30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 30:1
1۔ احمد والترمذی وحسنہ والنسائی وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والکبیر والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل والضیاء نے ابن عباس ؓ سے آیت الم، علبت الروم، کے بارے میں روایت کیا کہ مشرکین یہ پسند کرتے تھے کہ فارس والے روم پر غالب آئیں کیونکہ وہ بتوں کی پوجا کرنے والے تھے اور مسلمان یہ پسند کرتے تھے کہ روم والے فارس والوں پر غالب آئیں کیو کہ وہ اہل کتاب تھے مشرکین نے اس کا ذکر ابوبکر ؓ سے کیا اور ابوبکر نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبردار عنقریب رومی غالب آجائیں گے ابوبکر نے ان مشرکین سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان ایک مدت مقرر کرو اگر ہم غالب آئے تو ہمارے لیے اتنا اور اتنا ہوگا اور اگر تم غالب آئے تو تمہارے لیے اتنا اور اتنا ہوگا تو انہوں نے آپس میں پانچ سال کی مدد مقرر کرلی مگر رومی غالب نہ آسکے اس بات کو ابوبکر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا آپ نے فرمایا تو نے وہ مدت مقرر کیوں نہ کی جو میری رائے تھی فرمایا دس سال سے کم مدت اس کے بعد رومی غالب آگئے اسی کو فرمایا آیت الم، غلب الروم، یعنی رومی مغلوب ہوئے پھر وہ غالب آگئے اللہ تعلایٰ فرماتے ہیں آیت للہ الامر من قبل ومن بعد، ویومئذ یفرح المومنون۔ یعنی پہلے پیچھے اللہ ہی کا حکم چلتا ہے اور اس اللہ کی مدد سے مومن خوش ہوں گے سفیان نے کہا میں نے یہ بات سنی ہے کہ رومی غزوہ بدر کے دن فارس والوں پر غالب آگئے۔
Ayahs 30:2–6

غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader

روم والے زمین کے قریب والے حصے میں مغلوب ہوگئے

فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader

اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب چند سال میں غالب ہوجائیں گے

فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader

اللہ ہی کے لیے اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی اور ایمان والے اس دن خوش ہوں گے

بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader

اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ مدد فرماتا ہے جس کی چاہے اور وہ زبردست ہے رحمت والا ہے

وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader

اللہ نے وعدہ فرمایا ہے اللہ اپنے وعدہ کو خلاف نہیں فرماتا اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

