31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 31:1–5

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ قرآن حکیم کی آیات ہیں

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

جو اچھے کام کرنے والوں کے لیے ہدایت ہے اور رحمت ہے

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

یہ لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہیں

1۔ البیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یشتری لہو الحدیث میں ہو الحدیث میں مراد ہے جھوٹی بات اور وہ نصر بن حارث بن علقمہ تھا اس نے عجمی لوگوں کے قصے اور ان کے زمانے کے کارناموں والی کتابیں خریدیں وہ حیرہ اور شام کی کتابیں لکھا کرتا تھا اور قرآن کو جھٹلاتا تھا اس نے قرآن سے اعراض کیا اور اس پر ایمان نہ لایا۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ومن الناس من یشتری لہو الحدیث کے بارے میں فرمایا کہ اس کے شراء سے مراد اس کا پسند کرنا ہے قتادہ نے کہا کسی آدمی کی گمراہی کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ جھوٹی بات کو سچی بات پر اختیار کرے آیت ویتخذہا ہزوا کہ وہ اس کے ذریعہ حق بات کا مذاق اڑاتا ہے اور اس کو جھٹلاتا ہے۔ 3۔ الفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویتخذہا ہزوا سے مراد ہے کہ وہ اللہ کے راستے کا مذاق اڑاتا ہے۔ 4۔ الفریابی وابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یشتری لہوالحدیث یعنی ہوالحدیث سے مراد جھوٹی بات اور وہ گانا وغیرہ اور اس جیسی اور چیزیں ہیں لیضل عن سبیل اللہ تاکہ وہ گمراہ کردے قرآن کی قراءت سے اور اللہ کے ذکر سے یہ آیت قریش کے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جس نے ایک گانے والی لونڈی خریدی تھی۔ نضر بن حارث کی اسلام دشمنی 5۔ جویبر نے ابن عباس ؓ نے آیت ومن الناس من یشتری لہوالحدیث کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی جس نے ایک گانے والی لونڈی خریدی وہ کسی آدمی کے بارے میں یہ سنتا تھا کہ وہ اسلام کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے اپنی لونڈی کے پاس بھیج دیتا اور اس سے کہتا کہ اس کو کھلا شراب اور اس کے گانے سنا اور کہتا یہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف محمد ﷺ تجھ کو بلاتے ہیں جیسے نماز اور روزہ اور یہ کہ تو جہاد کرے تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ 6۔ سعید بن منصور واحمد والترمذی وابن ماجہ وابن ابی الدنیا فی ذم الملاہی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچوں اور نہ خریدو اور نہ ان کو تعلیم دو ان کی تجارت میں کوئی خیر نہیں اور ان کی قیمت حرام ہے اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی آیت ومن الناس من یشتری لہوالحدیث اور بعض آدمی ایسے بھی ہیں جو اللہ سے غاف کردینے والی باتوں کو خریدتے ہیں آیت کے آخرت تک۔ 7۔ ابن ابی الدنیا نے ذم الملاہی وابن مردویہ و عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے گانے والی لونڈی کو حرام قرار دیا۔ اس کی خریدو فروخت اس کی قیمت اور تعلیم اور اس کے سننے کو حرام قرار دیا پھر یہ آیت ومن الناس من یشتری لہوالحدیث پڑھی۔ 8۔ البخای نے الادب المفرد میں وابن ابی الدنیا وابن جرری وابن ابی حاتم وابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یشتری لہوالحدیث سے گانا بجانا اور اس جیسی چیزیں مراد ہیں 9۔ ابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یشتری لہوالحدیث سے گانے والی لونڈی کا خریدنا مراد ہے۔ 10۔ ابن عساکر نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یشتری لہوا لحدیث سے ناچ گانے والی لونڈیا مراد ہیں۔ 11۔ ابن ابی شیبہ وابن ابی الدنیا وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ والبیہقی فی شعب الایمان اوب الصہباء (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عبداللہ بن مسعودر ضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ومن الناس من یشتری لہو الحدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم اس سے مراد گانا گانا ہے۔ 12۔ ابن ابی الدنیا وابن جریر نے شعیب بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عکرمہ سے لہوالحدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد گانا ہے۔ 13۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن ابی الدنیا وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یشتری لہو الحدیث سے گانا مراد ہے اور ہر قسم کا لہو ولعب ہے۔ 14۔ ابن ابی الدنیا نے حبیب بن ابی ثابت کے طریق سے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یشتری لہو الحدیث سے گانا مراد ہے اور مجاہد (رح) نے فرمایا کہ اس سے مراد فضول بات ہے۔ 15۔ ابن ابی حاتم نے عطا خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یشتری لہوالحدیث سے گانا اور جھوٹ مراد ہے 16۔ ابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت وامن الناس من یشتری لہوالحدیث سے گانا اور گانے بجانے کے آلات مراد ہیں۔ گانا اور نفاق لازم ملزوم ہیں 17۔ ابن ابی الدنیا والبیہقی نے ابن سنن میں ابن مسعود (رح) سے روایت کیا کہ گانا نفاق کو دل میں اگاتا ہے اور ذکر ایمان کو اگاتا ہے دل میں جیسے پانی کھتی کو اگاتا ہے۔ 18 ابن ابی الدنیا نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ یعنی صحابہ کرام فرماتے تھے کہ گانا نفاق کو دل میں اگاتا ہے۔ 19۔ اب ابی الدنیا والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گانا نفاق کو اگاتا ہے دل میں جیسے پانی سبزی کو اگاتا ہے۔ 20۔ ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے شعب میں ابن مسعود ؓ نے فرمایا جب کوئی آدمی کسی جانور پر سوار ہو کر اللہ کا نام نہ لے تو شیطان پیچھے سوار ہوجاتا ہے اور اس سے کہتا ہے تو گاناگا اگر وہ اچھی طرح نہیں گا سکتا ہے تو اسے کہتا ہے اس کی آرزو کر۔ 21۔ ابن ابی الدنیا وابن مردویہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اپنی آواز کو گانے کے ساتھ بلند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف وہ شیطان بھیج دیتے ہیں جو اس کے کندھوں پر بیٹھ کر اپنی ایڑیوں کے ساتھ اس کے سینے پر مارتے ہیں یہاں تک کہ وہ گانے سے رک جاتا ہے۔ 22۔ ابن ابی الدنیا والبیہقی نے شعبی سے اور انہوں نے میں قاسم بن محمد سے روایت کیا کہ ان سے گانے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا میں تجھ کو اس سے روکتا اور میں اس کو تیرے لیے ناپسند کرتا ہوں تو سائل نے کہا کیا وہ حرام ہے ؟ فرمایا اے میرے بھتیجے تو دیکھ لے جب اللہ تعالیٰ نے حق کو باطل سے علیحدہ کردیا پھر ان دونوں میں تو گانے کو کس میں بنائے گا حق میں یا باطل میں ؟ 23۔ ابن ابی الدنیا والبیہقی نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ گانے والے اور جس کے لیے گایا گیا دونوں پر لعنت کی گئی۔ 24۔ ابن ابی الدنیا والبیہقی نے فضل بن عباس (رح) سے روایت کیا کہ گانا زنا کا تعویذ ہے 25۔ ابن ابی الدنیا والبیہقی نے ابو عثمان غنی رحمۃ اللہ علہ سے روایت کیا کہ یزید بن الولید الناقص نے فرمایا اے امیہ کے بیٹے بچ تو گانے سے کیونکہ وہ حیا کو کم کردیتا ہے اور شہوت کو زیادہ کردیتا ہے اور مروت کو گرا دیتا ہے اور وہ شراب پینے کے قائم مقام بن جاتا ہے اور یہ وہی کچھ کرتا ہے جو نشہ کرتا ہے اگر تم ضور ایسا کرنے والے ہو تو عورتوں کو اس سے علیحدہ رکھو کیونکہ گانا زنا کو دعوت دیتا ہے۔ 26۔ ابن ابی الدنیا نے ابو جعفر اعوی عمر بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن عبدالعزیز (رح) اپنے بچوں کے استاد کی طرف خط لکھا عبداللہ عمر کی طرف سے سہل کی طرف جو اس کا غلام ہے اما بعد ! میں نے اپنے علم کے مطابق اپنی اولاد کی تربیت کے لیے تجھے منتخب کیا ہے اور ان کو تیرے حوالے کیا ہے تیرے علاوہ کسی اور غلام اور خاص الخاص اعتماد والے لوگوں کے سپرد نہیں کیا ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ کیونکہ یہ آگے بڑھنے کو زیادہ ممکن بنائے گا عام صحبت اختیار نہ کر کیونکہ عمومی صحبت غفلت کو لاتی ہے اور زیادہ نہ ہنسا کرو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کردیتا ہے تیری تعلیم میں سب سے پہلے وہ لہو لعب سے نفر کا اعتقاد رکھیں جس کا آغاز شیطان کی جانب سے ہوتا ہے اور اس کا انجام رحمن کی ناراضگی ہے اور مجھ کو یہ بات پہنچی ہے علم کے ثقہ لوگوں سے کہ لہو ولعب کے آلات کا سننا اور اس کا فریفتہ ہونا دل میں نفاق کو اگاتا ہے جیسے پانی سبزے کو اگاتا ہے اور میری زندگی کی قسم ان جگہوں پر حاضر ہونے کو ترک کر کے اپنے آپ کو بچانا زیادہ آسان ہے دانشمندوں کے لیے اس سے کہ وہ اپنے دل میں نفاق کو قائم رکھیں اور وہ جب اس گانے سے جدا ہوتا ہے تو اسے یقین نہیں ہوتا کہ اس کے کانوں نے جو سنا ہے وہ اس سے فائدہ بھی حاصل کرسکتا ہے اور چاہیے کہ ہر بچہ کو قرآن میں سے ایک حصہ سے سبق شروع کراؤ اور اس کی قراءت میں خوب مضبوطی ہو جب اس سے فارغ ہوجائے تو لے لے اپنی کمان اور اپنے ترکش کو اور اپنے ٹارگٹ کی طرف ننگے پاؤں نکل جاؤ اور سات تیر پھینکنے کے بعد دوپہر کو آرام کرنے کی جگہ پر لوٹ آؤ کیونکہ ابن مسعود ؓ فرمایا کرتے تھے اے میرے بیٹوا قیلولہ کیا کرو کیونکہ شیاطین قیلولہ اور سلام نہیں کرتے۔ 27 ابن ابی الدنیا نے رافع بن حفص المدنی (رح) نے فرمایا چار عورتیں ایسی ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو نہیں دیکھیں گے جاوگر عورت نوحہ کرنے والی اور گانے والی اور عورت عورت کے ساتھ شہوت رانی کرنے والی اور فرمایا جو شخص اس زمانے کو پائے تو اس کے لیے لمبا غم زیادہ لائق ہے۔ 28۔ ابن ابی الدنیا نے علی بن حسین ؓ نے فرمایا وہ رات پاکیزہ نہیں ہوسکتی جس میں سارنگی نہ ہو۔ 29۔ ابن ابی الدنیا نے عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ میں منع کیا گیا ہوں دو احمق اور فاجرآوازوں سے لہو لعب کے نغمہ اور شیطان کے آلات موسیقی کے وقت کی آواز اور مصیبت کے وقت کی آواز یعنی چہرے نوچنا اور اور گریبان پھاڑنا اور شیطان کی طرح چلا کر رونے کی آواز۔ 30۔ ابن ابی الدنیا نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ دو آوازیں ملعون ہیں نغمہ کے وقت موسیقی کی آواز اور مصیبت کے وقت رونے کی آواز۔
Ayah 31:6

