28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 28:38–40

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور بولا فرعون اے دربار والو مجھ کو تو معلوم نہیں تمہارا کوئی حاکم ہو میرے سوا سو آگ دے اے ہامان میرے واسطے گارے کو پھر بنا میرے واسطے ایک محل تاکہ میں جھانک کر دیکھ لوں موسیٰ کے رب کو اور میری اٹکل میں تو وہ جھوٹا ہے

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اور بڑائی کرنے لگے وہ اور اس کے لشکر ملک میں ناحق اور سمجھے کہ وہ ہماری طرف پھر کر نہ آئیں گے

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

پھر پکڑا ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں سو دیکھ لے کیسا ہوا انجام گنہگاروں کا

معارف و مسائل فَاَوْقِدْ لِيْ يٰهَامٰنُ عَلَي الطِّيْنِ ، فرعون نے بہت اونچا بلند محل تیار کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے وزیر ہامان کو اس کی تیاری کے لئے پہلے یہ حکم دیا کہ مٹی کی اینٹوں کو پکا کر پختہ کیا جائے کیونکہ کچی اینٹوں پر کوئی بڑی اور اونچی بنیاد قائم نہیں ہو سکتی۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ فرعون کے اس واقعہ سے پہلے پختہ اینٹوں کی تعمیر کا رواج نہ تھا سب سے پہلے فرعون نے یہ ایجاد کرائی۔ تاریخی روایات میں ہے کہ ہامان نے اس محل کی تعمیر کے لئے پچاس ہزار معمار جمع کئے مزدور اور لکڑی لوہے کا کام کرنے والے ان کے علاوہ تھے اور محل کو اتنا اونچا بنایا کہ اس زمانے میں اس سے زیادہ بلند کوئی تعمیر نہیں تھی۔ پھر جب یہ تیاری مکمل ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے جبرئیل کو حکم دیا، انہوں نے ایک ضرب میں اس محل کے تین ٹکڑے کر کے گرا دیا جس میں فرعونی فوج کے ہزاروں آدمی دب کر مر گئے۔ (قرطبی)
Ayah 28:41

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

اور کیا ہم نے ان کو پیشوا کہ بلاتے ہیں دوزخ کی طرف اور قیامت کے دن ان کو مدد نہ ملے گی

وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ ، یعنی فرعون کے درباریوں کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کا پیشوا بنادیا تھا مگر یہ غلط کار پیشوا اپنی قوم کو آگ یعنی جہنم کی طرف دعوت دے رہے تھے یہاں اکثر مفسرین نے آگ کی طرف دعوت دینے کو ایک استعارہ اور مجاز قرار دیا ہے کہ مراد آگ سے وہ اعمال کفریہ ہیں جن کا نتیجہ جہنم کی آگ میں جانا تھا مگر استاذ محترم نادرہ روزگار حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ کی تحقیق تبعاً لابن عربی یہ تھی کہ آخرت کی جزا عین عمل ہے۔ انسان کے اعمال جو وہ دنیا میں کرتا ہے برزخ پھر محشر میں اپنی شکلیں بدلیں گے اور جوہری صورتوں میں نیک اعمال گل و گلزار بن کر جنت کی نعمتیں بن جائیں گے اور اعمال کفر و ظلم آگ اور سانپ بچھوؤں اور طرح طرح کے عذابوں کی شکل اختیار کرلیں گے اس لئے جو شخص اس دنیا میں کسی کو کفر و ظلم کی طرف بلا رہا ہے وہ حقیقۃً اس کو آگ ہی کی طرف بلا رہا ہے۔ اگرچہ اس دنیا میں اس کی شکل آگ کی نہیں مگر حقیقت اس کی آگ ہی ہے۔ اسی طرح آیت میں کوئی مجاز یا استعارہ نہیں، اپنی حقیقت پر محمول ہے۔ یہ تحقیق اختیار کی جائے تو قرآن کی بیشمار آیات میں مجاز و استعارہ کا تکلف نہیں کرنا پڑے گا۔ مثلاً وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا اور فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ وغیرہ۔
Ayah 28:42

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

اور پیچھے رکھ دی ہم نے ان پر اس دنیا میں پھٹکار اور قیامت کے دن ان پر برائی ہے

وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِيْنَ ، مقبوحین، مقبوح کی جمع ہے جس کے معنی ہیں بگاڑا ہوا مراد یہ ہے کہ قیامت کے روز ان کے چہرے مسخ ہو کر سیاہ اور آنکھیں نیلی ہوجائیں گی۔
Ayahs 28:43–45

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب بعد اس کے کہ غارت کرچکے پہلی جماعتوں کو سمجھانے والی لوگوں کو اور راہ بتانے والی اور رحمت تاکہ وہ یاد رکھیں

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اور تو نہ تھا غرب کی طرف جب ہم نے بھیجا موسیٰ کو حکم اور نہ تھا تو دیکھنے والا

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

لیکن ہم نے پیدا کیں کئی جماعتیں پھر دراز ہوئی ان پر مدت اور تو نہ رہتا تھا مدین والوں میں کہ ان کو سناتا ہماری آیتیں پر ہم رہے ہیں رسول بھیجتے

