29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 29:1–3

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگوں نے یہ خیال کیا ہے کہ وہ اتنا کہنے سے چھوڑ دئیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کو آزمایا جائے گا

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور بلا شبہ ہم نے ان سے پہلے لوگوں کو آزمایا ہے سو اللہ ضرور ضرور ان لوگوں کو جان لے گا جو سچے ہیں اور ضرور ضرور جھوٹوں کو بھی جان لے گا

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے آیت الم، احسب الناس ان یترکو کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مکہ میں تھے اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے مدینہ منورہ سے ان کی طرف لکھا جب ہجرت کی آیت نازل ہوئی کہ تم سے اقرار اور اسلام کو قبول نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ تم ہجرت کرو تو وہ لوگ مدینہ منورہ کا ارادہ کرتے ہوئے نکل پڑے مشرکین ان کے پیچے لگ گئے اور ان کو واپس مکہ لوٹا دیا تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی پھر انہوں نے ان کی طرف لکھا کہ تمہارے بارے میں اس طرح اور اس طرح آیت نازل ہوئی ہے تو انہوں نے کہا ہم نکلیں گے اگر کوئی ہمارے پیچھے لگا تو ہم اس سے لڑیں گے وہ نکلے تو مشرکین ان کے پیچھے لگ گئے وہ ان سے لڑے تو بعض ان میں سے شہید ہوگئے اور بعض ان میں سے نجات پاگئے تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت ثم ان ربک للذین ہاجروا من بعد مافتنوا ثم جہدو وصبروان ربک من بعدہا لغفور رحیم۔ (النمل) یعنی بلاشبہ تیرا رب ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ہجرت کی اس کے بعد کہ وہ آزمائے گئے پھر انہوں نے جہاد کیا اور صبر کیا کہ بلاشبہ تیرا رب اس کے بعد اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ 2 ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت الم، احسب الناس الایۃ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت مکہ والوں میں سے کچھلوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مکہ سے نبی ﷺ کا ارادہ کرتے ہوئے نکلے تو مشرکین ان کے سامنے آگئے اور وہ واپس لوٹ گئے ان کے بھائیوں نے ان کی طرف وہ آیات لکھ کر بھیجیں جو ان کے بارے میں نازل ہوئی تھیں تو وہ دوبارہ نکلے مشرکین پھ ران کے پیچھے پڑگئے ان سے لڑ پڑے تو ان میں کچھ شہید ہوگئے اور کچھ بچ نکلے تو ان کے بارے میں قرآن نازل ہوا آیت والذین جاہدو فینا لنہدینہم سبلنا یعنی وہ لوگ جنہوں نے ہمارے راستے میں جہاد کیا ہم ان کو ضرور اپنا راستہ دکھائیں گے۔ 3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیات کیا کہ یہ آیات اس قوم کے بارے میں نازل ہوئیں جن کو مشرکین نے مکہ کی طرف سے واپس لوٹا دیا تھا اور یہ دس آیات مدنی ہیں اور باقی ساری آیات مکی ہیں۔ 4۔ ابن سعد وابن جریر وابن ابی حاتم وابن عساکر نے عبداللہ بن عبید بن عمیر (رح) سیر وایت کیا کہ یہ آیت الم، احسب الناس ان یترکو عمار بن یاسر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جن کو اللہ کے راستے میں عذاب دیا جاتا تھا۔ 5۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عمیر وغیرہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ابو جہل اللہ اس پر لعنت کرے عمار بن یاسر اور اس کی ماں کو عذاب دیتا تھا۔ اور عمار پر گرمی کے دن میں لوہے کی بنی ہوئی قمیض پہنا دیتا اور اس کی ماں کی شرم گاہ میں اس نے نیزہ ماردیا اس بارے میں یہ آیت الم، احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا اٰمنا وہم لا یفتنون نازل ہوئی یعنی کیا لوگوں نے خیال کر رکھا ہے کہ صرف اتنا کہہ دینے سے کہ ہم ایمان لے آئے ان کو چھوڑدیا جائے گا اور ان کی جانچ نہیں کی جائے گی۔ 6۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وہم لا یفتنون یعنی ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی ان کے مالوں میں اور ان کی جانوں میں آیت ولقد فتنا الذین من قبلہم یعنی ہم نے آزمایا ان لوگوں کو جو ان سے پہلے تھے۔ مومن کی آزمائش ہوتی ہے 7۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت احسب الناس ان یترکوا ان یقولقوا اٰمنا وہم لایفتنون یعنی ان کو آزمایا جائے گائے گا آیت ولقد فتنا الذین من قبلہم یعنی ہم نے ان لوگوں آزمایا جو ان سے پہلے تھے آیت فلیعلمن اللہ الذین صدقوا یعنی تاکہ وہ جان لیں سچ بولنے والے کو جھوٹ بولنے والے سے اور فرمانبرداری کرنے والے کو نافرمانی کرنے والے سے اور یہ کہا جاتا تھا کہ مومن کو کھرا کھوٹا کیا جاتا ہے مصیبت کے ساتھ جیسے سونے کو کھرا کھوٹا کیا جاتا ہے آگ کے ساتھ اور کہا جاتا ہے کہ فتنہ کی مثال کھوٹے درہم کی مثال کی طرح ہے اس کو اندھا آدمی لے لیتا ہے اور دیکھنے والے اس کو دیکھ لیتے ہیں۔ 8۔ ابن ابی حاتم نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت فلیعمن اللہ الذین صدقوا ولیعلمن الکذبین سو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جان کر رہے گا جو ایمان کے دعوے میں سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی جان کر رہے گا کہ لوگ بھی ان کو جانتے ہیں کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔ 9۔ ابن مردویہ وابو نعیم فی الحلیہ میں ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کسی نبی کو اس کی امت کی طرف بھیجتے تھے اور وہ ان میں رہتا تھا دنیا میں ان کی مدت کے پورا ہونے تک پھر اللہ تعالیٰ اس کو اپنی طرف اٹھالیتے ہیں تو اس کے بعد وہ امت کہتی تھی یا ان میں سے جس کو اللہ نے چاہا وہ کہتا تھا کہ ہم نبی کے طریقے اور اس کے راستے پر ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان پر مصیبتوں کو نازل فرمادیتے پھر جو ان میں سے اپنے دعویٰ پر ثابت قدم رہتا جس پر وہ تھا تو وہ سچا ہوتا اور جو اس کی مخالفت کرتا جھوٹا ہوتا۔ 10۔ ابن ماجہ وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے جنہوں نے اپنے اسلام کو ظاہر کیا وہ سات تھے۔ رسول اللہ ﷺ ابوبکر، سمیر، عمار کی والدہ، عمار، صہیب، بلال اور مقداد ؓ جہاں تک رسول اللہ ﷺ کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کے چچا ابوطالب کے واسطہ سے آپ کی حفاظت کی جہاں تک ابوبکر ؓ کا معاملہ ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کے ذریعہ ان کی حفاظت کی باقی افراد کو مشرکین نے پکڑ لیا اور ان کو لوہے کی زرہیں پہنادیں اللہ تعالیٰ کی وجہ سے ان کی جانیں ان پر حقیر ہوگئیں اور یہ لوگ اپنی قوم پر بھی حقیر تھے وہ ان کو پکڑتے اور لڑکوں کے حوالے کردیتے وہ ان کو مکہ کی گلیوں میں گھمائے پھرتے اور وہ کہتے تھے احد احد اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 29:4