فارس اور روم کی جنگ 2۔ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ فارس والے روم والوں پر غالب آگئے اور مشرکین یہ پسند کرتے تھے کہ فارس والے، روم والوں پر غالب آئیں اور مسلمان یہ پسند کرتے تھے کہ روم والے فارس والوں پر غالب آئیں کیونکہ وہ اہل کتاب تھے اور وہ ان کے دین کی طرف زیادہ قریب تھے جب یہ آیت نازل ہوئی آلم، غلب الروم، فی ادنی الارض وہم من بعد غلبہم سیغلبون فی بضع سنین، یعنی رومی مغلوب ہوگئے قریب زمین میں اور ان کے غلبہ کے بعد عنقریب غالب ہوں گے چند سالوں میں تو مشرکین نے کہا اے ابوبکر تیرا ساتھی کہتا ہے کہ رومی غالب آجائیں گے فارس والوں پر چند سالوں میں ابوبکر نے کہا آپ نے سچ فرمایا تو ان لوگوں نے کہا کیا تجھے یہ پسند ہے کہ ہم تیرے ساتھ اس بات پر جوا کھیلیں یعنی شرط لگائیں تو انہوں نے ان سے چار جوان اونٹنیوں پر سات سال کے لیے معاہدہ کیا کہ سات سال تک اگر رومی غالب آگئے تو ہم دیں گے اور غالب نہ آئے تو تم دوگے مگر سات سال گزر گئے اور کچھ بھی نہ ہوا اس سے مشرکین خوش ہوئے اور مسلمانوں پر یہ معاملہ بھاری گزر ا نبی ﷺ کو یہ بات زکر کی گئی تو آپ نے فرمایا تمہارے نزدیک بضع کتنے سال کا ہوتا ہے تو عرض کیا کہ دس سے کم فرمایا جاؤ ان کو مال زیادہ کرو اور مدت میں بھی دو سال زیادہ کر دو راوی نے کہا کہ ابھی دو سال نہیں گزرے تھے یہاں تک کہ دو سوا روم والوں کے فارس والوں پر غلبہ کی خبر لے کر آئے ایمان والے لوگ اس سے خوش ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت الم، غلب الروم، سے لے کر آیت وعداللہ لایخلف اللہ وعدہ تک یعنی کا وعدہ سچا ہے اللہ تعالیٰ وعدہ کی خلاف ورزی نہیں فرماتے۔ 3۔ ابو یعلی وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابن عساکر نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت الم، غلبت الروم، نازل ہوئی تو مشرکوں نے ابوبکر ؓ سے کہا کیا تو نے نہیں دیکھا جو تیرا ساتھی یعنی محمد ﷺ کہتا ہے اور وہ گمان رکھتا ہے کہ رومی فارس والوں پر غالب آجائیں گے ابوبکر نے کہا کہ میرے ساتھی نے سچ فرمایا انہوں نے کہا کیا تو پسند کرتا ہے کہ ہم تیرے ساتھ شرط لگائیں۔ تو ابوبکر ؓ نے اپنے اور ان کے درمیان ایک مدت مقرر کردی ابھی روم والے غالب نہیں آئے تھے مدت ختم ہوگئی یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو آپ کو اس سے دکھ ہوا۔ اور اس کو ناپسند فرمایا اور ابوبکر ؓ سے فرمایا کس چیز نے تجھے اس کی طرف دعوت دی عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق کرنے کے لیے آپ نے فرمایا اسے مہلت اور شرط میں اضافہ کردو اور مدت نو سال تک بڑھا دو ابوبکر ؓ اس کے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا کہ تمہیں دوبارہ شرط لگانے میں دلچسپی ہے جبکہ دوسری شرط پہلی شرط سے بہتر ہوگی۔ انہوں نے کہا ہاں ابھی وہ سال نہ گزرے تھے کہ رومی غالب آگئے فارس والوں پر اور انہوں نے گھوڑوں کو مدائن میں باندھ دیا اور رومیہ کا شہر بنایا ابوبکر نے وہ شرط کا مال لیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حرام کی کمائی ہے اس کو صدقہ کردو۔ فارس ابتداء میں روم پر غالب تھے 4۔ الترمذی وصححہ والدارقطنی فی الفراد والبطرانی وابن مردویہ و ابونعیم فی الدلائل والبیہقی والشعب الایمان یسار بن مکرم السلمی (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت الم، غلبت الروم، نازل ہوئی تو ان دنوں فارس والے روم والوں پر غالب تھے اور مسلمان رومیوں کے غالب ہونے کو پسند کرتے تھے کیو کہ وہ اہل کتاب تھے اور اسی بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت ویومئذ یفرح المومنون، بنصر اللہ یعنی اس دن مومن خوش ہوں گے اللہ کی مدد کے ساتھ اور قریش فارس والوں کے غلبہ کو پسند کرتے تھے کیونکہ وہ اہل کتاب نہیں تھے اور نہ وہ قیامت پر ایمان رکھتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تو ابوبکر ؓ مکہ میں یہ آیت الم، غلب الروم فی ادنی الارض وہم من بعد غلبہم سیغلبون فی بضع سنین بلدن آواز سے پڑھنے لگے قریش میں سے کچھ لوگوں نے ابوبکر ؓ سے کہا یہ ہمارے اور تمہارے درمیان شرط ہے تمہارا ساتھی محمد ﷺ یہ گمان کرتا ہے کہ روم والے عنقریب فارس والوں پر غالب آئیں گے چند سالوں میں انہوں نے کہا ہم اس پر کوئی چیز لازم نہ کرلیں ابوبکر ؓ نے فرمایا کیوں نہیں اور یہ شرط کے حرام ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے ابوبکر ؓ نہ نے مشرکین سے شرط لگائی اور عوض کے طور پر کوئی چیز مقرر کردی اور انہوں نے ابوبکر ؓ سے کہا کہ بضع کو نہ تین سال اور نہ نو سال معین کرو اور ہمارے اپنے درمیان کوئی درمیانی مدت مقرر کردو جس پر جاکر یہ مدت ختم ہوجائے انہوں نے آپس میں چھ سال مقرر کردئیے رومیوں کے غلبہ پانے سے پہلے چھ سال گزر گئے تو مشرکین سے ابوبکر ؓ نے شرط کا مال لے لیا جب ساتواں سال داخل ہوا تو روم والے فارس والوں پر غالب آگئے تو مسلمانوں نے ابوبکر کو چھ سال مقرر کرنے پر عیب لگایا تو ابوبکر صدیق ؓ نہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت فی بضع سنین یعنی چند سلوں میں تو اس موقع پر بہت لوگ مسلمان ہوگئے۔ 5۔ الترمذی وحسنہ وابن جریر وابن مردوی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر رجی اللہ عنہ سے فرمایا جب یہ آیت الم، غلبت الروم نازل ہوئی کیا بضع دس سے کم پر غالب طور پر استعمال نہیں ہوتا۔ 6۔ ابن عبدالحکیم نے فتوح مصر میں وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل وابن عساکر نے ابن شہاب زہری (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی کہ مشرکین مسلمانوں سے جھگڑا کرتے تھے اور مسلمان مکہ میں تھے مشرکین کہتے تھے رومی اہل کتاب ہیں اور ان پر فارس والے غالب آچکے ہیں اور تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم عنقریب غالب آجاؤ گے اس کتاب کے باعث جو تمہارے نبی پر اتاری گئی اور عنقریب ہم غالب ہوں گے تم پر جیسے فارس والے غالب ہوئے روم والوں پر تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت الم، غلبت الرو، اتاری۔ ابن شہاب (رح) سیر وایت کیا کہ مجھے عبیدا للہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ جب یہ دو آیتیں نازل ہوئیں تو ابوبکر نے بعض مشرکین سے شرط لگائی ابھی جو احرام نہیں تھا کہ وہ کسی چیز پر شرط لگالیں اگر مراد چند سالوں میں کامیاب نہ ہوئے تو یہ دوں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو نے ایسا کیوں کیا دس سال سے کم بعض ہوتا ہے روم والوں پر فارس والے سات سال غالب رہے پھر اللہ تعالیٰ نے روم والوں کو فتح عطا فرمایا حدیبیہ کے زمانہ میں تو مسلمان اہل کتاب کے غالب آنے کی وجہ سے خوش ہوئے۔ 7۔ الترمذی وحسنہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ بدر کے دن رومی فارس پر غالب ہوئے اور اس سے مومن خوش ہوئے یہ آیت الم، غلب الروم نازل ہوئے اس کو نصب کے ساتھ پڑھا، ویومئذ یفرح المومنون بنصر اللہ تک راوی نے فرمایا کہ مومن خوش ہوئے فارس پر روم کے غلبہ کی وجہ سے ترمذی (رح) سے فرمایا اسی طرح پڑھا ہے آیت غلبت۔ 8۔ ابن جریر وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل وابن عساکر نے عطیہ عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ نے الم۔ غلبت الروم۔ کے بارے میں فرمایا کہ یہ واقعہ گزر چکا ہے کہ اہل فارس اور رومیوں نے واقعہ ہوا تھا فارس والے رومیوں پر غالب آگئے تھے پھر اس کے بعد رومی غالب آگئے رسول اللہ ﷺ نے عرب کے مشرکین کے ساتھ جنگ کی اور رومیوں کی فارس والوں کے ساتھ جنگ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ اور مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ عرب کے مشرکین پر اور عجم کے خلاف اہل کتاب کی مدد فرمائی عطیہ نے کہا اور میں نے ابو سعید خدری سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مشرکین عرب میں جنگ کی اور وم اور فارس والوں نے بھی آپس میں جنگ کی ہم عرب کے مشرکین پر غالب رہے جبکہ اہل کتاب مجوسیوں پر غالب رہے اور ہم خوش ہوئے اللہ نے ہماری مدد کی مشرکین کے خلاف اور ہم خوش ہوئے اہل کتاب نے مجوسیوں کے خلاف ہماری مدد کی اسی کو فرمایا آیت ویومئذ یفرح المومنون بنصر اللہ۔ اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے اللہ کی مدد کی وجہ سے۔ 9۔ ابن جریر وابن ابی حاتم والبیہقی نے قتادہ (رح) سے آیت الم، غلبت الروم، فی ادنی الارض کے بارے میں روایت کیا کہ فارس والے شامیوں پر غالب آگئے آیت وہم من بعد غلبہم سیغلبون اور وہ عنقریب ان پر غالب ہوں گے اس کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے آیات کو نازل فرمایا تو مسلمانوں نے اپنے رب کی تصدیق کی اور انہوں نے پہچان لیا کہ روم والے عنقریب غالب ہوں گے فارس والوں پر اور مسلمانوں اور مشرکین نے اپنچ اونٹنیوں پر شرط لگائی آپس میں پانچ سال کی مدت مقرر کردی مسلمانوں کی طرف سے ابوبکر ؓ اس جوئے کے ذمہ دار بنائے گئے اور مشرکین کی طرف سے ابی بن حلف اس جوئے کے مال کے ذمہ دار بنائے گئے اور یہ واقعہ جوئے کے منع ہونے سے پہلے کا ہے جب مدت آئی یعنی پوری ہوگئی اور روم کا فارس پر غلبہ نہ ہوا تو مشرکین نے اپنے جوئے کے مال کا مطالبہ کیا۔ یہ بات نبی ﷺ کے اصحاب نے نبی ﷺ کو بتائی تو آپ نے فرمایا تم نے ایسا کیوں نہیں کیا کہ تم دس سال سے کم کی مدت مقرر کرتے کیونکہ بضع کا اطلاق تین سے دس سال تک کے عدد پر ہوتا ہے ان میں شرط اور مدت دونوں کو بڑٓ دو اللہ تعالیٰ نے ساتویں سال کے اختتام پر روم والوں کو فارس والوں پر غالب کردیا یہ سات سال اسی مدت سے ہے جب سے پہلے شرط باندھی گئی تھی اور یہ واقعہ ہو جب مسلمان صلح حدیبیہ سے واپس ارہے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ بھی اسلام کو قوت عطا فرمائی اور یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ویومئذ یفرح المومنون بنصر اللہ کہ اس دن ایمان والے اللہ کی مدد کے ساتھ خوش ہوں گے۔ 10۔ ابن ابی حاتم ولابیہقی زبیر کلابی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے فارس کو روم پر غالب آتے ہوئے دیکھا پھر روم والوں کو فارس والوں پر غالب آتے ہوئے دیکھا میں نے مسلمانوں کا فارس اور روم پر غالب آتے ہوئے دیکھا اور شام اور عراق پر بھی مسلمانوں کو غالب آتے ہوئے اور یہ سارا کام پندرہ سالوں میں ہوا۔ 11۔ الحاکم وصححہ ابودرداء رجی اللہ عنہ سے روای کیا کہ عنقریب ایسے لوگ ہوں گے آیت غلبت الروم پڑھیں گے حالانکہ یہ آیت غلبت الروم ہے 12۔ ابن مردویہ نے عبدالرحمن بن غنم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے معاذ بن جبل ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت الم۔ غلب الروم کے بارے میں پوچھا کہ یہ آیت الم۔ غلبت الروم ہے۔ 13۔ ابن عبدالحکم نے فتوح مصر میں وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الم غلبت الروم سے مارد ہے کہ پہلے فارس والے غالب ہوگئے پھر روم والے فارس پر غالب ہوگئے فی ادنی الارض سے مراد شام ہے۔ 14۔ الطبرانی الاسط میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بضع سات اور دس تک کے درمیان ہے۔ 15۔ الطبرانی نے الاوسط میں وابن مردویہ نے نیاز بن مکرم رضیج اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آیت بضع تین سے نو تک کے درمیان ہے۔ 16۔ ابن عبدالحکم نے فتوح مصر میں ابراہیم بن سعد کے طریق سے ابوالحویرث ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بضع سے مراد ہے جو پانچ سے سات تک کے درمیان ہو۔ 17۔ ابن عبدالحکم نے الکلبی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ البضع سے مراد ہیں سات سال 18۔ ابن جریر نے مجاہ درحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ الم، غلبت الروم سے لے کر آیت ولکن اکثر الناس لایعلمون۔ تک کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فارس والوں پر رومیوں پر غلبہ کا ذکر کیا پھر رومیوں کے عنقریب غلبہ کا ذکر فرمایا۔ مسلمانوں کو تسلی دی گئی 19۔ ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ روم اور فارس آپس میں لڑتے قریب زمین میں اور فرمایا کہ ادنی الارض سے مراد ارزعات ہے دونوں آپ میں لڑے اور روم والے شکست کھاگئے یہ خبر نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب کو پہنچی اور وہ مکہ میں تھے تو یہ خبر مسلمانوں پر بھاری گزری اور نبی صلی اللہ علیہ مجوس میں سے ان پڑھوں کے غلبہ کو ناپسند فرماتے تھے رومیوں اہل کتاب پر اور کفار مکہ خوش ہوتے اور انہوں نے مسلمانوں کو برابھلا کہا وہ لوگ نبی ﷺ کے اصحاب کو ملے اور کہنے لگے کہ تم اہل کتاب ہو اور نصاریٰ بھی اہل کتاب ہیں ہمارے بھائی اہل فارس میں سے غالب آچکے ہیں تمہارے بھائی اہل کتاب پر اور اگر تم ہم سے لڑو گے تو ہم بھی تم پر غالب آجائیں گے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت الم، غلبت الروم، اس آیت کے اترنے کے بعد ابوبکر صدیق کافروں کی طرف نکلے اور فرمایا کہ تم خوش نہ ہو اپنے بھائیوں کے غالب آنے ہمارے بھائیوں پر اللہ تعالیٰ تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈا نہیں کرے گا۔ اللہ کی قسم روم والے فارس والوں پر ضرور غالب ہوں گے اس بات کی خبر دی ہے ہمارے نبی ﷺ نے ابی بن خلف ان کی طرف کھڑے ہوئے اور کہا تو نے جھوٹ کہا ابوبکر نے ان سے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو زیادہ جھوٹ بولنے والا ہے اس نے کہا میں اس بات کو پسند کرتا ہوں دس اونٹنیا میری طرف سے ہوں اور دس اونٹنیاں تیری طرف سے ہوں اگر روم والے فارس پر غالب آگئے تو میں جرمانہ دوں گا اور اگر فارس والے غالب آگئے تو تو تو جرمانہ دے گا تین سال مدت مقرر ہے ابوبکر نبی ﷺ کے پاس تشریف لائے اور یہ واقعہ سنایا آپ نے فرمایا کہ تو نے اس طرح تو نہیں کہا تھا بضع تین سال سے نو سال کے عرصہ کو کہتے ہیں شرط کی مقدار میں اضافہ کرو۔ اور مدت کو بھی بڑھا دو ابوبکر باہر نکلے اور اس سے ملے اس نے کہا شاید تو نادم ہے شرط لگانے پر ابوبکر نے فرمایا نہیں اور فرمایا آؤ ہم مقدار میں اضافہ کریں اور مدت کو لمباکریں سو اونٹنیاں اور نو سال کا عرصہ کردو۔ یہ ابی بن خلف نے کہا میں نے ایسا کرلیا۔ 20۔ ابن جریر نے سلیط (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عمر ؓ کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا آیت الم۔ غلبت الروم تو ان سے پوچھا گیا اے ابو عبدالرحمن یہ ان کی کنیت ہے کس علاقہ میں وہ مغلوب ہوئے تھے فرمایا شام کیک سرسبز و شاداب علاقہ میں۔ 21۔ ابن جریر نے ابن جریج (رح) نے آیت للہ المر من قبل کے بارے میں روایت کیا کہ رومیوں پر جو فارس والوں کا غلبہ حاصل ہوا اور بعد میں رومیوں کو فارس والوں پر جو غلبہ حاصل ہوا وہ سب اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔
Ayahs 30:7–13

