26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 26:149–159

وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَۚ Open ayah 26:149 in the Quran reader

اور تراشتے ہو پہاڑوں کے گھر تکلف کے

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:150 in the Quran reader

سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

وَ لَا تُطِیْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 26:151 in the Quran reader

اور نہ مانو حکم بےباک لوگوں کا

الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 26:152 in the Quran reader

جو خرابی کرتے ہیں ملک میں اور اصلاح نہیں کرتے

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۚ Open ayah 26:153 in the Quran reader

بولے تجھ پر تو کسی نے جادو کیا ہے

مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۖۚ فَاْتِ بِاٰیَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:154 in the Quran reader

تو بھی ایک آدمی ہے جیسے ہم سو لے آ کچھ نشانی اگر تو سچا ہے

قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ Open ayah 26:155 in the Quran reader

کہا یہ اونٹنی ہے اس کے لئے پانی پینے کی ایک باری اور تمہارے لئے باری ایک دن کی مقرر

وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:156 in the Quran reader

اور مت چھیڑیو اس کو بری طرح سے پھر پکڑے تم کو آفت ایک بڑے دن کی

فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ Open ayah 26:157 in the Quran reader

پھر کاٹ ڈالا اس اونٹنی کو پھر کل کو رہ گئے پچھتاتے

فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:158 in the Quran reader

پھر آپکڑا ان کو عذاب نے البتہ اس بات میں نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں ماننے والے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:159 in the Quran reader

اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم کرنے والا۔

معارف و مسائل وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ ، حضرت ابن عباس سے فارھین کی تفسیر بطرین منقول ہے یعنی اترانے اور تکبر کرنے والے، لیکن ابوصالح نے فرمایا اور یہی امام راغب نے تفسیر کی ہے کہ فارھین کے معنی حاذقین ہے یعنی ماہرین کے ہیں، مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ نعمت فرمائی کہ تم کو ایسی صنعت کاری سکھلا دی کہ پہاڑوں کو مکانات بنانا تمہارے لئے آسان کردیا۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد کرو اور زمین پر فساد نہ کرو۔ مفید پیشے خدائی انعامات ہیں بشرطیکہ ان کو برے کاموں میں استمال نہ کریں اس آیت سے ثابت ہوا کہ عمدہ پیشے اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں اور ان سے نفع اٹھانا جائز ہے لیکن اگر ان سے کوئی گناہ یا حرام فعل یا بلا ضرورت ان میں انہماک لازم آتا ہو تو پھر وہ پیشہ اختیار کرنا ناجائز ہے جیسے کہ ابھی اس سے پہلی آیتوں میں بلا ضرورت عمارت کی بلندی کی مذمت گزری ہے۔
Ayahs 26:160–165