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

جو لوگ برے کام کرتے ہیں کیا یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم سے چھوٹ کر کہیں بھاگ جائیں گے برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں

1۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ام حسبت الذین یعملون السیئات کیا ان لوگوں نے گمان کیا جو برے کام کرتے ہی یعنی شرک کرتے ہیں 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعب بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان یسبقونا یعنی کیا وہ ہم کو عاجز کردیں گے۔
Ayahs 29:5–7

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو شخص اللہ کی ملاقات کی امید رکھتا ہے سو بلاشبہ اللہ کا مقرر کردہ وقت ضرور آنے والا ہے اور وہ سننے والا ہے جاننے والا ہے

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

جو شخص مجاہدہ کرتا ہے سو وہ اپنے لیے ہی محنت کرتا ہے بلاشبہ اللہ سارے جہانوں سے بےنیاز ہے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ضرور ضرور ہم ان کی برائیوں کا کفارہ کردیں گے اور ضرور ہم انہیں ان کے کاموں کا اچھے سے اچھا بدلہ دیں گے

1۔ ابن ابی حاتم عن سعید بن جبیر وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت من کان یرجوا لقاء اللہ سے مراد ہے کہ جو شخص آخرت میں دوبارہ اٹھائے جانے سے ڈرتا ہے۔
Ayahs 29:8–9

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو تاکیدی حکم دیا کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ اور اگر وہ تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹہرا جس کی دلیل تیرے پاس نہیں ہے سو تو ان کی فرمانبرداری نہ کرنا، میری طرف تم لوگوں کو واپس ہونا ہے سو میں تمہیں ان کاموں سے باخبر کردوں گا جو تم کیا کرتے تھے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے سو ہم ان کو ضرور ضرور نیک بندوں میں داخ کردیں گے

والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید 1۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ میری ماں نے کہا کہ میں اس وقت تک نہ کھاؤں گی نہ پیوں گی یہاں تک کہ تو محمد ﷺ کا انکار کردے چناچہ وہ کھانے پینے سے رک گئی یہاں تک کہ لوگوں نے اس کے منہ کو لاٹھی سے بھرنا شروع کردیا تو یہ آیک آیت نازل ہوئی آیت ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا وان جاہداک لتشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعہما اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساستھ بھلائی کرنے کی نصیحت کی اور اگر وہ دونوں تم پر زور دے کر کہیں کہ تو میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک قرار دو کہ جن کا تمہیں کوئی علم نہیں تو ان کا کہنا نہ ماننا۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا وان جاہدک لتشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعہما کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت سع دبن مالک کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے ہجرت کی تو ان کی ماں نے کہا اللہ کی قسم میں کسی سائے میں نہیں بیٹھوں گی یہاں تک کہ تو لوٹ آئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی کہ ان دونوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور شرک کے معاملے میں ان کا کہنا نہ مانو۔
Ayahs 29:10–11

