28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 28:68–70

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

اور تیرا رب پیدا کرتا ہے جو چاہے اور پسند کرے جس کو چاہے ان کے ہاتھ میں نہیں پسند کرنا، اللہ نرالا ہے اور بہت اوپر ہے اس چیز سے کہ شریک بتلاتے ہیں،

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

اور تیرا رب جانتا ہے جو چھپ رہا ہے ان کے سینوں میں

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

اور جو کچھ کہ ظاہر میں کرتے ہیں، اور وہی اللہ ہے کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا، اسی کی تعریف ہے دنیا اور آخرت میں اور اسی کے ہاتھ حکم ہے اور اسی کے پاس پھیرے جاؤ گے ،

خلاصہ تفسیر اور آپ کا رب (بالانفراد صفات کمال کے ساتھ موصوف ہے چناچہ وہ) جس چیز کو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے (تو تکوینی اختیارات بھی اسی کو حاصل ہیں) اور جس حکم کو چاہتا ہے پسند کرتا ہے (اور انبیاء کے ذریعہ سے نازل فرماتا ہے پس تشریعی اختیارات بھی اسی کو حاصل ہیں) ان لوگوں کو تجویز (احکام) کا کوئی حق (حاصل) نہیں (کہ جو حکم چاہے تجویز کرلیں جیسے یہ مشرک اپنی طرف سے شرک کو جائز تجویز کر رہے ہیں اور اس خصوصی اختیار سے ثابت ہو کہ) اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے (کیونکہ جب تکوینًا و تشریعاً خالق اور مختار ہونے میں وہ منفرد ہے تو عبادت کا بھی تنہا وہی مستحق ہے کیونکہ معبود ہونا صرف اس کا حق ہے جو تکوینی اور تشریعی دونوں اختیار رکھتا ہو) اور آپ کا رب (علم ایسا کامل رکھتا ہے کہ وہ) سب چیزوں کی خبر رکھتا ہے جو ان کے دلوں میں پوشیدہ رہتا ہے اور جس کو یہ ظاہر کرتے ہیں (اور کسی کا ایسا علم بھی نہیں اس سے بھی انفراد ثابت ہوا) اور (آگے اس کی تصریح ہے کہ) اللہ وہی (ذات کامل الصفات) ہے اس کے سوا کوئی معبود (ہونے کے قابل) نہیں حمد (وثناء) کے لائق دنیا و آخرت میں وہی ہے (کیونکہ اس کے تصرفات دونوں عالم میں ایسے ہیں جو اس کے جامع کمالات اور مستحق حمد ہونے پر شاہد ہیں) اور (اختیارات سلطنت اس کے ایسے ہیں کہ) حکومت بھی (قیامت میں) اسی کی ہوگی اور (قوت و وسعت سلطنت اس کی ایسی ہے) کہ تم سب اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے (یہ نہیں کہ بچ جاؤ یا اور کہیں جا کر پناہ لے لو اور اس کے اظہار قدرت کے لئے) آپ (ان لوگوں سے) کہئے کہ بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ کے لئے قیامت تک رات ہی رہنے دے تو خدا کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہارے لئے روشنی کو لے آوے (پس قدرت میں بھی وہی منفرد ہے) تو کیا تم (توحید کے ایسے صاف دلائل کو) سنتے نہیں (اور اسی اظہار قدرت کے لئے) آپ (ان سے اس کے عکس کی نسبت بھی) کہئے کہ بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ کے لئے قیامت تک دن ہی رہنے دے تو خدا کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہارے لئے رات کو لے آوے جس میں تم آرام پاؤ کیا تم (اس شاہد قدرت کو) دیکھتے نہیں (قدرت میں اس کا منفرد ہونا بھی اس کو مقتضی ہے کہ معبودیت میں بھی وہی منفرد ہو) اور (وہ منعم ایسا ہے کہ) اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات اور دن کو بنایا تاکہ تم رات میں آرام کرو اور تاکہ دن میں اس کی روزی تلاش کرو اور تاکہ (ان دونوں نعمتوں پر) تم (اللہ کا) شکر کرو (تو انعام و احسان میں بھی وہی منفرد ہے یہ بھی اس کی دلیل ہے کہ معبودیت میں بھی وہی منفرد ہو۔) معارف و مسائل وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ وَيَخْتَارُ ، اس آیت کا ایک مفہوم تو وہ ہے جو خلاصہ تفسیر میں لیا گیا ہے کہ یختار سے مراد اختیار احکام ہے کہ حق تعالیٰ جبکہ تخلیق کائنات میں مفنرد ہے کوئی اس کا شریک نہیں تو اجرائے احکام میں بھی منفرد ہے جو چاہے اپنی مخلوق میں حکم نافذ فرمائے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح اختیار تکوینی میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اختیار تشریعی میں بھی کوئی شریک نہیں اور اس کا ایک دوسرا مفہوم وہ ہے جو امام بغوی نے اپنی تفسیر میں اور علامہ ابن قیم نے زاد المعاد کے مقدمہ میں بیان کیا ہے کہ اس اختیار سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہیں اپنے اکرام و اعزاز کے لئے انتخاب فرما لیتے ہیں اور بقول بغوی یہ جواب ہے مشرکین مکہ کے اس قول کا کہ لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ ، یعنی یہ قرآن اللہ کو نازل ہی کرنا تھا تو عرب کے دو بڑے شہروں مکہ اور طائف میں سے کسی بڑے آدمی پر نازل فرماتا کہ اس کی قدر و منزلت پہچانی جاتی، ایک یتیم مسکین پر نازل فرمانے میں کیا حکمت تھی ؟ اس کے جواب میں فرمایا کہ جس مالک نے تمام مخلوقات کو بغیر کسی شریک کی امداد کے پیدا فرمایا ہے یہ اختیار بھی اسی کو حاصل ہے کہ اپنے کسی خاص اعزاز کے لئے اپنی مخلوق میں سے کسی کو منتخب کرے اس میں وہ تمہاری تجویزوں کا کیوں پابند ہو کہ فلاں اس کا مستحق ہے فلاں نہیں۔ ایک چیز کو دوسری چیز پر یا ایک شخص کو دوسرے پر فضیلت کا معیار صحیح اختیار خداوندی ہے حافظ ابن قیم نے اس آیت سے ایک عظیم الشان ضابطہ اخذ کیا ہے کہ دنیا میں جو ایک جگہ کو دوسری جگہ پر یا ایک چیز کو دوسری چیز پر فضیلت دی جاتی ہے یہ اس چیز کے کسب و عمل کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ وہ بلاواسطہ خالق کائنات کے انتخاب و اختیار کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس نے سات آسمان پیدا کئے ان میں سے سماء علیا کو دوسروں پر فضیلت دے دی حالانکہ مادہ ساتوں آسمانوں کا ایک ہی تھا پھر اس نے جنت الفردوس کو دوسری سب جنتوں پر اور جبرئیل و میکائیل و اسرافیل وغیرہ خاص فرشتوں کو دوسرے فرشتوں پر، اور انبیاء (علیہم السلام) کو دوسرے سارے بنی آدم پر اور ان میں سے اولوالعزم رسولوں کو دوسرے انبیاء پر اور اپنے خلیل ابراہیم اور حبیب محمد مصطفے ﷺ کو سب بنی ہاشم پر پھر اسی طرح صحابہ کرام اور دوسرے اسلاف امت کو دوسروں پر فضیلت دینا یہ سب حق تعالیٰ جل شانہ کے انتخاب و اختیار کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح زمین کے بہت سے مقامات کو دوسرے مقامات پر اور بہت دنوں اور راتوں کو دوسرے دنوں اور راتوں پر فضیلت دینا یہ سب اسی اختیار اور انتخاب حق جل شانہ کا اثر ہے غرض افضیلت و مفضولیت کا اصل معیار تمام کائنات میں یہی انتخاب و اختیار ہے البتہ افضلیت کا ایک دوسرا سبب انسانی اعمال و افعال بھی ہوتے ہیں اور جن مقامات میں نیک اعمال کئے جاویں وہ مقامات بھی ان اعمال صالحہ یا صالحین عباد کی سکونت سے متبرک ہوجاتے ہیں۔ یہ فضیلت کسب و اختیار اور عمل صالح سے حاصل ہو سکتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں مدار فضیلت دو چیزیں ہیں ایک غیر اختیاری ہے جو صرف حق تعالیٰ کا انتخاب ہے دوسرا اختیاری جو اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ سے حاصل ہوتا ہے۔ علامہ ابن قیم نے اس موضوع پر بڑا تفصیلی کلام کیا ہے اور آخر میں صحابہ کرام میں سے خلفاء راشدین کو تمام دوسرے صحابہ پر اور خلفاء راشدین میں صدیق اکبر ان کے بعد عمر بن خطاب ان کے بعد عثمان غنی ان کے بعد علی مرتضی ؓ کی ترتیب کو ان دونوں معیاروں سے ثابت کیا ہے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی ؒ کا بھی ایک مستقل رسالہ فارسی زبان میں اس موضوع پر ہے جس کا اردو ترجمہ احقر نے بنام بعض التفصیل لمسئلتہ التفضیل شائع کردیا ہے اور احکام القرآن سورة قصص میں بھی اس کو بزبان عربی مفصل لکھ دیا ہے۔ اہل علم کے ذوق کی چیز ہے وہاں مطالعہ فرمائیں۔
Ayahs 28:71–73

