30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 30:1

الٓمّٓۚ Open ayah 30:1 in the Quran reader

الف لام میم

الف لام میم
Ayahs 30:2–3

غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader

مغلوب ہوگئے ہیں رومی

فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader

ملتے ہوئے ملک میں6 اور وہ اس مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہوں گے

6 " ادنی الارض " (ملتے ہوئے ملک یا پاس والے ملک) سے مراد " اذرعات " " و بصری " کے درمیان کا خطہ ہے جو " شام " کی سرحد پر " حجاز " سے ملتا ہوا مکہ کے قریب واقع ہوا ہے، یا فلسطین " مراد ہو جو رومیوں کے ملک سے نزدیک تھا، یا " جزیرہ ابن عمر " جو فارس سے اقرب ہے۔ ابن حجر نے پہلے قول کی تصحیح کی ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 30:4

فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader

چند برسوں میں7 اللہ کے ہاتھ ہیں سب کام پہلے اور پچھلے8 اور اس دن خوش ہوں گے مسلمان

7 یعنی نو سال کے اندر اندر رومی غالب ہوجائیں گے۔ کیونکہ لغت میں اور حدیث میں " بضع " کا اطلاق تین سے نو تک ہوا ہے۔ ان آیات میں قرآن نے ایک عجیب و غریب پیشنگوئی کی جو اس کی صداقت کی عظیم الشان دلیل ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس زمانہ کی بڑی بھاری دو سلطنتیں " فارس " (جسے " ایران " کہتے ہیں) اور " روم " مدت دراز سے آپس میں ٹکراتی چلی آتی تھیں۔ 602 ء سے لے کر 614 ء کے بعد تک ان کی حریفانہ نبرد آزمائیوں کا سلسلہ جاری رہا کیا، جیسا کہ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کی تصریحات سے ظاہر ہے۔ 570 میں نبی کریم ﷺ کی ولادت شریفہ اور چالیس سال بعد 610 ء میں آپ کی بعثت ہوئی۔ مکہ والوں میں جنگ روم وفارس کے متعلق خبریں پہنچتی رہتی تھیں۔ اسی دوران میں نبی کریم ﷺ کے دعویٰ نبوت اور اسلامی تحریک نے ان لوگوں کے لئے ان جنگی خبروں میں ایک خاص دلچسپی پیدا کردی۔ فارس کے آتش پرست مجوس کو مشرکین مکہ مذہباً اپنے سے نزدیک سمجھتے تھے۔ اور روم کے نصاریٰ اہل کتاب ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے بھائی یا کم از کم ان کے قریبی دوست قرار دیے جاتے تھے۔ جب فارس کے غلبہ کی خبر آتی مشرکین مکہ مسرور ہوتے اور اس سے مسلمانوں کے مقابلہ میں اپنے غلبہ کی فال لیتے اور خوش آئندہ توقعات باندھتے تھے۔ مسلمانوں کو بھی طبعاً صدمہ ہوتا کہ عیسائی اہل کتاب آتش پرست مجوسیوں سے مغلوب ہوں، ادھر ان کو مشرکین مکہ کی شماتت کا ہدف بننا پڑے آخر 614 ء کے بعد (جبکہ ولادت نبوی کو قمری حساب سے تقریباً پینتالیس سال اور بعثت کے پانچ سال گزر چکے) خسرو پرویز (کی خسروثانی) کے عہد میں فارس نے روم کو ایک مہلک اور فیصلہ کن شکست دی۔ شام، مصر، ایشیائے کوچک وغیرہ سب ممالک رومیوں کے ہاتھ سے نکل گئے۔ ہرقل قیصر روم کو ایرانی لشکر نے قسطنطنیہ میں پناہ گزین ہونے پر مجھور کردیا اور رومیوں کا دارالسلطنت بھی خطرہ میں پڑگیا، بڑے بڑے پادری قتل یا قید ہوگئے۔ بیت المقدس سے عیسائیوں کی سب سے زیادہ مقدس صلیب بھی ایرانی فاتحین لے اڑے۔ قیصر روم کا اقتدار بالکل فنا ہوگیا۔ بظاہر اسباب کوئی صورت روم کے ابھرنے اور فارس کے تسلط سے نکلنے کی باقی نہ رہی۔ یہ حالات دیکھ کر مشرکین مکہ نے خوب بغلیں بجائیں۔ مسلمانوں کو چھیڑنا شروع کیا، بڑے بڑے حوصلے اور توقعات قائم کرنے لگے حتیٰ کہ بعض مشرکین نے ابوبکر صدیق ؓ سے کہا کہ آج ہمارے بھائی ایرانیوں نے تمہارے بھائی رومیوں کو مٹا دیا ہے کل ہم بھی تمہیں اسی طرح مٹا ڈالیں گے۔ اس وقت قرآن نے سلسلہ اسباب ظاہری کے بالکل خلاف عام اعلان کردیا کہ بیشک اس وقت رومی فارس سے مغلوب ہوگئے ہیں لیکن نو سال کے اندر اندر وہ پھر غالب و منصور ہوں گے اس پیشنگوئی کی بناء پر حضرت ابوبکر صدیق نے بعض مشرکین سے شرط باندھ لی (اس وقت تک ایسی شرط لگانا حرام نہ ہوا تھا) کہ اگر اتنے سال تک رومی غالب نہ ہوئے تو میں سو اونٹ تم کو دوں گا، ورنہ اسی قدر اونٹ تم مجھ کو دو گے۔ شروع میں حضرت ابوبکر صدیق نے اپنی رائے سے " بضع سنین " کی میعاد کچھ کم رکھی تھی۔ بعدہ نبی کریم ﷺ کے ارشاد سے " بضع " کے لغوی مدلول یعنی نو سال پر معاہدہ ٹھہرا۔ ادھر ہرقل قیصر روم نے اپنے زائل شدہ اقتدار کو واپس لینے کا تہیہ کرلیا اور منت مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھ کو فارس پر فتح دی تو " حمص " سے پیدل چل کر " ایلیا " (بیت المقدس) تک پہنچوں گا۔ قدرت دیکھو کہ قرآنی پیشنگوئی کے مطابق نو سال کے اندر یعنی ہجرت کا ایک سال گزرنے پر عین بدر کے دن جبکہ مسلمان اللہ کے فضل سے مشرکین پر نمایاں فتح و نصرت حاصل ہونے کی خوشیاں منا رہے تھے، یہ خبر سن کر اور زیادہ مسرور ہوگئے کہ رومی اہل کتاب کو خدا تعالیٰ نے ایرانی مجوسیوں پر غالب فرمایا، اس ضمن میں مشرکین مکہ کو مزید خذلان و خسران نصیب ہوا۔ قرآن کی اس عظیم الشان اور محیر العقول پیشینگوئی کی صداقت کا مشاہدہ کر کے بہت لوگوں نے اسلام قبول کیا اور حضرت ابوبکر نے سو اونٹ مشرکین مکہ سے وصول کئے جن کے متعلق حضور ﷺ نے حکم دیا کہ صدقہ کردیے جائیں۔ فللہ الحمد علیٰ نعمآئہ الظاہرۃ واٰلائہ الباہرۃ۔ 8 پہلے فارس کو غالب کرنا، روم کو مغلوب کرنا، اور پیچھے حالات کو الٹ دینا، سب اللہ کے قبضہ میں ہے۔ صرف اتنی بات سے کسی قوم کے مقبول و مردود ہونے کا فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ " وتلک الایام نداولھا بین الناس۔ "
Ayah 30:5

بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader

اللہ کی مدد سے9 مدد کرتا ہے جس کی چاہتا ہے اور وہی ہے زبردست رحم والاف 1

9 یعنی ایک تو اس دن اپنی فتح کی خوشی اس پر مزید خوشی یہ ہوئی کہ رومی اہل کتاب (جو نسبۃً مسلمانوں سے اقرب تھے) فارس کے مجوسیوں پر غالب آئے۔ قرآن کی پیشنگوئی کے صدق کا لوگوں نے مشاہدہ کرلیا۔ کفار مکہ کو ہر طرح ذلت نصیب ہوئی۔ 1 یعنی جسے مغلوب کرنا چاہے تو کوئی زبردستی کر کے روک نہ سکے اور جس پر مہربانی فرمانا چاہے اسے بےروک ٹوک غالب کر کے رہے۔
Ayah 30:6

وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader

اللہ کا وعدہ ہوچکا خلاف نہ کرے گا اللہ اپنا وعدہ لیکن بہت لوگ نہیں جانتے2

2 یعنی اکثر لوگ نہیں سمجھتے کہ غالب یا مغلوب کرنے میں اللہ تعالیٰ کی کیا کیا حکمتیں ہیں اور یہ قدرت جب کوئی کام کرنا چاہے تو سب ظاہری رکاوٹیں دور ہوتی چلی جاتی ہیں۔ اسی لئے اکثر ظاہر بیں بغیر اسباب ظاہری خدا پر بھروسہ نہیں رکھتے اور کسی کا عارضی غلبہ دیکھ کر سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ ہی اللہ کے ہاں مقبول ہوگا۔
Ayah 30:7

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader

جانتے ہیں اوپر اوپر دنیا کے جینے کو اور وہ لوگ آخرت کی خبر نہیں رکھتے3

3 یعنی یہ لوگ دنیاوی زندگی کی ظاہری سطح کو جانتے ہیں۔ یہاں کی آسائش و آرائش، کھانا، پینا، پہننا، اوڑھنا، بونا جوتنا، پیسہ کمانا، مزے اڑانا بس یہ ہی ان کے علم و تحقیق کی انتہائی جولان گاہ ہے۔ اس کی خبر ہی نہیں کہ اس زندگی کی تہ میں ایک دوسری زندگی کا راز چھپا ہوا ہے جہاں پہنچ کر اس دنیاوی زندگی کے بھلے برے نتائج سامنے آئیں گے۔ ضروری نہیں کہ جو شخص یہاں خوشحال نظر آتا ہے وہاں بھی خوشحال رہے۔ بھلا آخرت کا معاملہ تو دور ہے، یہیں دیکھ لو کہ ایک شخص یا ایک قوم کبھی دنیا میں عروج حاصل کرلیتی ہے لیکن اس کا آخری انجام ذلت و ناکامی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
Ayah 30:8

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader

کیا دھیان نہیں کرتے اپنے جی میں کہ اللہ نے جو بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے سو ٹھیک سادھ کر اور وعدہ مقرر پر4 اور بہت لوگ اپنے رب کا ملنا نہیں مانتے5

4 یعنی عالم کا اتنا زبردست نظام اللہ تعالیٰ نے بیکار پیدا نہیں کیا۔ کچھ اس سے مقصود ضرور ہے وہ آخرت میں نظر آئے گا۔ ہاں یہ سلسلہ ہمیشہ چلتا رہتا تو ایک بات تھی، لیکن اس کے تغیرات و احوال میں غور کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ اس کی کوئی حد اور انتہا ضرور ہے۔ لہذا ایک وعدہ مقررہ پر یہ عالم فنا ہوگا اور دوسرا عالم اس کے نتیجہ کے طور پر قائم کیا جائے گا۔ 5 وہ سمجھتے ہیں کہ کبھی خدا کے سامنے جانا ہی نہیں جو حساب و کتاب دینا پڑے۔
Ayah 30:9

