Ayahs 27:64–65خلاصہ تفسیر
ربط آیاتاوپر نبوت کے بعد توحید کا ذکر ہوچکا، آگے معاد یعنی قیامت اور آخرت کا ذکر ہے جس کی طرف دلائل توحید میں اس قول سے اجمالی اشارہ بھی ہوا ہے (ثُمَّ يُعِيْدُهٗ) اور چونکہ کفار اس کی تکذیب کی ایک وجہ یہ بھی قرار دیتے تھے کہ قیامت کا معین وقت پوچھنے پر بھی نہیں بتلایا جاتا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ یعنی وہ عدم تعیین کو عدم وقوع کی دلیل بناتے تھے اس لئے اس مضمون کو اس بات سے شروع کیا ہے کہ علم غیب اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے فرمایا قُلْ لَّا يَعْلَمُ الخ (جس میں ان کے شبہ کا جواب بھی ہوگیا) قیامت کی تعیین کا علم اللہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ پھر ان کے شک و انکار پر تشنیع ہے (بَلِ ادّٰرَكَ) پھر ان کے ایک انکاری قول کی نقل ہے (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا) پھر اس انکار پر تہدید ہے (قُلْ سِيْرُوْا) پھر اس انکار پر آپ کی تسلی ہے وَلَا تَحْزَنْ پھر اس تہدید کے متعلق ان کے ایک شبہ کا جواب ہے (وَيَقُوْلُوْنَ الخ) پھر تہدید کی تاکید ہے وَاِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ الخ جیسا تقریر ترجمہ سے ظاہر ہوگا۔
(یہ لوگ جو قیامت کا وقت نہ بتلانے سے اس کے عدم وقوع پر استدلال کرتے ہیں اس کے جواب میں) آپ کہہ دیجئے کہ (یہ استدلال غلط ہے کیونکہ اس سے زیادہ سے زیادہ اتنا لازم آیا کہ مجھ سے اور تم سے اس تعیین کا علم غائب رہا سو اس میں اسی کی کیا تخصیص ہے غیب کی نسبت تو قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ) جتنی مخلوقات آسمانوں اور زمین (یعنی عالم) میں موجود ہیں (ان میں سے) کوئی بھی غیب کی بات نہیں جانتا، بجز اللہ تعالیٰ کے اور (اسی وجہ سے) ان (مخلوقات) کو یہ خبر (بھی) نہیں کہ وہ کب دوبارہ زندہ کئے جاویں گے (یعنی اللہ تعالیٰ کو تو بےبتلائے سب معلوم ہے اور کسی کو بےبتلائے کچھ بھی معلوم نہیں مگر دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے امور جن کا پہلے سے علم نہیں ہوتا واقع ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کا علم نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ چیز موجود ہی نہیں۔ بلکہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی حکمت سے بعض علوم کا پردہ غیب میں رکھنا منظور ہے قیامت کی تعیین بھی انہی امور میں ہے اسی لئے مخلوق کو اس کا علم نہیں دیا گیا مگر اس سے عدم وقوع کیسے لازم آ گیا اور یہ عدم علم بالتعیین تو سب میں امر مشترک ہے لیکن ان کفار منکرین میں صرف یہی نہیں کہ وہ بالتعیین قیامت کو نہیں مانتے) بلکہ (اس سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ) آخرت کے بارے میں (خود) ان کا (نفس) علم (بالوقوع ہی) نیست ہوگیا (یعنی خود اس کے وقوع ہی کا علم نہیں جو تعیین کے علم نہ ہونے سے بھی اشد ہے) بلکہ (اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ) یہ لوگ اس (کے وقوع) سے شک میں ہیں، بلکہ (اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ) یہ اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں (یعنی جیسے اندھے کو راستہ نظر نہیں آتا اس لئے مقصود تک پہنچنا مستبعد ہے اسی طرح تصدیق بالاخرت کا جو ذریعہ ہے یعنی دلائل صحیحہ یہ لوگ انتہائی عناد کی وجہ سے ان دلائل میں غور تامل ہی نہیں کرتے اس لئے وہ دلائل ان کو نظر نہیں آتے جس سے مطلوب تک پہنچ جانے کی امید ہوتی۔ پس یہ شک سے بھی بڑھ کر ہے کیونکہ شک والا بعض اوقات دلائل میں نظر کر کے رفع شک کرلیتا ہے اور یہ نظر بھی نہیں کرتے) اور (اس تشنیع علی الکفار کے بعد آگے ان کا ایک انکاری قول نقل فرماتے ہیں کہ) یہ کافر یوں کہتے ہیں کہ کیا ہم لوگ جب (مر کر) خاک ہوگئے اور (اسی طرح) ہمارے بڑے بھی تو کیا (پھر) ہم (زندہ کر کے قبروں سے) نکالے جاویں گے اس کا تو ہم سے اور ہمارے بڑوں سے (محمد ﷺ کے) پہلے سے وعدہ ہوتا چلا آیا ہے (کیونکہ تمام انبیاء کا یہ قول مشہور ہے لیکن نہ آج تک ہوا اور نہ کسی نے بتلایا کہ کب ہوگا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ) یہ بےسند باتیں ہیں جو اگلوں سے نقل ہوتی چلی آئی ہیں آپ کہہ دیجئے کہ (جب اس کے امکان پر دلائل عقلیہ اور وقوع پر دلائل نقلیہ جا بجا بار بار تم کو سنا دیئے گئے ہیں تو تم کو تکذیب سے باز آنا چاہئے ورنہ جو اور مکذبین کا حال ہوا ہے کہ عذاب میں گرفتار ہوئے وہی تمہارا حال ہوگا اگر ان کی حالت میں کچھ شبہ ہو تو) تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرمین کا انجام کیا ہوا (کیونکہ ان کے ہلاک ہونے اور عذاب آنے کے آثار اب تک باقی تھے) اور (اگر باوجود ان مواعظ بلیغہ کے پھر مخالفت پر کمربستہ رہیں تو) آپ ان پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ شرارتیں کر رہے ہیں اس سے دل تنگ نہ ہوجائے (کہ اور انبیاء کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا ہے) اور (قُلْ سِيْرُوْا الخ میں اور اس کے امثال دوسری آیات میں جو ان کو وعید عذاب سنائی جاتی ہے تو چونکہ دل میں تصدیق نہیں اس لئے) یہ لوگ (بےباکانہ) یوں کہتے ہیں کہ یہ وعدہ (عذاب و قہر کا) کب ہوگا اگر تم سچے ہو (تو بتلاؤ) آپ کہہ دیجئے کہ عجب نہیں کہ جس عذاب کی تم جلدی مچا رہے ہو اس میں سے کچھ تمہارے پاس ہی آ لگا ہو اور (اب تک جو دیر