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور بعض لوگ وہ ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے پھر جب انہیں اللہ کے بارے میں تکلیف دی جاتی ہے تو لوگوں کی ایذا رسانی کو اللہ کے عذاب کی طرح بنالیتے ہیں اور اگر ان کے پاس آپ کے رب کی طرف سے مدد آجائے تو ضرور ضرور یوں کہیں گے کہ ہم تمہارے ساتھی تھے کیا اللہ جہان والوں کے سینوں کی باتوں کو خوب اچھی طرح جاننے والا نہیں ہے ؟

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور البتہ اللہ ایمان والوں کو ضرور جان لے گا اور وہ ضرورضرور منافقوں کو جان لے گا۔

1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یقول اٰمنا باللہ فاذا اوذی فی اللہ سے لے کر آیت ولیعلمن المفقین تک سے مراد ہے کہ کچھ لوگ ایمان لاتے ہیں اپنی زبانوں کے ساتھ جب ان کو کوئی مصیبت لوگوں نے کی طرف سے پہنچتی ہے یا کوئی مصیبت ان کو اپنی جانوں میں یا اپنے مالوں میں پہنچتی ہے تو فتنہ میں مبتلا ہوجاتے اور یہ دنیا میں اس پہنچنے والی تکلیف کو ان کے لیے ایسا بنا دیا گیا جیسے آخرت میں اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یقول اٰمنا باللہ سے مراد ہے کہ کچھ مومن تھے جو ایمان لانے کے بعد ہجرت کرنے لگے ابوسفیان ان کو مل گیا اور ان میں سے بعض کو مکہ لے گیا اور ان کو تکلیفیں دے وہ لوگ آزمائے گئے تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا اوذی فی اللہ کے بارے میں روایت کیا کہ جب کسی کو مصیبت پہنچے اللہ تعالیٰ کی وجہ سے تو لوگوں کی طرف سے دی جانے والی تکالیف اللہ کے عذاب جیسی ہوجاتی ہے۔ 4۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فتنۃ الناس سے مراد ہے کہ وہ پھرجاتا اللہ کے دین سے جب اس کو اللہ کے راستے میں تکلیف دی جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تکلیفیں برداشت کی 5۔ احمد وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید والترمذی وصھحہ وابن ماجہ وابو یعلی وابن حبان وابو نعیم والبیہقی فی شعب الایمان والضیا نے انس ؓ سے روایت کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں اللہ کے رستے میں اتنی تکلیف دیا گیا کہ کوئی بھی ایسی تکلیف نہیں دیا گیا اور میں اللہ کے راستے میں اتنا ڈرایا گیا کہ کوئی بھی ایسا نہیں ڈرایا گیا اور مجھ پر تیسرا دن ایسا بھی آیا کہ میرے لیے اور بلال کے لیے ایسا کھانا نہیں تھا کہ جس کو ایک جگر والا انسان کھاتا ہے مگر اتنا کھانا تھا کہ بلال کی بغل چھپائے ہوئے تھی۔ 6۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یقول اٰمنا سے مراد ہے کہ مکہ میں کچھ منافقین میں سے ایمان لائے تھے پھر جب ان کو مشرکین کی طرف سے اذیت دی جاتی تو وہ کفر اور شرک کی طرف لوٹ جاتے اذیت دینے والوں کے ڈر کی وجہ سے ان کے لیے لوگوں کی طرف سے دی جانے والی اذیت اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرح بنادی گئی۔ 7۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن الناس من یقول اٰمنا سے لے کر آیت ولیعلمن المنفقین تک کہ یہ آیات ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جن کو مشرکین نے مکہ کی طرف لوٹادیا تھا اور یہ دس آیات مدنی ہیں۔
Ayahs 29:12–13

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور کافروں نے ایمان والوں سے کہا کہ تم ہمارے راستے کا اتباع کرلو اور تمہارے گناہوں کو ہم اٹھالیں گے حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں ہیں بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور وہ لوگ ضرورضرور اپنے بوجھوں کو اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسروں کے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور قیامت کے دن ضرور ضرور ان باتوں کا سوال کیا جائے گا جو دنیا میں جھوٹ بناتے ہیں