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

تو کہہ دیکھو تو اگر اللہ رکھ دے تم پر رات ہمیشہ کو قیامت کے دن تک کون حاکم ہے اللہ کے سوائے کہ لائے تم کو کہیں سے روشنی، پھر کیا تم سنتے نہیں

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

تو کہہ دیکھو تو اگر رکھ دے اللہ تم پر دن ہمیشہ کو قیامت کے دن تک کون حاکم ہے اللہ کے سوائے کہ لائے تم کو رات جس میں آرام کرو، پھر کیا تم نہیں دیکھتے

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

اور اپنی مہربانی سے بنا دیئے تمہارے واسطے رات اور دن کہ اس میں چین بھی کرو اور تلاش بھی کرو کچھ اس کا فضل اور تاکہ تم شکر کرو۔

قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيْكُمُ الَّيْلَ سَرْمَدًا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَيْرُ اللّٰهِ يَاْتِيْكُمْ بِضِيَاۗءٍ ۭ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ الی قولہ بِلَيْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِيْهِ ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۔ آیت میں حق تعالیٰ نے رات کے ساتھ تو اس کا ایک فائدہ ذکر فرمایا، بِلَيْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِيْهِ یعنی رات میں انسان کو سکون ملتا ہے اس کے بالمقابل دن کے ذکر میں بضیاء کے ساتھ کوئی فائدہ ذکر نہیں فرمایا سبب ظاہر ہے کہ دن کی روشنی اپنی ذات میں افضل ہے اور ظلم سے روشنی کا بہتر ہونا معلوم و معروف ہے۔ روشنی کے بیشمار فوائد اتنے معروف ہیں کہ ان کے بیان کی ضرورت نہیں، بخلاف رات کے کہ وہ ظلمت اور اندھیری ہی جو اپنی ذات میں کوئی فضیلت نہیں رکھتی بلکہ اس کی فضیلت لوگوں کے سکون و آرام کے سبب سے ہے اس لئے اس کو بیان فرما دیا اور اسی لئے دن کے معاملہ کا ذکر کر کے آخر میں فرمایا اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ اور رات کا معاملہ ذکر کرکے فرمایا اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ اس میں یہ اشارہ ہوسکتا ہے کہ دن کے فضائل و برکات اور اس کے فوائد وثمرات بیشمار ہیں جو احاطہ بصر میں نہیں آسکتے البتہ سنے جاسکتے ہیں اس لئے اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ فرمایا کیونکہ انسانی علم و ادراک کا بڑا ذخیرہ کانوں ہی کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے، آنکھوں سے دیکھی ہوئی اشیاء ہمیشہ کانوں سے سنی ہوئی اشیاء سے بہت کم ہوئی ہیں اور رات کے فوائد بہ نسبت دن کے فوائد کے کم ہیں وہ دیکھے بھی جاسکتے ہیں اس لئے یہاں اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ کا کلمہ اختیار فرمایا۔ (مظہری)
Ayahs 28:74–75

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

اور جس دن ان کو پکارے گا تو فرمائے گا کہاں ہیں میرے شریک جن کا تم دعویٰ کرتے تھے

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

اور جدا کردیں گے ہم ہر فرقے میں سے ایک احوال بتلانے والا، پھر کہیں گے لاؤ اپنی سند تب جان لیں گے کہ سچ بات ہے اللہ کی اور کھوئی جائیں گی ان سے جو باتیں وہ جوڑتے تھے۔