خلاصہ تفسیر اور (رسالت کا سلسلہ خلق کے محتاج اصلاح ہونے کے سبب ہمیشہ سے چلا آیا ہے چنانچہ) ہم نے موسیٰ ؑ کو (جن کا قصہ ابھی پڑھ چکے ہو) اگلی امتوں (یعنی قوم نوح و عاد وثمود) کے ہلاک ہونے کے پیچھے (جبکہ ان زبانوں کے انبیاء کی تعلیمات نایاب ہوگئی تھیں اور لوگ ہدایت کے سخت حاجتمند تھے) کتاب (یعنی تورات) دی تھی جو لوگوں کے (یعنی بنی اسرائیل کے) لئے دانشمندیوں کا سبب اور ہدایت اور رحمت تھی تاکہ وہ (اس سے) نصیحت حاصل کریں (طالب حق کی اول فہم درست ہوتی ہے یہ بصیرت ہے پھر احکام قبول کرتا ہے یہ ہدایت ہے، پھر ہدایت کا ثمرہ یعنی قرب و قبول عنایت ہوتا ہے۔ یہ رحمت ہے) اور (اسی طرح جب یہ دورہ بھی ختم ہوچکا اور لوگ پھر محتاج تجدید ہدایت ہوئے تو اپنی سنت مستمرہ کے موافق ہم نے آپ کو رسول بنایا جس کے دلائل میں سے ایک یہی واقعہ موسویہ کی یقینی خبر دینا ہے کیونکہ قطعی خبر دینے کے لئے کوئی طریق علم کا ضروری ہے اور وہ طریق منحصر ہے چار میں امور عقلیہ میں عقل، سو یہ واقعہ امور عقلیہ میں سے تو ہے نہیں، اور امور نقلیہ میں یا سماع اہل علم سے جو کہ دوسرا طریق ہے سو یہ بھی بوجہ عدم مخالفت و عدم مدارست اہل اخبار کے منتفی ہے اور یا اپنا مشاہدہ جو کہ تیسرا طریق ہے سو اس کی نفی نہایت ہی اظہر ہے چناچہ ظاہر ہے کہ) آپ (طور کے) مغربی جانب میں موجود نہ تھے جبکہ ہم نے موسیٰ ؑ کو احکام دیئے تھے (یعنی توراة دی تھی) اور (وہاں خاص تو کیا موجود ہوتے) آپ (تو) ان لوگوں میں سے (بھی) نہ تھے جو (اس زمانہ میں) موجود تھے (پس احتمال مشاہدہ کا بھی نہ رہا) و لیکن (بات یہ کہ) ہم نے (موسیٰ ؑ کے بعد) بہت سی نسلیں پیدا کیں پھر ان پر زمانہ دراز گزر گیا (جس سے پھر علوم صحیحہ نایاب ہوگئے اور پھر لوگ محتاج ہدایت ہوئے اور گو درمیان درمیان انبیاء (علیہم السلام) آیا کئے مگر ان کے علوم بھی اس طرح نایاب ہوئے اس لئے ہماری رحمت مقتضی ہوئی کہ ہم نے آپ کو وحی و رسالت سے مشرف فرمایا جو کہ چوتھا طریق ہے خبر یقینی کا اور دوسرے طرق علم ظنی کے ہیں جو مبحث ہی سے خارج ہے کیونکہ آپ کی یہ خبریں بالکل یقینی اور قطعی ہیں حاصل یہ کہ علم یقینی کے چار طریقے ہیں اور تین منتفی پس چوتھا متعین اور یہی مطلوب ہے) اور (جیسے آپ نے عطاء توراة کا مشاہدہ نہیں کیا اور صحیح و یقینی خبر دے رہے ہیں اسی طرح موسیٰ ؑ کے قیام مدین کا مشاہدہ نہیں فرمایا چناچہ ظاہر ہے کہ) آپ اہل مدین میں بھی قیام پذیر نہ تھے کہ آپ (وہاں کے حالات دیکھ کر ان حالات کے متعلق) ہماری آیتیں (اپنے) ان (معاصر) لوگوں کو پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہوں و لیکن ہم ہی (آپ کو) رسول بنانے والے ہیں (کہ رسول بنا کر یہ واقعات وحی سے بتلا دیئے) اور (اسی طرح) آپ طور کی جانب (غربی مذکور) میں اس وقت بھی موجود نہ تھے جب ہم نے (موسیٰ ؑ کو) پکارا تھا (کہ " ّٰمُـوْسٰٓي اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ، وَاَنْ اَلْقِ عَصَاكَ " جو کہ ان کو نبوت عطا ہونے کا وقت تھا) و لیکن (اس کا علم بھی اسی طرح حاصل ہوا کہ) آپ اپنے رب کی رحمت سے نبی بنائے گئے تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا (نبی) نہیں آیا، کیا عجب ہے کہ نصیحت قبول کرلیں (کیونکہ حضور ﷺ کے معاصرین بلکہ ان کے آباء اقربین نے بھی کسی نبی کو نہیں دیکھا تھا گو بعض شرائع بالخصوص توحید بواسطہ ان تک بھی پہنچی تھی پس وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا سے تعارض نہ رہا) اور (اگر یہ لوگ ذرا تامل کریں تو سمجھ سکتے ہیں کہ پیغمبر بھیجنے سے ہمارا کوئی فائدہ نہیں بلکہ ان ہی لوگوں کو فائدہ ہے کہ یہ لوگ حسن و قبح پر مطلع ہو کر عقوبت سے بچ سکتے ہیں ورنہ جن امور کا قبح عقل سے دریافت ہوسکتا ہے اس پر عذاب بلا ارسال رسول بھی ہونا ممکن تھا لیکن اس وقت ان کو ایک گونہ حسرت ہوتی کہ ہائے اگر رسول آجاتا تو ہم کو زیادہ تنبہ ہوجاتا اور اس مصیبت میں نہ پڑتے اس لئے رسول بھی بھیج دیا تاکہ اس حسرت سے بچنا ان کو آسان ہو ورنہ احتمال تھا کہ) ہم رسول نہ بھی بھیجتے اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ان پر ان کے کرداروں کے سبب (جو عقلاً قبیح ہیں) کوئی مصیبت (دنیا یا آخرت میں) نازل ہوتی (جس کی نسبت ان کو عقل کے یا فرشتے کے ذریعہ سے یقین ہوجاتا کہ یہ سزائے اعمال ہے) تو یہ کہنے لگتے کہ اے ہمارے پروردگار آپ نے ہمارے پاس کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم آپ کے احکام کا اتباع کرتے اور (ان احکام اور رسول پر) ایمان لانے والوں میں سے ہوتے سو (اس امر کا مققضا تو یہ تھا کہ رسول کے آنے کو غنیمت سمجھتے اور اس کے دین حق کو قبول کرتے لیکن ان کی یہ حالت ہوئی کہ) شبہ نکالنے کے لئے یوں) کہنے لگے کہ ان کو ایسی کتاب کیوں نہ ملی جیسی موسیٰ ؑ کو ملی تھی (یعنی قرآن واحدةً مثل توراة کے کیوں نہ نازل ہوا، آگے جواب ہے کہ) کیا جو کتاب موسیٰ ؑ کو ملی تھی اس کے قبل یہ لوگ اس کے منکر نہیں ہوئے (چنانچہ ظاہر ہے کہ مشرکین موسیٰ ؑ اور توراۃ کو بھی نہ مانتے تھے کیونکہ وہ سرے سے اصل نبوت ہی کے منکر تھے) یہ لوگ (قرآن اور توراة دونوں کی نسبت) یوں کہتے ہیں کہ دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کے موافق ہیں (یہ اس لئے کہا کہ اصول شرائع میں دونوں متفق ہیں) اور یوں بھی کہتے ہیں کہ ہم تو دونوں میں کسی کو نہیں مانتے (خواہ یہی عبارت ان کا مقولہ ہوا اور خواہ ان کے اقوال سے لازم آتا ہو اور خواہ ایک ہی ساتھ دونوں کا انکار کیا ہو یا مختلف قول جمع کئے گئے ہوں تو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس شبہ کا منشاء قصد ایمان بالقرآن بصورت تماثل توراة کے نہیں بلکہ یہ بھی ایک حیلہ اور شرارت ہے آگے اس کا جواب ہے کہ اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اچھا تو (علاوہ توراة و قرآن کے) تم کوئی اور کتاب اللہ کے پاس سے لے آؤ جو ہدایت کرنے میں ان دونوں سے بہتر ہو میں اسی کی پیروی کرنے لگوں گا، اگر تم (اس دعوے میں) سچے ہو (کہ سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا جس سے مقصود ان دونوں کتابوں کا نعوذ باللہ مفتری اور غلط ہونا ہے۔ یعنی مقصود تو اتباع حق کا ہے پس اگر کتب الہیہ کو حق مانتے ہو تو ان کی پیروی کرو، قرآن کی تو مطلقاً اور توراة کی توحید و بشارات محمدیہ میں اور اگر ان کو حق نہیں مانتے تو تم کوئی حق پیش کرو اور اس کا حق ہونا ثابت کردو جس کو اہدی ہونے سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ مقصود حق سے اس کا وسیلہ ہدایت ہونا ہے اگر فرضاً ثابت کردو گے تو میں اس کی پیروی کرلوں گا، غرض یہ کہ میں حق ثابت کر دوں تو تم اس کا اتباع کرو، اور اگر تم حق ثابت کردو تو میں اتباع کے لئے آمادہ ہوں اور چونکہ قضیہ شرطیہ میں محض حکم اتصال کا ہوتا ہے اس لئے اتباع غیر کتب الٰہیہ کا اشکال لازم نہیں آتا) پھر (اس احتجاج کے بعد) اگر یہ لوگ آپ کا (یہ) یہ کہنا (کہ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ الخ) نہ کرسکیں (اور ظاہر ہے کہ نہ کرسکیں گے کقولہ تعالیٰ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا اور پھر بھی آپ کا اتباع نہ کریں) تو آپ سمجھ لیجئے کہ (ان سوالات کا منشاء کوئی اشتباہ و تردد و حق جوئی نہیں ہے بلکہ) یہ لوگ محض اپنی نفسانی خواہشوں پر چلتے ہیں (ان کا نفس کہتا ہے کہ جس طرح بن پڑے انکار ہی کرنا چاہئے پس یہ ایسا ہی کر رہے ہیں گو حق بھی واضح ہوجاوے) اور ایسے شخص سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو اپنی نفسانی خواہش پر چلتا ہو بدون اس کے کہ منجانب اللہ کوئی دلیل (اس کے پاس) ہو (اور) اللہ تعالیٰ ایسے ظالم لوگوں کو (جو کہ وضوح حق کے بعد بدون کسی متمسک صحیح کے بھی اپنی گمراہی سے باز نہ آوے) ہدایت نہیں کیا کرتا (جس کا سبب اس شخص کا خود قصد کرنا ہے اپنے گمراہ رہنے کا اور قصد کے بعد خلق فعل عادت ہے اللہ تعالیٰ کی، اس لئے ایسا شخص ہمیشہ گمراہ رہتا ہے، یہاں تک تو جواب الزامی تھا ان کے اس قول کا لَوْلَآ اُوْتِيَ مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ مُوْسٰي) اور (آگے تحقیقی جواب ہے جس میں قرآن کے دفعۃً واحدةً نازل نہ ہونے کی حکمت بیان فرماتے ہیں کہ) ہم نے اس کلام (یعنی قرآن) کو ان لوگوں کے لئے وقتاً فوقتاً یکے بعد دیگرے بھیجا تاکہ یہ لوگ (بار بار تازہ بتازہ سننے سے) نصیحت مانیں (یعنی ہم تو دفعۃً واحدةً بھیجنے پر بھی قادر ہیں مگر ان ہی کی مصلحت سے تھوڑا تھوڑا نازل کرتے ہیں پھر اندھیر ہے کہ اپنی ہی مصلحت کی مخالفت کرتے ہیں۔) معارف و مسائل وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَاۗىِٕرَ للنَّاسِ ، قرون اولی سے اقوام نوح و ہود و صالح و لوط (علیہم السلام) مراد ہیں جو موسیٰ ؑ سے پہلے اپنی سرکشی کی وجہ سے ہلاک کی گئی تھیں، اور بصائر، بصیرت کی جمع ہے جس کے لفظی معنے تو دانش و بینش کے ہیں۔ مراد اس سے وہ نور ہے جو اللہ تعالیٰ انسانوں کے قلوب میں پیدا فرماتے ہیں جن سے وہ حقائق اشیاء کو دیکھ سکیں اور حق و باطل کا امتیاز کرسکیں۔ (مظہری) بَصَاۗىِٕرَ للنَّاس میں اگر لفظ ناس سے مراد حضرت موسیٰ ؑ کی امت ہے تو بات صاف ہے اس امت کے لئے کتاب توراة ہی مجموعہ بصائر تھی اور اگر لفظ ناس سے تمام انسان مراد ہیں جن میں امت محمدیہ بھی داخل ہے تو یہاں سوال یہ پیدا ہوگا کہ امت محمدیہ کے زمانے میں جو تورات موجود ہے وہ تحریفات کے ذریعہ مسخ ہوچکی ہے تو ان کے لئے اس کا بصائر کہنا کیسے درست ہوگا اور یہ کہ اس سے تو یہ لازم آتا ہے کہ مسلمانوں کو بھی تورات سے فائدہ اٹھانا چاہئے حالانکہ حدیث میں یہ واقعہ معروف ہے کے حضرت فاروق اعظم نے ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ سے اس کی اجازت طلب کی کہ وہ تورات میں جو نصائح وغیرہ ہیں ان کو پڑھیں تاکہ ان کے علم میں ترقی ہو، اس پر رسول اللہ ﷺ نے غضبناک ہو کر فرمایا کہ اگر اس وقت موسیٰ ؑ بھی زندہ ہوتے تو ان کو بھی میرا ہی اتباع لازم ہوتا (جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ آپ کو صرف میری تعلیمات کو دیکھنا چاہئے تورات و انجیل کا دیکھنا آپ کے لئے درست نہیں۔) مگر اس کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ تورات کا جو اس وقت اہل کتاب کے پاس نسخہ تھا وہ تحریف شدہ تھا اور زمانہ ابتداء اسلام کا تھا جس میں نزول قرآن کا سلسلہ جاری تھا، اس وقت آنحضرت ﷺ نے قرآن کی مکمل حفاظت کے پیش نظر اپنی احادیث لکھنے سے بھی بعض حضرات کو روک دیا تھا کہ ایسا نہ ہو لوگ قرآن کے ساتھ احادیث کو جوڑ دیں، ان حالات میں کسی دوسری منسوخ شدہ آسمانی کتاب کا پڑھنا پڑھانا ظاہر ہے کہ احتیاط کے خلاف تھا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مطلقاً تورات و انجیل کے مطالعے اور پڑھنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ ان کتابوں کے وہ حصے جو رسول اللہ ﷺ سے متعلق پیشین گوئیوں پر مشتمل ہیں ان کا مطالعہ کرنا اور نقل کرنا صحابہ کرام سے ثابت اور معروف و مشہور ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام اور کعب احبار اس معاملہ میں سب سے زیادہ معروف ہیں، دوسرے صحابہ کرام نے بھی ان پر نکیر نہیں کیا۔ اس لئے حاصل آیت کا یہ ہوجائے گا کہ تورات و انجیل میں جو غیر محرف مضامین اب بھی موجود ہیں اور بلاشبہ بصائر ہیں، ان سے استفادہ درست ہے مگر ظاہر ہے کہ ان سے استفادہ صرف ایسے ہی لوگ کرسکتے ہیں جو محرف اور غیر محرف میں فرق کرسکیں اور صحیح و غلط کو پہچان سکیں وہ علماء ماہرین ہی ہو سکتے ہیں، عوام کو بیشک اس سے اجتناب اس لئے ضروری ہے کہ وہ کسی مغالطے میں نہ پڑجائیں، یہی حکم ان تمام کتابوں کا ہے جس میں حق کے ساتھ باطل کی آمیزش ہے کہ عوام کو ان کے مطالعہ سے پرہیز کرنا چاہئے علماء ماہرین دیکھیں تو مضائقہ نہیں۔
Ayahs 28:46–50

