Ayahs 26:189–191خدا کا مجرم اپنے پاؤں چل کر آتا ہے اسے وارنٹ کی ضرورت نہیں
فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ ، عذاب یوم الظلہ، جس کا ذکر اس آیت میں آیا ہے اس کا واقعہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے ان کی قوم پر سخت گرمی مسلط فرمائی کہ نہ مکان کے اندر چین آتا نہ باہر، پھر ان کے قریب جنگل میں ایک گہرا بادل بھیج دیا جس کے نیچے ٹھنڈی ہوا تھی، ساری قوم گرمی سے پریشان تھی سب دوڑ دوڑ کر اس بال کے نیچے جمع ہوگئے جب ساری قوم بادل کے نیچے آگئی تو اس بادل نے ان پر پانی کے بجائے آگ برسا دی جس سے سب بھسم ہو کر رہ گئے۔ (کذا روی عن ابن عباس۔ روح)
Ayah 26:192خلاصہ تفسیر
اور یہ قرآن رب العالمین کا بھیجا ہوا ہے اس کو امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے آپ کے قلب پر صاف عربی زبان میں تاکہ آپ (بھی) منجملہ ڈرانے والوں کے ہوجاویں (یعنی جس طرح اور پیغمبروں نے اپنی امت کو احکام الہیہ پہنچائے آپ بھی پہنچائیں) اور اس (قرآن) کا ذکر پہلی امتوں کی (آسمانی) کتابوں میں (بھی) ہے (کہ ایک ایسی شان کا پیغمبر ہوگا اور اس پر ایسا کلام نازل ہوگا۔ چناچہ تفسیر حقانی کے اس مقام کے حواشی میں چند بشارتیں کتب سابقہ تورات و انجیل کی نقل کی ہیں۔ آگے اس مضمون وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ کی توضیح ہے یعنی) کیا ان لوگوں کے لئے (اس پر) یہ بات دلیل نہیں ہے کہ اس (پیشین گوئی) کو علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں (چنانچہ ان میں جو لوگ اسلام لے آئے ہیں وہ تو علی الاعلان اس کا اعتراف کرتے ہیں اور جو اسلام نہیں لائے وہ بھی خاص خاص لوگوں کے سامنے اس کا اقرار کرتے ہیں جیسے کہ پارہ اول کے ربع پر آیت اَتَاْمُرُوْنَ النَّاس بالْبِرِّ کی تفسیر میں اس کا بیان آ چکا ہے اور ان اقرار کرنے والوں کی تعداد اور کثرت اس وقت اگر خبر واحد تک بھی مان لی جاوے تاہم قرائن کی وجہ سے معنوی تواتر حاصل تھا اور یہ دلیل قائم کرنا ان پڑھ غریبوں کے لئے ہے ورنہ لکھے پڑھے لوگ خود اصل کتاب سے دیکھ سکتے تھے اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کتب سابقہ میں تحریف نہیں ہوئی، کیونکہ باوجود تحریف کے ایسے مضامین کا باقی رہ جانا اور زیادہ حجت ہے اور یہ احتمال کہ یہ مضامین ہی تحریف کا نتیجہ ہوں اس لئے غلط ہے کہ اپنے نقصان کے لئے کوئی تحریف نہیں کیا کرتا۔ یہ مضامین تو تحریف کرنے والوں کے لئے نقصان دہ ہیں جیسا کہ ظاہر ہے۔ یہاں تک تو دعویٰ وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ کی دو نقلی دلیلیں بیان فرمائی ہیں یعنی پہلی کتابوں میں ذکر اور بنی اسرائیل کا جاننا کہ ان میں بھی ثانی اول کی دلیل ہے اور آگے انکار کرنے والوں کے عناد کے بیان کے ضمن میں اسی دعویٰ کی عقلی دلیل کی طرف اشارہ ہے یعنی اعجاز قرآن، مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ایسے معاند ہیں کہ) اگر (بالفرض) ہم اس (قرآن) کو کسی عجمی (غیر عربی) پر نازل کردیتے پھر وہ (عجمی) ان کے سامنے اس کو پڑھ بھی دیتا (اس کا معجزہ ہونا اور زیادہ ظاہر ہوتا ہے کیونکہ جس پر نازل ہوا اس کو عرب زبان پر بالکل قدرت نہ ہوتی، لیکن) یہ لوگ (بوجہ انتہائی ضد کے) تب بھی اس کو نہ مانتے (آگے حضور کی تسلی کے واسطے ان کے ایمان لانے سے ناامید دلاتے ہیں یعنی) ہم نے اسی طرح (شدت و اصرار کے ساتھ) اس ایمان نہ لانے کو ان نافرمانوں کے دلوں میں ڈال رکھا ہے (یعنی کفر میں، اور اس پر مصر ہیں اور اس شدت و اصرار کی وجہ سے) یہ لوگ اس (قرآن) پر ایمان نہ لاویں گے جب تک کہ سخت عذاب کو (مرنے کے وقت یا برزخ میں یا آخرت میں) نہ دیکھ لیں گے جو اچانک ان کے سامنے آکھڑا ہوگا اور ان کو (پہلے سے) خبر بھی نہ ہوگی پھر (اس وقت جان کو بنے گی تو) کہیں گے کہ کیا (کسی طور پر) ہم کو (کچھ) مہلت مل سکتی