25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsمعارف القرآن

Ayah 25:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

بڑی برکت ہے اس کی جس نے اتاری فیصلہ کی کتاب اپنے بندہ پر تاکہ رہے جہان والوں کے لئے ڈرانے والا

خلاصہ تفسیر بڑی عالی شان ذات ہے جس نے یہ فیصلہ کی کتاب (یعنی قرآن) اپنے خاص بندے (محمد ﷺ پر نازل فرمائی تاکہ وہ تمام دنیا جہاں والوں کے لئے (ایمان نہ لانے کی صورت میں عذاب الٰہی سے) ڈرانے والا ہو، ایسی ذات جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی حکومت حاصل ہے اور اس نے کسی کو (اپنی) اولاد قرار نہیں دیا اور نہ کوئی اس کا شریک ہے حکومت میں اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر سب کا الگ الگ انداز رکھا (کہ کسی چیز کے آثار و خواص کچھ ہیں کسی کے کچھ ہیں) اور ان مشرکین نے خدا کو چھوڑ کر اور ایسے معبود قرار دے لئے ہیں جو (کسی طرح معبود ہونے کے قابل نہیں کیونکہ وہ) کسی چیز کے خالق نہیں اور بلکہ وہ مخلوق ہیں اور خود اپنے لئے نہ کسی نقصان (کے رفع کرنے) کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ کسی نفع (کے حاصل کرنے) کا اور نہ کسی کے مرنے کا اختیار رکھتے ہیں (کہ کسی جاندار کی جان نکال سکیں) اور نہ کسی کے جینے کا (اختیار رکھتے ہیں کہ کسی بےجان میں جان ڈال دیں) اور نہ کسی کو (قیامت میں) دوبارہ زندہ کرنے کا (اختیار رکھتے ہیں۔ اور جو شخص ان چیزوں پر قدرت نہیں رکھتا وہ معبود نہیں ہوسکتا) معارف وسائل خصوصیات سورت یہ پوری سورت جمہور مفسرین کے نزدیک مکی ہے۔ حضرت ابن عباس و قتادہ نے تین آیتوں کے متعلق بیان فرمایا کہ یہ مکی نہیں مدنی ہیں۔ باقی سورت مکی ہے اور بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے اور اس میں کچھ آیات مکی ہیں (قرطبی) اور خلاصہ اس سورت کے مضامین کا قرآن کریم کی عظمت اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کی حقانیت کا بیان اور دشمنوں کی طرف سے اس پر جو اعتراضات تھے ان کا جواب ہے۔ تَبٰرَكَ ، برکت سے مشتق ہے۔ برکت کے معنے خیر کی کثرت کے ہیں۔ ابن عباس نے فرمایا کہ معنی آیت کے یہ ہیں کہ ہر خیر و برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ فُرْقَانَ ، قرآن کریم کا لقب ہے لغوی معنی اس کے تمیز اور فرق کرنے کے ہیں۔ قرآن چونکہ اپنے واضح ارشادات کے ذریعہ حق و باطل میں تمیز اور فرق بتلاتا ہے اور معجزہ کے ذریعہ اہل حق و اہل باطل میں امتیاز کردیتا ہے اس لئے اس کو فرقان کہا جاتا ہے۔ لِلْعٰلَمِيْنَ ، اس سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت و نبوت سارے عالم کے لئے ہے بخلاف پچھلے انبیاء کے ان کی نبوت و رسالت کسی مخصوص جماعت یا مخصوص مقام کے لئے ہوتی تھی۔ صحیح مسلم کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے جو اپنے چھ خصوصی فضائل کا ذکر فرمایا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ کی بعثت سارے جہان کے لئے عام ہے۔
Ayahs 25:2–3

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

وہ کہ جس کی ہے سلطنت آسمان اور زمین میں اور نہیں پکڑا اس نے بیٹا اور نہیں کوئی اس کا ساجھی سلطنت میں اور بتائی ہر چیز پھر ٹھیک کیا اس کو ماپ کر

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور لوگوں نے پکڑ رکھے ہیں اس سے ورے کتنے حاکم جو نہیں بناتے کچھ چیز اور وہ خود بنائے گئے ہیں اور نہیں مالک اپنے حق میں برے کے اور نہ بھلے کے اور نہیں مالک مرنے کے اور نہ جینے کے اور نہ جی اٹھنے کے۔

فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا، تخلیق کے بعد تقدیر کا ذکر فرمایا گیا۔ تخلیق کے معنی تو اتنے ہیں کہ بغیر کسی سابق مادہ وغیرہ کے ایک چیز کو عدم سے وجود میں لایا جائے وہ کیسی بھی ہو۔ مخلوقات میں سے ہر ایک چیز میں خاص خاص حکمتیں اور تقدیر کا مفہوم یہ ہے کہ جس چیز کو بھی پیدا فرمایا اس کے اجزاء کی ساخت اور شکل و صورت اور آثار و خواص بڑی حکمت کے ساتھ اس کام کے مناسب پیدا کئے جس کام کے لئے اس چیز کو پیدا کیا گیا ہے۔ آسمان کی ساخت اس کے اجزاء ترکیبی اس کی ہیئت اس کام کے مناسب ہے، جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے آسمان بنایا ہے۔ سیاروں اور ستاروں کی تخلیق میں وہ چیزیں رکھی گئیں جو ان کے منشاء وجود کے مناسب ہیں۔ زمین اور اس کے پیٹ میں پیدا ہونے والی ہر چیز جس پر نظر ڈالو ہر ایک کی ساخت، شکل و صورت، نرمی، سختی اس کام کے مناسب بنائی گئی ہے۔ جس کام کے لئے قدرت نے اس کو پیدا کیا ہے۔ زمین کو نہ اتنا رقیق مادہ پانی کی طرح بنایا کہ جو کچھ اس پر رکھا جائے وہ اس کے اندر ڈوب جائے، نہ اتنا سخت پتھر اور لوہے کی طرح بنایا کہ اس کو کھود نہ سکیں کیونکہ اس سے یہی ضرورتیں متعلق تھیں کہ اس کو کھود کر پانی بھی نکالا جاسکے۔ اس میں بنیادیں کھود کر بڑی اونچی عمارتیں اس پر کھڑی کی جاسکیں۔ پانی کو سیال بنایا جس میں ہزاروں حکمتیں ہیں۔ ہوا بھی سیال ہی ہے مگر پانی سے مختلف، پانی ہر جگہ خود بخود نہیں پہنچتا اس میں انسان کو کچھ محنت بھی کرنا پڑتی ہے۔ ہوا کو قدرت نے اپنا جبری انعام بنایا کہ وہ بغیر کسی محنت و عمل کے ہر جگہ پہنچ جاتی ہے بلکہ کوئی شخص ہوا سے بچنا چاہے تو اس کو اس کے لئے بڑی محنت کرنا پڑتی ہے۔ یہ جگہ مخلوقات الہیہ کی حکمتوں کی تفصیل بیان کرنے کی نہیں۔ ایک ایک مخلوق کو دیکھو ان میں سے ہر ایک قدرت و حکمت کا شاہکار ہے۔ امام غزالی نے اپنی ایک مستقل کتاب اس موضوع پر لکھی ہے بنام الحکمتہ فی مخلوقات اللہ تعالیٰ۔ ان آیات میں شروع ہی سے قرآن کی عظمت اور جس ذات گرامی پر وہ نازل ہوا ہے اس کو عبدہ کا خطاب دے کر اس کی عزت و عظمت کا عجیب و غریب بیان ہے۔ کیونکہ کسی مخلوق کے لئے اس سے بڑا کوئی شرف نہیں ہوسکتا کہ خالق اس کو یہ کہہ دے کہ یہ میرا ہے۔ بندہ حسن بصد زبان گفت کہ بندہ توام تو بزبان خود بگو بندہ نواز کیستی
Ayahs 25:4–5