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے سیر نہیں کی ملک کی جو دیکھیں انجام کیسا ہوا ان سے پہلوں کا ان سے زیادہ تھے زور میں اور جوتا انہوں نے زمین کو اور بسایا اس کو ان کے بسانے سے زیادہ اور پہنچے ان کے پاس رسول ان کے لے کر کھلے حکم6 سو اللہ نہ تھا ان پر ظلم کرنے والا لیکن وہ اپنا آپ برا کرتے تھے7

6 یعنی بڑی بڑی طاقتور قومیں (عادوثمود) جنہوں نے زمین کو بو، جوت کر لالہ و گلزار بنایا، اسے کھود کر چشمے اور کانیں نکالیں، ان منکرین سے بڑھ کر تمدن کو ترقی دی، لمبی عمریں پائیں اور زمین کو ان سے زیادہ آباد کیا۔ وہ آج کہاں ہیں ؟ جب اللہ کے پیغمبر کھلے نشان اور احکام لے کر آئے اور انہوں نے تکذیب کی تو کیا نہیں سنا کہ انجام کیا ہوا۔ کس طرح تباہ و برباد کئے گئے۔ ان کے ویران کھنڈر آج بھی ملک میں چل پھر کر دیکھ سکتے ہیں۔ کیا ان میں ان بےفکروں کے لئے کوئی عبرت نہیں۔ 7 اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تو ظلم کا امکان نہیں۔ ہاں یہ لوگ خود اپنے ہاتھوں اپنی جڑ پر کلہاڑی مارتے ہیں اور وہ کام کرتے ہیں۔ جن کا نتیجہ بربادی ہو تو یہ اپنی جان پر ظلم کرنا ہوا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کے عدل و رحم کی کیفیت تو یہ ہے کہ بےرسول بھیجے اور بدون پوری طرح ہوشیار کئے کسی کو پکڑتا بھی نہیں۔
Ayah 30:10

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader

پھر ہوا انجام برا کرنے والوں کا برا اس واسطے کہ جھٹلاتے تھے اللہ کی باتیں اور ان پر ٹھٹھے کرتے تھے8

8 وہ نتیجہ تو دنیا میں دیکھا تھا پھر آخرت میں تکذیب و استہزاء کی جو سزا ہے وہ الگ رہی۔ موجودہ اقوام کو چاہیے کہ گذشتہ قوموں کے احوال سے عبرت پکڑیں کیونکہ ایک قوم کو جن باتوں پر سزا ملی سب کو وہی سزا مل سکتی ہے۔ سب کی فنا بھی ایک کی فنا سے سمجھو اور سب کی سزا بھی ایک کی سزا سے۔
Ayahs 30:11–13

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader

اللہ بناتا ہے پہلی بار پھر اس کو دہرائے گا پھر اسی کی طرف پھر جاؤ گے

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader

اور جس دن برپا ہوگی قیامت آس توڑ کر رہ جائیں گے گنہگار

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader

اور نہ ہوں گے ان کے شریکوں میں کوئی ان کے سفارش کرنے والے اور وہ ہوجائے گا اپنے شریکوں سے منکر1

1 یعنی جن کو اللہ کا شریک بناتے تھے جب وقت پر کام نہ آئیں گے تو منکر ہو کر کہنے لگیں گے کہ " واللہ ربنا ما کنا مشرکین۔ " (خدا کی قسم ہم مشرک نہ تھے)
Ayah 30:14

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader

اور جس دن قائم ہوگی قیامت اس دن لوگ ہوں گے قسم قسم2

2 یعنی نیک و بد ہر قسم کے لوگ الگ کر دئیے جائیں گے اور علیحٰدہ علیحٰدہ اپنے ٹھکانہ پر پہنچا دیے جائیں گے۔ جس کی تفصیل اگلی آیت میں ہے۔
Ayah 30:15

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader

سو جو لوگ یقین لائے اور کئے بھلے کام سو باغ میں ہوں گے ان کی آؤ بھگت ہوگی3

3 یعنی انعام و اکرام سے نوازے جائیں گے اور ہر قسم کی لذت و سرور سے بہرہ اندوز ہوں گے۔ یہ نیکوں کا ٹھکانہ ہوا۔ آگے بدوں کی جگہ بتلائی ہے۔ مطلب یہ ہے، کہ دونوں میں ایسی تفریق اور جدائی کردی جائے گی جس سے بڑھ کر کوئی جدائی نہیں ہوسکتی۔
Ayahs 30:16–18

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader

اور جو منکر ہوئے اور جھٹلائیں ہماری باتیں اور ملنا پچھلے گھر کا سو وہ عذاب میں پکڑے آئیں گے