ہے (لیکن وہ وقت نہ ملہت کا ہے نہ قبول ایمان کا اور وہ کفار ایسے مضامین و عید و عذاب کے سن کر براہ انکار عذاب کا تقاضا کیا کرتے تھے مثلاً کہتے تھے عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا اور اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً یعنی اے اللہ اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر پتھروں کی بارش برسا اور مہلت کو، جو درحقیقت ڈھیل ہے، عذاب نہ واقع ہونے کی دلیل ٹھہراتے تھے، آگے اس کا جواب ہے کہ) کیا (ہماری وعیدوں کو سن کر) یہ لوگ ہمارے عذاب کی تعجیل چاہتے ہیں (جس کا منشاء انکار ہے یعنی باوجود قیام دلیل یعنی ایک سچے بزرگ کی خبر کے پھر بھی انکار کرتے ہیں ؟ رہا مہلت کو بناء انکار قرار دینا سو یہ سخت غلطی ہے کیونکہ) اے مخاطب ذرا بتلاؤ تو اگر ہم ان کو (چند سال تک) عیش میں رہنے دیں پھر جس (عذاب) کا ان سے وعدہ ہے وہ ان کے سر آ پڑے تو ان کا وہ عیش کس کام آسکتا ہے (یعنی یہ عیش کی جو مہلت دی گئی اس سے ان کے عذاب میں کوئی خفت یا کمی نہیں ہو سکتی) اور (مہلت دینا حکمت کی وجہ سے چند روز تک خواہ کم یا زیادہ کچھ ان ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ امم سابقہ کو بھی مہلتیں ملی ہیں چنانچہ) جتنی بستیاں (منکرین کی) ہم نے (عذاب سے) غارت کی ہیں سب میں نصیحت کے واسطے ڈرانے والے (پیغمبر) آئے (جب نہ مانے تو عذاب نازل ہوا) اور (صورة بھی) ظالم نہیں ہیں (مطلب یہ کہ مہلت دینے سے جو مقصود ہے یعنی حجت پورا کرنا اور عذر کو ختم کرنا وہ سب کے لئے رہا، پیغمبروں کا آنا سمجھانا خود یہ بھی ایک مہلت ہی دینا ہے مگر پھر بھی ہلاکت کا عذاب آ کر رہا۔ ان واقعات سے مہلت دینے کی حکمت بھی معلوم ہوگئی اور مہلت دینے اور عذاب میں تضاد نہ ہونا بھی ثابت ہوگیا اور صورة اس لئے کہا گیا کہ حقیقتہ تو کسی حالت میں بھی ظلم نہ ہوتا۔ آگے پھر مقصود اوّل یعنی مضمون وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ الخ کی طرف رجوع ہے اور درمیان میں یہ مضامین منکرین کی حالت کے مناسب ہونے کی وجہ سے مذکور ہوئے تھے اور حاصل مضمون آئندہ آیات کا ان شبہات کا دفع کرنا ہے جو قرآن کی حقانیت کے متعلق تھے پس ایک شبہ تو قرآن کے اللہ کا کلام اور اس کی طرف بھیجا ہوا ماننے پر اس لئے تھا کہ عرب میں پہلے سے کاہن ہوتے آئے تھے وہ بھی کچھ مختلف قسم کے جملے بولا کرتے تھے نعوذ باللہ آپ کی نسبت بھی بعضے کفار یہی کہتے تھے (کما فی الدر عن ابن زید) اور بخاری میں ایک عورت کا قول نقل کیا ہے جس زمانہ میں رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہونے میں کچھ دیر ہوئی تو اس عورت نے کہا کہ آپ کو آپ کے شیطان نے چھوڑ دیا ہے کیونکہ کاہنوں کو شیطان ہی کی تعلیم و تلقین سے کچھ حاصل ہوا کرتا تھا اس کا جواب ہے کہ یہ رب العالمین کا نازل کیا ہوا ہے) اور اس کو شیاطین (جو کاہنوں کے پاس آیا کرتے تھے) لے کر نہیں آئے (کیونکہ اس کے دو مانع قوی موجود ہیں ایک اس کی صفت شیطنت جس کے سبب) یہ (قرآن) ان (کی حالت) کے مناسب ہی نہیں (کیونکہ قرآن سب کا سب ہدایت اور شیطان سب کا سب گمراہی ہے نہ ان کو ایسے مضامین کی آمد ہو سکتی ہے اور نہ ایسے مضامین شائع کرنے سے ان کی غرض یعنی مخلوق کو گمراہ کرنا پورا ہوسکتا ہے ایک مانع تو یہ ہوا) اور (دوسرا مانع یہ کہ وہ) اس پر قادر بھی نہیں کیونکہ وہ شیاطین (وحی آسمانی) سننے سے روک دیئے گئے ہیں (چنانچہ کاہنوں اور مشرکوں سے ان کے جنات نے اپنی ناکامی کا خود اعتراف کیا جس کی انہوں نے اوروں کو بھی خبر دی۔ چناچہ بخاری میں ایسے قصے باب اسلام عمر میں مذکور ہیں پس شیطانوں کی تلقین کا کسی طرح احتمال نہ رہا اور اس جواب کا پورا ہونا اور ایک دوسرے شبہ کا جواب ختم سورت کے قریب آوے گا درمیان میں تنزیل من اللہ ہونے پر بطور تفریع کے ایک مضمون ہے یعنی جب اس کا منزل من اللہ ہونا ثابت ہے تو اس کی تعلیم واجب العمل ہوئی اور منجملہ اس کے اہم امر اور اعظم توحید ہے) سو (اے پیغمبر ہم اس کے وجوب کی ایک خاص طریق سے تاکید کرتے ہیں کہ ہم آپ کو مخاطب بنا کر کہتے ہیں کہ) تم خدا کے ساتھ کسی اور معبود کی عبادت مت کرنا کبھی تم کو سزا ہونے لگے (حالانکہ آپ میں نعوذ باللہ نہ احتمال شرک کا ہی نہ تعذیب کا مگر لوگوں کو یہ بات جتلانا مقصود ہے کہ جب غیر اللہ کی عبادت پر آپ کے لئے بھی سزا کا حکم ہے تو اور بیچارے تو کسی شمار میں ہیں ؟ شرک سے ان کو کیسے منع نہ کیا جاوے اور شرک کر کے عذاب سے کیونکر بچیں گے) اور (اسی مضمون سے) آپ (سب سے پہلے) اپنے نزدیک کے کنبہ کو ڈرایئے (چنانچہ آپ نے سب کو پکار کر جمع کیا اور شرک پر عذاب الہی سے ڈرایا جیسا حدیثوں میں ہے) اور (آگے انداز یعنی دعوت نبوت کو قبول کرنے والے اور رد کرنے والوں کے ساتھ معاملہ کا طرز بتلاتے ہیں یعنی) ان لوگوں کے ساتھ (تو مشفقانہ) فروتنی سے پیش آیئے جو مسلمانوں میں داخل ہو کر آپ کی راہ پر چلیں (خواہ کنبہ کے ہوں یا غیر کنبہ کے) اور اگر یہ لوگ (جن کو آپ نے ڈرایا ہے) آپ کا کہنا نہ مانیں (اور کفر پر اڑے رہیں) تو آپ (صاف کہہ دیجئے کہ میں تمہارے افعال سے بیزار ہوں (ان دونوں امر یعنی اخفص وقل الخ میں حب فی اللہ اور بغض فی اللہ کی پوری تعلیم ہے اور کبھی ان مخالفین کی طرف سے ایذا اور نقصان دینے کا خطرہ نہ لایئے) اور خدائے رحیم پر توکل رکھئے جو آپ کو جس وقت کہ آپ (نماز کے لئے) کھڑے ہوتے ہیں اور (نیز نماز شروع کرنے کے بعد) نمازیوں کے ساتھ آپ کی نشست و برخاست کو دیکھتا ہے (اور نماز کے علاوہ بھی وہ دیکھتا بھالتا ہے کیونکہ) وہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے (پس جب اس کو علم بھی کامل ہے جیسے یراک اور سمیع، علیم اس پر دال ہیں اور وہ آپ پر مہربان بھی ہے، جیسا الرحیم اس پر دال ہے اور اس کو سب قدرت ہے جیسا العزیز سے مفہوم ہوتا ہے تو ضرور وہ لائق توکل ہے وہ آپ کو ضرر حقیقی سے بچاوے گا اور جو متوکل کو ضرر پہنچتا ہے وہ صرف ظاہر کے اعتبار سے ضرر ہوتا ہے جس کے تحت میں ہزاروں منافع ہوتے ہیں جن کا کبھی دنیا میں کبھی آخرت میں ظہور ہوتا ہے آگے کہانت کے شبہ کے جواب کا تتمہ ہے کہ اے پیغمبر لوگوں سے کہہ دیجئے کہ) کیا میں تم کو بتلاؤں کس پر شیطان اترا کرتے ہیں (سنو) ایسے شخصوں پر اترا کرتے ہیں جو (پہلے سے) دروغ گفتار بڑے بدکردار ہوں اور جو (اخبار شیاطین کے وقت ان شیطانوں کی طرف) کان لگا دیتے ہیں اور (لوگوں سے ان چیزوں کے بیان کرنے کے وقت) وہ بکثرت جھوٹ بولتے ہیں (چنانچہ سفلی عاملوں کو اب بھی اسی حالت میں دیکھا جاتا ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ فائدہ لینے والے اور فائدہ دینے والے کے درمیان مناسبت ضروری ہے تو شیطان کا شاگرد بھی وہ ہوگا جو جھوٹا اور گنہگار ہوگا، نیز شیطان کی طرف قلب سے متوجہ بھی ہو کہ بغیر توجہ سے استفادہ نہیں ہوتا اور چونکہ اکثر یہ علوم شیطانی ناتمام ہوتے ہیں اس لئے ان کو رنگین اور باوقعت کرنے کے لئے کچھ حاشیہ بھی ظن وتخمین سے چڑھانا پڑتا ہے جو کہ کہانت کے لئے عادةً ضروری ہیں اور یہ ساری باتیں نبی کریم ﷺ میں ہونے کا کوئی دور کا بھی احتمال نہیں کیونکہ آپ کا سچا ہونا سب کو معلوم ہے۔ آپ کا پرہیزگار ہونا اور شیاطین سے بغض رکھنے والا ہونا دشمن کو بھی مسلم تھا اور مشہور و معروف تھا تو پھر کہانت کا احتمال کہاں رہا) اور آگے شبہ شاعریت کا جواب ہے کہ آپ شاعر بھی نہیں ہیں جیسا کفار کہتے تھے بَلْ هُوَ شَاعِرٌ یعنی ان کے مضامین خیالی غیر واقعی ہیں گو منظوم نہ ہوں سو یہ احتمال اس لئے غلط ہے کہ) شاعروں کی راہ تو بےراہ لوگ چلا کرتے ہیں (مراد راہ سے شعر گوئی ہے۔ یعنی مضامین خیالی شاعرانہ نثر میں یا نظم میں کہنا ان لوگوں کا طریقہ ہے جو مسلک تحقیق سے دور ہوں آگے اس دعویٰ کی وضاحت ہے کہ) اے مخاطب کیا تم کو معلوم نہیں کہ وہ (شاعر) لوگ (خیالی مضامین) کے ہر میدان میں حیران (ٹکریں مارتے تلاش مضامین میں) پھرا کرتے ہیں اور (جب مضمون مل جاتا ہے تو چونکہ اکثر خلاف واقعہ ہوتا ہے اس لئے) زبان سے وہ باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں (چنانچہ شاعروں کی گپوں کا ایک نمونہ لکھا جاتا ہے۔
