیت کے حوالے سے مال کی وراثت مراد لی ہے۔ (روح) حضرت سلیمان ؑ کی وفات اور خاتم الانبیاء ﷺ کی ولادت کے درمیان ایک ہزار سات سو سال کا فاصلہ ہے اور یہود یہ فاصلہ ایک ہزار چار سو سال کا بتلاتے ہیں۔ سلیمان ؑ کی عمر پچاس سال سے کچھ اوپر ہوئی ہے۔ (قرطبی) اپنے لئے جمع کا صیغہ بولنا جائز ہے بشرطیکہ تکبراً نہ ہو عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا الخ، حضرت سلیمان ؑ نے باوجود خود اکیلے ہونے کے اپنے لئے جمع کا صیغہ شاہانہ محاورہ کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ رعایا پر رعب پڑے اور رعایا اطاعت خداوندی اور اطاعت سلیمان ؑ میں سستی نہ کریں۔ اسی طرح امراء، حکام اور افسران کو اپنی رعایا کی موجودگی میں اپنے لئے جمع کا صیغہ استعمال کرنے میں مضائقہ نہیں جبکہ وہ سیاست اور اظہار نعمت کی غرض سے ہو تکبر و تعلی کے لئے نہ ہو۔ پرندوں اور چوپاؤں میں بھی عقل و شعور ہے اس واقعہ سے ثابت ہوا کہ پرندے، چرندے اور تمام حیوانات میں بھی عقل و شعور کسی درجہ میں موجود ہے۔ البتہ ان کی عقول اس درجہ کی نہیں کہ ان کو احکام شرع کا مکلف بنایا جاتا اور انسان اور جنات کو عقل و شعور کا وہ کامل درجہ عطا ہوا ہے جس کی بناء پر وہ اللہ تعالیٰ کے مخاطب ہو سکیں اور ان پر عمل کرسکیں۔ امام شافعی نے فرمایا کہ کبوتر سب پرندوں میں زیادہ عقلمند ہے ابن عطیہ نے فرمایا کہ چیونٹی ذہین عقلمند جانور ہے اس کی قوت شامہ بڑی تیز ہے جو کوئی دانہ اس کے قبضہ میں آتا ہے اس کے دو ٹکڑے کردیتی ہے تاکہ اگے نہیں اور سردی کے زمانے کے لئے اپنی غذا کا ذخیرہ جمع کرتی ہے۔ (قرطبی) فائدہآیت میں منطق الطیر یعنی پرندوں کی بولی کی تخصیص ہدہد کے واقعہ کی وجہ سے ہے جو پرندہ ہے ورنہ حضرت سلیمان کو پرندے چرندے اور تمام حشرات الارض کی بولیاں سکھائی گئی تھیں جیسا کہ اگلی آیت میں چیونٹی کی بولی سمجھنے کا ذکر موجود ہے۔ امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں اس مقام پر مختلف پرندوں کی بولیاں اور حضرت سلیمان ؑ کا اس پر یہ فرمانا کہ یہ پرندہ یہ بات کہہ رہا ہے تفصیل سے نقل کیا ہے اور تقریباً ہر پرندہ کی بولی کوئی نصیحت کا جملہ ہے۔ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ۔ لفظ کل اصل لغت کے اعتبار سے تمام افراد جنس کو عام ہوتا ہے مگر بسا اوقات عموم کلی مراد نہیں ہوتا بلکہ کسی خاص مقصد کی حد تک عموم مراد ہوتا ہے جیسا یہاں مراد ان اشیاء کا عموم ہے جن کی سلطنت و حکومت میں ضرورت ہوتی ہے ورنہ ظاہر ہے کہ ہوائی جہاز، موٹر، ریل وغیرہ ان کے پاس نہ تھے۔ رَبِّ اَوْزِعْنِيْٓ وزع سے مشتق ہے جس کے لفظی معنے روکنے کے ہیں۔ مطلب اس جگہ یہ ہے کہ مجھے اس کی توفیق دیدیجئے کہ میں شکر نعمت کو ہر وقت ساتھ رکھوں اس سے کسی وقت جدا نہ ہوں جس کا حاصل مداومت اور پابندی ہے۔ اس سے پہلی آیت میں فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ اسی معنی میں آیا ہے کہ لشکر کو کثرت کی وجہ سے انتشار سے بچانے کے لئے روکا جاتا تھا۔
Ayah 27:19

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader

پھر مسکرا کر ہنس پڑا اس کی بات سے اور بولا اے میرے رب میری قسمت میں دے کہ شکر کروں تیرے احسان کا جو تو نے کیا مجھ پر اور میرے ماں باپ پر اور یہ کہ کروں کام نیک جو تو پسند کرے اور ملا لے مجھ کو اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں۔

وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ ، یہاں رضا بمعنے قبول ہے۔ معنے یہ ہیں کہ یا اللہ مجھے ایسے عمل صالح کی توفیق دیجئے جو آپ کے نزدیک مقبول ہو۔ روح المعانی میں اس سے اس پر استدلال کیا ہے کہ عمل صالح کے لئے قبولیت لازم نہیں ہے بلکہ قبولیت کچھ شرائط پر موقوف ہوتی ہے اور فرمایا کہ صالح اور مقبول ہونے میں نہ عقلاً کوئی لزوم ہے نہ شرعاً اسی لئے انبیاء (علیہم السلام) کی سنت ہے کہ اپنے اعمال صالحہ کے مقبول ہونے کی بھی دعا کرتے تھے جیسے حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) نے بیت اللہ کی تعمیر کے وقت دعا فرمائی، رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا، اس سے معلوم ہوا کہ جو عمل نیک ہے صرف اس کو کر کے بےفکر ہونا نہیں چاہئے، اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کرے کہ اس کو قبول فرما دے۔ عمل صالح اور مقبول ہونے کے باوجود جنت میں داخل ہونا بغیر فضل خداوندی کے نہیں ہوگا وَاَدْخِلْنِيْ بِرَحْمَتِكَ فِيْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ ، عمل صالح اور اس کے قبول ہونے کے باوجود جنت میں داخل ہونا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم ہی سے ہوگا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے اعمال کے بھروسہ پر جنت میں داخل نہیں ہوگا، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ بھی، تو آپ نے فرمایا کہ ہاں میں بھی لیکن مجھے میرے خدا کی رحمت اور فضل گھیرے ہوئے ہے۔ (روح المعانی) حضرت سلیمان ؑ بھی ان کلمات میں دخول جنت کے لئے فضل ربی کی دعا فرما رہے ہیں یعنی اے اللہ، مجھے وہ فضل بھی عطا فرما جس سے جنت کا مستحق ہوجاؤں۔
Ayah 27:20

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader

اور خبر لی اڑاتے جانوروں کی تو کہا کیا ہے، جو میں نہیں دیکھتا ہدہد کو یا ہے وہ غائب