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور کہنے لگے جو منکر ہیں اور کچھ نہیں ہے یہ مگر طوفان باندھ لایا ہے اور ساتھ دیا ہے اس کا اس میں اور لوگوں نے سو آگئے بےانصافی اور جھوٹ پر

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور کہنے لگے یہ نقلیں ہیں پہلوں کی جن کو اس نے لکھ رکھا ہے سو وہ ہی لکھوائی جاتی ہیں اس کے پاس صبح اور شام

خلاصہ تفسیر اور کافر لوگ (قرآن کے بارے میں) یوں کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) تو کچھ بھی نہیں نرا جھوٹ (ہی جھوٹ) ہے جس کو اس شخص (یعنی پیغمبر) نے گھڑ لیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اس (گھڑت) میں اس کی مدد کی ہے (مراد وہ اہل کتاب ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے یا آپ کی خدمت میں ویسے ہی حاضر ہوا کرتے تھے) سو (ایسی بات کہنے سے) یہ لوگ بڑے ظلم اور جھوٹ کے مرتکب ہوئے (اس کا ظلم اور جھوٹ ہونا آگے بیان میں آئے گا) اور یہ (کافر) لوگ (اپنے اسی اعتراض کی تائید میں) یوں کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) بےسند باتیں ہیں جو اگلے لوگوں سے منقول ہوتی چلی آئی ہیں جن کو اس شخص (پیغمبر) نے (عمدہ عبارت میں سوچ سوچ کر اپنے صحابہ کے ہاتھ سے) لکھوا لیا ہے (تاکہ محفوظ رہے) پھر وہی (مضامین) اس کو صبح شام پڑھ کر سنائے جاتے ہیں (تاکہ یاد رہیں، پھر وہی یاد کئے ہوئے مضامین مجمع میں بیان کرکے خدا کی طرف منسوب کردیئے جاتے ہیں) آپ (اس کے جواب میں) کہہ دیجئے کہ اس (قرآن) کو تو اس ذات (پاک) نے اتارا ہے جس کو سب چھپی باتوں کی خواہ وہ آسمانوں میں ہوں یا زمین میں ہوں خبر ہے (خلاصہ جواب کا یہ ہے کہ اس کلام کا اعجاز اس کی کھلی دلیل ہے کہ کفار کا یہ اعتراض غلط اور جھوٹ اور ظلم ہے کیونکہ اگر قرآن اساطیر الاولین، یعنی پرانے لوگوں کی کہانیاں ہوتا یا کسی دوسرے کی مدد سے تصنیف کیا گیا ہوتا تو ساری دنیا اس کی مثال لانے سے عاجز کیوں ہوتی) واقعی اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے (اس لئے ایسے ایسے جھوٹ اور ظلم پر فوری سزا نہیں دیتا)۔ اور یہ کافر لوگ (رسول اللہ ﷺ کی نسبت) یوں کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہوا کہ وہ (ہماری طرح) کھانا (بھی) کھاتا ہے اور (انتظام معاش کے لئے ہماری ہی طرح) بازاروں میں چلتا پھرتا ہے (مطلب یہ ہے کہ رسول و پیغمبر انسان کے بجائے فرشتہ ہونا چاہئے جو کھانے پینے وغیرہ کی ضروریات سے مستغنی ہو اور کم از کم اتنا تو ضرور ہی ہونا چاہیئے کہ رسول اگر خود فرشتہ نہیں ہے تو اس کا مصاحب و مشیر کوئی فرشتہ ہونا چاہئے اس لئے کہا کہ) اس (رسول) کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا کہ وہ اس کے ساتھ رہ کر (لوگوں کو عذاب الٰہی سے) ڈراتا (اور اگر یہ بھی نہ ہوتا تو کم از کم رسول کو اپنے کھانے پینے کی ضروریات سے تو بےفکری ہوتی اس طرح) کہ اس کے پاس (غیب سے) کوئی خزانہ آپڑتا یا اس کے پاس کوئی باغ ہوتا جس سے یہ کھایا (پیا) کرتا۔ اور (مسلمانوں سے) یہ ظالم یوں (بھی) کہتے ہیں کہ (جب ان کے پاس نہ کوئی فرشتہ ہے نہ خزانہ نہ باغ اور پھر بھی یہ نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی عقل میں فتور ہے اس لئے) تم لوگ ایک مسلوب العقل آدمی کی راہ پر چل رہے ہو۔ (اے محمد ﷺ دیکھئے تو یہ لوگ آپ کے لئے کیسی عجیب عجیب باتیں بیان کر رہے ہیں سو (ان خرافات سے) وہ (بالکل) گمراہ ہوگئے پھر وہ راہ نہیں پاسکتے۔
Ayahs 25:6–8

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

تو کہہ اس کو اتارا ہے اس نے جو جانتا ہے چھپے ہوئے بھید آسمانوں میں اور زمین میں بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور کہنے لگے یہ کیسا رسول ہے کھاتا ہے کھانا اور پھرتا ہے بازاروں میں کیوں نہ اترا اس کی طرف کوئی فرشتہ کہ رہتا اس کے ساتھ ڈرانے کو

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا آپڑتا اس کے پاس خزانہ یا ہوجاتا اس کے لئے ایک باغ کہ کھایا کرتا اس میں سے، اور کہنے لگے بےانصاف تم پیروی کرتے ہو اس ایک مرد جادو مارے کی

معارف و مسائل کفار و مشرکین جو آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن پر اعتراضات کیا کرتے تھے یہاں سے ان کے اعتراضات اور پھر جوابات کا سلسلہ شروع ہو کر کچھ دور تک چلا ہے۔ پہلا اعتراض یہ تھا کہ قرآن کوئی اللہ کی طرف سے نازل کیا ہوا کلام نہیں بلکہ آپ نے اس کو خود ہی جھوٹ گھڑ لیا ہے یا پچھلے لوگوں کے قصے یہود و نصاری وغیرہ سے سن کر اپنے صحابہ سے لکھوا لیتے ہیں اور چونکہ خود امی ہیں، نہ لکھنا جانتے ہیں نہ پڑھنا اس لئے ان لکھے ہوئے قصوں کو صبح شام سنتے رہتے ہیں تاکہ وہ یاد ہوجاویں پھر لوگوں کے سامنے جا کر یہ کہہ دیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اس اعتراض کا جواب قرآن کریم نے یہ دیا قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِيْ يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اس جواب کا حاصل یہ ہے کہ کلام خود اس کا شاہد ہے کہ اس کی نازل کرنے والی وہ ذات پاک حق تعالیٰ کی ہے جو آسمانوں اور زمین کے سب خفیہ رازوں سے واقف و باخبر ہے۔ اسی لئے قرآن کو ایک کلام معجز بنایا اور ساری دنیا کو چیلنج کیا کہ اگر اس کو تم خدا کا کلام نہیں مانتے کسی انسان کا کلام سمجھتے ہو تو تم بھی انسان ہو اس جیسا کلام زیادہ نہیں تو ایک سورة بلکہ ایک آیت ہی بنا کر دکھلا دو۔ یہ چیلنج جس کا جواب دینا عرب کے فصیح وبلیغ لوگوں کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں مگر انہوں نے اس سے راہ فرار اختیار کی۔ کسی کو اتنی جرأت نہیں ہوئی کہ قرآن کی ایک آیت کے مقابلہ میں اس جیسی دوسری آیت لکھ لائے۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں اپنا مال و متاع بلکہ اپنی اولاد اور اپنی جان تک خرچ کرنے کو تیار ہوگئے۔ یہ مختصر سی بات نہ کرسکے کہ قرآن کی مثل ایک سورت لکھ لاتے یہ دلیل واضح اس امر کی ہے کہ یہ کلام کسی انسان کا نہیں، ورنہ دوسرے انسان بھی ایسا کلام لکھ سکتے، صرف اللہ تعالیٰ علیم وخبیر ہی کا ہے۔ علاوہ فصاحت و بلاغت کے اس کے تمام معانی و مضامین بھی ایسے علوم پر مشتمل ہیں جو اس ذات کی طرف سے ہوسکتے ہیں جو ہر ظاہر و باطن کا جاننے والا ہے (اس مضمون کی پوری تفصیل سورة بقرہ میں اعجاز قرآن پر مکمل بحث کی صورت میں بیان ہوچکی ہے اس کو معارف القرآن جلد اول میں دیکھ سکتے ہیں)
Ayah 25:9