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader

سو پاک اللہ کی یاد کرو جب شام کرو اور جب صبح کرو

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader

اور اسی کی خوبی ہے آسمان میں اور زمین میں اور پچھلے وقت اور جب دوپہر ہو4

4 یعنی جنت چاہتے ہو تو اللہ پاک کی یاد کرو جو دل، زبان اور اعضاء وجوارح سب سے ہوتی ہے۔ نماز میں تینوں قسم کی یاد جمع کردی گئی۔ اور اوقات فرض نماز کے یہ ہی ہیں جو آیت میں بیان ہوگے۔ یعنی صبح، شام، (جس میں مغرب و عشاء شامل ہیں) دن کے پچھلے وقت (عصر) اور دوپہر ڈھلنے کے بعد (ظہر) کی نمازیں ہیں ان اوقات میں حق تعالیٰ کی رحمت یا قدرت و عظمت کے آثار بہت زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ آفتاب عالم اجسام میں سب سے بڑا روشن کرہ ہے جس کے بلاواسطہ یا بالواسطہ فیض و تاثیر سے عالم اسباب میں شاید ہی کوئی مادی مخلوق مستشنٰی ہو (جیسا کہ ارض النجوم کے مصنف نے بہت شرح وبسط سے اس کو ثابت کیا ہے) اسی بناء پر سیارہ پرستوں نے اسے اپنا معبود اکبر قرار دیا تھا جس کی طرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قول " هٰذَا رَبِّيْ هٰذَآ اَكْبَرُ " میں اشارہ ہے۔ اس کے عجز و بیچارگی اور آفتاب پرستوں کی اس کے فیض سے محرومی کا کھلا ہوا مظاہرہ بھی ان ہی پانچ اوقات میں ہوتا ہے۔ صبح کو جب تک طلوع نہیں ہوا اور دوپہر ڈھلنے پر جبکہ اس کے عرض میں کمی آنی شروع ہوئی اور عصر کے وقت جبکہ اس کی حرارت اور روشنی میں نمایاں طور پر ضعف آگیا اور غروب کے بعد جب اس کی نورانی شعاعوں کے اتصال سے اس کے پجاری محروم ہوگئے۔ پھر عشاء کے وقت جب شفق بھی غائب ہوگئی اور روشنی کے ادنیٰ ترین آثار بھی افق پر باقی نہ رہے۔ ان اوقات میں موحدین کو حکم ہوا کہ خدائے اکبر کی عبادت کریں۔ اور شروع صلوٰۃ ہی میں " اللہ اکبر " کہہ کر اس موحد اعظم (ابراہیم خلیل اللہ) کی اقتداء کرتے رہیں۔ جس نے " هٰذَا رَبِّيْ هٰذَآ اَكْبَرُ " کے بعد فرمایا تھا " اِنِّىْ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِيْفًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ " (انعام۔ رکوع 9) شاید آیت ہذا میں " وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ " فرما کر یہ ہی یاد دلایا ہے کہ تسبیح و تنزیہ اور یاد کرنے کے لائق وہی ذات ہوسکتی ہے جس کی خوبی آسمان و زمین کی کل کائنات زبان حال و قال سے بیان کر رہی ہے کوئی مجبور و عاجز مخلوق اس کا استحقاق نہیں رکھتی خواہ وہ دیکھنے میں کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔ آگے اسی خدائے اکبر کی بعض شؤون عظیمہ اور صفات کا ملہ کا بیان ہے تاکہ معبودیت کا استحقاق اور زیادہ واضح ہوجائے اسی ضمن میں بعث بعد الموت کے مسئلہ پر بھی کافی روشنی ڈالی گئی ہے۔
Ayah 30:19

یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader

نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے اور زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مرنے کے پیچھے اور اسی طرح تم نکالے جاؤ گے5

5 یعنی انسان کو نطفہ سے، نطفہ کو انسان سے، جانور کو بیضہ سے اور بیضہ کو جانور سے، مومن کو کافر سے، کافر کو مومن سے پیدا کرتا ہے اور زمین جب خشک ہو کر مرجاتی ہے تو رحمت کے پانی سے پھر زندہ کر کے سرسبز و شاداب کردیتا ہے۔ غرض موت وحیات حقیقی ہو یا مجازی، حسی ہو یا معنوی، سب کی باگ اسی کے ہاتھ میں ہے۔ پھر تم کو زندہ کر کے قبروں سے نکال کھڑا کرنا اس کے نزدیک کیا مشکل ہوگا۔
Ayah 30:20

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں سے ہے یہ کہ تم کو بنایا مٹی سے پھر اب تم انسان ہو زمین میں پھیلے پڑے6

6 یعنی آدم کو مٹی سے بنایا، پھر دیکھو قدرت نے اسے پھیلایا کہ ساری زمین پر اس کی ذریت چھا گئی اور زمین میں پھیل کر کیسی کیسی عجیب و غریب ہشیاریاں اس مٹی کے پتلے نے دکھلائیں۔
Ayah 30:21

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں سے ہے یہ کہ بنا دئیے تمہارے واسطے تمہاری قسم سے جوڑے کہ چین سے رہو ان کے پاس اور رکھا تمہارے بیچ میں پیار اور مہربانی البتہ اس میں بہت پتے کی باتیں ہیں ان کے لئے جو دھیان کرتے ہیں1

1 یعنی اول مٹی سے ایک آدم کو پیدا کیا پھر اسی کے اندر سے اس کا جوڑا نکالا تاکہ اس سے انس اور چین پکڑے اور پیدائشی طور پر دونوں صنفوں (مرد عورت) کے درمیان خاص قسم کی محبت اور پیار رکھ دیا۔ تاکہ مقصود ازدواج حاصل ہو۔ چناچہ دونوں کے میل جول سے نسل انسانی دنیا میں پھیل گئی۔ کما قال تعالیٰ (يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاۗءً ) 4 ۔ النسآء :1)
Ayah 30:22

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان اور زمین کا بنانا اور طرح طرح کی بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت نشانیاں ہیں سمجھنے والوں کو2

2 سب انسان ایک ماں باپ سے بنائے، ملا کر بسائے، پھر تمام روئے زمین پر ان کو پھیلادیا۔ سب کی جدا جدا بولیاں کردیں۔ ایک ملک کا آدمی دوسرے ملک میں جا کر زبان کے اعتبار سے محض اجنبی ہوگیا۔ پھر دیکھو شروع دنیا سے آج تک کتنے بیشمار آدمی پیدا ہوئے مگر کوئی دو آدمی ایسے نہ ملیں گے جن کا لب و لہجہ، تلفظ، طرز تکلم بالکل یکساں ہو۔ جس طرح ہر آدمی کی شکل و صورت اور رنگت وغیرہ دوسرے سے ممتاز ہے، آواز اور لب و لہجہ بھی بالکل الگ ہے کوئی دو شخص ایسے نہ ملیں گے جن کی آواز اور رنگ، روپ میں کوئی مابہ الامتیاز نہ ہو۔ ابتدائے عالم سے آج تک برابر نئی نئی صورتیں اور بولنے کے نئے نئے طور نکلتے چلے آتے ہیں۔ اس خزانہ میں کبھی ٹوٹا نہیں آیا۔ حقیقت میں یہ کتنا بڑا نشان حق تعالیٰ کی قدرت عظیمہ کا ہے۔
Ayah 30:23

