Ayahs 26:69–83خلاصہ تفسیر
اور آپ ان لوگوں کے سامنے ابراہیم ؑ کا قصہ بیان کیجئے (تاکہ ان کو شرک کی مذمت کے دلائل معلوم ہوں، خصوص ابراہیم ؑ سے منقول ہو کر، کیونکہ یہ مشرکین عرب اپنے کو ملت ابراہیمیہ پر بتلاتے ہیں اور وہ قصہ اس وقت ہوا تھا، جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے (جو کہ بت پرست تھی) فرمایا کہ تم کس (واہیات) چیز کی عبادت کیا کرتے ہو، انہوں نے کہا ہم بتوں کی عبادت کیا کرتے ہیں اور ہم انہی (کی عبادت) پر جمے بیٹھے رہتے ہیں، ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم ان کو (اپنی عرض حاجت کے وقت) پکارا کرتے ہو یا (تم جو ان کی عبادت کرتے ہو تو کیا) یہ تم کو کچھ نفع پہنچاتے ہیں یا (اگر تم ان کی عبادت ترک کردو تو کیا) یہ تم کو کچھ ضرر پہنچا سکتے ہیں (یعنی استحقاق الوہیت کے لئے علم اور قدرت کاملہ تو ضروری ہے ان لوگوں نے کہا نہیں (یہ بات تو نہیں ہے کہ یہ کچھ سنتے ہوں یا نفع و ضرر پہنچا سکتے ہوں اور ان کی عبادت کرنے کی یہ وجہ نہیں، بلکہ ہم نے اپنے بڑوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے (اس لئے ہم بھی وہی کرتے ہیں) ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ بھلا تم نے ان (کی حالت) کو (غور سے) دیکھا بھی جن کی تم عبادت کیا کرتے ہو تم بھی اور تمہارے پرانے بڑے بھی کہ یہ (معبودین) میرے (یعنی تمہارے لئے) باعث ضرر ہیں (یعنی اگر ان کی عبادت کی جاوے خواہ نعوذ باللہ میں کروں یا تم کرو تو بجز ضرر کے اور کوئی نتیجہ نہیں) مگر ہاں رب العالمین (ایسا ہے کہ وہ اپنے عابدین کا دوست ہے اور اس کی عبادت سرتا سر نافع ہے) جس نے مجھ کو (اور اسی طرح سب کو) پیدا کیا، پھر وہی مجھ کو (میری مصلحتوں تک) رہنمائی کرتا ہے (یعنی عقل و فہم دیتا ہے جس سے نفع و ضرر کو سمجھتا ہوں) اور جو مجھ کو کھلاتا پلاتا ہے اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں (جس کے بعد شفاء ہوجاتی ہے) تو وہی مجھ کو شفا دیتا ہے اور جو مجھ کو (وقت پر) موت دے گا پھر (قیامت کے روز) مجھ کو زندہ کرے گا اور جس سے مجھ کو یہ امید ہے کہ میری غلط کاری کو قیامت کے روز معاف کر دے گا (یہ تمام تر صفات اس لئے سنائیں کہ قوم کو خدا تعالیٰ کی عبادت کی رغبت ہو پھر صفات کمال بیان فرماتے فرماتے غلبہ حضور سے حق تعالیٰ سے مناجات کرنے لگے کہ) اے میرے پروردگار مجھ کو حکمت (یعنی جامعیت بین العلم والعمل میں زیادہ کمال) عطا فرما (کیونکہ نفس حکمت تو وقت دعا کے بھی حاصل ہے اور (مراتب قرب میں) مجھ کو (اعلی درجہ کے) نیک لوگوں کے ساتھ شامل فرما (مراد انبیاء عالیشان ہیں) اور میرا ذکر آئندہ آنے والوں میں جاری رکھ (تاکہ میرے طریقہ پر چلیں جس میں مجھ کو زیادہ ثواب ملے) اور مجھ کو جنت النعیم کے مستحقین میں سے کر اور میرے باپ (کو توفیق ایمان کی دے کر اس) کی مغفرت فرما کہ وہ گمراہ لوگوں میں ہے اور جس روز سب زندہ ہو کر اٹھیں گے اس روز مجھ کو رسوا نہ کرنا۔ آگے اس دن کے بعض واقعات ہائلہ کا بھی ذکر فرما دیا تاکہ قوم سنے اور ڈرے یعنی وہ ایسا دن ہوگا) جس دن میں کہ (نجات کے لئے) نہ مال کام آوے گا نہ اولاد مگر ہاں (اس کو نجات ہوگی) جو اللہ کے پاس (کفر و شرک سے) پاک دل لے کر آوے گا اور (اس روز) خدا ترسوں (یعنی ایمان والوں) کے لئے جنت نزدیک کردی جاوے گی (کہ اس کو دیکھیں اور یہ معلوم کر کے کہ ہم اس میں جاویں گے خوش ہوں) اور ان گمراہوں (یعنی کافروں) کے لئے دوزخ سامنے ظاہر کی جاوے گی (کہ اس کو دیکھ کر غمزدہ ہوں کہ ہم اس میں جاویں گے) اور (اس روز) ان (گمراہوں) سے کہا جاوے گا کہ وہ معبود کہاں گئے جن کی تم خدا کے سوا عبادت کیا کرتے تھے کیا (اس وقت) وہ تمہارا ساتھ دے سکتے ہیں یا اپنا ہی بچاؤ کرسکتے ہیں پھر (یہ کہہ کر) وہ (عابدین) اور گمراہ لوگ اور ابلیس کا لشکر سب کے سب دوزخ میں اوندھے منہ ڈال دیئے جاویں گے (بس وہ بت اور شیاطین نہ اپنے کو بچا سکے نہ اپنے عابدین کو) وہ کافر اس دوزخ میں گفتگو کرتے ہوئے (ان معبودین سے) کہیں گے کہ بخدا بیشک ہم صریح گمراہی میں تھے جبکہ تم کو (عبادت میں) رب العالمین کے برابر کرتے تھے اور ہم کو تو بس ان بڑے مجرموں نے (جو کہ بانی ضلالت تھے) گمراہ کیا سو (اب) نہ کوئی ہمارا سفارشی ہے (کہ چھڑا لے) اور نہ کوئی مخلص دوست (کہ خالی دلسوزی ہی کرلے) سو کیا اچھا ہوتا کہ ہم کو (دنیا میں) پھر واپس جانا ملتا کہ ہم مسلمان ہوجاتے (یہاں تک ابراہیم ؑ کی تقریر ہوگئی آگے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ) بیشک اس واقعہ (مناظرہ ابراہیمیہ و نیز واقعہ قیامت) میں (بھی طالبان حق اور انجام اندیشوں کے لئے) ایک عبرت ہے (کہ مضامین مناظرہ میں غور کر کے توحید کا اعتقاد کریں اور واقعات قیامت سے ڈریں اور ایمان لاویں) اور (باوجود اس کے) ان (مشرکین مکہ) میں اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے بیشک آپ کا رب بڑا زبردست رحمت والا ہے (کہ عذاب دے سکتا ہے مگر مہلت دے رکھی ہے۔)
Ayahs 26:84–85معارف و مسائل
قیامت تک انسانوں میں ذکر خیر رکھنے کی دعا
وَاجْعَلْ لِّيْ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْاٰخِرِيْنَ اس آیتہ مبارکہ میں " لسان " سے مراد ذکر ہے اور " لی " کا لام نفع کے لئے ہے آیتہ کے معنی یہ ہوئے کہ اے خدایا مجھے ایسے پسندیدہ طریقے اور عمدہ نشانیاں عطا فرما جس کی دوسرے لوگ قیامت تک پیروی کریں، اور مجھے ذکر خیر اور عمدہ صفت سے یاد کیا کریں (ابن کثیر و روح المعانی) اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی دعا قبول فرمائی۔ یہود و نصاری اور مشرکین مکہ تک ملتہ ابراہیمی سے محبت و الفت رکھتے ہیں اور اپنے آپ کو اس کی طرف منسوب کرتے ہیں، اگرچہ ان کا طریقہ ملت ابراہیمی کے خلاف کفر و شرک ہے مگر وہ دعویٰ یہی کرتے ہیں کہ ہم ملت ابراہیمی پر ہیں اور امت محمدیہ تو بجا طور پر بھی ملت ابراہیم پر ہونے کو اپنے لئے باعث فخر سمجھتی ہے۔
حب جاہ مذموم مگر چند شرائط کے ساتھ جائز ہے
