30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 30:41–42

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 30:41 in the Quran reader

ظاہر ہوگیا فساد خشکی میں اور دریا میں لوگوں کے اعمال کی وجہ سے تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھا دے تاکہ وہ لوگ باز آجائیں

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ Open ayah 30:42 in the Quran reader

آپ فرمادیجیے زمین میں چلو پھر دیکھو ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو تم سے پہلے تھے ان میں سے اکثر مشرک تھے

زمین پر گناہ کرنا فساد کا ذریعہ ہے 1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ظہر الفساد فی البر والبحر کے بارے میں فرمایا کہ البر سے مراد ایسی خش زمین جس کے پاس پانی نہ ہو اور والبحر سے مراد ہے ان شہروں اور بستیوں کو کہتے ہیں جو دریا کے کنارے پر ہو۔ 2۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ظہرا لفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس سے مراد ہے برکت میں کمی بندوں کے اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے تاکہ وہ توبہ کریں۔ 3۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ظہر الفساد فی البر والبحر سے مراد ہے قحط سالی ان سے کہا گیا کہ بارش کا کم ہونا سمندر کو تو نقصان نہیں دیتا تو انہوں نے فرمایا جب بارش کم ہوتی ہے تو اس کی گہرائی میں کمی آجاتی ہے۔ 4۔ ابن المنذر نے عطیہ (رح) نے اس آیت میں روایت کیا تو جب ان سے کہا گیا یہ خشکی اور سمندر ہے اس میں فساد کیا ہے ؟ تو فرمایا جب بارش کم ہوجاتی ہے تو گہرائی بھی کم ہوجاتی ہے۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے زید بن رفیع (رح) سے روایت کیا کہ آیت ظہر الفساد فی البر والبحر سے مراد ہے بارش کا نہ ہونا کہا گیا اور سمندر کا فساد کیا ہے ؟ تو فرمایا جب بارش نہ ہو تو سمندر کے جانور اندھے ہوجاتے ہیں۔ 6 الفریابی نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ظہر الفساد فی البر والبحر سے مراد ہے بیابان جس میں کوئی چیز نہ ہو والبحر سے مراد ہیں بستیاں۔ 7 ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ظہر الفساد فی البر والبحر کے بارے میں پوچھا گیا کہ البر ہم نے پہچان لیا ہے اور البحر کیا چیز ہے فرمایا کہ عرب کے لوگ شہروں کو بحر کہتے ہیں خشکی اور سمندر میں فساد 8۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے ظہر الفساد فی البر والبحر کے بارے میں فرمایا کہ فساد البر سے مراد ہے انسان کا اپنے بھائی کو قتل کرنا اور فساد البحر سے مراد ہے بادشاہ کا کشتی کو غصب کرلینا۔ 9۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ظہرالفساد فی البر والبحر کے بارے میں فرمایا کہ کہ بر اور بحر میں فساد محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے تھا پھر لوگوں میں رجوع کرنے والے لوگ آئے۔ 10۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے آیت ظہر الفساد فی البر والبحر کے بارے میں روایت کیا کہ البر سے مراد ہے وہ بستی جو سمندر سے دور ہو مکہ اور مدینہ کی طرح اور والبحر سے مراد ہے ہر بستی جو سمندر کے کنارے پر ہو جیسے کوفہ بصرہ اور شام اور بماکسبت ایدی الناس یعنی جو انہوں نے برے اعمال کیے۔ 11۔۔ ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے آیت کے بارے میں روایت کیا کہ بحر سے مراد ہے جزائر 12۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لعلہم یرجعون سے مراد ہے کہ شاید وہ توبہ کریں گے۔ 13۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لعلہم یرجعون سے مراد ہے کہ شاید وہ گناہوں سے توبہ کریں گے۔ 14۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آیت ظہر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے برے اعمال کی وجہ سے زمین اور سمندر میں تباہی مچا دی آیت لعلہم یرجعون شاید کہ وہ ان کے بعد ان اعمال سے لوٹ آئیں۔
Ayahs 30:43–46

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ Open ayah 30:43 in the Quran reader

سو اے مخاطب تو اپنا رخ دین قیم کی طرف رکھ اس دن کے آنے سے پہلے جس کے لیے اللہ کی طرف سے ہٹنا نہ ہوگا اس دن لوگ جداجدا ہوجائیں گے

مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ Open ayah 30:44 in the Quran reader

جو شخص کفر اختیار کرے تو اس کا کفر اسی پر پڑے گا اور جو شخص نیک کام کرے گا سو ایسے لوگ اپنی ہی جانوں کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 30:45 in the Quran reader

