Ayahs 26:1–2خلاصہ تفسیر
طسم (اس کے معنی تو اللہ کو معلوم ہیں) یہ (مضامین جو آپ پر نازل ہوتے ہیں) کتاب واضح (یعنی) کی آیتیں ہیں (اور یہ لوگ جو اس پر ایمان نہیں لاتے تو آپ اتنا غم کیوں کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ) شاید آپ ان کے ایمان نہ لانے پر (تاسف کرتے کرتے) اپنی جان دے دیں گے (اصل یہ ہے کہ یہ عالم ابتلاء ہے اس میں حق کے اثبات پر وہی دلائل قائم کئے جاتے ہیں جن کے بعد بھی ایمان لانا بندہ کے اختیار میں رہتا ہے ورنہ) اگر ہم (جبراً و اضطراراً ان کو مومن کرنا) چاہیں تو ان پر آسمان سے ایک (ایسی) بڑی نشانی نازل کردیں (کہ ان کا اختیار ہی بالکل سلب ہوجاوے) پھر ان کی گردنیں اس نشانی (کے آنے) سے پست ہوجاویں (ور بالاضطرار مومن بن جاویں لیکن ایسا کرنے سے آزمائش باقی نہ رہے گی اس لئے ایسا نہیں کیا جاتا اور معاملہ جبر و اختیار کے درمیان رہتا ہے اور (ان کی یہ حالت ہے کہ) ان کے پاس کوئی تازہ فہمائش (حضرت) رحمان (جل شانہ) کی طرف سے ایسی نہیں آتی جس سے یہ بےرخی نہ کرتے ہوں سو (اس بےرخی کی یہاں تک نوبت پہنچی کہ) انہوں نے (دین حق کو) جھوٹا بتلا دیا (جو اعراض کا انتہائی درجہ ہے اور صرف اس کے ابتدائی درجہ یعنی بےالتفاتی پر اکتفا نہیں کیا اور پھر تکذیب بھی خالی نہیں بلکہ استہزاء کے ساتھ) سو اب عنقریب ان کو اس بات کی حقیقت معلوم ہوجاوے گی جس کے ساتھ یہ استہزاء کیا کرتے تھے (یعنی جب عذاب الٰہی کا موت کے وقت یا قیامت میں معائنہ ہوگا، اس وقت قرآن کے اور مافی القرآن یعنی عذاب وغیرہ کے حق ہونے کا انکشاف ہوجاوے گا) کیا انہوں نے زمین کو نہیں دیکھا (جو ان سے بہت قریب اور ہر وقت پیش نظر ہے) کہ ہم نے اس میں کس قدر عمدہ عمدہ قسم قسم کی بوٹیاں اگائی ہیں (جو مثل جمیع مصنوعات کے اپنے بنانے والے کے وجود اور اس کی یکتائی اور کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں کہ) اس میں (توحید ذاتی و صفاتی و افعال کی) ایک بڑی نشانی (عقلی) ہے (اور یہ مسئلہ بھی عقلی ہے کہ خدائی کے لئے کمال ذاتی و صفاتی شرط ہے اور کمال مذکور کے لوازم میں سے ہے کہ وہ خدائی میں اکیلا ہو) اور (باوجود اس کے) ان میں کے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے (اور شرک کرتے ہیں، غرض شرک کرنا انکار نبوت سے بھی بڑھ کر ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ان کے عناد نے ان کی فطرت کو بالکل مختلف کردیا پھر ایسوں کے پیچھے کیوں جان کھوئی جاوے) اور (اگر ان کو شرک کے مذموم عند اللہ ہونے میں یہ شبہ ہو کہ ہم پر عذاب فوراً کیوں نہیں آجاتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ) بلاشبہ آپ کا رب (باوجود اس کے کہ) غالب (ور کامل القدرت) ہے (مگر اس کے ساتھ ہی) رحیم (بھی) ہے (اور اس کی رحمت عامہ دنیا میں کفار سے بھی متعلق ہے اس کا اثر یہ ہے کہ ان کو مہلت دے رکھی ہے ورنہ کفر یقینا مذموم اور عذاب کا مقتضی ہے۔)