خلاصہ تفسیر (اور ایک بار یہ قصہ ہوا کہ) سلیمان ؑ نے پرندوں کی حاضری لی تو (ہدہد کو نہ دیکھا) فرمانے لگے کہ کیا بات ہے کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھتا کیا کہیں غائب ہوگیا ہے (اور جب معلوم ہوا کہ واقع میں غائب ہے تو فرمانے لگے) میں اس کو (غیر حاضری پر) سخت سزا دوں گا یا اس کو ذبح کر ڈالوں گا یا وہ کوئی صاف دلیل (اور غیر حاضری کا عذر) میرے سامنے پیش کردے (تو خیر چھوڑ دوں گا) تھوڑی دیر بعد وہ آ گیا اور سلیمان (علیہ السلام سے) کہنے لگا کہ ایسی بات معلوم کر کے آیا ہوں جو آپ کو معلوم نہیں ہوئی اور (اجمالی بیان اس کا یہ ہے کہ) میں آپ کے پاس قبیلہ سبا کی ایک پختہ خبر لایا ہوں (جس کا تفصیلی بیان یہ ہے کہ) میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ ان لوگوں پر بادشاہی کر رہی ہے اور اس کو (بادشاہی کے لوازم میں سے) ہر قسم کا سامان حاصل ہے اور اس کے پاس ایک بڑا تخت ہے (اور مذہبی حالت ان کی یہ ہے کہ) میں نے اس (عورت) کو اور اس کی قوم کو دیکھا کہ وہ خدا (کی عبادت) کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے (ان) اعمال (کفر) کو ان کی نظر میں مرغوب کر رکھا ہے (اور ان اعمال بد کو مزین کرنے کے سبب) ان کو راہ (حق) سے روک رکھا ہے اس لئے وہ راہ (حق) پر نہیں چلتے کہ اس خدا کو سجدہ نہیں کرتے جو (ایسا قدرت والا ہے کہ آسمان اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو (جن میں سے بارش اور زمین کی نباتات بھی ہیں) باہر لاتا ہے اور (ایسا جاننے والا ہے کہ) تم لوگ (یعنی تمام مخلوق) جو کچھ (دل میں) پوشیدہ رکھتے ہو اور جو کچھ (زبان اور جسم کے اعضاء سے) ظاہر کرتے ہو وہ سب کو جانتا ہے (اس لئے) اللہ ہی ایسا ہے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے سلیمان ؑ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ تو سچ کہتا ہے یا تو جھوٹوں میں سے ہے (اچھا) میرا یہ خط لے جا اور اس کو ان کے پاس ڈال دینا پھر (ذرا وہاں سے) ہٹ جانا، پھر دیکھنا کہ آپس میں کیا سوال و جواب کرتے ہیں (پھر تو یہاں چلے آنا وہ لوگ جو کچھ کارروائی کریں گے اس سے تیرا سچ جھوٹ معلوم ہوجاوے گا۔) معارف و مسائل وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ ، تفقد کے لفظی معنے کسی مجمع کے متعلق حاضر و غیر حاضر کی تحقیق کرنے کے ہیں۔ اس لئے اس کا ترجمہ خبر گیری اور نگہبانی سے کیا جاتا ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کو حق تعالیٰ نے انسانوں کے علاوہ جنات اور دحوش و طیور پر حکومت عطا فرمائی تھی اور جیسا کہ حکمرانی کا اصول ہے رعایا کے ہر طبقہ کی نگرانی اور خبر گیری حاکم کے فرائض میں سے ہے اس کے مطابق اس آیت میں بیان فرمایا تَفَقَّدَ الطَّيْرَ یعنی سلیمان ؑ نے اپنی رعایا کے طیور کا معائنہ فرمایا اور یہ دیکھا کہ ان میں کون حاضر ہے کون غیر حاضر رسول اللہ ﷺ کی بھی عادت شریفہ یہ تھی کہ صحابہ کرام کے حالات سے باخبر رہنے کا اہتمام فرماتے تھے جو شخص غیر حاضر ہوتا اگر بیمار ہے تو عیادت کے لئے تشرف لے جاتے تھے تیمار داری کرتے اور کسی تکلیف میں مبتلا ہے تو اس کے لئے تدبیر فرماتے تھے۔ حاکم کو اپنی رعیت کی اور مشائخ کو اپنے شاگردوں اور مریدوں کی خبر گیری ضروری ہے آیت مذکورہ سے ثابت ہوا کہ حضرت سلیمان ؑ اپنی رعایا کے ہر طبقہ پر نظر رکھتے اور ان کے حالات سے اتنے باخبر رہتے تھے کہ ہدہد جو طیور میں چھوٹا اور کمزور بھی ہے اور اس کی تعداد بھی دنیا میں بہ نسبت دوسرے طیور کے کم ہے وہ بھی حضرت سلیمان ؑ کی نظر سے اوجھل نہیں ہوا، بلکہ خاص ہدہد کے متعلق جو سوال آپ نے فرمایا اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ زمرہ طیور میں کم تعداد اور کمزور ہے، اس لئے اپنی رعیت کے کمزوروں پر نظر رکھنے کا زیادہ اہتمام فرمایا۔ صحابہ کرام میں حضرت فاروق اعظم نے اپنے زمانہ خلافت میں اس سنت انبیاء کو پوری طرح جاری کیا۔ راتوں کو مدینہ منورہ کی گلیوں میں پھرتے تھے کہ سب لوگوں کے حالات سے باخبر رہیں جس شخص کو کسی مصیبت و تکلیف میں گرفتار پاتے اس کی امداد فرماتے تھے جس کے بہت سے واقعات ان کی سیرت میں مذکور ہیں۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ " اگر دریائے فرات کے کنارہ پر کسی بھیڑیئے نے کسی بکری کے بچے کو پھاڑ ڈالا تو اس کا بھی عمر سے سوال ہو گا "۔ (قرطبی) یہ تھے وہ اصول جہانبانی و حکمرانی جو انبیاء (علیہم السلام) نے لوگوں کو سکھائے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان کو عملاً جاری کر کے دکھلایا اور جس کے نتیجہ میں پوری مسلم و غیر مسلم رعایا امن و اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرتی تھی، اور ان کے بعد زمین و آسمان نے ایسے عدل و انصاف اور عام دنیا کے امن و سکون اور اطمینان کا یہ منظر نہیں دیکھا۔ مَا لِيَ لَآ اَرَى الْهُدْهُدَ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَاۗىِٕـبِيْنَ ، سلیمان ؑ نے فرمایا کہ مجھے کیا ہوگیا کہ میں ہدہد کو مجمع میں نہیں دیکھتا۔ اپنے نفس کا محاسبہ یہاں موقع تو یہ فرمانے کا تھا کہ ہدہد کو کیا ہوگیا کہ وہ مجمع میں حاضر نہیں۔ عنوان شاید اس لئے بدلا کہ ہدہد اور تمام طیور کا مسخر ہونا حق تعالیٰ کا ایک انعام خاص تھا۔ ہدہد کی غیر حاضری پر ابتداء میں یہ خوف دل میں پیدا ہوا کہ شاید میرے کسی قصور سے اس نعمت میں کمی آئی کہ ایک صنف طیور کی یعنی ہدہد غائب ہوگیا اس لئے اپنے نفس سے سوال کیا کہ ایسا کیوں ہوا ؟ جیسا کہ مشائخ صوفیہ کا معمول ہے کہ جب ان کو کسی نعمت میں کمی آئے یا کوئی تکلیف و پریشانی لاحق ہو تو وہ اس کے ازالہ کے لئے مادی اسباب کی طرف توجہ کرنے سے پہلے اپنے نفس کا محاسبہ کرتے تھے کہ ہم سے اللہ تعالیٰ کے حق شکر میں کونسی کوتاہی ہوئی جس کے سبب یہ نعمت ہم سے لے لی گئی۔ قرطبی نے اس جگہ بحوالہ ابن عربی ان بزرگوں کا یہ حال نقل کیا ہے۔ اذا فقدوا امالھم تفقدوا اعمالھم۔ یعنی ان حضرات کو جب اپنی مراد میں کامیابی نہیں ہوتی تو یہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے ہیں کہ ہم سے کیا قصور سرزد ہوا۔ اس ابتدائی محاسبہ نفس اور غور و فکر کے بعد فرمایا اَمْ كَانَ مِنَ الْغَاۗىِٕـبِيْنَ اس جگہ حرف ام بمعنے بل ہے (قرطبی) معنے یہ ہیں کہ یہ بات نہیں کہ ہدہد کے دیکھنے میں میری نظر نے خطاء کی بلکہ وہ حاضر ہی نہیں۔ طیور میں سے ہدہد کی تخصیص کی وجہ اور ایک اہم عبرت حضرت عبداللہ بن عباس سے سوال کیا گیا کہ تمام پرندوں میں ہدہد کی تفتیش کی کیا وجہ پیش آئی تو آپ نے فرمایا کہ سلیمان ؑ نے کسی ایسے مقام میں قیام فرمایا جہاں پانی نہیں تھا اور اللہ تعالیٰ نے ہدہد کو یہ خاصیت عطا فرمائی ہے کہ وہ زمین کے اندر کی چیزوں کو اور زمین کے اندر بہنے والے چشموں کو دیکھ لیتا ہے۔ مقصود حضرت سلیمان ؑ کا یہ تھا کہ ہدہد سے یہ معلوم کریں کہ اس میدان میں پانی کتنی گہرائی میں ہے اور کس جگہ زمین کھودنے سے پانی کافی مل سکتا ہے۔ ہدہد کی اس نشاندہی کے بعد وہ جنات کو حکم دیدیتے کہ اس زمین کو کھود کر پانی نکال لو وہ بڑی جلد کھود کر پانی نکال لیتے تھے۔ ہدہد اپنی تیز نظر اور بصیرت کے باوجود شکاری کے جال میں پھنس جاتا ہے اس پر حضرت ابن عباس نے فرمایا۔ قف یا وقاف کیف یری الھدھد باطن الارض وھو لا یری الفخ حین یقع فیہ (قرطبی) جاننے والو اس حقیقت کو پہچانو کہ ہدہد زمین کی گہرائی کی چیزوں کو دیکھ لیتا ہے مگر زمین کے اوپر پھیلا ہوا جال اس کی نظر سے اوجھل ہوجاتا ہے جس میں پھنس جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے جو امر تکلیف یا راحت کا کسی کے لئے مقدر کردیا ہے تو تقدیر الٰہی نافذ ہو کر رہتی ہے کوئی شخص اپنی فہم و بصیرت یا زور و زر کی طاقت کے ذریعہ اس سے نہیں بچ سکتا۔
Ayah 27:21

