26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 26:109–110

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 26:109 in the Quran reader

اور مانگتا نہیں میں تم سے اس پر کچھ بدلہ میرا بدلہ ہے اسی پروردگار عالم پر

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

معارف و مسائل طاعات پر اجرت لینے کا حکم وَمَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ ، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم اور تبلیغ پر اجرت لینا درست نہیں ہے اس لئے سلف صالحین نے اجرت لینے کو حرام کہا ہے لیکن متاخرین نے اس کو بحالت مجبوری جائز قرار دیا ہے۔ اس کی پوری تفصیل آیت وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا کے تحت میں بیان ہوچکی ہے۔ فائدہ اس جگہ فاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ کی آیت دو دفعہ تاکید کے لئے اور یہ بتلانے کے لئے لائی گئی ہے کہ اطاعت رسول اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کے لئے صرف رسول کی امانت و دیانت یا صرف تبلیغ وتعلیم پر اجرت نہ طلب کرنا ہی کافی تھا لیکن جس رسول میں یہ سب صفتیں پائی جائیں اس کی اطاعت اور اس کے خدا سے ڈرنا تو اور لازمی ہوجاتا ہے۔
Ayahs 26:111–122

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

بولے کیا ہم تجھ کو مان لیں اور تیرے ساتھ ہو رہے ہیں ؟

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

کہا مجھ کو کیا جاننا ہے اس کا جو کام وہ کر رہے ہیں

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

ان کا حساب پوچھنا میرے رب کا ہی کام ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

اور میں ہانکنے والا نہیں ایمان لانے والوں کو

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں تو بس یہی ڈر سنا دینے والا ہوں

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

کھول کر بولے اگر تو نہ چھوڑے گا اے نوح تو ضرور سنگسار کردیا جائے گا

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

کہا اے رب میری قوم نے تو مجھ کو جھٹلایا

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:118 in the Quran reader

سو فیصلہ کر دے میرے ان کے بیچ میں کسی طرح کا فیصلہ اور بچا لے مجھ کو اور جو میرے ساتھ ہیں ایمان والے

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ Open ayah 26:119 in the Quran reader

پھر بچا دیا ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے اس لدی ہوئی کشتی میں

ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ Open ayah 26:120 in the Quran reader

پھر ڈبا دیا ہم نے اس کے پیچھے ان باقی رہے ہوؤں کو

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:121 in the Quran reader

البتہ اس بات میں نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں ہیں ماننے والے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:122 in the Quran reader

اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا۔

شرافت و رذالت اعمال و اخلاق سے ہے نہ کہ خاندان اور جاہ و چشم سے قَالُـوْٓا اَنُؤ ْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ ، قَالَ وَمَا عِلْمِىْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، اس آیت میں اول مشرکین کا یہ قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت نوح ؑ پر ایمان لانے سے انکار کی وجہ یہ بیان کی کہ آپ کے ماننے والے سارے رذیل لوگ ہیں ہم عزت دار شریف ان میں کیسے مل جائیں ؟ نوح ؑ نے جواب میں فرمایا کہ مجھے ان کے اعمال کا حال معلوم نہیں۔ اس میں اشارہ فرما دیا کہ تم لوگ جو خاندانی شرافت یا مال و دولت اور عزت و جاہ کو شرافت کی بنیاد سمجھتے ہو یہ غلط ہے بلکہ مدار عزت و ذلت یا شرافت و رذالت کا دراصل اعمال و اخلاق پر ہے۔ تم نے جن پر یہ حکم لگا دیا کہ یہ سب رذیل ہیں، یہ تمہاری جہالت ہے چونکہ ہم ہر شخص کے اعمال و اخلاق کی حقیقت سے واقف نہیں، اس لئے ہم کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے کہ حقیقۃً کون رذیل ہے کون شریف۔ (قرطبی)
Ayahs 26:123–127

كَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:123 in the Quran reader

جھٹلایا عاد نے پیغام لانے والوں کو

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:124 in the Quran reader

جب کہا ان کو ان کے بھائی ہود نے کیا تم کو ڈر نہیں

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:125 in the Quran reader

میں تمہارے پاس پیغام لانے والا معتبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:126 in the Quran reader

سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:127 in the Quran reader

اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کچھ بدلہ میرا بدلہ ہے اسی جہان کے مالک پر