1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت وقال الذین کفرو للذین اٰمنواتبعوا سبیلنا ولنحمل خطیکم کے بارے میں فرمایا یعنی کافروں نے ایمان والوں سے کہا ہمارے دین پر چلو اور ہم تمہارے گناہ اٹھالیں گے یہ مکہ میں رہنے والے مشرکین جو کافر تھے وہ ایمان والوں کو کہتے نہ ہم کو اٹھایا جائے گا اور نہ ہی تم کو تم ہماری پیروی کرو اگر تم پر کوئی مصیبت آئی تو وہ ہم پر ہوگی یعنی ہم اس کو بھگت لیں گے۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے آیت وقال الذین کفروا کے بارے میں روایت کیا کہ آیت الذین اتبعوا سبیلنا یعنی ہمارے دین کا اتباع کرو اور محمد ﷺ کے دین کو چھوڑو۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وماہم بحملین یعنی وہ ایسا کرنے والے نہیں ہیں ولیحملن اثقالہم یعنی وہ ضرور اٹھائیں گے ان کے گناہوں کے بوجھ کو آیت واثقالا مع اثقالہم یعنی ان لوگوں کے گناہوں کے بوجھ کو جن کو انہوں نے گمراہ کیا تھا۔ 4۔ ابن ابی شیبہ فی المصنف وابن المنذر نے ابن الحنیفہ (رح) سے روایت کیا کہ ابو جہل اور قریش کے سردار لوگوں سے ملتے تھے جب وہ نبی ﷺ کے پاس آکر مسلمان ہوتے تھے اور کہتے تھے کہ انہوں نے یعنی نبی ﷺ نے شراب کو حرام کرتا ہے اور زنا کو حرام کرتا ہے اور ان تمام چیزوں کو حرام کرتا ہے جو عرب کے لوگ کرتے ہیں تم اپنے دین کی طرف واپس لوٹ آؤ اگر تم پر کوئی بوجھ آنپڑا تو ہم اٹھالیں تو یہ آیت ولیحملن اثقالہم واثقالا مع اثقالہم نازل ہوئی یعنی اور یہ لوگ اپنا بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے اعمال کے بوجھ کے ساتھ اور بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ 5۔ الفریابی وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے آیت ولیحملن اثقالہم واثقالا مع اثقالہم کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت اس طرح کی ہے جو نحل میں ہے آیت لیحملوا اوزارہم کاملۃ یوم القیمۃ ومن اوزار الذین یضلونہم آیت (النحل 25) تاکہ وہ قیامت کے دن اپنے بوجھ پورے اٹھائیں اور کچھ ان کے بوجھ جنہیں وہ بےعلمی میں گمراہ کرتے ہیں۔ 6۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت ولیحملن اثقالہم واثقالا مع اثقالہم کے بارے میں فرمایا کہ ان پر اپنے گناہوں اور ان کی پیروی کرنے والے کے گناہوں کا بوجھ ہوگا اس سے ان پیروی کرنے والو کے عذاب میں سے ذرا بھی کمی نہیں ہوگی۔ 7۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی بلانے والا ہدایت کی طرف بلائے پھر جو کوئی اس کی پیروی کرے گا اور اس پر عمل کرے گا تو اس کے لیے ان لوگوں کے اجر کے برابر اجر ہوگا جنہوں نے اس کی پیروی کی اور ان کے اجر میں سے کچھ بھی کمی نہ ہوگی۔ اور جو کوئی بلانے والا گمراہی کی طرف بلائے جو کوئی اس کی پیروی کرے گا اس پر عمل کرے گا تو اس کے لیے ان لوگوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہوگا جنہوں نے اس کی پیروی کی اور ان کے گناہوں میں سے ذرا بھی کمی نہیں ہوگی عون نے کہا کہ حسن (رح) یہ پڑھا کرتے تھے آیت ولیحملن اثقالہم واثقالا مع اثقالہم۔ 8۔ ابن ابی حاتم نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم ظلم سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے میری عزت کی قسم آج ظلم مجھے کسی چیز کے ساتھ بدلہ نہیں دے گا پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا فلاں بن فلاں کہاں ہے ؟ وہ آئے گا اور اس کے پیچھے پہاڑوں کے برابر نیکیاں بھی آئیں گی لوگ اپنی آنکھوں کو اس کی طرف اٹھائیں گے پھر وہ رحمن کے سامنے کھڑا ہوگا پھر آواز دینے والے کو حکم دیں گے تو وہ آواز دے جس آدمی کا فلاں بن فلاں پر ظلم کا کوئی الزام ہو تو وہ آجائے لوگ کھڑے ہوجائیں گے یہاں تک کہ رحمن کے سامنے اکٹھے ہوجائیں گے تو رحمن فرمائیں گے تم میرے بندے سے حق لے لو تو وہ لوگ کیں گے ہم اس سے اپنا حق کیسے لیں تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اس کی نیکیاں لے لو لوگ اس کی نیکیاں لیتے رہیں گے یہاں تک کہ اس کی کوئی نیکی باقی نہیں رہی پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ان لوگوں کی برائیاں لو اور اس پر ڈال دو پھر رسول اللہ ﷺ نے اس آیت سے استدلال کیا آیت ولیحملن اثقالہم واثقالا مع اثقالہم۔ 9۔ احمد نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سوال کیا تو لوگوں نے کچھ نہ دیا پھر ایک آدمی نے اس کو کچھ عطا کیا تو دوسرے لوگوں نے عطا کیا یعنی صھابہ کرام نے بھی اس کو دینا شروع کردیا نبی ﷺ نے فرمایا جس نے کوئی خیر کا طریقہ قائم کیا اور لوگوں نے اس کی پیروی کی تو اس کے لیے اس کا اجر ہوگا اور ان لوگوں کے اجر میں سے ملے گا جنہوں نے اس کی پیروی کی ان لوگوں کے اجر یعنی ثواب میں سے ذرا بھی کمی نہیں کی جاتی اور جس نے کوئی برے کام کا طریقہ قائم کیا اور لوگوں نے اس کی پیروی کی تو اس پر اپنے عمل کا بوجھ ہوگا اور ان لوگوں کے اعمال کا بھی بوجھ ہوگا جنہوں نے اس کی پیروی کی اور ان لوگوں کے گناہوں میں سے کوئی کمی نہ ہوگی۔ 10۔ الترمذی وحسنہ وابن مردویہ نے ابوہریرہ اور ابودرداء ؓ دونوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چلو چلو مفردون آگے بڑھ گئے پوچھا گیا یارسول اللہ مردون کون ہے۔ فرمایا جو لوگ اللہ کی یاد میں ہی لگے رہتے ہیں ان سے ذکر ان کے بوجھوں کو گرادے گا یعنی ذکر کی برکت سے ان کے گناہ ختم ہوجائیں گے اور وہ لوگ قیامت کے دن ہلکے پھلکے آئیں گے۔
Ayah 29:14