ہو رہی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ) آپ کا رب لوگوں پر (اپنا) بڑا فضل رکھتا ہے (اس رحمت عامہ کی وجہ سے قدرے مہلت دے رکھی ہے) و لیکن اکثر آدمی (اس بات پر) شکر نہیں کرتے (کہ تاخیر کو غنیمت سمجھیں اور اس مہلت میں حق کی طلب کریں اور اس کو قبول کرلیں کہ عذاب سے نجات ابدی حاصل ہو بلکہ بالعکس انکار اور بطور استہزاء کے جلد بازی کرتے ہیں) اور (یہ تاخیر چونکہ بمصلحت ہے اس لئے یہ نہ سمجھیں کہ ان افعال کی کبھی سزا ہی نہ ہوگی کیونکہ) آپ کے رب کو سب خبر ہے جو کچھ ان کے دلوں میں مخفی ہے اور جس کو وہ علانیہ کرتے ہیں اور (یہ صرف علم خداوندی ہی نہیں بلکہ دفتر خداوندی میں لکھا ہوا ہے جس میں کچھ ان ہی کے افعال کی تخصیص نہیں بلکہ) آسمان اور زمین میں ایسی کوئی مخفی چیز نہیں جو لوح محفوظ میں نہ ہو (اور دفتر خداوندی یہی لوح محفوظ ہے اور جب مخفی چیزیں جن کو کوئی نہیں جانتا اس میں موجود ہیں تو ظاہر چیزیں تو بدرجہ اولی موجود ہیں۔ غرض ان کے اعمال بد کی اللہ تعالیٰ کو خبر ہے اور آسمانی دفتر میں بھی محفوظ ہیں اور وہ اعمال خود سزا کے مقتضی بھی ہیں اور سزا کے واقع ہونے پر سب انبیاء (علیہم السلام) کی دی ہوئی اخبار صادقہ بھی متفق ہیں۔ پھر یہ سمجھنے کی کیا گنجائش ہے کہ سزا نہ ہوگی، البتہ دیر ہونا ممکن ہے چناچہ بعض سزائیں ان منکرین کو دنیا میں بھی ہوئیں جیسے قحط، قتل و قید وغیرہ اور کچھ قبر و برزخ میں ہوں گی جو کچھ دور نہیں، اور کچھ آخرت میں ہوں گی۔
معارف و مسائل
قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ ، رسول اللہ ﷺ کو حکم ہے کہ آپ لوگوں کو بتلا دیں کہ جتنی مخلوق آسمانوں میں ہے جیسے فرشتے اور جتنی مخلوق زمین میں ہے جیسے بنی آدم اور جنات وغیرہ ان میں سے کوئی بھی غیب کو نہیں جانتا۔ بجز اللہ تعالیٰ کے آیت مذکورہ نے پوری وضاحت اور صراحت کے ساتھ یہ بتلایا ہے کہ علم غیب اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفت ہے جس میں کوئی فرشتہ یا نبی و رسول بھی شریک نہیں ہو سکتا۔ اس مسئلہ کی ضروری تفصیل سورة انعام کی آیت نمبر 59 کے تحت صفحہ 352 جلد 3 پر آ چکی ہے۔ اس کے علاوہ اس موضوع پر احقر کا ایک مستقل رسالہ بنام کشف الریب عن علم الغیب احکام القرآن (عربی) کا جزء بن کر شائع ہوچکا ہے۔ اہل علم اس کی مراجعت فرما سکتے ہیں۔
Ayahs 27:66–75بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ ۣ بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْهَا ڹ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ ، لفظ ادّٰرَكَ میں قرائتیں بھی مختلف ہیں اور اس کے معنی میں بھی کئی قول ہیں۔ اہل علم اس کی تفصیل تفاسیر میں دیکھ سکتے ہیں، یہاں صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ ادّٰرَكَ کے معنے بعض مفسرین نے تکامل کے کئے ہیں اور فی الاخرہ کو ادّٰرَكَ سے متعلق کر کے معنی یہ قرار دیئے ہیں کہ آخرت میں ان کا علم اس معاملہ میں مکمل ہوجائے گا کیونکہ اس وقت ہر چیز کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی مگر اس وقت علم ہونا ان کے کچھ کام نہ آئے گا کیونکہ دنیا میں وہ آخرت کی تکذیب کرتے رہے تھے اور بعض مفسرین نے لفظ ادّٰرَكَ کے معنے ضل وغاب کے لئے اور فی الاخرہ کو علمہم سے متعلق کیا کہ آخرت کے معاملہ میں ان کا علم غائب ہوگیا اس کو نہ سمجھ سکے۔
Ayahs 27:76–79خلاصہ تفسیر
بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل پر اکثر ان باتوں (کی حقیقت) کو ظاہر کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور وہ ایمانداروں کے لئے (خاص) ہدایت اور (خاص) رحمت ہے (ہدایت باعتبار طاعات و اعمال کے اور رحمت با اعتبار ثمرات و نتائج کے) بالیقین آپ کا رب ان کے درمیان اپنے حکم سے (وہ عملی) فیصلہ (قیامت کے دن) کرے گا (اس وقت معلوم ہوجاوے گا کہ دین حق کیا تھا اور باطل کیا، تو ایسے لوگوں پر کیا افسوس کیا جائے) اور وہ زبردست علم والا ہے (بدون اس کی مشیت کے کوئی کسی کو ضرر نہیں پہنچا سکتا) تو آپ اللہ پر توکل رکھئے (اللہ کی مدد ضرور ہوگی کیونکہ) آپ صریح حق پر ہیں۔
معارف و مسائل
پہلی آیات میں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کو مختلف مثالوں سے ثابت کر کے یہ بات ثابت کردی گئی ہے کہ قیامت کا وقوع اور اس میں مردوں کا دوبارہ زندہ ہونا عقلاً ممکن ہے اس میں کوئی عقلی اشکال نہیں۔ عقلی امکان کے ساتھ اس کا ضرور واقع ہونا یہ انبیاء (علیہم السلام) اور آسمانی کتابوں کی نقل سے ثابت ہے اور کسی خبر کا صحیح اور ثابت ہونا اس پر موقوف ہے کہ اس کا ناقل مخبر اور روایت کرنے والا صادق اور سچا ہو۔ اس لئے اس آیت میں یہ بیان فرمایا ہے کہ اس کا مخبر قرآن ہے اور اس کا مخبر صادق ہونا ناقابل انکار ہے، یاں تک کہ علماء بنی اسرائیل جن مسائل میں باہم سخت اختلافات رکھتے تھے اور وہ حل نہ ہوتے تھے قرآن حکیم نے ان مسائل میں محاکمہ کر کے صحیح فیصلوں کی ہدایت فرمائی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ علماء کے اختلاف میں محاکمہ اور فیصلہ کرنے والا ان سب علماء سے اعلم اور اعلی ہونا ضروری ہے اس لئے قرآن کا مخبر صادق ہونا واضح ہوگیا، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی تسلی کے لئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ ان کی مخالفت سے تنگدل نہ ہوں، اللہ تعالیٰ خود آپ کا فیصلہ کرنے والا ہے آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد حق کے ساتھ ہے اور آپ کا طریق حق پر ہونا یقینی ہے۔
