Ar-Room 30:10

Ar-Room · from ayah 10

30:10

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤی اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَكَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ ۟۠ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوا السُّوۡٓآٰى اَنۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَكَانُوۡا بِهَا يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ

پھر جن لوگوں نے برائی کی اُن کا انجام بھی برا ہوا اس لیے کہ خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے اور اُن کی ہنسی اُڑاتے رہے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then the end of those who did evil was the worst [consequence] because they denied the signs of Allah and used to ridicule them.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 1 of surah · Ruku 4 of juzع

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:10

آ خرکار جن لوگوں نے بُرائیاں کی تھیں ان کا انجام بہت برا ہوا، اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر جن لوگوں نے برائی کی اُن کا انجام بھی برا ہوا اس لیے کہ خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے اور اُن کی ہنسی اُڑاتے رہے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر آخر برا کرنے والوں کا بہت ہی برا انجام ہوا، اس لئے کہ وه اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلاتے اور ان کی ہنسی اڑاتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر جن لوگوں نے برائی کی تھی ان کا انجام بھی برا ہی ہوا، کیونکہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا تھا، اور وہ ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جنہوں نے حد بھر کی برائی کی ان کا انجام یہ ہوا کہ اللہ کی آیتیں جھٹلانے لگے اور ان کے ساتھ تمسخر کرتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ان لوگوں کا انجام بہت برا ہوا جنہوں نے برائی کی اس لئے کہ وہ اﷲ کی آیتوں کو جھٹلاتے اور ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر ان لوگوں کا انجام جنھوں نے برائی کی بہت برا ہی ہوا، اس لیے کہ انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور وہ ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جن لوگوں نے برائیاں کی تھیں ان کا انجام بھی برا ہی ہوا کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا اور وہ ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر ان لوگوں کا انجام، جنہوں نے بری روش اختیار کی، برا ہوا۔ بوجہ اس کے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑاتے رہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آخرکار بڑا ہی برا انجام ہوا ان لوگوں کا جو برائیاں کرتے رہے تھے اس وجہ سے کہ انہوں نے جھٹلایا اللہ کی آیتوں کو اور وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ان لوگوں کا انجام جنہوں نے برا کیا تھا برا ہی ہوا کہ انہوں نے اللہ کی نشانیوں کو جھٹلایا تھا اور ان کی ہنسی اڑاتے رہے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر ان لوگوں کا انجام جنہوں نے ُ بری روش اختیار کی بہت برا ہوا اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور وہ ان کا مذاق اڑاتے رہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا۔ اس لیے کہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے اور ان کی ہنسی اڑاتے رہے تھے“

— محترمہ رفعت اعجاز

Evil was the end of those evil-doers, for they gave the lie to Allah's Signs and scoffed at them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then the end of those who did evil was evil, because they rejected the verses of Allah and used to make mockery of them.

— Muhammad Taqi Usmani

Then the end of those who did evil was evil, because they rejected the verses of Allah and used to make mockery of them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then evil was the end of those who did evil, because they denied the Ayat of Allah and made a mockery of them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then evil was the consequence to those who dealt in evil, because they denied the revelations of Allah and made a mock of them.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then the end of those who did evil was the worst [consequence] because they denied the signs of Allah and used to ridicule them.

— Saheeh International

The end of the evil-doers was terrible, for they had rejected the revelations of God and mocked them.

— Muhammad Sarwar

Then evil was the end of those who did evil, because they | rejected the communications of Allah and used to mock them.

— Muhammad Habib Shakir

Then the end of those who committed evil was evil, for they belied the signs of Allah and they were wont to mock at them.

— Abdul Majid Daryabadi

In the long run evil in the extreme will be the End of those who do evil; for that they rejected the Signs of Allah, and held them up to ridicule.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 30:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–10

کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لئے ارشاد ہوتا ہے کہ موجودات میں غور و فکر کیا کرو اور قدرت اللہ کی نشانیوں سے اس مالک کو پہچانو اور اس کی قدر و تعظیم کرو۔ کبھی عالم علوی کو دیکھو کبھی عالم سفلی پر نظر ڈالو کبھی اور مخلوقات کی پیدائش کو سوچو اور سمجھو کہ یہ چیزیں عبث اور بیکار پیدا نہیں کی گئیں۔ بلکہ رب نے انہیں کارآمد اور نشان قدرت بنایا ہے۔ ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہے یعنی قیامت کا دن۔ جسے اکثر لوگ مانتے ہی نہیں۔ اس کے بعد نبیوں کی صداقت کو اس طرح ظاہر فرماتا ہے کہ دیکھ لو ان کے مخالفین…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–10