خلاصہ تفسیر قوم عاد نے پیغمبروں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کی (برادری کے) بھائی ہود ؑ نے کہا کہ کیا تم (خدا سے) ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں، سو تم اللہ سے ڈرو، اور میری اطاعت کرو، اور میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی صلہ نہیں مانگتا، بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے، کیا تم (علاوہ شرک کے تکبر و تفاخر میں بھی اس درجہ مصروف ہو کہ) ہر اونچے مقام پر ایک یادگار (کے طور پر عمارت) بناتے ہو (تاکہ خوب اونچی نظر آوے) جس کو محض فضول (بلاضرورت) بناتے ہو اور (اس کے علاوہ جو رہنے کے مکان ہیں جن کی ایک درجہ ضرورت بھی ہے ان میں بھی یہ غلو ہے) کہ بڑے بڑے محل بناتے ہو (حالانکہ اس سے کم میں آرام مل سکتا ہے) جیسے دنیا میں تم کو ہمیشہ رہنا ہے (یعنی توسیع مکانات اور ایسے بلند محل اور ایسی مضبوطی اور ایسی یادگار تعمیرات اس وقت مناسب تھیں جبکہ دنیا میں ہمیشہ رہنا ہوتا، تو یہ خیال ہوتا کہ فراخ مکان بناؤ تاکہ آئندہ نسل میں تنگی نہ ہو کیونکہ ہم بھی رہیں گے اور وہ بھی رہیں گے اور بلند بھی بناؤ تاکہ نیچے جگہ نہ رہے تو ادھر رہنے لگیں گے اور مضبوط بناؤ تاکہ ہماری عمر طویل کے لئے کافی ہو اور یادگاریں بناؤ تاکہ ہمارے زندہ رہنے سے ہمارا ذکر زندہ رہے اور اب تو سب فضول ہے۔ بڑی بڑی یادگاریں بنی ہیں اور بنانے والے کا نام تک نہیں۔ موت نے سب کا نام مٹا دیا کسی کا جلدی اور کسی کا دیر میں) اور (اس تکبر کے سبب طبیعت میں سختی اور بےرحمی اس درجہ رکھتے ہو کہ) جب کسی پر داروگیر کرنے لگتے ہو تو بالکل جابر (اور ظالم) بن کر داروگیر کرتے ہو (ان برے اخلاق کا اس لئے بیان کیا گیا کہ یہ برے اخلاق اکثر ایمان اور اطاعت کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں) سو (چونکہ شرک اور گزشتہ برے اخلاق اللہ تعالیٰ کی ناخوشی اور عذاب کا سبب ہیں اس لئے) تم (کو چاہئے کہ) اللہ سے ڈرو اور (چونکہ میں رسول ہوں اس لئے) میری اطاعت کرو اور اس (اللہ) سے ڈرو (یعنی جس سے ڈرنے کو میں کہتا ہوں وہ ایسا ہے) جس نے تمہاری ان چیزوں سے امداد کی جن کو تم جانتے ہو (یعنی) چوپائے اور بیٹوں اور باغوں اور چشموں سے تمہاری امداد کی (تو منعم ہونے کا مقتضا یہ ہے کہ اس کے احکام کی بالکل مخالفت نہ کی جاوے) مجھ کو تمہارے حق میں (اگر تم ان حرکات سے باز نہ آئے) ایک بڑے سخت دن کے عذاب کا اندیشہ ہے (یہ ترہیب ہے اور اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ الخ میں ترغیب تھی) وہ لوگ بولے کہ ہمارے نزدیک تو دونوں باتیں برابر ہیں خواہ تم نصیحت کرو اور خواہ ناصح نہ بنو (یعنی ہم دونوں حالتوں میں اپنے کردار سے باز نہ آویں گے اور تم جو کچھ کہہ رہے ہو) یہ تو بس اگلے لوگوں کی ایک (معمولی) عادت (ہے اور رسم) ہے (کہ ہر زمانہ میں لوگ مدعی نبوت ہو کر لوگوں کو یوں ہی کہتے سنتے رہے) اور (تم جو ہم کو عذاب سے ڈراتے ہو تو) ہم کو ہرگز عذاب نہ ہوگا غرض ان لوگوں نے ہود ؑ کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو (سخت آندھی کے عذاب سے) ہلاک کردیا، بیشک اس (واقعہ) میں (بھی) بڑی عبرت ہے (کہ احکام کی مخالفت کا کیا انجام ہوا) اور (باوجود اس کے) ان (کفار مکہ) میں اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے اور بیشک آپ کا رب زبردست (اور مہربان ہے (کہ عذاب دینے پر قادر بھی ہے اور رحمت سے مہلت بھی دے رکھی ہے۔)
Ayahs 26:128–140