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader

اس کو سزا دوں گا سخت سزا یا ذبح کر ڈالوں گا یا لائے میرے پاس کوئی سند صریح

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِيْدًا اَوْ لَاَاذْبَحَنَّهٗٓ، ابتدائی غور و فکر کے بعد یہ حاکمانہ سیاست کا مظاہرہ ہے کہ غیر حاضر رہنے والے کو سزا دی جائے۔ جو جانور کام میں سستی کرے اس کو معتدل سزا دینا جائز ہے حضرت سلیمان ؑ کے لئے حق تعالیٰ نے جانوروں کو ایسی سزائیں دینا حلال کردیا تھا جیسا عام امتوں کے لئے جانوروں کو ذبح کر کے ان کے گوشت پوست وغیرہ سے فائدہ اٹھانا اب بھی حلال ہے۔ اسی طرح پالتو جانور گائے، بیل، گدھا، گھوڑا، اونٹ وغیرہ اپنے کام میں سستی کرے اس کو تادیب کے لئے بقدر ضروتر مارنے کی معتدل سزا اب بھی جائز ہے۔ دوسرے جانوروں کو سزا دینا ہماری شریعت میں ممنوع ہے۔ (قرطبی) اَوْ لَيَاْتِيَنِّيْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ ، یعنی اگر ہدہد نے اپنی غیر حاضری کا کوئی عذر واضح پیش کردیا تو وہ اس سزا سے محفوظ رہے گا۔ اس میں اشارہ ہے کہ حاکم کو چاہئے کہ جن لوگوں سے کوئی قصور عمل میں سرزد ہوجائے ان کو عذر پیش کرنے کا موقع دے، عذر صحیح ثابت ہو تو سزا کو معاف کر دے۔
Ayah 27:22

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader

پھر بہت دیر نہ کی کہ آ کر کہا میں لے آیا خبر ایک چیز کی کہ تجھ کو اس کی خبر نہ تھی اور آیا ہوں تیرے پاس سبا سے ایک خبر لیکر تحقیقی

اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ ، یعنی ہدہد نے اپنا عذر بتلاتے ہوئے کہا کہ مجھے وہ چیز معلوم ہے جو آپ کو معلوم نہیں، یعنی میں ایک ایسی خبر لایا ہوں جس کا آپ کو پہلے علم نہیں تھا۔ انبیاء (علیہم السلام) عالم الغیب نہیں ہوتے امام قرطبی نے فرمایا کہ اس سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) عالم الغیب نہیں ہوتے جس سے ان کو ہر چیز کا علم ہو سکے۔ وَجِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۢ بِنَبَاٍ يَّقِيْنٍ ، سباء، یمن کا ایک مشہور شہر جس کا ایک نام مارب بھی ہے۔ اس کے اور یمن کے دارالحکومت صنعاء کے درمیان تین دن کی مسافت تھی۔ کیا چھوٹے آدمی کو یہ حق ہے کہ اپنے بڑوں سے کہے کہ مجھے آپ سے زیادہ علم ہے ہدہد کی مذکورہ گفتگو سے بعض لوگوں نے اس پر استدلال کیا ہے کہ کوئی شاگرد اپنے استاد سے یا غیر عالم عالم سے کہہ سکتا ہے کہ اس مسئلہ کا علم مجھے آپ سے زیادہ ہے بشرطیکہ اس کو اس مسئلہ کا واقعی طور پر مکمل علم دوسروں سے زائد ہو۔ مگر روح المعانی میں فرمایا کہ یہ طرز گفتگو اپنے مشائخ اور بڑوں کے سامنے خلاف ادب ہے اس سے احتراز کرنا چاہئے اور ہدہد کے قول سے اس پر استدلال اس لئے نہیں ہوسکتا کہ اس نے یہ بات اپنے آپ کو سزا سے بچانے اور عذر کے قوی ہونے کے لئے کہی ہے تاکہ اس کی غیر حاضری کا عذر پوری طرح حضرت سلیمان کے سامنے آجائے ایسی ضرورت میں ادب کی رعایت رکھتے ہوئے کوئی بات کی جائے تو مضائقہ نہیں۔
Ayah 27:23

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader

میں نے پایا ایک عورت کو جو ان پر بادشاہی کرتی ہے اور اس کو ہر ایک چیز ملی ہے اور اس کا ایک تخت ہے بڑا

اِنِّىْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ یعنی میں نے ایک عورت کو پایا جو قوم سبا کی مالک ہے یعنی ان پر حکومت کرتی ہے۔ اس عورت یعنی ملک سبا کا نام تاریخ میں بلقیس بنت شراحیل بتلایا گیا ہے اور بعض روایات میں ہے کہ اس کی والدہ جنات میں سے تھی جس کا نام بلعمہ بنت شیصان بتلایا جاتا ہے (رواہ وہیب بن جریر عن الخلیل ابن احمد قرطبی) اور ان کا دادا ہداہد پورے ملک یمن کا ایک عظیم الشان بادشاہ تھا جس کی اولاد میں چالیس لڑکے ہوئے سب کے سب ملوک اور بادشاہ بنے۔ ان کے والد سراح نے ایک جنیہ عورت سے نکاح کرلیا تھا اسی کے بطن سے بلقیس پیدا ہوئی۔ جنیہ سے نکاح کرنے کی مختلف وجوہ بیان کی گئی ہیں۔ ایک یہ ہے کہ یہ اپنی حکومت و سلطنت کے غرور میں لوگوں سے کہتا تھا کہ تم میں کوئی میرا کفو نہیں اس لئے میں نکاح ہی نہ کروں گا کیونکہ غیر کفو میں نکاح مجھے پسند نہیں، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے اس کا نکاح ایک جنیہ عورت سے کرا دیا (قرطبی) شاید یہ اسی فخر و غرور کا نتیجہ تھا کہ اس نے انسانوں کو جو درحقیقت کفو تھے حقیر و ذلیل سمجھا اور اپنا کفو تسلیم نہ کیا تو قدرت نے اس کا نکاح ایک ایسی عورت سے مقدر کردیا جو نہ اس کی کفو تھی نہ اس کی جنس و قوم سے تھی۔ کیا انسان کا نکاح جنی عورت سے ہوسکتا ہے اس معاملہ میں بعض لوگوں نے تو اس لئے شبہ کیا ہے کہ جنات کو انسان کی طرح توالد و تناسل کا اہل نہیں سمجھا۔ ابن عربی نے اپنی تفسیر میں فرمایا کہ یہ خیال باطل ہے۔ احادیث صحیحہ سے جنات میں توالد و تناسل اور مرد و عورت کی تمام وہ خصوصیات جو انسانوں میں ہیں جنات میں بھی موجود ہونا ثابت ہے۔ دوسرا سوال شرعی حیثیت سے ہے کہ کیا عورت جنیہ کسی انسان مرد کے لئے نکاح کر کے حلال ہو سکتی ہے ؟ اس میں فقہاء کا اختلاف ہے بہت حضرات نے جائز قرار دیا ہے، بعض نے غیر جنس مثل جانوروں کے ہونے کی بناء پر حرام فرمایا ہے اس مسئلہ کی تفصیل " آکام المرجان فی احکام الجان " میں مذکور ہے اس میں بعض ایسے واقعات بھی ذکر کئے ہیں کہ مسلمان مرد سے مسلمان جنیہ کا نکاح ہوا اور اس سے اولاد بھی ہوئی۔ یہاں یہ مسئلہ اس لئے زیادہ قابل بحث نہیں کہ نکاح کرنے والا بلقیس کا والد مسلمان ہی نہ تھا اس کے عمل سے کوئی استدلال جواز یا عدم جواز پر نہیں ہو سکتا۔ اور چونکہ شرع اسلام میں اولاد کی نسبت باپ کی طرف ہوتی ہے اور بلقیس کے والد انسان تھے اس لئے بلقیس انسان ہی قرار پائے گی۔ اس لئے بعض روایات میں جو حضرت سلیمان ؑ کا بلقیس سے نکاح کرنا مذکور ہے، اگر وہ روایت صحیح ہو تو بھی اس سے نکاح جنیہ کا کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا کیونکہ بلقیس خود جنیہ نہ تھیں اگرچہ ان کی والدہ جنیہ ہو۔ واللہ اعلم اور نکاح سلیمان ؑ کے متعلق مزید بیان آ گے آئے گا۔ کیا کسی عورت کا بادشاہ ہونا یا کسی قوم کا امیر و امام ہو ناجائز ہے ؟: صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب یہ خبر پہنچی کہ اہل فارس نے اپنے ملک کا بادشاہ کسری کی بیٹی کو بنادیا ہے تو آپ نے فرمایا لن یفلح قوم ولو امرھم امراة یعنی وہ قوم کبھی فلاح نہ پائے گی جس نے اپنے اقتدار کا مالک عورت کو بنادیا۔ اسی لئے علماء امت اس پر متفق ہیں کہ کسی عورت کو امامت و خلافت یا سلطنت و حکومت سپرد نہیں کی جاسکتی، بلکہ نماز کی امامت کی طرح امامت کبری بھی صرف مردوں کو سزا وار ہے۔ رہا بلقیس کا ملکہ سبا ہونا تو اس سے کوئی حکم شرعی ثابت نہیں ہوسکتا جب تک یہ ثابت نہ ہوجائے کہ حضرت سلیمان ؑ نے اس سے خود نکاح کیا اور پھر اس کو حکومت و سلطنت پر برقرار رکھا اور یہ کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں جس پر احکام شرعیہ میں اعتماد کیا جاسکے۔ وَاُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ، مراد یہ ہے کہ سب ضروری سامان جو کسی بادشاہ و امیر کو درکار ہوتا ہے اور اپنے زمانے کے مطابق ہوسکتا ہے موجود تھا جو چیزیں اس زمانے میں ایجاد ہی نہ ہوئی تھیں ان کا نہ ہونا اس آیت کے منافی نہیں۔ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِيْمٌ، عرش کے لفظی معنے تخت سلطنت کے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے ایک روایت میں ہے کہ عرش بلقیس کا طول اسی ہاتھ اور عرض چالیس ہاتھ اور بلندی تیس ہاتھ تھی جس پر موتی اور یاقوت احمر، زبرجد، اخضر کا کام تھا اور اس کے پائے موتیوں اور جواہرات کے تھے اور پردے ریشم اور حریر کے، اندر باہر یکے بعد دیگر سات مقفل عمارتوں میں محفوظ تھا۔
Ayahs 27:24–27

وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader

میں نے پایا کہ وہ اور اس کی قوم سجدہ کرتے ہیں سورج کو اللہ کے سوائے اور بھلے دکھلا رکھے ہیں ان کو شیطان نے ان کے کام پھر روک دیا ہے ان کو رستہ سے سو وہ راہ نہیں پاتے

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader

کیوں نہ سجدہ کریں اللہ کو جو نکالتا ہے چھپی ہوئی چیز آسمانوں میں اور زمین میں اور جانتا ہے جو چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader

اللہ ہے کسی کی بندگی نہیں اس کے سوائے پروردگار تخت بڑے کا

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader

سلیمان نے کہا ہم اب دیکھتے ہیں تو نے سچ کہا یا تو جھوٹا ہے

وَجَدْتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُوْنَ للشَّمْسِ ، معلوم ہوا کہ اس کی قوم نجوم پرست تھی آفتاب کی عبادت کرتی تھی، بعض نے فرمایا کہ مجوس میں سے تھی جو آگ اور ہر روشنی کی پرستش کرتے ہیں۔ (قرطبی) اَلَّا يَسْجُدُوْا کا تعلق زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ یا فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيْلِ سے ہے یعنی شیطان نے ان کے ذہنوں میں یہی بٹھلا دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہ کریں یا یہ کہ ان کو حق کے راستہ سے اس طرح روک دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہ کریں۔
Ayah 27:28

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader

لے جا میرا یہ خط اور ڈال دے ان کی طرف پھر ان کے پاس سے ہٹ آ پھر دیکھ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔

تحریر اور خط بھی عام معاملات میں حجت شرعیہ ہے اِذْهَبْ بِّكِتٰبِيْ ھٰذَا، حضرت سلیمان ؑ نے ملکہ سبا کے نام خط بھیجنے کو اس پر اتمام حجت کے لئے کافی سمجھا اور اس پر عمل فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عام معاملات میں تحریر و خط قابل اعتبار ثبوت ہے۔ فقہاء ؒ نے صرف ان مواقع میں خط کو کافی نہیں سمجھا جہاں شہادت شرعیہ کی ضرورت ہے کیونکہ خط اور ٹیلیفون وغیرہ کے ذریعہ شہادت نہیں لی جاسکتی۔ شہادت کا مدار شاہد کا عدالت کے سامنے آ کر بیان دینے پر رکھا گیا جس میں بڑی حکمتیں مضمر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل بھی دنیا کی کسی عدالت میں خط اور ٹیلیفون پر شہادت لینے کو کافی نہیں سمجھا جاتا۔ مشرکین کو خط لکھنا اور ان کے پاس بھیجنا جائز ہے دوسرا مسئلہ حضرت سلیمان ؑ کے اس خط سے یہ ثابت ہوا کہ تبلیغ دین اور دعوت اسلام کے لئے مشرکین اور کفار کو خطوط لکھنا جائز ہے نبی کریم ﷺ سے بھی مختلف کفار کو خطوط بھیجنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ انسانی اخلاق کی رعایت ہر مجلس میں چاہئے اگرچہ وہ مجلس کفار ہی کی ہو فَاَلْقِهْ اِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ ، حضرت سلیمان ؑ نے ہدہد سے نامہ بری کا کام لیا تو اس کو یہ ادب مجلس بھی سکھایا کہ خط ملکہ سبا کو پہنچا کر وہیں سر پر سوار نہ رہے بلکہ وہاں سے ذرا ہٹ جائے جو عام شاہی مجلسوں کا طریقہ ہے۔ اس میں آداب معاشرت اور انسانی اخلاق کا عام مخلوقات کے ساتھ مطلوب ہونا معلوم ہوا۔
Ayah 27:29