سورة الروم 8 یہ آخرت کے حق میں تاریخی استدلال ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آخرت کا انکار دنیا میں دو چار آدمیوں ہی نے تو نہیں کیا ہے۔ انسانی تاریخ کے دوران میں کثیر التعداد انسان اس مرض میں مبتلا ہوتے رہے ہیں۔ بلکہ پوری پوری قومیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے یا تو اس کا انکار کیا ہے، اس سے غافل ہو کر رہی ہیں، یا حیات بعد الموت کے متعلق ایسے غلط عقیدے ایجاد کرلیے ہیں جن سے آخرت کا عقیدہ بےمعنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ پھر تاریخ کا مسلسل تجربہ یہ بتاتا ہے کہ انکار آخرت جس صورت میں بھی کیا گیا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کے اخلاق بگڑے، وہ اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھ کر شتر بےمہار بن گئے، انہوں نے ظلم و فساد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–10

اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ ، یعنی یہ اہل مکہ تو ایک ایسی زمین کے باشندے ہیں جہاں نہ زراعت ہے نہ صنعت نہ تجارت کے مواقع اور نہ بلند وبالا حسین تعمیرات، مگر ملک شام اور یمن کے سفر ان لوگوں کو اپنے تجارتی مقاصد کے لئے پیش آتے ہیں کہ ان سفروں میں ان لوگوں نے اپنے سے پہلی اقوام دنیا کے انجام کا مشاہدہ نہیں کیا جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں بڑے بڑے تصرفات کرنے کا سلیقہ دیا تھا کہ زمین کو کھود کر اس سے پانی نکالنا اور اس سے باغات اور کھیتوں کو سیراب کرنا اور چھپے ہوئے معادن سے سونا چاندی اور دوسری قسم کی معدنی دھاتیں نکالنا اور ان سے انسانی فوائد کے لئے مختلف قسم کی مصنوعات تیار کرنا ان کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 9–10

اولم یسروا فی الارض ینظرو اکیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم ط کانواشد منھم قوۃ واثما روا الارض و عمر و ھا اکثر مما عمروھا وجاء تھم وسلھم بالبینت، فما کان اللہ لیطلمھم ولکن کانوا انفسھم یظلمون ثم کان عاقبۃ الذین اساء والسوای ان کذبوا بایت اللہ وکانو بھا یستھزون (9۔ 10) یہ اسی حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے تاریخ کے دلائل کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ اپنے ہی ملک کے آثار اور اس کی تاریخ پر نظر ڈالتے تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوجاتی کہ جو قومیں اپنی عسکری قوت میں ان سے کہیں بڑ چڑھ کر اور تمدنی و تعمیری صلاحیتوں میں ان سے کہیں آگے تھیں، ان کا انجام کیا ہوچکا ہے ! شارہ قوم عاد، ثمود، قوم مدین وغیرہ کی طرف ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10-1سوآی بروزن فعلی سوء سے اسوأ کی تانیث ہے ی سے حسنی احسن کی تانیث ہے۔ یعنی ان کا جو انجام ہوا، بدترین انجام تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–10

3: یعنی اگر آخرت کو نہ مانا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات یونہی بغیر کسی مقصد کے پیدا کردی ہے جس میں نہ کسی ظالم اور بدکار سے کوئی حساب کبھی لیا جائے گا اور نہ کسی نیک انسان کو اس کی نیکی کا کوئی انعام کبھی مل سکے گا، نیز یہ کائنات غیر محدود مدت تک اسی طرح بےمقصد چلتی رہے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–10

اولم یسیروا ۔۔۔۔۔ وکانوا بھا یستھزءون (9- 10) ان آیات میں ہمیں دعوت دی جاتی ہے کہ گزرنے والوں کا جو انجام ہوا ، ذرا اس پر بھی غور کرو ، یہ بھی تو تمہاری ہی کی طرح کے انسان تھے۔ اسی طرح اللہ کی مخلوق تھے جس طرح تم ہو۔ ان کا انجام تمہارے لیے ایک نمونہ ہے۔ کیونکہ اللہ کی سنت تمام انسانوں کیلئے یکساں ہے۔ اللہ کی سنت انسانی تاریخ کے بارے میں بھی اسی طرح اٹل ہے جس طرح اس کائنات کے بارے میں اٹل ہے۔ اللہ کا انسانوں کی کسی نسل کے ساتھ کوئی مخصوص تعلق نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کوئی ممتاز سلوک کرے۔ نہ اللہ کی کچھ خواہشات ہیں جو زمان و مکان کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ معاذ اللہ رب العالمین یہ اس بات کی دعوت ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 وہ نتیجہ تو دنیا میں دیکھا تھا پھر آخرت میں تکذیب و استہزاء کی جو سزا ہے وہ الگ رہی۔ موجودہ اقوام کو چاہیے کہ گذشتہ قوموں کے احوال سے عبرت پکڑیں کیونکہ ایک قوم کو جن باتوں پر سزا ملی سب کو وہی سزا مل سکتی ہے۔ سب کی فنا بھی ایک کی فنا سے سمجھو اور سب کی سزا بھی ایک کی سزا سے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 9–11