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader

یہ لوگ دنیا والی زندگی کے ظاہر کو جانتے ہیں اور وہ آخرت سے غافل ہیں

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے نفسوں میں غور نہیں کیا، اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا نہیں فرمایا مگر حق کے ساتھ اور ایک معینہ مدت تک اور بلاشبہ بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھرے سو دیکھ لیتے کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے، وہ لوگ قوت کے اعتبار سے ان سے بڑھے ہوئے تھے اور انہوں نے زمین کو بویا جوتا اور اس سے زیادہ آباد کیا جتنا ان لوگوں نے آباد کیا ہے اور ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں لے کر آئے سو اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا اور لیکن وہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے برے کام کیے ان لوگوں کا برا انجام ہوا اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور وہ ان کا مذاق بناتے تھے

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader

اللہ مخلوق کو ابتداء پیدا فرماتا ہے پھر اسے دوبارہ پیدا فرمائے گا پھر تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader

اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرمین نامید ہو کر رہ جائیں گے

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader

اور ان کے شرکاء میں سے کوئی بھی سفارش کرنے والا نہ ہوگا اور وہ اپنے شرکاء کے منکر ہوں گے

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے آیت یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ صرف معیشت کے ذرائع کو جانتے ہیں کہ وہ کب درخت لگائیں کب فصل بوئیں اور کب وہ کھیتی کو کاٹیں گے اور یہ آخرت سے غافل ہیں۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ دنیا کی آباد کاری کو جانتے ہیں اور وہ آخرت کے معاملات سے جاہل ہیں۔ 3۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر نے وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت یعلمون ظاہر من الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ اپنی تجارت کو اپنے حرفہ کو اور اپنی خریدو فروخت کو جانتے ہیں اور آخرت سے غافل ہیں۔ 4۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا سے مراد ہے کہ وہ لوگ اپنی معیشت اور مصالح کو خوب جانتے ہیں صرف ان کو ہی جانتے ہیں۔ 5۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جو دنیا کے معاملات کی سمجھ بوجھ رکھتا ہے دوسروں تک یہ بات پہنچاتا کہ وہ ناخن پر درہم کو الٹ پلٹ کرتا ہے وہ تجھے وزن کی خبر دیتا ہے اور اچھی طرح نماز نہیں پڑھتا۔ 6۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے آیت کانو اشد منہم قوۃ کے بارے میں روایت کیا کہ جو تم سے پہلے لوگ تھے ان کے کندھوں کے درمیان ایک میل کا فاصلہ تھا۔ 7۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد رحمۃ اللہ عیہ سے روایت کیا کہ آیت واثارو الارض سے مراد ہے کہ انہوں نے زمین میں کھیتی اگائی۔ 8 ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت واثاروالارض سے مراد ہے کہ انہوں نے باغات اگائے نہریں بنائیں اور کھیتیاں کاشت کیں آیت وعمروہا اکثر مما عمروہا یعنی ان سے زیادہ زمین کو آباد کیا وہ اس میں زیادہ عرصہ رہے جتنا عرصہ تم اس میں رہے۔ 9۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ثم کان عاقبۃ الذین اساء و السواٰی سے مراد ہے جنہوں نے کفر کیا ان کی سزا عذاب ہے 10۔ الفریابی وابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آیت السویٰی سے مراد ہے گناہگاروں کی جزاء۔ 11۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یبلس سے مراد ہے کہ وہ مایوو ہوتے ہیں اللہ کی رحمت سے 12۔ الفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یبلس سے مراد ہے وہ غمگین ہوتا ہے۔ 13 الفریابی وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یبلس یعنی وہ غمگین ہوتا ہے۔ 14۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اللہ یبدؤ ا سے مراد ہے رسوائی۔
Ayahs 30:14–16

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader

اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن لوگ متفرق حالتوں میں ہوگے

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader

سو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہ باغ میں مسرور ہوں گے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا سو یہ لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویتب تقوم الساعۃ یومئذ یتفرقون یعنی جس دن قیامت قائم ہوگی اور ایسا افتراق ہوگا کہ اس کے بعد وہ اکٹھے نہیں ہوں گے۔ ل 2۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے آیت یومئذ یتفرقون کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ یعنی جنتی لوگ علیین میں ہوں گے اور یہ لوگ یعنی دوزخی لوگ اسفل السلافلین میں ہوں گے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے آیت فی روضۃ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے جنت کے باغ 4۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے آیت فی روضۃ یحبرون کے بارے میں فرمایا کہ ان کی جنت میں عزت کی جائے گی 5۔ ابن جریر وابن المنذرنے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فی روضۃ یحبرون سے مراد ہے کہ ان کی جنت میں عزت کی جائے۔ 6۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یحبرون سے مراد ہے کہ ان پر انعام کیا جائے۔ 7۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وہناد بن السری وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی فی البعث والخطیب نے اپنی تاریخ میں یحییٰ بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت فی روضۃ یحبرون سے مراد ہے کہ ان کے یے جنت میں سماع کی لزت ہوگی۔ 8۔ عبد بن حمید نے یحییٰ بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت یحبرون کے بارے میں پوچھا گیا یا رسول اللہ حبر سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا لزت اور سماع۔ 9۔ ابن عساکر نے اوزاعی (رح) سے روایت کیا ہے کہ آیت فی روضۃ یحبرون کے بارے میں روایت کیا کہ اسے مراد سماع ہے جب جنت والے ارادہ کریں گے کہ وہ خوش ہوں تو اللہ تعالیٰ ہواؤں کو حکم دیں گے جن کو ہفافہ کہا جاتا ہے تو وہ ہوا ان جنگلوں میں داخل ہوجائے گی جو موتیوں کے تربانسوں کے ہوں گے وہ ان کو حرکت دے گی وہ ان کو ایک دوسرے کو مارے گی تو جنت وجد میں آجائے گی جب یہ وجد میں آئے گی تو جنت میں کوئی درخت باقی نہیں رہے گا جو جھومتا نہ ہو۔ 10۔ ابن ابی شیبہ وہناد وابن جریر والبیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ جنت میں بھی سماع ہوگا فرمایا کہ اس میں ایک ایک درخت ہے جس کو قیض کہا جاتا ہے اس کا ایسا سماع ہوگا جیسا سماع کسی نے نہ سنا ہوگا۔ 11۔ ابن ابی الدنیا نے ذم الملاہی میں الاصبہانی نے الترغیب میں محمد بن المنکدر (رح) سے روایت کیا جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک آواز دینے والا آواز دے گا وہ لوگ کہا ہیں جو اپنی آوازوں اور کانوں کو لہو ولعب اور شیاطین کے آلات سے دور رکھتے تھے ان کو ٹھہرایا جائے گا مشک کے باغات میں پھر اللہ فرشتوں سے فرمائیں گے کہ میرے بندوں کو میری حمد اور میری تعریف سناؤ اور ان کو بتادو کہ ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ 12۔ الدینوری نے المجالسہ میں مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ ایک آواز دینے والا قیامت کے دن آواز دے گا وہ لوگ کہاں ہیں جو اپنی آوازوں کو اور اپنے کانوں کو لہو ولعت اور شیطان کے آلات موسیقی سے دور رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کو مشک کی ریاض الجنۃ میں اٹھالیں گے اور فرشتوں سے فرمائیں گے میرے بندوں کو میری حمد اور میری شان سناؤ اور ان کو خبردے دو کہ ان میں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ گانا سننے سے پرہیز کرنے والوں کے لیے بشارت 13۔ الدیلمی نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے وہ لوگ کہاں ہیں کہ جو اپنے مالوں کو اپنی آنکھوں کو شیطان کے آلات موسیقی سے دور رکھتے ہیں ان کو الگ کردو ان کو مشک اور عنبر کی کتابوں میں الگ کردیا جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائیں گے ان کو میری تسبیح میری تحمید اور میری تہلیل سناؤ تو وہ فرشتے ایسی آوازوں سے اللہ کی تسبیح بیان کریں گے کہ اس جیسی سننے والوں نے کبھی نہ سنی ہوگی۔ 14۔ ابن ابی الدنیا والضیاء فی المقدسی کلاہما فی صفۃ الجنۃ صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جنت میں ایک درخت ہے کہ اس کا تنا اتنا بڑا ہے کہ ایک تیر سوار اس کے سائے کے نیچے سو سال تک چلتا رہا جنت والے اور بالاخانوں والے اور ان کے علاوہ دوسرے جنتی لوگ باہر نکلیں گے اور اس کے سائے میں بیٹھ کر باتیں کریں گے ان میں سے بعض لوگ خواہش کریں گے اور دنیا کے لہو ولعب کا ذکر کریں گے۔ تو اللہ تعالیٰ جنت میں سے ایک ہوا کو بھیجیں گے تو وہ درخت دنیا کے ہر لہو ولعب کے ساتھ حرکت کرے گا 15۔ ابن ابی شیبہ نے ابن سابط ؓ سے روایت کیا کہ جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ جو اچھی آواز اللہ نے پیدا فرمائی وہ اس میں ہوگی وہ جنتیوں کو لذت اور سرور بخشے گی۔ 16۔ الکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یارسول اللہ ! میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ اچھی آواز کو پسند کرتا ہوں کیا جنت میں اچھی آواز ہوگی فرمایا کیوں نہیں اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ اللہ تعالیٰ جنت میں ایک درخت کی طرف وحی فرمائیں گے کہ میرے بندوں کو سناؤ۔ جو دنیا میں آلات لہو ولعب سے محض میری عبادت اور ذکر کی وجہ سے بےنیاز رہے وہ تسبیح اور تقدیس کی ایسی آواز بلند کرے گا کہ اس جیسی مخلوق نے کبھی نہ سنی ہوگی۔ 17۔ الکیم الترمذی نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے دنیا میں گانے بجانے کی آواز سنی تو اس کو جنت میں روحانین کی آواز سننے کی اجازت نہیں دی جائے گ۔ پوچھا کیا یارسول اللہ ! روحانین سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا کہ اہل جنت کے قاری۔ 18۔ الخطیب نے المنذر والتفرق میں سعید بن ابی سعید الحارثی ؓ سے روایت کیا کہ جنت میں بانس کے ایسے جنگل ہیں جن پر موتی لگے ہوئے ہیں اگر جنت والے آواز سننے کی خواہش کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان جنگلوں میں سے ایک ہوا بھیجیں گے وہ جنگل ان پر ایسی آواز ہی لائے گا جن کو وہ چاہیں گے واللہ اعلم۔
Ayahs 30:17–19