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

اور بعض ایسے لوگ ہیں جو ان باتوں کو خریدتے ہیں جو کھیل کی باتیں ہیں تاکہ بغیر علم کے اللہ کے راستے سے ہٹائیں اور اللہ کی راہ کا مذاق بنائیں ان لوگوں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

گانے پر ملنے والی اجرت حرام ہے 31۔ ابن ابی الدنیا نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ سب سے بری کمائی بانسری بجانے والے کی کمائی ہے۔ 32۔ ابن ابی الدنیا و البیہقی نے نے نافع (رح) سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن عمر ؓ کے ساتھ ایک راستہ میں چل رہا تھا انہوں نے ایک گڈریا کی بانسری بجانے کی آواز سنی تو انہوں نے اپنی انگلیوں کو کانوں میں رکھ لیا پھر وہ راستہ سے ہٹ گئے اور وہ برابر پوچھتے رہے اے نافع کیا تو آواز کو سن رہا ہے ؟ میں نے کہا نہیں تو انہوں نے اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں سے نکال لیا اور فرمایا کہ میں نے اسی طرح رسول اللہ ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ 33۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو اس آیت ومن الناس من یشتری لہو الحدیث کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس سے مراد ہے کسی آدمی کا لہو ولعب اور باطل چیزوں کو خریدنا ہے۔ 34۔ الحاکم نے النحاس میں عطاء خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ومن الناس من یشتری لہوالحدیث گانا گانے اور باطل کاموں اور گانے بجانے کے آلات کے بارے میں نازل ہوئی۔ 35۔ آدم وابن جریر والبیہقی نے اپنی سنن میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یشتری لہوالحدیث سے مراد ہے گانا گانے والے کو اور گاناگانے والی کو کثیر مال کے بدلے خریدنا اور ان سے گانا سننا اور اس جیسے باطل کام کرنا ہے۔ 36۔ البیہقی نے شعب میں ابن مسعود ؓ سے آیت ومن الناس من یشتری لہوالحدیث کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ آدمی ہے جو ایسی لونڈی خرید لے جو دن اور رات اسے گانا سناتی رہے۔
Ayah 31:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اور جب ایسے شخص پر ہماری آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو تکبر کرتے ہوئے پیٹھ پھیر دیتا ہے گویا کہ اس نے ان کو سنا ہی نہیں گویا کہ اس کے دونوں کانوں میں بوجھ ہے، سو آپ اس کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجیے

1۔ ابن ابی الدنیا نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا تتلی علیہ اٰیتنا والی مستکبرا کہ جب اس پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ تکبر کرتے ہوئے پیٹھ پھیر لیتا ہے یعنی اس کو جھٹلاتے ہوئے منہ پھیر لیتا ہے۔ 2۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقرا سے مراد ہے بوجھ۔
Ayahs 31:8–10

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے نعمتوں والے باغ ہیں

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ نے سچا وعدہ فرمایا ہے وہ عزیز ہے حکیم ہے

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

اللہ نے آسمانوں کو بلاستون پیدا فرمایا تم اسے دیکھ رہے ہو اور زمین میں پہاڑ ڈال دئیے کہ وہ تم کو لے کر ڈانواں ڈول نہ ہو اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلا دئیے اور ہم نے آسمان سے پانی برسایا سو ہم نے زمین میں ہر قسم کے اچھے پھل اگا دئیے