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

دیکھ کیسی بٹھلاتے ہیں تجھ پر مثلیں سو بہک گئے اب پا نہیں سکتے راستہ۔

دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اگر یہ رسول ہوتے تو عام انسانوں کی طرح کھاتے پیتے نہیں بلکہ فرشتوں کی طرح کھانے پینے کی ضروریات سے مستغنی اور الگ ہوتے۔ اور اگر یہ بھی نہ ہوتا تو کم از کم ان کے پاس اللہ کی طرف سے اتنا خزانہ یا باغات ہوتے کہ ان کو اپنے معاش کی فکر نہ کرنا پڑتی، بازاروں میں چلنا پھرنا نہ پڑتا۔ اس کے علاوہ ان کا اللہ کی طرف سے رسول ہونا ہم کیسے مان لیں کہ اول تو یہ فرشتہ نہیں، دوسرے کوئی فرشتہ بھی ان کے ساتھ نہیں رہتا جو ان کے ساتھ ان کے کلام کی تصدیق کیا کرتا، اس لئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان پر کسی نے جادو کردیا ہے جس سے ان کا دماغ چل گیا اور یہ ایسی بےسرو پا باتیں کہتے ہیں۔ اس کا اجمالی جواب تو اس آیت میں یہ دیا گیا۔ اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا، یعنی دیکھو تو یہ لوگ آپ کی شان میں کیسی کیسی عجیب عجیب باتیں کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ سب گمراہ ہوگئے اور اب ان کو راہ ملنے کی کوئی صورت نہ رہی۔ تفصیلی جواب اگلی آیات میں آیا ہے۔
Ayahs 25:10–19

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

بڑی برکت ہے اس کی جو چاہے تو کر دے تیرے واسطے اس سے بہتر باغ کہ نیچے بہتی ہیں ان کے نہریں اور کر دے تیرے واسطے محل

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

کچھ نہیں وہ جھٹلاتے ہیں قیامت کو اور ہم نے تیار کی ہے اس کے واسطے کہ جھٹلاتا ہے قیامت کو آگ ،

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جب وہ دیکھے گی ان کو دور کی جگہ سے سنیں گے اس کا جھنجھلانا اور چلانا

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب ڈالے جائیں گے اس کے اندر ایک جگہ تنگ میں ایک زنجیر میں کئی کئی بندھے ہوئے پکاریں گے اس جگہ موت کو

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

مت پکارو آج ایک مرنے کو اور پکارو بہت سے مرنے کو

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

تو کہہ بھلا یہ چیز بہتر ہے یا باغ ہمیشہ رہنے کا جس کا وعدہ ہوچکا پرہیزگاروں سے وہ ہوگا ان کا بدلہ اور پھرجانے کی جگہ

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

ان کے واسطے وہاں ہے جو وہ چاہیں رہا کریں ہمیشہ ہوچکا تیرے رب کے ذمہ وعدہ مانگا ملتا

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس دن جمع کر بلائے گا ان کو اور جن کو وہ پوجتے ہیں اللہ کے سوائے پھر ان سے کہے گا کیا تم نے بہکایا میرے ان بندوں کو یا وہ آپ بہکے راہ سے

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

بولیں گے تو پاک ہے ہم سے بن نہ آتا تھا کہ پکڑ لیں کسی کو تیرے بغیر رفیق لیکن تو ان کو فائدہ پہنچاتا رہا اور ان کے باپ دادوں کو یہاں تک کہ بھلا بیٹھے تیری یاد اور یہ تھے لوگ تباہ ہونے والے ،

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

سو وہ تو جھٹلا چکے تم کو تمہاری بات میں اب نہ تم لوٹا سکتے ہو اور نہ مدد کرسکتے ہو اور جو کوئی تم میں گنہگار ہے اس کو ہم چکھائیں گے بڑا عذاب