خلاصہ تفسیر اور جس دن اللہ تعالیٰ ان کو پکار کر فرماوے گا (تاکہ سب لوگ ان کی رسوائی سن لیں) کہ جن کو تم میرا شریک سمجھتے تھے وہ کہاں گئے اور (اگرچہ حجت تمام کرنے کے لئے خود اس کا اقرار کافی تھا مگر مزید تاکید کے لئے ان پر شہادت بھی قائم کردی جاوے گی اس طرح کہ) ہم ہر امت میں سے ایک ایک گواہ (بھی) نکال کر لائیں گے (مراد اس سے انبیاء ہیں جو ان کے کفر کی گواہی دیں گے) پھر ہم (ان مشرکین سے) کہیں گے کہ (اب) اپنی کوئی دلیل (شرک کے دعوے کی صحت پر) پیش کرو سو (اس وقت) ان کو (بعین الیقین) معلوم ہوجاوے گا کہ سچ بات خدا کی تھی (جو انبیاء کے ذریعہ بتلائی گئی تھی اور شرک کا دعویٰ جھوٹا تھا) اور (دنیا میں) جو کچھ باتیں گھڑا کرتے تھے (آج) کسی کا پتہ نہ رہے گا۔ (کیونکہ انکشاف حق کے لئے باطل کا غائب ہوجانا لازم ہے۔) فائدہاس سے پہلی آیت میں جو سوال ماذآ اَجَبْتُمُ میں کیا گیا اس میں کفار سے انبیاء کو جواب دینے کے متعلق باز پرس تھی اور یہاں خود انبیاء (علیہم السلام) سے شہادت دلوانا مقصود ہے اس لئے سوال میں کوئی تکرار نہیں۔
Ayah 28:76

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

قارون جو تھا سو موسیٰ کی قوم سے پھر شرارت کرنے لگا ان پر اور ہم نے دیئے تھے اس کو خزانے اتنے کہ اس کی کنجیاں اٹھانے سے تھک جاتے کئی مرد زور آور جب کہا اس کو اس کی قوم نے اترا مت اللہ کو نہیں بھاتے اترانے والے