Ayah 27:80خلاصہ تفسیر
آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو اپنی آواز سنا سکتے ہیں (خصوصاً) جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر چل دیں اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے (بچا کر) رستہ دکھانے والے ہیں، آپ تو صرف ان ہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں کا یقین رکھتے ہیں (اور) پھر وہ مانتے (بھی) ہیں۔
معارف و مسائل
ہمارے رسول کریم ﷺ تمام انسانوں کے ساتھ جو شفقت و ہمدردی کا جذبہ رکھتے تھے اس کا تقاضا تھا کہ سب کو اللہ کا پیغام سنا کر جہنم سے بچا لیں جو لوگ اس پیغام کو قبول نہ کرتے تو آپ کو سخت صدمہ پہنچتا تھا اور آپ ایسے غمگین ہوتے تھے جیسے کسی کی اولاد اس کے کہنے کے خلاف آگ میں جا رہی ہو۔ اس لئے قرآن نے جا بجا رسول اللہ ﷺ کی تسلی کے لئے مختلف عنوانات اختیار فرمائے ہیں۔ سابقہ آیات میں وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُنْ فِيْ ضَيْقٍ ، اسی سلسلہ کا ایک عنوان تھا۔ مذکور الصدر آیت میں بھی تسلی کا مضمون دوسرے انداز سے بیان فرمایا ہے کہ آپ کا کام پیغام حق کو پہنچا دینے کا وہ آپ پورا کرچکے ہیں جن لوگوں نے اس کو قبول نہیں کیا اس میں آپ کا کوئی قصور اور کوتاہی نہیں جس پر آپ غم کریں بلکہ وہ اپنی صلاحیت قبول ہی کو کھو چکے ہیں۔ ان کے گم کردہ صلاحیت ہونے کو اس آیت میں قرآن کریم نے تین مثالوں میں ثابت کیا ہے۔ اول یہ کہ یہ لوگ قبول حق کے معاملہ میں بالکل مردہ لاش کی طرح ہیں جو کسی کی بات سن کر کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ دوسرے یہ کہ ان کی مثال اس بہرے آدمی کی ہے جو بہرا ہونے کے ساتھ بات سننا بھی نہیں چاہتا بلکہ جب کوئی سنانا چاہے تو اس سے پیٹھ موڑ کر بھاگتا ہے۔ تیسرے یہ کہ ان کی مثال اندھوں کی سی ہے کہ کوئی ان کو راستہ دکھانا بھی چاہے تو وہ نہیں دیکھ سکتے ان تین مثالوں کا ذکر کرنے کے بعد آخر میں فرمایا۔
Ayah 27:81اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ يُّؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ ، یعنی آپ تو صرف ایسے ہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو اللہ کی آیات پر ایمان لائیں اور اطاعت قبول کریں۔ اس پورے مضمون میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس جگہ سننے سنانے سے مراد محض کانوں میں آواز پہنچنا نہیں بلکہ مراد اس سے وہ سماع اور سننا ہے جو نفع بخش ہو۔ جو سماع نافع نہ ہو اس کو قرآن نے مقصد کے اعتبار سے عدم سماع سے تعبیر کیا ہے جیسا کہ آخر آیت میں یہ ارشاد کہ آپ تو صرف ان لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو ایمان لائیں۔ اگر اس میں سنانے سے مراد محض ان کے کان تک آواز پہنچانا ہوتا تو قرآن کا یہ ارشاد خلاف مشاہدہ اور خلاف واقع ہوجاتا کیونکہ کافروں کے کانوں تک آواز پہنچانے اور ان کے سننے جواب دینے کی شہادتیں بیشمار ہیں کوئی بھی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ اس سے واضح ہوا کہ سنانے سے مراد سماع نافع ہے۔ ان کو مردہ لاش سے تشبیہ دے کر جو یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اس کے معنے بھی یہی ہوئے کہ جیسے مردے اگر کوئی بات حق کی سن بھی لیں اور اس وقت وہ حق کو قبول کرنا بھی چاہیں تو یہ ان کے لئے نافع نہیں، کیونکہ وہ دنیا کے دارالعمل سے گزر چکے ہیں جہاں ایمان و عمل نافع ہوسکتا تھا مرنے کے بعد برزخ یا محشر میں تو سبھی کافر منکر ایمان و عمل صالح کی تمنائیں کریں گے مگر وہ وقت ایمان و عمل کے قبول ہونے کا وقت نہیں۔ اس لئے اس آیت سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ مردے کوئی کلام کسی کا سن ہی نہیں سکتے۔ اس لئے سماع اموات کے مسئلہ سے درحقیقت یہ آیت ساکت ہے۔ یہ مسئلہ اپنی جگہ قابل نظر ہے کہ مردے کسی کلام کو سن سکتے ہیں یا نہیں ؟
مسئلہ سماع اموات
یہ مسئلہ کہ مردے کوئی کلام سن سکتے ہیں یا نہیں ان مسائل میں سے ہے جن میں خود صحابہ کرام کا باہم اختلاف رہا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر سماع موتی کو ثابت قرار دیتے ہیں اور حضرت ام المومنین صدیقہ عائشہ اس کی نفی کرتی ہیں۔ اسی لئے دوسرے صحابہ وتابعین میں بھی دو گروہ ہوگئے بعض اثبات کے قائل ہیں بعض نفی کے اور قرآن کریم میں یہ مضمون ایک تو اسی موقع پر سورة نمل میں آیا ہے دوسرے سورة روم میں تقریباً انہی الفاظ کے ساتھ دوسری آیت آئی ہے اور سورة فاطر میں یہ مضمون ان الفاظ سے آیا ہے وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِي الْقُبُوْرِ یعنی آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو کہ قبروں میں ہیں۔
ان تینوں آیتوں میں یہ بات قابل نظر ہے کہ ان میں سے کسی میں بھی یہ نہیں فرمایا کہ مردے سن نہیں سکتے بلکہ تینوں آیتوں میں نفی اس کی کی گئی ہے کہ آپ نہیں سنا سکتے۔ تینوں آیتوں میں اسی تعبیر و عنوان کو اختیار کرنے سے اس طرف واضح اشارہ نکلتا ہے کہ مردوں میں سننے کی صلاحیت تو ہو سکتی ہے۔ مگر ہم با اختیار خود ان کو نہیں سنا سکتے۔