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader

سو تم اللہ کی تسبیح بیان کرو شام کے وقت اور صبح کے وقت

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader

اور اسی کے لیے سب تعریف ہے آسمانوں میں اور زمین اور دن کے پچھلے اوقات میں اور دوپہر کے وقت اس کی تسبیح بیان کرو وہ جاندار کو بےجان سے باہر لاتا ہے

یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader

اور بےجان کو جاندار سے نکالتا ہے اور زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندگی بخشتا ہے اور اسی طرح تم نکالے جاؤ گے

1۔ الفریابی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وقت میں سے ادنی وقت صبح اور شام کا ہے پھر یہ آیت پڑھی آیت فسبحن اللہ حین تمسون وحین تصبحون سو تم اللہ کی پاکی بیان کرو شام کے وقت اور صبح کے وقت 2۔ عبدالرزاق والفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ ابو رزین (رح) سے روایت کیا کہ آیت نافع بن ازرق، ابن عباس ؓ کے پاس آئے اور عرض کیا، کیا پانچوں نمازوں کو آپ قرآن میں پاتے ہیں ؟ فرمایا ہاں ! تو یہ آیت تلاوت کی آیت فسبحن اللہ حین تمسون سے مراد ہے مغرب کی نماز آیت وحین تصبحون سے مراد ہے صبح کی نماز آیت وعشیا سے مراد ہے عصر کی نماز آیت وحین تظہرون سے مراد ہے ظہر کی نماز اور یہ بھی پڑھا آیت ومن کفر بعد ذلک فالئک ہم الفسقون۔ پانچوں نمازوں کا ذکر 3۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت نماز کے اوقات کو جامع ہے یعنی آیت فسبحن اللہ حین تمسون سے مراد ہے مغرب اور عشاء آیت وحین تصبحون سے مرد ہے فجر کی نماز آیت وعشیا سے مراد ہے عصر کی نماز۔ آیت وحین تظہرون سے مراد ہے ظہر کی نماز۔ 4۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 5۔ احمد وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن السنی فی عمل یوم ولیلۃ والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی فی الدعوات معاذ بن انس ؓ روایت کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ روایت کرتے ہیں کہ میں تم کو یہ نہ بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا خلیل کیوں بنایا کیونکہ وہ صبح یا شام یہ کہا کرتے تھے آیت فسبحن اللہ حین تمسون وحین تصبحون، ولہ الحمد فی السموت والارض وعشیا وحین تظہرون۔ سو تم اللہ کی پاکی بیان کرو شام کے وقت اور صبح کے وقت اور تمام آسمانوں اور زمین میں اسی کی حمد ہوتی ہے اور پاکی بیان رکو پچھلے پہر ظہر کے وقت۔ 6۔ ابو داوٗد والطبرانی وابن السنی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے صبح کے وقت یوں کہا آیت فسبحن اللہ حین تمسون وحین تصبحون ولہ الحمد فی السموت والارض وعشیا وحین تظہرون سو تم اللہ کی پاکی بیان کرو شام کے وقت اور صبح کے وقت اور تمام آسمانوں اور زمین میں اسی کی حمد ہے اور پاکی بیان کرو پھچلے پہر اور ظہر کے وقت وہ نکالتا ہے زندہ کو مردے سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے اور زندہ کرتا ہے زمین کو اس کی موت کے بعد اور اسی طرح تم کو بھی زندہ کر کے نکالے گا تو اس دن میں جو فوت ہوا اس نے اس کو پالیا اور جس نے رات کے وقت یہ کیا تو رات میں اس سے جو چیز فوت ہوگئی اس نے اس کو پالیا۔ 7۔ ابن مردویہ والخرائطی فی مکام الاخلاق میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے صبح کے وقت ایک ہزار مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ پڑھا تو اس نے اپنی جان کو اللہ کے ہاں بیچ دیا اور اس کا آخری دن آگ سے آزادی کا ہوگا۔ 8۔ ابن ماجہ نے اپنی تفسیر میں وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عمر ؓ نے فرمایا کہ حمد کو ہم نے پہچان لیا کہ مخلوق میں لوگ ایک دوسرے کی تعریف کرتے ہیں اور لا الہ الا اللہ کو بھی ہم نے پہچان لیا کیونکہ اللہ کو چھوڑ کر دوسرے جھوتے معبودوں کی عبادت کی جاتی ہے اور اللہ اکبر کو بھی پہچان لیا کہ نماز پڑھنے والا تکبیر کہتا ہے اور سبحان اللہ وہ کیا ہے ؟ صحابہ میں سے ایک آدمی نے کہا اللہ تعالیٰ ہی زیادہ جاننے والے ہیں حضرت عمر ؓ نے فرمایا عمر بدبخت ہوگیا اور اسے یہ بھی پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ علی ؓ نے فرمایا اے امیر المومنین یہ ایسا اسم ہے جس کا حاصل کرنا مخلوقات پر ممنوع ہے اور اسی کی طرف مخلوق پناہ لیتی ہے اسے سب سے زیادہ پسندیدہ ہے اسے اس نام سے یاد کیا جائے عمر ؓ نے فرمایا وہ اسی طرح ہے۔ 9۔ احمد والحاکم والضیاء نے ابو سعید خدری اور ابوہریرہ ؓ دونوں سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کلام میں سے چار چیزوں کو چن لیا۔ سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر سو جس شخص نے کہا سبحان اللہ اس کے لیے بیس نیکیاں لکھی جائیں گے اور بیس خطائیں مٹا دی جائیں گے اور جس نے اللہ اکبر کہا تو اسی طرح بیس نیکیاں ملیں گی اور بیس خطائیں مٹا دی جائیں گی اور جس نے لا الہ الا اللہ کہا تو اس کے لیے بھی ایسے ہی ہے اور جس نے الحمد للہ رب العالمین کہا اپنے نفس سے اس کے لیے تیس نیکیاں ہوں گی اور تیس گناہ مٹا دئیے جائیں گے۔ 10۔ ابن عساکر نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ جس شخص نے یہ آیات پڑھیں آیت فسبحن اللہ حین تمسون وحین تصبحون آیت کے آخرتک تو نہیں فوت ہوگی اس سے کوئی چیز اس دن میں اور اس رات میں تو وہ پالے گا جو کچھ فوت وا اس کے دن سے یا اس کی رات سے۔
Ayahs 30:20–26