1۔ ابن ابی حاتم نے مالک بن دینار (رح) سے آیت جنت النعیم کے بارے میں روایت کیا کہ یہ جنین جنات الفردوس اور جنات عدن کے درمیان ہیں اور اس میں ایسی لڑکیاں ہیں جو جنت کے گلاب کے پھول سے پیدا کی گئیں کہا گیا اس میں کون رہے گا فرمایا وہ لوگ جنہوں نے گناہوں کا ارادہ کیا مگر جب انہوں نے میری عظمت کو یاد کیا تو وہ مجھ سے ڈرنے لگے اور وہ لوگ کہ جن کی پشتیں میرے ڈر کی وجہ سے دہری ہوگئیں۔
Ayah 31:11

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

یہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں سو تم مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے کیا پیدا کیا جو اس کے علاوہ ہیں ؟ بلکہ بات یہ ہے کہ ظالم لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ہذا خلق اللہ یعنی جو ذکر کیا گیا کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں سے اور جو کچھ ان دونوں میں جانور پھیلائے گئے اور جو چیز جوڑا جوڑا پیدا کی گئیں سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں آیت فارونی ماذا خلق الذین من دونہ اب تم مجھ کو دکھاؤ کہ اللہ کے سوا جو انہوں نے پیدا کیا یعنی ان بتوں نے واللہ اعلم
Ayah 31:12

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے لقمان کو دانشمندی عطا فرمائی کہ اللہ کا شکر ادا کرے سو وہ اپنے ہی بھلے کے لیے شکر ادا کرتا ہے اور جو شخص ناشکری کرے تو اس میں شک نہیں کہ اللہ بےنیاز حمد کا مستحق ہے

