Ayahs 26:34–42خلاصہ تفسیر
(حضرت موسیٰ ؑ کے جو یہ معجزات ظاہر ہوئے تو) فرعون نے اہل دربار سے جو اس کے آس پاس (بیٹھے) تھے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بڑا ماہر جادوگر ہے اس کا (اصل) مطلب یہ ہے کہ اپنے جادو (کے زور) سے (خود رئیس ہوجاوے اور) تم کو تمہاری زمین سے باہر کر دے (تاکہ بلا مزاحمت غیر اپنی قوم کو لے کر ریاست کرے) سو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ درباریوں نے کہا کہ آپ ان کو اور ان کے بھائی کو (چندے) مہلت دیجئے اور (اپنے ملک کے حدود کے) شہروں میں (گرد اوروں کو یعنی) چپراسیوں کو (حکمنامے دے کر) بھیج دیجئے کہ وہ (سب شہروں سے) سب ماہر جادوگروں کو (جمع کر کے) آپ کے پاس لا کر حاضر کردیں، غرض وہ جادوگر ایک معین دن کے خاص وقت پر جمع کر لئے گئے (معین دن سے مراد یوم الزینت ہے اور خاص وقت سے مراد وقت چاشت ہے جیسے سورة طہ کے شروع رکوع سوم میں مذکور ہے، یعنی اس وقت کے قریب تک سب لوگ جمع کر لئے گئے اور فرعون کو جمع ہونے کی اطلاع دے دیگئی) اور (فرعون کی جانب سے بطور اعلان عام کے) لوگوں کو یہ اشتہار دیا گیا کہ کیا تم لوگ (فلاں موقع پر واقعہ دیکھنے کے لئے) جمع ہوگے (یعنی جمع ہوجاؤ) تاکہ اگر جادوگر غالب آ جاویں (جیسا کہ غالب توقع ہے) تو ہم انہیں کی راہ پر رہیں (یعنی وہی راہ جس پر فرعون تھا اور دوسروں کو بھی اس پر رکھنا چاہتا تھا۔ مطلب یہ کہ جمع ہو کر دیکھو، امید ہے کہ جادوگر غالب رہیں گے تو ہم لوگوں کے طریق کا حق ہونا حجت سے ثابت ہوجائے گا) پھر جب وہ جادوگر (فرعون کی پیشی میں) آئے تو فرعون سے کہنے لگے کہ اگر (موسیٰ ؑ پر ہم غالب آگئے تو کیا ہم کو کوئی بڑا صلہ (اور انعام) ملے گا، فرعون نے کہا ہاں (انعام مالی بھی بڑا ملے گا) اور (مزید برآں یہ مرتبہ ملے گا کہ) تم اس صورت میں (ہمارے) مقرب لوگوں میں داخل ہوجاؤ گے (غرض اس گفتگو کے بعد عین موقعہ مقابلہ پر آئے اور دوسری طرف موسیٰ ؑ تشریف لائے اور مقابلہ شروع ہوا اور ساحروں نے موسیٰ ؑ سے عرض کیا کہ آپ اپنا عصا پہلے ڈالئے گا یا ہم ڈالیں) موسیٰ ؑ نے ان سے فرمایا کہ تم کو جو کچھ ڈالنا (منظور) ہو (میدان میں) ڈالو، سو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں (جو جادو کے اثر سے سانپ معلوم ہوتے تھے) اور کہنے لگے کہ فرعون کے نصیب کی قسم بیشک ہم ہی غالب آویں گے، پھر موسیٰ ؑ نے (بحکم خداوندی) اپنا عصا ڈالا، ڈالنے کے ساتھ ہی (اژدھا بن کر) ان کے تمام تر بنے بنائے دھندے کو نگلنا شروع کردیا سو (یہ دیکھ کر) جادوگر (ایسے متاثر ہوئے کہ) سب سجدہ میں گر پڑے (اور پکار پکار کر) کہنے لگے کہ ہم ایمان لے آئے رب العالمین پر جو موسیٰ اور و ہارون (علیہما السلام) کا بھی رب ہے، (فرعون بڑا گھبرایا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ساری رعایا ہی مسلمان ہوجاوے تو ایک مضمون گھڑ کر بصورت عتاب ساحروں سے) کہنے لگا کہ ہاں تم موسیٰ پر ایمان لے آئے بغیر اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں ضرور (معلوم ہوتا ہے کہ) یہ (جادو میں) تم سب کا استاد ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے (اور تم اس کے شاگرد ہو اس لئے باہم خفیہ سازش کرلی ہے کہ تم یوں کرنا ہم یوں کریں گے پھر اس طرح ہار جیت ظاہر کریں گے تاکہ قبطیوں سے سلطنت لے کر بفراغ خاطر خود ریاست کرو کقولہ تعالیٰ (اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِي الْمَدِيْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَآ اَهْلَهَا) سو اب تم کو حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے (اور وہ یہ ہے کہ) میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا اور تم سب کو سولی پر ٹانگ دوں گا (تاکہ اور عبرت ہو) انہوں نے جواب دیا کہ کچھ حرج نہیں ہم اپنے مالک کے پاس جا پہنچیں گے (جہاں ہر طرح امن و راحت ہے پھر ایسے مرنے سے نقصان ہی کیا اور) ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا پروردگار ہماری خطاؤں کو معاف کر دے اس وجہ سے کہ ہم (اس موقع پر حاضرین میں سے) سب سے پہلے ایمان لائے (پس اس پر یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ ان سے پہلے بعضے ایمان لا چکے تھے جیسے آسیہ اور مومن آل فرعون اور بنی اسرائیل)
Ayah 26:43معارف و مسائل
اَلْقُوْا مَآ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ ، یعنی حضرت موسیٰ ؑ نے جادوگروں سے کہا کہ آپ جو کچھ جادو دکھانا چاہتے ہو وہ دکھاؤ۔ اس پر سرسری نظر ڈالنے سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ ان کو جادو کا حکم دے رہے ہیں لیکن ذرا سے غور سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ حضرت موسیٰ ؑ کی طرف سے جادو دکھانے کا حکم نہیں تھا بلکہ جو کچھ وہ کرنے والے تھے اس کا ابطال مقصود تھا لیکن اس کا باطل ہونا بغیر اس کے ظاہر کرنے کے ناممکن تھا اس لئے آپ نے ان کو اظہار جادو کا حکم دیا جیسے کہ ایک زندیق کو کہا جائے کہ تم اپنے زندقہ اور بےدینی کے دلائل پیش کرو تاکہ میں ان کو باطل ثابت کرسکوں ظاہر ہے کہ اسے کفر پر رضامندی نہیں کہا جاسکتا۔
Ayahs 26:44–49بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ ، یہ کلمہ ان جادوگروں کے لئے بمنزلہ قسم ہے جو زمانہ جاہلیت میں رائج تھی۔ افسوس کہ مسلمانوں میں بھی اب ایسی قسمیں رائج ہوگئی ہیں جو اس سے زیادہ شنیع اور قبیح ہیں مثلاً بادشاہ کی قسم، تیرے سر کی قسم، تیری ڈاڑھی کی قسم یا تیرے باپ کی قبر کی قسم، اس قسم کی قسمیں کھانا شرعاً جائز نہیں، بلکہ ان کے متعلق یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ خدا کے نام کی جھوٹی قسم کھانے میں جو گناہ عظیم ہے ان ناموں کی سچی قسم بھی گناہ میں اس سے کم نہیں (کما فی الروح)
Ayahs 26:50–51قَالُوْا لَا ضَيْرَ ۡ اِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ، یعنی جب فرعون نے جادوگروں کو قبول ایمان پر قتل کی اور ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی چڑھانے کی دھمکی دی تو جادوگروں نے بڑی بےپروائی سے یہ جواب دیا کہ تم جو کچھ کرسکتے ہو کرلو۔ ہمارا کوئی نقصان نہیں، ہم قتل بھی ہوں گے تو اپنے رب کے پاس چلے جائیں گے جہاں آرام ہی آرام ہے۔
یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ جادوگر جو عمر بھر جادوگری کے کفر میں مبتلا، اس پر مزید فرعون کے دعویٰ خدائی کو ماننے والے اور اس کی پرستش کرنے والے تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ کا معجزہ دیکھ کر اپنی پوری قوم کے خلاف، فرعون جیسے ظالم جابر بادشاہ کے خلاف ایمان کا اعلان کردیں یہی ایک حیرت انگیز چیز تھی مگر یہاں تو صرف ایمان کا اعلان ہی نہیں بلکہ ایمان کا وہ گہرا رنگ چڑھ جانے کا مظاہرہ ہے کہ قیامت و آخرت گویا ان کے سامنے نظر آنے لگی۔ آخرت کی نعمتوں کا مشاہدہ ہونے لگا ہے جس کے مقابلے میں دنیا کی ہر سزا اور مصیبت سے بےنیاز ہو کر (فَاقْضِ مَآ اَنْتَ قَاضٍ) کہہ دیا یعنی جو تیرا جی چاہے کرلے ہم تو ایمان سے پھرنے والے نہیں۔ یہ بھی درحقیقت حضرت موسیٰ ؑ ہی کا معجزہ ہے جو معجزہ عصا اور ید بیضاء سے کم نہیں، اسی طرح کے بہت سے واقعات ہمارے رسول محمد مصطفے ٰ ﷺ کے ہاتھوں ظاہر ہوئے ہیں کہ ایک منٹ میں ستر برس کے کافر میں ایسا انقلاب آ گیا کہ صرف مومن ہی نہیں ہوگیا بلکہ غازی بن کر شہید ہونے کی تمنا کرنے لگا۔
Ayahs 26:52–58خلاصہ تفسیر
اور (جب فرعون کو اس واقعہ سے بھی ہدایت نہ ہوئی اور اس نے بنی اسرائیل کی آزار دہی نہ چھوڑی تو) ہم نے موسیٰ ؑ کو حکم بھیجا کہ میرے (ان) بندوں کو (یعنی بنی اسرائیل کو) شبا شب (مصر سے باہر) نکال لے جاؤ (اور فرعون کی جانب سے) تم لوگوں کا تعاقب (بھی) کیا جاوے گا (چنانچہ وہ موافق حکم کے بنی اسرائیل کو لے کر رات کو چل دیئے صبح یہ خبر مشہور ہوئی تو) فرعون نے (تعاقب کی تدبیر کرنے کے لئے جا بجا آس پاس کے) شہروں میں چپراسی دوڑا دیئے (اور یہ کہلا بھیجا) کہ یہ لوگ (یعنی بنی اسرائیل ہماری نسبت) تھوڑی سی جماعت ہے (ان کے مقابلہ سے کوئی اندیشہ نہ کرے) اور انہوں نے (اپنی کارروائی سے) ہم کو بہت غصہ دلایا ہے (وہ کارروائی یہ ہے کہ خفیہ چالاکی سے نکل گئے یا یہ کہ زیور بھی ہمارا بہت سا عاریت کے بہانے سے لے گئے غرض ہم کو احمق بنا کر گئے ضرور ان کا تدارک کرنا چاہئے) اور ہم سب ایک مسلح جماعت (اور باقاعدہ فوج) ہیں، غرض (دو چار روز میں جب سامان اور فوج سے درست ہوگیا تو لاؤ لشکر لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں چلا اور یہ خبر نہ تھی کہ اب لوٹنا نصیب نہ ہوگا تو اس حساب سے گویا) ہم نے ان کو باغوں سے اور چشموں سے اور خزانوں سے اور عمدہ مکانات سے نکال باہر کیا (ہم نے ان کے ساتھ تو) یوں کیا اور ان کے بعد بنی اسرائیل کو ان کا مالک بنادیا (یہ جملہ معترضہ تھا آگے قصہ ہے (غرض ایک روز) سورج نکلنے کے وقت ان کو پیچھے سے جا لیا (یعنی قریب پہنچ گئے اس وقت بنی اسرائیل دریائے قلزم سے اترنے کی فکر میں تھے کہ کیا سامان کریں) پھر جب دونوں جماعتیں (باہم ایسی قریب ہوئیں کہ) ایک دسرے کو دیکھنے لگیں تو موسیٰ ؑ کے ہمراہی (گھبرا کر) کہنے لگے کہ (اے موسی) بس ہم تو ان کے ہاتھ آگئے، موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ ہرگز نہیں کیونکہ میرے ہمراہ میرا پروردگار ہے وہ مجھ کو ابھی (دریا سے نکلنے کا) رستہ بتلا دے گا (کیونکہ موسیٰ ؑ کو روانگی کے وقت ہی کہہ ددیا گیا تھا کہ سمندر میں خشک راستہ پیدا ہوجائے گا۔ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيْقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّلَا تَخْشٰى گو خشک ہونے کی کیفیت اس وقت نہ بتلائی تھی، پس موسیٰ ؑ اس وعدہ پر مطمئن تھے اور بنی اسرائیل کیفیت معلوم نہ ہونے سے مضطرب تھے) پھر ہم نے موسیٰ ؑ کو حکم دیا کہ اپنی عصا کو دریا پر مارو چناچہ (انہوں نے اس پر عصا مارا جس سے) وہ (دریا) پھٹ (کر کئی حصے ہو) گیا (یعنی پانی کئی جگہ سے ادھر ادھر ہٹ کر بیچ میں متعدد سڑکیں کھل گئیں) اور ہر حصہ اتنا (بڑا) تھا جیسا بڑا پہاڑ (یہ لوگ دربار میں امن و اطمینان سے پار ہوگئے، اور ہم نے