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا فرمایا پھر اچانک تم آدمی بن کر پھیلے ہوئے پھرتے ہو

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader

اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس آرام کرو اور تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی پیدا فرمادی۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو فکر کرتے ہیں

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں کا پیدا فرمانا اور تمہاری بولیوں اور رنگتوں کا مختلف ہونا، بلاشبہ اس میں جاننے والوں کے لیے نشانیاں ہیں

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے تمہارا سونا رات میں اور دن میں اور تمہارا تلاش کرنا ہے اس کے فضل کو، بلاشبہ اس میں نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے جس سے ڈر ہوتا ہے اور امید بھی اور وہ آسمان سے پانی اتارتا ہے پھر اس کے ذریعہ زمین کو زندہ فرما دیتا ہے اس کی موت کے بعد، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہے جو عقل سے کام لیتے ہیں

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جب وہ تم کو پکار کر زمین سے بلائے گا تو تم اسی وقت نکل پڑوگے

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

اور اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کے حکم کے تابع ہیں

اللہ تعالیٰ کی معرفت قدرتی نشانیوں سے ہوگی 1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) نے آیت ومن اٰیتہ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کی قرآن میں نشانیاں ہیں ان کے ذریعہ تم اللہ تعالیٰ کو پہچانتے ہو بلاشبہ تم اس کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے کہ دیکھ کر اس کو پہچان لو لیکن تم اس کو پہچانتے ہو اس کی نشانیوں سے اور اس کی مخلوق سے۔ 2۔ عبد بن حمدی وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت ومن اٰیتہ ان خلقکم من تراب کے بارے مٰ نروایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا آیت ثم اذا انتم بشر تنتشرون پھر تم کچھ ہی مدت کے بعد آدمی بن کر پھیلے ہوئے پھرتے ہو۔ یعنی ان کی اولاد میں سے آیت ومن ایٰتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا اور اس کو نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس سے تمہارے واسطے تمہاری جنس بیویاں بنائیں یعنی حوا کو کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پسلیوں میں سے ایک پسلی سے پیدا کیا۔ 3۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعل بینکم مودۃ سے مراد ہے جماع ورحمۃ سے مراد ہے اولاد (پیدا کردی) 4۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن اٰیتہ ان تقوم السماء والارض سے مراد ہے کہ دونوں ایسی زمین و آسمان اس کے حکم سے قائم ہیں بغیر ستون کے آیت ثم اذا دعا کم دعوۃ من الارض اذا انتم تخرجون پھر جب وہ تم کو بلائے گا تو یکدم تم زمین سے برآمد ہوجاؤ گے یعنی وہ ان کو آسمان سے بلائے گا تو لوگ زمین سے نکل آئیں گے۔ 5۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذا انتم تخرجون یعنی تم اپنی قبروں سے نکلو گے۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے ازہر بن عبداللہ الجزاری (رح) سے روایت کیا کہ اور وہ جب کسی مصیبت زدہ کو دیکھتے تو یہ آیت پڑھتے تھے ومن آیتہ ان تقوم السماء والارض بامرہ ثم اذا دعا کم دعوۃ من الارض اذا انتم تخرجون اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ سنا کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جب وہ تم کو بلائے گا تو ایک دم تم زمین سے برآمد ہوجاؤ گے۔ 7۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کل لہ قنتون سے مراد ہے کہ سب اسکی اطاعت کرنے والے ہیں زنگی دوبارہ اٹھائے جانے موت کے بارے میں حالانکہ اس کے علاوہ وہ عبادت کے معاملے میں وہ اللہ کی نافرمانیاں کرتے ہیں واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayah 30:27

وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader

اور وہی ہے جو مخلوق کو پیدا فرماتا ہے پھر اسے لوٹائے گا اور وہ اس پر زیادہ آسان ہے اور اسی کے لیے شان اعلیٰ ہے آسمانوں میں اور زمین میں، اور وہ عزت والا حکمت والا ہے

1۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن الانباری نے الصاحف میں عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کا مردوں کو زندہ کرنے سے کفار تعجب کرتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی وہوالذی یبدؤو الخلق ثم یعیدہ وہو اہوں علیہ اور وہی ذات ہے جس نے پہلی بات مخلوق کو پیدا فرمایا پھر دوبارہ اس کو پیدا کرے گا اور وہ اس پر آسان ہے یعنی مخلوق کو دوبارہ پیدا کرنا اس پر آسان ہے اس کے پہلا بار پیدا کرنے سے۔ 2۔ آدم بن ابی ایاس والفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن الانبار والبیہقی فی السماء والصفات مجاہد (رح) سے آیت وہوا اہوں علیہ کے بارے میں فرمایا کہ دو بارہ پیدا کرنا یہ زیادہ آسان ہے پہلی بار پیدا کرنے سے اور پہلی بار پیدا کرنا بھی آسان ہے۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وہو اہوں علیہ سے مراد ہے وہ زیادہ آسان ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ کہ ہمارے عقلوں میں ایک چیز کو دوسری چیز کی طرف لوٹانا زیادہ آسان ہے اس سے کہ ایسی چیز کی طرف ابتداء کی جائے جو پہلے نہ تھی۔ 5۔ ابن الانباری نے ابن عباس ؓ سے آیت وہو اہوں علیہ کے بارے میں روایت کیا کہ مخلوق کو دوبارہ پیدا کرنا زیادہ آسان ہے کیونکہ قیامت کے دن فرمائیں گے آیت کن فیکون کے ہوجا پس وہ ہوجائیگی اور مخلوق کی ابتدا کی پیدائش نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں ہوتی ہے۔ 6۔ ابن المنذر نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ یہ چیز مخلوق کا پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے آسان ہے۔ 7۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولہ المثل الاعلی ایسے ہی ہے جیسے فرمایا آیت لیس کمثلہ شیء (الشعراء آیت 11) کہ اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ 8۔ عبدالرزاق وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولہ المثل الاعلی سے مراد ہے کہ لا الہ الا اللہ کی گوہی دی۔ 9۔ ابن جریر ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولہ المثل الاعلی اس کے لیے شان اعلیٰ ہے ایسے ہیں جیسے لا الہ الا اللہ ہے یعنی اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
Ayahs 30:28–29

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader

اللہ نے تمہارے لیے ایک مثال بیان فرمائی جو تمہارے نفسوں کے اندر سے ہے جن کے تم مالک ہو کیا ان میں سے کوئی اس مال میں شریک ہے جو ہم نے تمہیں دیا کہ وہ اور تم اس میں برابر ہو تم ان سے اسی طرح ڈرتے ہو جیسا اپنے نفسوں سے ڈرتے ہو، ہم اسی طرح آیات کو بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader

بلکہ بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے ظلم کیا وہ بغیر علم کے اپنی خواہشوں کا اتباع کرتے ہیں، سو جسے اللہ گمرا کردے اسے کون ہدایت دے گا اور کوئی بھی ان کے لیے مددگار نہ ہوگا

1۔ الطبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین اس طرح تلبیہ کہتے تھے لبیک اللہم لبیک لا شریک لک الا شریک ہو لک تملکہ وما ملک یعنی اے اللہ میرے تیری بارگاہ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے جس کو تو نے شریک کرلیا اور تو اس کا مالک ہے وہ تیرا مالک نہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، آیت ہل لکم من مالکت ایمان من شرکاء کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی غلام اس مال میں شریک ہے جو تم کو دیا ہے۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت ہل لکم من ما ملکت کے بارے میں فرمایا کہ یہ معبودوں میں ہے اور اس بارے میں فرماتے ہیں کہ تم ڈرتے ہو ان سے کہ وہ تمہارے خلاف نہ بن جائے جیسے تمہارا بعض، بعض کا وارث بن جاتا ہے۔ مشرکین کے لیے مثال بیان کرنا 3۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ضرب لکم پوری آیت کے بارے میں فرمایا کہی یہ ایک مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بیان فرمایا اس شکص کے لیے جو کسی چیز کو اس کی مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرتا ہے۔ فرماتے ہیں کی اتم میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو اپنے غلام کو اپنے مال میں سے اپنی جان میں سے اپنے بستر میں اور اپنی بیوی کو شریک کرے کہ تم ذرا بھی اس کی شراکت کو برداشت نہیں کرتے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اس بات کو پسند نہیں فرماتے کہ اس کی مخلوقات میں سے کسی کو اس کا شریک بنائے۔
Ayah 30:30

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

آپ ایک طرف ہو کر اسی دین کی طرف اپنا رخ رکھیے اللہ کی دی ہوئی قابلیت کا اتباع کیجیے جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا فرمایا ہے اللہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں ہے۔ یہ دین قیم ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فطرت اللہ التی فطر الناس علیہا اللہ کی فطرت یعنی دین اسلام کو لازم کرلو جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا فرمایا یعنی فطرت سے مراد ہے دین اسلام آیت لاتبدیل لخلق اللہ یعنی تبدیلی نہیں ہے اللہ کے دین میں۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فطرت اللہ التی فطر الناس علیہا سے مراد ہے اسلام۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آتی فطرت اللہ التی فطر الناس علیہا سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا وہ دین جس پر اپنی مخلوق کو پیدا فرمایا۔ 4۔ الحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں مکحول (رح) سے روایت کیا کہ فطرت سے مراد ہے اللہ کی معرفت۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لاتبدیل لخلق اللہ سے مراد ہے اللہ کا دین آیت ذلک الدین القیم سے مراد ہے کہ یہ مضبوط فیصلہ ہے۔ دین اسلام دین فطرت ہے 6۔ ابن مردویہ نے حماد بن عمر اصفار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے قتادہ (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کو آیت فطرت اللہ التی فطر الناس علیہا کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجھے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آیت فطرت اللہ التی فطر الناس علیہا سے مراد ہے اللہ کا دین۔ 7۔ ابن جریر نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ عمر ؓ نے یوں فرمایا کہ اس امت کا قوام کیا ہے اور معاذ نے فرمایا تین چیزیں ہیں اور وہی نجات دینے والی ہیں اخلاص اور یہ وہ فطرت کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا فرمایا اور نماز بھی ملت اور اطاعت بھی عصمت ہے عمر نے فرمایا تو نے سچ کہا۔ 8۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت لاتبدیل لخلق اللہ سے مراد ہے کہ اللہ کے دین میں کوئی تبدیلی نہیں۔ 9۔ ابن جریرنے عکرمہ و قتادہ وضحاک و ابراہیم وابن زید رحمہم اللہ سے اسی طرح روایت کیا 10۔ البخاری ومسلم وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی بچہ پیدا نہیں ہوتا مگر دین اسلام پر پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنادیتے ہی جسے ایک مادہ سالم جنتی ہے کیا تم اس میں سے کسی چیز کو کٹا ہوا دیکھتے ہو پھر ابوہریرہ نے فرمایا اگر تم چاہو تو یہ آتی پڑھ لو آیت فطرت اللہ التی فطر الناس علیہا آیت لاتبدیل لخلق اللہ ذلک الدین القیم اللہ کی فطرت یعنی دین اسلام کو اپنے اوپر لازم کرلو تو جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا اللہ کی اس پیدا کی ہوئی چیز کو نہ بدلو یہی سیدھا دین ہے۔ 11۔ مالک وابوداوٗد وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر بچہ پیدا کیا جاتا ہے دین فطرت پر پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی بنادیتے ہیں جیسے اونٹنی ایک سالم بچہ کو جنتی ہے کیا تم اس میں سے کوئی عضو کٹا ہوا دیکھتے ہو صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ جو چھوٹے بچے مرجاتے ہیں ان کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ زیادہ جانتے ہیں کہ وہ کیا عمل کرتے ہیں۔ 12۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ واحمد والنسائی والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے اسود بن سریع ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر خیبر کی طرف روانہ فرمایا وہ مشرکین سے لڑے ان سے بچے بھی قتل ہوگئے جب یہ لشکر واپس آیا تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا تم کو بچوں کے قتل کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا تو انہوں نے کہا یارسول اللہ ! کہ وہ مشرکین کی اولاد تھی فرمایا تم میں سے بہترین مشرکین کی اولاد ہیں اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ہر جان فطرت پر پیدا کی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی زبان اس کے بارے میں اظہار کرتی ہے۔
Ayahs 30:31–40