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور تو نہ تھا طور کے کنارے جب ہم نے آواز دی لیکن یہ انعام ہے تیرے رب کا تاکہ تو ڈر سناوے ان لوگوں کو جن کے پاس نہیں آیا کوئی ڈر سنانے والا تجھ سے پہلے تاکہ وہ یاد رکھیں

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

اور اتنی بات کے لئے کہ کبھی آن پڑے ان پر آفت ان کاموں کی وجہ سے جن کو بھیج چکے ہیں ان کے ہاتھ، تو کہنے لگیں اے رب ہمارے کیوں نہ بھیج دیا ہمارے پاس کسی کو پیغام دے کر تو ہم چلتے تیری باتوں پر اور ہوتے ایمان والوں میں

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

پھر جب پہنچی ان کو ٹھیک بات ہمارے پاس سے کہنے لگے کیوں نہ ملا اس رسول کو جیسا ملا تھا موسیٰ کو کیا ابھی منکر نہیں ہوچکے اس سے جو موسیٰ کو ملا تھا اس سے پہلے کہنے لگے دونوں جادو ہیں آپس میں موافق اور کہنے لگے ہم دونوں کو نہیں مانتے

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

تو کہہ اب تم لاؤ کوئی کتاب اللہ کے پاس کی جو ان دونوں سے بہتر ہو کہ میں اس پر چلوں، اگر تم سچے ہو

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

پھر اگر نہ کر لائیں تیرا کہا تو جان لے کہ وہ چلتے ہیں نری اپنی خواہشوں پر اور اس سے گمراہ زیادہ کون جو چلے اپنی خواہش پر بدون راہ بتلائے اللہ کے بیشک اللہ راہ نہیں دیتا بےانصاف لوگوں کو

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ ، یہاں اس قوم سے عرب مراد ہیں جو حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں ہیں اور ان کے بعد سے خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانے تک ان میں کوئی پیغمبر مبعوث نہ ہوا تھا یہی مضمون سورة یٰسٓ میں بھی آنے والا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دوسری جگہ قرآن کریم کا یہ ارشاد کہ وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ کہ کوئی امت ایسی نہیں جس میں اللہ کا کوئی پیغمبر نہ آیا یہ اس آیت کے منافی نہیں کیونکہ مراد اس آیت کی یہ ہے کہ زمانہ دراز سے حضرت اسماعیل ؑ کے بعد ان میں کوئی نبی نہیں آیا مگر نبی و رسول کے آنے سے بالکل خالی یہ امت بھی نہیں رہی۔
Ayah 28:51

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور ہم پے در پے بھیجتے رہے ہیں ان کو اپنے کلام تاکہ وہ دھیان میں لائیں۔

وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَـهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ ، وصلنا، توصیل سے مشتق ہے جس کے اصل لغوی معنے رسی کے تاروں میں اور تار ملا کر اس کے مضبوط کرنے کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ قرآن حکیم میں حق تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کا سلسلہ یکے بعد دیگرے جاری رکھا اور بہت سے نصیحت کے مضامین کا بار بار تکرار بھی کیا گیا تاکہ سننے والے متاثر ہوں۔ تبلیغ و دعوت کے بعض آداب اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) کی تبلیغ کا اہم پہلو یہ تھا کہ وہ حق بات کو مسلسل کہتے اور پہنچاتے ہی رہتے تھے۔ لوگوں کا انکار و تکذیب ان کے اپنے عمل اور اپنی لگن میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرتا تھا بلکہ وہ حق کو اگر ایک مرتبہ نہ مانا گیا تو دوسری مرتبہ، پھر بھی نہ مانا گیا تو تیسری چوتھی مرتبہ برابر پیش کرتے ہی رہتے تھے کسی کے دل میں ڈال دینا تو کسی ناصح ہمدرد کے بس میں نہیں مگر اپنی کوشش کو بغیر کسی تکان اور اکتاہٹ کے جاری رکھنا جو ان کے قبضہ میں تھا اس کو مسلسل انجام دیتے۔ آج بھی تبلیغ و دعوت کے کام کرنے والوں کو اس سے سبق لینا چاہئے۔
Ayah 28:52

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جن کو ہم نے دی ہے کتاب اس سے پہلے وہ اس پر یقین کرتے ہیں