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں سے ہے تمہارا سونا رات میں اور دن میں تلاش کرنا اس کے فضل سے3 اس میں بہت پتے ہیں ان کو جو سنتے ہیں4

3 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ انسان کی دو حالتیں بدلی جاتی ہیں، سو یا تو بیخبر پتھر کی طرح اور روزی کی تلاش میں لگا تو ایسا ہوشیار کوئی نہیں۔ اصل تو رات ہے سونے کو اور دن تلاش کو، پھر دونوں وقت دونوں کام ہوتے ہیں۔ 4 یعنی جو سن کر محفوظ رکھتے ہیں۔ کما فی تفسیر ابن کثیر حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " اپنے سونے کا احوال نظر نہیں آتا۔ سو لوگوں کی زبانی سنتے ہیں۔ " (موضح) یہ لفظ " یسمعون " اختیار کرنے کا نکتہ ہوا۔
Ayah 30:24

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں سے ہے یہ کہ دکھلاتا ہے تم کو بجلی ڈر اور امید کے لیے5 اور اتارتا ہے آسمان سے پانی پھر زندہ کرتا ہے اس سے زمین کو مرگئے پیچھے اس میں بہت پتے ہیں ان کے لیے جو سوچتے ہیں6

5 بجلی کی چمک دیکھ کر لوگ ڈرتے ہیں کہیں کسی پر گر نہ پڑے۔ یا بارش زیادہ نہ ہوجائے جس سے جان و مال تلف ہوں۔ اور امید بھی رکھتے ہیں کہ بارش ہو تو دنیا کا کام چلے۔ مسافر کبھی اندھیرے میں اس کی چمک کو غنیمت سمجھتا ہے کہ دور تک راستہ نظر آجائے۔ اور کبھی خوف کھا کر گھبراتا ہے۔ 6 یعنی اسی سے سمجھ لو کہ مرے پیچھے تمہارا پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔
Ayah 30:25

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں سے یہ ہے کہ کھڑا ہے آسمان اور زمین اس کے حکم سے7 پھر جب پکارے گا تم کو ایک بار زمین میں سے اسی وقت تم نکل پڑو گے8

7 پہلے آسمان و زمین کا پیدا کرنا مذکور ہوا تھا یہاں ان کے بقاء و قیام کو بتلایا کہ وہ بھی اسی کے حکم سے ہے مجال نہیں کہ کوئی اپنے مرکز ثقل سے ہٹ جائے۔ یا ایک دوسرے پر گر کر نظام کائنات کو درہم برہم کر دے۔ 8 یعنی زمین و آسمان جب تک اس کا حکم ہے قائم رہیں گے۔ پھر جس وقت دنیا کی میعاد پوری ہو جائیگی اللہ تعالیٰ کی ایک پکار پر تم سب قبروں سے نکلے چلے آؤ گے میدان حشر کی طرف۔
Ayah 30:26

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

اور اسی کا ہے جو کوئی ہے آسمان اور زمین میں سب اس کے حکم کے تابع ہیں9

9 یعنی آسمان و زمین کے رہنے والے سب اسی کے مملوک بندے اور اسی کی رعیت ہیں، کس کی طاقت ہے کہ اس کے حکم تکوینی سے سرتابی کرسکے۔
Ayah 30:27

وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader

اور وہ ہی ہے جو پہلی بار بناتا ہے پھر اس کو دہرائے گا اور وہ آسان ہے اس پر10 اور اس کی شان سب سے اوپر ہے آسمان اور زمین میں اور وہی ہے زبردست حکمتوں والاف 1

10 یعنی قدرت الہٰی کے سامنے تو سب برابر ہیں لیکن تمہارے محسوسات کے اعتبار سے اول بار پیدا کرنے سے دوسری بار دوہرا دینا آسان ہونا چاہیے پھر یہ عجیب بات ہے کہ اول پیدائش پر اسے قادر مانو اور دوسری مرتبہ پیدا کرنے کو مستبعد سمجھو۔ 11 یعنی اعلیٰ سے اعلیٰ صفات اور اونچی شان اس کی ہے۔ آسمان و زمین کی کوئی چیز اپنے حسن و خوبی میں اس کی شان و صفت سے لگاؤ نہیں کھا سکتی۔ مساوی ہونا تو کجا، وہ تو اس سے بھی بالا و برتر ہے جہاں تک مخلوق اس کے جلال و جمال کا تصور کرسکتی ہے۔ بلکہ جو خوبی کسی جگہ موجود ہے وہ اسی کے کمالات کا ادنیٰ پر تو ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " آسمان کے فرشتے نہ کھائیں نہ پیئیں نہ حاجت بشری رکھیں، سوائے بندگی کے کچھ کام نہیں۔ اور زمین کے لوگ سب چیز میں آلودہ۔ پر اللہ کی صفت نہ ان سے ملے نہ ان سے، وہ پاک ذات ہے " (موضح) ۔
Ayah 30:28

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader

بتلائی تم کو ایک مثل تمہارے اندر سے دیکھو جو تمہارے ہاتھ کے مال ہیں ان میں ہیں کوئی ساجھی تمہارے ہماری دی ہوئی روزی میں کہ تم سب اس میں برابر رہو خطرہ رکھو ان کا جیسے خطرہ رکھو اپنوں کا یوں کھول کر بیان کرتے ہیں ہم نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں1