خلاصہ تفسیر وہ ذات بڑی عالی شان ہے کہ اگر وہ چاہے تو آپ کو (کفار کی) اس (فرمائش) سے (بھی) اچھی چیز دیدے یعنی بہت سے (غیبی) باغات جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں (بہتر اس لئے کہا کہ وہ تو مطلق باغ کی فرمائش کرتے تھے گو ایک ہی ہو اور متعدد باغ کا ایک سے بہتر ہونا ظاہر ہے) اور (بلکہ ان باغوں کے ساتھ اور بھی مناسب چیزیں دیدے جن کی انہوں نے فرمائش بھی نہیں کی یعنی) آپ کو بہت سے محل دیدے (جو ان باغوں میں بنے ہوں یا باہر ہی ہوں جس سے ان کی فرمائش اور بھی زیادہ نعمتوں کے ساتھ پوری ہوجاوے۔ مطلب یہ کہ جو جنت میں ملے گا اگر اللہ چاہے تو آپ کو دنیا ہی میں دیدے لیکن بعض حکمتوں سے نہیں چاہا اور فی نفسہ ضروری تھا نہیں پس شبہ محض بیہودہ ہے۔ ان کفار کے ان شبہات مذکورہ کا سبب یہ نہیں ہے کہ ان کو حق کی طلب اور فکر ہوئی ہے اور اس دوران میں قبل تحقیق ایسے شبہات واقع ہوگئے ہوں بلکہ وجہ اعتراضات کی محض شرارت اور طلب حق سے بےفکری ہے اور اس بےفکری اور شرارت کا سبب یہ ہے کہ) یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھ رہے ہیں (اس لئے فکر انجام نہیں ہے جو جی میں آتا ہے کرلیتے ہیں بک دیتے ہیں) اور (انجام اس کا یہ ہوگا کہ) ہم نے ایسے شخص (کی سزا) کے لئے جو کہ قیامت کو جھوٹا سمجھے دوزخ تیار کر رکھی ہے (کیونکہ قیامت کی تکذیب سے اللہ و رسول کی تکذیب لازم آتی ہے جو اصل سبب ہے دوزخ میں جانے کا اور اس دوزخ کی یہ کیفیت ہوگی کہ) وہ (دوزخ) ان کو دور سے دیکھے گی تو (دیکھتے ہی غضبناک ہو کر اس قدر جوش مارے گی کہ) وہ لوگ (دور ہی سے) اس کا جوش و خروش سنیں گے اور (پھر) جب وہ اس (دوزخ) کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دیئے جاویں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے (جیسا مصیبت میں عادت ہے کہ موت کو بلاتے اور اس کی تمنا کرتے ہیں اور اس وقت ان سے کہا جاوے گا کہ) ایک موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں کو پکارو (کیونکہ موت کے پکارنے کی علت مصیبت ہے اور تمہاری مصیبت غیر متناہی ہے اور ہر مصیبت کا مقتضا موت کا پکارنا ہے تو پکارنا بھی کثیر ہو اور اسی کی کثرت کو موت کی کثرت کہا گیا) آپ (ان کو یہ مصیبت سنا کر) کہیے کہ (یہ بتلاؤ کہ) کیا یہ (مصیبت کی) حالت اچھی ہے (جو کہ مقتضی ہے تمہارے کفر و انکار کا) یا وہ ہمیشہ کے رہنے کی جنت (اچھی ہے) جس کا خدا سے ڈرنے والوں سے (یعنی اہل ایمان سے) وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ ان کے لئے (ان کی اطاعت کا) صلہ ہے اور ان کا (آخری) ٹھکانا (اور) ان کو وہاں وہ سب چیزیں ملیں گی جو کچھ وہ چاہیں گے (اور) وہ (اس میں) ہمیشہ رہیں گے (اے پیغمبر) یہ ایک وعدہ ہے جو (بطور فضل و عنایت کے) آپ کے رب کے ذمہ ہے اور قابل درخواست ہے (اور ظاہر ہے کہ جنت الخلد ہی بہتر ہے سو اس میں ترہیب کے بعد ترغیب ایمان کی ہوگئی) اور (وہ دن ان کو یاد دلائیے کہ) جس روز اللہ تعالیٰ ان (کافر) لوگوں کو اور جن کو وہ لوگ خدا کے سوا پوجتے تھے (جنہوں نے اپنے اختیار سے کسی کو گمراہ نہیں کیا خواہ صرف بت مراد ہوں یا ملائکہ وغیرہ ہم بھی) ان (سب) کو جمع کرے گا پھر (ان معبودین سے ان عابدین کی رسوائی کے لئے) فرمادے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو (راہ حق سے) گمراہ کیا تھا یا یہ (خود ہی) راہ (حق) سے گمراہ ہوگئے تھے (مطلب یہ کہ انہوں نے تمہاری عبادت جو واقع میں گمراہی ہے تمہارے امر و رضا سے کی تھی جیسا ان لوگوں کا زعم تھا کہ یہ معبودین ہماری اس عبادت سے خوش ہوتے ہیں اور خوش ہو کر اللہ تعالیٰ سے شفاعت کریں گے یا اپنی رائے فاسد سے اختراع کرلی تھی) وہ (معبودین) عرض کریں گے کہ معاذ اللہ ہماری کیا مجال تھی کہ ہم آپ کے سوا اور کارسازوں کو (اپنے اعتقاد میں) تجویز کریں (عام اس سے کہ وہ کار ساز ہم ہوں یا ہمارے سوا اور کوئی ہو۔ مطلب یہ کہ جب خدائی کو آپ میں منحصر سمجھتے ہیں تو ہم شرک کرنے کا ان کو امر یا اس پر رضا مندی کیوں ظاہر کرتے) و لیکن (یہ خود ہی گمراہ ہوئے اور گمراہ بھی ایسے نامعقول طور پر ہوئے کہ اسباب شکر کو انہوں نے اسباب کفر بنایا چنانچہ) آپ نے (تو) ان کو اور ان کے بڑوں کو (خوب) آسودگی دی (جس کا مقتضی یہ تھا کہ نعمت دینے والے کو پہچانتے اور اس کا شکر و اطاعت کرتے مگر یہ لوگ) یہاں تک (شہوات وتلذّذات میں منہمک ہوئے) کہ (آپ کی) یاد (ہی) کو بھلا بیٹھے اور یہ لوگ خود ہی برباد ہوئے (مطلب جواب کا ظاہر ہے کہ دونوں شقوں میں سے اس شق کو اختیار کیا کہ یہ خود ہی گمراہ ہوئے ہم نے نہیں کیا۔ اور ان کی گمراہی کو اللہ کی بڑی نعمتیں ان پر مبذول ہونے کا ذکر کرے اور زیادہ واضح کردیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان عابدین کو لا جواب کرنے کے لئے جو اصل مقصود تھا سوال مذکور سے یہ فرماوے گا) لو تمہارے ان معبودوں نے تو تم کو تمہاری (سب) باتوں میں جھوٹا (ہی) ٹھہرا دیا (اور انہوں نے بھی تمہارا ساتھ نہ دیا اور جرم پورے طور پر قائم ہوگیا) سو (اب) تم نہ تو خود (عذاب کو اپنے اوپر سے) ٹال سکتے ہو اور نہ (کسی دوسرے کی طرف سے) مدد دیئے جاسکتے ہو (حتی کہ جن پر پورا بھروسہ تھا وہ بھی صاف جواب دے رہے ہیں اور تمہاری صریح مخالفت کر رے ہیں) اور جو (جو) تم میں ظالم (یعنی مشرک) ہوگا ہم اس کو بڑا عذاب چکھائیں گے (اور گو اس وقت مخاطبین سب مشرک ہی ہوں گے مگر اس طرح فرمانے کی یہ وجہ ہے کہ ظلم کا مقتضی عذاب ہونا بیان فرمانا مقصود ہے) اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے پیغمبر بیھجے سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے (مطلب یہ کہ نبوت و اکل طعام وغیرہ میں تنافی نہیں چناچہ جن کی نبوت دلائل سے ثابت ہے گو معترضین اعتراف نہ کریں، ان سب سے اس کا صدور ہوا ہے پس آپ پر بھی یہ اعتراض غلط ہے) اور (اے پیغمبر اور اے تابعین ان کفار کے ایسے بیہودہ اقوال سے غمگین مت ہو کیونکہ) ہم نے تم (مجموعہ مکلفین) میں ایک کو دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے (پس اسی عادت مستمرہ کے موافق انبیاء کو ایسی حالت پر بنایا کہ امت کی آزمائش ہو کہ کون ان کے حالات بشریہ پر نظر کرکے تکذیب کرتا ہے اور کون ان کے کملات نبوت پر نظر کرکے تصدیق کرتا ہے سو جب یہ بات معلوم ہوگئی تو) کیا تم (اب بھی) صبر کرو گے (یعنی صبر کرنا چاہئے) اور (یہ بات یقینی ہے کہ) آپ کا رب خوب دیکھ رہا ہے (تو وقت موعود پر ان کو سزا دے گا، پھر آپ کیوں ہمّ و غم میں واقع ہوں)
Ayah 25:20

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور جتنے بھیجے ہم نے تجھ سے پہلے رسول سب کھاتے تھے کھانا اور پھرتے تھے بازاروں میں اور ہم نے رکھا ہے تم میں ایک دوسرے کے جانچنے کو، دیکھیں ثابت بھی رہتے ہو اور تیرا رب سب کچھ دیکھتا ہے