خلاصہ تفسیر (اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت ان بشارتوں سے بھی ثابت ہے جن کی ان علماء نے تصدیق کی ہے جن کو تورات و انجیل میں ان بشارتوں کا علم ہے۔ چنانچہ) جن لوگوں کو ہم نے قرآن سے پہلے (آسمانی) کتابیں دی ہیں (ان میں جو منصف ہیں) وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور جب قرآن ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے بیشک یہ حق ہے (جو) ہمارے رب کی طرف سے (نازل ہوا ہے اور) ہم تو اس (کے آنے) سے پہلے بھی (اپنی کتابوں کی بشارتوں کی بناء پر) مانتے تھے اب نزول کے بعد تجدید عہد کرتے ہیں۔ یعنی ہم ان لوگوں کی طرح نہیں جو نزول قرآن سے پہلے تو اس کی تصدیق کرتے تھے بلکہ اس کے آنے کے منتظر اور شائق تھے مگر جب قرآن آیا تو اس کے منکر ہوگئے (فَلَمَّا جَاۗءَھُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ) اس سے صاف ظاہر ہوگیا کہ تورات و انجیل کی بشارتوں کے مصداق آنحضرت ﷺ ہی تھے جیسا کہ سورة شعراء کے آخر میں فرمایا ہے اَوَلَمْ يَكُنْ لَّهُمْ اٰيَةً اَنْ يَّعْلَمَهٗ عُلَمٰۗؤُا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ یہاں تک رسالت محمدیہ پر علماء بنی اسرائیل کی شہادت کا بیان ہوا آگے مومنین اہل کتاب کی فضیلت کا بیان ہے) ان لوگوں کو ان کی پختگی کی وجہ سے دوہرا ثواب ملے گا (کیونکہ وہ پہلی کتاب پر ایمان رکھنے کے ضمن میں بھی قرآن پر ایمان رکھتے تھے اور بعد نزول کے بھی اس پر قائم رہے اور اس کی تجدید کی، یہ تو ان کے اعتقاد اور جزاء کا بیان تھا آگے اعمال و اخلاق کا ذکر ہے کہ) اور وہ لوگ نیکی (اور تحمل) سے بدی (اور ایذاء) کا دفعیہ کردیتے ہیں اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں اور (جس طرح یہ لوگ عملی ایذاؤں پر صبر کرتے ہیں اسی طرح) جب کسی سے (اپنے متعلق) کوئی لغو بات سنتے ہیں (جو قولی ایذاء ہے) تو اس کو (بھی) ٹال جاتے ہیں اور (سلامت روی کے طور پر) کہہ دیتے ہیں کہ (ہم کچھ جواب نہیں دیتے) ہمارا عمل ہمارے سامنے آوے گا اور تمہارا عمل تمہارے سامنے (بھائی) ہم تو تم کو سلام کرتے ہیں (ہم کو جھگڑے سے معاف رکھو) ہم بےسمجھ لوگوں سے الجھنا نہیں چاہتے۔ معارف و مسائل اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ ، اس آیت میں ان اہل کتاب کا ذکر ہے جو رسول اللہ ﷺ کی بعثت و نبوت اور نزول قرآن سے پہلے ہی تورات و انجیل کی دی ہوئی بشارتوں کی بناء پر نزول قرآن اور رسول اللہ ﷺ کی بعثت پر یقین رکھتے تھے۔ پھر آپ مبعوث ہوئے تو اپنے سابق یقین کی بناء پر ایمان لے آئے۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نجاشی بادشاہ حبشہ کے درباریوں میں سے چالیس آدمی مدینہ طیبہ میں اس وقت حاضر ہوئے جب رسول اللہ ﷺ غزوہ خیبر میں مشغول تھے یہ لوگ بھی جہاد میں شریک ہوگئے، بعض کو کچھ زخم بھی لگے مگر ان میں سے کوئی مقتول نہیں ہوا۔ انہوں نے جب صحابہ کرام کی معاشی تنگی کا حال دیکھا تو آپ سے درخواست کی کہ ہم اللہ کے فضل سے مالدار اصحاب جائیداد ہیں ہم اپنے ملک واپس جا کر صحابہ کرام کے لئے مال فراہم کر کے لائیں آپ اجازت دے دیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ (الی قولہ) وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ (اخرجہ ابن مردویہ و الطبرانی فی الاوسط۔ مظہری) اور حضرت سعید بن جبیر کی روایت ہے کہ حضرت جعفر اپنے ساتھیوں کے ساتھ جب ہجرت مدینہ سے پہلے حبشہ گئے تھے اور نجاشی کے دربار میں اسلام کی تعلیمات پیش کیں تو نجاشی اور اس کے اہل دربار جو اہل کتاب تھے اور تورات و انجیل میں رسول اللہ ﷺ کی بشارت اور علامتیں دیکھے ہوئے تھے ان کے دلوں میں اسی وقت اللہ نے ایمان ڈال دیا۔ (مظہری)
Ayah 28:53

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب ان کو سنائے تو کہیں ہم یقین لائیں اس پر یہی ہے ٹھیک ہمارے رب کا بھیجا ہوا ہم ہیں اس سے پہلے کے حکمبردار

لفظ مسلمین امت محمدیہ کا مخصوص لقب ہے یا تمام امتوں کے لئے عام ہے اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ ، یعنی ان حضرات اہل کتاب نے کہا کہ ہم تو قرآن کے نازل ہونے سے پہلے ہی مسلمان تھے یہاں لفظ مسلم اگر اپنے لغوی معنے میں لیا جائے یعنی مطیع و فرمانبردار تو بات صاف ہے کہ ان کو جو یقین قرآن اور نبی آخر الزماں پر اپنی کتابوں کی وجہ سے حاصل تھا اس یقین کو لفظ اسلام اور مسلمین سے تعبیر فرمایا کہ ہم تو پہلے ہی سے اس کو مانتے تھے اور اگر لفظ مسلمین اس جگہ اس معنے میں لیا جائے جس کے لحاظ سے امت محمدیہ کا لقب مسلمین ہے تو اس سے یہ ثابت ہوگا کہ اسلام اور مسلمین کا لفظ صرف امت محمدیہ کے لئے مخصوص نہیں بلکہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین اسلام ہی تھا اور وہ سب مسلمین ہی تھے مگر قرآن کریم کی بعض آیات سے اسلام اور مسلمین کا اس وقت کے لئے مخصوص لقب ہونا معلوم ہوتا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم ؑ کا قول خود قرآن نے نقل کیا ہے هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِـمِيْنَ اور علامہ سیوطی اسی خصوصیت کے قائل ہیں اور اس مضمون پر ان کا ایک مستقل رسالہ ہے، ان کے نزدیک اس آیت میں مسلمین سے مراد یہ ہے کہ ہم تو پہلے ہی سے اسلام کو قبول کرنے کے لئے آمادہ اور تیار تھے اور اگر غور کیا جائے تو ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں کہ اسلام تمام انبیاء (علیہم السلام) کے دین کا مشترک نام بھی ہو اور اس امت کے لئے مخصوص لقب بھی کیونکہ یہ ہوسکتا ہے کہ اسلام اپنے معنی وصفی کے اعتبار سے سب میں مشترک ہو مگر مسلم کا لقب صرف اس امت کے لئے مخصوص ہو جیسے صدیق اور فاروق وغیرہ کے القاب ہیں جن کا مصداق خاص اس امت میں ابوبکر و عمر ؓ ہیں، حالانکہ اپنے معنے وصفی کے اعتبار سے دوسرے حضرات بھی صدیق اور فاروق ہو سکتے ہیں۔ (ہذا ما سخ لی واللہ اعلم)
Ayah 28:54

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

وہ لوگ پائیں گے اپنا ثواب دوہرا اس بات پر کہ قائم رہے اور بھلائی کرتے ہیں برائی کے جواب میں اور ہمارا دیا ہوا کچھ خرچ کرتے رہتے ہیں

اُولٰۗىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ ، یعنی مومنین اہل کتاب کو دو مرتبہ اجر دیا جائے گا۔ قرآن کریم میں اسی طرح کا وعدہ ازواج مطہرات کے متعلق بھی آیا ہے۔ وَمَنْ يَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّــؤْتِهَآ اَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ ، اور صحیح بخاری کی ایک حدیث میں تین شخصوں کے لئے دوہرے اجر کا ذکر فرمایا ہے ایک وہ اہل کتاب جو پہلے اپنے سابق نبی پر ایمان لایا پھر رسول اللہ ﷺ پر، دوسرا وہ شخص جو کسی کا مملوک غلام ہو اور وہ اپنے آقا کی بھی اطاعت و فرمانبرداری کرتا ہو اور اللہ اور اس کے رسول کی بھی، تیسرا وہ شخص جس کی ملک میں کوئی کنیز تھی جس سے بلا نکاح صحبت اس کے لئے حلال تھی اس نے اس کو اپنی غلامی سے آزاد کردیا پھر اس کو منکوحہ زوجہ بنا لیا۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ ان چند قسموں کو دو مرتبہ اجر دینے کی علت کیا ہے اگر کہا جائے کہ ان دونوں کے ردعمل اس دوہرے اجر کا سبب ہیں کیونکہ مومنین اہل کتاب کے دو عمل یہ ہیں کہ پہلے ایک نبی اور اس کی کتاب پر ایمان لائے پھر دوسرے نبی اور اس کی کتاب پر اور ازواج مطہرات کے دو عمل یہ ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری ہے، اللہ و رسول کی بھی اور آقا کی بھی، اور کنیز کو آزاد کر کے اس سے نکاح کرنے والے کا ایک عمل صالح اس کو آزاد کرنا دوسرا اس کو منکوحہ زوجہ بنا لینا ہے۔ مگر اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دو عمل کے دو اجر ہونا تو مقتضائے عدل و انصاف ہونے کی وجہ سے سب کے لئے عام ہے اس میں مومنین اہل کتاب یا ازواج مطہرات وغیرہ کی کیا خصوصیت ہے جو شخص بھی دو عمل کرے گا دو اجر پائے گا ؟ اس سوال کے جواب کی مکمل تحقیق احقر نے احکام القرآن سورة قصص میں لکھی ہے اس میں جو بات خود الفاظ قرآن کی دلالت سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ان تمام اقسام میں مراد صرف دو اجر نہیں، کیونکہ وہ تو ہر عمل کرنے والے کے لئے عام ضابطہ قرآنیہ ہے لَآ اُضِيْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ یعنی اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا بلکہ وہ جتنے نیک عمل کرے گا اسی کے حساب سے اجر پائے گا۔ بلکہ ان اقسام مذکورہ میں دو اجر سے مراد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ان کے ہر عمل کا دوہرا ثواب ملے گا۔ ہر نماز پر اس کا دوہرا، ہر روزہ پر اس کا دوہرا، ہر صدقہ اور حج وعمرہ پر اس کا دوہرا ثواب ملے گا۔ قرآن کے الفاظ پر غور کریں تو دو اجر دینے کے لئے مختر لفظ اجرین کا تھا مگر قرآن نے اس کو چھوڑ کر اجر مرتین کا لفظ اختیار کیا جس میں صاف اشارہ اس کا پایا جاتا ہے کہ اجر مرتین سے مراد یہ ہے کہ ان کا ہر عمل مکرر لکھا جائے گا اور ہر عمل پر دوہرا ثواب ملے گا۔ رہا یہ معاملہ کہ ان کی اتنی بڑی فضیلت اور خصوصیت کا سبب کیا ہے تو اس کا واضح جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے کہ کسی خاص عمل کو دوسرے اعمال سے افضل قرار دیدے اور اس کا اجر بڑھا دے، کسی کو اس سوال کا حق نہیں ہے کہ روزہ کا ثواب اللہ تعالیٰ نے اتنا زیادہ کیوں کردیا، زکوٰۃ و صدقہ کا کیوں ایسا نہ کیا ؟ ہوسکتا ہے کہ یہ اعمال جن کا ذکر آیات مذکور اور حدیث بخاری میں ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کا درجہ دوسرے اعمال سے ایک حیثیت میں بڑھا ہوا ہو اس پر یہ انعام فرمایا اور بعض اکابر علماء نے جو اس کا سبب ان لوگوں کی دوہری مشقت کو قرار دیا ہے وہ بھی اپنی جگہ متحمل ہے اور اسی آیت کے آخر میں لفظ بِمَا صَبَرُوْا سے اس پر استدلال ہوسکتا ہے کہ علت اس دوہرے اجر کی ان کا مشقت پر صبر کرنا ہے۔ واللہ اعلم وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ یعنی یہ لوگ برائی کو بھلائی کے ذریعہ دور کرتے ہیں۔ اس برائی اور بھلائی کی تعبیر میں ائمہ تفسیر کے بہت سے اقوال ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ بھلائی سے اطاعت اور برائی سے معصیت مراد ہے کیونکہ نیکی بدی کو مٹا دیتی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل سے فرمایا اتبع الحسنة السیئۃ تمحھا یعنی بدی اور گناہ کے بعد نیکی کرو تو وہ گناہ کو مٹا دے گی اور بعض حضرات نے فرمایا حسنہ سے مراد علم و حلم اور سیہ سے مراد جہل و غفلت ہے یعنی یہ لوگ دوسروں کی جہالت کا جواب جہالت کے بجائے حلم و بردباری سے دیتے ہیں اور درحقیقت ان اقوال میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ لفظ حسنہ اور سیہ یعنی بھلائی اور برائی کے الفاظ ان سب چیزوں کو شامل ہیں۔ اس آیت میں دو اہم ہدایتیں ہیں اول یہ کہ اگر کسی شخص سے کوئی گناہ خطاء سرزد ہوجائے تو اس کا علاج یہ ہے کہ اس کے بعد نیک عمل کی فکر کرے تو نیک عمل اس گناہ کا کفارہ ہوجائے گا جیسا کہ حدیث معاذ کے حوالہ سے اوپر بیان ہوچکا ہے۔ دوسرے یہ کہ جو شخص کسی کے ساتھ ظلم اور برائی سے پیش آئے اگرچہ قانون شرع کی رو سے اس کو اپنا انتقام لے لینا جائز ہے بشرطیکہ انتقام برابر سرابر ہو کہ جتنا نقصان یا تکلیف اس کو پہنچائی ہے اتنا ہی یہ اپنے حریف کو پہنچاوے مگر اولی اور احسن یہ ہے کہ انتقام کے بجائے برائی کے بدلہ میں بھلائی اور ظلم کے بدلہ میں احسان کرے کہ یہ اعلی درجہ مکارم اخلاق کا ہے اور دنیا و آخرت میں اس کے منافع بیشمار ہیں۔ قرآن کریم کی ایک دوسری آیت میں یہ ہدایت بہت واضح الفاظ میں اس طرح آئی ہے ۭ اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ، یعنی برائی اور ظلم کو ایسے طریقہ سے دفع کرو جو کہ بہتر ہے۔ (یعنی ظلم کے بدلہ میں احسان کرو) تو جس شخص کے اور تمہارے درمیان عداوت ہے وہ تمہارا مخلص دوست بن جائے گا۔
Ayah 28:55

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب سنیں نکمی باتیں اس سے کنارہ کریں اور کہیں ہم کو ہمارے کام اور تم کو تمہارے کام، سلامت رہو ہم کو نہیں چاہئیں بےسمجھ لوگ۔

سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ ، یعنی ان لوگوں کی ایک عمدہ خصلت یہ ہے کہ جب یہ کسی جاہل دشمن سے لغویات سنتے ہیں تو اس کا جواب دینے کے بجائے یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا سلام لو ہم جاہل لوگوں سے الجھنا پسند نہیں کرتے۔ امام جصاص نے فرمایا کہ سلام کی دو قسمیں ہیں، ایک سلام تحیہ جو مسلمان باہم ایک دوسرے کو کرتے ہیں، دوسرا سلام مسالمت و متارکت یعنی اپنے حریف کو یہ کہہ دینا کہ ہم تمہاری لغو بات کا کوئی انتقام تم سے نہیں لیتے، یہاں سلام سے یہی دوسرے معنے مراد ہیں۔
Ayah 28:56

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

تو راہ پر نہیں لاتا جس کو چاہے پر اللہ راہ پر لائے جس کو چاہے اور وہی خوب جانتا ہے جو راہ پر آئیں گے۔

خلاصہ تفسیر آپ جس کو چاہیں ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ اللہ جس کو چاہے ہدایت کردیتا ہے (اور ہدایت کرنے کی قدرت تو کسی کو کیا ہوتی اللہ کے سوا کسی کو اس کا علم تک بھی نہیں کہ کون کون ہدایت پانے والا ہے بلکہ) ہدایت پانے والوں کا علم اسی کو ہے۔ معارف و مسائل لفظ ہدایت کئی معنوں کے لئے استعمال ہوتا ہے، ایک معنے صرف راستہ دکھا دینے کے ہیں، جس کے لئے ضروری نہیں کہ جس کو راستہ دکھایا گیا وہ منزل مقصود پر پہنچے اور ایک معنی ہدایت کے یہ بھی آتے ہیں کہ کسی کو منزل مقصود پر پہنچا دیا جائے۔ پہلے معنے کے اعتبار سے تو رسول اللہ ﷺ بلکہ تمام انبیاء کا ہادی ہونا اور یہ ہدایت ان کے اختیار میں ہونا ظاہر ہے کیونکہ یہ ہدایت ہی ان کا فرض منصبی ہے اگر اس کی ان کو قدرت نہ ہو تو فریضہ رسالت و نبوت کیسے ادا کریں۔ اس آیت میں جو آپ کا ہدایت پر قادر نہ ہونا بیان فرمایا ہے اس سے مراد دوسرے معنے کی ہدایت ہے، یعنی مقصود پر پہنچا دینا اور مطلب یہ ہے کہ اپنی تبلیغ وتعلیم کے ذریعہ آپ کسی کے دل میں ایمان ڈال دیں اس کو مومن بنادیں یہ آپ کا کام نہیں یہ تو براہ راست حق تعالیٰ کے اختیار میں ہے ہدات کے معنی اور اس کی اقسام کی مکمل تحقیق سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ یہ آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ آپ کی بڑی تمنا یہ تھی کہ وہ کس طرح ایمان قبول کرلیں اس پر آنحضرت ﷺ کو یہ بتایا گیا کسی کو مومن بنادینا آپ کی قدرت میں نہیں۔ تفسیر روح المعانی میں ہے کہ ابوطالب کے ایمان و کفر کے معاملے میں بےضرورت گفتگو اور بحث و مباحثہ سے اور ان کو برا کہنے سے اجتناب کرنا چاہئے کہ اس سے آنحضرت ﷺ کی طبعی ایذا کا احتمال ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 28:57

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

اور کہنے لگے اگر ہم راہ پر آئیں تیرے ساتھ اچک لئے جائیں اپنے ملک سے کیا ہم نے جگہ نہیں دی ان کو حرمت والے پناہ کے مکان میں کھنچے چلے آتے ہیں اس کی طرف میوے ہر چیز کے روزی ہماری طرف سے پر بہت ان میں سمجھ نہیں رکھتے