ان تینوں آیتوں کے بالمقابل ایک چوتھی آیت جو شہداء کے بارے میں آئی ہے وہ یہ ثابت کرتی ہے کہ شہداء کو اپنی قبروں میں ایک خاص قسم کی زندگی عطا ہوتی ہے اور اس زندگی کے مطابق رزق بھی ان کو ملتا ہے اور اپنے پسماندہ متعلقین کے متعلق بھی منجانب اللہ ان کو بشارت سنائی جاتی ہے آیت یہ ہے وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتً آ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ ، فَرِحِيْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھٖ ۙ وَيَسْـتَبْشِرُوْنَ بالَّذِيْنَ لَمْ يَلْحَقُوْا بِھِمْ مِّنْ خَلْفِھِمْ ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَيْھِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ ، یہ آیت اس کی دلیل ہے کہ مرنے کے بعد بھی روح انسانی میں شعور اور ادراک باقی رہ سکتا ہے بلکہ شہداء کے معاملہ میں اس کے وقوع کی شہادت بھی یہ آیت دے رہی ہے۔ رہا یہ معاملہ کہ یہ حکم تو شہیدوں کے ساتھ مخصوص ہے دوسرے اموات کے لئے نہیں، سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت سے کم از کم اتنا تو ثابت ہوگیا کہ مرنے کے بعد بھی روح انسانی میں شعور و ادراک اور اس دنیا کے ساتھ علاقہ باقی رہ سکتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے شہداء کو یہ اعزاز بخشا ہے کہ ان کی ارواح کا تعلق ان کے اجساد اور قبور کے ساتھ قائم رہتا ہے اسی طرح جب اللہ تعالیٰ چاہیں تو دوسرے اموات کو یہ موقع دے سکتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر جو سماع اموات کے قائل ہیں ان کا یہ قول بھی ایک صحیح حدیث کی بنا پر ہے جو حضرت عبداللہ بن عمر سے اسناد صحیح کے ساتھ منقول ہے وہ یہ ہے۔
ما من احد یمر بقبر اخیہ المسلم کان یعرفہ فی الدنیا فیلسم علیہ الا رد اللہ علیہ روحہ حتی یرد ؑ (ذکرہ ابن کثیر فی تفسیرہ مصححا عن ابن عمر)
جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی قبر پر گزرتا ہے جس کو وہ دنیا میں پہچانتا تھا اور وہ اس کو سلام کرے تو اللہ تعالیٰ اس مردے کی روح اس میں واپس بھیج دیتے ہیں تاکہ وہ سلام کا جواب دے۔
اس سے بھی یہ ثابت ہوا کہ جب کوئی شخص اپنے مردہ مسلمان بھائی کی قبر پر جا کر سلام کرتا ہے تو وہ مردہ اس کے سلام کو سنتا ہے اور جواب دیتا ہے اور اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت اس کی روح اس دنیا میں واپس بھیج دیتے ہیں۔ اس سے دو باتیں ثابت ہوئیں اول یہ کہ مردے سن سکتے ہیں دوسرے یہ کہ ان کا سننا اور ہمارا سنانا ہمارے اختیار میں نہیں البتہ اللہ تعالیٰ جب چاہیں سنا دیں، جب نہ چاہیں نہ سنائیں۔ مسلمان کے سلام کرنے کے وقت تو اس حدیث نے بتلا دیا کہ حق تعالیٰ مردہ کی روح واپس لا کر اس کو سلام سنا دیتے ہیں اور اس کو سلام کا جواب دینے کی بھی قدرت دیتے ہیں۔ باقی حالات و کلمات کے متعلق کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ مردہ ان کو سنے گا یا نہیں۔ اسی لئے امام غزالی اور علامہ سبکی وغیرہ کی تحقیق یہ ہے کہ اتنی بات تو احادیث صحیحہ اور قرآن کی آیت مذکورہ سے ثابت ہے کہ بعض اوقات میں مردے زندوں کا کلام سنتے ہیں لیکن یہ ثابت نہیں کہ ہر مردہ ہر حال میں ہر شخص کے کلام کو ضرور سنتا ہے اس طرح آیات و روایات کی تطبیق بھی ہوجاتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ مردے ایک وقت میں احیاء کے کلام کو سن سکیں دوسرے وقت نہ سن سکیں، یہ بھی ممکن ہے کہ بعض کے کلام کو سنیں بعض کے کلام کو نہ سنیں، یا بعض مردے سنیں بعض نہ سنیں، کیونکہ سورة نمل، سورة روم، سورة فاطر کی آیات سے بھی یہ ثابت ہے کہ مردوں کو سنانا ہمارے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں سنا دیتے ہیں اس لئے جن مواقع میں حدیث کی روایات صحیحہ سے سننا ثابت ہے وہاں سننے پر عقیدہ رکھا جائے اور جہاں ثابت نہیں وہاں دونوں احتمال میں اس لئے نہ قطعی اثبات کی گنجائش ہے نہ قطعی نفی کی۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
اس مسئلہ کی مکمل تحقیق میں احقر نے ایک مستقل رسالہ بنام تکمیل الحبور بسماع اہل القبور لکھا ہے جو احکام القرآن سورة روم حزب خامس میں بزبان عربی شائع ہوا ہے جس میں آیات و روایات اور اقوال سلف و خلف اور شرح الصدور وغیرہ سے بہت سے واقعات و مخاطبات اہل قبور کے نقل کئے گئے ہیں۔ اہل علم وہاں دیکھ سکتے ہیں عوام کے لئے اس کا ضروری خلاصہ لکھا گیا ہے۔
Ayah 27:82خلاصہ تفسیر
اور جب وعدہ (قیامت کا) ان (لوگوں) پر پورا ہونے کو ہوگا (یعنی قیامت کا زمانہ قریب آپہنچے گا) تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک (عجیب) جانور نکالیں گے کہ وہ ان سے باتیں کرے گا (کافر) لوگ ہماری (یعنی اللہ تعالیٰ کی) آیتوں پر (خصوصاً ان آیتوں پر جو قیامت کے متعلق ہیں) یقین نہیں لاتے تھے (مگر اب قیامت آپہنچی اس کی علامتوں میں ایک علامت میرا ظہور بھی ہے۔)
معارف و مسائل
دابتہ الارض کیا ہے اور کہاں اور کب نکلے گا
مسند احمد میں حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ 1 آفتاب کا جانب مغرب سے طلوع ہونا۔ 2 دخان۔ 3 دابہ۔ 4 خروج یا جوج ماجوج۔ 5 نزول عیسیٰ علیہ السلام۔ 6 دجال۔ 7، 8، 9) تین خسوف ایک مغرب میں دوسرا مشرق میں تیسرا جزیرة العرب میں ہوگا۔ 10 ایک آگ جو قعر عدن سے نکلے گی اور سب لوگوں کو ہنکا کر میدان حشر کی طرف لے آئیگی جس مقام پر لوگ رات گزارنے کے لئے ٹھہریں گے یہ آگ بھی ٹھہر جائے گی پھر ان کو لے چلے گی (ہکذا رواہ مسلم و اہل السنن من طرق و قال الترمذی حدیث حسن صحیح)