Ayah 26:3معارف و مسائل
لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ الآیتہ، باخع بخع سے مشتق ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ذبح کرتے کرتے بخاع تک پہنچ جائے جو گردن کی ایک رگ ہے۔ اور اس جگہ باخع سے مردا اپنے آپ کو تکلیف اور مشقت میں ڈالنا ہے۔ علامہ عسکری نے فرمایا کہ اس جیسے مقامات میں اگرچہ صورت جملہ خبریہ کی ہے مگر حقیقۃً اس سے مراد نہی اور ممانعت کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے پیغمبر، اپنی قوم کے کفر اور اسلام سے انحراف کے سبب اتنا رنج نہ کیجئے کہ جان گھلنے لگے۔ اس آیت سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ کسی کافر کے بارے میں اگر یہ معلوم بھی ہوجائے کہ اس کی تقدیر میں ایمان لانا نہیں ہے تب بھی اس کو تبلیغ کرنے سے رکنا نہیں چاہئے، دوسرے یہ معلوم ہوا کہ مشقت میں اعتدال چاہئے اور جو شخص ہدایت نہ پائے۔ اس پر زیادہ حزن وغم نہ کیا جائے۔
Ayahs 26:4–6اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ اٰيَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِيْنَ ، علامہ زمخشری نے فرمایا کہ اصل کلام فظلوا لھا خاضعین ہے یعنی کفار اس بڑی نشانی کو دیکھ کر تابع ہوجاویں اور جھک جائیں لیکن یہاں اعناق کا لفظ یہ ظاہر کرنے کے لئے لایا گیا ہے کہ موضوع خضوع ظاہر ہوجائے کیونکہ جھکنا وغیرہ اور عاجزی کرنا سب سے پہلے گردن پر ظاہر ہوتا ہے۔ مضمون اس آیت کا یہ ہے کہ ہم اس پر بھی قادر ہیں کہ اپنی توحید اور قدرت کاملہ کی کوئی نشانی ظاہر کردیں جس سے احکام شرعیہ اور حقائق الہیہ بدیہی ہو کر سامنے آجائیں اور کسی کو مجال انکار نہ رہے مگر حکمت کا مقتضا یہ ہے کہ یہ احکام و معارف بدیہی نہ ہوں بلکہ نظری رہیں کہ غور و فکر پر موقف رہیں اور یہی غور و فکر انسان کی آزمائش ہے اسی پر ثواب و عذاب مرتب ہے۔ بدیہی چیزوں کا اقرار تو ایک طبعی اور ضروری امر ہے اس میں تعبد اور اطاعت کی شان نہیں (قرطبی)
Ayahs 26:7–9زَوْجٍ كَرِيْمٍ ، زوج کے لفظی معنے جوڑے کے ہیں اسی لئے مرد و عورت، نر و مادہ کو زوج کہا جاتا ہے بہت سے درختوں میں بھی نر و مادہ ہوتے ہیں ان کو اس مناسبت سے بھی زوج کہا جاسکتا ہے اور کبھی لفظ زوج ایک خاص نوع اور صنف کے معنی میں بھی آتا ہے اس معنے کے لحاظ سے درختوں کی ہر نوع کو زوج کہا جاسکتا ہے اور کریم کے معنی ہیں عمدہ اور پسندیدہ چیز۔
Ayahs 26:10–11خلاصہ تفسیر