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:160 in the Quran reader

جھٹلایا لوط کی قوم نے پیغام لانے والوں کو

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:161 in the Quran reader

جب کہا ان کو ان کے بھائی لوط نے کیا تم ڈرتے نہیں

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:162 in the Quran reader

میں تمہارے لئے پیغام لانے والا ہوں معتبر

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:163 in the Quran reader

سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:164 in the Quran reader

اور مانگتا نہیں میں تم سے اس کا کچھ بدلہ میرا بدلہ ہے اسی پروردگار عالم پر

اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:165 in the Quran reader

کہا تم دوڑتے ہو جہان کے مردوں پر

خلاصہ تفسیر قوط لوط نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کے بھائی لوط ؑ نے فرمایا کہ کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں، سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور میں تم سے اس پر کوئی صلہ نہیں چاہتا، بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے، کیا تمام دنیا جہان والوں میں سے تم (یہ حرکت کرتے ہو کہ) مردوں سے بدفعلی کرتے ہو اور تمہارے رب نے جو تمہارے لئے بیبیاں پیدا کی ہیں ان کو نظر انداز کئے رہتے ہو (یعنی اور کوئی آدمی تمہارے سوا یہ حرکت نہیں کرتا اور یہ نہیں کہ اس کے قبیح ہونے میں کچھ شبہ ہے) بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) تم حد (انسانیت) سے گزر جانے والے لوگ ہو، وہ لوگ کہنے لگے کہ اے لوط، اگر تم (ہمارے کہنے سننے سے) باز نہیں آؤ گے تو ضرور (بستی سے) نکال دیئے جاؤ گے، لوط ؑ نے فرمایا کہ (میں اس دھمکی پر اپنے کہنے سے نہ رکوں گا کیونکہ) میں تمہارے اس کام سے سخت نفرت رکھتا ہوں (تو کہنا کیسے چھوڑ دوں گا، جب کسی طرح ان لوگوں نے نہ مانا اور عذاب آتا ہوا معلوم ہوا تو) لوط ؑ نے دعا کی کہ اے میرے رب مجھ کو اور میرے (خاص) متعلقین کو ان کے اس کام (کے وبال) سے (جو ان پر آنے والا ہے) نجات دے، سو ہم نے ان کو اور ان کے متعلقین کو سب کو نجات دی، سوائے ایک بڑھیا کے (مراد اس سے زوجہ ہے لوط ؑ کی) کہ وہ (عذاب کے اندر) رہ جانے والوں میں رہ گئی، پھر ہم نے اور سب کو (جو لوط اور ان کے اہل کے سوا تھے) ہلاک کردیا اور ہم نے ان پر ایک خاص قسم کا (یعنی پتھروں کا) مینہ برسایا، سو کیا برا مینہ تھا جو ان لوگوں پر برسا جن کو (عذاب الٰہی سے) ڈرایا گیا تھا بیشک اس (واقعہ) میں (بھی) عبرت ہے اور (باوجو اس کے) ان (کفار مکہ) میں اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے، اور بیشک آپ کا رب بڑی قدرت والا بڑی رحمت والا ہے کہ (عذاب دے سکتا تھا مگر ابھی نہیں دیا۔)
Ayahs 26:166–170

وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ Open ayah 26:166 in the Quran reader

اور چھوڑتے ہو جو تمہارے واسطے بنادی ہیں تمہارے رب نے تمہاری جو روئیں بلکہ تم لوگ ہو حد سے بڑھنے والے

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ Open ayah 26:167 in the Quran reader

بولے اگر نہ چھوڑے گا تو اے لوط تو تو نکال دیا جائے گا

قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ Open ayah 26:168 in the Quran reader

کہا میں تمہارے کام سے البتہ بےزار ہوں

رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:169 in the Quran reader

اے رب خلاص کر مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کاموں سے جو یہ کرتے ہیں

فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 26:170 in the Quran reader

پھر بچا دیا ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو سب کو

معارف و مسائل غیر فطری فعل اپنی بیوی سے بھی حرام ہے وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ ، لفظ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ میں صرف من اصطلاحی الفاظ میں بیانیہ بھی ہوسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہوگا کہ تمہاری خواہش نفسانی کے لئے جو اللہ نے بیویاں پیدا فرمائی ہیں تم ان کو چھوڑ کر اپنے ہم جنس مردوں کو اپنی شہوت نفس کا نشانہ بناتے ہو جو خباثت نفس کی دلیل ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حرف من کو تبعیض کے لئے قرار دیں تو اشارہ اس طرف ہوگا کہ تمہاری بیبیوں کا جو مقام تمہارے لئے بنایا گیا اور جو امر فطری ہے اس کو چھوڑ کر بیویوں سے خلاف فطرت عمل کرتے ہو جو کہ قطعاً حرام ہے۔ غرض اس دوسرے معنے کے لحاظ سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوگیا کہ اپنی زوجہ سے خلاف فطرت عمل حرام ہے۔ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص پر لعنت فرمائی ہے۔ نعوذ اللہ منہ (کذا فی الروح)
Ayahs 26:171–172