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا سو وہ ان میں پچاس کم ہزار سال رہے سو ان لوگوں کو طوفان نے پکڑ لیا اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والے تھے

1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی جبکہ ان کی عمر چالیس سال تھی اور وہ ان میں نو سو پچاس رہے لوگوں کو اللہ کی طرف طلاتے تھے اور طوفان کے بعد بھی ساٹھ سال زندہ رہے یہاں تک کہ لوگ عام ہوگئے۔ 2۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) کی عمر ان کی قوم کی طرف بھیجنے سے پہلے اور بھیجنے کے بعد کی کل عمر ایک ہزارسات سو سال تھی۔ نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تبلیغ کی 3۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ مجھ سے ابن عمر نے پوچھا کہ نوح (علیہ السلام) اپنی قوم میں کتنا رہے ؟ میں نے کہا نوسو پچاس سال تو انہوں نے فرمایا جو تم سے پہلے تھے وہ لمبی عمروں والے تھے پھر لوگ برابر کم ہوتے رہے آج تک اخلاق میں عمروں میں عقلوں میں اور جسموں میں۔ 4۔ ابن جریر نے عون بن شداد (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو اپنی قوم کی طرف بھیجا اور وہ تین سو پچاس سال کے تھے ان میں سے نو سو پچاس سال رہے پھر اس کے بعد تین سو پچاس سال زندہ رہے۔ 5۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب ذم الدنیا میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ ملک الموت نوح (علیہ السلام) کے پاس آئے اور فرمایا اے نبیوں میں سب سے لمبی عمر پانے والے دنیا اور اس کی لذت کو آپ نے کیسے پایا تو فرمایا اس آدمی کی طرح سے جو ایک کمرے میں داخل ہوا جس کے دو دروازے تھے وہ تھوڑی دیر کے لیے دروازے کے درمیان ٹھہرا اور پھر دوسرے دروازے سے نکل گیا۔ 6۔ عبدالرزاق وعبد بن حید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت فاخذہم الطوفان کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ پانی ہے جو ان پر بھیجا گیا۔ 7۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت الطوفان سے مراد ہے غرق ہونا 8۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فانجینہ واصحب السفینۃ سے مراد ہے نوح (علیہ السلام) کے بیٹے اور آپ کے بیٹوں کی بیویاں 9۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت وجعلناہا آیۃ للعلمین کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کشتی کو نشانی کے طور پر باقی رکھا اور وہ جو دی پہاڑ پر ہے واللہ اعلم۔
Ayahs 29:15–27

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کنجات دے دی اور اس واقعہ کو ہم نے تمام جہان والوں کے لیے عبرت بنادیا

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو بھیجا جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

اللہ کو چھوڑ کر تم بتوں کی ہی عبادت کرتے ہو اور جھوٹ تراشتے ہو یہ تمہارے لیے رزق کے مالک نہیں ہیں سو تم اللہ کے پاس رزق تلاش کرو اور اس کی عبادت کروا اور کا شکر ادا کرو تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم جھٹلاؤ گے تو تم سے پہلی امتیں جھٹلا چکی ہیں اور رسول کے ذمہ واجح طور پر پیغام پہنچانے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا فرمایا ہے پر وہ اسے دوسری بار پیدا فرمائے گا بلاشبہ یہ اللہ پر آسان ہے

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

آپ فرمادیجیے کہ زمین میں چلو پھر سو دیکھو اللہ نے پہلی بات کس طرح مخلوق کو پیدا فرمایا پھر دوسری مرتبہ بھی اللہ پیدا فرمادے گا بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

وہ جس کو چاہے گا عذاب دے گا اور جس پر چاہے گا رحم فرمائے گا اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور تم زمین پر کسی کو عاجز کرنے والے نہیں ہو اور نہ آسمان میں اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی کارساز اور مددگار نہیں

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا اور اس کی ملاقات کا انکار کیا یہ لوگ میری رحمت سے ناامید ہوں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