تاکہ اللہ ان لوگوں کو اپنے فضل سے جزا دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے، بلاشبہ وہ کفر اختیار کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو خوشخبری دیتی ہیں تاکہ تمہیں اپنی رحمت کا مزا چکھائے اور تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے جاری ہوں اور تاکہ تم اس کے فضل کو تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو

دین اسلام پر قائم رہنا کامیابی ہے 1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاقم وجہک للدین القیم آپ اپنا رخ دین قیم یعنی اسلام کی طرف کر لیجیے۔ آیت من قبل ان یاتی یوم لا مرد لہ من اللہ قبل اس کے کہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے کہ جس کو لوٹانا ممکن نہیں یعنی قیامت کا دین آیت یومئذ یصدعون یعنی ایک فریق جنت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں ہوگا۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یومئذ یصدعون سے مراد ہے کہ اس میں وہ لوگ جداجدا ہوجائیں گے۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) نے فرمایا کہ آیت یومئذ یصدعون سے مراد ہے کہ اس دن جدا جدا ہوجائیں گے اور وہ آیت واما الذین کفرو وکذبوا بایتنا ولقاء الاٰخرۃ فاولئک فی العذاب محضرون۔ اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہ باغوں میں خوش کیے جائیں گے اور جو لوگ کافر ہوئے اور ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا یہ لوگ عذاب میں حاضر ہوں گے اور فرمایا کہ یہ جب ہوگا جب وہ لوگ جدا جدا ہوجائیں گے جنت اور دوزخ کی طرف۔ 4۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و ابونعیم نے الحلیہ میں والبیہقی نے عذاب القبر میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلانفسہم یمہدون سے مراد ہے کہ وہ قبر میں اپنے لیٹنے کی جگہوں میں پہلوؤں کو درست کریں گے۔ 5۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن اٰیتہ ان یرسل الریاح مبشرت اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہواؤں کو بھیجتے ہیں خوشخبری دینے والیاں بنا کر بارش کے ساتھ آیت ولیذیقکم من رحمتہ تاکہ تم کو اپنی رحمت میں چکھائیں یعنی بارش آیت ولتجری الفلک بامرہ تاکہ طلب کرو تم اس کے فضل میں سے یعنی تم کشتیوں میں تجارت کر کے اللہ تعالیٰ کے فضل کو تلاش کرو۔
Ayah 30:47

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے آپ سے پہلے رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا سو وہ ان کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے پھر ہم نے ان لوگوں سے انتقام لے لیا جنہوں نے جرم کیے اور اہل ایمان کو غالب کرنا ہمارے ذمہ ہے۔

1۔ ابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی مسلمان صرف اپنے بھائی کی عزت وآبر و کا دفاع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ قیامت کے دن اس سے جہنم کی آگ کو دور کردے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی آیت وکان حق علینا نصر المومنین۔
Ayahs 30:48–51

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جو بھیجتا ہے ہواؤں کو جو اٹھاتی ہیں بادل کو پھر وہ اس کو آسمان میں پھیلا دیتی ہیں جیسے اللہ چاہے اور وہ بادل کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے پھر اے مخاطب تو بارش کو دیکھتا ہے کہ اس کے اندر سے نکلتی ہے پھر وہ اس مینہ کو اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے پہنچا دیتا ہے پھر وہ خوشی کرنے لگتے ہیں

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

اگرچہ وہ اس سے پہلے کہ ان پر پانی اتارا جائے ناامید ہوگئے تھے

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

سو دیکھ لو اللہ کی رحمت کے آثار کو وہ کیسے زندہ فرماتا ہے زمین کو اس کی موت کے بعد بلاشبہ وہی مردوں کو زندہ فرمانے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر دوسرقسم کی ہوا چلادیں پھر یہ اپنی کھیتی کو ایسی حالت میں دیکھیں کہ پیلی پڑگئی ہو، سو یہ ناشکری کرنے لگیں گے

1۔ ابو الشیخ نے العظمۃ میں سدی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ ہواؤں کو حکم دیتا ہے کہ وہ بادلوں کو خافقین کے درمیان سے لاتی ہیں یعنی آسمان کے کنارے جب وہ ملتے ہیں اسے نکالتی ہیں پھر پھیلاتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ اس کو آسمان پر پھیلا دیتا ہے جس طرح چاہتا ہے پھر پانی بادل پر بہتا ہے پھر اس کے بعد بارش برساتا ہے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ ہوا کو بھیجتے ہیں وہ بادلوں سے پانی کو اٹھاتی ہے اور پانی کے ساتھ بادل کے پاس سے گزرتی ہے اسے نچوڑا جاتا ہے جیسے اونٹنی کو دھویا جاتا ہے اور موسلا دھار بارش مشکیزے کا منہ کھولنے کی طرح مگر وہ جدا جدا ہوتی ہے۔ 3۔ ابو یعلی وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ویجعلہ کسفا کہ اللہ تعالیٰ اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتے ہیں اور اس کے بعض کو بعض کے اوپر کردیتے ہیں آیت فتری الودق سے مراد ہے بارش آیت یخرج من خللہ یعنی وہ بارش نکلتی ہے اس کے درمیان میں سے۔ 5۔ الفریابی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فتری الودق سے مراد ہے بارش۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویجعلہ کسفا سے مراد ہے کہ ایک آسمان کے نیچے اور آسمان بنادیا ہے لمبلسین سے مراد ہے کہ وہ مایوس تھے۔
Ayahs 30:52–53