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ Open ayah 26:171 in the Quran reader

مگر ایک بڑھیا رہ گئی رہنے والوں میں

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:172 in the Quran reader

پھر اٹھا مارا ہم نے ان دوسروں کو

اِلَّا عَجُوْزًا فِي الْغٰبِرِيْنَ ، عجوز سے مراد حضرت لوط ؑ کی بیوی ہے جو کہ قوم لوط کے اس فعل سے راضی تھی اور کافرہ تھی۔ لوط ؑ کی یہ کافر بیوی اگر واقع میں بڑھیا تھی تو اس کے لئے لفظ عجوز استعمال کرنا ظاہر ہی ہے اور اگر یہ عمر کے لحاظ سے بڑھیا نہ تھی تو اس کو عجوز کے لفظ سے شاید اس لئے تعبیر کیا گیا کہ پیغمبر کی بیوی امت کے لئے ماں کی جگہ ہوتی ہے جو عورت کثیر الاولاد ہو اس کو بڑھیا کہہ دینا کچھ مستبعد نہیں۔
Ayahs 26:173–175

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 26:173 in the Quran reader

اور برسایا ان پر ایک برساؤ سو کیا برا برساؤ تھا ان ڈرائے ہوؤں کا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:174 in the Quran reader

البتہ اس بات میں نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں تھے ماننے والے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:175 in the Quran reader

اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا۔

وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا ۚ فَسَاۗءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِيْنَ ، اس آیت سے ثابت ہوا کہ لوطی پر دیوار گرانے یا بلند مقام سے نیچے پھینکنے کی تعزیر جائز ہے جیسے حنفیہ کا مسلک ہے کیونکہ قوم لوط اسی طرح ہلاک کی گئی تھی کہ ان کی بستیوں کو اوپر اٹھا کر الٹا زمین پر پھینک دیا گیا تھا۔ (شامی کتاب الحدود)
Ayahs 26:176–181

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:176 in the Quran reader

جھٹلایا بن کے رہنے والوں نے پیغام لانے والوں کو

اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:177 in the Quran reader

جب کہا ان کو شعیب نے کیا تم ڈرتے نہیں

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:178 in the Quran reader

میں تم کو پیغام پہنچانے والا ہوں معتبر

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:179 in the Quran reader

سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:180 in the Quran reader

اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کچھ بدلہ میرا بدلہ ہے اسی پروردگار عالم پر

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ Open ayah 26:181 in the Quran reader

پورا بھر کردو ماپ اور مت ہو نقصان دینے والے

خلاصہ تفسیر اصحاب الائیکہ نے (بھی جن کا ذکر سورة حجر کے اخیر میں گزر چکا ہے) پیغمبروں کو جھٹلایا، جبکہ ان سے شعیب ؑ نے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو اور میں تم سے اس پر کوئی صلہ نہیں چاہتا، بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے تم لوگ پورا ناپا کرو اور (صاحب حق کا) نقصان مت کیا کرو اور (اسی طرح تولنے کی چیزوں میں) سیدھی ترازو سے تولا کرو (یعنی ڈنڈی نہ مارا کرو نہ باٹوں میں فرق کیا کرو) اور لوگوں کا ان کی چیزوں میں نقصان مت کیا کرو اور سر زمین میں فساد مت مچایا کرو اور اس (خدائے قادر) سے ڈرو جس نے تم کو اور تمام اگلی مخلوقات کو پیدا کیا وہ لوگ کہنے لگے کہ بس تم پر تو کسی نے بڑا بھاری جادو کردیا ہے (جس سے عقل مختل ہوگئی اور نبوت کا دعویٰ کرنے لگے) اور تم تو محض ہماری طرح (کے) ایک (معمولی) آدمی ہو اور ہم تو تم کو جھوٹے لوگوں میں سے خیال کرتے ہیں، سو اگر تم سچوں میں سے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو (تاکہ ہم کو معلوم ہوجاوے کہ واقعی تم نبی تھے تمہاری تکذیب سے ہم کو یہ سزا ہوئی) شعیب ؑ بولے کہ (میں عذاب کا لانے والا یا اس کی کیفیت کی تعیین کرنے والا کون ہوں) تمہارے اعمال کو میرا رب (ہی) خوب جانتا ہے (اور اس عمل کا جو مقتضاء ہے کہ کیا عذاب ہو اور کب ہو اس کو بھی وہی جانتا ہے اس کو اختیار ہے) سو وہ لوگ (برابر) ان کو جھٹلایا کئے پھر ان کو سائبان کے واقعہ عذاب نے آپکڑا بیشک وہ بڑے سخت دن کا عذاب تھا (اور) اس (واقعہ) میں (بھی) بڑی عبرت ہے اور (باوجود اس کے) ان (کفار مکہ) میں اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے اور بیشک آپ کا رب بڑی قدرت والا بڑی رحمت والا ہے (کہ عذاب نازل کرسکتا ہے مگر مہلت دے رکھی ہے۔)
Ayah 26:182