معارف و مسائل سابقہ آیات میں کفار و مشرکین کی طرف سے آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت پر جو شبہات پیش کئے گئے تھے اور وہاں ان کا اجمالی جواب دیا گیا تھا ان آیات میں اس کی کچھ تفصیل مذکور ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ تم نے اپنی جہالت اور حقیقت شناسی سے دوری کی وجہ سے ایک بات یہ کی ہے کہ اگر یہ اللہ کے رسول ہوتے تو ان کے پاس بہت دولت کے خزانے ہوتے بہت بڑی جائیداد اور باغات ہوتے تاکہ یہ کسب معاش سے مستغنی رہتے اس کا جواب یہ دیا گیا کہ ایسا کردینا ہمارے لئے کچھ مشکل نہیں کہ اپنے رسول کو دولت کے خزانے دیدیں، بلکہ بڑی سے بڑی حکومت و سلطنت کا مالک بنادیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے حضرت داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو ایسی دولت اور پوری دنیا پر بےمثال حکومت عطا فرما کر اپنی اس قدرت کاملہ کا اظہار بھی کیا جا چکا ہے۔ مگر عامہ خلق کی مصلحت اور بیشمار حکمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ گروہ انبیاء کو مادی اور دنیوی مال و دولت سے الگ ہی رکھا جائے۔ خصوصاً سید الانبیاء ﷺ کے لئے حق تعالیٰ کو یہی پسند ہوا کہ وہ عام غریب مسلمانوں کی صفوف میں اور انہی جیسے حالات میں رہیں اور خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے لئے اسی حالت کو پسند فرمایا۔ جیسا کہ مسند احمد اور ترمذی میں حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے رب نے مجھ سے فرمایا کہ میں آپ کے لئے پورے بطحا مکہ اور اس کے پہاڑوں کو سونا بنا دیتا ہوں، تو میں نے عرض کیا نہیں، اے میرے پروردگار مجھے تو یہ پسند ہے کہ مجھے ایک روز پیٹ بھرائی کھانا ملے (جس پر اللہ کا شکر ادا کروں) اور ایک روز بھوکا رہوں (اس پر صبر کروں) اور حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں چاہتا تو سونے کے پہاڑ میرے ساتھ پھرا کرتے (مظہری) خلاصہ اس کا یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا عام طور پر فقر و فاقہ میں رہنا اللہ تعالیٰ کی ہزاروں حکمتوں اور عام انسانوں کی مصالح کی بنا پر ہے اور اس میں بھی وہ اس حالت پر مجبور نہیں ہوتے اگر وہ چاہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بڑا مالدار صاحب جائیداد بنا سکتے ہیں مگر ان کی ذات کو حق تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ وہ مال و دولت سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، فقر و فاقہ ہی کو پسند کرتے ہیں۔ دوسری بات کفار نے یہ کہی تھی کہ یہ پیغمبر ہوتے تو عام انسانوں کی طرح کھاتے پیتے نہیں، اور کسب معاش کے لئے بازاروں میں نہ پھرتے اس اعتراض کی بنیاد بہت سے کفار کا یہ خیال ہے کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا، فرشتہ ہی رسول ہوسکتا ہے۔ جس کا جواب قرآن کریم میں جابجا آیا ہے۔ اور یہاں اس کا یہ جواب دیا گیا کہ جن انبیاء کو تم بھی نبی اور رسول مانتے ہو وہ بھی تو انسان ہی تھے انسانوں کی طرح کھاتے پیتے بازاروں میں پھرتے تھے جس سے تمہیں یہ نتیجہ نکال لینا چاہئے تھا کہ کھانا پینا اور بازار میں پھرنا منصب نبوت و رسالت کے خلاف نہیں۔ آیات مذکورہ میں وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَام الآیة میں اسی مضمون کا بیان ہے۔ مخلوق میں معاشی مساوات کا نہ ہونا بڑی حکمت پر مبنی ہے وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً ، اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ حق تعالیٰ کو قدرت تو سب کچھ تھی وہ سارے انسانوں کو یکساں مالدار بنا دیتے، سب کو تندرست رکھتے، کوئی بیمار نہ ہوتا۔ سب کو عزت و جاہ کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز کردیتے کوئی ادنی یا کم رتبہ نہ رہ جاتا مگر نظام عالم میں اس کی وجہ سے بڑے رخنے پیدا ہوتے اس لئے حق تعالیٰ نے کسی کو مالدار بنایا، کسی کو غریب مفلس، کسی کو قوی، کسی کو ضعیف، کسی کو تندرست، کسی کو بیمار، کسی کو صاحب عزت و جاہ، کسی کو گمنام۔ اس اختلاف انواع و اصناف اور اختلاف احوال میں ہر طبقے کا امتحان اور آزمائش ہے۔ غنی کے شکر کا غریب کے صبر کا امتحان ہے اسی طرح بیمار و تندرست کا حال ہے۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ کی تعلیم یہ ہے کہ جب تمہاری نظر کسی ایسے شخص پر پڑے جو مال و دولت میں تم سے زیاد ہے یا صحت وقوت اور عزت و جاہ میں تم سے بڑا ہے تو تم فوراً ایسے لوگوں پر نظر کرو جو ان چیزوں میں تم سے کم حیثیت رکھتے ہیں (تاکہ تم حسد کے گناہ سے بھی بچ جاؤ اور اپنی موجودہ حالت میں اللہ تعالیٰ کا شکر کرنے کی توفیق ہو۔) (رواہ البخاری و مسلم) مظہری
Ayah 25:21

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور بولے وہ لوگ جو امید نہیں رکھتے کہ ہم سے ملیں گے کیوں نہ اترے ہم پر فرشتے یا ہم دیکھ لیتے اپنے رب کو، بہت بڑائی رکھتے ہیں اپنے جی میں اور سر چڑھ رہے ہیں بڑی شرارت میں

خلاصہ تفسیر اور جو لوگ ہمارے سامنے پیش ہونے سے اندیشہ نہیں کرتے (کیونکہ وہ قیامت اور اس کی پیشی اور حساب کے منکر ہیں) وہ (انکار رسالت کے لئے) یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے (کہ اگر فرشتے آکر ہم سے کہیں کہ یہ رسول ہیں) یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں (اور وہ خود ہم سے کہہ دے کہ یہ رسول ہیں جب ہم تصدیق کریں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ) یہ لوگ اپنے دلوں میں اپنے کو بہت بڑا سمجھ رہے ہیں (کہ اپنے آپ کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ فرشتے آکر ان سے خطاب کریں یا خود حق تعالیٰ سے ہمکلام ہوں) اور (بالخصوص اللہ تعالیٰ کے دنیا میں دیکھنے اور اس سے ہمکلام ہونے کی فرمائش میں تو) یہ لوگ حد (انسانیت) سے بہت دور نکل گئے ہیں (کیونکہ ملائکہ اور انسان کی تو بعض چیزوں میں شرکت بھی ہے کہ دونوں اللہ کی مخلوق ہیں مگر اللہ تعالیٰ اور انسان میں تو کوئی مشارکت اور مشابہت نہیں۔ اور یہ لوگ خدا کو دیکھنے کے لائق تو کیا ہوتے مگر فرشتے ان کو ایک روز دکھلائی دیں گے مگر جس طرح یہ چاہتے ہیں اس طرح نہیں بلکہ ان کے عذاب و مصیبت اور پریشانی لے کر) چناچہ جس روز یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے (اور وہ دن قیامت کا ہے) اس روز مجرموں (یعنی کافروں) کے لئے کوئی خوشی کی بات (نصیب) نہ ہوگی اور (فرشتوں کو جب سامان عذاب کے ساتھ آتا دیکھیں گے تو گھبرا کر) کہیں گے پناہ ہے پناہ ہے۔ معارف و مسائل وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا لفظ رجا کے عام معنے کسی محبوب و مرغوب چیز کی امید کے آتے ہیں اور کبھی یہ لفظ بمعنے خوف بھی استعمال ہوتا ہے جیسا کہ ابن الانباری نے کتاب الاضداد میں لکھا ہے اسی جگہ بھی یہی معنے خوف کے زیادہ واضح ہیں یعنی وہ لوگ جو ہمارے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ دور از کار اور جاہلانہ سوالات اور فرمائشوں کی جرأت اسی شخص کی ہوسکتی ہے جو آخرت کا بالکل منکر ہو۔ آخرت کے قائل پر آخرت کی فکر ایسی غالب ہوتی ہے کہ اس کو ایسے سوال و جواب کی فرصت ہی نہیں ملتی۔ آج کل جو تعلیم جدید کے اثر سے اسلام اور اس کے احکام کے بارے میں بہت سے لوگ شبہات اور بحث و مباحثہ میں مشغول نظر آتے ہیں یہ بھی علامت اس کی ہوتی ہے کہ معاذ اللہ دل میں آخرت کا سچا یقین نہیں ہے۔ اور یہ ہوتا تو اس قسم کے فضول سوالات دل میں پیدا ہی نہ ہوتے۔
Ayah 25:22