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

سو آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو پکار سکتے ہیں جبکہ وہ پشت پھیر کر چل دیں

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے ہٹا کر ہدایت نہیں دے سکتے، آپ اسی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لائے سو وہ ماننے والے ہیں

1۔ مسلم وابن مردویہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے مشرک مقتولین کو کئی دنوں تک یونہی چھوڑ دیا۔ یہاں تک کہ ان کے جسم گلنے سڑنے لگے پھر آپ ان کے پاس تشریف لائے اور ان کو آواز دینے لگے فرمایا اے امیہ بن خلف ابوجہل عتبہ بن ربیعہ کیا تم نے سچا پایا اس وعدے کو جو تمہارے رب نے تم سے وعدہ کیا تھا عمر ؓ نے آپ کی آواز سن کر فرمایا رسول اللہ آپ تین دنوں کے بعد ان کو پکار رہے ہیں کیا وہ آواز کو سنتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں آیت فانک لا تسمع الموتی کہ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے تو آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم اس نے زیادہ سننے والے نہیں ہو لیکن وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔ مقتولین بدر سے خطاب 2۔ البخاری ومسلم والنسائی وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے بدر کے کنویں پر کھڑے ہو کر فرمایا کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچ پالیا پھر فرمایا بلاشبہ وہ اب سن رہے ہیں جو کچھ میں کہہ رہا ہوں یہ بات عائشہ ؓ کو ذکر کی گئی تو کہنے لگیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ وہ اب جانتے ہیں کہ جو کچھ میں ان کو کہتا تھا وہ سچ ہے پھر یہ آیت فانک لاتسمع الموتی پڑھی یہاں تک کہ آیت کے آخر تک پڑھا۔ 3۔ احمد والبخاری ومسلم وابوداوٗد والترمذی ولنسائی قتادہ کے طریق سے کہ ہم کو انس بن مالک نے ذکر کیا کہ انہوں نے ابو طلحہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے بدر کے دن قریش کے بڑے سرداروں میں چوبیس آدمیوں کے بارے میں حکم فرمایا کہ ان کو بدر کے انتہائی خراب کنویں میں پھینک دیا گیا اور آپ کا یہ معمول تھا کہ جب کسی قوم پر غلبہ پاتے تو کھلی جگہ میں آپ تین راتیں ٹھہرتے جب بدر کا تیسرا دن تھا تو آپ نے اپنی سواری تیار کرنے کا حکم دیا تو اس پر کجاوہ کس دیا گیا پھر آپ چل پڑے اور آپ کے صحابہ بھی آپ کے پیچھے ہولیے چند صحابہ نے کہا کہ آپ قضائے حاجت کے لیے جارہے ہیں یہاں تک کہ آپ کنویں کے کنارے کھڑے ہوگئے اور آپ ان کو ان کے اپنے اور ان کے آباء کے ناموں سے پکارنے لگے اے فلاں بن فلاں کو اے فلاں بن فلاں کیا تم کو یہ بات خوش کرتی کہ تو نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی اور بلاشبہ ہم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پالیا ہے کیا تم نے بھی اپنے رب کے وعدے کو سچا پالیا ہے حضرت عمر ؓ سے عرض کیا یارسول اللہ آپ کیسے ان جسموں سے بات کر رہے ہیں کہ جن میں روح نہیں ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ وہ زیادہ سنتے ہیں تمہاری نسبت قتادہ (رح) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کردیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آپ کی بات سنائی مقصود ان کو شرمندہ کرنا ان کی حقارت بیان کرنا سزا دنا حسرت کا اظہار کرنا تھا۔ 4۔ ابن مردویہ نے الکلبی کے طریق سے ابو صالح سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت بدر والوں کو نبی ﷺ کے بلانے کے بارے میں نازل ہوئی آیت فانک لاتسمع الموتی ولا تسمع الصم الدعاء اذا ولو مدبرین آپ کسی مردے کو اور بہرے کو نہیں سنا سکتے جب وہ پیٹھ پھیر کر چلے جائیں۔
Ayah 30:54