آیت 11 اَللّٰہُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ” یہ الفاظ قرآن حکیم میں بار بار آئے ہیں۔ یُعِیْدُہٗ فعل مضارع ہے اور اس لحاظ سے اس میں حال اور مستقبل دونوں زمانوں کے معنی پائے جاتے ہیں۔ اگر اس کا ترجمہ فعل حال میں کیا جائے تو دنیا میں مخلوقات کی بار بار پیدائش reproduction مراد ہوگی ‘ جیسے ایک فصل بار بار کٹتی ہے اور بار بار پیدا ہوتی ہے ‘ جبکہ فعل مستقبل کے ترجمے کی صورت میں اس کا مفہوم عالم آخرت میں انسانوں کے دوبارہ جی اٹھنے تک وسیع ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

9 یہ ان کے ظلم اور زیادتی کی آخری حد تھی۔ نہ انہوں نے اپنے اندر کی شہادت پر غور کیا، نہ نظام کائنات میں غور کیا اور رسولوں نے انھیں جب اصل حقائق سے آگاہ کیا تو انھیں صرف جھٹلایا ہی نہیں بلکہ ان کا اور اللہ کی آیات کا مذاق بھی اڑانے لگے۔ جب ان کی سرکشی اس حد تک پہنچ گئی اور عملی طور پر اس ظلم اور زیادتی میں آگے ہی بڑھتے چلے گئے تو انھیں ان کی بداعمالیوں کی سزا بھی اتنی ہی بری ملی جس حد تک ان کے اعمال برے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

10۔ تمسخر کا درجہ تکذیب سے بڑھا ہوا ہے جو لوگ اس آخری منزل تک پہنچ جائیں ان کا انجام دوزخ ہونا ہی تھا۔ (آیت) ” ایت اللہ “۔ مثلا قرآن کے احکام اور اس کی دی ہوئی خبریں (آیت) ” الذین اسآء و ا “۔ یعنی اپنے انبیاء کو جھٹلاتے رہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : الم اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے رومی مغلوب ہوگئے اور وہ اہل کتاب ہیں ان کو اہل فارس نے مغلوب کردیا اور وہ اہل کتاب نہیں ہیں، بلکہ بت پرست ہیں، اس خبر سے اہل مکہ خوشی ہوئے اور مسلمانوں سے کہا ہم تم کو اسی طرح مغلوب کردیں گے جس طرح اہل فارس نے رومیوں کو قریبی زمین میں یعنی جزیرۂ روم کے اس علاقہ میں جو فارس سے بہت قریب تھا، جہاں دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا تھا اور وہ یعنی رومی مغلوب ہونے کے بعد مصدر کی اضافت مفعول کی جانب کی گئی ہے، ای فارسٍ ایّاھم جنگ کی ابتداء کرنے والے اہل فارس ہیں، عنقریب چند سال کے بعد دونوں لشکروں کا دوبارہ مقابلہ ہوا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم کان عاقبۃ الذین اساء وا السوای . پھر (یعنی تباہی اور ہلاکت کے بعد) ان لوگوں کا انجام جنہوں نے بدی کی تھی ‘ بہت برا ہوا۔ اَلسُّوْٓای ‘ اَسْوَءُ کا مؤنث ہے اور اَسْوَءُ اسم تفضیل ہے جیسے حُسْنٰی اَحسَن کا مؤنث ہے یعنی بدترین عذاب یا بُشْرٰی کی طرح سُوَای مصدر ہے بطور مبالغہ صیغۂ صفت کی جگہ استعمال کیا گیا ہے۔ بعض کے نزدیک جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے جیسے جنت کے ناموں میں سے حسنی ایک نام ہے۔ ان کذبوا بایت اللہ وکانو بھا یستھزء ون . اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کے احکام کو جھٹلایا تھا اور ان کی ہنسی اڑایا کرتے تھے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ان بدکاروں کا انجام برا ہوا ‘ انہوں نے اللہ کے احکام…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