حب جاہ یعنی لوگوں سے اپنی عزت کرنے اور محدح کرنے کی خواہش شرعاً مذموم ہے قرآن کریم نے دار آخرت کی نعمتوں کو حب جاہ کے ترک پر موقوف قرار دیا ہے (قال تعالیٰ تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِيْنَ لَا يُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا فِي الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا) اس جگہ آیت (وَاجْعَلْ لِّيْ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْاٰخِرِيْنَ) میں حضرت ابراہیم ؑ کی یہ دعا کہ آنے والی نسلوں میں میری تعریف و ثنا ہوا کرے بظاہر حب جاہ میں داخل معلوم ہوتی ہے لیکن آیت کے الفاظ میں غور کیا جائے تو معلوم ہوجائے گا کہ اس دعا کا اصل مقصد حب جاہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس کی دعا ہے کہ ایسے نیک اعمال کی توفیق بخشیں جو میری آخرت کا سامان بنیں اور اس کو دیکھ کر دوسرے لوگوں کو بھی اعمال صالحہ کی رغبت ہو اور میرے بعد بھی لوگ اعمال صالحہ میں میری پیروی کرتے رہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس سے کوئی وجاہت کا فائدہ حاصل کرنا مقصود ہی نہیں، جس کو حب جاہ کہا جاسکے۔ قرآن و حدیث میں جہاں طلب جاہ کو ممنوع اور مذموم قرار دیا ہے اس کی مراد ہی دنیوی وجاہت اور اس سے دنیوی منافع حاصل کرنا ہے۔
امام ترمذی و نسائی نے حضرت کعب بن مالک کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دو بھوکے بھیڑیئے جو بکریوں کے گلے میں چھوڑ دیئے جاویں وہ بکریوں کے ریوڑ کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا دو خصلتیں انسان کے دین کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ایک مال کی محبت دوسرے اپنی عزت و جاہ کی طلب (رواہ الطبرانی عن ابی سعید الخدری والبزار عن ابی ہریرہ) اور حضرت ابن عباس سے بسند ضعیف دیلمی نے یہ روایت نقل کی ہے کہ جاہ وثناء کی محبت انسان کو اندھا بہرا کردیتی ہے۔ ان تمام روایات سے مراد وہ حب جاہ اور طلب ثناء ہے جو دنیوی مقاصد کے لئے مطلوب ہو یا جس کی خاطر دین میں مداہنت یا کسی گناہ کا ارتکاب کرنا پڑے اور جب یہ صورت نہ ہو تو طلب جاہ مذموم نہیں۔ حدیث میں خود رسول اللہ ﷺ سے یہ دعا منقول ہے۔ (اللھم اجعلنی فی عینی صغیرا وفی اعین الناس کبیرا یعنی یا اللہ مجھے خود اپنی نگاہ میں تو چھوٹا اور حقیر بنا دیجئے اور لوگوں کی نظر میں بڑا بنا دیجئے۔ یہاں بھی لوگوں کی نظر میں بڑا بنانے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ نیک اعمال میں میری پیروی کریں۔ اسی لئے امام مالک نے فرمایا کہ جو شخص واقع میں صالح اور نیک ہو، لوگوں کی نظر میں نیک بننے کے لئے ریاکاری نہ کرے اس کے لئے لوگوں کی طرف سے مدح و ثنا کی محبت مذموم نہیں۔
ابن عربی نے فرمایا کہ آیت مذکورہ سے ثابت ہوا کہ جس نیک عمل سے لوگوں میں تعریف ہوتی ہو اس نیک عمل کی طلب و خواہش جائز ہے اور امام غزالی نے فرمایا کہ دنیا میں عزت و جاہ کی محبت تین شرطوں کے ساتھ جائز ہے۔ اول یہ ہے کہ اس سے مقصود اپنے آپ کو بڑا اور اس کے بالمقابل دوسرے کو چھوٹا یا حقیہ قرار دینا نہ ہو بلکہ آخرت کے فائدہ کے لئے ہو کہ لوگ میرے معتقد ہو کر نیک اعمال میں میرا اتباع کریں۔ دوسرے یہ کہ جھوٹی ثناء خوانی مقصود نہ ہو کہ جو صفت اپنے اندر نہیں ہے لوگوں سے اس کی خواہش رکھے کہ وہ اس صفت میں اس کی تعریف کریں۔ تیسرے یہ کہ اس کے حاصل کرنے کے لئے کسی گناہ یا دین کے معاملے میں مداہنت اختیار نہ کرنی پڑے۔
Ayahs 26:86–87مشرکین کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں