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ Open ayah 26:128 in the Quran reader

کیا بناتے ہو ہر اونچی زمین پر ایک نشان جھیلنے کو

وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ Open ayah 26:129 in the Quran reader

اور بناتے ہو کاری گریاں شاید تم ہمیشہ رہو گے

وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ Open ayah 26:130 in the Quran reader

اور جب ہاتھ ڈالتے ہو تو پنجہ مارتے ہو ظلم سے

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:131 in the Quran reader

سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ Open ayah 26:132 in the Quran reader

اور ڈرو اس سے جس نے تم کو پہنچائیں وہ چیزیں جو تم جانتے ہو

اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ Open ayah 26:133 in the Quran reader

پہنچائے تم کو چوپائے اور بیٹے

وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ Open ayah 26:134 in the Quran reader

اور باغ اور چشمے

اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ Open ayah 26:135 in the Quran reader

میں ڈرتا ہوں تم پر ایک بڑے دن کی آفت سے

قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ Open ayah 26:136 in the Quran reader

بولے ہم کو برابر ہے تو نصیحت کرے یا نہ بنے تو نصیحت کرنے والا

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 26:137 in the Quran reader

اور کچھ نہیں یہ باتیں عادت ہے اگلے لوگوں کی

وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:138 in the Quran reader

اور ہم پر آفت نہیں آنے والی

فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:139 in the Quran reader

پھر اس کو جھٹلانے لگے تو ہم نے ان کو غارت کردیا، اس بات میں البتہ نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں ماننے والے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:140 in the Quran reader

اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا۔

معارف و مسائل چند مشکل الفاظ کی تشریح اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ ، وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ ، (الریع) ابن جریر نے حضرت مجاہد سے نقل فرمایا ہے کہ ریع دو پہاڑوں کے درمیانی راستہ کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے اور جمہور سے منقول ہے کہ ریع بلند جگہ کو کہتے ہیں اور اسی سے ریع النبات نکلا ہے یعنی بڑھنے اور چڑھنے والی نباتات (ایة) اس کے اصل معنی علامت کے ہیں اس جگہ بلند محل مراد ہے (تَعْبَثُوْنَ) یہ عبث سے ہے اور عبث اس کو کہتے ہیں جس میں نہ حقیقة کوئی فائدہ ہو اور نہ حکماً اس جگہ معنی یہ ہوں گے کہ وہ بےفائدہ بلند بلند محلات بناتے تھے جن کی ان کو کوئی ضرورت نہیں تھی صرف فخریہ بناتے تھے (مَصَانِعَ) مصنع کی جمع ہے۔ حضرت قتادہ نے فرمایا کہ مصانع سے پانی کے حوض مراد ہیں لیکن حضرت مجاہد نے فرمایا کہ اس سے مضبوط محل مراد ہیں۔ (لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ) امام بخاری ؒ نے صحیح بخاری میں بیان فرمایا کہ اس آیت میں لَعَلَّ تشبیہ کے لئے ہے اور حضرت ابن عباس نے ترجمہ یہ فرمایا کَاَنَّکُم تَخْلُدُوْنَ یعنی گویا تم ہمیشہ رہو گے (کما فی الروح) بلاضرورت عمارت بنانا مذموم ہے اس آیت سے ثابت ہوا کہ بغیر ضرورت کے مکان بنانا اور تعمیرات کرنا شرعاً برا ہے اور یہی معنی ہیں اس حدیث کے جو امام ترمذی نے حضرت انس سے روایت کی ہے کہ النفقة کلھا فی سبیل اللہ الا البناء فلا خیر فیہ، یعنی وہ عمارت جو ضرورت سے زائد بنائی گئی ہو اس میں کوئی بہتری اور بھلائی نہیں اور اس معنی کی تصدیق حضرت انس کی دوسری روایت سے بھی ہوتی ہے کہ ان کل بناء وبال علی صاحبہ الا مالا، الا مالا یعنی الا مالا بدمنہ (ابو داؤد) یعنی ہر تعمیر صاحب تعمیر کے لئے مصیبت ہے مگر وہ عمارت جو ضروری ہو وہ وبال نہیں ہے روح المعانی میں فرمایا کہ بغیر غرض صحیح کے بلند عمارت بنانا شریعت محمدیہ میں بھی مذموم اور برا ہے۔
Ayahs 26:141–148

