27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 27:30–31

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

سلیمان کی طرف سے اور وہ یہ ہے شروع اللہ کے نام سے جو بےحد مہربان نہایت رحم والا ہے

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

کہ زور نہ کرو میرے مقابلہ میں اور چلے آؤ میرے سامنے حکمبردار ہو کر

خط نویس کے چند آداب اِنَّهٗ مِنْ سُلَيْمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ، قرآن نے انسانی زندگی کا کوئی پہلو نہیں چھوڑا جس پر ہدایات نہ دی ہوں۔ خط و کتابت اور مراسلت کے ذریعہ باہمی گفت و شنید بھی انسان کی اہم ضروریات میں داخل ہے۔ اس سورت میں حضرت سلیمان ؑ کا مکتوب بنام ملکہ سبا (بلقیس) پورا کا پورا نقل فرمایا گیا۔ یہ ایک پیغمبر و رسول کا خط ہے اور قرآن کریم نے اس کو بطور استحسان کے نقل کیا ہے اس لئے اس خط میں جو ہدایات خط و کتابت کے معاملے میں پائی جاتی ہیں وہ مسلمانوں کے لئے بھی قابل اتباع ہیں۔ کاتب اپنا نام پہلے لکھے پھر مکتوب الیہ کا سب سے پہلے ایک ہدایت تو اس خط میں یہ ہے کہ خط کو حضرت سلیمان ؑ نے اپنے نام سے شروع کیا، مکتوب الیہ کا نام کس طرح لکھا قرآن کریم کے الفاظ میں وہ مذکور نہیں مگر اتنی بات اس سے معلوم ہوئی کہ خط لکھنے والے کے لئے سنت انبیاء یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنا نام لکھے جس میں بہت سے فوائد ہیں۔ مثلاً خط پڑھنے سے پہلے ہی مکتوب الیہ کے علم میں آجائے کہ میں کس کا خط پڑھ رہا ہوں تاکہ وہ اسی ماحول میں خط کے مضمون کو پڑھے اور غور کرے مخاطب کو یہ تکلیف نہ اٹھانی پڑے کہ کاتب کا نام خط میں تلاش کرے کہ کس کا خط ہے کہاں سے آیا ہے۔ رسول کریم ﷺ کے جتنے مکاتیب منقول اور شائع شدہ عالم میں موجود ہیں ان سب میں بھی آپ نے یہی طریقہ اختیار فرمایا ہے کہ (من محمد عبداللہ و رسولہ) سے شروع فرمایا گیا ہے۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ جب کوئی بڑا آدمی اپنے چھوٹے کو خط لکھے اس میں تو اپنے نام کی تقدیم پر کوئی اشکال نہیں، لیکن کوئی چھوٹا اپنے باپ، استاد، شیخ یا اور کسی بڑے کو خط لکھے اس میں اپنے نام کو مقدم کرنا کیا اس کے ادب کے خلاف نہ ہوگا اور اس کو ایسا کرنا چاہئے یا نہیں ؟ اس معاملے میں حضرات صحابہ کرام کا عمل مختلف رہا ہے اکثر حضرات نے تو اتباع سنت نبوی کو ادب پر مقدم رکھ کر خود آنحضرت ﷺ کو جو خطوط لکھے ان میں سے بھی اپنے نام کو مقدم لکھا ہے۔ روح المعانی میں بحر محیط کے حوالہ سے حضرت انس ؓ کا یہ قول نقل کیا ہے۔ ماکان احد اعظم حرمۃ من رسول اللہ ﷺ وکان اصحابہ اذا کتنبوا الیہ کتابا بداوا بانفسھم قلت و کتاب علاء الحضرمی یشھد لہ علی ماروی۔ رسول اللہ ﷺ سے زیادہ تو کوئی انسان قابل تعظیم نہیں، مگر صحابہ کرام جب آپ کو بھی خط لکھتے تو اپنا نام ہی شروع میں لکھا کرتے تھے اور حضرت علائی حضرمی کا خط جو رسول اللہ ﷺ کے نام معروف ہے وہ اس پر شاہد ہے۔ البتہ روح المعانی میں مذکورہ روایات نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ یہ سب کلام افضلیت میں ہے جواز میں نہیں۔ اگر کوئی شخص اپنا نام شروع کے بجائے اخیر میں لکھ دے تو یہ بھی جائز ہے۔ فقیہ ابو اللیث کی بستان میں ہے کہ اگر کوئی شخص مکتوب الیہ کے نام سے شروع کر دے تو اس کے جواز میں کسی کو کلام نہیں کیونکہ امت میں یہ طریقہ بھی چلا آ رہا ہے اس پر نکیر نہیں کی گئی۔ (روح المعانی و قرطبی) خط کا جواب دینا بھی سنت انبیاء ہے تفسیر قرطبی میں ہے کہ جس شخص کے پاس کسی کا خط آئے اس کے لئے مناسب ہے کہ اس کا جواب دے کیونکہ غائب کا خط حاضر کے سلام کے قائم مقام ہے اسی لئے حضرت ابن عباس سے ایک روایت میں ہے کہ وہ خط کے جواب کو جواب سلام کی طرح واجب قرار دیتے تھے۔ (قرطبی) خطوط میں بسم اللہ لکھنا حضرت سلیمان ؑ کے مذکورہ خط سے نیز رسول کریم ﷺ کے تمام مکاتیب سے ایک مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ خط کے شروع میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھنا سنت انبیاء ہے۔ رہا یہ مسئلہ کہ بسم اللہ کو اپنے نام سے پہلے لکھے یا بعد میں تو رسول اللہ ﷺ کے مکاتیب اس پر شاہد ہیں کہ بسم اللہ کو سب سے مقدم، اس کے بعد کاتب کا نام، پھر مکتوب الیہ کا نام لکھا جائے اور قرآن کریم میں جو حضرت سلیمان ؑ کا نام پہلے اور بسم اللہ بعد میں مذکور ہے اس کے ظاہر سے جو از اس کا بھی معلوم ہوتا ہے کہ بسم اللہ اپنے نام کے بعد لکھی جائے۔ لیکن ابن ابی حاتم نے یزید بن رومان سے نقل کیا ہے کہ دراصل حضرت سلیمان ؑ نے اپنے خط میں اس طرح لکھا تھا۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ من سلیمان بن داؤد الی بلقیس ابنتہ ذی شرح و قومھا۔ ان لا تعلوا الخ بلقیس نے جب یہ خط اپنی قوم کو سنایا تو اس نے قوم کی آگاہی کے لئے سلیمان ؑ کا نام پہلے ذکر کردیا، قرآن کریم میں جو کچھ آیا ہے وہ بلقیس کا قول ہے قرآن کریم میں اس کی تصریح نہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کے اصل خط میں بسم اللہ مقدم تھی یا سلیمان ؑ کا نام اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سلیمان ؑ کا نام لفافہ کے اوپر لکھا ہو اور اندر بسم اللہ سے شروع ہو، بلقیس نے جب اپنی قوم کو خط سنایا تو حضرت سلیمان ؑ کا نام پہلے ذکر کردیا۔ مسئلہخط نویسی کی اصل سنت تو یہی ہے کہ ہر خط کے شروع میں بسم اللہ لکھی جائے لیکن قرآن و سنت کے نصوص و اشارات سے حضرات فقہاء نے یہ کلیہ قاعدہ لکھا ہے کہ جس جگہ بسم اللہ یا اللہ تعالیٰ کا کوئی نام لکھا جائے اگر اس جگہ اس کاغذ کے بےادبی سے محفوظ رکھنے کا کوئی اہمتام نہیں بلکہ وہ پڑھ کر ڈال دیا جاتا ہے تو ایسے خطوط اور ایسی چیز میں بسم اللہ یا اللہ تعالیٰ کا کوئی نام لکھنا جائز نہیں کہ وہ اس طرح اس بےادبی کے گناہ کا شریک ہوجائے گا۔ آج کل جو عموماً ایک دوسرے کو خطوط لکھے جاتے ہیں ان کا حال سب جانتے ہیں کہ نالیوں اور گندگیوں میں پڑے نظر آتے ہیں، اس لئے مناسب یہ ہے کہ ادائے سنت کے لئے زبان سے بسم اللہ کہہ لے تحریر میں نہ لکھے۔ ایسی تحریر جس میں کوئی آیت قرآنی لکھی ہو، کیا کسی کافر مشرک کے ہاتھ میں دینا جائز ہے یہ خط حضرت سلیمان ؑ نے بلقیس کو اس وقت بھیجا ہے جبکہ وہ مسلمان نہیں تھیں حالانکہ اس خط میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہوا تھا جس سے معلوم ہوا کہ ایسا کرنا جائز ہے۔ رسول کریم ﷺ نے جو خطوط ملوک عجم کو لکھے ہیں اور وہ مشرک تھے، ان میں بھی بعض آیات قرآن لکھی ہیں۔ وجہ دراصل یہ ہے کہ قرآن کریم کا کسی کافر کے ہاتھ میں دینا تو جائز نہیں لیکن ایسی کوئی کتاب یا کاغذ جس میں کسی مضمون کے ضمن میں کوئی آیت آگئی ہے وہ عرف میں قرآن نہیں کہلاتا اس لئے اس کا حکم بھی قرآن کا حکم نہیں ہوگا وہ کسی کافر کے ہاتھ میں بھی دے سکتے ہیں اور بےوضو کے ہاتھ میں بھی (عالمگیری کتاب الخطر والاباحتہ) خط مختصر، جامع، بلیغ اور موثر انداز میں لکھنا چاہئے حضرت سلیمان ؑ کے اس والا نامہ کو دیکھئے تو چند سطروں میں تمام اہم اور ضروری مضامین بھی جمع کردیئے اور بلاغت کا اعلی معیار بھی قائم ہے۔ کافر کے مقابلے میں اپنی شاہانہ شوکت کا اظہار بھی ہے۔ اس کے ساتھ حق تعالیٰ کی صفات کمال کا بیان اور اسلام کی طرف دعوت بھی، اور ترفع وتکبر کی مذمت بھی۔ درحقیقت یہ خط بھی اعجاز قرآنی کا ایک نمونہ ہے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ خط نویسی میں تمام انبیاء (علیہم السلام) کی سنت بھی وہی ہے کہ تحریر میں طول نہ ہو، مگر ضروری کوئی مضمون چھوٹے بھی نہیں۔ (روح المعانی)
Ayahs 27:32–34