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ضعف کی حالت میں پیدا فرمایا پھر ضعت کے بعد قوت پیدا کردی پھر قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا پید افرمادیا وہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے وہ خوب جاننے والا ہے بڑی قدرت والا ہے۔

1۔ سعید بن منصور واحمد وابوداوٗد والترمذی وحسنہ وابن المنذر والطبرانی والشیرازی فی الالقاب والدارقطنی فی الافراد وابن سدی والحاکم وابو نعیم فی الحلیہ وابن مردویہ والخطیب فی تالی التلخیص ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے سامنے میں نے یوں پڑھا آیت اللہ الذی خلقکم من ضعف اللہ تعالیٰ نے تم کو کمزور پیدا کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ من ضعف ہے۔ 2۔ الخطیب نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے یوں پڑھا آیت اللہ الذی خلقکم من ضعف کے ساتھ 3۔ ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اس حرف کو سورة روم میں یوں پڑھتے تھے۔ آیت اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعد قوۃ ضعفا یعنی تم کو پیدا فرمایا کمزور پھر کمزوری کے بعد قوت دی پھر قوت کے بعد کمزور کردیا۔ 4ْ ابن جریر وابن ابی حاتم قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت اللہ الذی خلقکم من ضعف یعنی نطفہ سے پیدا فرمایا آیت ثم جعل من بعد قوۃ ضعفا پھر قوت کے بعد کمزور کردیا یعنی بوڑھا کردیا آیت وشیبۃ سے مراد سر کے بالوں کا سفید ہونا۔
Ayahs 30:55–60

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور جس دن قیامت مقائم ہوگی مجرمین قسم کھائیں گے کہ ایک گھڑے سے زیادہ نہیں ٹھہرے وہ اسی طرح سے دنیا میں الٹے چلائے جاتے تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

اور جن کو علم اور ایمان دیا گیا وہ کہیں گے کہ بلاشبہ تم اللہ کے نوشتہ میں بعث کے دن تک ٹھہرے ہو سو یہ بعث کا دن ہے اور لیکن تم نہیں جانتے

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

سو اس دن ظالموں کو ان کی معذرت نفع نہ دے گی اور نہ انہیں اس کا موقع دیا جائے گا

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

اور یہ بات واقعی ہے کہ ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے عمدہ مضامین بیان کردیے ے ہیں اور اگر آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں تب بھی وہ لوگ جو کافر ہیں یہ کہیں گے کہ تم لوگ صرف باطل والے ہو

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

جو لوگ نہیں جانتے ان کے دلوں پر اللہ یوں ہی مہر کردیتا ہے

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

سو آپ صبر کیجیے بلاشبہ اللہ کا وعدہ حق ہے اور جو لوگ یقین نہیں کرتے وہ لوگ آپ کو بےبرداشت نہ بنادیں۔

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویم تقوم الساعۃ یقسم المجرمون مالبثوا غیر ساعۃ اور جس روز قیامت ہوگی مجرم لوگ قسمیں کھائیں گے کہ وہ ایک ساعت کے سوا نہیں رہے۔ یعنی وہ لوگ دنیا میں صرف ایک گھڑی رہے اور جب وہ آخرت کو دیکھیں گے تو دنیا میں قیام کی مدت کو تھوڑا جانیں گے۔ کذالک کانوا یوفکون اسی طرح وہ دنیا میں جھوٹ بولتے تھے آیت وقال الذین اوتوالعلم قتادہ نے فرمایا یہ کلام کی تقدیم اور تاویل ہے ،۔ یعنی وہ لوگ جن کو ایمان اور علم عطا کیا تھا انہوں نے کہا اللہ کی کتاب میں ہے کہ تم قیامت کے دن تک وہاں رہے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس ؓ سے آیت لقد لبثتم فی کتاب اللہ الی ایوم البعث کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ اللہ کے علم میں برزخ میں قیامت کے دن تک رہے اللہ کے سوا کوئی قیامت کے وقت کو نہیں جانتا۔ اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت لزاما واجل مسمی (طہ 129) اور مقررہ وقت اسی کے پاس ہے 3۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ خوارج میں سے ایک آدمی نے ان کو آواز دی جبکہ آپ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے اس نے کہا آیت ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخسرین الزمر آیت 65) تحقیق کی گئی آپ کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو آپ سے پہلے تھے کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرے عمل جائع ہوجائیں گے اور تو نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائے گا۔ تو علی ؓ نے ان کو نماز ہی میں جواب دیا آیت فاصبر ان وعد اللہ حق ولا یستخفنک الذین لا یوقنون، یعنی تو صبر کر بلاشبہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور تجھ کو وہ لوگ ڈگمگا نہ دیں جو یقین نہیں لاتے۔ الحمد للہ سورة روم مکمل ہوئی۔