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

کہنے لگی اے دربار والو ! میرے پاس ڈالا گیا ایک خط عزت کا وہ خط ہے

خلاصہ تفسیر (سلیمان ؑ نے ہدہد سے یہ گفتگو کر کے بلقیس کے نام ایک خط لکھا جس کا مضمون آگے قرآن میں مذکور ہے اور ہدہد کے حوالہ کیا وہ اس کو چونچ میں لے کر چلا اور اکیلے یا مجلس میں بلقیس کے پاس ڈال دیا) بلقیس نے (پڑھ کر اپنے سرداروں کو مشورہ کے لئے جمع کیا اور) کہا کہ اے اہل دربار میرے پاس ایک خط (جس کا مضمون نہایت) باوقعت (اور عظیم الشان ہے) ڈالا گیا ہے (باوقعت اس لئے کہا کہ حاکمانہ مضمون ہے جس میں باوجود انتہائی اختصار کے اعلی درجہ کی بلاغت ہے اور) وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور اس میں یہ (مضمون) ہے (اول) بسم اللہ الرحمن الرحیم (اور اس کے بعد یہ کہ) تم لوگ (یعنی بلقیس اور سب ارکان بادشاہت جن کے ساتھ عوام بھی وابستہ ہیں) میرے مقابلہ میں تکبر مت کرو اور میرے پاس تابعدار ہو کر چلے آؤ۔ (مقصود تمام کو دعوت دینا ہے اور یہ لوگ سلیمان ؑ کا یا تو پہلے حال سن چکے ہوں گے گو سلیمان ؑ ان لوگوں کو نہ جانتے ہوں، اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بڑے چھوٹوں کو نہیں جانتے اور چھوٹے بڑوں کو جانا کرتے ہیں اور یا خط آنے کے بعد تحقیق کرلیا ہوگا اور خط کے مضمون کی اطلاع دینے کے بعد) بلقیس نے (یہ) کہا کہ اے اہل دربار تم مجھ کو میرے اس معاملہ میں رائے دو (کہ مجھ کو سلیمان کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہئے) اور میں (کبھی) کسی بات کا قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک کہ تم میرے پاس موجود نہ ہو (اور اس میں شریک و مشیر نہ ہو) وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم (اپنی ذات سے ہر طرح سے حاضر ہیں، اگر مقابلہ اور لڑنا مصلحت سمجھا جاوے تو ہم) بڑے طاقتور اور بڑے لڑنے والے ہیں (اور آگے) اختیار تم کو ہے سو تم ہی (مصلحت) دیکھ لو جو کچھ (تجویز کر کے) حکم دینا ہو۔ بلقیس کہنے لگی کہ (میرے نزدیک لڑنا تو مصلحت نہیں کیونکہ سلیمان بادشاہ ہیں اور) بادشاہوں (کا قاعدہ ہے کہ وہ جب کسی بستی میں (مخالفانہ طور پر) داخل ہوتے ہیں تو اس کو تہہ وبالا کردیتے ہیں اور اس کے رہنے والوں میں جو عزت دار ہیں ان کو (ان کا زور گھٹانے کے لئے) ذلیل (و خوار) کیا کرتے ہیں اور (ان سے لڑائی کی جاوے تو ممکن ہے کہ ان ہی کو غلبہ ہو تو پھر) یہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے (تو بےضرورت پریشانی میں پڑنا خلاف مصلحت ہے لہٰذا جنگ کو تو ابھی ملتوی کیا جاوے) اور (سردست یوں مناسب ہے کہ) میں ان لوگوں کے پاس کچھ ہدیہ (کسی آدمی کے ہاتھ بھیجتی ہوں) پھر دیکھوں گی کہ وہ بھیجے ہوئے (وہاں سے) کیا (جواب) لے کر آتے ہیں (اس وقت دوبارہ غور کیا جاوے گا۔ چناچہ ہدیوں اور تحفوں کا سامان درست ہوا اور قاصد اس کو لے کر روانہ ہوا) جب وہ قاصد سلیمان ؑ کے پاس پہنچا (اور تمام ہدیے پیش کئے) تو سلیمان (علیہ السلام نے) فرمایا کیا تم لوگ (یعنی بلقیس اور بلقیس والے) مال سے میری امداد کرنا (چاہتے) ہو (اس لئے ہدیئے لائے ہو) سو (سمجھ رکھو کہ) اللہ نے جو کچھ مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو تم کو دے رکھا ہے (کیونکہ تمہارے پاس صرف دنیا ہے اور میرے پاس دین بھی اور دنیا بھی تم سے زیادہ لہٰذا میں تو ان چیزوں کا حریص نہیں ہوں) ہاں تم ہی اپنے ہدیئے پر فخر کرتے ہوگے (لہٰذا یہ ہدیئے ہم نہ لیں گے) تم (ان کو لے کر) ان لوگوں کے پاس لوٹ جاؤ (اگر وہ اب بھی ایمان لے آویں تو درست ورنہ) ہم ان پر ایسی فوجیں بھیجتے ہیں کہ ان لوگوں سے ان کا ذرا مقابلہ نہ ہو سکے گا اور ہم ان کو وہاں سے ذلیل کر کے نکال دیں گے اور وہ (ذلت کے ساتھ ہمیشہ کے لئے) ماتحت (اور رعایا) ہوجاویں گے (یہ نہیں کہ نکالنے کے بعد آزادی سے چھوڑ دیئے جاویں کہ جہاں چاہیں چلے جاویں بلکہ ہمیشہ کی ذلت ان کے لئے لازمی ہوجاوے گی۔) معارف و مسائل قَالَتْ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤ ُ ا اِنِّىْٓ اُلْقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيْمٌ، کریم کے لفظی معنی معزز مکرم کے ہیں اور محاورہ میں کسی خط کو معزز مکرم جب کہا جاتا ہے جبکہ اس پر مہر لگائی گئی ہو۔ اس لئے اس آیت میں کتاب کریم کی تفسیر حضرت ابن عباس، قتادہ زہیر وغیرہ نے کتاب مختوم سے کی ہے جس سے معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان ؑ نے خط پر اپنی مہر ثبت فرمائی تھی۔ ہمارے رسول ﷺ کو جب ملوک عجم کی یہ عادت معلوم ہوئی کہ جس خط پر مہر نہ ہو اس کو نہیں پڑھتے تو آنحضرت ﷺ نے بھی بادشاہوں کے خطوط کے لئے مہر بنوائی اور قیصر و کسری وغیرہ کو جو خطوط تحریر فرمائے ان پر مہر ثبت فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ خط پر مہر لگانا مکتوب الیہ کا بھی اکرام ہے اور اپنے خط کا بھی آج کل عادت خط کو لفافہ میں بند کر کے بھیجنے کی ہوگئی ہے۔ یہ بھی مہر کے قائم مقام ہے جس جگہ مکتوب الیہ کا اکرام منظور ہو، کھلا خط بھیجنے کے بجائے لفافہ میں بند کر کے بھجینا اقرب الی السنتہ ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کا خط کس زبان میں تھا حضرت سلیمان ؑ گو عربی نہ تھے لیکن عربی زبان جاننا اور سمجھنا آپ سے کوئی بعید بھی نہیں۔ جبکہ آپ پرندوں تک کی زبان جانتے تھے اور عربی زبان تو تمام زبانوں سے افضل و اشرف ہے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے خط عربی زبان میں لکھا ہو کیونکہ مکتوب الیہ (بلقیس) عربی النسل تھی اس نے خط کو پڑھا بھی اور سمجھا بھی اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے خط اپنی ہی زبان میں تحریر فرمایا ہو اور بلقیس کے پاس حضرت سلیمان ؑ کی زبان کا ترجمان ہو جس نے پڑھ کر خط سنایا اور سمجھایا ہو۔ (روح)