1 یعنی شرک کا قبح و بطلان سمجھانے کے لئے اللہ تعالیٰ خود تمہارے ہی احوال میں سے ایک مثال نکال کر بیان فرماتا ہے۔ وہ یہ کہ تمہارے ہاتھ کا مال (یعنی لونڈی غلام) جن کے تم محض ظاہری اور مجازی مالک ہو کیا اپنی روزی اور مال و متاع میں جو حق تعالیٰ نے دے رکھی ہے، تم ان کو برابر کا شریک تسلیم کرسکتے ہو جس طرح مشترک اموال و جائیداد میں اپنے بھائی بند حصہ دار ہوتے ہیں اور ہر وقت کھٹکا رہتا ہے کہ مشترک چیز میں تصرف کرنے پر برہم جائیں یا تقسیم کرنے لگیں یا کم از کم سوال کر بیٹھیں کہ ہماری اجازت اور مرضی کے بدون فلاں کام کیوں کیا۔ کیا ایسا ہی کھٹکا ایک آقا کو اپنے غلام یا نوکر کی طرف سے ہوتا ہے۔ اگر نہیں تو سمجھنا چاہیے کہ جب ایک چھوٹے مالک کا یہ حال ہے تو اس سچے مالک کو اپنے غلام کی کیا پروا ہوسکتی ہے۔ جس کو تم حماقت سے اس کا ساجھی گنتے ہو۔ ایک غلام تو آقا کی ملک میں شریک نہ ہو سکے۔ حالانکہ دونوں خدا کی مخلوق ہیں اور اسی کی دی ہوئی روزی کھاتے ہیں۔ مگر ایک مخلوق بلکہ مخلوق در مخلوق، خالق کی خدائی میں شریک ہوجائے ! ایسی مہمل بات کوئی عقلمند قبول نہیں کرسکتا۔
Ayah 30:29

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader

بلکہ چلتے ہیں یہ بےانصاف اپنی خواہشوں پر بن سمجھے2 سو کون سمجھائے جس کو اللہ نے بھٹکایا اور کوئی نہیں ان کا مددگار3

2 یعنی یہ بےانصاف لوگ ایسی صاف و واضح باتوں کو کیونکر سمجھیں۔ وہ سمجھنا چاہتے ہی نہیں بلکہ جہالت اور ہوا پرستی سے محض اوہام و خواہشات کی پیروی پر تلے ہوئے ہیں۔ 3 یعنی جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی بےانصافی جہل اور ہوا پرستی کی بدولت راہ حق پر چلنے اور سمجھنے کی توفیق نہ دی۔ اب کون طاقت ہے جو اسے سمجھا کر راہ حق پر لے آئے یا مدد کر کے گمراہی اور تباہی سے بچا لے لہذا ایسوں کی طرف سے زیادہ متحسر اور غمگین ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان سے قطع نظر کر کے آپ ﷺ ہمہ تن اپنے پروردگار کی طرف توجہ کیجئے۔ اور دین فطرت پر جمے رہیے۔
Ayah 30:30

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

سو تو سیدھا رکھ اپنا منہ دین پر ایک طرف کا ہو کر4 وہی تراش اللہ کی جس پر تراشا لوگوں کو5 بدلنا نہیں اللہ کے بنائے ہوئے کو6 یہی ہے دین سیدھا و لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے7

4 یعنی جو گمراہی سے کسی طرح نکلنا نہیں چاہتا اسے شرک کی دلدل میں پڑا رہنے دو اور تم ہر طرف سے منہ موڑ کر ایک خدا کے ہو رہو۔ اور اس کے سچے دین کو بڑی توجہ اور یک جہتی سے تھامے رکھو۔ 5 اللہ تعالیٰ نے آدمی کی ساخت اور تراش شروع سے ایسی رکھی ہے کہ اگر وہ حق کو سمجھنا اور قبول کرنا چاہے تو کرسکے اور بدء فطرت سے اپنی اجمالی معرفت کی ایک چمک اس کے دل میں بطور تخم ہدایت کے ڈال دی ہے کہ اگر گردو پیش کے احوال اور ماحول کے خراب اثرات سے متاثر نہ ہو اور اصلی بیعت پر چھوڑ دیا جائے تو یقینا دین حق کو اختیار کرے کسی دوسری طرف متوجہ نہ ہو۔ " عہد الست " کے قصہ میں اسی کی طرف اشارہ ہے اور احادیث صحیحہ میں تصریح ہے کہ ہر بچہ فطرۃً (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے بعدہ ماں باپ اسے یہودی، نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔ ایک حدیث قدسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو " حنفاء " پیدا کیا۔ شیاطین نے اغوا کر کے انھیں سیدھے راستہ سے بھٹکا دیا۔ بہرحال دین حق، دین حنیف اور دین قیم وہ ہے کہ اگر انسان کو اس کی فطرت پر مخلی بالطبع چھوڑ دیا جائے تو اپنی طبعیت سے اسی کی طرف جھکے۔ تمام انسانوں کی فطرت اللہ تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے جس میں کوئی تفاوت اور تبدیلی نہیں۔ فرض کرو اگر فرعون یا ابو جہل کی اصلی فطرت میں یہ استعداد اور صلاحیت نہ ہوتی تو ان کو قبول حق کا مکلف بنانا صحیح نہ ہوتا۔ جیسے اینٹ پتھر، یا جانوروں کو شرائع کا مکلف نہیں بنایا۔ فطرت انسانی کی اسی یکسانیت کا یہ اثر ہے کہ دین کے بہت سے اصول مہمہ کو کسی نہ کسی رنگ میں تقریباً سب انسان تسلیم کرتے ہیں گو ان پر ٹھیک ٹھیک قائم نہیں رہتے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی اللہ سب کا مالک حاکم، سب سے نرالا، کوئی اس کے برابر نہیں، کسی کا زور اس پر نہیں، یہ باتیں سب جانتے ہیں۔ اس پر چلنا چاہئے۔ ایسے ہی کسی کے جان و مال کو ستانا، ناموس میں عیب لگانا، ہر کوئی برا جانتا ہے۔ ایسے ہی اللہ کو یاد کرنا، غریب پر ترس کھانا، حق پورا دینا، دغا نہ کرنا ہر کوئی اچھا جانتا ہے۔ اس (راستہ) پر چلنا ہی دین سچا ہے (یہ امور فطری تھے مگر) ان کا بندوبست پیغمبروں کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے سکھلادیا۔ " 6 یعنی اصل پیدائش کے اعتبار سے کوئی فرق اور تغیر و تبدل نہیں۔ ہر فرد انسان کی فطرت قبول حق کے لئے مستعد بنائی ہے یا یہ مطلب کہ اللہ نے جس فطرت پر پیدا کیا اس کو تم اپنے اختیار سے بدل کر خراب نہ کرو۔ بیچ تم میں ڈال دیا ہے اسے بےتوجہی یا بےتمیزی سے ضائع مت ہونے دو ۔ 7 یعنی سیدھا دین یہ ہی فطرت کی آواز ہے۔ پر بہت لوگ اس نکتہ کو سمجھتے نہیں۔
Ayah 30:31

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

سب رجوع ہو کر اس کی طرف8 اور اس سے ڈرتے رہو اور قائم رکھو نماز اور مت ہو شرک کرنے والوں میں

8 یعنی اصل دین پکڑے رہو، اس کی طرف رجوع ہو کر۔ اگر محض دنیاوی مصلحت کے واسطے یہ کام کئے تو دین درست نہ ہوگا۔ آگے دین فطرت کے چند اہم اصول کی طرف توجہ دلائی ہے۔ مثلاً اتقاء (خدا سے ڈرتے رہنا) نماز قائم رکھنا، شرک جلی و خفی سے بیزار اور مشرکین سے علیحدہ رہنا، اپنے دین میں پھوٹ نہ ڈالنا۔
Ayah 30:32

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

جنہوں نے کہ پھوٹ ڈالی اپنے دین میں اور ہوگئے ان میں بہت فرقے ہر فرقہ جو اس کے پاس ہے اس پر خوش ہے9

9 یعنی دین فطرت کے اصول سے علیحدہ ہو کر ان لوگوں نے اپنے مذہب میں پھوٹ ڈالی، بہت سے فرقے بن گئے۔ ہر ایک کا عقیدہ الگ مذہب و مشرب جدا، جس کسی نے غلط کار یا ہوا پرستی سے کوئی عقیدہ قائم کردیا یا کوئی طریقہ ایجاد کرلیا، ایک جماعت اسی کے پیچھے ہوگئی، تھوڑے دن بعد وہ ایک فرقہ بن گیا۔ پھر ہر فرقہ اپنے ٹھہرائے ہوئے اصول و عقائد پر خواہ وہ کتنے ہی مہمل کیوں نہ ہوں ایسا فریفتہ اور مفتون ہے کہ اپنی غلطی کا امکان بھی اس کے تصور میں نہیں آتا۔
Ayahs 30:33–34

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

اور جب پہنچے لوگوں کو کچھ سختی تو پکاریں اپنے رب کو اس کی طرف رجوع ہو کر پھر جہاں چکھائی ان کو اپنی طرف سے کچھ مہربانی اسی وقت ایک جماعت ان میں اپنے رب کا شریک لگی بتانے

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

کہ منکر ہوجائیں ہمارے دئیے ہوئے سے سو مزے اڑالو اب آگے جان لو گے1

1 یعنی جیسے بھلے کام ہر انسان کی فطرت پہچانتی ہے۔ اللہ کی طرف رجوع ہونا بھی ہر ایک کی فطرت جانتی ہے۔ چناچہ خوف اور سختی کے وقت اس کا اظہار ہوجاتا ہے۔ بڑے سے بڑا سرکش مصیبت میں گھر کر خدائے واحد کو پکارنے لگتا ہے۔ اس وقت جھوٹے سہارے سب ذہن سے نکل جاتے ہیں۔ وہ ہی سچا مالک یاد رہ جاتا ہے جس کی طرف فطرت انسانی راہنمائی کرتی تھی۔ مگر افسوس کہ انسان اس حالت پر دیر تک قائم نہیں رہتا۔ جہاں خدا کی مہربانی سے مصیبت دور ہوئی، پھر اس کو چھوڑ کر جھوٹے دیوتاؤں کے بھجن گانے لگا۔ گویا اس کے پاس سب کچھ ان ہی کا دیا ہوا ہے ! خدا نے کچھ نہیں دیا ! (العیاذ باللہ) اچھا چند روز مزے اڑالے، آگے چل کر معلوم ہوجائے گا کہ اس کفر اور ناشکری کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ اگر آدمیت ہوتی تو سمجھتا کہ اس کا ضمیر جس خدا کو سختی اور مصیبت کے وقت پکار رہا تھا وہ ہی اس لائق ہے کہ ہمہ وقت یاد رکھا جائے۔
Ayah 30:35

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

کیا ہم نے ان پر اتاری ہے کوئی سند سو وہ بول رہی ہے جو یہ شریک بتاتے ہیں2

2 یعنی عقل سلیم اور فطرت انسانی کی شہادت شرک کو صاف طور پر رد کرتی ہے تو کیا اس کے خلاف وہ کوئی حجت اور سند رکھتے ہیں، جو بتلاتی ہو کہ خدا کی خدائی میں دوسرے بھی اس کے شریک ہیں (معاذاللہ) اگر نہیں تو انھیں معبود بننے کا استحقاق کہاں سے ہوا۔
Ayah 30:36

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

اور جب چکھائیں ہم لوگوں کو کچھ مہربانی اس پر پھولے نہیں سماتی اور اگر آپڑے ان پر کچھ برائی اپنے ہاتھوں کے بھیجے ہوئے پر تو آس توڑ بیٹھیں3