اس حدیث سے قرب قیامت میں زمین سے ایک ایسے جانور کا نکلنا ثابت ہوا جو لوگوں سے باتیں کرے گا۔ اور لفظ دابة کی تنوین میں اس جانور کے عجیب الخلقت ہونے کی طرف بھی اشارہ پایا گیا اور یہ بھی کہ یہ جانور عام جانوروں کی طرح توالد و تناسل کے طریق پر پیدا نہیں ہوگا بلکہ اچانک زمین سے نکلے گا اور یہ بات بھی اسی حدیث سے سمجھ میں آتی ہے کہ دابتہ الارض کا خروج بالکل آخری علامات میں سے ہوگا جس کے بعد بہت جلد قیامت آجائے گی۔ ابن کثیر نے بحوالہ ابو داؤد طیالسی حضرت طلحہ بن عمر سے ایک طویل حدیث میں روایت کیا ہے کہ یہ دابتہ الارض مکہ مکرمہ میں کوہ صفا سے نکلے گا اور اپنے سر سے مٹی جھاڑتا ہوا مسجد حرام میں حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان پہنچ جائے گا۔ لوگ اس کو دیکھ کر بھاگنے لگیں گے ایک جماعت رہ جائے گی یہ دابہ ان کے چہروں کو ستاروں کی طرح روشن کر دے گا۔ اس کے بعد وہ زمین کی طرف نکلے گا، ہر کافر کے چہرے پر کفر کا نشان لگا دے گا۔ کوئی اس کی پکڑ سے بھاگ نہ سکے گا یہ ہر مومن و کافر کو پہچانے گا (ابن کثیر) اور مسلم بن حجاج نے حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث سنی تھی جس کو میں کبھی بھولتا نہیں وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کی آخری علامات میں سب سے پہلے آفتاب کا طلوع مغرب کی طرف سے ہوگا اور آفتاب بلند ہونے کے بعد دابتہ الارض نکلے گا ان دونوں علامتوں میں سے جو بھی پہلے ہوجائے اس کے فوراً بعد قیامت آجائے گی۔ (ابن کثیر)
شیخ جلال الدین محلی نے فرمایا کہ خروج دابہ کے وقت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے احکام منقطع ہوجائیں گے اور اس کے بعد کوئی کافر اسلام قبول نہ کرے گا۔ یہ مضمون بہت سی احادیث و آثار سے مستنبط ہوتا ہے (مظہری) ابن کثیر وغیرہ نے اس جگہ دابتہ الارض کی ہیئت اور کیفیات و حالات کے متعلق مختلف روایات نقل کی ہیں جن میں سے اکثر قابل اعتماد نہیں اس لئے جتنی بات قرآن کی آیات اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ یہ عجیب الخلقت جانور ہوگا۔ بغیر توالد و تناسل کے زمین سے نکلے گا۔ اس کا خروج مکہ مکرمہ میں ہوگا پھر ساری دنیا میں پھرے گا۔ یہ کافر و مومن کو پہچانے گا اور ان سے کلام کرے گا بس اتنی بات پر عقیدہ رکھا جائے، زائد کیفیات و حالات کی تحقیق و تفتیش نہ ضروری ہے نہ اس سے کچھ فائدہ ہے۔
رہا یہ معاملہ کہ دابتہ الارض لوگوں سے کلام کرے گا اس کا کیا مطلب ہے ؟ بعض حضرات نے فرمایا کہ اس کا کلام یہی ہوگا جو قرآن میں مذکور ہے اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا لَا يُوْقِنُوْنَ ، یہ کلام وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو سنائے گا، بہت سے لوگ آج سے پہلے ہماری آیتوں پر یقین نہ رکھتے تھے اور مطلب یہ ہوگا کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ان سب کو یقین ہوجائے گا مگر اس وقت کا یقین شرعاً معتبر نہیں ہوگا اور حضرت ابن عباس، حسن بصری، قتادہ سے منقول ہے اور ایک روایت حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے بھی ہے کہ یہ دابتہ لوگوں سے خطاب اور کلام کرے گا جس طرح عام کلام ہوتا ہے۔ (ابن کثیر)
Ayahs 27:83–87خلاصہ تفسیر
جس دن (قبروں سے زندہ کرنے کے بعد) ہم ہر امت میں سے (یعنی امم سابقہ میں سے بھی اور اس امت میں سے بھی) ایک ایک گروہ ان لوگوں کا (حساب کے لئے) جمع کریں گے جو میری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے (پھر ان کو موقف کی طرف حساب کے لئے روانہ کیا جائے گا اور چونکہ یہ کثرت سے ہوں گے اس لئے) ان کو (چلنے میں پچھلوں سے آملنے کے واسطے) روکا جائے گا (تاکہ آگے پیچھے نہ رہیں سب ساتھ ہو کر موقف حساب کی طرف چلیں۔ مراد اس سے کثرت کا بیان ہے کیونکہ بڑے مجمع میں عادة ایسا ہوتا ہے خواہ روک ٹوک ہو یا نہ ہو) یہاں تک کہ جب (چلتے چلتے موقف میں) حاضر ہوجاویں گے تو (حساب شروع ہوگا اور) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماوے گا کہ کیا تم نے میری آیتوں کو جھٹلایا تھا حالانکہ تم ان کو اپنے احاطہ علمی میں بھی نہیں لاتے (جس کے بعد غور کرنے کا موقع ملتا اور غور کر کے اس پر کچھ رائے قائم کرتے، مطلب یہ کہ سنتے ہی بلا تدبر و تفکر، ان کی تکذیب کردی اور تکذیب ہی پر اکتفا نہیں کیا) بلکہ (یاد تو کرو اس کے علاوہ) اور بھی کیا کیا کام کرتے رہے (مثلاً انبیاء کو اور اہل ایمان کو ایذائیں دیں جو تکذیب سے بھی بڑھ کر ہے۔ اسی طرح اور عقائد کفریہ اور فسق و فجور میں مبتلا رہے) اور (اب وہ وقت ہے کہ) ان پر (بوجہ قائم ہوجانے جرم کے) وعدہ (عذاب کا) پورا ہوگیا (یعنی سزا کا استحقاق ثابت ہوگیا) بوجہ اس کے کہ (دنیا میں) انہوں نے (بڑی بڑی) زیادتیاں کی تھیں (جن کا آج ظہور ثابت ہوگیا) سو (چونکہ ثبوت قوی ہے اس لئے) وہ لوگ (عذر وغیرہ کے متعلق) بات بھی نہ کرسکیں گے (اور بعض آیات میں جو ان کا عذر پیش کرنا مذکور ہے وہ ابتداء میں ہوگا پھر بعد اقامت حجت کوئی بات نہ کہہ سکیں گے اور یہ لوگ جو امکان قیامت کے منکر ہیں تو حماقت محضہ ہے کیونکہ علاوہ دلائل نقلیہ صادقہ کے اس پر دلیل عقلی بھی تو قائم ہے مثلاً) کیا انہوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم نے رات بنائی تاکہ لوگ اس میں آرام کریں (اور یہ آرام مشابہ موت کے ہے) اور دن بنایا جس میں دیکھیں بھالیں (جو کہ موقوف ہے بیداری پر اور وہ مشابہ حیات بعدالموت کے ہے پس) بلاشبہ اس (روزانہ خواب و بیداری) میں (امکان بعث پر اور ان آیات کے حق ہونے پر جو اس پر دال ہیں) بڑی دلیلیں ہیں (کیونکہ موت کی حقیقت یہ ہے کہ روح کا تعلق جسم سے زائل ہوجائے اور حیات ثانیہ کی حقیقت یہ ہے کہ یہ تعلق پھر عود کر آئے اور نیند بھی ایک حیثیت سے زوال ہے اس تعلق کا، کیونکہ نیند میں یہ تعلق ضعیف ہوجاتا ہے اور ضعف جبھی ہوتا ہے جبکہ اس کے مراتب وجود میں کوئی مرتبہ زائل ہوجائے، اور بیداری اس زائل شدہ مرتبہ وجود کے عود کا نام ہے اس لئے دونوں میں تشابہ تام ہوگیا اور نیند کے بعد بیداری پر اللہ تعالیٰ کی قدرت روزانہ مشاہدہ میں آتی ہے تو موت کے بعد زندگی بھی اس کی نظیر ہے وہ کیوں اللہ کی قدرت سے خارج ہوگا اور یہ دلیل عقلی ہر شخص کے لئے عام ہے مگر باعتبار انتقاع کے) ان (ہی) لوگوں کے لئے (ہے) جو ایمان رکھتے ہیں (کیونکہ وہ غور و فکر کرتے ہیں، اور دوسرے تدبر نہیں کرتے اور کسی نتیجہ پر پہنچنے کے لئے نظر و فکر ضروری ہے اس لئے دوسرے اس سے منتفع نہیں ہوتے) اور (ایک واقعہ ہولناک اس حشر مذکور سے پہلے ہوگا جس کا آگے ذکر ہے اس کی ہیئت بھی یاد رکھنے کے قابل ہے) جس دن صور میں پھونک ماری جاوے گی (یہ نفخہ اولی ہے اور حشر مذکور نفخہ ثانیہ کے بعد تھا) سو جتنے آسمان اور زمین میں (فرشتے اور آدمی وغیرہ) ہیں سب گھبرا جاویں گے (اور پھر مر جاویں گے اور جو مر چکے ہیں ان کی روحیں بیہوش ہوجاویں گی) مگر جس کو خدا چاہے (وہ اس گھبراہٹ سے اور موت سے محفوظ رہے گا۔ مراد ان سے حسب حدیث مرفوع جبرئیل و میکائیل و اسرافیل و ملک الموت و حاملان عرش ہیں پھر ان سب کی بھی بدون اثر نفخہ وفات ہوجاوے گی۔ کذا فی الدر المنثور، سورة الزمر) اور (دنیا میں جیسے عادت ہے کہ جس سے گھبراہٹ اور ڈر ہوتا ہے اس سے بھاگ جاتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ سے کوئی بھاگ نہ سکے گا بلکہ) سب کے سب اسی کے سامنے دبے جھکے حاضر رہیں گے (یہاں تک کہ زندہ آدمی مردہ اور مردے بیہوش ہوجاویں گے) اور (نفخہ کی یہ تغییر و تاثیر جانداروں میں ہوگی اور آگے بےجان چیزوں میں جو تاثیر ہوگی اس کا بیان ہے وہ یہ کہ اے مخاطب) تو (اس وقت) پہاڑوں کو ایسی حالت میں دیکھ رہا ہے جس سے (ان کے ظاہری استحکام کے سبب بادی النظر میں) تجھ کو خیال ہوتا ہے کہ یہ (ہمیشہ یوں ہی رہیں گے اور کبھی اپنی جگہ سے) جنبش نہ کریں گے حالانکہ (اس وقت ان کی یہ حالت ہوگی کہ) وہ بادلوں کی طرح (متخلخل اور خفیف اور اجزاء منتشرہ ہو کر فضائے آسمانی میں) اڑے اڑے پھریں گے (کقولہ تعالیٰ وَّبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا، فَكَانَتْ هَبَاۗءً مُّنْۢبَثًّا، اور اس پر کچھ تعجب نہ کرنا چاہئے کہ ایسی ثقیل اور سخت چیز کا یہ حال کیسے ہوجاوے گا وجہ یہ کہ) یہ خدا کا کام ہوگا جس نے ہر چیز کو (مناسب انداز پر) بنا رکھا ہے (اور ابتداء میں کسی شئی میں کوئی مضبوطی نہ تھی کیونکہ خود اس شئے کی ذات ہی نہ تھی، پس مضبوطی کی صفت تو بدرجہ اولی نہ تھی سو جیسے اس نے معدوم سے موجود اور ضعیف سے قوی بنایا اسی طرح اس کا عکس بھی کرسکتا ہے کیونکہ قدرت ذاتیہ کی نسبت تمام مقدورات کے ساتھ یکساں ہے، بالخصوص جو چیزیں ایک دوسرے کی نظیر اور مشابہ ہیں ان میں تو زیادہ واضح ہے اسی طرح دوسری مخلوقات تو یہ آسمان و زمین وغیرہ میں تغیر عظیم ہونا دوسری آیات میں مذکور ہے وّحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً ، فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ ، وَانْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ ، الخ پھر اس کے بعد نفخہ ثانیہ ہوگا جس سے ارواح ہوش میں آ کر اپنے ابدان سے متعلق ہوجاویں گی اور پورا عالم نئے سرے سے درست ہوجاوے گا اور اوپر جو حشر کا ذکر تھا وہ اسی نفخہ ثانیہ کے بعد ہوگا۔ آگے اصل مقصود یعنی قیامت میں جزاء و سزا کا بیان ہے۔ پس اول اس کی تمہید کے طور پر ارشاد ہے کہ) یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب افعال کی پوری خبر ہے (جو جزاء و سزا کی پہلی شرط ہے اور دوسری شرائط بھی مثل قدرت و غیرہا مستقل دلائل سے ثابت ہیں، پس مجازات کا ممکن ہونا تو اس سے ظاہر ہے اور پھر حکمت مققنی ہے وقوع مجازات کو، اس سے جزاء و سزا کا واقع ہونا ثابت ہوگیا، تمہید کے بعد آگے اس کا وقوع مع اس کے قانون اور طریقہ کے بیان فرماتے ہیں کہ) جو شخص نیکی (یعنی ایمان) لاوے گا سو (وہ ایمان لانے پر جس اجر کا مستحق ہے) اس شخص کو اس (نیکی کے اجر مذکور) سے بہتر (اجر) ملے گا اور وہ لوگ بڑی گھبراہٹ سے اس روز امن میں رہیں گے (جیسا کہ سورة انبیاء میں ہے لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ ، الآیتہ) اور جو شخص بدی (یعنی کفر و شرک) لاوے گا تو وہ لوگ اوندھے منہ آگ میں ڈال دیئے جاویں گے (اور ان سے کہا جاوے گا کہ) تم کو تو انہی اعمال کی سزا دی جا رہی ہے جو تم (دنیا میں) کیا کرتے تھے (یہ عذاب بےوجہ نہیں)
معارف و مسائل
فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ ، وزع سے مشتق ہے جس کے معنے روکنے کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اگلے حصہ کو روکا جائے گا تاکہ پیچھے رہے ہوئے لوگ ساتھ ہوجاویں اور بعض حضرات نے وزع کے معنی یہاں دفع کے لئے ہیں یعنی ان کو دھکے دے کر موقف کی طرف لایا جائے گا وَلَمْ تُحِيْطُوْا بِهَا عِلْمًا، اس میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب خود ایک بڑا جرم و گناہ ہے خصوصاً جبکہ سوچنے سمجھنے اور غور و فکر کرنے کی طرف توجہ کئے بغیر ہی تکذیب کرنے لگیں تو یہ جرم دوہرا ہوجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ غور و فکر کرنے کے باوجود حق کو نہ پاسکیں کہ ان کی نظر و فکر ہی گمراہی کی طرف لے جائے تو ان کا جرم کسی قدر ہلکا ہوجاتا ہے اگرچہ اللہ کے وجود اور توحید وغیرہ کی تکذیب پھر بھی کفر و ضلال اور دائمی عذاب سے نہیں بچائے گی کیونکہ یہ ایسے بدیہی امور ہیں جن میں نظر و فکر کی غلطی معاف نہیں۔
Ayah 27:88وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ ، مراد یہ ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ کر اس طرح چلیں گے جیسے بادل کہ دیکھنے والا اس کو اپنی جگہ جما ہوا سمجھتا ہے حالانکہ وہ تیزی سے چل رہے ہیں۔ تمام بڑے اجسام جن کی ابتداء و انتہاء انسان کی نظر کے سامنے نہیں ہوتی جب وہ کسی ایک سمت کی طرف حرکت کریں تو خواہ حرکت کتنی بھی تیز ہو دیکھنے والوں کو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ اپنی جگہ جمے ہوئے ہیں جس کا مشاہدہ سب کو گہرے بادل اور دور تک چھائی ہوئی گھٹا سے ہوتا ہے کہ یہ بادل اپنی جگہ جمے ہوئے دکھائی دیتے ہیں حالانکہ وہ چل رہے ہوتے ہیں مگر ان کی حرکت دیکھنے والوں کو اس وقت محسوس ہوتی ہے جب وہ اتنی دور چلے جائیں کہ افق کا کنارہ اس سے کھل جائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ پہاڑوں کا جامد ہونا دیکھنے والے کی نظر کے اعتبار سے ہے اور اس کا حرکت کرنا حقیقت کے اعتبار سے عامہ مفسرین نے آیت کا مطلب یہی قرار دیا ہے اور خلاصہ تفسیر مذکور میں یہ اختیار کیا گیا ہے کہ یہ دو حال دو وقتوں کے ہیں۔ جامد ہونا اس وقت کے اعتبار سے جس کو دیکھ کر ہر دیکھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ یہ کبھی اپنی جگہ سے نہ ہلیں گے۔ اور تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَاب قیامت کے دن کے اعتبار سے ہے۔ بعض علماء نے فرمایا کہ قرآن کریم میں قیامت کے روز پہاڑوں کے حالات مختلف بیان ہوئے ہیں۔ پہلا حال اندکاک اور زلزلہ ہے جو پوری زمین کے پہاڑوں کو محیط ہوگا۔ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا اور اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا دوسرا حال اس کی بڑی بڑی چٹانوں کا دھنکی ہوئی روئی کی طرح ہوجانا ہے وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ اور یہ اس وقت ہوگا جب اوپر سے آسمان بھی پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا زمین سے پہاڑ روئی کی طرح اوپر جائیں گے اوپر سے آسمان نیچے آئیں گے اور دونوں مل جائیں گے يَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَاۗءُ كَالْمُهْلِ وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ تیسرا حال یہ ہے کہ وہ دھنکی ہوئی روئی کے ایک جسم متصل کے بجائے ریزہ ریزہ اور ذرہ ذرہ ہوجائے۔ وَّبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا، فَكَانَتْ هَبَاۗءً مُّنْۢبَثًّا، چوتھا حال یہ ہے کہ وہ ریزہ ریزہ ہو کر پھیل جائے فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا پانچواں حال یہ ہے کہ یہ پہاڑ جو ریزہ ریزہ ہو کر غبار کی طرح زمین پر پھیل گئے ہیں ان کو ہوائیں اوپر اٹھا کرلے جائیں اور چونکہ یہ غبار ساری زمین پر چھایا ہوگا تو اگرچہ یہ بادل کی طرح تیز حرکت کرتا ہوگا مگر دیکھنے والا اس کو اپنی جگہ جما ہوا دیکھے گا تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ ان میں سے بعض حالات صور کے نفخہ اولی کے وقت ہوں گے اور بعض نفخہ ثانیہ کے بعد اس وقت جبکہ زمین کو ایک سطح مستوی بنادیا جائے کہ نہ اس میں کوئی غار رہے گا نہ پہاڑ نہ کوئی عمارت نہ درخت فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا، فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا، لَّا تَرٰى فِيْهَا عِوَجًا وَّلَآ اَمْتًا (از قرطبی و روح المعانی) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بحقیقتہ الحال
صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ ، صنع بمعنے صنعت ہے اور اتقن، اتقان سے مشتق ہے جس کے معنے کسی چیز کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے آتے ہیں۔ بظاہر یہ جملہ تمام مضامین سابقہ کے ساتھ متعلق ہے جن میں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور صنعت عجیبیہ کا ذکر ہے جس میں لیل و نہار کا انقلاب بھی ہے اور نفخ صور سے لے کر حشر و نشر تک کے سب حالات بھی اور مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں کچھ حیرت اور تعجب کی نہیں کیونکہ ان کا صانع کوئی محدود علم وقدرت والا انسان یا فرشتہ نہیں بلکہ رب العالمین ہے۔ اور اگر اس کا تعلق قریبی جملے تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً الآیتہ سے کیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ پہاڑوں کا یہ حال کہ دیکھنے والے ان کو جما ہوا دیکھیں اور وہ واقع میں چل رہے اور حرکت کر رہے ہیں کچھ مستبعد اور جائے تعجب نہیں کیونکہ یہ صنعت اللہ رب العزت کی ہے۔ جس کی قدرت میں سب کچھ ہے۔