خلاصہ تفسیر قارون (کا حال دیکھ لو کہ کفر و خلاف کرنے سے اس کو کیا ضرر پہنچا اور اس کا مال و متاع کچھ کام نہ آیا بلکہ اس کے ساتھ اس کا مال و متاع بھی برباد ہوگیا، مختصر اس کا قصہ یہ ہے کہ وہ) موسیٰ ؑ کی برادری میں سے (یعنی بنی اسرائیل میں سے، بلکہ ان کا چچا زاد بھائی) تھا (کذا فی الدر) سو وہ کثرت مال کی وجہ سے) ان لوگوں کے مقابل ہمیں تکبر کرنے لگا اور (مال کی اس کے پاس یہ کثرت تھی کہ) ہم نے ان اس کو اس قدر خزانے دیئے تھے کہ ان کی کنجیاں کئی کئی زور آور شخصوں کو گرانبار کردیتی تھیں (یعنی ان سے بتکلف اٹھتی تھیں تو جب کنجیاں اس کثرت سے تھیں تو ظاہر ہے کہ خزانے بہت ہی ہوں گے اور یہ تکبر اس وقت کیا تھا) جبکہ اس کو اس کی برادری نے (سمجھانے کے طور پر کہا) کہ تو (اس مال و حشمت) پر اترا مت واقعی اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا اور (یہ بھی کہا کہ) تجھ کو خدا نے جتنا دے رکھا ہے اس میں عالم آخرت کی بھی جستجو کیا کر اور دنیا سے اپنا حصہ (آخرت میں لے جانا) فراموش مت کر اور (مطلب ابتغ ولا تنس کا یہ ہے کہ) جس طرح اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی (بندوں کے ساتھ) احسان کیا کر اور (خدا کی نافرمانی اور حقوق واجبہ ضائع کر کے) دنیا میں فساد کا خواہاں مت ہو (یعنی گناہ کرنے سے دنیا میں فساد ہوتا ہے کقولہ تعالیٰ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاس بالخصوص متعدی گناہ) بیشک اللہ تعالیٰ اہل فساد کو پسند نہیں کرتا (یہ سب نصیحت مسلمانوں کی طرف سے ہوئی۔ غالباً یہ مضامین موسیٰ ؑ نے اول فرمائے ہوں گے پھر مکرر دوسرے مسلمانوں نے ان کا اعادہ کیا ہوگا) قارون (یہ سن کر) کہنے لگا کہ مجھ کو یہ سب کچھ میری ذاتی ہنر مندی سے ملا ہے (یعنی میں وجوہ و تدابیر معاش کی خوب جانتا ہوں اس سے میں نے یہ سب جمع کیا ہے پھر میرا تفاخر بیجا نہیں اور نہ اس کو غیبی احسان کہا جاسکتا ہے اور نہ کسی کا اس میں کچھ استحقاق ہوسکتا ہے آگے اللہ تعالیٰ اس کے اس قول کو رد فرماتے ہیں کہ) کیا اس (قارون) نے (اخبار متواتر سے) یہ نہ جانا کہ اللہ تعالیٰ اس سے پہلے امتوں میں ایسے ایسوں کو ہلاک کرچکا ہے جو قوت (مالی) میں (بھی) اس سے کہیں بڑھے ہوئے تھے اور مجمع (بھی اس سے) ان کا زیادہ تھا اور (صرف یہی نہیں کہ بس ہلاک ہو کر چھوٹ گئے ہوں بلکہ بوجہ ان کے ارتکاب جرم کفر اور اللہ تعالیٰ کو یہ جرم معلوم ہونے کے قیامت میں بھی معذب ہوں گے جیسا وہاں کا قاعدہ ہے کہ) اہل جرم سے ان کے گناہوں کا (تحقیق کرنے کی غرض سے) سوال نہ کرنا پڑے گا (کیونکہ اللہ تعالیٰ کو یہ سب معلوم ہے گو زجر و تنبیہ کے لئے سوال ہو لقولہ تعالیٰ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ مطلب یہ کہ اگر قارون اس مضمون پر نظر کرتا تو ایسی جہالت کی بات نہ کہتا کیونکہ پچھلی قوموں کے حالات عذاب سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور مواخذہ اخرویہ سے اسی کا احکم الحاکمین ہونا ظاہر ہے، پھر کسی کو کیا حق ہے کہ اللہ کی نعمت کو اپنی ہنرمندی کا نتیجہ بتلائے اور حقوق واجبہ سے انکار کرے) پھر (ایک بار ایسا اتفاق ہوا کہ) وہ اپنی آرائش (اور شان) سے اپنی برادری کے سامنے نکلا جو لوگ اس کی برادری میں) دنیا کے طالب تھے (گو مومن ہوں جیسا ان کے اگلے قول وَيْكَاَنَّ اللّٰهَ يَبْسُطُ الخ سے ظاہراً معلوم ہوتا ہے وہ لوگ) کہنے لگے کیا خوب ہوتا کہ ہم کو بھی وہ ساز و سامان ملا ہوتا جیسا قارون کو ملا ہے واقعی وہ بڑا صاحب نصیب ہے (یہ تمنا حرص کی تھی، اس سے کافر ہونا لازم نہیں آتا، جیسا اب بھی بعضے آدمی باوجود مسلمان ہونے کے شب و روز دوسری قوموں کی ترقیاں دیکھ کر للچاتے ہیں اور اس کی فکر میں لگے رہتے ہیں) اور جن لوگوں کو (دین کی) فہم عطا ہوئی تھی وہ (ان حریصوں سے) کہنے لگے ارے تمہارا ناس ہو تم اس دنیا پر کیا جاتے ہو) اللہ تعالیٰ کے گھر کا ثواب (اس دنیوی کرّ و فر سے) ہزار درجہ بہتر ہے جو ایسے شخص کو ملتا ہے کہ ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور (پھر ایمان و عمل صالح والوں میں سے بھی) وہ (ثواب کامل طور پر) ان ہی لوگوں کو دیا جاتا ہے جو (دنیا کی حرص و طمع سے) صبر کرنے والے ہیں (پس تم لوگ ایمان کی تکمیل اور عمل صالح کی تحصیل میں لگو اور حد شرعی کے اندر دنیا حاصل کر کے زائد کی حرص و طمع سے صبر کرو) پھر ہم نے اس قارون کو اور اس کے محل سرائے کو (اس کی شرارت بڑھ جانے سے) زمین میں دھنسا دیا سو کوئی ایسی جماعت نہ ہوئی جو اس کو اللہ (کے عذاب) سے بچا لیتی (گو وہ بڑی جماعت والا تھا) اور نہ وہ خود ہی اپنے کو بچا سکا اور کل (یعنی پچھلے قریب زمانہ میں) جو لوگ اس جیسے ہونے کی تمنا کر رہے تھے وہ (آج اس کے خسف کو دیکھ کر) کہنے لگے بس جی یوں معلوم ہوتا ہے کہ (رزق کی فراخی اور تنگی کا مدار خوش نصیبی یا بدنصیبی پر نہیں ہے بلکہ یہ تو محض حکمت تکوینیہ سے اللہ ہی کے قبضہ میں ہے بس) اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے زیادہ روزی دے دیتا ہے اور (جس کو چاہے) تنگی سے دینے لگتا ہے (یہ ہماری غلطی تھی کہ اس کو خوش نصیبی سمجھتے تھے ہماری توبہ ہے اور واقعی) اگر ہم بھی مرتکب ہوئے تھے) بس جی معلوم ہوا کہ کافروں کو فلاح نہیں ہوتی (گو چند روز مزے لوٹ لیں مگر انجام پھر خسران ہے بس فلاح معتدبہ اہل ایمان ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔) معارف و مسائل سورة قصص کے شروع سے یہاں تک حضرت موسیٰ ؑ کا وہ قصہ مذکور تھا جو ان کو فرعون اور آل فرعون کے ساتھ پیش آیا، یہاں ان کا دوسرا قصہ بیان ہوتا ہے جو اپنی برادری کے آدمی قارون کے ساتھ پیش آیا اور مناسبت اس کی سابقہ آیتوں سے یہ ہے کہ پچھلی آیت میں یہ ارشاد ہوا تھا کہ دنیا کی دولت و مال جو تمہیں دیا جاتا ہے وہ چند روزہ متاع ہے اس کی محبت میں لگ جانا دانشمندی نہیں۔ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا الآیتہ، قارون کے قصہ میں یہ بتلایا گیا کہ اس نے مال و دولت حاصل ہونے کے بعد اس نصیحت کو بھلا دیا اس کے نشہ میں مست ہو کر اللہ تعالیٰ کی ناشکری بھی کی اور مال پر جو حقوق واجبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہیں ان کی ادائیگی سے منکر بھی ہوگیا جس کے نتیجہ میں وہ اپنے خزانوں سمیت زمین کے اندر دھنسا دیا گیا۔ قارون ایک عجمی لفظ غالباً عبرانی زبان کا ہے اس کے متعلق اتنی بات تو خود الفاظ قرآن سے ثابت ہے کہ یہ حضرت موسیٰ ؑ کی برادری بنی اسرائیل ہی میں سے تھا۔ باقی یہ کہ اس کا رشتہ حضرت موسیٰ ؑ سے کیا تھا اس میں مختلف اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں اس کو حضرت موسیٰ ؑ کا چچا زاد بھائی قرار دیا ہے اور بھی کچھ اقوال ہیں۔ (قرطبی و روح) روح المعانی میں محمد بن اسحاق کی روایت سے نقل کیا ہے کہ قارون تورات کا حافظ تھا اور دوسرے بنی اسرائیل سے زیادہ اس کو تورات یاد تھی مگر سامری کی طرح منافق ثابت ہوا اور اس کی منافقت کا سبب دنیا کے جاہ و عزت کی بیجا حرص تھی۔ پورے بنی اسرائیل کی سیادت حضرت موسیٰ ؑ کو حاصل تھی اور ان کے بھائی ہارون ان کے وزیر اور شریک نبوت تھے اس کو یہ حسد ہوا کہ میں بھی تو ان کی برادری کا بھائی اور قریبی رشتہ دار ہوں میرا اس سیادت و قیادت میں کوئی حصہ کیوں نہیں۔ چناچہ موسیٰ ؑ سے اس کی شکایت کی، حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ یہ جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے مجھے اس میں کچھ دخل نہیں مگر وہ اس پر مطمئن نہ ہوا اور حضرت موسیٰ ؑ سے حسد رکھنے لگا۔ فَبَغٰى عَلَيْهِمْ ، لفظ بغی چند معانی کے لئے آتا ہے۔ مشہور معنے ظلم کے ہیں، یہاں یہ معنی بھی مراد ہو سکتے ہیں کہ اس نے اپنے مال و دولت کے نشہ میں دوسروں پر ظلم کرنا شروع کیا، یحی بن سلام اور سعید بن مسیب نے فرمایا کہ قارون سرمایہ دار آدمی تھا، فرعون کی طرف سے بنی اسرائیل کی نگرانی پر مامور تھا، اس امارات کے عہدے میں اس نے بنی اسرائیل کو ستایا۔ (قرطبی) اور دوسرے معنے تکبر کے بھی آتے ہیں۔ بہت سے مفسرین نے اس جگہ یہی معنی قرار دیئے ہیں کہ اس نے مال و دولت کے نشہ میں بنی اسرائیل پر تکبر شروع کیا اور ان کو حقیر و ذلیل قرار دیا۔ وَاٰتَيْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ ، کنوز، کنز کی جمع ہے۔ مدفون خزانہ کو کہا جاتا ہے اور اصطلاح شرع میں کنز وہ خزانہ ہے جس کی زکوٰۃ نہ دی گئی ہو۔ حضرت عطاء سے روایت ہے کہ اس کو حضرت یوسف ؑ کا ایک عظیم الشان مدفون خزانہ مل گیا تھا۔ (روح) لَتَنُوْۗاُ بالْعُصْبَةِ نَاءَ کا لفظ بوجھ سے جھکا دینے کے معنی میں آتا ہے اور عصبہ کے معنی جماعت کے ہیں۔ معنی یہ ہیں کہ اس کے خزانے اتنے زیادہ تھے کہ ان کی کنجیاں اتنی تعداد میں تھیں کہ ایک قوی جماعت بھی ان کو اٹھائے تو بوجھ سے جھک جائے اور ظاہر ہے کہ قفل کی کنجی بہت ہلکے وزن کی رکھی جاتی ہے جس کا اٹھانا اور پاس رکھنا مشکل نہ ہو مگر کثرت عدد کے سبب یہ اتنی ہوگی تھیں کہ ان کا وزن ایک قوی جماعت بھی آسانی سے نہ اٹھا سکے۔ (روح) لَا تَفْرَحْ فرح کے لفظی معنے اس خوشی کے ہیں جو انسان کو کسی لذت عاجلہ کے سبب حاصل ہو۔ قرآن کریم نے بہت سی آیات میں فرح کو مذموم قرار دیا جیسا کہ ایک اسی آیت میں ہے اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِيْنَ اور ایک آیت میں لَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰىكُمْ اور ایک آیت میں ہے فَرِحُوْا بالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا اور بعض آیات میں فرح کی اجازت بلکہ ایک طرح کا امر بھی وارد ہوا ہے جیسے وَيَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ میں اور آیت فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا میں ارشاد ہوا ہے۔ ان سب آیات کے مجموعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مذموم اور ممنوع وہ فرح ہے جو اترانے اور تکبر کرنے کی حد تک پہنچ جائے اور وہ جبھی ہوسکتا ہے کہ اس لذت و خوشی کو وہ اپنا ذاتی کمال اور ذاتی حق سمجھے اللہ تعالیٰ کا انعام و احسان نہ سمجھے اور جو خوشی اس حد تک نہ پہنچے وہ ممنوع نہیں بلکہ ایک حیثیت سے مطلوب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی شکر گزاری ہے۔
Ayah 28:77