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

کہنے لگی اے دربار والوں مشورہ دو مجھ کو میرے کام میں میں طے نہیں کرتی کوئی کام تمہارے حاضر ہونے تک

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

وہ بولے ہم لوگ زور آور ہیں اور سخت لڑائی والے اور کام تیرے اختیار میں ہے سو تو دیکھ لے جو حکم کرے

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

کہنے لگی بادشاہ جب گھستے ہیں کسی بستی میں اس کو خراب کردیتے ہیں اور کر ڈالتے ہیں وہاں کے سرداروں کو بےعزت اور ایسا ہی کچھ کریں گے

اہم امور میں مشورہ کرنا سنت ہے اس میں دوسروں کی رائے سے فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے اور لوگوں کی دلجوئی بھی ہوتی ہے قَالَتْ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤ ُ ا اَفْتُوْنِيْ فِيْٓ اَمْرِيْ ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ ، افتونی، فتوی سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کسی خاص مسئلہ کا جواب دینا۔ یہاں مشورہ دینا اور اپنی رائے کا اظہار کرنا مراد ہے۔ ملکہ بلقیس کو جب حضرت سلیمان ؑ کا خط پہنچا تو اس نے اپنے ارکان حکومت کو جمع کر کے اس واقعہ کا اظہار کیا اور ان سے مشورہ طلب کیا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے۔ اس نے ان کی رائے دریافت کرنے سے پہلے ان کی دلجوئی اور ہمت افزائی کے لئے یہ بھی کہا کہ میں کسی معاملہ کا فیصلہ تمہارے بغیر نہیں کرتی۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ فوج اور وزراء نے اس کے جواب میں اپنی مستعدی کے ساتھ تعمیل حکم کے لئے ہر قسم کی قربانی پیش کردی (نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّاُولُوْا بَاْسٍ شَدِيْدٍ وَّالْاَمْرُ اِلَيْكِ) حضرت قتادہ نے فرمایا کہ ہم سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ بلقیس کی مجلس شوریٰ کے ارکان تین سو تیرہ تھے اور ان میں سے ہر ایک آدمی دس ہزار آدمیوں کا امیر اور نمائندہ تھا۔ (قرطبی) اس سے معلوم ہوا کہ اہم امور میں مشورہ لینے کا دستور پرانا ہے۔ اسلام نے مشورہ کو خاص اہمیت دی اور عمال حکومت کو مشورہ کا پابند کیا۔ یہاں تک کہ خود رسول اللہ ﷺ جو وحی الٰہی کے مورد تھے۔ اور آسمانی ہدایات آپ کو ملتی تھیں اس کی وجہ سے آپ کو کسی رائے مشورہ کی درحقیقت ضرورت نہ تھی۔ مگر امت کے لئے سنت قائم کرنے کے واسطے آپ کو بھی حکم دیا گیا (وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ) یعنی آپ اہم امور میں صحابہ کرام سے مشورہ لیا کریں۔ اس میں صحابہ کرام کی دلجوئی اور عزت افزائی بھی ہے اور آئندہ آنے والے عمال حکومت کو اس کی تاکید بھی کہ مشورہ سے کام کیا کریں۔ مکتوب سلیمانی کے جواب میں ملکہ بلقیس کا ردعمل ارباب حکومت کو مشورہ میں شریک کرکے ان کا تعاون حاصل کرلینے کے بعد ملکہ بلقیس نے خود ہی ایک رائے قائم کی جس کا حاصل یہ تھا کہ وہ حضرت سلیمان کا امحتان لے اور تحقیق کرے کہ وہ واقعی اللہ کے رسول اور نبی ہیں اور جو کچھ حکم دے رہے ہیں وہ اللہ کے احکام کی تعمیل ہے یا وہ ایک ملک گیری کے خواہشمند بادشاہ ہیں، اس امتحان سے اس کا مقصد یہ تھا کہ اگر واقعی وہ نبی و رسول ہیں تو ان کے حکم کا اتباع کیا جائے اور مخالفت کی کوئی صورت اختیار نہ کی جائے اور اگر بادشاہ ہیں اور ملک گیری کی ہوس میں ہمیں اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں تو پھر غور کیا جائے گا کہ ان کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔ اس امتحان کا طریقہ اس نے یہ تجویز کیا کہ سلیمان ؑ کے پاس کچھ ہدیے تحفے بھیجے اگر وہ ہدیے تحفے لے کر راضی ہوگئے تو علامت اس کی ہوگی کہ وہ ایک بادشاہ ہی ہیں اور اگر وہ واقع میں نبی و رسول ہیں تو وہ اسلام و ایمان کے بغیر کسی چیز پر راضی نہ ہوں گے، یہ مضمون ابن جریر نے متعدد اسانید کے ساتھ حضرت ابن عباس، مجاہد، ابن جریج، ابن وہب سے نقل کیا ہے اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔
Ayah 27:35

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

اور میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ تحفہ پھر دیکھتی ہوں کیا جواب لے کر پھرتے ہیں بھیجے ہوئے

وَاِنِّىْ مُرْسِلَةٌ اِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ ، یعنی میں حضرت سلیمان اور ان کے ارکان دولت کے پاس ایک ہدیہ بھیجتی ہوں پھر دیکھوں گی کہ جو قاصد یہ ہدیہ لے کر جائیں گے وہ واپس آ کر کیا صورت حال بیان کرتے ہیں۔ بلقیس کے قاصدوں کی دربار سلیمانی میں حاضری تاریخی اسرائیلی روایات میں بلقیس کی طرف سے آنے والے قاصدوں اور تحفوں کی بڑی تفصیلات مذکور ہیں۔ اتنی بات پر سب روایات متفق ہیں کہ تحفہ میں کچھ سونے کی اینٹیں تھیں کچھ جواہرات اور ایک سو غلام اور ایک سو کنیزیں تھیں مگر کنیزوں کو مردانہ لباس میں اور غلاموں کو زنانہ لباس میں بھیجا تھا اور ساتھ ہی بلقیس کا ایک خط بھی تھا جس میں سلیمان کے امتحان کے لئے کچھ سوالات بھی تھے، تحفوں کے انتخاب میں بھی ان کا امتحان مطلوب تھا۔ حضرت سلیمان کو حق تعالیٰ نے اس کے تحفوں کی تفصیلات ان کے پہنچنے سے پہلے بتلا دی تھیں۔ سلیمان ؑ نے جناب کو حکم دیا کہ دربار سے نو فرسخ تقریباً تیس میل کی مسافت میں سونے چاندی کی اینٹوں کا فرش کردیا جائے اور راستہ میں دو طرفہ عجیب الخلقت جانوروں کو کھڑا کردیا جائے جن کا بول و براز بھی سونے چاندی کے فرش پر ہو۔ اسی طرح اپنے دربار کو خاص اہتمام سے مزین فرمایا، دائیں بائیں چار چار ہزار سونے کی کرسیاں ایک طرف علماء کے لئے، دوسری طرف وزراء اور عمال سلطنت کے لئے بچھائی گئیں۔ جواہرات سے پورا ہال مزین کیا گیا۔ بلقیس کے قاصدوں نے جب سونے کی اینٹوں پر جانوروں کو کھڑا دیکھا تو اپنے تحفہ سے شرما گئے۔ بعض روایات میں ہے کہ اپنی سونے کی اینٹیں وہیں ڈال دیں، پھر جوں جوں آگے بڑھتے گئے دو طرفہ وحوش و طیور کی صفیں دیکھیں، پھر جنات کی صفیں دیکھیں تو بےحد مرعوب ہوگئے مگر جب دربار تک پہنچے اور حضرت سلیمان کے سامنے حاضر ہوئے تو آپ خندہ پیشانی سے پیش آئے، ان کی مہمانی کا اکرام کیا مگر ان کے تحفے واپس کردیئے اور بلقیس کے سب سوالات کے جوابات دیئے۔ (ملخصًا از تفسیر قرطبی)
Ayahs 27:36–37