Ayahs 27:89–90مَنْ جَاۗءَ بالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَيْرٌ مِّنْهَا، یہ حشر و نشر اور حساب کتاب کے بعد پیش آنے والے انجام کا ذکر ہے اور حسنہ سے مراد کلمہ لا الہ الا اللہ ہے (کما قال ابراہیم) یا اخلاص ہے (کما قال قتادہ) اور بعض حضرات نے مطلق اطاعت کو اس میں داخل قرار دیا ہے۔ معنے یہ ہیں کہ جو شخص نیک عمل کرے گا اور نیک عمل اسی وقت نیک کہلانے کے قابل ہوتا ہے جبکہ اس کی پہلی شرط ایمان موجود ہو تو اس کو اپنے عمل سے بہتر چیز ملے گی مراد اس سے جنت کی لازوال نعمتیں اور عذاب اور ہر تکلیف سے دائمی نجات ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ خیر سے مراد یہ ہے کہ ایک نیکی کی جزاء دس گنے سے لے کر سات سو گنے تک ملے گی۔ (مظہری)
وَهُمْ مِّنْ فَزَعٍ يَّوْمَىِٕذٍ اٰمِنُوْنَ ، فزع، سے مراد ہر بڑی مصیبت اور پریشانی اور گھبراہٹ سے مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تو ہر متقی پرہیزگار بھی انجام سے ڈرتا رہتا ہے اور ڈرنا ہی چاہئے جیسے قرآن کریم کا ارشاد ہے اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَاْمُوْنٍ ، یعنی رب کا عذاب ایسا نہیں کہ اس سے کوئی بےفکر اور مطمئن ہو کر بیٹھ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اور صحابہ و اولیاء امت ہمیشہ خائف و لرزاں رہتے تھے مگر اس روز جبکہ حساب کتاب سے فراغت ہوچکے گی تو حسنہ لانے والے نیک لوگ ہر خوف و غم سے بےفکر اور مطمئن ہوں گے۔ واللہ اعلم
Ayahs 27:91–93خلاصہ تفسیر
(اے پیغمبر ﷺ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ) مجھے تو یہی حکم ملا ہے کہ میں اس شہر (مکہ) کے مالک (حقیقی) کی عبادت کیا کروں جس نے اس (شہر) کو محترم بنایا ہے (کہ حرم ہونا اسی احترام پر مرتب ہے مطلب یہ ہے کہ عبادت میں کسی کو شریک نہ کروں) اور (اس کی عبادت کیوں نہ کی جاوے جبکہ) سب چیزیں اسی کی (ملک) ہیں اور مجھ کو یہ (بھی) حکم ہوا ہے کہ میں (عقائد و اعمال سب میں) فرمانبردار رہوں (یہ تو توحید کا حکم ہوا) اور (مجھ کو) یہ (بھی حکم ملا ہے) کہ میں (تم کو) قرآن پڑھ پڑھ کر سناؤں (یعنی احکام الہیہ کی تبلیغ کروں جو نبوت کے لوازم میں سے ہے) سو (میری تبلیغ کے بعد) جو شخص راہ پر آوے گا تو اپنے ہی فائدہ کے لئے راہ پر آوے گا (یعنی اس کو عذاب سے نجات اور جنت کی لازوال نعمتیں ملیں گی، میں اس سے کسی اپنے مالی یا جاہی نفع کا خواہاں نہیں) اور جو شخص گمراہ رہے گا تو آپ کہہ دیجئے کہ (میرا کوئی ضرر نہیں کیونکہ) میں تو صرف ڈرانے والے (یعنی حکم سنانے والے) پیغمبروں میں سے ہوں (یعنی میرا کام تو حکم پہنچا دینا ہے، اس کے بعد میری ذمہ داری ختم ہے نہ مانو گے تو وبال تمہیں ہی بھگتنا پڑے گا) اور آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ (تم جو قیامت کے آنے میں دیر کو اس کے نہ ہونے کی دلیل سمجھ کر انکار کرتے ہو یہ تمہاری بیوقوفی ہے کسی چیز کے واقع ہونے میں دیر لگنا اس کی دلیل نہیں ہوسکتا کہ وہ کبھی واقع ہو ہی گی نہیں۔ اس کے علاوہ تم جو مجھ سے کہتے ہو کہ میں جلد قیامت لے آؤں یہ دوسری غلطی ہے کیونکہ میں نے یہ کب دعویٰ کیا ہے کہ قیامت کا واقع کرنا میرے اختیار میں ہے بلکہ) سب خوبیاں خالص اللہ ہی کے لئے ثابت ہیں (قدرت بھی، علم بھی حکمت بھی۔ وہ جب اس کی حکمت کا تقاضا ہوگا قیامت کو واقع کر دے گا۔ ہاں اتنی بات ہمیں بھی بتلا دی گئی ہے کہ قیامت میں زیادہ دیر نہیں بلکہ) وہ تم کو عنقریب اپنی نشانیاں (یعنی قیامت کے واقعات) دکھلاوے گا سو تم (وقوع کے وقت) ان کو پہچانو گے (جبکہ پہچاننے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا) اور (صرف یہ علامات کھلانے ہی پر اکتفا نہ ہوگا بلکہ اپنے برے اعمال کی سزا بھی بھگتنا پڑے گی کیونکہ، آپ کا رب ان کاموں سے بیخبر نہیں جو تم سب لوگ کر رہی ہو۔
معارف و مسائل
رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ ، بلدہ سے مراد جمہوری مفسرین کے نزدیک مکہ مکرمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ تو رب العالمین اور رب السموات والارض ہے مکہ مکرمہ کی تخصیص اس جگہ اس کی عظمت شان اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مکرم و محترم ہونے کا اظہار ہے۔ لفظ حرم تحریم سے مشتق ہے اس کے معنے مطلق احترام و اکرام کے بھی ہیں اور اس احترام و اکرام کی وجہ سے جو خاص احکام شرعیہ مکہ مکرمہ اور ارض حرم سے متعلق ہیں وہ بھی اس میں داخل ہیں مثلاً جو شخص حرم میں پناہ لے وہ مامون ہوجاتا ہے۔ حرم میں کسی دشمن سے انتقام لینا اور قتل کرنا جائز نہیں اور ارض حرم میں شکار کو قتل کرنا بھی جائز نہیں، درختوں کا کاٹنا جائز نہیں۔ ان احکام کا بیان آیت وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا کے تحت میں اور کچھ سورة مائدہ کے شروع میں اور کچھ آیت للَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَاَنْتُمْ کے تحت پہلے بیان ہوچکا ہے۔
الحمد للہ سورة نمل کی تفسیر آج شب دو شنبہ 24 شوال 1391 ھ میں تمام ہوئی جبکہ 14 شوال سے ہندوستان کے ہندوؤں نے مغربی پاکستان پر بھرپور حملے میدانی اور بحری اور ہوائی کردیئے ہیں، کراچی خاص طور سے اس کا نشانہ ہے ہر رات بمباری ہوتی ہے، شہری آبادی پر بھی بم گرتے ہیں تمام رات مکمل اندھیرا رکھنا پڑتا ہے اور بموں کے دھماکے سے مکان لرزتے ہیں، مگر اللہ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے ان حالات میں بھی سلسلہ اس تفسیر کا جاری رکھا اور اس جنگ کے دس روز میں بھی تفسیر کے تقریباً چالیس صفحات لکھے گئے۔