اور (ان لوگوں سے اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے) جب آپ کے رب نے موسیٰ ؑ کو پکارا (اور حکم دیا) کہ تم ان ظالم لوگوں کے یعنی قوم فرعون کے پاس جاؤ (اور اے موسیٰ دیکھو) کیا یہ لوگ (ہمارے غضب سے) نہیں ڈرتے (یعنی ان کی حالت عجیب اور شنیع ہے اس لئے ان کی طرف تم کو بھیجا جاتا ہے) انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار، (میں اس خدمت کے لئے حاضر ہوں لیکن اس خدمت کی تکمیل کے لئے ایک مددگار چاہتا ہوں کیونکہ) مجھ کو یہ اندیشہ ہے کہ وہ مجھ کو (اپنی پوری بات کہنے سے پہلے ہی) جھٹلانے لگیں اور (طبعی طور پر ایسے وقت میں) میرا دل تنگ ہونے لگتا ہے اور میری زبان (اچھی طرح) نہیں چلتی اس لئے ہارون کے پاس (بھی وحی) بھیج دیجئے (اور ان کو نبوت عطا فرما دیجئے کہ اگر میری تکذیب کی جاوے تو وہ تصدیق کرنے لگیں تاکہ دل شگفتہ اور زبان رواں رہے اور اگر میری زبان کسی وقت بند ہوجاوے تو وہ تقریر کرنے لگیں اور ہرچند کہ یہ غرض ویسے بھی ہارون ؑ کو بلانبوت عطا ہوئے ساتھ رکھنے سے حاصل ہو سکتی تھی مگر عطائے نبوت میں اور زیادہ باکمل وجوہ پوری ہوئی) اور (ایک امر یہ قابل عرض ہے کہ) میرے ذمہ ان لوگوں کا ایک جرم بھی ہے (کہ میرے ہاتھ سے ایک قبطی قتل ہوگیا تھا جس کا قصہ سورة قصص میں آوے گا) سو (اس لئے) مجھ کو (ایک) یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھ کو (قبل تبلیغ رسالت) قتل کر ڈالیں (تب بھی تبلیغ نہ کرسکوں گا تو اس کی بھی کوئی تدبیر فرما دیجئے) ارشاد ہوا کہ کیا مجال ہے (جو ایسا کرسکیں اور ہم نے ہارون کو بھی پیغمبری دی، اب تبلیغ کے دونوں مانع مرتفع ہوگئے) سو (اب) تم دونوں میرے احکام لے کر جاؤ (کہ ہارون بھی نبی ہوگئے اور) ہم (نصرت و امداد سے) تمہارے ساتھ ہیں (ور جو گفتگو تمہاری اور ان لوگوں کی ہوگی اس کو) سنتے ہیں سو تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور (اس) سے کہو کہ ہم رب العالمین کے فرستادہ ہیں (اور دعوت الی التوحید کے ساتھ یہ حکم بھی لائے ہیں) کہ تو بنی اسرائیل کو (اپنے بیگار اور ظلم سے رہائی دے کر ان کے اصلی وطن ملک شام کی طرف) ہمارے ساتھ جانے دے (خلاصہ اس دعوت کا حقوق اللہ اور حقوق العباد میں ظلم وتعدی کا ترک کرنا ہے، چناچہ یہ دونوں حضرات گئے اور فرعون سے سب مضامین کہہ دیئے) فرعون (یہ سب باتیں سن کر اول موسیٰ ؑ کی طرف ان کو پہچان کر متوجہ ہوا اور) کہنے لگا کہ (اہا تم ہو) کیا ہم نے تم کو بچپن میں پرورش نہیں کیا اور تم اپنی (اس) عمر میں برسوں ہم میں رہا سہا کئے اور تم نے اپنی وہ حرکت بھی کی تھی جو کی تھی (یعنی قبطی کو قتل کیا تھا) اور تم بڑے ناسپاس ہو (کہ میرا ہی کھایا، میرا ہی آدمی قتل کیا اور پھر مجھ کو اپنا تابع بنانے آئے ہو، چاہئے تو یہ تھا کہ تم میرے سامنے دب کر رہتے) موسیٰ ؑ نے جواب دیا کہ (واقعی) اس وقت وہ حرکت میں کر بیٹھا تھا اور مجھ سے غلطی ہوگئی تھی (یعنی عمداً میں نے قتل نہیں کیا، اس کی ظالمانہ روش سے اس کو روکنا مقصود تھا اتفاق سے وہ مر گیا) پھر جب مجھ کو ڈر لگا تو میں تمہارے ہاں سے مفرور ہوگیا، پھر مجھ کو میرے رب نے دانشمندی عطا فرمائی اور مجھ کو پیغمبروں میں شامل کردیا (اور وہ دانشمندی اسی نبوت کے لوازم سے ہے۔ خلاصہ جواب یہ ہے کہ میں پیغمبری کی حیثیت سے آیا ہوں جس میں دبنے کی کوئی وجہ نہیں اور پیغمبری اس واقعہ قتل خطاء کے منافی نہیں کیونکہ یہ قتل خطاء صادر ہوا تھا جو نبوت کی اہلیت و صلاحیت کے منافی نہیں۔ یہ تو جواب ہے اعتراض قتل کا) اور (رہا احسان جتلانا پرورش کا سو) وہ یہ نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان رکھتا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو سخت ذلت (اور ظلم) میں ڈال رکھا تھا (کہ ان کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا جس کے خوف سے میں صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈالا گیا اور تیرے ہاتھ لگ گیا اور تیری پرورش میں رہا تو اس پرورش کی اصلی وجہ تو تیرا ظلم ہی ہے تو ایسی پرورش کا کیا احسان جتلاتا ہے بلکہ اس سے تو تجھے اپنی ناشائستہ حرکات کو یاد کر کے شرمانا چاہئے) فرعون (اس بات پر لاجواب ہوا اور گفتگو کا پہلو بدل کر اس) نے کہا کہ (جس کو تم) رب العالمین (کہتے ہو لقلولہ تعالیٰ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ اس) کی ماہیئت (اور حقیقت) کیا ہے موسیٰ ؑ نے جواب دیا کہ وہ پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ (مخلوقات) ان کے درمیان میں ہے اس (سب) کا اگر تم کو یقین (حاصل) کرنا ہو (تو یہ پتہ بہت ہے، مطلب یہ کہ اس کی حقیقت کا ادراک انسان نہیں کرسکتا اس لئے جب ان کا سوال ہوگا صفات سے ہی جواب ملے گا) فرعون نے اپنے اردگرد (بیٹھنے) والوں سے کہا کہ تم لوگ (کچھ) سنتے ہو (کہ سوال کچھ جواب کچھ) موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ وہ پروردگار ہے تمہارا اور تمہارے پہلے بزرگوں کا (اس جواب میں مکرر تنبیہ ہے اس مطلب مذکور پر مگر) فرعون (نہ سمجھا اور) کہنے لگا کہ یہ تمہارا رسول جو (بزعم خود) تمہاری طرف رسول ہو کر آیا ہے مجنون (معلوم ہوتا) ہے۔ موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ وہ پروردگار ہے مشرق اور مغرب کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے اس کا بھی اگر تم کو عقل ہو (تو اسی سے مان لو) فرعون (آخر مجبور ہو کر) کہنے لگا کہ اگر تم میرے سوا کوئی اور معبود تجویز کرو گے تو تم کو جیل خانہ بھیج دوں گا۔ موسیٰ ؑ نے فرمایا کیا اگر کوئی میں صریح دلیل پیش کروں تب بھی (نہ مانے گا) فرعون نے کہا اچھا تو وہ دلیل پیش کرو اگر تم سچے ہو، تو موسیٰ ؑ نے اپنی لاٹھی ڈال دی تو دفعۃً ایک نمایاں اژدھا بن گیا (اور دوسرا معجزہ دکھلانے کے لئے) اپنا ہاتھ (گریبان میں دے کر) باہر نکالا تو وہ دفعۃً سب دیکھنے والوں کے روبرو بہت ہی چمکتا ہوا ہوگیا (کہ اس کو بھی سب نے نظر حسی سے دیکھا۔)
Ayahs 26:12–16معارف و مسائل
اطاعت کے لئے معاون اسباب کی طلب بہانہ جوئی نہیں