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

پھر جب پہنچا سلیمان کے پاس بولا کیا تم میری اعانت کرتے ہو مال سے، سو جو اللہ نے مجھ کو دیا ہے بہتر ہے اس سے جو تم کو دیا ہے، بلکہ تم ہی اپنے تحفہ سے خوش رہو

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

پھر جا ان کے پاس اب ہم پہنچتے ہیں ان پر ساتھ لشکروں کے جن کا مقابلہ نہ ہو سکے ان سے اور نکال دیں گے ان کو وہاں سے بےعزت کر کر اور وہ خوار ہوں گے۔

حضرت سلیمان ؑ کی طرف سے ہدیہ بلقیس کی واپسی قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ ۡفَمَآ اٰتٰىـنِۦ اللّٰهُ خَيْرٌ مِّمَّآ اٰتٰىكُمْ ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ ، یعنی جب بلقیس کے قاصد اس کے ہدایا اور تحفے لے کر حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچے تو انہوں نے قاصد سے فرمایا کہ کیا تم مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو۔ مجھے اللہ نے جو مال و دولت دیا ہے وہ تمہارے مال و سامان سے کہیں زیادہ بہتر ہے اس لئے میں یہ مال کا ہدیہ قبول نہیں کرتا اس کو واپس لے جاؤ اور اپنے ہدیہ پر تم ہی خوش رہو۔ کسی کافر کا ہدیہ قبول کرنا جائز ہے یا نہیں اس کی تفصیل و تحقیق حضرت سلیمان ؑ نے ملکہ بلقیس کا ہدیہ قبول نہیں فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر کا ہدیہ قبول کرنا جائز نہیں یا بہتر نہیں۔ اور تحقیق اس مسئلے میں ہے کہ کافر کا ہدیہ قبول کرنے میں اگر اپنی یا مسلمانوں کی کسی مصلحت میں خلل آتا ہو یا ان کے حق میں رائے کی کمزوری پیدا ہوتی ہو تو ان کا ہدیہ قبول کرنا درست نہیں۔ (روح المعانی) ہاں اگر کوئی دینی مصلحت اس ہدیہ کے قبول کرنے کی داعی ہو، مثلاً اس کے ذریعہ کافر کے مانوس ہو کر اسلام سے قریب آنے پھر مسلمان ہونے کی امید ہو یا اس کے کسی شر و فساد کو اس کے ذریعہ دفع کیا جاسکتا ہو تو قبول کرنے کی گنجائش ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سنت اس معاملے میں یہی رہی ہے کہ بعض کفار کا ہدیہ قبول فرما لیا، بعض کا رد کردیا۔ عمدة القاری شرح بخاری کتاب الہبتہ میں اور شرح سیر کبیر میں حضرت کعب بن مالک سے روایت کیا ہے کہ براء کا بھائی عامر بن ملک مدینہ طیبہ میں کسی ضرورت سے پہنچا جبکہ وہ مشرک کافر تھا اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں دو گھوڑے اور دو جوڑے کپڑے کا ہدیہ پیش کیا۔ آپ نے اس کا ہدیہ یہ فرما کر واپس کردیا کہ ہم مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتے، اور عیاض بن حمار مجاشعی نے آپ کی خدمت میں ایک ہدیہ پیش کیا تو آپ نے اس سے سوال کیا کہ تم مسلمان ہو اس نے کہا کہ نہیں آپ نے ان کا ہدیہ بھی یہ کہہ کر رد فرما دیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے عطایا لینے سے منع فرمایا ہے اس کے بالمقابل یہ روایات بھی موجود ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض مشرکین کے ہدایا قبول فرمائے۔ ایک روایت میں ہے کہ ابوسفیان نے بحالت شرک آپ کو ایک چمڑا ہدیہ میں بھیجا آپ نے قبول فرما لیا اور ایک نصرانی نے ایک ریشمی حریر کا بہت چمکتا ہوا کپڑا ہدیہ میں پیش کیا، آپ نے قبول فرما لیا۔ شمس الائمہ اس کو نقل کر کے فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک سبب یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کو بعض کا ہدیہ رد کردینے میں اس کے اسلام کی طرف مائل ہونے کی امید تھی وہاں رد کردیا اور بعض کا ہدیہ قبول کرنے میں اس کے مسلمان ہوجانے کی امید تھی تو قبول کرلیا۔ (از عمدة القاری کتاب الہبتہ) اور بلقیس نے جو رد ہدیہ کو نبی ہونے کی علامت قرار دیا اس کا سبب یہ نہ تھا کہ نبی کے لئے ہدیہ قبول کرنا مشرک کا جائز نہیں بلکہ سبب یہ تھا کہ اس نے اپنا ہدیہ درحقیقت ایک رشوت کی حیثیت سے بھیجا تھا کہ اس کے ذریعہ وہ حضرت سلیمان ؑ کے حملے سے محفوظ رہے۔
Ayahs 27:38–39

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

بولا اے دربار والو ! تم میں کوئی ہے کہ لے آوے میرے پاس اس کا تخت پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس حکمبردار ہو کر

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

بولا ایک دیو جنوں میں سے میں لائے دیتا ہوں وہ تجھ کو پہلے اس سے کہ تو اٹھے اپنی جگہ سے اور میں اس پر زور آور ہوں