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

اور جو تجھ کو اللہ نے دیا ہے اس سے کما لے پچھلا گھر اور نہ بھول اپنا حصہ دنیا سے اور بھلائی کر جیسے اللہ نے بھلائی کی تجھ سے اور مت چاہ خرابی ڈالنی ملک میں اللہ کو بھاتے نہیں خرابی ڈالنے والے

وَابْتَغِ فِيْمَآ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا، یعنی مسلمانوں نے قارون کو یہ نصیحت کی کہ اللہ تعالیٰ نے جو مال و دولت تجھے عطا فرمایا ہے اس کے ذریعہ آخرت کا سامان فراہم کر اور دنیا میں جو تیرا حصہ ہے اس کو نہ بھول۔ دنیا کا حصہ کیا ہے اس کی تفسیر اکثر مفسرین نے یہ کی ہے کہ اس سے مراد دنیا کی عمر اور اس میں کئے ہوئے وہ اعمال ہیں جو اس کو آخرت میں کام آویں جس میں صدقہ خیرات بھی داخل ہے اور دوسرے اعمال صالحہ بھی۔ حضرت ابن عباس اور جمہور مفسرین سے یہی معنے منقول ہیں (کما فی القرطبی) اس صورت میں دوسرا جملہ پہلے جملہ کی تاکید و تائید ہوگی۔ پہلے جملے میں جو کہا گیا کہ جو کچھ تجھے اللہ نے دیا ہے یعنی مال و دولت اور عمر و قوت و صحت وغیرہ ان سب سے وہ کام لے جو دار آخرت میں تیرے کام آئے اور درحقیقت دنیا کا یہی حصہ تیرا ہے جو آخرت کا سامان بن جائے باقی دنیا تو دوسرے وارثوں کا حصہ ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ دوسرے جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس سے اپنی آخرت کا سامان بھی کرو مگر اپنی ضروریات دنیا کو بھی نہ بھلاؤ کہ سب صدقہ خیرات کر کے کنگال بن جاؤ بلکہ بقدر ضرورت اپنے لئے بھی رکھو۔ اس تفسیر پر نصیب دنیا کے مراد اس کی معاشی ضروریات ہوں گی۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Ayahs 28:78–79

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

بولا یہ مال تو مجھ کو ملا ہے ایک ہنر سے جو میرے پاس ہے کیا اس نے یہ نہ جانا کہ اللہ غارت کرچکا ہے اس سے پہلے کتنی جماعتیں جو اس سے زیادہ رکھتی تھیں زور اور زیادہ رکھتی تھیں مال کی جمع، اور پوچھے نہ جائیں گنہگاروں سے ان کے گناہ

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

پھر نکلا اپنی قوم کے سامنے اپنے ٹھاٹھ سے، کہنے لگے جو لوگ طالب تھے دنیا کی زندگی کے اے کاش ہم کو ملے جیسا کچھ ملا ہے قارون کو بیشک اس کی بڑی قسمت ہے

اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰي عِلْمٍ عِنْدِيْ ، بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہاں علم سے مراد علم تورات ہے جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ قارون تورات کا حافظ اور عالم تھا اور ان ستر اصحاب میں سے تھا جن کو حضرت موسیٰ ؑ نے میقات کے لئے منتخب فرمایا تھا۔ مگر اس کو اپنے اس علم پر ناز و غرور پیدا ہوگیا اس کو اپنی ذاتی کمال سمجھ بیٹھا اور اس کے اس کلام کا مطلب یہی تھا کہ مجھے جو کچھ مال و دولت ملا ہے میرے اپنے ذاتی کمال علمی کے سبب ملا ہے اس لئے میں اس کا خود حقدار ہوں اس میں مجھ پر کسی کا احسان نہیں۔ مگر ظاہر یہ ہے کہ یہاں علم سے مراد معاشی تدبیروں کا علم ہے مثلاً تجارت صنعت وغیرہ کا جن سے مال حاصل ہوتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو مال مجھے حاصل ہوا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے احسان کا کیا دخل ہے یہ تو میں نے اپنی ہوشیاری اور کارگزاری کے ذریعہ حاصل کیا ہے اور جاہل نے یہ نہ سمجھا کہ یہ ہوشیاری اور کارگزاری اور صنعت یا تجارت کا تجربہ اور علم بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کا دیا ہوا تھا اس کا کوئی ذاتی کمال نہ تھا۔ اَوَلَمْ يَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ ، قارون کے اس قول کا کہ میرا مال و دولت میرے ذاتی علم و ہنر سے حاصل کردہ ہے اصل جواب تو وہ تھا جو اوپر لکھا گیا ہے کہ اگر یہی تسلیم کرلیا جائے کہ اس کا سبب کوئی خاص علم و ہنر تھا تو بھی اللہ تعالیٰ کے احسان سے کیسے بری ہوا کیونکہ یہ علم و ہنر اور قوت کسب بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کی بخشی ہوئی ہے مگر اس کا جواب بوجہ غایت ظہور کے نظر انداز فرما کر قرآن نے یہ بتلایا کہ یہ مال و دولت فرض کرو کہ اس کو اپنے ہی ذاتی کمال سے حاصل ہوا ہو مگر خود اس مال و دولت کی کوئی حقیقت نہیں، مال کی فراوانی کسی انسان کے لئے نہ کوئی کمال اور فضیلت ہے اور نہ وہ ہر حال میں اس کے کام آتا ہے اس کے ثبوت میں پچھلی امتوں کے بڑے سرمایہ داروں کی مثال پیش فرمائی کہ جب انہوں نے سرکشی کی تو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو اچانک پکڑ لیا مال و دولت ان کے کچھ بھی کام نہ آیا۔
Ayahs 28:80–82

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور بولے جن کو ملی تھی سمجھ اے خرابی تمہاری اللہ کا دیا ثواب بہتر ہے ان کے واسطے جو یقین لائے اور کام کیا بھلا اور یہ بات انہیں کے دل میں پڑتی ہے جو سہنے والے ہیں ،

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

پھر دھنسا دیا ہم نے اس کو اور اس کے گھر کو زمین میں پھر نہ ہوئی اس کی کوئی جماعت جو مدد کرتی اس کی اللہ کے سوائے اور نہ وہ خود مدد لا سکا

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اور فجر کو لگے کہنے جو کل شام آرزو کرتے تھے اس کا سا درجہ ارے خرابی یہ تو اللہ کھول دیتا ہے روزی جس کو چاہے اپنے بندوں میں اور تنگ کردیتا ہے اگر نہ احسان کرتا ہم پر اللہ تو ہم کو بھی دھنسا دیتا ہے، اے خرابی یہ تو چھٹکارا نہیں پاتے منکر۔

وَقَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ الآیتہ اس آیت میں الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ یعنی علماء کا مقابلہ الَّذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا سے کیا گیا ہے جس میں واضح اشارہ اس طرف ہے کہ متاع دنیا کا ارادہ اور اس کو مقصود بنانا اہل علم کا کام نہیں اہل علم کی نظر ہمیشہ آخرت کے دائمی فائدہ پر رہتی ہے۔ متاع دنیا کو بقدر ضرورت حاصل کرتے ہیں اور اسی پر قناعت کرتے ہیں۔
Ayahs 28:83–84

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 28:83 in the Quran reader

وہ گھر پچھلا ہے ہم دیں گے وہ ان لوگوں کو جو نہیں چاہتے اپنی بڑائی ملک میں اور نہ بگاڑ ڈالنا اور عاقبت بھلی ہے ڈرنے والوں کی

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 28:84 in the Quran reader

جو لے کر آیا بھلائی اس کو ملنا ہے اس سے بہتر اور جو کوئی لے کر آیا برائی سو برائیاں کرنے والے ان کو وہی سزا ملے گی جو کچھ وہ کرتے تھے۔