سو ان کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اس کو قتل کرڈالو یا جلاڈالو، سو اللہ نے ان کو آگ سے نجات دے دی، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور ابراہیم نے کہا کہ تم نے جو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو معبود بنا لیا ہے یہ تمہاری آپس کی دوستی کی وجہ سے ہے جو دنیا والی زندی میں ہے پھر قیام تکے دن تم ایک دوسرے کے مخالف ہوں گے اور تم میں سے بعض بعض پر لعنت کریں گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور تمہاری مدد کرنے والے بالکل نہ ہوں گے

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

سو لوط نے ابراہیم کی تصدیق کی اور ابراہیم نے کہا کہ بلاشبہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں بلاشبہ وہ عزیز ہے حکیم ہے۔

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عطا فرمائے اور ہم نے ان کی ذریت (اولاد) میں نبوت اور کتاب کو قائم رکھا اور ہم نے ان کو دنیا میں اس کا اجر دیا اور بلاشبہ وہ آخرت میں صالحین میں سے ہوں گے

1۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انما تعبدون من دون اللہ اوثانا یعنی بتوں کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر آیت وتخلقون افکا یعنی تم بت بنا لیتے ہو۔ 2۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ تراشتے ہو۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ گھڑتے ہو 4۔ فریابی اور ابن جریر نے مجاہد (رح) نے اسی طرح روایت کیا 5۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کیف یبدء اللہ الخلق ثم یعیدہ یعنی وہ ان کو دوبارہ اٹھائے گا آیت فانظروا کیف بدأ الخلق یعنی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا آیت ثم اللہ ینشء النشأۃ الاٰخرۃ یعنی موت کے بعد دوبارہ اٹھانا آیت فما کان جواب قومہ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم آیت فانجہ اللہ من لنار کعب میں فرمایا کہ آگ ان کو نہیں جلائے گی مگر قسم پوری کرنے کے لیے آیت وقال انما اتخذتم من دون اللہ اوثانا مودۃ بینکم فی الحیوۃ الدنیا انہوں نے کیا یہ بت اسلیے بنائے تھے تاکہ دنیا کی زندگی میں اس کا بدلہ حاصل کریں آیت ثم یوم القیمۃ یکفر بعضکم ببعض ویلعن بعضکم بعضا یعنی دنیا میں ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی ہوجائے گی مگر متقی لوگوں کی دوستی قائم رہے گی آیت فاٰمن لہ لوط یعنی لوط (علیہ السلام) نے ان کی تصدیق کی آیت وقال انہ مہاجر الی ربی یعنی کوفہ سے ہجرت کرنے والا ہوں یعنی سواد کوفہ سے شام کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں آیت واٰتینہ اجرہ فی الدنیا اجر سے مراد عافی تنیک عمل اور اچھی ثناء تو ملتوں میں سے کوئی ملت بھی نہیں دیکھے گا مگر وہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا آقا بنانے پر راضی ہوگئی۔ 6۔ عبد بن حمید نے عاصم بن ابو النجود (رح) سے روایت کیا کہ وہ دونوں کو آیت وتخلقون افکا کو تخفیف کے ساتھ پڑھتے تھے اور آیت اوثانا مودۃ کو منصوب تنوین کے ساتھ بینکم یہ بھی منصوب ہے۔ 7۔ ابن ابی شیبہ نے جبلہ بن سحیم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عمر ؓ سے پوچھا کہ مریض کے لیے لکڑی کے سہارے نماز پڑھنا کیسا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ میں تم کو حکم نہیں دیتا کہ تم اللہ کے سوا بتوں کو خدا بنا لو۔ اگر تو طاقت رکھتا ہے تو کھڑے ہو کر نماز پڑھ ورنہ بیٹھ کر پڑھ ورنہ لیٹے لیٹے پڑھ۔ 8۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت النشأۃ الاٰخرۃ سے موت کے بعد کی زندگی مراد ہے اور اس سے مراد دوبارہ اٹھنا ہے۔ 9۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فاٰمن لہ لوط سے مراد ہے کہ لوط (علیہ السلام) نے ابراہیم (علیہ السلام) کی تصدیق کی۔ 10۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقال انی مہاجر الی ربی یعنی وہ کہنے والے ابراہیم (علیہ السلام) ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ 11۔ ابن ابی حاتم نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ آیت وقال انی مہاجر الی ربی سے مراد ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حران کی طرف ہجرت کی۔ 12۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) نے اسی طرح روایت کیا۔ 13۔ ابن عساکر نے قتادہ (رح) سے آیت وقال انی مہاجر الی ربی کے بارے میں فرمایا کہ شام کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ ہجرت کا سلسلہ جاری رہے گا 14۔ ابن عساکر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اہل زمین سے بہترین لوگ یکے بعد دیگرے ہجرت کرتے رہیں گے یہاں تک کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت گاہ کی طرف ہجرت ہوگی۔ 15۔ ابو یعلی وابن مردویہ نے ان سؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے مسلمانوں میں سے عثمان بن عفان ؓ نے اپنی اہلیہ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان دونوں کی صبح بخیر کرے کہ عثمان ؓ یہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ اللہ کی طرف ہجرت کی لوط (علیہ السلام) کے بعد۔ 16۔ ابن منذر وابن عساکر نے اسماء بنت ابوبکر ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عثمان ؓ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے ابراہیم اور لوط (علیہ السلام) کے بعد ہجرت کی۔ 17۔ ابن عساکر والطبرانی والحاکم نے الکنی میں زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عثمان اور رقیہ ؓ کے درمیان اور لوط (علیہ السلام) اور ان کی اہلیہ کے درمیان رشتہ ہے اس اعتبار سے کوئی بھی اور مہاجر نہیں۔ 18۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ نے فرمایا سب سے پہلے جس نے رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کی وہ عثمان بن عفان ؓ تھے جیسے کہ لوط (علیہ السلام) نے ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف ہجرت کی۔ 19۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ووہبنا لہ اسحاق و یعقوب کے بارے میں روایت کیا کہ یہ دونوں ابراہیم (علیہ السلام) کے لڑکے تھے آیت واتینہ اجرہ فی الدنیا کے بلاشبہ الہ تعالیٰ نے تمام دین والوں کو آپ کے دین سے راضی کرلیا اور نہیں ہے کوئی دین والوں میں سے اگر وہ محبت رکھتے ہیں ابراہیم (علیہ السلام) سے اور آپ خوش ہوتے ہیں۔ 20۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واٰتینہ اجرہ فی الدنیا میں آجرہ سے ماد تعریف ہے 21۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آتینہ اجرہ فی الدنیا سے مراد نیک اولاد اور تعریف ہے۔
Ayahs 29:28–35