لقمان (علیہ السلام) کا تذکرہ 1۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ لقمان (علیہ السلام) کون تھے ؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں فرمایا وہ حبشی تھے۔ 2۔ ابن ابی شیبہ نے الزہد میں واحمد وابن ابی الدنیا فی کتاب المملوکین وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) ایک حبشی غلام تھے اور بڑھئی کام کرتے تھے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے پوچھا کہ لقمان (علیہ السلام) کے بارے میں تم کو کیا خبر پہنچی ہے تو انہوں نے فرمایا وہ چھوٹے قد اور چپٹی ناک والے تھے توبہ کے باشندہ سے بھی زیادہ۔ 4۔ الطبرانی وابن حبان فی الضعف وابن عساکر ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سودان کو لازم پکڑو کیونکہ ان میں سے تین آدمی جنت والوں کے سردار ہوں گے حضرت لقمان الحکیم نجاشی اور حضرت بلال موذن طبرانی نے کہا کہ سودان سے حبشی مراد لیے ہیں۔ 5۔ ابن عساکر نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سودان یعنی حبشیوں کے سردار چار ہیں لقمان، حبشی، نجاشی، بلال اور مہجع۔ 6۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) مصر کے حبشیوں میں سے تھے بڑے ہونٹوں والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیا حکمت عطا کی تھی اور نبوت عطا نہیں فرمائی۔ 7۔ ابن جریر نے عبدالرحمن بن حرملہ (رح) سے روایت کیا کہ کچھ حبشی سعید بن المسیب کے پاس آئے تاکہ ان سے سوال کریں تو سعید نے اس سے فرمایا کہ غم نہ کرو اس وجہ سے کہ تم حبشی ہو کیونکہ لوگوں میں سب سے بہترین لوگ تین حبشی ہیں بلال، مہجع، عمر بن خطاب کے آزاد کردہ غلام اور لقمان حکیم کہ وہ کالے رنگ کے بڑے ہونٹوں والے نوبی قوم میں سے تھے۔ 8۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لقمان حبشی غلام تھے۔ 9۔ ابن ابی شیبہ واحمد نے الزہد میں وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لقمان ایک حبشی غلام تھے موٹے ہونٹوں والے چوڑے منہ والے تھے نبی اسرائیل کے قاضی تھے۔ 10۔ ابن ابی شیبہ واحمد نے الزہد میں ابن المنذر نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) درزی تھے۔ ٍ 11۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ اپنے آقا کے لیے لقمان (علیہ السلام) یہ سب سے تابع فرمان غلام تھے۔ سب سے پہلی بات جو ان کی حکمت میں سے دیکھی گئی کہ وہ اپنے آقا کے ساتھ تھے کہ اچانک وہ بیت الخلا میں داخل ہوا اور اس میں زیادہ دیر بیٹھ ارہا لقمان نے اس کو آواز دی کہ بیت الخلاء میں زیادہ دیر بیٹھنے سے جگر خراب ہوجاتا ہے اور اس سے بواسیر کا مرض لگ جاتا ہے اور گرمی سر کی طرف چڑھ جاتی ہے تھوڑی دیر کے لیے بیٹھو اور باہر نکل آؤ وہ نکلا اور اس کی حکمت کی باتوں کو باغ کے دروازے پر لکھ دیا اس کے آقا پر غشی طاری ہوئی اس نے قوم پر لازم کیا کہ وہ بحیرہ کا پانی پیے گا۔ جب اسے افاقہ ہوا تو اس نے جان لیا جو کچھ اس سے واقع ہوا اس نے لقمان کو بلایا اور کہا اس جیسے موقع کے لیے میں تجھے چھپائے ہوئے تھا لقمان نے کہا ان کو جمع کرو جب سب لوگ جمع ہوگئے تو لقمان نے پوچھا تم نے اس سے کونسی شرط باندھی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ وہ بحیرہ کا پانی پیے گا۔ لقمان نے فرمایا اس بحیرہ کا منبع ہے اس کا منبع اس سے روک لو لوگوں نے کہا ہم اسے منع کیسے کرسکتے ہیں لقمان نے کہا یہ اسے کیسے پی سکتا ہے جبکہ اس کا منبع ہو۔ 12۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولقد اتینا لقمن الحکمۃ سے مراد ہے کہ ہم نے لقمان کو حکمت یعنی عقل اور ذہانت دی تھی سوائے نبوت کے۔ لقمان (علیہ السلام) کے اوصاف حمید ہ 13۔ الحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں ابو مسلم خولانی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لقمان (علیہ السلام) بہت سوچ وبچار کرنے والے بندے تھے اھا گمان رکھنے والے زیادہ خاموش رہنے والے اللہ کی محبت رکھنے والے اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے محبت فرمائی۔ اور ان پر حکمت کے ساتھ احسان فرمایا خلافت کے لیے بلائے گئے داوٗد (علیہ السلام) سے پہلے ان سے کہا گیا اے لقمان کیا تجھ پر پسند ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھ کو اپنا خلیفہ بنادیں کہ تو لوگوں کے ساتھ انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے لقمان نے عرض کیا اگر مجھے میرے رب نے مجبور کیا تو میں قبول کرلوں گا کہا بلاشبہ میں جانتا ہوں اگر انہوں نے ایسا کیا تو میری مد فرمائیں گے اور مجھ کو علم عطا فرمائیں گے اور مجھے غلطی سے محفوظ رکھے گا اور اگر مجھے میرے رب نے اختیار دیا تو میں عافیت کو قبول کرلوں گا اور میں آزمائش کا سوال نہیں کروں گا فرشتوں نے کہا اے لقمان (علیہ السلام) ایسا کیوں کرو گے تو فرمایا کیونکہ بادشاہ سخت ترین اور آلودہ جگہ پر ہوتا ہے ہر طرف سے ظلم اس پر چھایا ہوتا ہے اس کو بےنیاز بےیارو مددگار چھوڑدیا جاتا ہے اور اس کی مدد کی جات ہے اگر وہ ٹھیک فیصلہ کرے تو وہ اس لائق ہیں کہ نجات پائے اور اگ وہ غلطی کرے تو اس نے جنت کا راستہ چھوڑ دیا اور جو آدمی دنیا میں کمزور ہے وہ اس سے بہتر ہے جو دنیا میں معزز اور معروف ہے اور جو دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتا ہے دنیا اس سے سے چھن جاتی ہے اور وہ آخرت کے ملک تک بھی نہیں پہنچ سکتا فرشتوں نے اس کو اچھی گفتگو سے تعجب کیا وہ ایک لمحہ کے لیے سو گئے اور حکمت کا ایک خراٹا لیا اور پیدا ہوئے اور یہ باتیں کیں ان کے بعد حضرت داوٗد (علیہ السلام) کی خلافت کے ساتھ تجھے آواز دی گئی انہوں نے خلافت کو قبول کرلیا اور حضرت لقمان جیسی شرط نہ لگائی اور غلطی پر واقع ہوگئے ان کو معاف کردیا گیا اور درگزر کرلیا گیا اور لقمان (علیہ السلام) ان کی مدد کرتے تھے اپنے علم اور اپنی حکمت کے ساتھ تو داوٗد علیہ نے فرمایا اے لقمان تجھے مبارک ہو تجھ کو حکمت دی گئی اور مصیبت کو تجھ سے دور کردیا گیا داوٗد کو خلافت دی گئی اور گناہ اور آزمائش میں مبتلا کردیا گیا۔ 14۔ الفریابی واحمد الزہد میں وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد اتینا لقمن الحکمۃ سے مراد ہے عقل اور سمجھ اور سچی بات کہنا ہے نہ کہ نبوت۔ 15۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد اٰتینا لقمن الحکمۃ سے مراد ہے کہ اسلام میں سمجھداری اگرچہ وہ نبی نہ تھے اور نہ اس کی طرف وحی کی جاتی تھی۔ 16۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا لقمان (علیہ السلام) کو حکمت اور نبوت کے درمیان تو انہوں نے حکمت کو اختیار کیا نبوت پر جبرئیل (علیہ السلام) ان کے پاس آئے اور وہ سو رہے تھے تو انہوں نے ان پر حکمت کو ڈال دیا تو وہ حکمت کی باتیں کرنے لگے۔ ان سے پوچھا گیا کس طرح آپ نے حکمت کو اختیار کیا نبوت پر حالانکہ آپ کے رب نے آپ کو اختیار دیا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ میری طرف نبوت کو قطعی حکم کے طور پر بھیجتا تو میں اس میں کامیابی کی امید رکھتا اور مجھے امید تھی کہ میں اس ذمہ داری کو پورا کرلیتا لیکن مجھے اختیار دیا گیا تو میں نے خوف کیا اس بات پر کہ میں نبوت کی ذمہ داریاں ادا کرنے سے کمزور نہ ہوجاؤں اور حکمت مجھے زیادہ پسند تھی۔ 17۔ ابن ابی حاتم نے وہب بن منبہ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ لقمان (علیہ السلام) نبی تھے فرمایا نہیں ان کی طرف وحی نہیں کی گئی اور وہ ایک نیک آدمی تھے۔ 18۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نبی تھے۔ 19۔ ابن ابی حاتم نے لیث (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) کی حکمت نبوت تھی۔ 20۔ ابن جری رنے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نیک آدمی تھے نبی نہیں تھے۔ 21۔ الطبرانی الرامہرمزی الامثال میں ضعیف سند کے ساتھ ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے علماء کی مجالس کو لازم پکڑ اور حکماء کے کلام کو سن بلاشبہ اللہ تعالیٰ مردہ دل کو زندہ کرتا ہے حکمت کے نور سے جیسے مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے موسلا دھار بارش سے۔ لقمان (علیہ السلام) کا صبر و تحمل 22۔ ابن ابی حاتم نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ آن ہوں نے حکیم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کو جو عطا کیا گیا وہ انہیں اہل و عیال حسب اور خصائل کی وجہ سے عطا نہیں کیا گیا لیکن وہ ایک ایسا انسان تھا جو ثابت قدم خاموش لمبی فکر کرنے والا گہری نظر رکھنے والا وہ دن میں کبھی نہ سوتا تھا اسے کسی نے تھوکتے ہوئے اور ناک صاف کرتے ہوئے اور پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے اور غسل کرتے ہوئے اور نہ بےکار کام میں مشغول ہوتے ہوئے اور ہنستے ہوئے نہیں دیکاھ وہ جو بات کرتا اسے نہ لوٹاتا تھا۔ لیکن ایسی حکمت کی بات جس کے بارے میں کوئی دوبارہ دہرانے کا مطالبہ کرے اور انہوں نے شادی کی اور ان کی اولاد پیدا ہوئی وہ فوت ہوئی تو ان پر نہیں روئے اور وہ بادشاہ کے پاس رہتا حکماء کے پاس آتا تاکہ غور وفکر کرے اور عزت حاصل کرے اس وجہ سے وہ دئیے گئے جو دئیے گئے۔ 23۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب الصحت میں وابن جریر نے عمر بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمہ لقمان (علیہ السلام) کے پاس سے گزرا اور لوگ ان کے پاس بیٹھ گئے آپ نے پوچھا کہ تو فلاں کا غلام نہیں ہے اس نے کیوں نہیں پوچھا کیا تو فلاں فلاں پہاڑ کے پاس بکریاں نہیں چراتا اس نے کہا کیوں نہیں آپ نے پوچھا کس چیز نے تجھے اس مقام پر پہنچایا جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں اس نے کہا اللہ سے تقوی اور سچی بات اور امانت کو ادا کرنا اور بےمقصد بات سے خاموشی اختیار کرنا۔ 24۔ امام احمد نے زہد میں محمود بن جحادہ (رح) نے اسی طرح روایت کیا۔ 25۔ احمد والحکیم الترمذی والحاکم فی الکنی اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ لقمان حکیم کہا کرتے تھے کہ جب اللہ تعالیٰ کوئی چیز عطا فرماتے ہیں تو اس کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔ 26۔ ابن ابی الدنیا نے نعت الخائفین میں فضل رقاشی (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) اپنے بیٹے کو برابر نصیحت کرتے رہے یہاں تک کہ اس کا پتہ پھٹ گیا اور وہ مرگیا۔ 27۔ ابن ابی الدنیا نے حفص بن عمر کندی (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے ایک چمڑے کے تھیلے میں رائی کے دانے رکھے ایک جانب میں اور اپنے بیٹے کو نصیحت کرنا شروع کیا اور رائی کے دانے کو بھی نکالتے رہے جب رائی کے دانے ختم ہوگئے تو فرمایا اے میرے بیٹے میں تجھ کو اتنی نصیحت کردی اگر میں کسی پہاڑ کو اتنی نصیحت کرتا تو وہ پھٹ جاتا تو اس کا بیٹا بھی پھٹ گیا (یعنی مرگیا) ۔ 28۔ ابن ابی حاتم والحاکم نے ابوموسی اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اور وہ اس کو نصیحت کر رہے تھے اے میرے بیٹے نقاب پہننے سے پرہیز کرو کیونکہ وہ رات کو خوفزدہ کرتا ہے اور دن کو ذلیل ورسوا کرتا ہے۔ 29۔ العسکری نے الامثال میں والحاکم والبیہقی نے شعب الایمان میں انس ؓ سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) ، داوٗد (علیہ السلام) کے غلام تھے اور وہ زرہ بنتے تھے حضرت داوٗد (علیہ السلام) اپنے ہاتھوں سے یوں بٹتے لقمان (علیہ السلام) نے تعجب کرتے ہوئے ارادہ کرتے کہ ان سے سوال کریں مگر آپ کی حکمت نے ان کو سوال کرنے سے روک دیا جب داوٗد (علیہ السلام) زرہ سے فارغ ہوئے تو اسے زیب تن کیا اور کہا یہ جنگ اچھی کی قمیض ہے۔ تو لقمان نے فرمایا کہ خاموشی حکمت میں سے ہے لیکن اسی پر عمل کرنے والے تھوڑے ہیں انہوں نے آپ سے سوال کرنے کا ارادہ کر یا مگر میں خاموش رہا یہاں تک کہ آپ خود ہی مجھے کافی ہوگئے۔
Ayah 31:13