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ Open ayah 26:182 in the Quran reader

اور تولو سیدھی ترازو سے

معارف و مسائل وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ ، قسطاس کو بعض حضرات نے رومی لفظ قرار دیا جس کے معنے عدل و انصاف کے ہیں، بعض نے عربی لفظ قسط سے ماخوذ قرار دیا ہے قسط کے معنے بھی انصاف کے ہیں مراد یہ ہے کہ ترازو اور اسی طرح دوسرے ناپنے تولنے کے وسائل کو مستقیم اور سیدھے طور پر استعمال کرو جس میں کمی کا خطرہ نہ رہے۔
Ayahs 26:183–188

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ Open ayah 26:183 in the Quran reader

اور مت گھٹا دو لوگوں کو ان کی چیزیں اور مت دوڑو ملک میں خرابی ڈالتے ہوئے

وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 26:184 in the Quran reader

اور ڈرو اس سے جس نے بنایا تم کو اور اگلی خلقت کو

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ Open ayah 26:185 in the Quran reader

بولے تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ Open ayah 26:186 in the Quran reader

اور تو بھی ایک آدمی ہے جیسے ہم اور ہمارے خیال میں تو تو جھوٹا ہے

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ Open ayah 26:187 in the Quran reader

سو گرا دے ہم پر کوئی ٹکڑا آسمان کا اگر تو سچا ہے

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:188 in the Quran reader

کہا میرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَهُمْ یعنی نہ کمی کرو لوگوں کی اپنی چیزوں میں۔ مراد یہ ہے کہ معاہدہ کے مطابق جتنا کسی کا حق ہے اس سے کمی کرنا حرام ہے خواہ وہ ناپنے تولنے کی چیز ہو یا کوئی دوسری۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی ملازم مزدور اگر اپنے مقررہ وقت میں چوری کرتا ہے وقت کم لگاتا ہے وہ بھی اس وعید میں داخل ہے۔ امام مالک نے مؤ طا میں روایت نقل فرمائی ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے ایک شخص کو دیکھا کہ نماز عصر میں شریک نہیں ہوا۔ وجہ پوچھی تو اس نے کچھ عذر کیا تو حضرت فاروق اعظم نے فرمایا طففت یعنی تو نے تولنے میں کمی کردی، چونکہ نماز کوئی تولنے کی چیز نہیں اس لئے یہ حدیث نقل فرما کر امام مالک فرماتے ہیں کہ وفاء و تطفیف یعنی حق کے مطابق کرنا یا کم کرنا ہر چیز میں ہے یعنی صرف ناپ تول ہی کے ساتھ یہ حکم مخصوص نہیں بلکہ کسی کے حق میں کمی کرنا خواہ کسی صورت سے ہو وہ تطفیف میں داخل ہے جس کا حرام ہونا وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ میں بیان فرمایا گیا ہے۔