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ بلاشبہ تم بےحیائی کا کام کرتے ہو تم سے پہلے اس کام کو دنیا جہاں والوں میں سے کسی نے نہیں کیا

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم مردوں کے پاس آتے ہو اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں براکام کرتے ہو سو ان کی قوم کا جواب یہی تھا کہ تو اللہ کا عذاب لے آ اگر تو سچوں میں سے ہے

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

لوط نے عرض کیا کہ اے میرے رب فساد کرنے والے لوگوں کے مقابلہ میں میری مدد فرمائیے

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے خوشخبری لے کر ابراہیم کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ بلاشبہ ہم اس بستی کو ہلاک کرنے والے ہیں بلاشبہ اسی بستی کے لوگ ظالم ہیں۔

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا یہ یقینی بات ہے کہ اس بستی میں لوط بھی ہے انہوں نے کہا کہ ہم خوب جانتے ہیں کہ اس بستی میں کون ہے اور ہم لوط کو اور اس کے گھرواولوں کو ضرورضرور نجات دے دیں گے سوائے اس کی بیوی کے وہ رہ جانے والوں میں سے ہے

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرستادرے لوط کے پاس آئے تو وہ ان کی وجہ سے تنجیدہ ہوئے اور تنگ دل ہوئے اور قاصدوں نے کہا کہ آپ ڈئیے نہیں اور رنج نہ کیجیے بلاشبہ ہم آپ کو اور آپ کے گھروالوں کو نجات دینے والے ہیں سوائے آپ کی بیوی کے وہ رہ جانے والوں میں سے ہے۔

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

بلاشبہ ہم اس بستی والوں پر آسمان سے عذاب اتارنے والے ہیں اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کا کام کرتے رہے ہیں