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

اور جب لقمان نے نصیحت کرتے ہوئے اپنے بیٹے سے کہا اے میرے بیٹوا اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، بلاشبہ شرک بہت بڑا ظلم ہے

لقمان (علیہ السلام) کی نصیحتیں 30۔ احمد والبیہقی نے شعب الایمان میں عود بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے اللہ تعالیٰ سے امید رکھو اور اس میں بھی اس کی خفیہ تدبیر سے بےخوف نہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ سے ایسا ڈر کہ اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو بیٹے نے عرض کیا کہ اے میرے والد میں یہ کرسکتا ہوں جبکہ میرا دل ایک ہے اور کہا مومن ایسے ہی ہوتا ہے کہ اس کے دو دل ہوتے ہیں ایک دل کے ساتھ وہ اللہ سے امید رکھتا ہے اور ایک دل کے ساتھ وہ اللہ سے ڈرتا ہے۔ 31۔ البیہقی نے سلیمان تیمی (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے اکثر یہ بات کیا کرو اے میرے رب مجھے بخش دے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک ایسی گھڑی ہے کہ جس میں وہ سوال کرنے والے کی دعا کو رد نہیں کرتا۔ 32۔ البیہقی والصابونی نے المائتین میں عمران بن سلیم ؓ سے روایت کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے تو نے تیر لوہا اور بھاری بوجھ اٹھایا مگر میں نے برے پڑوسی سے بھاری بوجھ نہیں اٹھایا اے میرے بیٹے ہر کڑوی چیز میں نے کچھی ہے مگر میں نے فقیر سے زیادہ کوئی کڑوی چیز نہیں دیکھی۔ 33۔ ابن ابی الدنیا نے البیہقی میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے کسی عمل کو نہیں جاسکتا مگر یقین کے ساتھ اور جس کا یقین کمزور ہوتا ہے تو اس کا عمل بھی کمزور ہوتا ہے اے میرے بیٹے جب تیرے پاس شیطان آئے شک کی طرف سے تو اس پر غلبہ حاصل کر یقین اور اخلاص کے ساتھ اور جب سستی اور اکتاہٹ کی بات سے آئے تو اس پر غلبہ حاصل کر قبر اور قیامت کے ذکر کے ساتھ اور جب تیرے پاس رغبت اور خوف کی طرف سے آئے تو اس کو بتادے کہ دنیا جدا ہونے والی اور ترک کی جانے والی ہے۔ 34۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب التقوی میں وہب ؓ سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے اللہ کے تقوی کو تجارت کے طور پر اپنا لے آئے گا تیرے پاس نفع بغیر مال کے۔ تقدیر پر مکمل اعتماد و بھروسہ 35۔ ابن ابی الدنیا نے الرضا میں سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے تجھ پر کوئی بھی امر واقع ہو جس کو پسند کرتا ہو یا ناپسند کرتا ہو مگر اپنے دل میں یہ بات بٹھالے کہ وہ تیرے حق میں بہتر ہے بیٹے نے کہا یہی تو پھر میں تجھے عطا رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا سوائے اس کے میں جانو جو تو نے کیا اور جس طرح کہا لقمان فرمایا اے میرے بیٹے ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ایک نبی بھیجا ہے تم آجاؤ یہاں تک کہ تو اس کے پاس حاضر ہو اور تو اس کی تصدیق کرے بیٹے نے کہا اے میرے باپ چلیے ان کے پاس تو وہ نکلے ایک گدھے پر اور اس کا بیٹا دوسرے گدھے پر تھا اور دونوں نے سفر خرچ بھی لیا پھر وہ چند دن اور رات کو چلتے رہے یہاں تک کہ ان کو ایک جنگل نے آلیا ان دونوں نے اپنا سامان لیا اور اس میں داخل ہوگئے پھر وہ دونوں چلتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کو ایک جنگل نے آلیا ان دونوں نے اپنا سامان لیا اور اس میں اور اس میں داخل ہوگئے پھر وہ دونوں چلتے رہے جو اللہ نے چاہا یہاں تک کہ دوپہر ہوگئی اور دن بھی بلند ہوگیا گرمی سخت ہوگئی پانی اور سفرخرچ بھی کتم ہوگئے انہوں نے لشکر گدھوں کو روکا نیچے اتر گئے پھر ان کو سختی سے ہانکنے لگے اس درمیان کے وہ اسی حال میں تھے اچانک لقمان نے اپنے سامنے سیاہی اور دھواں دیکھا اچانک وہ سوار تھے انہوں نے اپنے دل میں کہا کہ اسود سے مراد ہے درخت اور دخان سے مراد ہے آبادی اور لوگ۔ اس درمیان کے وہ اس طرح گدھوں کے ہانکتے رہے اچانک لقمان کے بیٹے کا قدم ہڈی پر پڑٓ وہ بےہوش ہو کر گرپڑا۔ لقمان (علیہ السلام) اس پر تیزی سے آگے بڑھے اس کو اپنے سینے کی طرف لگایا اور ہڈی کو اپنے دانتوں سے نکالا پھر اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں بہہ پڑیں۔ بیٹے نے کہا اے اباجان تم روتے ہو حالانکہ آپ ہی کہتے تھے یہ خیر ہے بہتر ہے یہ میرے لیے کیسے خیر ہوگی کہ کھانا اور پانی ختم ہوگیا میں اور تو اس جگہ میں باقی رہ گئے تو چلا جا اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دے اور غم کے ساتھ جائے گا یہ غم اس وقت تک رہے گا جب تک تو باقی رہے اگر تو ہمارے ساتھ رہے گا تو ہم سب مرجائیں گے۔ لقمان نے فرمایا اے میرے بیٹے میرا رونا والدین کی جدائی ہے اور جو تو نے کہا کہ یہ میرے لیے کیسے خیر ہوگی شاید جس مصیبت سے تو دور رکھا گیا ہے وہ اس مصیبت سے عظیم ہے جس میں تجھے مبتلا کیا گیا شاید تجھے جس مصیبت میں مبتلا کیا گیا وہ اس سے آسان ہو جس کو تجھ سے پھیرا گیا ہے پھر لقمان نے اپنے آگے دیکھا تو یہ نہ دھواں دیکھا اور نہ ہی سیاہی دیکھی اچانک ایک آدمی چتکبرے گھوڑے میں سوار سامنے آیا جو سفید کپڑے اور سفید عمامہ پہنے ہوئے تھا جو ہوا کو چھو رہا تھا حضرت لقمان برابر اس کو دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ اس کے قریب پہنچ گیا پھر وہ ان سے غائب ہوگیا پھر یوں چیخا کہ تو لقمان ہے ؟ لقمان نے کہا ہاں میں لقمان ہوں۔ پھر پوچھا تو حکیم ہے کہا اسی طرح ہوں پھر پوچھا تیرے بیٹے نے تجھے کیا کہا ؟ لقمان نے پوچھا اے اللہ کے بندے تو کون ہے میں تیرا کلام سنتا ہوں لیکن تیرے چہرے کو بھی نہیں دیکھا اس نے کہا میں جبرئیل ہوں میرے رب نے اس شہر کو اور اس کے رہنے والوں کو زمین میں دھنسا دیا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ تم دونوں اس شہر کا ارادہ رکھتے ہو سو میں نے اپنے رب سے دعا کی کہ ہم دونوں کو اس شہر سے روکے جس کے ساتھ چاہے تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس چیز کے ساتھ اس شہر سے روکا جیسا چاہا اگر ایسا نہ ہوتا تو تم کو بھی ان کے ساتھ زمین میں دھنسا دیتا پھر جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنا ہاتھ بچہ کے قدم پر مارا تو وہ سیدھا کھڑا ہوگیا اور پھر اپنے ہاتھ کو اس برتن پر مارا جس میں کھانا تھا تو وہ کھانے سے بھر گیا اور اس برتن پر مارا جس میں پانی تھا تو پانی بھر گیا پھر ان کو اور ان کے گدھوں کو اٹھایا پھر ان کو لے کر تیزی سے اترے جیسے پرندے تیزی سے اترتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ اسی گھر میں ہیں جس سے چند دن پہلے نکلے تھے۔ 36۔ ابن ابی حاتم نے علی بن ریاح لحمی (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے جب اپنے بیٹے کو نصیحت کی اور فرمایا انہا ان تک اور ایک دانہ رائی میں سے لیا اور اس کو اس کی طرف لے آئے اسے اپنے سامان تجارت کی طرف پھینکا پھر وہاں ٹھہرے رہے جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا پھر یاد آیا اور اپنا ہاتھ بڑھایا پھر ایک مکھی اس دانے کو لائی اور آپ کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔ 37۔ البیہقی نے شعب الایمان میں مالک (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ صحت جیسی دولت نہیں ہے اور خوش دلی جیسی نعمت نہیں ہے۔ 38۔ البیہقی نے شعب الایمان میں وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ جس شخص نے بولنا ہے تو اس کے چہرے کی رونق جاتی رہتی ہے۔ اور جس کے اخلاق برے ہوتے ہیں تو اس کا غم زیادہ ہوتا ہے اور اپنی جگہ سے چٹانوں کو ہٹانا اس چیز سے آسان ہے کہ اسے بات سمجھائی جائے، جو سمجھتا نہ ہو۔ جھوٹ سے بچنے کی تاکید 39۔ ابن ابی شیبہ واحمد فی الزہد والبیہقی نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے میں نے بڑا پتھر اور ہر بھاری چیز کو اٹھایا ہے۔ مگر میں نے برے پڑوس سے بھاری چیز نہیں اٹھائی میں نے یہ کڑواہٹ دیکھی ہے۔ مگر نظر سے زیادہ کڑوی چیز نہیں دیکھی اے میرے بیٹے کسی جاہل کو اپنا قاصد بناکر نہ بھیج اگر تو نہ پائے کسی حکیم کو تو اپنی ذات کو قاصد بنا لے اے میرے بیٹے بچ تو جھوٹ سے کیوں کہ وہ مرغوب چڑیا کے گوشت کی طرح ہر اس تھوڑی چیز سے جسے آدمی پکارتا ہے اے میرے بیٹے جنازوں میں حاضر ہوا کر اور شادی میں حاضر نہ۔ کیونکہ جنازے تجھ کو آخرت یاد دلائیں گے اور شادی دنیا کی خواہش دلائے گی اے میرے بیٹے پیٹ بھرے ہو تو مت کھاؤ اگر تو اس کھانے کو کتے کے سامنے پھینک دے تو یہ بہتر ہوگا کہ تو اس کو کھالے میرے بیٹے اتنا میٹھا نہ ہوجا کہ تو نگل لیا جائے اور اتنا کڑوا نہ ہوجا کہ تو پھینک دیاجائے۔ 40۔ البیہقی نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے کہ اس مرغے سے زیادہ عاجز نہ ہوجا جو سحری میں آواز دیتا ہے اور تو اپنے بستر پر سو رہا ہو۔ 41۔ عبداللہ فی زوائدہ اور بیہقی نے عثمان بن زائدہ سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے توبہ کو موخر نہ کر کیونکہ موت اچانک آجاتی ہے۔ 42۔ ابن ابی شیبہ واحمد والبیہقی نے یسار بن حکیم (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) سے کہا گیا آپ کی حکمت کیا ہے فرمایا میں ضرورت سے زائد کا سوال نہیں کرتا اور بےمقصد چیز کا تکلف نہیں کرتا۔ 43۔ احمد نے الزہد میں ابو عثمان جعدی (رح) سے روایت ہے جو اہل بصرہ میں سے ایک شخص تھا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے جاہل کی محبت کی خواہش نہ کر ورنہ تیرے بارے میں یہ خیال کیا جائے گا کہ تو اس کے کام پر خوش ہے حکیم ناراضگی پر کزموری نہ دکھا کہ وہ تیرے اندر زہد پیدا کردے۔ 44۔ عبدالرزاق نے اغصب میں عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے فرمایا غیر کی لونڈی سے نکاح نہ کر تو اپنے بیٹے پر طویل دکھ دے کر جائے گا۔ 45۔ ابن ابی شیبہ واحمد نے الزہد میں محمد بن واسع (رح) سے روایت کیا کہ لقمان اپنے بیٹے سے فرمایا کرتے تھے اے میرے بیٹے اللہ تعالیٰ سے ڈر تو لوگوں کو یہ نہ دیکھا کہ تو اللہ سے ڈرتا ہے تاکہ وہ تیری عزت کریں جبکہ تیرا دل فسق وفجور کرنے والا ہو۔ 46۔ ابن ابی شیبہ واحمد وابن جریر نے خالد ربعی (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) ایک حبشی غلام تھے بڑھی کا کام کرنے والے تھے اس کے آقانے اس سے کہا میرے لیے ایک بکری ذبح کرو انہوں نے ایک بکری ذبح کی پھر اس نے کہا اس میں سے میرے لیے گوشت کے سب سے اچھے ٹکڑے لے آتو وہ اس کے پاس زبان اور دل لے آئے آقا نے کہا کہ اس سے بہتر کوئی چیز نہ تھی لقمان نے کہا نہیں یہ سن کر وہ خاموش رہا جب تک خاموش رہا بعد اس سے کہا کہ میرے ایک اور بکری ذبح ذبح کر انہوں نے ایک بکری ذبح کردی تو آقا نے کہا کیہ اس میں سے ناپاک ترین دو ٹکڑے پھینک دو تو انہوں نے زبان اور دل کو پھینک دیا آقا نے کہا میں نے تجھ کو حکم دیا تھا کہ ناپاک ترین دو ٹکڑے پھینک دو تو نے زبان اور دل کو پھینک دیا لقمان نے فرمایا ان دونوں سے زیادہ کوئی چیز پاکیزہ نہیں جب یہ دونوں پاکیزہ ہوں اور اگر یہ خبیث ہوجائیں تو ان دونوں سے زیادہ خبیث کوئی چیز نہیں۔ 47۔ عبداللہ نے اپنی زوائد میں عبداللہ بن زید سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے فرمایا خبردار ! کہ اللہ کا ہاتھ حکماء کے مونہوں پر ہوتا ہے وہ اپنی زبان سے وہی کچھ کہتے ہیں مگر جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے تیار کیا ہوتا ہے۔ 48۔ عبداللہ نے سفیان بن (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے خاموشی پر کبھی ندامت نہ کر اگر گفتگو چاندی کی ہو تو خاموشی سونے میں سے ہے 49۔ احمد نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے شر سے الگ ہوجاتا کہ وہ تیرے لیے الگ ہوجائے کیونکہ شر شر کے لیے پیدا کیا گیا۔ سخت غصہ سے اجتناب کرنے کی تائید 50۔ ہشام بن عروہ (رح) سے روایت کیا کہ اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ لقمان (علیہ السلام) کی حکمت سے لکھا ہوا ہے کہ اے میرے بیٹے حد درجہ رغبت کرنے سے بچو کیونکہ حد درجہ کی رغبت قربت کو قریبی سے ختم کردیتی ہے اور بردباری کو چھوڑ دیتی ہے جیسے تر کھجوریں اے میرے بیٹے سخت غصے سے بچو کیونکہ سخت غصہ حکیم کی ذہانت کو مٹا دیتا ہے۔ 51۔ ابن ابی شیبہ واحمد نے عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اور وہ اس کو نصیحت کر رہے تھے اے میرے بیٹے اپنی ذات کے لیے مجالس کا انتخاب کر جب تو ایسی مجلس کو دیکھے کہ وہ اس میں اللہ عز وجل کا ذکر کر رہے ہیں تو ان کے ساتھ بیٹھ جا اگر تو عالم ہے تو تیرا علم تجھ کو نفع دے گا اور اگر تو کند ذہن ہوگا تو وہ تجھ کو تعلیم دیں گے اور اللہ تعالیٰ ان پر رحمت فرمانا چاہے گا۔ تو اللہ کے ساتھ تجھے بھی رحمت ملے گی۔ اے میرے بیٹے ایسی مجالس میں نہ بیٹھو جن میں اللہ کا ذکر نہ کیا جاتا ہو۔ اگر تو عالم ہوگا تو تیرا علم تجھے نفع نہ دے گا اور تو کند ذہن ہوگا تو لوگ تیرے اس عیب میں اضافہ کریں گے اگر اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان پر ناراضگی کا اظہار کرے گا تو اس کے ساتھ تجھے بھی ناراضگی پہنچے گی اے میرے بیٹے تجھے کھلے بازؤوں والا غیظ وغضب میں مبتلا نہ کردے جو مومنوں کا خون بہاتا ہے کیونکہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسا قاتل ہے جسے موت نہیں آتی۔ 52۔ عبداللہ نے اپنی زوائد میں ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا تیرا کھانا نہ کھائیں مگر متقی لوگ اور اپنے معاملہ میں علما سے مشورہ کرو۔ 53۔ احمد بن ہشام بن عروہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کیا کرتے ہیں کہ لقمان (علیہ السلام) کی حکمت میں یہ لکھا ہوا ہے تیری گفتگو پاکیزہ ہونی چاہیے اور تیرا دسترخوان وسیع ہونا چاہیے تو لوگوں کے ہاں ان سے زیادہ محبوب ہوجائے جو ان کو عطایا دیتے ہیں اور فرمایا تورات میں لکھا ہوا ہے جیسے تم رحم کرو گے ایسا ہی تم پر رحم کیا جائے گا اور فرمایا حکمت میں لکھا ہوا ہے تیری گفتگو پاکیزہ ہونی چاہیے اور تیرا دسترخوان وسیع ہونا چاہیے۔ تو لوگوں کے ہاں ان سے زیادہ محبوب ہوجائے جو ان کو عطایا دیتے ہیں اور فرمایا تورات میں لکھا ہوا ہے جیسے تم رحم کرو گے ایسا ہی تم پر رحم کیا جاے گا اور فرمایا حکمت میں لکھا ہوا ہے جیسے تم بوؤ گے ویسے ہی کاٹو گے اور فرمایا حکمت میں لکھا ہوا ہے۔ اپنے دوستو اور اپنے والد کے دوست سے محبت کر۔ 54۔ احمد نے ابو قلابہ (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) سے کہا گیا لوگوں میں کون زیادہ صبر کرنے والا ہے ؟ فرمایا ایسا صبر جس کے ساتھ تکلیف نہ ہو کہا گیا لوگوں میں کون زیادہ عالم ہے فرمایا جو لوگوں کے علم میں سے اپنے علم میں اضافہ کرلے۔ کہا گیا لوگوں میں کون سب سے بہتر ہے تو فرمایا غنی پوچھا گیا مال کا غنی فرمایا نہیں لیکن وہ غنی جب اس کے پاس خیر کو تلاش کیا جائے اس حال میں کہ وہ اپنی ذات کو لوگوں سے غنی خیال کرے۔ 55۔ احمد نے سفیان ؓ سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) سے کہا گیا لوگوں میں کون زیادہ شریر ہے ؟ فرمایا جو اس بات کی پرواہ نہ کرے کہ لوگ اس کو گناہ کرنے والا دیکھیں۔ علم حاصل کرنا صرف عمل کے لیے ہو 56۔ احمد نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حکمت کی بعض چیزوں میں سے یہ بات پائی کہ اللہ تعالیٰ ٹھنڈا کردیں گے ان لوگوں کی ہڈیوں کو جو لوگوں کی عزتوں سے کھیلتے ہوں اور میں نے حکمت میں یہ بھی پایا کہ تیرے لیے خیر نہیں اس بات میں کہ تو ایسی چیز لکا علم حاصل کرے جو پہلے نہ جانتا ہو جب کہ اس پر عمل نہ کرے جس کو تو جانتا ہے بلاشبہ اس کی مثال اس آدمی کی مثال کی طرح ہے جس نے لکڑیاں اکٹھی کیں پھر ان کا گٹھا بنایا اس کو اٹھانے لگا تو اٹھانے سے عاجز رہا تو اس نے ان لکڑیوں کے ساتھ اور لکڑیاں جمع کردیں۔ 57۔ احمد نے محمد بن محادہ (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے فرمایا لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ حکیم آنکھ ٹھنڈی نہ ہوگی۔ 58۔ احمد نے سفیان (رح) سے نے ان لوگوں سے روایت کیا کہ جنہوں نے ان کو خبر دی کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے کہ دنیا گہرا سمندر ہے اور اس میں بہت سے لوگ غرق ہوگئے اس میں اپنی کشتی اللہ کے تقوی کو بنا لے اور اس کا فالتو سامان ایمان باللہ اور اس کے بادیان توکل علی اللہ کو بنا لے شاید کہ تو نجات پاجائے۔ اور میں تجھ کو نجات پانے والا نہیں دیکھتا۔ 59۔ عبداللہ نے اپنی زوائد میں عوف بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ اے میرے بیٹے میں نے اٹھا یا ہے پتھر کو اور لوہے کو اور میں نے کسی چیز کو تیرے پڑوسی سے زیادہ بھاری نہیں اٹھایا میں نے ہر کڑوی چیز کو چکھا مگر میں نے فقر سے زیادہ کوئی کڑوی چیز نہیں چکھی۔ 60۔ احمد نے شرجیل بن مسلم (رح) سے روایت کیا کہ لقمان نے فرمایا میں جھگڑے کو کم کرتا ہوں وہی بات کرتا ہوں جو میرے مقصد کی ہوتی ہے۔ تعجب کے بغیر زیادہ ہنسنے والا نہیں اور نہ کسی تک بات پہنچاتا ہوں بغیر مقصد کے۔ 61۔ احمد نے ابولجلد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حکمت میں پڑھا کہ جس کی ذات اسے نصیحت کرنے والی ہو تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک حفاظت کرنے والا ہوتا ہے اور جو لوگوں سے انصاف کرنے والا ہو اپنی جانب سے تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت کو بڑھا دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں عاجزی اختیار کرنا معصیت میں عزت سے بڑھ کر قریب کا باعث ہے۔ 62۔ احمد نے عبداللہ بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے اپنے نفس کو اس کے مقام پر رکھ جیسے تجھ کو کوئی غرض نہیں اور تیرے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو اے میرے بیٹے اس شخص کی طرح ہوجا جو لوگوں کی تعریف کی خواہش نہ رکھتا ہو نہ ہی اس کی خدمت حاصل کرنے والا ہو اور اس کا نفس اس سے تھکا ماندہ ہو مگر لوگ اس سے راحت پاتے ہوں۔ 