خلاصہ تفسیر (اوپر دور سے کفار کے ایمان نہ لانے کا ذکر چلا آ رہا ہے ان آیات میں ان موانع کا ذکر ہے جو کفار کو ایمان لانے کی راہ میں حائل سمجھے جاتے تھے، مثلاً ایک مانع کا بیان یہ ہے کہ) اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر آپ کے ساتھ ہو کر (اس دین کی) ہدایت پر چلنے لگیں تو فی الفور اپنے مقام سے مار کر نکال دیئے جاویں (کہ بےوطنی کی بھی مضرت ہو اور معاش کی پریشانی الگ ہو، لیکن اس عذر کا بطلان ہی بالکل ظاہر ہے) کیا ہم نے ان کو امن وامان والے حرم میں جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے پھل کھچے چلے آتے ہیں جو ہمارے پاس سے (یعنی ہماری قدرت اور رزاقی سے) کھانے کو ملتے ہیں (پس حرم ہونے کی وجہ سے جس کا سب احترام کرتے ہیں مضرت کا بھی اندیشہ نہیں اور اس مضرت کے منتفی ہونے کی وجہ سے احتمال فوت منفعت رزق کا بھی نہیں، پس ان کو چاہئے تھا کہ اس حالت کو غنیمت سمجھنے اور اس کو نعمت سمجھ کر قدر کرتے اور ایمان لے آتے) و لیکن ان میں اکثر لوگ (اس کو) نہیں جانتے (یعنی اس کا خیال نہیں کرتے اور (ایک سبب ان کے ایمان نہ لانے کا یہ ہے کہ یہ اپنی خوش عیشی پر نازاں ہیں لیکن یہ بھی حماقت ہے کیونکہ) ہم بہت سی ایسی بستیاں ہلاک کرچکے ہیں جو اپنے سامان عیش پر نازاں تھے، سو (دیکھ لو) یہ ان کے گھر (تمہاری آنکھوں کے سامنے پڑے) ہیں کہ ان کے بعد آباد ہی نہ ہوئے مگر تھوڑی دیر کے لئے (کہ کسی مسافر وارد صادر کا ادھر کو اتفاقاً گزر ہوجاوے اور وہ تھوڑی دیر وہاں سستانے کو یا تماشا دیکھنے کو بیٹھ جاوے یا شب کو رہ جاوے) اور آخر کار (ان کے ان سب سامانوں کے) ہم ہی مالک رہے (کوئی ظاہری وارث بھی ان کا نہ ہوا) اور (ایک شبہ ان کو یہ ہوتا ہے کہ اگر ان لوگوں کی ہلاکت بسبب کفر کے ہے تو ہم مدت سے کفر کرتے آ رہے ہیں ہم کو کیوں نہ ہلاک کیا جیسا کہ دوسری آیتوں میں ہے وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ الخ اور اس شبہ کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے سو اس کا حل یہ ہے کہ) آپ کا رب بستیوں کو (اول ہی بار میں) ہلاک نہیں کیا کرتا جب تک کہ (بستیوں) کے صدر مقام میں کسی پیغمبر کو نہ بھیج لے اور (پیغمبر کو بھیجنے کے بعد بھی فوراً) ہم ان بستیوں کو ہلاک نہیں کرتے مگر اسی حالت میں کہ وہاں کے باشندے بہت ہی شرارت کرنے لگیں (یعنی ایک مدت معتدبہ تک بار بار کی تذکیر سے تذکر حاصل کریں تو اس وقت ہلاک کردیتے ہیں۔ چناچہ جن بستیوں کی ہلاکت کا اوپر ذکر تھا وہ بھی اسی قانون کے موافق ہلاک ہوئیں سو اسی قانون کے موافق تمہارے ساتھ عمل درآمد ہو رہا ہے اس لئے نہ رسول سے پہلے ہلاک کیا اور نہ بعد رسول کے ابھی تک ہلاک کیا مگر چند روز گزرنے دو۔ اگر تمہارا یہ ہی عناد رہا تو سزا ہو ہی گی چناچہ بدر وغیرہ میں ہوئی) اور (ایک وجہ ایمان نہ لانے کی یہ ہے کہ دنیا نقد ہے اس لئے مرغوب ہے اور آخرت ادھار ہے اس لئے غیر مرغوب ہے، پس دنیا کی رغبت سے دل خالی نہیں ہوتا کہ اس میں آخرت کی رغبت سماوے پھر اس کی تحصیل کا طریقہ تلاش کیا جاوے جو کہ ایمان ہے سو اس کی نسبت یہ سن رکھو کہ) جو کچھ تم کو دیا دلایا گیا ہے وہ محض (چند روزہ) دنیوی زندگی کے برتنے کے لئے ہے اور یہیں کی (زیب و) زینت ہے (کہ خاتمہ عمر کے ساتھ اس کا بھی خاتمہ ہوجائے گا) اور جو (اجر وثواب) اللہ کے ہاں ہے وہ بدرجہا اس سے (کیفیۃً بھی) بہتر ہے اور (کمیۃً بھی) زیادہ (یعنی ہمیشہ) باقی رہنے والا ہے سو کیا تم لوگ (اس تفاوت کو یا اس تفاوت کے اقتضاء کو) نہیں سمجھتے (غرض تمہارے اعذار اور اسباب پر اصرار علی الکفر سب محض بےبنیاد اور لغو ہیں سمجھو اور مانو) معارف و مسائل وَقَالُوْٓا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا، یعنی کفار مکہ حارث بن عثمان وغیرہ نے اپنے ایمان نہ لانے کی ایک وجہ یہ بیان کی کہ اگرچہ ہم آپ کی تعلیمات کو حق مانتے ہیں مگر ہمیں خطرہ یہ ہے کہ اگر ہم آپ کی ہدایت پر عمل کر کے آپ کے ساتھ ہوجاویں تو سارا عرب ہمارا دشمن ہوجائے گا اور ہمیں ہماری زمین مکہ سے اچک لے گا (اخرجہ النسائی وغیرہ) قرآن کریم نے ان کے اس عذر لنگ کے تین جواب دیئے اول یہ کہ اَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْــبٰٓى اِلَيْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ یعنی ان کا یہ عذر اس لئے باطل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خصوصیت کے ساتھ اہل مکہ کی حفاظت کا ایک قدرتی سامان پہلے سے یہ کر رکھا ہے کہ ارض مکہ کو حرم بنادیا اور پورے عرب کے قبائل کفر و شرک اور باہمی عداوتوں کے باوجود اس پر متفق تھے کہ زمین حرم میں قتل و قتال سخت حرام ہے۔ حرم میں باپ کا قاتل بیٹے کو ملتا تو انتہائی جوش انتقام کے باوجود کسی کی یہ مجال نہ تھی کہ حرم کے اندر اپنے دشمن کو قتل کر دے یا اس سے کوئی انتقام لے لے، اس لئے ایمان لانے میں ان کو یہ خطرہ محسوس کرنا کس قدر جاہلیت ہے کہ جس مالک نے اپنے رحم و کرم سے ان کے کفر و شرک کے باوجود اس زمین میں امن دے رکھا ہے تو ایمان لانے کی صورت میں وہ ان کو کیسے ہلاک ہونے دے گا۔ یحی بن سلام نے فرمایا کہ معنے آیت کے یہ ہیں کہ تم حرم کی وجہ سے مامون و محفوظ تھے، میرا دیا ہوا رزق فراخی کے ساتھ کھا رہے تھے اور عبادت میرے سوا دوسروں کی کرتے تھے اپنی اس حالت سے تو تمہیں خوف نہ ہوا الٹا خوف اللہ پر ایمان لانے سے ہوا۔ (قرطبی) آیت مذکورہ میں حرم مکہ کے دو وصف بیان فرمائے ہیں ایک یہ کہ وہ جائے امن ہے۔ دوسرے یہ کہ وہاں اطراف دنیا سے ہر چیز کے ثمرات لائے جاتے ہیں تاکہ مکہ کے باشندے اپنی تمام ضروریات آسانی سے پوری کرسکیں۔ حرم مکہ میں ہر چیز کے ثمرات کا جمع ہونا خاص آیات قدرت میں سے ہے مکہ مکرمہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیت کے لئے ساری دنیا میں سے منتخب فرمایا ایک ایسا مقام ہے کہ وہاں دنیا کی معیشت کی کوئی چیز آسانی سے نہ ملنا چاہئے کیونکہ گیہوں، چنا، چاول وغیرہ جو عام انسانی غذا ہے، ان چیزوں کی پیداوار بھی وہاں نہ ہونے کے حکم میں تھی۔ پھل اور ترکاریوں وغیرہ کا تو کہنا کیا ہے مگر یہ سب چیزیں جس افراط کے ساتھ مکہ مکرمہ میں ملتی ہیں عقل حیران رہ جاتی ہے کہ موسم حج کے موقع پر مکہ کی دو تین لاکھ کی آبادی پر بارہ پندرہ لاکھ مسلمانوں کا اضافہ ہر سال ہوجاتا ہے جو اوسطاً دو ڈھائی مہینے تک رہتا ہے۔ کبھی نہیں سنا گیا کہ ان میں سے کسی کو کسی زمانے میں غذائی ضروریات نہ ملی ہوں بلکہ رات دن کے تمام اوقات میں تیار شدہ غذا ہر وقت ملتے رہنے کا مشاہدہ ہر شخص کرتا ہے اور قرآن کریم کے لفظ (ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ) میں غور کریں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عرف عام کے اعتبار سے ثمرات کا تعلق درختوں کے ساتھ ہے مقام اس کا تھا کہ ثمرات کل شجر فرمایا جاتا، اس کے بجائے ثمرات کل شئی فرماتے ہیں بعید نہیں کہ اشارہ اس طرف ہو کہ لفظ ثمرات یہاں صرف پھلوں کے معنے میں نہیں بلکہ مطلقاً حاصل اور پیداوار کے معنی میں ہے ملوں اور کارخانوں کی مصنوعات بھی ان کے ثمرات ہیں، اس طرح حاصل اس آیت کا یہ ہوگا کہ حرم مکہ میں صرف کھانے پینے ہی کی چیزیں جمع نہیں ہوگی بلکہ تمام ضروریات زندگی جمع کردی جائیں گی جس کا کھلی آنکھوں مشاہدہ ہو رہا ہے کہ شاید دنیا کے کسی بھی ملک میں یہ بات نہ ہو کہ ہر ملک اور ہر خطے کی غذائیں اور وہاں کی مصنوعات اس افراط کے ساتھ وہاں ملتی ہوں جیسی مکہ مکرمہ میں ملتی ہیں۔ یہ تو کافر مکہ کے عذر کا ایک جواب ہوا کہ جس مالک نے تمہاری حالت کفر و شرک میں تم پر یہ انعامات برسائے کہ تمہاری زمین کو ہر خطرہ سے مامون و محفوظ کردیا اور باوجودیکہ اس زمین میں کوئی چیز پیدا نہیں ہوتی، ساری دنیا کی پیداوار یہاں لا کر جمع کردی تو تمہارا یہ خطرہ کیسی بڑی جہالت ہے کہ خالق کائنات پر ایمان لانے کی صورت میں تم سے یہ نعمتیں سلب ہوجائیں گی۔
Ayah 28:58