سو ایسے لوگوں کو جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا تھا آخرت میں بدلے میں دوزخ ہی ملے گی محض اس وجہ سے کہ وہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم کی تکذیب کر رہے ہیں اور آیات خداوندی کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِيْنَ اَسَاۗءُوا السُّوْۗآٰى۔۔ : ”السُّوْۗآٰى“ ”أَسْوَأُ“ کا مؤنث ہے جو اسم تفضیل ہے، مگر یہاں تفضیل مراد نہیں بلکہ مراد مبالغہ ہے، یعنی بہت ہی برا۔ ”ان کذبوا“ سے پہلے لام محذوف ہے، یعنی اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا۔ ”ثم“ کا لفظ لانے میں اشارہ ہے کہ ان قوموں کو بہت مہلت دی گئی، پھر آخر کار ان کا انجام بہت ہی برا ہوا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یہ سوء سے فعلی کا وزن ہے اسے اسوء کا مونث ہے جس کا معنی قبیح ترین ہے جس طرح حسنی یہ احسن کا مونث ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے یہاں نار (جن ہم) مراد ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے : آساء کا معنی ہے انہوں نے شرک کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان : دلالت کرتا ہے السوئی جہنم کا نام ہے جس طرح حسنی جنت کا نام ہے۔ اصل میں لان کذبو تھا یہ کسائی کا قول ہے : ایک قول یہ کیا گیا : یہ اصل میں بان کذبو تھا نافع ابن کثیر اور ابو عمرو نے پڑھا یہ رفع کے ساتھ کان کا اسم ہے اسے مذکر ذکر کیا کیونکہ اس کی تانیث غیر حقیقی ہے۔ السوئی کان کی خبر ہے باقی قراء نے کان کی خبر کی وجہ سے اسے منصوب پڑھا ہے السوئی یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–13

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے آیت یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ صرف معیشت کے ذرائع کو جانتے ہیں کہ وہ کب درخت لگائیں کب فصل بوئیں اور کب وہ کھیتی کو کاٹیں گے اور یہ آخرت سے غافل ہیں۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ دنیا کی آباد کاری کو جانتے ہیں اور وہ آخرت کے معاملات سے جاہل ہیں۔ 3۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر نے وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت یعلمون ظاہر من الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ اپنی تجارت کو اپنے حرفہ کو اور اپنی خریدو فروخت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ثُمَّ [پھر ] كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِيْنَ [ان کا انجام تھا جنہوں نے ] اَسَاۗءُوا [برا کیا ] السُّوْۗآٰى [سب سے برا ] اَنْ [(اس وجہ سے) کہ ] كَذَّبُوْا [انہوں نے جھٹلایا ] بِاٰيٰتِ اللّٰهِ [اللہ کی نشانیوں کو ] وَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ [اور وہ لوگ ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے ] ۔ نوٹ۔ 1: گذشتہ آیات میں بتایا گیا تھا کہ لوگوں کی اکثریت آخرت سے غفلت برتنے والی ہے۔ ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز آخرت پر دلالت کرنے والی ہے۔ ان پر صرف غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر انسان اپنے وجود پر غور کرے تو صاف نظر آتا ہے کہ انسانی جسم کے تمام اعضاء ، جوارح اور جسم کے اندرونی نظام کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–14

(ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِیْنَ ) (الآیۃ) پھر دنیاوی ہلاکت کے بعد موت کے بعد بھی برے کاموں میں لگنے والوں کا برا انجام ہوگا، کیونکہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا ہی نہیں ان کا مذاق بھی اڑایا، ان کے اپنے اعمال ہی موت کے بعد عذاب میں مبتلا ہونے کا سبب بن گئے، قولہ تعالیٰ : ثم کان عاقبۃ الذین اسآؤا بنصب ” العاقبۃ “ واضافتہ الی الموصول ونصبھا علیٰ انھا خبر کان وقولہ تعالیٰ : ” السوء “ تانیث الاسوء کالحسنیٰ تانیث الاحسن، وھی مرفوعۃ علیٰ انھا اسم کان وھذا علی قرأۃ حفص ومن وافقہ وقرء الحرمیان وأبو عمرو ” عاقبۃ “ بالرفع علیٰ انہ اسم کان و ” السوء “ بالنصب علی الخبریۃ۔ اللہ تعالیٰ کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–19