اے رشک مسیحا تری رفتار کے قرباں ٹھوکر سے مری لاش کئی بار جلا دی
اے باد صبا ہم تجھے کیا یاد کریں گے اس گل کی خبر تو نے کبھی ہم کو نہ لا دی
صبا نے اس کے کوچہ سے اڑا کر خدا جانے ہماری خاک کیا کی، وغیرہ وغیرہ، حتی کہ کبھی کفریات بکنے لگتے ہیں۔ حاصل جواب کا یہ ہوا کہ مضامین شعریہ کے لئے خیالی اور غیر متحقق ہونا لازمی ہے اور مضامین قرآنیہ جس باب سے بھی متعلق ہیں سب کے سب تحقیقی، غیر خیالی ہیں اس لئے آپ کو شاعر کہنا سوائے جنن شاعرانہ کے اور کیا ہے حتی کہ اکثر چونکہ نظم میں ایسے ہی مضامین ہوا کرتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو نظم پر قدرت بھی نہیں دی اور اوپر چونکہ شعراء کی مذمت ارشاد ہوئی ہے جس کے عموم میں بظاہر سب نظم کہنے والے آگئے، گو ان کے مضامین عین حکمت اور تحقیق ہوں اس لئے آگے ان کا استثناء فرماتے ہیں کہ) ہاں مگر جو لوگ (ان شاعروں میں سے) ایمان لائے اور اچھے اچھے کام کئے (یعنی شرع کے خلاف نہ ان کا قول ہے نہ فعل، یعنی ان کے اشعار میں بیہودہ مضامین نہیں ہیں) اور انہوں نے (اپنے اشعار میں) کثرت سے اللہ کا ذکر کیا (یعنی تائید دین اور اشاعت علم میں ان کے اشعار ہیں کہ یہ سب ذکر اللہ میں داخل ہیں) اور (اگر کسی شعر میں بظاہر کوئی نامناسب مضمون بھی ہے جیسے کسی کی ہجو اور مذمت جو بظاہر اخلاق حسنہ کے خلاف ہے تو اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ) انہوں نے بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوچکا ہے (اس کا) بدلہ لیا (ہے یعنی کفار یا فساق نے اول ان کو زبانی تکلیف پہنچائی، مثلاً ان کی ہجو کی یا دین کی توہین کی جو اپنی ہجو سے بھی بڑھ کر تکلیف کا سبب ہے، یا ان کے مال کو یا جان کو ضرر پہنچایا، یعنی یہ لوگ مستثنی ہیں کیونکہ ا نتقامی طور پر جو شعر کہے گئے ہیں ان میں بعض تو مباح ہیں اور بعضے اطاعت و کار ثواب ہیں) اور (یہاں تک رسالت کے متعلق شبہات کے جوابات پورے ہوئے اور اس سے پہلے رسالت دلائل سے ثابت ہوچکی تھی اب آگے ان لوگوں کی وعید ہے جو اس کے باوجود منکر نبوت رہے اور حضور ﷺ کو ایذاء پہنچاتے ہیں یعنی) عنقریب ان لوگوں کو معلوم ہوجاوے گا جنہوں نے (حقوق اللہ، حقوق الرسول یا حقوق العباد میں) ظلم کر رکھا ہے کہ کیسی (بری اور مصیبت کی) جگہ ان کو لوٹ کر جانا ہے (مراد اس سے جہنم ہے۔)
Ayahs 26:193–204معارف و مسائل
نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ ، عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ ، بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ ، وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ۔
قرآن اس کے الفاظ و معانی کے مجموعہ کا نام ہے
آیات مذکورہ میں بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن وہی ہے جو عربی زبان میں ہو، کسی مضمون قرآن کا ترجمہ خواہ کسی زبان میں ہو وہ قرآن نہیں کہلائے گا اور وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ کے الفاظ سے بظاہر اس کے خلاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ معانی قرآن جو کسی دوسری زبان میں بھی ہوں وہ بھی قرآن ہیں، کیونکہ انہ کی ضمیر ظاہر یہ ہے کہ قرآن کی طرف راجع ہے اور زبر، زبور کی جمع ہے جس کے معنے ہیں کتاب۔ معنے آیت کے یہ ہوئے کہ قرآن کریم سابقہ کتابوں میں بھی ہے اور یہ ظاہر ہے پچھلی کتابیں تورات انجیل زبور وغیرہ عربی زبان میں نہیں تھیں تو صرف معانی قرآن کے ان میں مذکور ہونے کو اس آیت میں کہا گیا ہے کہ قرآن پچھلی کتابوں میں بھی ہے اور حقیقت جس پر جمہور امت کا عقیدہ ہے وہ یہ ہے کہ صرف مضامین قرآن کو بھی بعض اوقات تو سعاً قرآن کہہ دیا جاتا ہے کیونکہ اصل مقصود کسی کتاب کا اس کے مضامین ہی ہوتے ہیں۔ کتب اولین میں قرآن کا مذکور ہونا بھی اسی حیثیت سے ہے کہ بعض مضامین قرآنیہ ان میں بھی مذکور ہیں اس کی تائید بہت سی روایات حدیث سے بھی ہوتی ہے۔