خلاصہ تفسیر یہ عالم آخرت (جس کے ثواب کا مقصود ہونا اوپر (ثَوَاب اللّٰهِ خَيْرٌ میں بیان ہوا ہے) ہم انہی لوگوں کے لئے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں نہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ فساد کرنا (یعنی نہ تکبر کرتے ہیں جو باطنی گناہ ہے اور نہ کوئی ظاہری گناہ ایسے کرتے ہیں جس سے زمین میں فساد برپا ہو) اور صرف ان باطنی اور ظاہری برائیوں سے بچنا کافی نہیں بلکہ) نیک نتیجہ متقی لوگوں کو ملتا ہے، (جو برائیوں سے اجتناب کے ساتھ اعمال صالحہ کے بھی پابند ہوں اور کیفیت اعمال پر جزا و سزا کی یہ ہوگی کہ) جو شخص (قیامت کے دن) نیکی لے کر آوے گا اس کو اس (کے متقضا) سے بہتر (بدلہ) ملے گا (کیونکہ نیک عمل کا اصل مقتضی تو یہ ہے کہ اس کی حیثیت کے موافق عوض ملے مگر وہاں اس سے زیادہ دیا جاوے گا جس کا کم سے کم درجہ اس کی حیثیت سے دس گنا ہے) اور جو شخص بدی لے کر آوے گا سو ایسے لوگوں کو جو بدی کا کام کرتے ہیں اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنا وہ کرتے تھے (یعنی اس کے مقتضی سے زیادہ بدلہ سزا کا نہ ملے گا۔) معارف و مسائل لِلَّذِيْنَ لَا يُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا فِي الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا، اس آیت میں دار آخرت کی نجات و فلاح کو صرف ان لوگوں کے لئے مخصوص فرمایا گیا ہے جو زمین میں علو اور فساد کا ارادہ نہ کریں۔ علو سے مراد تکبر ہے یعنی اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا بنانے اور دوسروں کو حقیر کرنے کی فکر۔ اور فساد سے مراد لوگوں پر ظلم کرنا ہے (سفیان ثوری) اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ ہر معصیت فساد فی الارض ہے کیونکہ گناہ کے وبال سے دنیا کی برکت میں کمی آتی ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو لوگ تکبر اور ظلم کا یا مطلق معصیت کا ارادہ کریں ان کا آخرت میں حصہ نہیں۔ فائدہتکبر جس کی حرمت اور وبال اس آیت میں ذکر کیا گیا وہ وہی ہے کہ لوگوں پر تفاخر اور ان کی تحقیر مقصود ہو، ورنہ اپنے لئے اچھے لباس اچھی غذا اچھے مکان کا انتظام جب وہ دوسروں کے تفاخر کے لئے نہ ہو مذموم نہیں، جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں اس کی تصریح ہے۔ معصیت کا پختہ عزم بھی معصیت ہے اس آیت میں علو اور فساد کے ارادہ پر دار آخرت سے محروم ہونے کی وعید ہے اس سے معلوم ہوا کہ کسی معصیت کا پختہ ارادہ جو عزم مصمم کے درجہ میں آجائے وہ بھی معصیت ہی ہے (کما فی الروح) البتہ اگر پھر وہ خدا کے خوف سے اس ارادہ کو ترک کر دے تو گناہ کی جگہ ثواب اس کے نامہ اعمال میں درج ہوتا ہے اور اگر کس غیر اختیاری سبب سے اس گناہ پر قدرت نہ ہوئی اور عمل نہ کیا مگر اپنی کوشش گناہ کے لئے پوری کی تو وہ بھی معصیت اور گناہ لکھا جائے گا (کما ذکرہ الغزالی) آخر آیت میں فرمایا والْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ اس کا حاصل یہ ہے کہ آخرت کی نجات اور فلاح کے لئے دو چیزوں علو اور فساد سے اجتناب بھی لازم ہے اور تقوی یعنی اعمال صالحہ کی پابندی بھی صرف ان دو چیزوں سے پرہیز کرلینا کافی نہیں بلکہ جو اعمال ازروئے شرع فرض و واجب ہیں ان پر عمل کرنا بھی نجات آخرت کی شرط ہے۔
Ayahs 28:85–87

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 28:85 in the Quran reader

جس نے حکم بھیجا تجھ پر قرآن کا وہ پھیر لانے والا ہے تجھ کو پہلی جگہ، تو کہہ میرا رب خوب جانتا ہے کون لایا ہے راہ کی سوجھ اور کون پڑا ہے صریح گمراہی میں

وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ Open ayah 28:86 in the Quran reader

اور تو تو توقع نہ رکھتا تھا کہ اتاری جائے تجھ پر کتاب مگر مہربانی سے تیرے رب کی سو تو مت ہو مددگار کافروں کا

وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 28:87 in the Quran reader

اور نہ ہو کہ وہ تجھ کو روک دیں اللہ کے حکموں سے بعد اس کے کہ اتر چکے تیری طرف اور بلا اپنے رب کی طرف اور مت ہو شریک والوں میں