خلاصہ تفسیر (غرض وہ قاصد اپنے ہدایا لے کر واپس گیا اور سارا قصہ بلقیس سے بیان کیا تو حالات سے اس کو حضرت سلیمان ؑ کے علم اور نبوت کے کمالات کا یقین ہوگیا اور حاضر ہونے کے ارادہ سے اپنے ملک سے چلی) سلیمان (علیہ السلام کو وحی سے یا اور کسی پرندے وغیرہ کے ذریعہ اس کا چلنا معلوم ہوا تو انہوں) نے (اپنے دربار والوں سے) فرمایا کہ اے دربار والو تم میں کوئی ایسا ہے جو اس (بلقیس) کا تخت پہلے اس کے کہ وہ لوگ میرے پاس مطیع ہو کر آویں حاضر کردے (مسلمین کی قید اظہار واقعہ کے لئے ہے کیونکہ وہ لوگ اسی قصد سے آ رہے تھے تخت کا منگانا غالباً اس غرض سے ہے کہ وہ لوگ میرا معجزہ بھی دیکھ لیں کیونکہ اتنا بڑا تخت اور پھر اس کا ایسے سخت پہروں میں اس طور پر اچانک آجانا کہ اطلاع تک نہ ہو عادت بشریہ سے باہر ہے اگر جنوں کی تسخیر یعنی تابع ہونے سے ہو تب بھی جنوں کا خود بخود تابع ہوجانا بھی ایک معجزہ ہی ہے اور اگر کسی ولی امت کی کرامت کے ذریعہ ہے تو ولی کی کرامت بھی نبی کا معجزہ ہوتا ہے اور اگر بغیر کسی واسطہ کے ہے تو پھر معجزہ ہونا ظاہر ہے۔ بہرحال ہر طور پر یہ معجزہ اور نبوت کی دلیل ہے لہذٰا مقصود یہ ہوگا کہ اندرونی کمالات کے ساتھ ساتھ یہ معجزہ کے کمالات بھی دیکھ لیں تاکہ ایمان و اطمینان زیادہ ہو) ایک قوی ہیکل جن نے جواب (میں) عرض کیا کہ میں اس کو آپ کی خدمت میں حاضر کر دوں گا پہلے اس کے کہ آپ اپنے اجلاس سے اٹھیں اور (گو وہ بہت بھاری ہے مگر) میں اس (کے لانے) پر طاقت رکھتا ہوں (اور گو بڑا قیمتی اور موتیوں سے مزین ہے مگر میں) امانت دار (بھی) ہوں (اس میں کوئی خیانت نہ کروں گا) جس کے پاس کتاب (الہی یعنی تورات کا یا اور وحی کی ہوئی کسی کتاب کا جس میں اللہ کے ناموں کی تاثیرات ہوں اس) کا علم تھا (اقرب یہ ہے کہ اس سے خود سلیمان ؑ مراد ہیں غرض) اس (علم والے) نے (اس جن سے) کہا کہ (بس تجھ میں تو اتنی ہی قوت ہے اور) میں اس کو تیرے سامنے تیری آنکھ جھپکنے سے پہلے لاکھڑا کرسکتا ہوں (کیونکہ معجزہ کی طاقت سے لاؤں گا، چناچہ آپ نے حق تعالیٰ سے دعا کی ویسے ہی یا کسی اسم الہی کے ذریعہ سے اور تخت فوراً سامنے آموجود ہوا) جب سلیمان ؑ نے اس کو اپنے روبرو رکھا دیکھا تو (خوش ہو کر شکر کے طور پر) کہنے لگے کہ یہ بھی میرے پروردگار کا ایک فضل ہے (کہ میرے ہاتھ سے یہ معجزہ ظاہر کیا) تاکہ وہ میری آزمائش کرے کہ میں شکر کرتا ہوں یا (خدانخواستہ) ناشکری کرتا ہوں اور ظاہر ہے کہ جو شخص شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی نفع کے لئے شکر کرتا ہے (اللہ تعالیٰ کا کوئی نفع نہیں) اور (اسی طرح) جو ناشکری کرتا ہے (وہ بھی اپنا ہی نقصان کرتا ہے اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ) میرا رب غنی ہے کریم ہے (اس کے بعد) سلیمان ؑ نے (بلقیس کی عقل آزمانے کے لئے) حکم دیا کہ اس (کی عقل آزمانے) کے لئے اس کے تخت کی صورت بدل دو (جس کے بہت سے طریقے ہو سکتے ہیں مثلاً موتیوں کی جگہیں بدل دو یا کسی اور طرح) ہم دیکھیں اس کو اس کا پتہ لگتا ہے یا اس کا انہیں میں شمار ہے جن کو (ایسی باتوں کا) پتہ نہیں لگتا (پہلی صورت میں معلوم ہوگا کہ وہ عقلمند ہے اور عقلمند سے حق بات سمجھنے کی زیادہ امید ہے اور اس کے حق کو پہچاننے کا اثر دور تک بھی پہنچے گا اور دوسری صورت میں اس سے حق پہچاننے کی امید کم ہے۔) معارف و مسائل بلقیس کی حاضری دربار سلیمانی میں قرطبی نے تاریخی روایات کے حوالہ سے لکھا ہے کہ بلقیس کے قاصد خود بھی مرعوب و مبہوت ہو کر واپس ہوئے اور حضرت سلیمان ؑ کا اعلان جنگ سنا دیا تو بلقیس نے اپنی قوم سے کہا کہ پہلے بھی میرا یہی خیال تھا کہ سلیمان دنیا کے بادشاہوں کی طرح بادشاہ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے کوئی خاص منصب بھی ان کو ملا ہے اور اللہ کے نبی و رسول سے لڑنا اللہ کا مقابلہ ہے، جس کی ہم میں طاقت نہیں یہ کہہ کر حضرت سلیمان ؑ کی خدمت میں حاضری کی تیاری شروع کردی۔ بارہ ہزار سرداروں کو اپنے ساتھ لیا جن کے تحت ایک ایک لاکھ افواج تھیں حضرت سلیمان ؑ کو حق تعالیٰ نے ایسا رعب و جلال عطا فرمایا تھا کہ ان کی مجلس میں کوئی ابتداء گفتگو کی جرات نہ کرسکتا تھا۔ ایک روز حضرت سلیمان ؑ نے دور سے غبار اٹھتا ہوا دیکھا تو حاضرین سے سوال کیا کہ یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا، اے نبی اللہ ! ملکہ بلقیس اپنے ساتھیوں کے ساتھ آ رہی ہیں۔ بعض روایات میں ہے کہ اس وقت وہ دربار سلیمان سے ایک فرسخ یعنی تقریباً تین میل کے فاصلے پر تھی۔ اس وقت حضرت سلیمان ؑ نے اپنے جنود و عساکر کو مخاطب کر کے فرمایا يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤ ُ ا اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِيْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ يَّاْتُوْنِيْ مُسْلِمِيْنَ حضرت سلیمان ؑ کو چونکہ یہ اطلاع مل گئی تھی کہ بلقیس ان کی دعوت سے متاثر ہونے کی بناء پر مطیع بن کر آ رہی ہے۔ تو ارادہ فرمایا کہ وہ شاہانہ قوت و شوکت کے ساتھ ایک پیغمبرانہ معجزہ بھی دیکھ لے تو اس کے ایمان لانے کے لئے زیادہ معین ہوگا۔ حضرت سلیمان ؑ کو حق تعالیٰ نے تسخیر جنات کا عام معجزہ عطا فرمایا ہوا تھا شاید حق تعالیٰ کی طرف سے اشارہ پا کر انہوں نے یہ ارادہ فرمایا کہ کسی طرح بلقیس کا تخت شاہی اس کے یہاں پہنچنے سے پہلے حاضر ہوجائے۔ اس لئے حاضرین کو جن میں جنات بھی تھے خطاب فرما کر یہ تخت لانے کے لئے فرما دیا اور اس کے تمام اموال و دولت میں تخت شاہی کا انتخاب بھی شاید اس لئے کیا گیا کہ وہ اس کی سب سے زیادہ محفوظ چیز تھی جس کو سات محلات شاہی کے وسط میں ایک محفوظ محل کے اندر مقفل کر کے رکھا تھا کہ اس کے اپنے آدمیوں کا بھی وہاں تک گزر نہ تھا۔ اس کا بغیر دروازہ یا قفل توڑے ہوئے منتقل ہوجانا اور اتنی مسافت بعیدہ پر پہنچ جانا حق تعالیٰ شانہ کی ہی قدرت کاملہ سے ہوسکتا ہے یہ اس کو حق تعالیٰ شانہ کی قدرت عظیمہ پر یقین کا سب سے بڑا ذریعہ ہوسکتا تھا اس کے ساتھ اس پر بھی یقین لازم تھا کہ سلیمان ؑ کو حق تعالیٰ ہی کی طرف سے کوئی خاص منصب حاصل ہے کہ ان کے ہاتھ پر ایسی فوق العادت چیزیں ظاہر ہوجاتی ہیں (ذکرہ و اختارہ ابن جریر) قَبْلَ اَنْ يَّاْتُوْنِيْ مُسْلِمِيْنَ ، مسلمین، مسلم کی جمع ہے جس کے لغوی معنی مطیع و فرمانبردار کے ہیں۔ اصطلاح شرع میں مومن کو مسلم کہا جاتا ہے۔ یہاں بقول ابن عباس اس کے لغوی معنے مراد ہیں، یعنی مطیع و فرمانبردار۔ کیونکہ ملکہ بلقیس کا اسلام لانا اس وقت ثابت نہیں بلکہ وہ حضرت سلیمان ؑ کے پاس حاضر ہونے اور کچھ گفتگو کرنے کے بعد مسلمان ہوئی ہے جیسا کہ خود قرآن کریم کے آنے والے الفاظ سے ثابت ہوتا ہے۔
Ayahs 27:40–41

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

معتبر بولا وہ شخص جس کے پاس تھا ایک علم کتاب کا میں لائے دیتا ہوں تیرے پاس اس کو پہلے اس سے کہ پھر آئے تیری طرف تیری آنکھ، پھر جب دیکھا اس کو دھرا ہوا اپنے پاس کہا یہ میرے رب کا فضل ہے میرے جانچنے کو کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری، اور جو کوئی شکر کرے سو شکر کرے اپنے واسطے اور جو کوئی ناشکری کرے سو میرا رب بےپروا ہے کرم والا

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

کہا روپ بدل دکھلاؤ اس عورت کے آگے اس کے تخت کا ہم دیکھیں سمجھ پاتی ہے یا ان لوگوں میں ہوتی ہے جن کو سمجھ نہیں۔