مستدرک حاکم میں حضرت معقل بن یسار کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے سورة بقرہ ذکر اول سے دی گئی ہے اور سورة طہ اور طواسین یعنی جتنی سورتیں طس سے شروع ہوتی ہیں اور حوامیم یعنی جو سورتیں حم سے شروع ہیں یہ سب سورتیں الواح موسیٰ میں سے دی گئی ہیں اور سورة فاتحہ مجھے تحت عرش سے دی گئی ہے۔ اور طبرانی، حاکم، بیہقی وغیرہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے کہ سورة ملک تورات میں موجود ہے۔ الحدیث، اور سورة سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى میں تو خود قرآن کی تصریح یہ ہے اِنَّ هٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى، صُحُفِ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى یعنی یہ مضامین سورت حضرت ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) کے صحیفوں میں بھی ہیں لیکن تمام آیات و روایات کا حاصل یہی ہے کہ بہت سے مضامین قرآن کتب سابقہ میں بھی موجود تھے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان مضامین کی وجہ سے کتب سابقہ کے حصوں کو جن میں یہ مضامین قرآن آئے ہیں قرآن کا نام دے دیا جائے۔ نہ امت میں کوئی اس کا قائل ہے کہ ان صحیفوں اور کتابوں کو جن میں مضامین قرآن مذکور ہیں قرآن کہا جائے۔ بلکہ عقیدہ جمہور امت کا یہی ہے کہ قرآن نہ صرف الفاظ قرآن کا نام ہے نہ صرف معانی قرآن کا۔ اگر کوئی شخص قرآن ہی کے الفاظ مختلف جگہوں سے چن کر ایک عبارت بنا دے مثلاً کوئی یہ عبارت بنالے الحمد للہ العزیز الرحیم۔ الذی لہ ملک السموت و ھو رب العلمین خالق کل شئی وھو المستعان یہ سارے الفاظ قرآن ہی کے ہیں مگر اس عبارت کو کوئی قرآن نہیں کہہ سکتا۔ اسی طرح صرف معانی قرآن جو کسی دوسری زبان میں بیان کئے جائیں وہ بھی قرآن نہیں۔
نماز میں ترجمہ قرآن پڑھنا باجماع امت ناجائز ہے
اسی وجہ سے امت کا اس پر اتفاق ہے کہ نماز میں فرض تلاوت کی جگہ قرآن کے الفاظ کا ترجمہ کسی زبان فارسی، اردو، انگریزی میں پڑھ لینا بدون اضطرار کے کافی نہیں۔ بعض ائمہ سے جو اس میں توسع کا قول منقول ہے ان سے بھی اپنے اس قول سے رجوع ثابت ہے۔
قرآن کے اردو ترجمہ کو اردو قرآن کہنا جائز نہیں
اسی طرح قرآن کا صرف ترجمہ کسی زبان میں بغیر عربی متن کے لکھا جائے تو اس کو اس زبان کا قرآن کہنا جائز نہیں۔ جیسے آج کل بہت سے لوگ صرف اردو ترجمہ قرآن کو اردو کا قرآن اور انگریزی کو انگریزی کا قرآن کہہ دیتے ہیں یہ ناجائز اور بےادبی ہے قرآن کو بغیر متن عربی کے کسی دوسری زبان میں بنام قرآن شائع کرنا اور اس کی خریدو فروخت سب ناجائز ہے اس مسئلہ کی پوری تفصیل احقر کے رسالہ " تحذیر الاخوان عن تغییر رسم القرآن " میں مذکور ہے۔
Ayahs 26:205–213اَفَرَءَيْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِـنِيْنَ ، اس آیت میں اشارہ ہے کہ دنیا میں کسی کو عمر دراز ملنا بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے لیکن جو لوگ اس نعمت کی ناشکری کریں ایمان نہ لائیں ان کو عمر دراز کی عافیت و مہلت کچھ کام نہ آئے گی۔ امام زہری نے نقل فرمایا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز روز صبح کو اپنی داڑھی پکڑ کر اپنے نفس کو خطاب کر کے یہ آیت پڑھا کرتے تھے اَفَرَءَيْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ الآیتہ اس کے بعد ان پر گریہ طاری ہوجاتا اور یہ اشعار پڑھتے تھے، نھارک یا مغرور سھود غفلۃ، ولیلک نوم والروی لک لازم۔ فلا انت فی الایقاظ یقظان حازم، ولا انت فی النوم ناج وسالم۔ وتسعی الی ماسوف تکرہ غبہ، کذلک فی الدنیا تعیش البھائم (ترجمہ) اے فریب خوردہ تیرا سارا دن غفلت میں اور رات نیند میں صرف ہوتی ہے حالانکہ موت تیرے لئے لازمی ہے۔ نہ تو بیدار لوگوں میں ہوشیار و بیدار ہے اور نہ سونے والوں میں اپنی نجات پر مطمئن ہے۔ تیری کوشش ایسے کاموں میں رہتی ہے جس کا انجام عنقریب ناگوار صورت میں سامنے آئے گا۔ دنیا میں چوپائے جانور ایسے ہی جیا کرتے ہیں۔