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور کتنی غارت کردیں ہم نے بستیاں جو اترا چلی تھیں اپنی گزران میں اب یہ ہیں ان کے گھر آباد نہیں ہوئے ان کے پیچھے مگر تھوڑے اور ہم ہیں آخر کو سب کچھ لینے والے

اس کے بعد دوسرا جواب اس عذر کا یہ ہے وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍۢ بَطِرَتْ مَعِيْشَتَهَا، جس میں یہ بتلایا گیا ہے کہ دنیا کی دوسری کافر قوموں کے حالات پر نظر ڈالو کہ ان کے کفر و شرک کے وبال سے کس طرح ان کی بستیاں تباہ ہوئیں اور مضبوط و مستحکم قلعے اور حفاظتی سامان سب خاک میں مل گئے تو اصل خوف کی چیز کفر و شرک ہے جو تباہی و بربادی کا سبب ہوتا ہے۔ تم کیسے بیخبر بیوقوف ہو کہ کفر و شرک سے خطرہ محسوس نہیں کرتے ایمان سے خطرہ محسوس کرتے ہو۔ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِيْلًا یعنی پچھلی قوموں کی جن بستیوں کو عذاب الٰہی سے برباد کیا گیا تھا اب تک بھی ان میں آبادی نہیں ہوئی بجز قدر قلیل کے۔ اس قدر قلیل سے مراد اگر مساکن اور مقامات قلیلہ لئے جاویں جیسا کہ زجاج کا قول ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ ان تباہ شدہ بستیوں میں کوئی مقام اور کوئی مکان پھر آباد نہیں ہوسکا بجز عدد قلیل کے کہ وہ آباد ہوئے مگر حضرت ابن عباس سے آیت کی یہ تفسیر منقول ہے کہ قدر قلیل سے مقامات اور مکانات قلیلہ کا استثناء نہیں بلکہ زمان سکونت کا استثناء مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگر ان بستیوں میں کوئی رہتا بھی ہے تو بہت تھوڑی دیر کے لئے جیسے کوئی راہ گیر مسافر تھوڑی دیر کے لئے ٹھہر جائے جس کو بستیوں کی آبادی نہیں کہا جاسکتا۔
Ayah 28:59

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور تیرا رب نہیں غارت کرنے والا بستیوں کو جب تک نہ بھیج لے ان کی بڑی بستی میں کسی کو پیغام دے کر جو سنائے ان کو ہماری باتیں اور ہم ہرگز نہیں غارت کرنے والے بستیوں کو مگر جبکہ وہاں کے لوگ گنہگار ہوں

حَتّٰى يَبْعَثَ فِيْٓ اُمِّهَا رَسُوْلًا لفظ ام کے مشہور معنے والدہ اور ماں کے ہیں اور ماں چونکہ تخلیق انسانی کی بنیاد ہے اس لئے لفظ ام اصل اور اساس کے معنے میں بھی بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ امھا کی ضمیر قُرٰی کی طرف راجع ہے امھا سے مراد ام القری ہے یعنی بستیوں کی اصل اور مدارکار مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک اس قوم کو بڑے شہروں میں اپنے کسی رسول کے ذریعہ پیغام حق نہ پہنچا دے، جب دعوت حق پہنچ جائے اور لوگ اس کو قبول نہ کریں اس وقت ان بستیوں پر عذاب آتا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کے انبیاء اور رسل عموماً بڑے شہروں میں مبعوث ہوتے ہیں وہ چھوٹے قصبات و دیہات میں نہیں آتے کیونکہ ایسے قصبات و دیہات عادةً شہر کے تابع ہوتے ہیں اپنی معاشی ضررویات میں بھی اور تعلیمی ضروریات میں بھی اور شہر میں جو بات پھیل جائے اس کا تذکرہ ملحقہ قصبات و دیہات میں خود بخود پھیل جاتا ہے اسی لئے جب کسی بڑے شہر میں رسول مبعوث ہوا اور اس نے دعوت حق پیش کردی تو یہ دعوت ان قصبات و دیہات میں بھی عادةً پہنچ جاتی ہے اس طرح ان سب پر اللہ تعالیٰ کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور انکار و تکذیب کیا جائے تو سب پر عذاب آتا ہے۔ احکام و قوانین میں قصبات و دیہات شہروں کے تابع ہوتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ جیسے معاشی ضروریات میں چھوٹی بستیاں بڑے شہر کے تابع ہوتی ہیں وہیں سے ان کی ضروریات پوری ہوتی ہیں اسی طرح جب کسی حکم کا اعلان شہر میں کردیا جائے تو اس حکم کی تعمیل اس کی ملحقہ بستیوں پر بھی لازم ہوجاتی ہے، نہ جاننے یا نہ سننے کا عذر مسموع نہیں ہوتا۔ ہلال رمضان وعید کے مسئلے میں بھی فقہاء نے یہی فرمایا ہے کہ ایک شہر میں اگر شہادت شرعیہ کے ساتھ قاضی شہر کے حکم سے چاند کی رویت ثابت ہوجائے تو ملحقہ بستیوں کو بھی اس پر عمل کرنا لازم ہے۔ لیکن دوسرے شہر والوں پر اس وقت تک لازم نہیں ہوگا جب تک خود اس شہر کا قاضی شہادت کو تسلیم کر کے اس کا حکم نہ دے۔ (کذا فی انصتاوی الغیاثیہ)
Ayah 28:60

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

اور جو تم کو ملی ہے کوئی چیز سو فائدہ اٹھا لینا ہے دنیا کی زندگی میں اور یہاں کی رونق ہے اور جو اللہ کے پاس ہے سو بہتر ہے اور باقی رہنے والا۔