وَاغْفِرْ لِاَبِيْٓ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ ، قرآن مجید کے اس فرمان کے بعد مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ) اب کسی ایسے شخص کے لئے جس کا کفر پر مرنا یقینی ہو استغفار اور دعائے مغفرت طلب کرنا ناجائز اور حرام ہے کیونکہ آیت مبارکہ کا ترجمہ یہ ہے کہ کسی نبی اور ایمانداروں کے لئے یہ قطعاً جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لئے مغفرت طلب کریں خواہ وہ اس کے رشتہ دار اور قریبی ہی کیوں نہ ہوں جبکہ ان کا جہنمی ہونا بالکل واضح ہوچکا ہو۔
ایک سوال و جواب
اب یہاں یہ سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ اس نہی اور ممانعت کے بعد پھر حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے مشرک باپ کے لئے کیوں دعائے مغفرت مانگی۔ اس کا جواب خود اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں دے دیا کہ وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ (توبہ)
جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے باپ کے لئے ان کی زندگی میں استغفار اس نیت اور خیال سے کی تھی کہ اللہ رب العزت ان کو ایمان لانے کی توفیق دے جس کے بعد مغفرت یقینی ہے یا حضرت ابراہیم ؑ کا یہ خیال تھا کہ میرا باپ خفیہ طور پر ایمان لے آیا ہے اگرچہ اس کا اظہار اور اعلان نہیں کیا لیکن جب حضرت ابراہیم ؑ کو معلوم ہوگیا کہ میرا باپ تو کفر پر مرا ہے تو انہوں نے اپنی پوری بیزاری اور براة کا اظہار فرمایا۔ (فائدہ) اس بات کی تحقیق کہ حضرت ابراہیم ؑ کو باپ کا کفر اور شرک اپنے باپ کی زندگی میں معلوم ہوگیا تھا یا مرنے کے بعد یا قیامت کے روز ہوگا، اس کی پوری تفصیل سورة توبہ میں مذکور ہے۔
Ayahs 26:88–104يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ ، اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ ، یعنی قیامت کے اس دن میں جس میں نہ کوئی مال کسی کو فائدہ دے گا نہ اس کی نرینہ اولاد بجز اس شخص کے جو اللہ کے پاس قلب سلیم لے کر پہنچے۔ اس آیت کی تفسیر بعض حضرات نے استثناء کو استثنائے منقطع قرار دے کر یہ کی ہے کہ اس روز کسی کو نہ اس کا مال کام آوے گا نہ اولاد، ہاں کام آئے گا تو صرف اپنا قلب سلیم جس میں شرک و کفر نہ ہو اور اس جملے کی مثال ایسی ہوگی جیسے کوئی شخص زید کے متعلق کسی سے پوچھے کہ کیا زید کے پاس مال اور اولاد بھی ہے وہ اس کے جواب میں کہے اس کا مال و اولاد تو اس کا قلب سلیم ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مال و اولاد تو کچھ نہیں مگر ان سب کے بدلے اس کے پاس اپنا قلب سلیم موجود ہے۔ خلاصہ مضمون آیت کا اس تفسیر پر یہ ہوتا ہے کہ مال یا اولاد تو اس روز کچھ کام نہ آئیں گے، کام صرف اپنا ایمان اور عمل صالح آئے گا جس کو قلب سلیم سے تعبیر کردیا گیا ہے اور مشہور تفسیر اکثر مفسرین کے نزدیک یہ ہے کہ استثناء متصل ہے اور معنے یہ ہیں کہ مال اور اولاد قیامت کے روز کسی شخص کے کام نہ آئیں گے بجز اس شخص کے جس کا قلب سلیم ہے یعنی وہ مومن ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ یہ سب چیزیں قیامت میں بھی مفید و نافع ہو سکتی ہیں مگر صرف مومن کے لئے نفع بخش ہوں گی کافر کو کچھ نفع نہ دیں گی۔ یہاں ایک بات یہ قابل نظر ہے کہ اس جگہ قرآن کریم نے وّلَا بَنُوْنَ فرمایا جس کے معنے نرینہ اولاد کے ہیں عام اولاد کا ذکر غالباً اس لئے نہیں کیا کہ آڑے وقت میں کام آنے کی توقع دنیا میں بھی نرینہ اولاد یعنی لڑکوں ہی سے ہو سکتی ہے لڑکیوں سے کسی مصیبت کے وقت امداد ملنے کا تو یہاں بھی احتمال شاذ و نادر ہی ہوتا ہے اس لئے قیامت میں بالتخصیص لڑکوں کے غیر نافع ہونے کا ذکر کیا گیا جن سے دنیا میں توقع نفع کی رکھی جاتی تھی۔
دوسری بات یہ ہے کہ قلب سلیم کے لفظی معنے تندرست دل کے ہیں۔ ابن عباس نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ قلب ہے جو کلمہ توحید کی گواہی دے اور شرک سے پاک ہو، یہی مضمون مجاہد حسن بصری سعید بن مسیب سے بعنوان مختلف منقول ہے۔ سعید بن مسیب نے فرمایا کہ تندرست دل صرف مومن کا ہوسکتا ہے۔ کافر کا دل بیمار ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کا ارشاد ہے فِىْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ
مال و اولاد اور خاندانی تعلقات آخرت میں بھی بشرط ایمان نفع پہنچا سکتے ہیں
آیت مذکورہ کی مشہور تفسیر کے مطابق معلوم ہوا کہ انسان کا مال قیامت کے روز بھی اس کے کام آسکتا ہے بشرطیکہ وہ مسلمان ہو۔ اس کی صورت یہ ہے کہ جس شخص نے دنیا میں اپنا مال اللہ کی راہ اور نیک کاموں میں خرچ کیا تھا یا کوئی صدقہ جاریہ کر کے چھوڑا تھا۔ اگر اس کا خاتمہ ایمان پر ہوا محشر میں مومنین کی فہرست میں داخل ہوا تو یہاں کا خرچ کیا ہوا مال اور صدقہ جاریہ کا ثواب اس کو میدان حشر اور میزان حساب میں بھی کام آوے گا اور اگر یہ شخص مسلمان نہیں تھا یا خدانخواستہ مرنے سے پہلے ایمان سے نکل گیا تو اب دنیا میں کیا ہوا کوئی نیک عمل اس کے کام نہ آوے گا اور اولاد کا بھی یہی معاملہ ہے کہ اگر یہ شخص مسلمان ہے تو آخرت میں بھی اس کو اولاد کا فائدہ پہنچ سکتا ہے اس طرح سے کہ اس کے بعد اس کی اولاد اس کے لئے دعائے مغفرت کرے یا ایصال ثواب کرے، اور اس طرح بھی کہ اس نے اولاد کو نیک بنانے کی کوشش کی تھی اس لئے ان کے نیک عمل کا ثواب اس کو بھی خود بخود ملتا رہا اور اس کے نامہ اعمال میں درج ہوتا رہا اور اس طرح بھی کہ اولاد محشر میں اس کی شفاعت کر کے بخشوا لے جیسا کہ بعض روایات حدیث میں ایسی شفاعت کرنا اور اس کا قبول ہونا ثابت ہے خصوصاً نابالغ اولاد کا۔ اسی طرح اولاد کو ماں باپ سے بھی آخرت میں بشرط ایمان یہ نفع پہنچے گا کہ اگر یہ مسلمان ہوئے مگر ان کے اعمال صالحہ ماں باپ کے درجے کو نہیں پہنچے تو اللہ تعالیٰ ان کے باپ دادا کی رعایت کر کے ان کو بھی اسی مقام بلند میں پہنچا دیں گے جو ان کے باپ دادا کا مقام ہے، قرآن کریم میں اس کی تصریح اس طرح مذکور ہے وَ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ یعنی ہم ملا دیں گے اپنے نیک بندوں کے ساتھ ان کی ذریت کو بھی۔ اس آیت کی مذکور الصدر مشہور تفسیر سے معلوم ہوا کہ قرآن حدیث میں جہاں کہیں یہ مذکور ہے کہ قیامت میں خاندانی تعلق کچھ کام نہ آوے گا اس کی مراد یہ ہے کہ غیر مومن کو کام نہ آوے گا یہاں تک کہ پیغمبر کی اولاد اور بیوی بھی اگر مومن نہیں تو ان کی پیغمبری سے ان کو قیامت میں کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا جیسا کہ حضرت نوح ؑ کے بیٹے اور لوط ؑ کی بیوی اور ابراہیم ؑ کے والد کا معاملہ ہے۔ آیات قرآن فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ اور يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ وَاُمِّهٖ وَاَبِيْهِ) اور لّا يَجْزِيْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ) ان سب آیات کا یہی مفوم ہوسکتا ہے۔ واللہ اعلم
Ayahs 26:105–108خلاصہ تفسیر
قوم نوح نے پیغمبروں کو جھٹلایا (کیونکہ ایک پیغمبر کی تکذیب سے سب کی تکذیب لازم آتی ہے) جبکہ ان سے ان کی برادری کے بھائی نوح ؑ نے فرمایا کہ کیا تم (خدا سے) نہیں ڈرتے ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں (کہ بعینہ پیغام خداوندی بلا کمی بیشی پہنچا دیتا ہوں) سو (اس کا مقتضی یہ ہے کہ) تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو اور (نیز) میں تم سے کوئی (دنیوی) صلہ (بھی) نہیں مانگتا میرا صلہ تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے سو (میری اس بےغرضی کا مقتضی بھی یہ ہے کہ) تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔ وہ لوگ کہنے لگے کہ کیا ہم تم کو مانیں گے حالانکہ رذیل لوگ تمہارے ساتھ ہو لئے ہیں (جن کی موافقت سے شرفاء کو عار آتی ہے اور نیز اکثر ایسے کم حوصلہ لوگوں کا مقصد کسی کے ساتھ لگنے سے کچھ مال یا جاہ حاصل کرنا ہوتا ہے، ان کا دعوی ایمان بھی قابل اعتبار نہیں) نوح ؑ نے فرمایا کہ ان کے (پیشہ ورانہ) کام سے مجھ کو کیا بحث (خواہ شریف ہوں یا رذیل ہوں دین میں اس تفاوت کا کیا اثر رہا ؟ یہ احتمال کہ ان کا ایمان دل سے نہیں سو اس پر) ان سے حساب و کتاب لینا بس خدا کا کام ہے۔ کیا خوب ہو کہ تم اس کو سمجھو اور (رذالت پیشہ لوگوں کو اپنے ایمان کا مانع قرار دینے سے جو اشارةً یہ درخواست نکلتی ہے کہ میں ان کو اپنے پاس سے دور کروں تو) میں ایمانداروں کو دور کرنے والا نہیں ہوں (خواہ تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ میرا کوئی ضرر نہیں کیونکہ) میں تو صاف طور پر ایک ڈرانے والا ہوں (اور تبلیغ سے میرا فرض منصبی پورا ہوجاتا ہے، آگے اپنا نفع و نقصان تم لوگ دیکھ لو) وہ لوگ کہنے لگے اگر تم (اس کہنے سننے سے) اے نوح باز نہ آؤ گے تو ضرور سنگسار کردیئے جاؤ گے (غرض جب سالہا سال اس طرح گزر گئے تب) نوح ؑ نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار میری قوم مجھ کو (برابر) جھٹلا رہی ہے سو آپ میرے اور ان کے درمیان ایک (عملی) فیصلہ کر دیجئے (یعنی ان کو ہلاک کر دیجئے) اور مجھ کو اور جو ایماندار میرے ساتھ ہیں ان کو (اس ہلاکت سے) نجات دیجئے تو ہم نے (ان کی دعا قبول کی اور) ان کو اور جو ان کے ساتھ بھری ہوئی کشتی میں (سوار) تھے ان کو نجات دی پھر اس کے بعد ہم نے باقی لوگوں کو غرق کردیا اس (واقعہ) میں (بھی) بڑی عبرت ہے اور (باوجود اس کے) ان (کفار مکہ) میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے، بیشک آپ کا رب زبردست (اور) مہربان ہے (کہ باوجود عذاب پر قادر ہونے کے ان کو مہلت دیئے ہوئے ہے۔)