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن دیکھیں گے فرشتوں کو کچھ خوشخبری نہیں اس دن گنہگاروں کو اور کہیں گے کہیں روک دی جائے کوئی آڑ۔

حِجْـرًا مَّحْجُوْرًا، حجر کے لفظی معنے محفوظ جگہ کے ہیں اور محجوراً اس کی تاکید ہے۔ یہ لفظ محاورہ عرب میں اس وقت بولا جاتا تھا جب کوئی مصیبت سامنے ہو۔ اس سے بچنے کے لئے لوگوں سے کہتے تھے کہ پناہ ہے پناہ، یعنی ہمیں اس مصیبت سے پناہ دو تو قیامت کے روز بھی جب کفار فرشتوں کو سامان عذاب لاتا ہوا دیکھیں گے دنیا کی عادت کے مطابق یہ لفظ کہیں گے۔ اور حضرت ابن عباس سے اس لفظ کے یہ معنے منقول ہیں حَرَامًا مُحرّمًا اور مراد یہ ہے کہ قیامت کے روز جب یہ لوگ فرشتوں کو عذاب کے ساتھ دیکھیں گے اور ان سے معاف کرنے اور جنت میں جانے کی درخواست کریں گے یا تمنا ظاہر کریں گے تو فرشتے ان کے جواب میں کہیں گے حِجْـرًا مَّحْجُوْرًا، یعنی جنت کافروں پر حرام اور ممنوع ہے (مظہری)
Ayah 25:23

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور ہم پہنچے ان کے کاموں پر جو انہوں نے کئے تھے پھر ہم نے کر ڈالا اس کو خاک اڑتی ہوئی

خلاصہ تفسیر اور ہم (اس روز) ان کے (یعنی کفار کے) ان (نیک) کاموں کی طرف جو کہ وہ (دنیا میں) کرچکے تھے متوجہ ہوں گے سو ان کو (علانیہ طور پر) ایسا (بیکار) کردیں گے جیسے پریشان غبار (کہ کسی کام نہیں آتا، اسی طرح ان کفار کے اعمال پر کچھ ثواب نہ ہوگا البتہ) اہل جنت اس روز قیام گاہ میں بھی اچھے رہیں گے اور آرامگاہ میں بھی خوب اچھے ہوں گے (مراد مستقر اور مقیل سے جنت ہے یعنی جنت ان کے لئے جائے قیام اور جائے آرام ہوگی اور اچھا ہونا اس کا ظاہر ہے) اور جس روز آسمان ایک بدلی پر سے پھٹ جائے گا اور (اس بدلی کے ساتھ آسمان سے) فرشتے (زمین پر) بکثرت اتارے جائیں گے (اور اسی وقت حق تعالیٰ حساب و کتاب کے لئے تجلی فرما دیں گے اور) روز حقیقی حکومت (حضرت) رحمان (ہی) کی ہوگی (یعنی حساب و کتاب و جزا و سزا میں کسی کو دخل نہ ہوگا جیسا دنیا میں ظاہری تصرف تھوڑا بہت دوسروں کے لئے بھی حاصل ہے) اور جس روز ظالم (یعنی کافر آدمی غایت حسرت سے) اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھاوے گا (اور) کہے گا کیا اچھا ہوتا میں رسول کے ساتھ (دین کی) راہ پر لگ لیتا ہائے میری شامت (کہ ایسا نہ کیا اور) کیا اچھا ہوتا کہ میں فلاں شخص کو دوست نہ بناتا اس (کم بخت) نے مجھ کو نصیحت آئے پیچھے اس سے بہکا دیا (اور ہٹا دیا) اور شیطان تو انسان کو (عین وقت پر) امداد کرنے سے جواب دیدیتا ہے (چنانچہ اس کافر کی اس حسرت کے وقت اس نے کوئی ہمدردی نہ کی، گو کرنے سے بھی کچھ نہ ہوتا صرف دنیا ہی میں بہکانے کو تھا) اور (اس دن) رسول ﷺ حق تعالیٰ سے کافروں کی شکایت کے طور پر) کہیں گے اے میرے پروردگار میری (اس قوم) نے اس قرآن کو (جو کہ واجب العمل تھا) بالکل نظر انداز کر رکھا تھا (اور التفات ہی نہ کرتے تھے عمل تو درکنار مطلب یہ کہ خود کفار بھی اپنی ضلالت کا اقرار کریں گے اور رسول بھی شہادت دیں گے۔ کقولہ تعالیٰ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤ ُ لَاۗءِ شَهِيْدًا اور ثبوت جرم کی یہی دو صورتیں معتاد ہیں، اقرار اور شہادت اور دونوں کے اجتماع سے یہ ثبوت اور بھی موکد ہوجاوے گا اور سزا یاب ہوں گے) اور ہم اسی طرح مجرم لوگوں میں سے ہر نبی کے دشمن بناتے رہتے ہیں (یعنی یہ لوگ جو انکار قرآن کرکے آپ کی مخالفت کر رہے ہیں کوئی نئی بات نہیں جس کا غم کیا جاوے) اور (جس کو ہدایت دینا منظور ہو اس کی) ہدایت کرنے کو اور (جو ہدایت سے محروم ہے اس کے مقابلہ میں آپ) کی مدد کرنے کو آپ کا رب کافی ہے۔
Ayah 25:24

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

بہشت کے لوگوں کا اس دن خوب ہے ٹھکانا اور خوب ہے جگہ دوپہر کے آرام کی

معارف و مسائل خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا، مستقر، مستقل جائے قیام کو کہا جاتا ہے اور مقیل قیلولہ سے مشتق ہے دوپہر کو آرام کرنے کی جگہ کو مقیل کہتے ہیں اور اس جگہ مقیل کا ذکر خصوصیت سے شاید اس لئے بھی ہوا ہے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے روز حق تعالیٰ نصف النہار کے وقت ساری مخلوقات کے حساب کتاب سے فارغ ہوجاویں گے اور دوپہر کے سونے کے وقت اہل جنت جنت میں پہنچ جائیں گے اور اہل جہنم جہنم میں (قرطبی)
Ayahs 25:25–27

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس دن پھٹ جائے آسمان بادل سے اور اتارے جائیں فرشتے تار لگا کر

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

بادشاہی اس دن سچی ہے رحمن کی اور ہے وہ دن منکروں پر مشکل

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور جس دن کاٹ کاٹ کھائے گا گنہگار اپنے ہاتھوں کو کہے گا اے کاش کہ میں نے پکڑا ہوتا رسول کے ساتھ رستہ

يَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاۗءُ بالْغَمَامِ ، ای عن الغمام، قرطبی۔ معنے یہ ہیں کہ آسمان شق ہو کر اس میں سے ایک رقیق بادل اترے گا جس میں فرشتے ہوں گے۔ یہ ابر بشکل سائبان آسمان سے آوے گا اور اس میں حق تعالیٰ کی تجلی ہوگی اور اس کے گردا گرد ملائکہ ہوں گے۔ یہ حساب شروع ہونے کا وقت ہوگا اور اس وقت آسمان کا پھٹنا صرف کھلنے کے طور پر ہوگا یہ وہ پھٹنا نہیں ہوگا جو پہلی نفخہ صور کے وقت آسمان زمین کو فنا کرنے کے لئے ہوگا کیونکہ یہ نزول غمام جس کا ذکر آیت میں ہے نفخہ ثانیہ کے بعد ہے جبکہ سب زمین و آسمان دوبارہ درست ہوچکے ہوں گے۔ (بیان القران)
Ayahs 25:28–29