ذکر دلائل قدرت و عظمت برائے اثبات الوہیت و اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ اولم یتفکروا فی انفسہم۔۔۔ الی۔۔۔ وھو العزیز الحکیم۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان لوگوں کا ذکر تھا کہ جو دنیا کی ظاہری زیبائش اور آرائش پر فریفتہ ہیں اور آخرت سے غافل ہیں اب آئندہ آیات میں غافلان آخرت کی تنبیہ کے لئے آیات قدرت کو ذکر کرتے ہیں جن کے ذکر سے الوہیت اور وحدانیت کا بھی ثابت کرنا ہے اور قیامت اور جزا اور سزا کا بھی ثابت کرنا ہے تاکہ منکرین آخرت کو ایمان اور کفر کا مال معلوم ہوجائے نیز ان دلائل قدرت میں غور کر کے سمجھ جائیں کہ یہ اسباب ظاہری اعتماد اور بھروسہ کے لائق نہیں۔ اخیر سورت تک آیات قدرت کا ذکر چلا گیا ہے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–11

11:۔ یہ حشر و نشر کے اثبات پر عقلی دلیل ہے۔ یعنی جو اللہ تعالیٰ انسانوں کو پہلی بار پیدا کرسکتا ہے وہ ان کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ اس لیے قیامت کے دن وہ سب کو دوبارہ زندہ کرے گا اور سب اس کے سامنے حساب کتاب کے لیے حاضر ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–10

ربطہ آیات سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے پیشن گوئی فرمائی تھی کہ مغلوب رومی عیسائی چند سالوں میں دوبارہ غالب آجائیں گے۔ چناچہ یہ پیشن گوئی نو سال کے اندر اندر پوری ہوگئی۔ ادھر عیسائیوں نے اپنے مقدس مقدمات مجوسیوں سے واگذار کر الیے اور ادھر اللہ نے بدر کے میدان میں مسلمانوں کو کافروں پر فتح عطا فرمائی۔ اس پیشن گوئی پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ابی ابن خلف کے درمیان ایک ایک سو اونٹ کی شرط بھی لگ چکی تھی۔ عیسائیوں کے دوبارہ غلبہ پر حضرت صدیق ؓ شرط تو جیت چکے مگر ابی ابن خلف میدان بدر میں مارا گیا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت صدیق ؓ نے سو اونٹ ابی ابن خلف کے رشتہ داروں سے وصول کیے تھے۔ قمار…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِيْنَ اَسَاۗءُوا السُّوْۗآٰى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللہِ وَكَانُوْا بِہَا يَسْتَہْزِءُوْنَ۝ 10ۧ عاقب والعاقِبةَ إطلاقها يختصّ بالثّواب نحو : وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] ، وبالإضافة قد تستعمل في العقوبة نحو : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] ، ( ع ق ب ) العاقب اور عاقبتہ کا لفظ بھی ثواب کے لئے مخصوص ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] اور انجام نیک تو پرہیز گاروں ہی کا ہے ۔ مگر یہ اضافت کی صورت میں کبھی آجاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 9–10

اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط کَانُوْٓا اَشَدَّمِنْھُمْ قُوَّۃً وَّاَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْھَآ اَکْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْھَا وَجَآئَ ْتھُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبـَـیِّـنٰـتِ ط فَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظْلِمَھُمْ وَلٰـکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔ ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِیْنَ اَسَآئُ وا السُّوْٓ آٰی اَنْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَکَانُوْا بِھَا یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ (الروم : 9، 10) (اور کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے، وہ ان سے قوت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–10

فہم القرآن ربط کلام : انسان کی غفلت کا ایک سبب اسے دنیا میں ملنے والی مہلت ہے جس کی طرف انسان کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ اسے اپنے انجام کا خیال رکھنا چاہیے۔ انسان دنیا کی سہولیات اور زیب وزینت پر فریفتہ ہو کر آخرت کے احتساب کو بھول جاتا ہے۔ خاص طور پر کافر اور مشرک کی جب دنیا میں گرفت نہیں ہوتی تو وہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ شائد مرنے کے بعد بھی مجھے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا۔ ایسے لوگوں کو بالخصوص ارشاد فرمایا ہے کہ لوگو ! اپنے آپ اور زمین آسمان اور جو کچھ ان میں موجود ہے اس پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کس طرح اور کیونکر پیدا کیا ہے۔ اس نے کوئی چیز بھی بےفائدہ پیدا نہیں کی بلکہ ہر چیز کے پیدا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