قَالَ الَّذِيْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ ، یعنی کہا اس شخص نے جس کے پاس علم تھا کتاب میں سے یہ کون شخص تھا ؟ اس کے متعلق ایک احتمال تو وہ ہی جو خلاصہ تفسیر میں لکھا گیا ہے کہ خود حضرت سلیمان ؑ مراد ہیں کیونکہ کتاب اللہ کا سب سے زیادہ علم انہیں کو حاصل تھا۔ اس صورت میں یہ سارا معاملہ بطور معجزہ کے ہوا اور یہی مقصود تھا کہ بلقیس کو پیغمبرانہ اعجاز کا مشاہدہ ہوجائے اور کوئی اشکال اس معاملے میں نہ رہے۔ مگر اکثر ائمہ تفسیر فتادہ وغیرہ سے ابن جریر نے نقل کیا ہے اور قرطبی نے اسی کو جمہور کا قول قرار دیا ہے کہ یہ کوئی شخص حضرت سلیمان ؑ کے اصحاب میں سے تھا۔ ابن اسحاق نے اس کا نام آصف بن برخیا بتلایا ہے اور یہ کہ وہ حضرت سلیمان ؑ کا دوست تھا اور بعض روایات کے اعتبار سے ان کا خالہ زاد بھائی بھی تھا جس کو اسم اعظم کا علم تھا جس کا خاصہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے جو بھی دعا کی جائے قبول ہوتی ہے اور جو کچھ مانگا جائے اللہ کی طرف سے عطا کردیا جاتا ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت سلیمان ؑ کو اسم اعظم کا علم نہیں تھا کیونکہ یہ کچھ بعید نہیں کہ حضرت سلیمان ؑ نے مصلحت اس میں دیکھی ہو کہ یہ عظیم کارنامہ ان کی امت کے کسی آدمی کے ذریعہ ظاہر ہو جس سے بلقیس پر اور زیادہ اثر پڑے اس لئے بجائے خود یہ عمل کرنے کے اپنے اصحاب کو خطاب فرمایا اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِيْ (کذا فی فصوص الحکم) اس صورت میں یہ واقعہ آصف بن برخیا کی کرامت ہوگی۔ معجزہ اور کرامت میں فرق حقیقت یہ ہے کہ جس طرح معجزہ میں اسباب طبعیہ کا کوئی دخل نہیں ہوتا بلکہ وہ براہ راست حق تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا ہے وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى، اسی طرح کرامت میں بھی اسباب طبعیہ کا کوئی دخل نہیں ہوتا براہ راست حق تعالیٰ کی طرف سے کوئی کام ہوجاتا ہے اور معجزہ اور کرامت دونوں خود صاحب معجزہ و کرامت کے اختیار میں بھی نہیں ہوتے۔ ان دونوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ ایسا کوئی خارق عادت کام اگر کسی صاحب وحی نبی کے ہاتھ پر ہو تو معجزہ کہلاتا ہے غیر نبی کے ذریعہ اس کا ظہور ہو تو کرامت کہلاتی ہے۔ اس واقعہ میں اگر یہ روایت صحیح ہے کہ یہ عمل حضرت سلیمان ؑ کے اصحاب میں سے آصف بن برخیا کے ذریعہ ہوا تو یہ ان کی کرامت کہلائے گی اور ہر ولی کے کمالات چونکہ ان کے رسول و پیغمبر کے کمالات کا عکس اور انہی سے مستفاد ہوتے ہیں اس لئے ا مت کے اولیاء اللہ کے ہاتھوں جتنی کرامتوں کا ظہور ہوتا رہتا ہے۔ یہ سب رسول کے معجزات میں شمار ہوتے ہیں۔ تخت بلقیس کا واقعہ کرامت تھی یا تصرف شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نے اس کو آصف بن برخیا کا تصرف قرار دیا ہے۔ تصرف اصطلاح میں خیال و نظر کی طاقت استعمال کر کے حیرت انگیز کام صادر کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کے لئے نبی یا ولی بلکہ مسلمان ہونا بھی شرط نہیں، وہ مسمریزم جیسا ایک عمل ہے۔ صوفیائے کرام نے اصلاح مریدین کے لئے کبھی کبھی اس کو استعمال کیا ہے۔ ابن عربی نے فرمایا کہ انبیاء (علیہم السلام) چونکہ تصرف کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اس لئے حضرت سلیمان ؑ نے یہ کام آصف بن برخیا سے لیا۔ مگر قرآن کریم نے اس تصرف کو عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ کا نتیجہ بتلایا ہے اس سے ترجیح اس کو ہی ہوتی ہے کہ یہ کسی دعا یا اسم اعظم کا اثر تھا جس کا تصرف سے کوئی واسطہ نہیں، وہ کرامت ہی کے مفہوم میں داخل ہے۔ رہا یہ شبہ کہ ان کا یہ کہنا کہ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّرْتَدَّ اِلَيْكَ طَرْفُكَ ، یعنی میں یہ تخت آنکھ جھپکنے سے پہلے لادوں گا یہ علامت اس کی ہے کہ یہ کام ان کے قصد و اختیار سے ہوا جو علامت تصرف کی ہے کیونکہ کرامت ولی کے اختیار میں نہیں ہوتی تو اس کا یہ جواب ہوسکتا ہے کہ ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ اطلاع کردی ہو کہ تم ارادہ کرو گے تو ہم یہ کام اتنی جلدی کردیں گے۔ یہ تقریر حضرت سیدی حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ کی ہے جو احکام القرآن میں سورة نمل کی تفسیر لکھنے کے وقت حضرت نے ارشاد فرمائی تھی اور تصرف کی حقیقت اور اس کے احکام پر حضرت کا ایک مستقل رسالہ بنام التصرف عربی زبان میں تھا جس کا اردو ترجمہ احقر نے لکھا تھا وہ جداگانہ شائع ہوچکا ہے۔
Ayahs 27:42–43

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

پھر جب وہ آپہنچی کسی نے کہا کیا ایسا ہی ہے تیرا تخت بولی گویا یہ وہی ہے اور ہم کو معلوم ہوچکا پہلے سے اور ہم ہوچکے حکم بردار

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور روک دیا اس کو ان چیزوں سے جو پوجتی تھی اللہ کے سوائے البتہ وہ تھی منکر لوگوں میں

خلاصہ تفسیر (سلیمان ؑ نے یہ سب سامان کر رکھا تھا، پھر بلقیس پہنچی) سو جب بلقیس آئی تو اس سے (تخت دکھا کر) کہا گیا (خواہ سلیمان ؑ نے خود کہا ہو یا کسی سے کہلوایا ہو) کہ کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے ؟ وہ کہنے لگی کہ ہاں ہے تو ویسا ہی (بلقیس سے اس طور پر اس لئے سوال کیا کہ ہیئت تو بدل دی گئی تھی اپنی اصل کے اعتبار سے تو وہی تخت تھا اور صورت وہ نہ تھی۔ اس لئے یوں نہیں کہا کہ کیا یہی تمہارا تخت ہے بلکہ یہ کہا کہ ایسا ہی تمہارا تخت ہے اور بلقیس اس کو پہچان گئی اور اس کے بدل دینے کو بھی سمجھ گئی اس لئے جواب بھی مطابق سوال کے دیا) اور (یہ بھی کہا کہ) ہم لوگوں کو تو اس واقعہ سے پہلے ہی (آپ کی نبوت کی) تحقیق ہوچکی ہے اور ہم (اسی وقت سے دل سے) مطیع ہوچکے ہیں (جب قاصد سے آپ کے کمالات معلوم ہوئے تھے اس معجزہ کی چنداں حاجت نہ تھی) اور (چونکہ اس معجزہ سے قبل تصدیق و اعتقاد کرلینا کمال عقل کی دلیل ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اس کے عاقل ہونے کی تقریر فرماتے ہیں کہ فی الواقع وہ تھی سمجھدار مگر چند روز تک جو ایمان نہ لائی تو وجہ اس کی یہ ہے کہ) اس کو (ایمان لانے سے) غیر اللہ کی عبادت نے (جس کی اس کو عادت تھی) روک رکھا تھا (ور وہ عادت اس لئے پڑگئی تھی کہ) وہ کافر قوم میں کی تھی (پس جو سب کو دیکھا وہی آپ کرنے لگی اور قومی عادات اکثر اوقات انسان کے سوچنے سمجھنے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں مگر چونکہ عاقل تھی اس لئے جب تنبیہ کی گئی تو سمجھ گئی۔ اس کے بعد سلیمان ؑ نے یہ چاہا کہ علاوہ اعجاز و شان نبوت دکھلانے کے اس کو ظاہری شان سلطنت بھی دکھلا دی جائے تاکہ اپنے کو دنیا کے اعتبار سے بھی عظیم نہ سمجھے اس لئے ایک شیش محل بنوا کر اس کے صحن میں حوض بنوایا اور اس میں پانی اور مچھلیاں بھر کر اس کو شیشہ سے پاٹ دیا۔ اور شیشہ ایسا شفاف تھا کہ ظاہر نظر میں نظر نہ آتا تھا اور وہ حوض ایسے موقع پر تھا کہ اس محل میں جانے والے کو لامحالہ اس پر سے عبور کرنا پڑے۔ چناچہ اس تمام سامان کے بعد) بلقیس سے کہا گیا کہ اس محل میں داخل ہو (ممکن ہے وہی محل قیام کے لئے تجویز کیا ہو، غرض وہ چلیں راہ میں حوض آیا) تو جب اس کا صحن دیکھا تو اس کو پانی (سے بھرا ہوا) سمجھا اور (چونکہ قرینہ سے پایاب گمان کیا اس لئے اس کے اندر گھسنے کے لئے (دامن اٹھائے اور) اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں (اس وقت) سلیمان ؑ نے فرمایا کہ یہ تو محل ہے جو (سب کا سب مع صحن) شیشوں سے بنایا گیا ہے (اور یہ حوض بھی شیشہ سے پٹا ہوا ہے۔ دامن اٹھانے کی ضرورت نہیں اس وقت) بلقیس (کو معلوم ہوگیا کہ یہاں پر دنیوی صنعت کاری کے عجائب بھی ایسے ہیں جو آج تک میں نے آنکھ سے نہیں دیکھے تو ان کے دل میں ہر طرح سے سلیمان ؑ کی عظمت پیدا ہوئی اور بےساختہ) کہنے لگی کہ اے میرے پروردگار میں نے (اب تک) اپنے نفس پر ظلم کیا تھا (کہ شرک میں مبتلا تھی) اور میں (اب) سلمان ؑ کے ساتھ (یعنی ان کے طریق پر) ہو کر رب العالمین پر ایمان لائی۔
Ayah 27:44

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

کسی نے کہا اس عورت کو اندر چل محل میں پھر جب دیکھا اس کو خیال کیا کہ وہ پانی ہے گہرا اور کھولیں اپنی پنڈلیاں کہا یہ تو ایک محل ہے جڑے ہوئے ہیں اس میں شیشے بولی اے رب میں نے برا کیا ہے اپنی جان کا اور میں حکم بردار ہوئی ساتھ سلیمان کے اللہ کے آگے جو رب ہے سارے جہان کا۔