دوسرے فریق کو بھی اس موقع کے قریب پہنچا دیا (یعنی فرعون اور فرعونی بھی دریا کے نزدیک پہنچے اور موافق پیشنگوئی سابق واتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا دریا اس وقت تک اسی حال پر ٹھہرا ہوا تھا، اس لئے کھلے رستہ کو غنیمت سمجھا اور آگا پیچھا کچھ سوچا نہیں، سارا لشکر اندر گھس گیا اور چاروں طرف سے پانی سمٹنا شروع ہوا اور سارے لشکر کا کام تمام ہوا) اور (انجام قصہ کا یہ ہوا کہ) ہم نے موسیٰ ؑ کو اور ان کے ساتھ والوں سب کو (غرق ہونے سے) بچا لیا، پھر دوسروں کو (یعنی ان کے مخالفوں کو) غرق کردیا (اور) اس واقعہ میں بھی بڑی عبرت ہے (یعنی اس قابل ہے کہ کفار اس سے استدلال کریں کہ مخالفت احکام و رسول موجب عذاب خداوندی ہے اور اس کو سمجھ کر مخالفت سے بچیں) اور (باوجود اس کے) ان (کفار مکہ) میں اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے اور آپ کا رب بڑا زبردست ہی (اگر چاہتا دنیا میں ہی ان کو عذاب دیتا لیکن) بڑا مہربان (بھی) ہے (اس لئے اپنی رحمت عامہ سے عذاب کی مہلت مقرر کردی ہے، پس تعجیل عذاب سے بےفکر نہ ہونا چاہئے۔)
Ayahs 26:59–60معارف و مسائل
وَاَوْرَثْنٰهَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ، اس آیت میں بظاہر یہ تصریح ہے کہ قوم فرعون کی چھوڑی ہوئی املاک اور جائیداد، باغات و خزائن امالک غرق فرعون کے بعد بنی اسرائیل کو بنادیا گیا، لیکن اس میں ایک تاریخی اشکال یہ ہے کہ خود قرآن کی متعدد آیات اس پر شاہد ہیں کہ قوم فرعون کی ہلاکت کے بعد بنی اسرائیل مصر کی طرف نہیں لوٹے بلکہ اپنے اصلی وطن ارض مقدس شام کی طرف روانہ ہوئی، وہیں ان کو ایک کافر قوم سے جہاد کر کے ان کے شہر کو فتح کرنے کا حکم ملا، جس کی تعمیل سے بنی اسرائیل نے انکار کردیا اس پر بطور عذاب کے اس کھلے میدان میں جس میں بنی اسرائیل موجود تھے ایک قدرتی جیل خانہ بنادیا گیا کہ وہ اس میدان سے نکل نہیں سکتے تھے اسی حالت میں چالیس سال گذرے اور اسی وادی تیہ میں ان کے دونوں پیغمبروں حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کی وفات ہوگئی۔ اس کے بعد بھی کتب تاریخ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی وقت بنی اسرائیل اجتماعی اور قومی صورت سے مصر میں داخل ہوئی ہوں کہ قوم فرعون کی جائیداد و خزائن پر ان کا قبضہ ہوا ہو۔ تفسیر روح المعانی میں سورة شعرآء کی اسی آیت کے تحت اس کے دو جواب ائمہ تفسیر حضرت حسن و قتادہ کے حوالہ سے نقل کئے ہیں حضرت حسن کا ارشاد ہے کہ آیت مذکورہ میں بنی اسرائیل کو فرعونی متروکہ جائیداد کا وارث بنانے کا ذکر ہے مگر یہ کہیں مذکور نہیں کہ یہ واقعہ ہلاک فرعون کے فوراً بعد ہوجائے گا، وادی تیہ کے واقعہ اور چالیس پچاس سال کے بعد بھی اگر وہ مصر میں داخل ہوئی ہوں تو آیت کے مفہوم میں کوئی فرق نہیں آتا۔ رہا یہ امر کہ تاریخ سے ان کا اجتماعی داخلہ مصر ثابت نہیں، تو یہ اعتراض اس لئے قابل التفات نہیں ہے کہ اس زمانہ کی تاریخ یہود و نصاری کی لکھی ہوئی اکاذیب سے بھرپور ہے جو کسی طرح قابل اعتماد نہیں، اس کی وجہ سے آیت قرآن میں کوئی تاویل کرنے کی ضرورت نہیں۔ حضرت قتادہ نے فرمایا کہ اس واقعہ کے مطابق جتنی آیات قرآن کریم کی متعدد سورتوں میں آئی ہیں مثلاً سورة اعراف آیت نمبر 128 و نمبر 137 اور سورة قصص آیت نمبر 5 اور سورة دخان کی آیات 25 تا 28 اور سورة شعرا کی آیت مذکورہ نمبر 59 ان سب کے ظاہر سے اگرچہ ذہن اس طرف جاتا ہے کہ بنی اسرائیل کو خاص انہیں باغات اور جائیدادوں کا مالک بنایا گیا تھا جو قوم فرعون نے ارض مصر میں چھوڑی تھیں جس کے لئے بنی اسرائیل کا مصر کی طرف لوٹنا ضروری ہے لیکن ان سب آیتوں کے الفاظ میں اس کی بھی واضح گنجائش موجود ہے کہ مراد ان سے یہ ہو کہ بنی اسرائیل کو اسی طرح کے خزائن اور باغات وغیرہ کا مالک بنادیا گیا جس طرح کے باغات قوم فرعون کے پاس تھے۔ جس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ ارض مصر ہی میں پہنچ کر حاصل ہوں بلکہ ارض شام میں بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔ اور سورة اعراف کی آیت میں الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا کے الفاظ سے ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ارض شام مراد ہے کیونکہ قرآن کریم کی متعدد آیات میں بارکنا وغیرہ کے الفاظ اکثر ارض شام ہی کے بارے میں آئی ہیں اس لئے حضرت قتادہ کا قول یہ ہے کہ بلاضرورت آیات قرآن کو ایسے محمل پر محمول کرنا جو تاریخ عالم سے متصادم ہو درست نہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر واقعات سے یہ ثابت ہوجائے کہ ہلاک فرعون کے بعد کسی وقت بھی بنی اسرئایل اجتماعی صورت سے مصر پر قابض نہیں ہوئے تو حضرت قتادہ کی تفسیر کے مطابق ان تمام آیات میں ارض شام اور اس کے باغات و خزائن کا وارث ہونا مراد لیا جاسکتا ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Ayah 26:61قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰٓي اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَ ، قَالَ كَلَّا ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ ، اس وقت جبکہ فرعونی لشکر جو ان کے تعاقب میں تھا جب بالکل سامنے آ گیا تو پوری قوم بنی اسرائیل چلا اٹھی کہ ہم تو پکڑ لئے گئے اور پکڑے جانے میں شبہ اور دیر ہی کیا تھی کہ پیچھے یہ لشکر جرار اور آگے دریا حائل یہ صورت حال موسیٰ ؑ سے بھی غائب نہ تھی مگر وہ کوہ استقامت اللہ کے وعدہ پر یقین کئے ہوئے اس وقت بھی بڑی زور سے کہتے ہیں كَلَّا ہرگز نہیں پکڑے جاسکتے
Ayahs 26:62–68اور وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ میرے ساتھ میرا پروردگار ہے جو مجھے راستہ دے گا۔ ایمان کا امتحان ایسے ہی مواقع میں ہوتا ہے کہ موسیٰ ؑ پر ذرا ہراس نہیں تھا، وہ گویا راستہ بچنے کا آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ اسی طرح کا بعینہ واقعہ ہجرت کے وقت غار ثور میں چھپنے کے وقت رسول کریم ﷺ کو پیش آیا تھا کہ دشمن جو آپ کے تعاقب میں تھے اس غار کے دہانے پر آکھڑے ہوئے ذرا نیچے نظر کریں تو آپ ان کے سامنے آجائیں اس وقت صدیق اکبر کو گھبراہٹ ہوئی تو آپ نے بعینہ یہی جواب دیا لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا کہ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ ان دونوں واقعات میں ایک بات یہ بھی قابل نظر ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کو تسلی دینے کے لئے کہا اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ میرے ساتھ میرا رب اور رسول اللہ ﷺ نے جواب مَعَنَا فرمایا کہ ہم دونوں کے ساتھ ہمارا رب ہے، یہ امت محمدیہ کی خصوصیت ہے کہ اس کے افراد بھی اپنے رسول کے ساتھ معیت الہیہ سے سرفراز ہیں۔