10: ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِیْنَ اَسَآ ئُ وا السُّوْآٰ ی (پھر ان لوگوں کا انجام جنہوں نے بدی کی تھی بہت برا ہوا) ۔ قراءت : عاقبۃ کو شامی و کوفی قراء نے منصوب پڑھا ہے۔ السُوآی یہ اسوأ کی تانیث ہے اور اس کا معنی قبیح ترین جیسا کہ حسنیٰ احسن کی تانیث ہے۔ نحو : کان کا اسم ہونے کی وجہ سے یہ مرفوع ہے۔ یہ ان کے نزدیک ہے جنہوں نے عاقبۃ کو خبرؔ کی وجہ سے نصب دیا ہے۔ نمبر 2۔ جنہوں نے عاقبۃُ کا رفع پڑھا انہوں نے اس کو محلاً منصوب قرار دیا ہے۔ معنی یہ ہے دنیا میں ان کا نتیجہ تباہی ہوا پھر ان کا انجام بہت ہی برا ہے۔ یہاں ضمیر کی بجائے اسم ظاہر الذین اسائو واؔ کو لائے۔ مطلب اس طرح ہے وہ سزا جو کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10۔” ثم کان عاقبۃ الذین اساء وا “ انہوں نے برے عمل کیے ۔” السؤای “ اس سے مرادآگ ہے ۔ بعض نے کہا کہ سوء جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے جیسے جنت کے ناموں میں سے حسنی ایک نام ہے ۔” ان کذبو “ اس وجہ سے کہ انہوں نے جھٹلایا۔ بعض نے کہا کہ سوء کی تفسیر اگلے جملہ میں آرہی ہے ۔” ان کذبوا “ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان بدکاروں کا انجام برا ہوا۔ انہوں نے اللہ کے احکام کی تکذیب کی یعنی بدکاریوں نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اللہ کے احکام کے منکرہوگئے۔ ” بایات اللہ وکانو ابھا یستھزؤن “ اہل حجاز اور بصرہ نے یہی پڑھا ہے۔” عاقبۃ “ رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے ۔ اس صورت میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–13

8 تا 12۔ ان آیتوں میں اللہ جل شانہ نے یہ بات فرمائی ہے کہ مشرک لوگ خدا تعالیٰ کی مخلوقات میں غور وفکر کریں کس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر دلیل ہے اور اس فکر کے کرنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ پروردگار مخلوقات کے پیدا کرنے میں اکیلا ہے اس واسطے کوئی اس کے سوا عبادت کے لائق نہیں ہے اور نہ کوئی بجز اس کے مخلوقات اور رنگ برنگ کی چیزیں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں اس پر یہ لوگ اگر غور کریں تو اچھی طرح جان لیں کہ یہ تمام مخلوق بےکار پیدا نہیں کی گئی ہے بلکہ نیک وبد کی جزا وسزا کے لیے پیدا کی گئی ہے اور ایک معین تک اس کی میعاد مقرر کی گئی ہے اور وہ قیامت کا روز ہے لیکن اکثر لوگ اپنے رب کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 8–10

آیت نمبر 8-10 کیا اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی ملاقات کو جھٹلانے والوں نے کبھی غور نہیں کیا (فی انفسھم) ” اپنے آپ پر ؟ “ کیونکہ خود ان کی ذات میں نشانیاں ہیں جن کے ذریعے سے وہ اس حقیقت کی معرفت حاصل کرسکتے ہیں کہ وہ ہستی جو انہیں عدم سے وجود میں لائی وہ عنقریب اس کا اعادہ کرے گی ‘ وہ ہستی جس نے انہیں نطفہ ‘ جمے ہوئے خون اور گوشت کی بوٹی کے مراحل سے گزار کر آدمی بنایا ‘ پھر اس میں روح پھونکی ‘ پھر اسے بچہ بنایا ‘ اس بچے سے اسے جوان بنایا ‘ پھر اسے بڑھاپے میں منتقل کیا اور پھر اسے انتہائی بڑھاپے کی طرف لے گیا۔ اس ہستی کے شایان شان نہیں کہ وہ ان کو مہمل اور بےکار چھوڑ دے کہ انہیں کسی چیز کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