Ayahs 26:214–223وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ ، عشیرہ کے معنے کنبہ اور خاندان اقربی کی قید سے ان میں سے بھی قریبی رشتہ دار مراد ہیں۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر تبلیغ رسالت اور انذار پوری امت کے لئے فرض ہے اس جگہ خاندان کے لوگوں کی تخصیص میں کیا حکمت ہے ؟ غور کیا جائے تو اس میں تبلیغ و دعوت کے آسان اور موثر بنانے کا ایک خاص طریقہ بتلایا گیا ہے جس کے آثار دور رس ہیں۔ وہ یہ کہ اپنے کنبہ اور خاندان کے لوگ اپنے سے قریب ہونے کی بناء پر اس کے حقدار بھی ہیں کہ ہر خیر اور اچھے کام میں ان کو دو رسوں سے مقدم کیا جائے اور باہمی تعلقات اور ذاتی واقفیت کی بناء پر ان میں کوئی جھوٹا دعویدار نہیں کھپ سکتا اور جس کی سچائی اور اخلاقی برتری خاندان کے لوگوں میں مصروف ہے اس کی سچی دعوت قبول کرلینا ان کے لئے آسان بھی ہے اور قریبی رشتہ دار جب کسی اچھی تحریک کے حامی بن گئے تو ان کی اخوت و امداد بھی پختہ بنیاد پر قائم ہوتی ہے وہ خاندان جمعیت کے اعتبار سے بھی ان کی تائید و اخوت پر مجبور ہوتے ہیں اور جب قریبی رشتہ داروں، عزیزوں کا ایک ماحول حق و صداقت کی بنیادوں پر تیار ہوگیا تو روز مرہ کی زندگی میں ہر ایک کو دین کے احکام پر عمل کرنے میں بہت سہولت ہوجاتی ہے اور پھر ایک مختصر سی طاقت تیار ہو کر دوسروں تک دعوت و تبلیغ کے پہنچانے میں مدد ملتی ہے۔ قرآن کریم کی ایک دوسری آیت میں ہے قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا یعنی اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ اس میں اہل و عیال کے جہنم سے بچانے کی ذمہ داری خاندان کے ہر ہر فرد پر ڈال دی گئی ہے جو اصلاح اعمال و اخلاق کا آسان اور سیدھا راستہ ہے اور غور کیا جائے تو کسی انسان کا خود اعمال و اخلاق صالحہ کا پابند ہونا اور پھر اس پر قائم رہنا اس وقت تک عادة ممکن نہیں ہوتا جب تک اس کا ماحول اس کے لئے سازگار نہ ہو، سارے گھر میں اگر ایک آدمی نماز کی پوری پابندی کرنا چاہے تو اس پکے نمازی کو بھی اپنے حق کی ادائیگی میں مشکلات حائل ہوں گی۔ آج کل جو حرام چیزوں سے بچنا دشوار ہوگیا اس کی وجہ یہ نہیں کہ فی الواقع اس کا چھوڑنا کوئی بڑا مشکل کام ہے بلکہ سبب یہ ہے کہ سارا ماحول ساری برادری جب ایک گناہ میں مبتلا ہے تو اکیلے ایک آدمی کو بچنا دشوار ہوجاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ پر جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے تمام خاندان کے لوگوں کو جمع فرما کر پیغام حق سنایا اس وقت اگرچہ لوگوں نے قبول حق سے انکار کیا مگر رفتہ رفتہ خاندان کے لوگوں میں اسلام و ایمان داخل ہونا شروع ہوگیا اور آپ کے چچا حضرت حمزہ کے اسلام لانے سے اسلام کو ایک بڑی قوت حاصل ہوگئی۔
Ayahs 26:224–227شعر کی تعریف
وَالشُّعَرَاۗءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ ، اصل لغت میں شعر ہر اس کلام کو کہا جاتا ہے جس میں محض خیالی اور غیر تحقیقی مضامین بیان کئے گئے ہوں جس میں کوئی بحر، وزن، ردیف اور قافیہ کچھ شرط نہیں، فن منطق میں بھی ایسے ہی مضامین کو ادلہ شعریہ اور قضایا شعریہ کہا جاتا ہے۔ اصطلاحی شعر و غزل میں بھی چونکہ عموماً خیالات کا ہی غلبہ ہوتا ہے اس لئے اصطلاح شعراء میں کلام موزوں مقفّٰی کو شعر کہنے لگے۔ بعض مفسرین نے آیات قرآن بَلْ هُوَ شَاعِرٌ، شَاعِرٍ مَّجْــنُوْنٍ ، شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ وغیرہ میں شعر اصطلاحی کے معنی میں مراد لے کر کہا کہ کفار مکہ حضور ﷺ کو وزن دار، قافیہ دار کلام لانے والے کہتے تھے لیکن بعض نے کہا کہ کفار کا مقصد یہ نہ تھا، اس لئے کہ وہ شعر کے طرز و طریق سے واقف تھے اور ظاہر ہے کہ قرآن اشعار کا مجموعہ نہیں اس کا قائل تو ایک عجمی بھی نہیں ہوسکتا چہ جائیکہ فصیح وبلیغ عرب، بلکہ کفار آپ کو شاعر شعر کے اصلی معنے یعنی خیالی مضامین کے لحاظ سے کہتے تھے۔ مقصد ان کا دراصل آپ کو نعوذ باللہ جھوٹا کہنا تھا کیونکہ شعر بمعنی کذب بھی استعمال ہوتا ہے اور شاعر کاذب کو کہا جاتا ہے۔ اس لئے ادلہ کا ذبہ کو ادلہ شعریہ کہا جاتا ہے خلاصہ یہ کہ جیسے موزوں اور مقفّٰی کلام کو شعر کہتے ہیں اسی طرح ظنی اور تخمینی کلام کو بھی شعر کہتے ہیں جو اہل منطق کی اصطلاح ہے۔
وَالشُّعَرَاۗءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ ، اس آیت میں شعر کے اصطلاحی اور معروف معنے ہی مراد ہیں۔ یعنی موزوں و مقفّٰی کلام کہنے والے، اس کی تائید فتح الباری کی روایت سے ہوتی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عبداللہ بن رواحة، حسان بن ثابت اور کعب بن مالک جو شعراء صحابہ میں مشہور ہیں روتے ہوئے سرکار دو عالم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ خدائے ذوالجلال نے یہ آیت نازل فرمائی ہے اور ہم بھی شعر کہتے ہیں،حضور ﷺ نے فرمایا کہ آیت کے آخری حصہ کو پڑھو۔ مقصد یہ تھا کہ تمہارے اشعار بیہودہ اور غلط مقصد کے لئے نہیں ہوتے اس لئے تم اس استثناء میں داخل ہو جو آخر آیت میں مذکور ہے اس لئے مفسرین نے فرمایا کہ ابتدائی آیت میں مشرکین شعراء مراد ہیں کیونکہ گمراہ لوگ سرکش شیطان اور نافرمان جن ان ہی کے اشعار کی اتباع کرتے تھے اور روایت کرتے تھے (کما فی فتح الباری)
شریعت اسلام میں شعر و شاعری کا درجہ
آیات مذکورہ کے شروع سے شعر و شاعری کی سخت مذمت اور اس کا عنداللہ مبغوض ہونا معلوم ہوتا ہے مگر آخر سورت میں جو استثناء مذکور ہے اس سے ثابت ہوا کہ شعر مطلقاً برا نہیں بلکہ جب جس شعر میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی یا اللہ کے ذکر سے روکنا یا جھوٹ ناحق کسی انسان کی مذمت اور توہین ہو یا فحش کلام اور فواحش کے لئے محرک ہو وہ مذموم و مکروہ ہے اور جو اشعار ان معاصی اور مکروہات سے پاک ہوں ان کو اللہ تعالیٰ نے اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ الآیتہ کے ذریعہ مستثنی فرما دیا ہے اور بعض اشعار تو حکیمانہ مضامین اور وعظ و نصیحت پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اطاعت وثواب میں داخل ہیں جیسا کہ حضرت ابی بن کعب کی روایت ہے کہ ان من الشعر حکمۃ، یعنی بعض شعر حکمت ہوتے ہیں (رواہ البخاری) حافظ ابن حجر نے فرمایا کہ حکمت سے مراد سچی بات ہے جو حق کے مطابق ہو۔ ابن بطال نے فرمایا جس شعر میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اس کا ذکر، اسلام سے الفت کا بیان ہو وہ شعر مرغوب و محمود ہے اور حدیث مذکور میں ایسا ہی شعر مراد ہے اور جس شعر میں جھوٹ اور فحش بیان ہو وہ مذموم ہے اس کی مزید تائید مندرجہ ذیل روایات سے ہوتی ہے (1) عمر بن الشرید اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہحضور ﷺ نے مجھ سے امیہ بن ابی الصلت کے سو قافیہ تک اشعار سنے (2) مطرف فرماتے ہیں کہ میں نے کوفہ سے بصرہ تک حضرت عمران بن حصین کے ساتھ سفر کیا اور ہر منزل پر وہ شعر سناتے تھے (3) طبری نے کبار صحابہ اور کبار تابعین کے متعلق کہا کہ وہ شعر کہتے تھے سنتے تھے اور سناتے تھے (4) امام بخاری فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ شعر کہا کرتی تھیں (5) ابو یعلی نے ابن عمر سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ شعر ایک کلام ہے اگر اس کا مضمون اچھا اور مفید ہے تو شعر اچھا ہے اور مضمون برا یا گناہ کا ہے تو شعر برا ہے۔ (فتح الباری)