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم نے اس بستی کے بعض نشان چھوڑ دئیے ہیں جو ظاہر ہیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے آیت وتقطعون السبیل کے بارے میں فرمایا کہ السبیل سے مراد وہ راستہ ہے جس پر مسافر گزرے مسافر ابن سبیل ہوتا ہے اس پر وہ ڈاکہ ڈالتے اور اس کے ساتھ برا کام کرتے۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتاتون فی نادیکم یعنی تم وہ اپنی مجلسوں میں۔ 3۔ الفریابی واحمد وعبد بن حمید والترمذی وحسنہ وابن ابی الدنیا فی کتاب الصمت ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والفاشی فی سندہ والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان وابن عساکر نے ام ہانی بنت ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وتاتون فی نادیکم المنکر کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ وہ راستوں میں بیٹھ جاتے تھے اور مسافروں پر کنکریاں پھینکتے تھے اور ان سے مذاق کرتے تھے۔ 4۔ ابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے کنکری پھینکنے سے منع فرمایا اور وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت وتاتون فی نادیکم المنکر کہ وہ اپنی مجلسوں میں بری حرکتیں کرتے تھے کنکریاں مارتے تھے۔ 5۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتاتون فی نادیکم المنکر سے مراد ہے کہ کنکری مارنا ایک آدمی نے کہا مجھے اس قسم کی بات سے کیا غرض اس پر ابن عمر نے اپنی ہتھیلی میں کنکریاں لیں اور اس کے چہرے پر ماریں اور فرمایا کہ تو رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں کلام کرتا ہے۔ 6۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتاتون فی نادیکم المنکر میں المنکر سے مراد کنکری ہے۔ 7۔ عبد بن حمید وابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتاتون فی نادیکم المنکر سے مراد ہے کہ وہ لوگوں کو کنکریاں مارتے تھے۔ 8۔ الفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والخرائطی فی مساوی الاخلاق مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتاتون فی نادیکم المنکر سے مراد ہے کہ مجلسوں میں ان کا بعض بعض سے جماع کرتا تھا۔ 9۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتاتون فی نادیکم المنکر سے مراد ہے کہ وہ اپنی مجلسوں میں بدکاری کیا کرتے تھے۔ 10۔ البخاری فی تاریخہ وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتاتون فی نادیکم المنکر میں المنکر سے مراد ہے گوز مارنا یعنی ہوا خارج کرنا۔ 11۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وتاتون فی نادیکم المنکر کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ کون سا برا کام کرتے تھے تو انہوں نے فرمایا اپنی مجلسوں میں ہوا خارج کرنا اور ایک دوسرے پر ہوا خارج کرتے اور نادی سے مجلس مراد ہے۔ 12۔ ابن ابی حاتم نے مجاہ (رح) سے روایت کیا کہ المنکر سے مراد وہ سیٹیاں بجاتے تھے اور کبوتیر اور قبیلوں سے کھیلتے تھے اور قباؤں کے بٹن کھول دیتے تھے۔ ایک مومن دوسرے مومن کی مدد کرتا ہے 13۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن عساکر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قال ان فیہا لوطا قالوا نحن اعلم بمن فیہا کے بارے میں فرمایا مومن مومن سے نہیں ملتا مگر مومن پر رحم کرتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے جہاں وہ ہوتا ہے۔ آیت الا امرأتہ کانت من الغبرین مگر اس کی بیوی کہ وہ ہوگی باقی رہنے والوں میں سے اللہ کے عذاب میں آیت ولما ان جاءت رسلنا لوطا سیء بہم وضاق بہم ذرعا آپ کو اپنی قوم کے بارے میں برا گمان تھا آپ اپنے مہمانوں کے بارے میں قوم سے ڈرتے تھے اور آپ تنگ دل ہوئے اپنے مہمانوں کے وجہ سے ان پر خوف کرتے ہوئے آیت انا منزلون علی اہل ہذہ القریۃ رجزا من اسلماء بما کانوا یفسقون یعنی ہم نازل کرنے والے ہیں اس بستی کے رہنے والوں پر عذاب آسمان سے آیت ولقد ترکنا منہا آیۃ بینۃ اور ہم نے ان بستیوں کے کھلے ہوئے نشانات ان وگوں کے لیے بطور عبرت کے چھوڑدئیے تاکہ سمجھیں اور وہ نشانات پتھر تھے جو ان پر برسائے گئے اللہ تعالیٰ نے ان کو باقی رکھا۔ 14۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد ترکنا منہا اٰیۃ بینۃ کہ ہم نے ان کے کھلے ہوئے نشانات چھوڑدئیے بطور عبرت کے۔
Ayahs 29:36–40

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور ہم نے مدین والوں کے پاس ان کے بھائی شعیب کو بھیجا سو انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اور آخرت کے دن کی توقع رکھو اور زمین میں فساد مت پھیلاؤ

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

سو ان لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا لہٰذا انہیں زلزلہ نے پکڑ لیا اور وہ صبح کے وقت اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرے ہوئے تھے

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور ہم نے عاد اور ثمود ہلاک کیا اور حال یہ ہے کہ تمہیں ان کے رہنے کی جگہوں سے ان کا حال معلوم ہوچکا ہے اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے اچھا کر کے دکھایا سو اس نے انہیں راستہ سے روک دیا۔ اور وہ صاحب بصیرت تھے

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور ہم نے قارون کو اور فرعون کو اور ہامان کو ہلاک کیا اور یہ واقعہ ہے کہ موسیٰ ان کے پاس کھلی ہوئی دلیلیں لے کر آئے سو انہوں نے اپنے کو بڑا سمجھا اور وہ آگے بڑھنے والے نہ تھے

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

سو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ کی وہ سے پکڑ لیا سو بعض پر ہم نے سخت ہوا بھیج دی اور بعض کو چیخ نے پکڑ لیا اور بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور بعض کو غرق کردیا اور اللہ ایسا نہیں کہ ان پر ظلم فرماتا اور لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے

1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاخذتہم الرجفۃ یعنی ان کو پکڑ لیا ایک چیخ نے آیت وکان مستبصرین یعنی وہ اپنی گمراہی پر خوش تھے۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جیر وابن المنذروابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاصبحو فی دارہم جثمین سے مراد ہے کہ وہ مرے ہوئے تھے آپ گھروں میں گھٹنے کے بل گرے ہوئے تھے آیت وکانو مستبصرین میں وہ خوش تھے اپنی گمراہی پر آیت فنہم من ارسلنا علیہ حاصبا اور وہ قوم لوط تھی جن پر پتھروں کی بارش کی گئی آیت ومنہم من اخذتہ الصیحہ اور وہ صالح کی قوم اور شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی کہ ان کو ایک چیخ نے پکڑ لیا آیت ومنہم من خسفنا بہ الارض اور وہ قارون تھا کہ ہم نے اسکو زمین میں دھنسا دیا آیت ومنہم من اغرقنا اور وہ نوح (علیہ السلام) کی قوم اور فرعون اور اس کی قوم تھی کہ جن کو ہم نے غرق کردیا۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ارسلنا علیہ حاصبا میں حاصبا سے مراد ہے پتھر۔