10 برائیوں کے ارتکاب کا نتیجہ برا ۔ والعیاذ باللہ : { السُّوْئٰ ی } " اَسْوَاْ " سے مونث کا صیغہ ہے۔ یعنی " بہت ہی برا ا " ور " بڑا ہی ہولناک انجام " اور ان لوگوں کا یہ انجام ان کے اپنے کئے کرائے کے نتیجے میں ہی ہوا۔ اور اس طرح یہ لوگ مٹ مٹا کر ہمیشہ ہمیش کے خسارے میں مبتلا ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ماضی کی ان قوموں کے حالات اور ان کے انجام میں غور و فکر سے کام لینے میں بڑا درس عبرت ہے۔ اور اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کی دعوت کو جھٹلانے اور دین حق سے منہ موڑنے اور اس کا انکار کرنے والی قوموں کا انجام بہت ہی برا اور نہایت ہی ہولناک ہوا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 8–10

گزرے ہوئے لوگ باعث عبرت تشریح : یہ آیات نظام قدرت واضح کر رہی ہیں دنیا کے تغیر و تبدل قوموں کے عروج وزوال اور کائنات کے بنانے کا مقصد کیا ہے ؟۔ سلطان بشیر محمود صاحب نے بہت اچھی وضاحت کی ہے لکھتے ہیں ” کائنات میں قیامت کے واقعات اس کی تقدیر ہے۔ اور اپنے اپنے وقت پر یہ واقعات ضرور ہی ظاہر ہوتے رہیں گے۔ یہ قیامت ی عوامل (قیامت کی قسمیں) مندرجہ ذیل ہیں۔ 1 کسی فرد کی موت ( اس کی قیامت کا آغاز ہے) 2 زمین کے کسی حصہ میں کوئی آفت ناگہانی۔ (کسی قبیلہ یا قوم کی قیامت) 3 کرہ ارض یا شمسی نظام کی مکمل تباہی۔ (یہ تمام نوع انسانی کی قیامت ہوگی) 4 کسی کہکشاں کی تباہی۔ (یہ ہمارے قریبی عالم کی تباہی ہوگی) 5…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

سورة روم۔ رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 10 اسرارومعارف رومیوں میں اور کسری پرویز میں جنگ ہوئی رومی اہل کتاب اور فارسی آتش پرست تھے اگرچہ دونوں کافر تھے مگر اہل کتاب ہونے کی وجہ سے اہل فارس کی نسبت مسلمانوں کی ہمدردی رومیوں سے تھی مگر اس جنگ میں رومی ہار گئے چند سرحدی شہر فارس نے فتح کرلیے اسی فتح میں قسطنطنیہ بھی تھا جہان کسری پرویز نے آتشکدہ بنوایا اس پر مشرکین بہت خوش ہوئے تو یہ سورة نازل ہوئی اور ارشاد ہوا کہ اگرچہ رومی شکست کھا گئے ہیں مگر آئندہ چند برسوں میں یہ پھر غالب آجائیں گے چناچہ مشرکین کے لیے خوشی کا کوئی موقع نہیں یہ ایک بہت بڑی پیش گوئی تھی بظاہر ایسا ہونے کے امکانات نظر نہ آتے تھے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–11

3 ۔ کیونکہ جس کے لئے پہلی بار پیدا کرنا ممکن ہے اس کے لئے دوبارہ پیدا کرنا بدرجہ اولیٰ ممکن ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(30:10) اساء وا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے برا کیا۔ اساء ۃ (افعال) مصدر۔ السواے برا فعل۔ اسوء کی تانیث ہے بروزن احسن حسنی۔ ثم کان عاقبۃ الذین اساء والسواے : عاقبۃ (تاء کی فتح کے ساتھ) کان کی خبر مقدم ہے اور السوء اس کا اسم۔ عبارت یوں ہوگی : کانت السوای عاقبۃ الذین اساء وا جنہوں نے برا کیا ان کا انجام برا ہوا۔ اور بعض نے عاقبۃ کی تاء کو ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں عاقبۃ کان کا اسم ہوگا اور السوء یاس کی خبر، ان لوگوں کی عاقبت جنہوں نے برا کیا بہت بری ہوئی اس صورت میں کان کا صیغہ مؤنث ہونا چاہیے تھا یعنی کانت عاقبۃ ۔۔ لیکن عاقبۃ مؤنث غیر حقیقی ہونے کی وجہ سے کان کی تذکیر جائز ہے۔ ان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 2–10