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

اے خرابی میری کاش کہ نہ پکڑا ہوتا میں نے فلانے کو دوست

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

اس نے تو بہکا دیا مجھ کو نصیحت سے مجھ تک پہنچ چکنے کے پیچھے، اور ہے شیطان آدمی کو وقت پر دغا دینے والا

يٰوَيْلَتٰى لَيْتَنِيْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيْلًا، یہ آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہے مگر حکم عام ہے واقعہ یہ تھا کہ عقبہ ابن ابی معیط مکہ کے مشرک سرداروں میں سے تھا اس کی عادت تھی کہ جب کسی سفر سے واپس آتا تو شہر کے معزز لوگوں کی دعوت کرتا تھا اور اکثر رسول اللہ ﷺ سے بھی ملا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ حسب عادت اس نے معززین شہر کی دعوت کی اور رسول اللہ ﷺ کو بھی بلایا۔ جب اس نے آپ کے سامنے کھانا رکھا تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہارا کھانا اس وقت تک نہیں کھا سکتا جب تک تم اس کی گواہی نہ دو کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اس کا کوئی شریک عبادت میں نہیں ہے اور یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ عقبہ نے یہ کلمہ پڑھ لیا اور رسول اللہ ﷺ نے شرط کے مطابق کھانا تناول فرمایا۔ عقبہ کا ایک گہرا دوست ابی بن خلف تھا جب اس کو خبر لگی کہ عقبہ مسلمان ہوگیا تو یہ بہت برہم ہوا۔ عقبہ نے عذر کیا کہ قریش کے معزز مہمان محمد ﷺ میرے گھر پر آئے ہوئے تھے اگر وہ بغیر کھانا کھائے میرے گھر سے چلے جاتے تو میرے لئے بڑی رسوائی تھی اس لئے میں نے ان کی خاطر سے یہ کلمہ کہہ لیا۔ ابی بن خلف نے کہا کہ میں تیری ایسی باتوں کو قبول نہیں کروں گا جب تک تو جا کر ان کے منہ پر نہ تھوکے۔ یہ کمخبت بدنصیب دوست کے کہنے سے اس گستاخی پر آمادہ ہوگیا اور کر گزرا، اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھی ان دونوں کو ذلیل کیا کہ غزوہ بدر میں دونوں مارے گئے (بغوی) اور آخرت میں ان کے عذاب کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے کہ جب آخرت کا عذاب سامنے دیکھے گا تو اس وقت ندامت و افسوس سے اپنے ہاتھ کاٹنے لگے گا اور کہے گا کاش میں فلاں یعنی ابی بن خلف کو دوست نہ بناتا۔ (مظہری و قرطبی) غلط کار اور بےدین دوستوں کی دوستی قیامت کے روز حسرت و ندامت کا باعث ہوگی تفسیر مظہری میں ہے کہ یہ آیات اگرچہ خاص عقبہ کے واقعہ میں نازل ہوئی تھیں لیکن جیسا کہ الفاظ آیت کے عام ہیں حکم بھی عام ہے اور شاید اس جگہ اس دوست کے نام کی بجائے قرآن میں فلانا کا لفظ اسی عموما کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اختیار کیا گیا ہے۔ ان آیات نے یہ بتلایا ہے کہ جو دو دوست کسی مصیبت اور گناہ پر جمع ہوں اور خلاف شرع امور میں ایک دوسرے کی اعانت کرتے ہوں ان سب کا یہی حکم ہے کہ قیامت کے روز اس گہرے دوست کی دوستی پر روئیں گے۔ مسند احمد، ترمذی، ابو داؤد وغیرہ نے حضرت ابو سعید خدری سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، لا تصاحب الا مومنا ولا یا کل مالک الا تقی (مظہری) کسی غیر مسلم کو اپنا ساتھی نہ بناؤ، اور تمہارا مال (بطور دوستی کے) صرف متقی آدمی کھائے، یعنی غیر متقی سے دوستی نہ کرو، اور ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا المرء علی دین خلیلہ فلینظر من یخالل (رواہ البخاری) " ہر انسان (عادةً) اپنے دوست کے دین اور طریقہ پر چلا کرتا ہے اس لئے دوست بنانے سے پہلے خوب غور کرلیا کرو کہ کس کو دوست بنا رہے ہو "۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ہمارے مجلسی دوستوں میں کون لوگ بہتر ہیں تو آپ نے فرمایا من ذکر کم باللہ رویتہ وزاد فی علمکم منطقہ وذکرکم بالاخرة عملہ رواہ البزار (قرطبی) " وہ شخص جس کو دیکھ کر خدا یاد آئے اور جس کی گفتگو سے تمہارا علم بڑھے اور جس کے عمل کو دیکھ کر آخرت کی یاد تازہ ہو "۔
Ayah 25:30

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور کہا رسول نے اے میرے رب میری قوم نے ٹھہرایا ہے اس قرآن کو جھک جھک

وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا یعنی کہیں گے رسول محمد ﷺ اے میرے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو مہجور و متروک کردیا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی یہ شکایت بارگاہ حق تعالیٰ میں قیامت کے روز ہوگی یا اسی دنیا میں آپ نے یہ شکایت فرمائی ؟ ائمہ تفسیر اس میں مختلف ہیں، احتمال دونوں ہیں۔ اگلی آیت بظاہر قرینہ اس کا ہے کہ یہ شکایت آپ نے دنیا ہی میں پیش فرمائی تھی جس کے جواب میں آپ کو تسلی دینے کے لئے اگلی آیت میں فرمایا
Ayah 25:31

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور اسی طرح رکھے ہیں ہم نے ہر نبی کے لئے دشمن گنہگاروں میں سے اور کافی ہے تیرا رب راہ دکھلانے کو اور مدد کرنے کو۔

وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِيْنَ ، یعنی اگر آپ کے دشمن قرآن کو نہیں مانتے تو آپ کو اس پر صبر کرنا چاہئے کیونکہ سنت اللہ ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ ہر نبی کے کچھ مجرم لوگ دشمن ہوا کرتے ہیں اور انبیاء علہیم السلام اس پر صبر کرتے رہے ہیں۔ قرآن کو عملا ترک کردینا بھی گناہ عظیم ہے اس سے ظاہر یہ ہے کہ قرآن کو مہجور ومتروک کردینے سے مراد قرآن کا انکار ہے جو کفار ہی کا کام ہے۔ مگر بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ جو مسلمان قرآن پر ایمان تو رکھتے ہیں مگر نہ اس کی تلاوت کی پابندی کرتے ہیں نہ اس پر عمل کرنے کی وہ بھی اس حکم میں داخل ہیں۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ من تعلم القران وعلق مصحفہ لم یتعاھدہ ولم ینظر فیہ جاء یوم القیمة متعلقا بہ یقول یا رب العلمین ان عبدک ھذا اتخذنی مھجورا فاقض بینی و بینہ۔ ذکرہ الثعلبی (قرطبی) " جس شخص قرآن پڑھا مگر پھر اس کو بند کرکے گھر میں معلق کردیا نہ اس کی تلاوت کی پابندی کی نہ اس کے احکام میں غور کیا، قیامت کے روز قرآن اس کے گلے میں پڑا ہوا آئے گا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کرے گا کہ آپ کے اس بندہ نے مجھے چھوڑ دیا تھا اب آپ میرے اور اس کے معاملہ کا فیصلہ فرما دیں۔
Ayah 25:32