63۔ احمد نے ابن ابی یحییٰ (رح) سے روایت کیا کہ لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے حکمت مساکین کو بادشاہوں کی مجلسوں میں بٹھاتی ہے۔ 64۔ احمد نے معاویہ بن قرۃ (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے اللہ کے بندوں میں سے نیک لوگوں کے ساتھ بیٹھا کرو تو ان کے ساتھ بیٹھ کر بھلائی پائے گا اور شاید کہ آخر میں ان پر رحمت اتر پڑے تو اس کے ساتھ تجھ کو بھی پہنچے گی اے میرے بیٹے برے لوگوں کی مجلسوں میں نہ بیٹھا کرو ان کی مجلس سے تجھے خیر نہیں پہنچے گی اور شاید کہ آخر میں ان پر کوئی عذاب نازل ہو تو ان کے ساتھ وہ تجھ کو بھی پہنچے گا۔ 65۔ احمد نے ابن ابی نجیح (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے فرمایا خاموشی حکمت ہے اور اس پر عمل کرنے والے تھوڑے ہیں طاؤس نے فرمایا اے ابو نجیح جس نے بات کی اور اللہ سے ڈرا تو وہ اس سے بہتر ہے جو خاموش رہا اور اللہ سے ڈرا۔ 66۔ احمد نے عون (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے جب تو کسی قوم کی مجلس کی طرف پہنچے تو ان کو سلام کرو پھر ان کی ایک جانب میں بیٹھ جاؤ اگر وہ اللہ کے ذکر میں مشغول ہوں تو ان کے ساتھ بیٹھ جاؤ اور اگر اس کے علاوہ کسی دوسرے کام میں مشغول ہوں تو ان سے اٹھ جاؤ۔ عزیز و اقارب کی موت پر صبر 67۔ عبداللہ نے اپنی زوائد میں عبیداللہ بن دیناررحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ لقمان سفر سے آئے تو ان کو راستہ میں ایک لڑکا ملا آپ نے اس سے پوچھا میرے باپ کا کیا ہوا اس نے کہا وہ مرگیا فرمایا الحمدللہ میں اپنے معاملات کا خود مالک ہوگیا ہوں پھر پوچھا میری بیوی کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا وہ مرگئی فرمایا میں نیا نکاح کروں گا پھر پوچھا میری بہن کا کیا ہوا اس نے کہا وہ مرگئی فرمایا اس نے میری عزت پر پردہ ڈال دیا۔ پھر پوچھا میرے بھائی کا کیا ہوا اس نے کہا وہ بھی مرگیا فرمایا میری کمر ٹوٹ گئی۔ 68۔ عبداللہ نے اپنی زوائد میں عبدالوہاب بن بخت مکی (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے علماء کے ساتھ بیٹھا کرو اور ان کے قریب رہا کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ البتہ زندہ کرتے ہیں مردہ دلوں کو حکمت کے نور کے ساتھ جیسے زمین کو زندہ کرتے ہیں آسمان کی بارش کے ساتھ۔ 69۔ عبداللہ بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے رک جا جو نکلتا ہے تیرے منہ سے جب تک تو خاموش رہے گا سلامت رہے گا اور بلا شبہ تجھ کو وہ بات کرنی چاہیے جو تجھ کو نفع دے۔ 70۔ احمد نے محمد بن ربیع (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے مت سیکھو اس چیز کو جو تو نہیں جانتا یہاں تک کہ تو عمل کرے اس چیز سے جو تو جانتا ہے۔ 17۔ احمد نے بکر مزنی (رح) سے روایت کیا کہ لقمان علی السلام نے فرمایا کہ والد کا مارنا اپنی اولاد کو ایسے ہے جیسے کھیتی کے لیے پانی۔ 72۔ القالی امالی میں عبید (رح) سے روایت کیا کہ تجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ لقمان (علیہ السلام) فرمایا کرتے تھے کہ تین چیزیں تین جگہوں میں پہچانی جاتی ہیں حلیم غصہ کے وقت۔ بہادر جنگ کے وقت اور تیرا بھائی جب تیری حاجت ہو اس کی طرف۔ 73۔ وکیع نے الغرر میں حنظلی (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے اگر تو ارادہ کرے کہ تو کسی آدمی کے ساتھ برادرانہ تعلقات قائم کرے تو اس سے پہلے اسے غصہ دلا۔ اگر وہ تیرے ساتھ انصاف کرے غصہ کے وقت تو ٹھیک ورنہ اس سے چوکنا رہ۔ 74۔ الدارقطنی نے مالک بن انس (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے جب سے تو دنیا میں آیا ہے تو اس نے پیٹھ پھیرلی ہے اور دوسرے گھر کی طرف منہ کرلیا ہے اور وہ ایک ایسا گھر ہے جس کی طرف تو جارہا ہے وہ اس گھر سے زیادہ قرب ہے جس سے تو دور ہو رہا ہے۔ 75۔ ابن المبارک نے ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) فرمایا کرتے تھے میرے ساتھی کو غافل نہ بنا۔ جب میں تیرز ذکر کرتا ہوں وہ میری مدد نہیں کرتے اور جب میں تجھ کو بھول جاتا ہوں تو وہ مجھے یاد کرتے ہیں اور جب میں حکم کرتا ہوں وہ میری اطاعت نہیں کرتے اور میں خاموش ہوتا ہوں تو مجھ کو رنجیدہ کرتے ہیں۔ 76 الحکیم الترمذی نے معتمر (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے عادی بنا اپنی زبان کو کہ وہ کہے اے اللہ میری مغفرت فرما اکیون کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک ایسی گھڑی ہے جس میں دعا رد نہیں کی جاتی۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے کی تاکید 77۔ الخطیب نے حسن (رح) سے روایت ہے کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے قرضے سے بچ کیونکہ دن کو ذلت اور رات کو بےچینی ہے۔ 78۔ ابن ابی الدنیا والبیہقی نے شعب الایمان میں وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے اللہ تعالیٰ سے امید رکھ وہ تجھ کو اس کی ناجرمانی پر جرات نہ دلائے اور اللہ تعالیٰ سے ایسا خوف کر جو تجھ کو اس کی رحمت سے مایوس نہیں کرے۔ 79۔ عبدالرزاق نے عمر بن عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا کہ لقمان (علیہ السلام) نے فرمایا جب تیرے پاس کوئی آدمی آئے اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوں تو تو اس کے حق میں فیصلہ نہ کر یہاں تک کہ اس کا مد مقابل آجائے شاید کہ وہ اس حال میں آئے کہ اس کی آنکھوں سے دوگنا آنسو جاری ہوں۔ 80۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا اے آدم کے بیٹے میں نے تجھ کو پیدا کیا اور تو میرے علاوہ دوسرے کی عبادت کرتا ہے اور تو میری طرف دعوت دیتا ہے اور خود مجھ سے دور بھاگتا اور تو مجھ کو یاد کرتا ہے اور تو مجھ کو بھول جاتا ہے یہ زمین میں بڑا ظلم ہے پھر حسن یہ آیت ان الشرک لظلم عظیم کہ شرک بڑا ظلم ہے۔