لغات القرآن آیت نمبر (ا تا 10) ۔ غلبت (شکست کھا گئے۔ مغلوب ہوگئے) ۔ ادنی (قریب) ۔ بضع (تین سے نو سال تک کی مدت) ۔ اجل (موت۔ مدت) ۔ اشد (زیادہ۔ بڑھ کر) ۔ اثاروا (ثورۃ) (انہوں نے ابھارا۔ اگایا۔ سرسبز کیا) ۔ عمروا (انہوں نے آباد کیا) ۔ اساء وا (انہوں نے برا کیا) ۔ تشریح : آیت نمبر (ا تا 10) ۔ ” سورة الروم کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے جس کی وضاحت اس سے پہلے کردی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی انتیس (29) سورتوں کی ابتداء میں آنے والے ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اللہ کے حکم سے اعلان نبوت فرمایا تو کفار مکہ نے آپ کی زبردست مخالفت کی اور ستانے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–14

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن نیک وبد ہر قسم کے لوگ الگ کردیے جائیں گے پھر مومن اور کافر کبھی جمع نہ ہوں گے جس طرح دنیا میں نیک وبد سب ایک جگہ مل کر رہتے ہیں اور علیحدہ علیحدہ اپنے ٹھکانے پر پہنچادیے جائیں گے یعنی جو لوگ جنتی ہیں جنت میں اور جو لوگ دوزخی ہیں دوزخ میں چلے جائیں گے اس کے بعد جن گناہ گاروں کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا، وہ نبی ﷺ کی شفاعت سے دوزخ سے نکل آئیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب ارحم الراحمین کی باری ہے یہ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو جنہوں نے عمر بھی کوئی نیک کام نہ کیا، لپ بھر دوزخ سے نکالے گا اور جنت میں داخل فرمائے گا اب دوزخ میں وہ لوگ رہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–12

حل لغات : یبلس ۔ ابلاس سے ہے ۔ بمعنی مایوسی ۔ ابلیس کے معنے میں ۔ اللہ کی رحمتوں سے قطعی مایوس ہوجانے والا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

10۔ آخر کار ان لوگوں کا انجام جنہوں نے برا کیا تھا برا ہی ہوا اس سبب سے کہ ان لوگوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور وہ ان آیات کے ساتھ ٹھٹا کیا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں یعنی دلائل و احکام کا مذاق اڑایا کرتا تھے۔ یعنی برا کرنے والوں کا برا ہوا ان کی آخرت تباہ ہوئی ۔ اور عذاب الٰہی کے مستحق ہوئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایک قوم کو جن باتوں پر سزا ملی سب کو وہی ملتی ہے سب کی فنا بھی ایک کی فنا سے سمجھو اور سب کی سزا بھی ایک کی سزا سے بوجھو۔ 12

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پہلے برائیاں کرنے والوں کا نتیجہ برا ہی نکلا اور آج بھی ایسا ہی نکلے گا : 10۔ زیر نظر آیت میں ایک قانون خداوندی کا اعلان کردیا گیا ہے قانون الہی یہ ہے کہ جو شخص بھی برائی کمائے گا اس کی برائی کا وبال یقینا اسی پر پڑے گا اور اس سے آخرت کا نظریہ لازم آگیا کہ اگر اس کو اس دنیا میں اتنی چھوٹ دی گئی کہ وہ بڑھ چڑھ کر برائیاں کرتا رہا اور اسی طرح برائیاں کرتے کرتے مر گیا اور بلاشبہ ایسے لوگ پہلے بھی تھے اور آج بھی ہیں کہ برائیوں کے ماحول میں پیدا ہوئے اور بڑے ہو کر برائیاں کرتے رہے اور پھر اسی طرح برائیاں کرتے کرتے مر گئے اور ان کو ان برائیوں کا کوئی وبال مطلق نہ چکھایا گیا پھر اگر آخرت بھی نہ ہوتی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–14

أَوَلَمْ يَسِيرُ‌وا فِي الْأَرْ‌ضِ (Have they not travelled on earth - 30:9). It means that the Makkans live in a land where there is neither any cultivation and industry nor any tall and beautiful buildings, but for the sake of trade they do travel to Syria and Yemen. So, have they not seen, during the course of their trips, what was the fate of the earlier people, whom Allah Ta’ ala had endowed with skills to make use of the land? For instance, they had the skill to draw underground water by excavating the earth for irrigating fields and gardens, and dig out concealed precious minerals,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–11

13 Though this thing has been put forward as a claim, it contains the basis of the claim too. Commonsense testifies that the One Who can originate creation, can reproduce the same creation far more easily. The origination of the creation is an actuality, which exists before everybody, and the disbelievers and the mushriks also admit that this is the work of Allah alone: Now it will be clearly absurd on their part to think that God Who has originated this creation, cannot reproduce it."

Read the full tafseer →