معارف و مسائل کیا بلقیس حضرت سلیمان ؑ کے نکاح میں آگئی تھیں آیات مذکورہ میں بلقیس کا واقعہ اسی پر ختم ہوگیا کہ وہ حضرت سلیمان ؑ کے پاس حاضر ہو کر مشرف باسلام ہوگئی۔ اس کے بعد کیا حالات پیش آئے ؟ قرآن کریم نے اس سے سکوت کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی شخص نے جب عبداللہ ابن عیینہ سے پوچھا کہ کیا حضرت سلیمان ؑ نے بلقیس کے ساتھ نکاح کرلیا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کا معاملہ اس پر ختم ہوگیا اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ مطلب یہ تھا کہ قرآن نے یہیں تک اس کا حال بیان کیا ہے اس کے بعد کا حال بتلانا قرآن نے چھوڑ دیا تو ہمیں بھی اس کی تفتیش میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ مگر ابن عساکر نے حضرت عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ اس کے بعد بلقیس حضرت سلیمان ؑ کے نکاح میں آگئی اور اس کو اس کے ملک پر برقرار رکھ کر یمن واپس بھیج دیا۔ ہر مہینے حضرت سلیمان ؑ وہاں تشریف لے جاتے اور تین روز قیام فرماتے تھے۔ حضرت سلیمان ؑ نے اس کے لئے یمن میں تین عمدہ محلات ایسے تیار کرا دیئے تھے جس کی مثال و نظیر نہیں تھی۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Ayahs 27:45–47

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ہم نے بھیجا تھا ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو کہ بندگی کرو اللہ کی پھر وہ تو دو فرقے ہو کر لگے جھگڑنے

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

کہا اے میری قوم کیوں جلدی مانگتے ہو برائی کو پہلے بھلائی سے کیوں نہیں گناہ بخشواتے اللہ سے شاید تم پر رحم ہو جائے

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

بولے ہم نے منحوس قدم دیکھا تجھ کو اور تیرے ساتھ والوں کو، کہا تمہاری بری قسمت اللہ کے پاس ہے، کچھ نہیں تم لوگ جانچے جاتے ہو

خلاصہ تفسیر اور ہم نے (قوم) ثمود کے پاس ان کے (برادری کے) بھائی صالح کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا (یہ پیغام دے کر) کہ تم (شرک کو چھوڑ کر) اللہ کی عبادت کرو (چاہئے تو یہ تھا کہ سب ایمان لے آتے مگر خلاف توقع) اچانک ان میں دو فریق ہوگئے جو دین کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے (یعنی ایک فرقہ تو ایمان لایا اور ایک نہ لایا اور ان میں جو جھگڑا اور کلام ہوا بعض اس میں کا سورة اعراف میں مذکورہ ہے قال الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا، اور بعض اس میں کا آگے مذکور ہے قالوا اطَّيَّرْنَا بِكَ الخ اور جب ان لوگوں نے کفر پر اصرار کیا تو صالح ؑ نے موافق عادت انبیاء (علیہم السلام) کے ان کو عذاب الہی سے ڈرایا جیسا سورة اعراف میں ہے فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ تو انہوں نے کہا کہ لاؤ وہ عذاب کہاں ہے جیسا سورة اعراف میں ہے وَقَالُوْا يٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اس پر) صالح ؑ نے فرمایا کہ ارے بھائیو تم نیک کام (یعنی توبہ و ایمان) سے پہلے عذاب کیوں جلدی مانگتے ہو (یعنی چاہئے تو یہ تھا کہ عذاب کی وعید سن کر ایمان لے آتے نہ یہ کہ ایمان تو نہ لائے اور بالعکس اس عذاب ہی کی درخواست کرنے لگے بڑی بیباکی کی بات ہے۔ بجائے اس استعمال عذاب کے) تم لوگ اللہ کے سامنے (کفر سے) معافی کیوں نہیں چاہتے جس سے توقع ہو کہ تم پر رحم کیا جاوے (یعنی عذاب سے محفوظ رہو) وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم تو تم کو اور تمہارے ساتھ والوں کو منحوس سمجھتے ہیں (کہ جب سے تم نے یہ مذہب نکالا ہے اور تمہاری یہ جماعت پیدا ہوئی ہے قوم میں نا اتفاقی ہوگئی اور نا اتفاقی کی جو مضرتیں اور خرابیاں ہوتی ہیں وہ سب مرتب ہونے لگیں۔ بس سبب ان تمام خرابیوں کے تم لوگ ہو) صالح ؑ نے (جواب میں) فرمایا کہ تمہاری (اس) نحوست (کا سبب) اللہ کے علم میں ہے (یعنی تمہارے اعمال کفریہ اللہ کو معلوم ہیں یہ خرابیاں ان ہی اعمال پر مرتب ہیں۔ چناچہ ظاہر ہے کہ نا اتفاقی مذموم وہی ہے جو حق کے خلاف کرنے سے ہو تو اس کا الزام ایمان والوں پر نہیں ہوسکتا بلکہ اہل کفر پر ہوگا اور بعض تفاسیر میں ہے کہ ان پر قحط ہوا تھا اور تمہارے کفر کی مضرت کچھ ان شرور ہی تک ختم نہیں ہوئی) بلکہ تم وہ لوگ ہو کہ (اس کفر کی بدولت) عذاب میں مبتلا ہوگئے اور (یوں تو کافر اس قوم میں بہت تھے لیکن سرغنہ) اس بستی (یعنی حجر) میں نو شخص تھے جو سر زمین (یعنی بستی سے باہر تک بھی) فساد کیا کرتے تھے اور (ذرا) اصلاح نہ کرتے تھے (یعنی بعضے مفسد ایسے ہوتے ہیں کہ کچھ فساد کیا کچھ اصلاح کرلی مگر وہ ایسے نہ تھے بلکہ خاص مفسد تھے چناچہ ایک بار یہ فساد کیا کہ) انہوں نے (ایک دوسرے سے) کہا کہ آپس میں سب (اس پر) اللہ کی قسم کھاؤ کہ ہم شب کے وقت صالح اور ان کے متعلقین (یعنی ایمان والوں) کو جا ماریں گے پھر (اگر تحقیق کی نوبت آئی تو) ہم ان کے وارث سے (جو خون کا دعویٰ کرے گا) کہہ دیں گے کہ ان کے متعلقین کے (اور خود ان کے) مارے جانے میں موجود (بھی) نہ تھے (مارنا تو درکنار) اور (تاکید کے لئے یہ بھی کہہ دیں گے کہ) ہم بالکل سچے ہیں۔ (اور گواہ کوئی معائنہ کا ہوگا نہیں۔ بس بات دب دبا جاوے گی) اور (یہ مشورہ کر کے) انہوں نے ایک خفیہ تدبیر کی (کہ شب کے وقت اس کارروائی کے لئے چلے) اور ایک خفیہ تدبیر ہم نے کی اور ان کو خبر بھی نہ ہوئی (وہ یہ کہ ایک پہاڑ پر سے ایک پتھر ان پر لڑھک آیا اور وہ سب وہاں ہی کھیت رہے یعنی ہلاک ہوئے۔ کذافی الدر المنثور) سو دیکھئے ان کی شرارت کا کیا انجام ہوا کہ ہم نے ان کو (بطریق مذکور) اور (پھر) ان کی (باقی) قوم کو (آسمانی عذاب سے) سب کو غارت کردیا (جس کا قصہ دوسری آیات میں ہے فَعَقَرُوا النَّاقَةَ الی فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ ، وَاَخَذَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ) سو یہ ان کے گھر ہیں جو ویران پڑے ہیں ان کے کفر کے سبب سے (جو اہل مکہ کو ملک شام کے سفر میں ملتے ہیں) بلاشبہ اس (واقعہ) میں بڑی عبرت ہے دانشمندوں کے لئے اور ہم نے ایمان اور تقوی والوں کو (اس قتل سے بھی جس کا مشورہ ہوا تھا اور عذاب قہری سے بھی) نجات دی۔
Ayah 27:48

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور تھے اس شہر میں نو شخص کہ خرابی کرتے ملک میں اور اصلاح نہ کرتے

معارف و مسائل تِسْعَةُ رَهْطٍ لفظ رَهْطٍ ، جماعت کے معنے میں آتا ہے، یہاں نو اشخاص میں سے ہر شخص کو رھط کے لفظ سے شاید اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ یہ لوگ اپنے مال و دولت اور جاہ و حشم کے سبب قوم کے بڑے مانے جاتے تھے اور ہر ایک کے ساتھ الگ الگ جماعتیں تھیں اس لئے ان نو آدمیوں کو نو جماعتیں فرمایا۔ یہ لوگ قوم صالح ؑ کی بستی یعنی حجر کے بڑے مانے جاتے تھے۔ حجر ملک شام میں معروف مقام ہے۔
Ayahs 27:49–53

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

بولے کہ آپس میں قسم کھاؤ اللہ کی کہ البتہ رات کو جا پڑیں ہم اس پر اور اس کے گھر پر، پھر کہہ دیں گے اس کے دعویٰ کرنے والے کو ہم نے نہیں دیکھا جب تباہ ہوا اس کا گھر اور ہم بیشک سچ کہتے ہیں