تفسیر قرطبی میں ہے کہ مدینہ منورہ کے فقہاء عشرہ جو اپنے علم و فضل میں معروف ہیں ان میں سے عبید اللہ بن عتبہ بن مسعود، مشہور قادر کلام شاعر تھے اور قاضی زبیر بن بکار کے اشعار ایک مستقل کتاب میں جمع تھے۔ پھر قرطبی نے لکھا کہ ابو عمرو نے فرمایا ہے کہ اچھے مضامین پر مشتمل اشعار کو اہل علم اور اہل عقل میں سے کوئی برا نہیں کہہ سکتا، کیونکہ اکابر صحابہ جو دین کے مقتدا ہیں ان میں کوئی بھی ایسا نہیں جس نے خود شعر نہ کہے ہوں یا دوسروں کے اشعار نہ پڑھے یا سنے ہوں اور پسند کیا ہو۔
جن روایات میں شعر شاعری کی مذمت مذکور ہے ان سے مقصود یہ ہے کہ شعر میں اتنا مصروف اور منہمک ہوجائے کہ ذکر اللہ عبادت اور قرآن سے غافل ہوجائے۔ امام بخاری نے اس کو ایک مستقل باب میں بیان فرمایا ہے اور اس باب میں حضرت ابوہریرہ کی یہ روایت نقل کی ہے۔ لان یمتلئ جوف رجل قیحاً یریہ خیر من ان یمتلئ شعراً ، یعنی کوئی آدمی پیپ سے اپنا پیٹ بھرے یہ اس سے بہتر ہے کہ اشعار سے پیٹ بھرے۔ امام بخاری فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ شعر جب ذکر اللہ اور قرآن اور علم کے اشتغال پر غالب آجائے اور اگر شعر مغلوب ہے تو پھر برا نہیں ہے اسی طرح وہ اشعار جو فحش مضامین یا لوگوں پر طعن وتشنیع یا دوسرے خلاف شرع مضامین پر مشتمل ہوں وہ باجماع امت حرام و ناجائز ہیں اور یہ کچھ شعر کے ساتھ مخصوص نہیں جو نثر کلام ایسا ہو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ (قرطبی)
حضرت عمر بن خطاب نے اپنے گورنر عدی بن نضلہ کو ان کے عہدہ سے اس لئے برخاست کردیا کہ وہ فحش اشعار کہتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے عمرو بن ربیعہ اور ابوالاحوص کو اسی جرم میں جلا وطن کرنے کا حکم دیا۔ عمرو بن ربیعہ نے توبہ کرلی وہ قبول کی گئی۔ (قرطبی)
خدا و آخرت سے غافل کردینے والا ہر علم اور فن مذموم ہے
ابن ابی جمرہ نے فرمایا کہ بہت قافیہ بازی اور ہر ایسا علم و فن جو دلوں کو سخت کر دے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے انحراف و اعراض کا سبب بنے اور اعتقادات میں شکوک و شبہات اور روحانی بیماریاں پیدا کرے اس کا بھی وہی حکم ہے جو مذموم اشعار کا حکم ہے۔
اکثر اتباع کرنے والوں کی گمراہی متبوع کی گمراہی کی علامت ہوتی ہے
وَالشُّعَرَاۗءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ ، اس آیت میں شعراء پر یہ عیب لگایا گیا ہے کہ ان کے متعبین گمراہ ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گمراہ تو ہوئے متبعین ان کے فعل کا الزام متبوعین یعنی شعراء پر کیسے عائد ہوا ؟ وجہ یہ ہے کہ عموماً اتباع کرنے والوں کی گمراہی علامت اور نشانی ہوتی ہے متبوع کی گمراہی کی لیکن سیدی حضرت حکیم الامت تھانوی ؒ نے فرمایا کہ یہ حکم اس وقت ہے جب تابع کی گمراہی میں اس متبوع کے اتباع کا دخل ہو مثلاً متبوع کو جھوٹ اور غیبت سے بچنے بچانے کا اہتمام نہیں ہے اس کی مجلس میں اس طرح کی باتیں ہوتی ہیں وہ روک ٹوک نہیں کرتا اس سے تابع کو بھی جھوٹ اور غیبت کی عادت پڑگئی تو یہ تابع کا گناہ خود متبوع کے گناہ کی علامت قرار دیا جائے گا لیکن اگر گمراہی متبوع کی ایک وجہ سے اور اتباع کسی دوسری وجہ سے ہو تو یہ تابع کی گمراہی متبوع کی گمراہی کی علامت نہیں ہوگی۔ مثلاً ایک شخص عقائد و مسائل میں کسی عالم کا اتباع کرتا ہے اور ان میں کوئی گمراہی نہیں، اعمال و اخلاق میں اس عالم کا اتباع نہیں کرتا انہیں میں یہ گمراہ ہے تو اس کی عملی اور اخلاقی گمراہی اس عالم کی گمراہی پر دلیل نہیں ہوگی۔ واللہ سبحانہ، وتعالی اعلم
تمت سورة الشعراء بعون اللہ وفضلہ لنصف الربیع الثانی 1391 ھ یوم الخمیس ویتلوھا انشاء اللہ تعالیٰ سورة النمل