خلاصہ تفسیر (اور آپ کے ان مخالفین نے جو آپ کو پریشان کر کے ترک وطن پر مجبور کیا ہے جس کی اضطراری مفارقت کا آپ کو صدمہ ہے تو آپ تسلی رکھیں) جس خدا نے آپ پر قرآن (کے احکام پر عمل اور اس کی تبلیغ) کو فرض کیا ہے (جو مجموعاً دلیل ہے آپ کی نبوت کی) وہ آپ کو (آپ کے) اصلی وطن (یعنی مکہ) میں پھر پہنچا دے گا (اور اس وقت آپ آزاد اور غالب اور صاحب سلطنت ہوں گے اور ایسی حالت میں اگر دوسری جگہ قیام کے لئے تجویز کی جاتی ہے بمصلحت و با اختیار ہوتی ہے جس سے رنج نہیں ہوتا اور باوجود آپ کے تحقق نبوت کے جو یہ لوگ آپ کو غلطی پر اور اپنے کو حق پر سمجھتے ہیں تو) آپ (ان سے) فرما دیجئے کہ میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون سچا دین لے کر (منجانب اللہ) آیا ہے اور کون صریح گمراہی میں (مبتلا) ہے (یعنی میرے حق پر ہونے اور تمہارے باطل پر ہونے کے دلائل قطعیہ موجود ہیں مگر جب ان سے کام نہیں لیتے تو اخیر جواب یہی ہے کہ خیر، خدا کو معلوم ہے وہ بتلا دے گا) اور (آپ کی یہ دولت نبوت محض خدا داد ہے حتی کہ خود) آپ کو (نبی ہونے کے قبل) یہ توقع نہ تھی کہ آپ پر یہ کتاب نازل کی جاوے گی مگر محض آپ کے رب کی مہربانی سے اس کا نزول ہوا، سو آپ (ان لوگوں کی خرافات کی طرف توجہ نہ کیجئے اور جس طرح اب تک ان سے الگ تھلگ رہے آئندہ بھی اسی طرح) ان کافروں کی ذرا تائید نہ کیجئے اور جب اللہ کے احکام آپ پر نازل ہوچکے تو ایسا نہ ہونے پاوے (جیسا اب تک بھی نہیں ہونے پایا) کہ یہ لوگ آپ کو ان احکام سے روک دیں اور آپ (بدستور) اپنے رب (کے دین) کی طرف (لوگوں کو) بلاتے رہئے اور (جس طرح اب تک مشرکوں سے کوئی تعلق نہیں رہا، اسی طرح آئندہ ہمیشہ) ان مشرکوں میں شامل نہ ہو جئے اور (جس طرح اب تک شرک سے معصوم ہیں اسی طرح آئندہ بھی) اللہ کے ساتھ کسی معبود کو نہ پکارنا (ان آیتوں میں کفار و مشرکین کو ان کی درخواستوں سے ناامید کرنا ہے اور روئے سخن ان ہی کی طرف ہے کہ تم جو حضور ﷺ سے دین میں موافق ہونے کی درخواست کرتے ہو اس میں کامیابی کا کبھی احتمال نہیں، مگر عادت ہے کہ جس شخص پر زیادہ غصہ ہوتا ہے اس سے بات نہیں کیا کرتے اپنے محبوب سے باتیں کر کے اس شخص کو سنایا کرتے ہیں۔ معالم میں حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ یہ خطاب صرف ظاہر میں آپ کو ہے اور مقصود آپ نہیں۔ یہاں تک رسالت کے متعلق مضمون قصداً تھا، گو توحید کا بھی ضمنًا آگیا، آگے توحید کا مضمون قصدا ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود (ہونے کے قابل) نہیں (اس لئے کہ) سب چیزیں فنا ہونے والی ہیں، بجز اس کی ذات کے پس اس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہ ٹھہرا، یہ مضمون توحید کا ہوگیا، آگے معاد کا مضمون ہے کہ) اسی کی حکومت ہے (جس کا ظہور کامل قیامت میں ہے) اور اسی کے پاس تم سب کو جانا ہے (پس سب کو ان کے کئے کی جزا دے گا یہ معاد کا مضمون بھی ختم ہوگیا۔) معارف و مسائل اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَاۗدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ ، آخر سورت میں یہ آیات رسول اللہ ﷺ کی تسلی اور اپنے فریضہ رسالت و نبوت پر پوری طرح قائم رہنے کی تاکید کے لئے ہیں اور مناسبت اس کی سابقہ آیات سورت سے یہ ہے کہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کا تفصیلی قصہ فرعون اور اس کی قوم کی دشمنی اور اس سے خوف کا پھر اپنے فضل سے ان کو قوم فرعون پر غالب کرنے کا ذکر فرمایا تو آخر سورت میں خاتم الانبیاء ﷺ کے ایسے ہی حالات کا خلاصہ بیان فرمایا کہ کفار مکہ نے آپ کو پریشان کیا، قتل کے منصوبے بنائے، مسلمانوں کی زندگی مکہ میں اجیرن کردی مگر حق تعالیٰ نے اپنی عادت قدیمہ کے مطابق آپ کو سب پر فتح اور غلبہ نصیب فرمایا اور مکہ مکرمہ جہاں سے کفار نے آپ کو نکالا تھا وہ پھر مکمل طور پر آپ کے قبضہ میں آیا۔ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ جس ذات پاک نے آپ پر قرآن فرض کیا ہے یعنی اس کی تلاوت اور تبلیغ اور اس پر عمل آپ پر فرض فرمایا ہے وہ ہی ذات آپ کو پھر معاد پر لوٹائے گی۔ معاد سے مراد مکہ مکرمہ ہے جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابن عباس سے معاد کی یہ تفسیر منقول ہے مطلب یہ ہے کہ اگر چند روز کے لئے آپ کو اپنا وطن عزیز خصوصاً حرم اور بیت اللہ چھوڑنا پڑا مگر قرآن کا نازل کرنے والا اور اس پر عمل کو فرض کرنے والا اللہ تعالیٰ آخر کار آپ کو پھر مکہ میں لوٹا کر لائے گا۔ ائمہ تفسیر میں سے مقاتل کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہجرت کے وقت غار ثور سے رات کے وقت نکلے اور مکہ سے مدینہ جانے والے معروف راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستوں سے سفر کیا کیونکہ دشمن تعاقب میں تھے۔ جب مقام جحفہ پر پہنچے جو مدینہ طیبہ کے راستہ کی مشہور منزل رابغ کے قریب ہے اور وہاں سے وہ مکہ سے مدینہ کا معروف راستہ مل جاتا ہے اس وقت مکہ مکرمہ کے راستہ پر نظر پڑی تو بیت اللہ اور وطن یاد آیا، اسی وقت جبرئیل امین یہ آیت لے کر نازل ہوئے جس میں آپ کو بشارت دی گئی ہے کہ مکہ مکرمہ سے جدائی چند روزہ ہے اور بالاخر آپ کو پھر مکہ مکرمہ پہنچا دیا جائے گا جو فتح مکہ کی بشارت تھی۔ اسی لئے حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں ہے کہ یہ آیت جحفہ میں نازل ہوئی ہے نہ مکی ہی نہ مدنی (قرطبی) قرآن دشمنوں پر فتح اور مقاصد میں کامیابی کا ذریعہ ہے اس آیت میں آپ کو دوبارہ مکہ مکرمہ میں فاتحہ واپسی کی بشارت اس عنوان سے دی گئی ہے کہ جس ذات حق نے آپ پر قرآن فرض کیا ہے آپ کو دشمنوں پر غالب کر کے دوبارہ مکہ مکرمہ لوٹائے گا، اس میں اشارہ اس طرف بھی ہے کہ قرآن کی تلاوت اور اس پر عمل ہی اس نصرت خداوندی اور فتح مبین کا سبب ہوگی۔
Ayah 28:88

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 28:88 in the Quran reader

اور مت پکار اللہ کے سوائے دوسرا حاکم، کسی کی بندگی نہیں اس کے سوائے ہر چیز فنا ہے مگر اس کا منہ اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے۔

كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ ، اس آیت میں وجھہ سے مراد ذات حق سبحانہ و تعالیٰ ہے اور معنے یہ ہیں ذات حق سبحانہ و تعالیٰ کے سوا ہر چیز ہلاک و فنا ہونے والی ہے اور بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ وجہہ سے مراد وہ عمل ہے جو خالص اللہ کے لئے کیا جائے، تو مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ جو عمل اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص کے ساتھ کیا جائے وہ ہی باقی رہنے والا ہے باقی سب فانی ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ الحمد للہ سورة قصص آج 9 ذیقعدہ 1391 ھ کو ایسے حالات میں تمام ہوئی کہ پاکستان پر ہندوستان اور دوسری بڑی طاقتوں کے گٹھ جوڑ سے شدید حملہ ہوا اور چودہ روز کراچی پر روزانہ بمباری ہوتی رہی، شہری آبادی کو جا بجا سخت نقصان پہنچا، سینکڑوں مسلمان شہید اور مکانات منہدم ہوئے اور چودہ دن کی جنگ اس حادثہ جانکاہ پر ختم ہوئی کہ مشرقی پاکستان پاکستان سے کٹ گیا اور تقریباً نوے ہزار پاکستانی فوج نے وہاں محصور ہو کر ہتھیار ڈال دیئے اور اس وقت تک وہاں مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے، ہر مسلمان کا دل اس صدمہ سے پاش پاش اور دماغ ماؤف ہے، فانا للہ وانا الیہ راجعون۔ والیہ المشتکی ولا ملجا ولا منجا من اللہ الا اللہ