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور انہوں نے بتایا ایک فریب اور ہم نے بتایا ایک فریب اور ان کو خبر نہ ہوئی

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

پھر دیکھ لے کیسا ہوا انجام ان کے فریب کا کہ ہلاک کر ڈالا ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

سو یہ پڑے ہیں ان کے گھر ڈھیر ہوئے بسبب ان کے انکار کے البتہ اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو جانتے ہیں

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور بچا دیا ہم نے ان کو جو یقین لائے تھے اور بچتے رہے تھے۔

لَـنُبَيِّتَـنَّهٗ وَاَهْلَهٗ ثُمَّ لَـنَقُوْلَنَّ لِوَلِيِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ، مطلب یہ تھا کہ ہم سب مل کر رات کے اندھیرے میں ان پر اور ان کے متعلقین پر چھاپہ ماریں، سب کو ہلاک کردیں، پھر ان کے خون کا دعویدار وارث تحقیق و تفتیش کے لئے کھڑا ہوگا تو ہم یہ کہہ دیں گے کہ ہم نے تو فلاں آدمی کو نہ مارا، نہ مارتے کسی کو دیکھا۔ اور ہم اپنے اس قول میں اس لئے سچے ہوں گے کہ رات کے اندھیرے میں یہ تعیین کہ کس نے کس کو مارا ہمیں معلوم نہیں ہوگی۔ اس میں ایک بات یہ قابل نظر ہے کہ یہ کفار اور ان میں سے بھی چیدہ بدمعاش جو فساد میں مصروف تھے یہ سارے کام شرک کفر اور قتل و غارتگری کے کر رہے ہیں اور کوئی فکر نہیں، مگر ان کو بھی یہ فکر لاحق ہوئی کہ ہم جھوٹ نہ بولیں یا جھوٹے قرار نہ دیئے جاویں۔ اس سے انداز لگایئے کہ جھوٹ کیسا بڑا گناہ ہے کہ سارے بڑے بڑے جرائم کے مرتکب بھی اپنی شرافت نفس اور عزت کی حفاظت کے لئے جھوٹ بولنے پر اقدام نہ کرتے تھے۔ دوسری بات اس آیت میں یہ قابل غور ہے کہ جس شخص کو ان لوگوں نے حضرت صالح ؑ کا ولی قرار دیا ہے وہ تو انہی اہل صالح میں شامل تھا اس کو قتل کے ارادہ سے کیوں چھوڑ دیا۔ جواب یہ ہے کہ ممکن ہے وہ ولی خاندانی اعتبار سے ولی ہو مگر کافر ہو کافروں کے ساتھ ملا ہوا ہو صالح ؑ اور ان کے متعلقین کے قتل کے بعد وہ ان کے خون کا دعویٰ اپنے نسبی تعلق کی بناء پر کرے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ مسلمان ہی ہو مگر کوئی بڑا آدمی ہو جس کے قتل کرنے سے اپنی قوم میں اختلاف و انتشار کا خطرہ ہو اس لئے اس کو چھوڑ دیا۔ واللہ اعلم
Ayahs 27:54–58

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور لوط کو جب کہا اس نے اپنی قوم کو کیا تم کرتے ہو بےحیائی اور تم دیکھتے ہو

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم دوڑتے ہو مردوں پر للچا کر عورتوں کو چھوڑ کر کوئی نہیں تم لوگ بےسمجھ ہو

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

پھر اور کچھ جواب نہ تھا اس کی قوم کا مگر یہی کہ کہتے تھے نکال دو لوط کے گھر کو اپنے شہر سے یہ لوگ ہیں ستھرے رہا چاہتے

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

پھر بچا دیا ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو، مگر اس کی عورت مقرر کردیا تھا ہم نے اس کو رہ جانے والوں میں

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

اور برسا دیا ہم نے ان پر برساؤ پھر کیا برا برساؤ تھا ان ڈرائے ہوؤں کا

خلاصہ تفسیر اور ہم نے لوط ؑ کو (پیغمبر کر کے ان کی قوم کے پاس) بھیجا تھا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا تم یہ بےحیائی کا کام کرتے ہو حالانکہ سمجھدار ہو (کیا اس کی برائی نہیں سمجھتے، آگے اس بےحیائی کا بیان ہے یعنی) کیا تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر (اس کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی) بلکہ (اس معاملے میں) تم (محض) جہالت کر رہے ہو (اس تقریر کا) ان کی قوم سے کوئی (معقول) جواب نہ بن پڑا بجز اس کے کہ آپس میں کہنے لگے کہ لوط ؑ کے لوگوں کو (یعنی ان پر ایمان لانے والوں کو مع ان کے) تم اپنی بستی سے نکال دو (کیونکہ) یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں سو (جب یہاں تک نوبت پہنچ گئی تو) ہم نے (اس قوم پر عذاب نازل کیا اور) لوط ؑ کو اور ان کے متعلقین کو (اس عذاب سے) بچا لیا بجز ان کی بیوی کے کہ اس کو (بوجہ ایمان نہ لانے کے) ہم نے انہیں لوگوں میں تجویز کر رکھا تھا جو عذاب میں رہ گئے تھے اور (وہ عذاب جو ان پر نازل ہوا یہ تھا کہ) ہم نے ان پر ایک نئی طرح کا مینہ برسایا (کہ وہ پتھروں کی بارش تھی) سو ان لوگوں کا کیسا برا مینہ تھا جو (اول عذاب خدا سے ڈرائے گئے تھے (جس پر انہوں نے التفات نہ کیا) آپ (بیان توحید کے لئے بطور خطبہ کے) کہئے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے سزاوار ہیں اور اس کے ان بندوں پر سلام (نازل) ہو جن کو اس نے منتخب فرمایا ہے (یعنی انبیاء و صلحاء۔ آگے مضمون ہماری طرف سے بیان کیجئے وہ یہ کہ لوگو یہ بتلاؤ کہ کیا (کمالات اور احسانات میں) اللہ بہتر ہے یا وہ چیزیں (بہتر ہیں) جن کو (الوہیت میں) شریک ٹھہراتے ہیں (یعنی ظاہر اور مسلم ہے کہ اللہ ہی بہتر ہے پس مستحق عبادت بھی وہی ہوگا۔
Ayah 27:59

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

تو کہہ تعریف ہے اللہ کو اور سلام ہے اس کے بندوں پر جن کو اس نے پسند کیا بھلا اللہ بہتر ہے یا جن کو وہ شریک کرتے ہیں۔

معارف و مسائل اس قصے کے متعلق قرآن میں متعدد جگہ خصوصاً سورة اعراف میں ضروری مضامین بیان ہوچکے ہیں وہاں دیکھ لئے جاویں۔ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ ، انبیاء سابقین اور ان کی امتوں کے کچھ حالات اور ان پر عذاب آنے کے واقعات کا ذکر کرنے کے بعد یہ جملہ نبی کریم ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ آپ کی امت کو دنیا کے عذاب عام سے مامون کردیا گیا ہے اور انبیاء سابقین اور اللہ کے برگزیدہ بندوں پر سلام بھیجئے۔ جمہور مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے اور بعض نے اس کا مخاطب بھی حضرت لوط ؑ کو قرار دیا ہے۔ اس آیت میں الَّذِيْنَ اصْطَفٰى کے الفاظ سے ظاہر یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) مراد ہیں جیسا کہ ایک دوسری آیت میں ہے وَسَلٰمٌ عَلَي الْمُرْسَلِيْنَ اور حضرت ابن عباس سے ایک روایت میں ہے کہ اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام امور حضرت ابن عباس سے ایک روایت میں ہے کہ اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ہیں۔ سفیان ثوری نے اسی کو اختیار کیا ہے (اخرجہ عبد بن حمید و البزار و ابن جریر وغیرہم) اگر آیت میں الَّذِيْنَ اصْطَفٰى سے مراد صحابہ کرام لئے جائیں جیسا کہ ابن عباس کی روایت میں ہے تو اس آیت سے غیر انبیاء پر سلام بھیجنے کے لئے انہیں ؑ کہنے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی پوری تحقیق سورة احزاب میں آیت صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا کی تفسیر میں آئے گی۔ انشاء اللہ تعالی۔ مسئلہاس آیت سے خطبہ کے آداب بھی ثابت ہوئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور انبیاء (علیہم السلام) پر درود وسلام سے شروع ہونا چاہئے۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے تمام خطبات میں یہی معمول رہا ہے بلکہ ہر اہم کام کے شروع میں اللہ تعالیٰ کی حمد اور رسول اللہ ﷺ پر درود وسلام مسنون و مستحب ہے۔ (کذا فی الروح)
Ayahs 27:60–61

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

بھلا کس نے بنائے آسمان اور زمین اور اتار دیا تمہارے لئے آسان سے پانی پھر اگائے ہم نے اس سے باغ رونق والے تمہارا کام نہ تھا کہ اگاتے ان کے درخت اب کوئی اور حاکم ہے اللہ کے ساتھ، کوئی نہیں وہ لوگ راہ سے مڑتے ہیں