تیسرا جواب اس آیت میں دیا گیا وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا الآیتہ جس میں یہ بتلایا کہ اگر بالفرض ایمان لانے کے نتیجہ میں تمہیں کوئی تکلیف پہنچ ہی جائے تو وہ چند روزہ ہے اور جس طرح دنیا کی عیش و عشرت مال و دولت سب چند روزہ متاع ہے کسی کے پاس ہمیشہ نہیں رہتی، اسی طرح یہاں کی تکلیف و راحت کی کرے جو پائیدار اور ہمیشہ رہنے والی ہے ہمیشہ رہنے والی دولت و نعمت کی خاطر چند روزہ تکلیف و مشقت برداشت کرلینا ہی عقلمندی کی دلیل ہے۔ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى، یعنی دنیا کا مال و متاع اور عیش و عشرت سب فانی ہے اور یہاں کے اعمال کا جو بدلہ آخرت میں ملنے والا ہے وہ یہاں کے مال و اسباب اور عیش و عشرت سے اپنی کیفیت کے اعتبار سے بھی بہت بہتر ہے کہ دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی راحت و لذت بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی اور پھر وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بھی ہے بخلاف متاع دنیا کے کہ وہ کتنا ہی بہتر ہو مگر بالاخر فانی اور زائل ہونے والا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ کوئی عقلمند آدمی ایسے عیش کو جو کم درجہ بھی ہو اور چند روزہ بھی اس عیش و آرام پر ترجیح نہیں دے سکتا جو راحت و لذت میں اس سے زیادہ بھی ہو اور ہمیشہ رہنے والا بھی ہو۔ عقلمند کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ دنیا کے دھندوں میں زیادہ منہمک نہ ہو بلکہ آخرت کی فکر میں لگے امام شافعی ؒ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنے مال و جائیداد کے متعلق یہ وصیت کر کے مر جائے کہ میرا مال اس شخص کو دے دیا جائے جو سب سے زیادہ عقلمند ہو تو اس مال کے مصرف شرعی وہ لوگ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت میں مشغول ہوں، کیونکہ عقل کا تقاضا یہی ہے اور دنیا داروں میں سب سے زیادہ عقل والا وہی ہے۔ یہی مسئلہ فقہ حنفیہ کی مشہور کتاب در مختار باب الوصیت میں بھی مذکور ہے۔
Ayahs 28:61–67

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

بھلا ایک شخص جس سے ہم نے وعدہ کیا ہے اچھا وعدہ سو وہ اس کو پانے والا ہے برابر ہے اس کی جس کو ہم نے فائدہ دیا دنیا کی زندگی کا پھر وہ قیامت کے دن پکڑا ہوا آیا

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور جس دن ان کو پکارے گا تو کہے گا کہاں ہیں میرے شریک جن کا تم دعویٰ کرتے تھے

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

بولے جن پر ثابت ہوچکی بات اے رب یہ لوگ ہیں جن کو ہم نے بہکایا ان کو بہکایا جیسے ہم آپ بہکے ہم منکر ہوئے تیرے آگے وہ ہم کو نہ پوجتے تھے

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

اور کہیں گے پکارو اپنے شریکوں کو پھر پکاریں گے ان کو تو وہ جواب نہ دیں گے ان کو اور دیکھیں گے عذاب کسی طرح وہ راہ پائے ہوئے ہوتے

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور جس دن ان کو پکارے گا تو فرمائے گا کیا جواب دیا تھا تم نے پیغام پہنچانے والوں کو

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

پھر بند ہوجائیں گی ان پر باتیں اس دن سو وہ آپس میں بھی نہ پوچھیں گے

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

سو جس نے کہ توبہ کی اور یقین لایا اور عمل کئے اچھے سو امید ہے کہ ہو چھوٹنے والوں میں۔

خلاصہ تفسیر بھلا وہ شخص جس سے ہم نے ایک پسندیدہ وعدہ کر رکھا ہے پھر وہ شخص اس (وعدہ کی چیز) کو پانے والا ہے کیا اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا چند روزہ فائدہ دے رکھا ہے پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہوگا جو گرفتار کر کے لائیں جائیں گے (مراد پہلے شخص سے مومن ہے جس سے جنت کا وعدہ ہے اور دوسرے سے مراد کافر جو مجرم ہو کر آوے گا اور چونکہ متاع دنیا ہی ان لوگوں کی بھول کا سبب ہے اس لئے اس کی تصریح فرما دی، ورنہ ان دونوں کا برابر نہ ہونا تو دراصل اس وجہ سے ہے کہ وہ گرفتار کر کے حاضر کئے جاویں گے یہ جنت کی نعمتوں سے سرفراز ہوں گے) اور (آگے اس تفاوت اور کیفیت احضار کی تفصیل ہے کہ وہ دن قابل یاد کرنے کے ہے) جس دن اللہ تعالیٰ ان کافروں کو (بطور سزا کے) پکار کر کہے گا کہ وہ میرے شریک کہاں ہیں جن کو تم (ہمارا شریک) سمجھ رہے تھے (مراد اس سے شیاطین ہیں کہ انہی کی اطاعت مطلقہ سے شرک کرتے تھے اس لئے ان کو شرکاء کہا اس کو سن کر شیاطین) جن پر (لوگوں کو گمراہ کرنے کی وجہ سے) خدا کا فرمودہ (یعنی استحقاق عذاب اس قول سے کہ لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ) ثابت ہوچکا ہوگا وہ (بطور عذر کے) بول اٹھیں گے کہ اے ہمارے پروردگار بیشک یہ وہی لوگ ہیں جن کو ہم نے بہکایا (یہ جواب کی تمہید ہے اس حکایت کی تصریح اس لئے فرمائی گئی کہ جن کی شفاعت کی ان کو امید ہے وہ برعکس ان کے خلاف شہادت دیں گے اور آگے جواب ہے کہ ہم نے بہکایا تو ضرور لیکن) ہم نے ان کو ویسا ہی (بلا جبر واکراہ) بہکایا جیسا ہم خود (بلا جبر واکراہ) بہکے تھے (یعنی جس طرح ہم خود اپنے اختیار سے گمراہ ہوئے کسی نے انہیں مجبور نہیں کیا اسی طرح ہم کو ان پر جابرانہ تسلط نہ تھا ہمارا کام صرف بہکانہ تھا پھر اس کو انہوں نے اپنی رائے اور اختیار سے قبول کرلیا جیسا سورة ابراہیم میں ہے وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ الآیتہ، مطلب یہ ہے کہ ہم بھی مجرم ہیں مگر یہ بھی بری نہیں) اور ہم آپ کی پیشی میں ان کے (تعلقات) سے دست برداری کرتے ہیں (اور) یہ لوگ (درحقیقت صرف) ہم کو (ہی) نہ پوجتے تھے (یعنی جب یہ اپنے اختیار سے بہکے ہیں تو یہ خود خواہش پرست ہوئے نہ کہ صرف شیطان پرست، مقصود اس سب حکایت سے یہ ہے کہ جن کے بھروسے بیٹھے ہیں وہ قیامت کے روز ان سے دست بردار ہوجائیں گے) اور (جب وہ شرکاء اس طرح ان سے بیزاری و بےرخی کریں گے تو اس وقت ان مشرکین سے) کہا جائے گا کہ (اب) اپنے ان شرکاء کو بلاؤ چناچہ (وہ فرط حیرت سے بالاضطرار) ان کو پکاریں گے سو وہ جواب بھی نہ دیں گے (اور اس وقت) یہ لوگ (اپنی آنکھوں) سے عذاب کو دیکھ لیں گے، اے کاش یہ لوگ دنیا میں راہ راست پر ہوتے (تو یہ مصیبت نہ دیکھتے) اور جس دن ان کافروں سے پکار کر پوچھے گا کہ تم نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا تھا، سو اس روز ان (کے ذہن) سے سارے مضامین گم ہوجائیں گے تو وہ (خود بھی نہ سمجھ سکیں گے اور) آپس میں پوچھ پاچھ بھی نہ کرسکیں گے البتہ وہ شخص (کفر و شرک سے دنیا میں) توبہ کرے اور ایمان لے آئے اور نیک کام کیا کرے تو ایسے لوگ امید ہے کہ (آخرت میں) فلاح پانے والوں سے ہوں گے (اور ان آفات سے محفوظ رہیں گے۔) معارف و مسائل محشر میں کفار و مشرکین سے پہلا سوال شرک کے متعلق ہوگا کہ جن شیاطین وغیرہ کو تم ہمارا شریک کہا کرتے تھے اور ان کا کہا مانتے تھے آج وہ کہاں ہیں، کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں ؟ اس کے جواب میں ظاہر یہ تھا کہ مشرکین یہ جواب دیں کہ ہمارا کوئی قصور نہیں، ہم نے از خود شرک نہیں کیا بلکہ ہمیں تو ان شیاطین نے بہکایا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ خود ان شیاطین کی زبانوں سے کہلوا دیں گے کہ ہم نے بہکایا ضرور تھا مگر مجبور تو ہم نے نہیں کیا۔ اس لئے مجرم ہم بھی ہیں مگر جرم سے بری یہ بھی نہیں کیونکہ جس طرح ہم نے ان کو بہکایا تھا اس کے بالمقابل انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے نائبوں نے ان کو ہدایت بھی تو کی تھی اور دلائل کے ساتھ ان پر حق واضح کردیا تھا، انہوں نے اپنے اختیار سے انبیاء کی بات نہ مانی ہماری مان لی تو یہ کیسے بری ہو سکتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کے سامنے حق کے دلائل واضحہ موجود ہوں اور وہ حق کی طرف دعوت دینے والوں کے بجائے گمراہ کرنے والوں کی بات مان کر گمراہی میں پڑجائے تو یہ کوئی عذر معتبر نہیں۔