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

اللہ کی طرف رجوع ہو کر اس کی فطرت کا اتباع کرو اور اس سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ ہوجاؤ

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

جنہوں نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور مکتلف گروہ ہوگئے ہرگز وہ اس چیز پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے ربکو پکارتے ہیں اس کی طرف رجوع ہو کر پھ جب اللہ انہیں اپنی رحمت کا کچھ مزہ چکھا دیتا ہے تو اچانک ان میں سے بعض لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں تاکہ وہ اس کے منکر ہوجائیں جو ہم نے انہیں دیا ہے، سو مزے اڑا لو عنقریب جان لوگے

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

کیا ہم نے ان پر کوئی سند نازل کی ہے، سو وہ ان سے اس کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا کچھ مزہ چکھاتے ہیں تو اس پر خوش ہوتے ہیں

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

اور اگر ان کے اعمال بد کی وجہ سے انہیں کوئی مصیبت پہنچ جائے تو اچانک وہ ناامید ہوجاتے ہیں

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ رزق پھیلا دیتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگ کردیتا ہے بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

سو اے مخاطت تو رشتہ دار کو اس کا حق دے دے اور مسکین کو اور مسافر کو یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ کی رضا کے طالب ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہیں

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

اور جو بڑھنے والی چیز تم دو گے تاکہ وہ لوگوں کے مالوں میں شامل ہو کر بڑھ جائے سو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھے گی اور جو بھی زکوٰۃ تم دو گے جس کے ذریعہ اللہ کی رضا چاہتے ہو سو یہ وہ لوگ ہیں جو بڑھانے والے ہیں

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا فرمایا۔ پھر تمہیں رزق دیا۔ پھر تمہیں موت دے گا پھر تمہیں زندہ فرمائے گا کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کرسکے ؟ اللہ ان کے شرک سے پاک ہے اور برتر ہے

1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ منیبین الیہ سے مراد ہے توبہ کرنے والے اس کی طرف 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت من الذین فرقوا دینہم سے یہود و نصاری مراد ہیں آیت ام انزلنا علیہم سلطانا سے مراد ہے کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی کہ جو ان کو اس بات کا حکم دے رہی ہے۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ام انزلنا علیہم سلطنا فہو یتکلم بما کانو بہ یشرکون یعنی کیا ہم نے ان پر کوئی کتاب اتاری ہے جو ان کو شرک کرنے کا کہتی ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاٰت ذالقربی حقہ والمسکین وابن السبیل، دو ان کا حق مسکین کو اور مسافر کو یعنی مہمان کو آیت ذلک خیر للذین یریدون وجہ اللہ واولئک ہم المفلحون یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں یعنی یہی وہ نیکی ہے جسے اللہ تعالیٰ قبول فرماتے ہیں اور اس کا اجر ان کے لیے دس گنا یا اس سے زیادہ عطا فرماتے ہیں۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت وما اٰتیتم من ربا الیربوا کے بارے میں روایت کیا کہ ربوا کی دو قسمیں ہیں ایک ربا وہ ہے جس میں کوئی حرج نہیں اور دوسرے ربا وہ ہے جو ٹھیک نہیں وہ ربا جس میں کوئی حرج نہیں وہ یہ ہے کہ آدمی کا ہدیہ دینا دوسرے آدمی کو جس کے بدلے میں وہ زیادتی کا طالب ہو یا ا سے کوئی گناہ کا طالب ہو۔ 7۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت وما اتیتم من ربا الیربوا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وہ چیز جو بعض لوگ بعض کو دیا کرتے ہیں ایک آدمی کسی دوسرے آدمی کو عطیہ دیتا ہے اور یہ ارادہ کرتا ہے کہ وہ اس سے زیادہ دے گا۔ 8۔ الفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما اتیتم من ربا لیربوا فی اموال الناسفلا یربوا عنداللہ کہ جو چیز تم اس غرض سے دو گے کہ وہ لوگوں کے مال میں پہنچ کر زیادہ ہوجائے تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا اس سے مراد تحائف ہیں جو لوگ آپس میں ایک دوسرے کو دیا کرتے ہیں۔ 9۔ الفریابی وابن ابی شیب ہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما اتیتم من ربا لیربوا فی اموال الناس سے مراد ہے کہ کوئی آدمی اپنا مال دیتا ہے اور اس کے بدلے میں زیادہ کی خواہش رکھتا ہے۔ 10۔ ابن جریر وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے آیت وما اتیتم من ربالیربوا فی اموال الناس فلا یربوا عنداللہ کے بارے میں فرمایا کہ جو کچھ تم دیتے ہو عطیہ میں سے تاکہ تم اس پر دنیا میں بدلہ دئیے جاؤ تو اس میں اللہ کی طرف سے اجر نہیں ہوگا۔ 11۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما اتیتم من لربوا کہ آیت میں جس ربا کا ذکر ہے وہ حلالا ربا ہے وہ یہ کہ تو کسی کو ہدیہ دے اور بدلے میں زیادہ کا ارادہ کرے اس میں نہ اجر ہے نہ گناہ ہے اور اس سے نبی ﷺ کو خاص طور پر منع کیا گیا اور فرمایا آیت تریدون وجہ اللہ اور زیادہ بدلہ پانے کی وجہ سے احسان نہ کرو۔ 12۔ ابیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت ہے۔ 13۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے آیت وما اتیتم من ربا کے بارے میں ورایت کیا کہ ایک آدمی کوئی چیز دیتا ہے تاکہ اس کو بدلہ میں کوئی چیز دی جائے اور زیادہ دی جائے آیت فلایربوا عنداللہ تو وہ ان کے نزدیک نہیں بڑھتا اور دوسرا وہ آدمی جو اللہ کی رضامندی کے لیے کسی کو دیتا ہے اور ساتھی سے کسی اجر کا اور بدلہ کا طالب نہیں ہوتا تو یہ وہ عمل ہے جس کا اللہ تعالیٰ کئی گنا بدلہ عطا فرماتا ہے۔ 14۔ عبدالرزاق وابن جریر وابنابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آتی وما اتیتم من زکوٰۃ سے صدقہ مراد ہے