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

بھلا کس نے بنایا زمین کو ٹھہرنے کے لائق اور بنائیں اس کے بیچ میں ندیاں اور رکھے اس کے ٹھہرانے کو بوجھ اور رکھا دو دریا میں پردہ اب کوئی اور حاکم ہے اللہ کے ساتھ کوئی نہیں بہتوں کو ان میں سمجھ نہیں

خلاصہ تفسیر (پچھلی آیت کے آخر میں فرمایا تھا اٰۗللّٰهُ خَيْرٌ اَمَّا يُشْرِكُوْنَ ، یعنی کیا اللہ بہتر ہے یا وہ بت وغیرہ جن کو یہ لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں، یہ مشرکین کی بےوقوفی بلکہ کج فہمی پر نکیر تھی، آگے توحید کے دلائل کا بیان ہے، اے لوگو یہ بتلاؤ کہ) وہ ذات (بہتر ہے) جس نے آسمان اور زمین کو بنایا، اور اس نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ ہم نے رونق دار باغ اگائے (ورنہ) تم سے تو ممکن نہ تھا کہ تم ان (باغوں) کے درختوں کو اگا سکو (یہ سن کر اب بتلاؤ کہ) کیا اللہ کے ساتھ (شریک عبادت ہونے کے لائق) کوئی اور معبود ہے (مگر مشرکین پھر بھی نہیں مانتے) بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ (دوسروں کو) خدا کی برابر ٹھہراتے ہیں (اچھا پھر اور کمالات سن کر بتلاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں) یا وہ ذات جس نے زمین کو (مخلوق کی) قرار گاہ بنایا اور اس کے درمیان درمیان نہریں بنائیں اور اس (زمین) کے (ٹھہرانے کے) لئے پہاڑ بنائے اور دو دریاؤں کے درمیان حد فاصل بنائی (جیسا سورة فرقان میں مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ آچکا ہے یہ سن کر اب بتلاؤ کہ) کیا اللہ کے ساتھ (خدائی کا شریک ہونے کے لائق) کوئی اور معبود ہے (مگر مشرکین نہیں مانتے) بلکہ ان میں زیادہ تو (اچھی طرح) سمجھتے بھی نہیں (اچھا پھر اور کمالات سن کر بتلاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں) یا وہ ذات جو بیقرار آدمی کی دعا سنتا ہے جب وہ اس کو پکارتا ہے اور (اس کی) مصیبت کو دور کردیتا ہے اور تم کو زمین میں صاحب تصرف بناتا ہے (یہ سن کر اب بتلاؤ کہ) کیا اللہ کے ساتھ (شریک عبادت ہونے کے لائق) کوئی اور معبود ہے (مگر) تم لوگ بہت ہی کم یاد رکھتے ہو (اچھا پھر اور کمالات سن کر بتلاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں) یا وہ ذات جو تم کو خشکی اور دریا کی تاریکیوں میں رستہ سوجھاتا ہے اور جو ہواؤں کو بارش سے پہلے بھیجتا ہے جو (بارش کی امید دلا کر (دلون کو) خوش کردیتی ہیں (یہ سن کر اب بتلاؤ) کیا اللہ کے ساتھ (شریک عبادت ہونے کے لائق) کوئی اور معبود ہے (ہرگز نہیں) بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے برتر ہے (اچھا پھر دوسرے کمالات و احسانات سن کر بتلاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں) یا وہ ذات جو مخلوقات کو اول بار پیدا کرتا ہے پھر اس کو دوبارہ پیدا کر دے گا اور جو آسمان اور زمین سے (پانی برسا کر اور نباتات نکال کر) تم کو رزق دیتا ہے (یہ سن کر اب بتلاؤ کہ) کیا اللہ کے ساتھ (شریک عبادت ہونے کے لائق) کوئی اور معبود ہے (اور اگر وہ یہ سن کر بھی کہیں کہ ہاں اور معبود بھی مستحق عبادت ہیں تو) آپ کہئے کہ (اچھا) تم (ان کے استحقاق عبادت پر) اپنی دلیل پیش کرو اگر تم (اس دعویٰ میں) سچے ہو۔
Ayahs 27:62–63

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

بھلا کون پہنچتا ہے بےکس کی پکار کو جب اس کو پکارتا ہے اور دور کردیتا ہے سختی اور کرتا ہے تم کو نائب اگلوں کا زمین پر اب کوئی حاکم ہے اللہ کے ساتھ تم بہت کم دھیان کرتے ہو

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

بھلا کون راہ بتاتا ہے تم کو اندھیروں میں جنگل کے اور دریا کے اور کون چلاتا ہے ہوائیں خوشخبری لانے والیاں اس کی رحمت سے پہلے اب کوئی حاکم ہے اللہ کے ساتھ اللہ بہت اوپر ہے اس سے جس کو شریک بتلاتے ہیں

معارف و مسائل اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ ، المضطر اضطرار سے مشتق ہے کسی ضرورت سے مجبور و بےقرار ہونے کو اضطرار کہا جاتا ہے اور وہ جبھی ہوتا ہے جب اس کا کوئی یارو مددگار اور سہارا نہ ہو۔ اس لئے مضطر وہ شخص ہے جو سب دنیا کے سہاروں سے مایوس ہو کر خالص اللہ تعالیٰ ہی کو فریاد رس سمجھ کر اس کی طرف متوجہ ہو۔ مضطر کی یہ تفسیر سدی، ذوالنون مصری، سہل بن عبداللہ وغیرہ سے منقول ہے (قرطبی) رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کے لئے ان الفاظ سے دعا کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ اللھم رحمتک ارجوا فلا تکلنی الی نفسی طرفة عین واصلح لی شانی کلہ لا الہ الا انت (ترجمہ) یا اللہ میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں اس لئے مجھے ایک لحظہ کے لئے بھی میرے اپنے نفس کے حوالہ نہ کیجئے اور آپ ہی میرے سب کاموں کو درست کر دیجئے آپ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (قرطبی) مضطر کی دعا اخلاص کی بناء پر ضرور قبول ہوتی ہے امام قرطبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مضطر کی دعا قبول کرنے کا ذمہ لے لیا ہے اور اس آیت میں اس کا اعلان بھی فرما دیا ہے جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ دنیا کے سب سہاروں سے مایوس اور علائق سے منقطع ہو کر صرف اللہ تعالیٰ ہی کو کار ساز سمجھ کر دعا کرنا سرمایہ اخلاص ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اخلاص کا بڑا درجہ ہے وہ جس کسی بندہ سے پایا جائے وہ مومن ہو یا کافر اور متقی ہو یا فاسق فاجر اس کے اخلاص کی برکت سے اس کی طرف رحمت حق متوجہ ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ حق تعالیٰ نے کفار کا حال ذکر فرمایا ہے کہ جب یہ لوگ دریا میں ہوتے ہیں اور کشتی سب طرف سے موجوں کی لپیٹ میں آجاتی ہے اور یہ گویا آنکھوں کے سامنے اپنی موت کھڑا دیکھ لیتے ہیں اس وقت یہ لوگ پورے اخلاص کے ساتھ اللہ کو پکارتے ہیں کہ اگر ہمیں اس مصیبت سے آپ نجات دیدیں تو ہم شکر گزار ہوں گے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول کرکے خشکی پر لے آتے ہیں تو یہ پھر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ (الی قولہ) فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ يُشْرِكُوْنَ ، ایک صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ تین دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، ایک مظلوم کی دعا، دوسرے مسافر کی دعا، تیسرے باپ جو اپنی اولاد کے لئے بد دعا کرے۔ قرطبی نے اس حدیث کو نقل کر کے فرمایا کہ ان تینوں دعاؤں میں بھی وہی صورت ہے جو دعائے مضطر میں اوپر لکھی گئی ہے کہ جب کوئی مظلوم دنیا کے سہاروں اور مددگاروں سے مایوس ہو کر دفع ظلم کے لئے اللہ کو پکارتا ہے وہ بھی مضطر ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح مسافر حالت سفر میں اپنے خویش و عزیز اور ہمدردوں غمگساروں سے الگ بےسہارا ہوتا ہے۔ اس طرح باپ اولاد کے لئے اپنی فطرت اور پدری شفقت کی بنا پر کبھی بد دعا نہیں کرسکتا بجز اس کے کہ اس کا دل بالکل ٹوٹ جائے اور اپنے آپ کو مصیبت سے بچانے کے لئے اللہ کو پکارے۔ امام حدیث آجری نے حضرت ابوذر کی روایت سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ میں مظلوم کی دعا کو کبھی رد نہیں کروں گا اگرچہ وہ کسی کافر کے منہ سے ہو (قرطبی) اگر کسی مضطر یا مظلوم یا مسافر وغیرہ کو کبھی یہ محسوس ہو کہ اس کی دعا قبول نہیں ہوئی تو بدگمان اور مایوس نہ ہو بعض اوقات دعا قبول تو ہوجاتی ہے مگر کسی حکمت و مصلحت ربانی سے اس کا ظہور دیر میں ہوتا ہے۔ یا پھر وہ اپنے نفس کو ٹٹولے کہ اس کے اخلاص اور توجہ الی اللہ میں کمی کوتاہی رہی ہے۔ (واللہ اعلم)