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:141 in the Quran reader

جھٹلایا ثمود نے پیغام لانے والوں کو

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:142 in the Quran reader

جب کہا ان کو ان کے بھائی صالح نے کیا تم ڈرتے نہیں

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:143 in the Quran reader

میں تمہارے پاس پیغام لانے والا ہوں معتبر

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:144 in the Quran reader

سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:145 in the Quran reader

اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کچھ بدلہ میرا بدلہ ہے اسی جہان کے پالنے والے پر

اَتُتْرَكُوْنَ فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 26:146 in the Quran reader

کیا چھوڑے رکھیں گے تم کو یہاں کی چیزوں میں بےکھٹکے

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:147 in the Quran reader

باغوں میں اور چشموں میں

وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌۚ Open ayah 26:148 in the Quran reader

اور کھیتوں میں اور کھجوروں میں جن کا گابھا ملائم ہے

خلاصہ تفسیر قوم ثمود نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کے بھائی صالح ؑ نے فرمایا کیا تم (اللہ سے) نہیں ڈرتے، میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں، سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور میں تم سے اس پر کچھ صلہ نہیں چاہتا، بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے (اور تم جو خوشحالی کی وجہ سے اس درجہ اللہ سے غافل ہو تو) کیا تم کو ان ہی چیزوں میں بےفکری سے رہنے دیا جاوے گا جو یہاں (دنیا میں) موجود ہیں، یعنی باغوں میں اور چشموں میں اور ان کھجوروں میں جن کے گپھے خوب گوندے ہوئے ہیں (یعنی ان کھجوروں میں خوب کثرت سے پھل آتا ہے) اور کیا (اسی غفلت کی وجہ سے) تم پہاڑوں کو تراش تراش کر اتراتے (اور فخر کرتے) ہوئے مکانات بناتے ہو سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو اور ان حدود (بندگی) سے نکل جانے والوں کا کہنا مت مانو جو سر زمین میں فساد کیا کرتے ہیں اور (کبھی) اصلاح (کی بات) نہیں کرتے (مراد رؤ سا کفار ہیں جو گمراہی پر لوگوں کو آمادہ کرتے تھے اور فساد اور عدم اصلاح سے یہی مراد ہے) ان لوگوں نے کہا کہ تم پر تو کسی نے بڑا بھاری جادو کردیا ہے (جس سے عقل میں خرابی آگئی ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرتے ہو حالانکہ) تم بس ہماری طرح کے ایک (معمولی) آدمی ہو۔ (اور آدمی نبی ہوتا نہیں) سو کوئی معجزہ پیش کرو اگر تم (دعویٰ نبوت میں) سچے ہو، صالح ؑ نے فرمایا کہ یہ ایک اونٹنی ہے (جو بوجہ خلاف عادت پیدا ہونے کے معجزہ ہے جیسا کہ پارہ ہشتم کے ختم کے قریب گزرا اور علاوہ اس کے یہ میری رسالت پر دلیل ہے خود اس کے بھی کچھ حقوق ہیں چناچہ ان میں سے ایک یہ ہے کہ) پانی پینے کے لئے ایک باری اس کی ہے اور ایک مقرر دن میں ایک باری تمہاری (یعنی تمہارے مواشی کی) اور (ایک یہ ہے کہ) اس کو برائی (اور تکلیف دہی) کے ساتھ ہاتھ بھی مت لگانا کبھی تم کو ایک بھاری دن کا عذاب آپکڑے سو انہوں نے (نہ رسالت کی تصدیق کی نہ اونٹنی کے حقوق ادا کئے بلکہ) اس اونٹنی کو مار ڈالا، پھر (جب عذاب کے نشان ظاہر ہوئے تو اپنی حرکت پر) پشیمان ہوئے (مگر اول تو عذاب دیکھ لینے کے وقت پشیمانی بیکار، دوسرے خالی طبعی پشیمانی سے کیا ہوتا ہے جب تک اختیاری تدارک یعنی توبہ و ایمان نہ ہو) پھر (آخر) عذاب نے ان کو آلیا، بیشک اس (واقعہ) میں بڑی عبرت ہے اور (باوجود اس کے) ان (کفار مکہ) میں اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے اور بیشک آپ کا رب بڑا زبردست بہت مہربان ہے (کہ باوجود قدرت کے مہلت دیتا ہے۔)