3 یعنی ان لوگوں کی حالت عجیب ہے۔ جب اللہ کی مہربانی اور احسان سے عیش میں ہوں تو پھولے نہ سمائیں ایسے اترانے لگیں اور آپے سے باہر ہوجائیں کہ محسن حقیقی کو بھی یاد نہ رکھیں۔ اور کسی وقت شامت اعمال کی بدولت مصیبت کا کوڑا پڑا تو بالکل آس توڑ کر اور ناامید ہو کر بیٹھ رہیں۔ گویا اب کوئی نہیں جو مصیبت کے دور کرنے پر قادر ہو۔ مومن کا حال اس کے برعکس ہوتا ہے۔ وہ عیش و راحت میں منعم حقیقی کو یاد رکھتا ہے۔ اس کے فضل و رحمت پر خوش ہو کر زبان و دل سے شکر ادا کرتا ہے اور مصیبت میں پھنس جائے تو صبر و تحمل کے ساتھ اللہ سے مدد مانگتا ہے۔ اور امید رکھتا ہے کہ کتنی ہی سخت مصیبت ہو اور ظاہری اسباب کتنے ہی مخالف ہوں اس کے فضل سے سب فضا بدل جائے گی۔ (تنبیہ) ایک آیت پہلے فرمایا تھا کہ " لوگ سختی کے وقت خالص خدا کو پکارنے لگتے ہیں۔ " یہاں فرمایا کہ " برائی پہنچتی ہے تو آس توڑ کر بیٹھ رہتے ہیں۔ " دونوں میں کچھ اختلاف نہیں۔ پہلی حالت یعنی خدا کو پکارنا، ابتدائی منزل ہے۔ پھر جب مصیبت اور سختی میں امتداد ہوتا ہے تو آخر گھبرا کر ناامید ہوجاتا ہے یا بعض لوگوں کا وہ حال ہو بعض کا یہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayah 30:37

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھ چکے کہ اللہ پھیلا دیتا ہے روزی کو جس پر چاہے اور ناپ کردیتا جس کو چاہے اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں4

4 یعنی ایمان و یقین والے سمجھتے ہیں کہ دنیا کی سختی نرمی اور روزی کا بڑھانا گھٹانا سب اسی رب قدیر کے ہاتھ میں ہے۔ لہذا جو حال آئے بندہ کو صبر و شکر سے رضا بقضا رہنا چاہئے۔ نعمت کے وقت شکر گزار رہے، اور ڈرتا رہے کہیں چھن نہ جائے اور سختی کے وقت صبر کرے اور امید رکھے کہ حق تعالیٰ اپنے فضل و عنایت سے سختیوں کو دور فرما دے گا۔
Ayah 30:38

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

سو تو دے قرابت والے کو اس کا حق اور محتاج کو اور مسافر کو یہ بہتر ہے ان کے لیے جو چاہتے ہیں اللہ کا منہ اور وہی ہیں جن کا بھلا ہے5

5 یعنی جب فطرت کی شہادت سے ثابت ہوگیا کہ حقیقی مالک و رب وہ ہی اللہ ہے۔ دنیا کی نعمتیں سب اسی کی عطا کی ہوئی ہیں۔ تو جو لوگ اس کے دئیے ہوئے میں سے خرچ کریں۔ مسافر، محتاج اور غریب رشتہ داروں کی خبر لیں، اہل قرابت کے حقوق درجہ بدرجہ ادا کرتے رہیں۔ ایسے ہی بندوں کو دنیا و آخرت کی بھلائی نصیب ہوگی۔
Ayah 30:39

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

اور جو دیتے ہو بیاج پر کہ بڑھتا رہے لوگوں کے مال میں سو وہ نہیں بڑھتا اللہ کے یہاں اور جو دیتے ہو پاک دل سے چاہ کر رضامندی اللہ کی سو یہ وہی ہیں جن کے دونے ہوئے6

6 یعنی سود بیاج سے گو بظاہر مال بڑھتا دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں گھٹ رہا ہے جیسے کسی آدمی کا بدن ورم سے پھول جائے وہ بیماری یا پیام موت ہے اور زکوٰۃ نکالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مال کم ہوگا فی الحقیقت وہ بڑھتا ہے جیسے کسی مریض کا بدن مسہل و تنقیہ سے گھٹتا دکھائی دے مگر انجام اس کا صحت ہو۔ سود اور زکوٰۃ کا حال بھی انجام کے اعتبار سے ایسا ہی سمجھ لو۔ (يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ ) 2 ۔ البقرۃ :276) حدیث میں ہے کہ ایک کھجور جو مومن صدقہ کرے قیامت کے دن بڑھ کر پہاڑ کے برابر نظر آئے گی۔ (تنبیہ) بعض مفسرین نے " ربا " سے یہاں سود بیاج مراد نہیں لیا۔ بلکہ آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جو آدمی کسی کو کچھ دے اس غرض سے کہ دوسرا اس سے بڑھ کر احسان کا بدلہ کرے گا تو یہ دینا اللہ کے ہاں موجب برکت ثواب نہیں۔ گو مباح ہو۔ اور پیغمبر ﷺ کے حق میں تو مباح بھی نہیں۔ کقولہ تعالیٰ ۔ (وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ ) 74 ۔ المدثر :6) واللہ اعلم۔
Ayah 30:40

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جس نے تم کو بنایا پھر تم کو روزی دی پھر تم کو مارتا ہے پھر تم کو جلائے گا کوئی ہے تمہارے شریکوں میں جو کرسکے ان کاموں میں سے ایک کام وہ نرالا ہے اور بہت اوپر ہے اس سے کہ شریک بتلاتے ہیں7

7 یعنی مارنا جلانا، روزی دینا، سب کام تو تنہا اس کے قبضہ میں ہوئے۔ پھر دوسرے شریک کدھر سے آکر الوہیت کے مستحق بن گئے۔