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور کہنے لگے وہ لوگ جو منکر ہیں کیوں نہ اترا اس پر قرآن سارا ایک جگہ ہو کر اسی طرح اتارا تاکہ ثابت رکھیں ہم اس سے تیرا دل اور پڑھ سنایا ہم نے اس کو ٹھہر ٹھہر کر۔

خلاصہ تفسیر اور کافر لوگ یوں کہتے ہیں کہ (پیغمبر) پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نازل نہیں کیا گیا (مقصود اس اعتراض سے یہ ہے کہ اگر خدا کا کلام ہوتا تو بتدریج نازل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس بتدریج نازل کرنے سے تو یہ شبہ ہوتا ہے کہ محمد ﷺ خود ہی سوچ سوچ کر تھوڑا تھوڑا بنالیتے ہیں آگے اس اعتراض کا جواب ہے کہ) اس طرح (تدریجاً) اس لئے (ہم نے نازل کیا) ہے تاکہ ہم اس کے ذریعے آپ کے دل کو قوی رکھیں اور (اسی لئے) ہم نے اس کو بہت ٹھہرا ٹھہرا کر اتارا ہے (چنانچہ تیئس سال کے عرصہ میں آہستہ آہستہ پورا ہوا) معارف و مسائل یہ وہی سلسلہ کفار و مشرکین کے اعتراضات و جوابات کا ہے جو شروع سورة سے چلا آرہا ہے۔ اس اعتراض کے جواب میں قرآن کو بتدریج نازل کرنے کی حکمت یہاں یہ بیان فرمائی ہے کہ اس کے ذریعہ آپ کے دل کو قوی رکھنا مقصود ہے۔ نزول تدریجی میں آنحضرت ﷺ کی تقویت قلب کی چند وجوہ ہیں۔ اول یہ کہ یاد رکھنا آسان ہوگیا، ایک ضخیم کتاب بیک وقت نازل ہوجاتی تو یہ آسانی نہ رہتی اور آسانی کے ساتھ یاد ہوتے رہنے سے دل میں کوئی پریشانی نہیں رہتی۔ دوسرے جب کفار آپ پر کوئی اعتراض یا آپ کے ساتھ کوئی ناگوار معاملہ کرتے تو اسی وقت آپ کی تسلی کے لئے قرآن میں آیت نازل ہوجاتی اور اگر پورا قرآن ایک دفعہ آگیا ہوتا اور اس خاص واقعہ پر تسلی کا ذکر بھی نازل ہوگیا ہوتا تو بہر حال اس کو قرآن میں تلاش کرنے کی ضرورت پڑتی اور ذہن کا اس طرف متوجہ ہوجانا بھی عادة ضروری نہیں تھا۔ تیسرے پیغام خداوندی آنا تازہ شہادت ہے معیت خداوندی کی جو مدار اعظم ہے قوت قلب کا۔ اور اس جگہ جو حکمت تقویت قلب کی بتلائی گئی ہے نزول تدریجی کی حکمت اس میں منحصر نہیں دوسری حکمتیں بھی ہیں جن میں سے بعض سورة بنی اسرائیل کی آیت وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ میں پہلے آچکی ہے۔ (بیان القران)
Ayahs 25:33–35

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور نہیں لاتے تیرے پاس کوئی مثال کہ ہم نہیں پہنچا دیتے تجھ کو ٹھیک بات اور اس سے بہتر کھول کر

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

جو لوگ کہ گھیر کر لائیں جائیں گے اوندھے پڑے ہوئے اپنے منہ پر دوزخ کی طرف، انہی کا برا درجہ ہے اور بہت بہکے ہوئے ہیں راہ سے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور ہم نے دی موسیٰ کو کتاب اور کردیا ہم نے اس کے ساتھ اس کا بھائی ہارون کام بٹانے والا

خلاصہ تفسیر اور یہ لوگ کیسا ہی عجیب سوال آپ کے سامنے پیش کریں مگر ہم (اس کا) ٹھیک جواب اور وضاحت میں بڑھا ہوا آپ کو عنایت کردیتے ہیں (تاکہ آپ مخالفین کو جواب دے سکیں۔ یہ بظاہر بیان اس تقویت قلب کا ہے جس کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ہوا ہے کہ بتدریج نازل کرنے میں ایک حکمت آپ کی دلجمی اور تقویت قلب ہے کہ جب کفار کی طرف سے کوئی اعتراض آئے تو اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب نازل کردیا جائے) یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف لے جائے جاویں گے (یعنی گھسیٹ کر) یہ لوگ جگہ میں بھی بدتر ہیں اور طریقہ میں بھی بہت گمراہ ہیں۔ (یہاں تک انکار رسالت پر وعید اور قرآن پر اعتراضات کے جواب تھے، آگے اس کی تائید میں زمانہ ماضی کے بعض واقعات نقل کئے گئے ہیں جن میں منکرین رسالت کا انجام اور عبرت انگیز حالات مذکور ہیں اور اس میں بھی آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی اور تقویت قلب کا سامان ہے کہ پچھلے انبیاء کی اللہ تعالیٰ نے جس طرح مدد فرمائی اور دشمنوں پر غالب فرمایا وہ آپ کے لئے بھی ہونے والا ہے اس میں پہلا قصہ حضرت موسیٰ ؑ کا ذکر کیا گیا کہ) اور بتحقیق ہم نے موسیٰ کو کتاب (یعنی تورات) دی تھی اور (اس کتاب ملنے سے پہلے) ہم نے ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو (ان کا) معین (و مددگار) بنایا تھا پھر ہم نے (دونوں کو) حکم دیا کہ دونوں آدمی ان لوگوں کے پاس (ہدایت کرنے کے لئے) جاؤ جنہوں نے ہماری (توحید کی) دلیلوں کو جھٹلایا ہے (مراد اس سے فرعون اور اس کی قوم ہے چناچہ یہ دونوں حضرات وہاں پہنچے اور سمجھایا مگر انہوں نے نہ مانا) سو ہم نے ان کو (اپنے قہر سے) بالکل ہی غارت کردیا (یعنی دریا میں غرق کئے گئے)۔
Ayah 25:36

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

پھر کہا ہم نے تم دونوں جاؤ ان لوگوں کے پاس جنہوں نے جھٹلایا ہماری باتوں کو پھر دے مارا ہم نے ان کو اکھاڑ کر۔

معارف و مسائل الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا، اس میں قوم فرعون کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ انہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے۔ حالانکہ اس وقت تک تورات حضرت موسیٰ ؑ پر نازل بھی نہیں ہوئی تھی اس لئے اس تکذیب سے آیات تورات کی تکذیب تو مراد نہیں ہوسکتی، بلکہ مراد آیات سے یا تو توحید کے دلائل عقلیہ ہیں۔ جو ہر انسان کو اپنی عقل کے مطابق سمجھ میں آسکتے ہیں ان میں غور نہ کرنے کو تکذیب آیات فرمایا اور یا یہ کہ انبیاء سابقین کی روایات جو کچھ نہ کچھ ہر قوم میں نقل ہوتی آئی ہیں ان کا انکار مراد ہے جیسے قرآن کریم میں فرمایا وَلَقَدْ جَاۗءَكُمْ يُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بالْبَيِّنٰتِ ، اس میں انبیاء سابقین کی تعلیم کا ان لوگوں تک منقول چلا آنا بتلایا گیا ہے۔ (بیان القران)