قَالَ رَبِّ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ ، وَيَضِيْقُ صَدْرِيْ وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِيْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ ، وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ يَّقْتُلُوْنِ ، ان آیات مبارکہ سے ثابت ہوا کہ کسی حکم کے بجا لانے میں کچھ ایسی چیزوں کی درخواست کرنا جو تعمیل حکم میں مددگار ثابت ہوں کوئی بہانہ جوئی نہیں بلکہ جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے حکم خداوندی پاکر اس کی بجا آوری کو سہل اور مفید کرنے کے لئے خدائے ذوالجلال سے درخواست کی۔ لہٰذا اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہوگا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے حکم خداوندی کو بلا توقف بسر و چشم قبول کیوں نہ کیا ؟ اور توقف کیوں فرمایا ؟ کیونکہ حضرت موسیٰ ؑ نے جو کچھ کیا وہ تعمیل حکم ہی کے سلسلہ میں کیا۔
Ayahs 26:17–19اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ، بنی اسرائیل ملک شام کے باشندے تھے، وہاں جانا چاہتے تو فرعون ان کو جانے نہ دیتا تھا اس طرح چار سو سال سے وہ اس کی قید میں غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے ان کی تعداد اس وقت چھ لاکھ تیس ہزار تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون کو پیغام حق پہنچانے کے ساتھ ہی بنی اسرائیل پر جو ظلم اس نے کر رکھا تھا اس سے باز آنے اور ان کو آزاد چھوڑ دینے کی ہدایت فرمائی۔ (قرطبی)
پیغمبرانہ مناظرہ کا ایک نمونہ مناظرے کے موثر آداب
دو مختلف الخیال شخصوں اور جماعتوں میں نظریاتی بحث و مباحثہ جس کو اصطلاح میں مناظرہ کہا جاتا ہے، زمانہ قدیم سے رائج ہے مگر عام طور پر مناظرہ ایک ہار جیت کا کھیل ہو کر رہ گیا ہے۔ لوگوں کی نظر میں مناظرہ کا حاصل اتنا ہی ہے کہ اپنی بات اونچی ہو، چاہے اس کی غلطی خود بھی معلوم ہوچکی ہو، اس کو صحیح اور قوی ثابت کرنے کے لئے دلائل اور ذہانت کا سارا زور خرچ کیا جائے۔ اسی طرح مخالف کی کوئی بات سچی اور صحیح بھی ہو تو بہرحال رد ہی کرنا اور اس کی تردید میں پوری توانائی صرف کرنا ہے۔ اسلام ہی نے اس کام میں خاص اعتدال پیدا کیا ہے اس کے اصول و قواعد اور حدود متعین کر کے اس کو ایک مفید و موثر آلہ تبلیغ و اصلاح بنایا ہے۔
آیات مذکورہ میں اس کا ایک مختصر سا نمونہ ملاحظہ فرمایئے۔ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) نے جب فرعون جیسے جبار خدائی کے مدعی کو اس کے دربار میں دعوت حق پہنچائی تو اس نے مخالفانہ بحث کا آغاز اول دو ایسی باتوں سے کیا جن کا تعلق حضرت موسیٰ ؑ کی ذات سے تھا۔ جیسا ہوشیار مخالف عموماً جب اصل بات کے جواب پر قادر نہیں ہوتا تو مخاطب کی ذاتی کمزوریاں ڈھونڈا اور بیان کیا کرتا ہے تاکہ وہ کچھ شرمندہ ہوجائے اور لوگوں میں اس کی ہوا اکھڑ جائے، یہاں بھی فرعون نے دو باتیں کہیں۔ اول تو یہ کہ تم ہمارے پروردہ ہمارے گھر میں پل کر جوان ہوئے ہو۔ ہم نے تم پر احسانات کئے ہیں۔ تمہاری کیا مجال ہے کہ ہمارے سامنے بولو۔ دوسری بات یہ ہے کہ تم نے ایک قبطی شخص کو بلا وجہ قتل کر ڈالا ہے جو علاوہ ظلم کے حق ناشناسی اور ناشکری بھی ہے کہ جس قوم میں پلے اور جوان ہوئے اسی کے آدمی کو مار ڈالا۔ اس کے بالمقابل حضرت موسیٰ ؑ کا پیغمبرانہ جواب دیکھئے کہ اول تو جواب میں سوال کی ترتیب کو بدلا یعنی قبطی کے قتل کا قصہ جو فرعون نے بعد میں بیان کیا تھا اس کا جواب پہلے آیا اور خانہ پروردہ ہونے کے احسان کا ذکر جو پہلے کیا تھا اس کا جواب بعد میں۔ اس ترتیب بدلنے میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ واقعہ قبطی میں ایک اپنی کمزوری ضرور واقع ہوئی تھی آج کل کے مناظروں کے طرز پر تو ایسی چیز کے ذکر ہی کو رلا ملا دیا جاتا ہے اور دوسری باتوں کی طرف توجہ پھیرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کے رسول نے اسی کے جواب کو اولیت دی۔ اور جواب بھی فی الجملہ اعتراف کمزوری کے ساتھ دیا۔ اس کی قطعاً پروا نہ کی کہ مخالف لوگ کہیں گے کہ انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کر کے ہار مان لی۔
حضرت موسیٰ ؑ نے اس کے جواب میں اس کا تو اعتراف کرلیا کہ اس قتل میں مجھ سے غلطی اور خطا ہوگئی مگر ساتھ ہی اس حقیقت کو بھی واضح کردیا کہ یہ غلطی قصداً نہیں تھی ایک صحیح اقدام تھا جو اتفاقاً غلط انجام پر پہنچ گیا کہ مقصد تو قبطی کو اسرائیلی شخص پر ظلم سے روکنا تھا اسی قصد سے اس کو ایک ضرب لگائی تھی اتفاقاً وہ اسی سے مرگیا اس لئے یہ فعل خطا ہونے کے باوجود ہمارے اصل معاملہ یعنی نبوت کے دعوے اور اس کی حقانیت پر کوئی اثر نہیں ڈالتا۔ مجھے اس غلطی پر تنبہ ہوا اور قانونی گرفت کے خوف سے شہر سے نکل گیا۔ اللہ تعالیٰ نے پھر کرم فرمایا اور نبوت و رسالت سے سرفراز فرما دیا۔
غور کیجئے کہ اس وقت دشمن کے مقابلہ میں موسیٰ ؑ کا سیدھا صاف جواب یہ تھا کہ مقتول قبطی کو واجب القتل ثابت کرتے، اس پر ایسے الزامات لگاتے جس سے اس کا واجب القتل ہونا ثابت ہوتا۔ کوئی دوسرا آدمی تکذیب کرنے والا بھی وہاں موجود نہ تھا جس سے تردید کا اندیشہ ہوتا اور اس جگہ حضرت موسیٰ ؑ کے سوا کوئی دوسرا آدمی ہوتا تو اس کا جواب اس کے سوا کچھ نہ ہوتا مگر وہاں تو اللہ تعالیٰ کا ایک اولوالعزم رسول صدق مجسم تھا جو حق و صدق اور حقیت کے اظہار ہی کو اپنی فتح سمجھتا تھا۔ دشمن کے بھرے دربار میں اپنی خطا کا اعتراف بھی کرلیا اور اس سے جو نبوت و رسالت پر شبہ ہوسکتا تھا اس کا جواب بھی دیدیا۔ اس کے بعد پہلی بات یعنی خانہ پروردہ ہونے کے احسان جتلانے کے جواب کی طرف توجہ فرمائی تو اس کے اس ظاہری احسان کی اصل حقیقت کی طرف توجہ دلا دی کہ ذرا سوچو، میں کہاں اور دربار فرعون کہاں ؟ میری پرورش تمہارے گھر میں ہونے کے سبب پر غور کرو تو یہ حقیقت کھل جائے گی کہ تم جو پوری قوم بنی اسرائیل پر یہ خلاف انسانیت ظلم توڑ رہے تھے کہ ان کے بےگناہ معصوم لڑکوں کو قتل کردیتے تھے، بظاہر تو تمہارے اس ظلم و ستم سے بچنے کے لئے میری والدہ نے مجھے دریا میں ڈالا اور تم نے اتفاقی طور پر میرا تابوت دریا سے نکال کر گھر میں رکھ لیا اور حقیقۃً یہ اللہ تعالیٰ کا حکمیانہ انتظام اور تمہارے ظلم کی غیبی سزا تھی کہ جس بچے کے خطرہ سے بچنے کے لئے تم نے ہزاروں بچے قتل کر ڈالے تھے قدرت نے اس بچے کو تمہارے ہی ہاتھوں پلوایا۔ اب سوچو کہ یہ میری پرورش تمہارا کیا احسان تھا۔ اسی پیغمبرانہ طرز جواب کا یہ اثر تو طبعی اور عقلی طور پر حاضرین پر ہونا ہی تھا کہ یہ بزرگ کوئی بات بنانے والے نہیں، سچ کے سوا کچھ نہیں کہتے، اس کے بعد جب معجزات دیکھے تو اور زیادہ اس کی تصدیق ہوگئی اور گو اقرار نہیں کیا مگر مرعوب اتنا ہوگیا کہ یہ صرف دو آدمی جن کے آگے پیچھے کوئی تیسرا مددگار نہیں، دربار سارا اس کا، شہر اور ملک اس کا، مگر یہ خوف اس پر طاری ہے کہ یہ دو آدمی ہمیں اپنے اس ملک و مملکت سے نکال دیں گے۔
یہ ہوتا ہے خدا داد رعب اور صدق و حق اور سچائی کی ہیبت حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے مجادلات و مناظرات بھی صدق و سچائی اور مخاطب کی دینی خیر خواہی کے جذبات سے پر ہوتے ہیں۔ وہی دلوں میں گھر کرتے ہیں اور بڑے بڑے سرکشوں کو رام کرلیتے ہیں۔
Ayahs 26:20–22حضرت موسیٰ ؑ کے حق میں لفظ ضلال کا مفہوم
قَالَ فَعَلْتُهَآ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ فرعون کے اس سوال پر کہ تم نے اے موسیٰ ایک قبطی کو قتل کیا تھا، حضرت موسیٰ ؑ نے جواباً فرمایا کہ ہاں میں نے قتل ضرور کیا تھا لیکن وہ قتل ارادة اور قصد سے نہ تھا بلکہ اس قبطی کو اس کی خطا پر متنبہ کرنے کے لئے گھنسہ مارا جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔ خلاصہ یہ کہ نبوت کے منافی قتل عمد ہے اور یہ قتل بلا ارادہ ہوا تھا جو منافی نبوت نہیں۔ حاصل یہ ہوا کہ یہاں " ضلال " کا مطلب " بیخبر ی " ہے اور اس سے مراد قبطی کا بلا ارادہ قتل ہوجانا ہے۔ اس معنی کی تائید حضرت قتادہ اور ابن زید کی روایات سے بھی ہوتی ہے کہ دراصل عربی میں ضلال کے کئی معنی آتے ہیں اور ہر جگہ اس کا مطلب گمراہی نہیں ہوتا۔ یہاں بھی اس کا ترجمہ " گمراہ " کرنا درست نہیں۔
Ayahs 26:23–33خدائے ذوالجلال کی ذات و حقیقت کا علم انسان کے لئے ناممکن ہے
قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ، اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ خدائے ذوالجلال کی کنہ و حقیقت کا جاننا ممکن نہیں کیونکہ فرعون کا سوال اللہ تعالیٰ کی حقیت، ماہیت کے متعلق تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بجائے ماہیت باری تعالیٰ بتلانے کے اللہ تعالیٰ کے اوصاف بیان فرمائے جس سے اشارہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کی کنہ اور حقیقت کا ادراک ناممکن ہے اور ایسا سوال ہی کرنا بیجا ہے۔ (کذا فی الروح)