Explained with ayahs 55–57
واپسی ناممکن ہوگی
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفار دنیا اور آخرت کے کاموں سے بالکل جاہل ہیں۔ دنیا میں ان کی جہالت تو یہ ہے کہ اللہ کیساتھ اوروں کو شریک کرتے رہے اور اخرت میں یہ جہالت کریں گے کہ قسمیں کھاکر کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف ایک ساعت ہی رہے۔ اس سے ان کا مقصد یہ ہوگا کہ اتنے تھوڑے سے وقت میں ہم پر کوئی حجت قائم نہیں ہوئی۔ ہمیں معذور سمجھا جائے۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ جیسے یہاں بہکی بہکی باتیں کر رے ہیں دنیا میں یہ بہکے ہوئے ہی رہے۔ فرماتا ہے کہ علماء کرام جس طرح ان کے اس کہنے پر دنیا میں انہیں دلائل دے کر قائل معقول کرتے رہے آخرت میں بھی ان سے کہیں گے کہ تم جھوٹی قسمیں کھا رہے ہو۔ تم کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
سورة الروم 80
یعنی قیامت جس کے آنے کی خبر دی جارہی ہے۔
سورة الروم 81
یعنی مرنے کے وقت سے قیامت کی اس گھڑی تک۔ ان دونوں ساعتوں کے درمیان چاہے دس بیس ہزار برس ہی گزر چکے ہوں، مگر وہ محسوس کریں گے کہ چند گھنٹے پہلے ہم سوئے تھے اور اب اچانک ایک حادثہ نے ہمیں جگا اٹھایا ہے۔
سورة الروم 82
یعنی ایسے ہی غلط اندازے یہ لوگ دنیا میں بھی لگاتے تھے۔ وہاں بھی یہ حقیقت کے اداراک سے محروم تھے اسی وجہ سے یہ حکم لگایا کرتے تھے کہ کوئی قیامت ویامت نہیں آنی، مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں، اور کسی خدا کے سامنے حاضر ہو کر ہمیں حساب نہیں دینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
آگے پھر منکرین قیامت کی لغو گوئی اور ان کی جہالت کا بیان ہے، وَيَوْمَ تَــقُوْمُ السَّاعَةُ يُـقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ڏمَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَاعَةٍ۔ یعنی جس روز قیامت قائم ہوگی تو یہ منکرین قیامت اس وقت کے ہولناک مناظر سے مدہوش ہو کر یہ قسمیں کھانے لگیں گے کہ ہمارا قیام تو ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہا۔ مراد اس قیام سے ہوسکتا ہے کہ دنیا کا قیام ہو کیونکہ ان کی دنیا آرام و عیش سے گذری تھی اور اب مصائب شدیدہ سامنے آئے تو جیسے انسان کی طبعی عادت ہے کہ راحت کے زمانے کو بہت مختصر سمجھا کرتا ہے اس لئے قسمیں کھا جائیں کہ دنیا میں تو ہمارا قیام بہت ہی مختصر ایک گھڑی کا تھا۔
اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس…
Read the full tafseer →وقال الذین اولو العلم والایمان لقد لبثتم فی تب اللہ الی یوم البعث فھذا یوم البعث ولکنکم کنتم لا تعلمون (56)
’ اولو العلم والایمان سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی عقل اس دنیا میں سیدھی ریہ اور ان کو اللہ کی آیات کا علم اور خدا اور آخرت کا ایمان نصیب ہوا۔ وہ ان لوگوں کی اس بدحواسی پر ٹوکیں گے کہ تمہارا یہ اندازہ باکل غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب کی رو سے تو تم قیامت تک رہے ہو اور آج یہ قیامت کا دن تمہارے سامنے ہے لیکن تم اس کو جانتے نہیں رہے ہو۔ کتاب اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ دفتر ہے جس میں ساری باتیں مندرجہ ہیں۔ ولکنکم کنتم لا تعلمون سے مقصود یہ ہے کہ تم اس کو محض ایک خیالی چیز سمجھتے رہے، اس کو…
Read the full tafseer →56-1جس طرح یہ علماء دنیا میں بھی سمجھاتے رہے تھے۔
56-2کِتَا بِ اللّٰہِ سے مراد اللہ کا علم اور اس کا فیصلہ ہے یعنی لوح محفوظ
۔56-3یعنی پیدائش کے وقت سے قیامت کے دن تک۔
56-4کہ وہ آئے گی بلکہ استہزاء اور تکذیب کے طور پر اس کا تم مطالبہ کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
23: یعنی وہ اندھے جو کسی کی رہنمائی قبول نہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
اللہ الذی خلقکم ۔۔۔۔۔۔۔۔ معذرتھم ولا ھم یستعتبون (54 – 57 یہ ایک بہت ہی طویل مطالعاتی سفر ہے۔ اس کا آغاز تو انسانی زندگی کے آغاز سے ہوتا ہے اور یہ ہمارے سامنے ہے اور آئے دن کا مشاہدہ ہے۔ اس کا آخری حصہ نہایت ہی اگرچہ مشہور نہیں ہے لیکن قرآن کی تصویر کشی ایسے الفاظ میں کرتا ہے کہ گویا وہ ہماری نظروں کے سامنے ہے۔ یہ ایک ایسا مطالعاتی سفر ہے کہ چشم بینا رکھنے والوں کے لیے اور کھلے کان رکھنے والوں کے لئے اور کان لگا کر سننے والوں کے لیے اس میں سامان عبرت ہے۔
اللہ الذی خلقکم من ضعف (30: 54) ” اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی “۔ یہ کہا کہ تمہیں ضعف سے پیدا کیا۔ یہ نہ کہا کہ تمہیں…
Read the full tafseer →4 یعنی مومنین اور ملائکہ اس وقت ان کی تردید کرینگے کہ تم جھوٹ بکتے ہو یا دھوکہ میں پڑے ہو جو کہتے ہو کہ قبر میں یا دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ ٹھہرنا نہیں ہوا۔ تم ٹھیک اللہ کے علم اور اس کی خبر اور لوح محفوظ کے نوشتہ کے موافق قیامت کے دن تک ٹھہرے، ایک منٹ کی بھی کمی نہیں ہوئی۔ آج عین وعدہ کے موافق وہ دن آپہنچا۔ اب وہ دیکھ لو جسے تم جانتے اور مانتے نہ تھے۔ اگر پہلے سے اس دن کا یقین کرتے تو تیار ہو کر آتے اور یہاں کی مسرتیں دیکھ کر کہتے کہ اس دن کے آنے میں بہت دیر لگی۔ بڑے انتظار و اشتیاق کے بعد آیا۔ جیسا کہ مومنین سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 56 وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَالْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ اِلٰی یَوْمِ الْبَعْثِز ”
تب اہل علم اور صاحب ایمان لوگ انہیں بتائیں گے کہ اے بدبختو ! تم جسے ایک گھڑی کہہ رہے ہو وہ دراصل عالم برزخ کا طویل عرصہ تھا جو اللہ کے فیصلے کے مطابق تم پر گزرا۔ ظاہر ہے ایک شخص اگر آج سے پانچ ہزار سال قبل فوت ہو اتھا تو آج تک وہ عالم برزخ میں ہی ہے اور نہ معلوم قیامت تک اور کتنا عرصہ وہ مزید وہاں رہے گا۔ اور یوم بعث کب آئے گا ؟ اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے۔ چناچہ انہیں بتایا جائے گا کہ تم لوگ اللہ کے حساب اور اس کے فیصلے کے مطابق یوم بعث تک وہاں رہے ہو۔
فَہٰذَا یَوْمُ…
Read the full tafseer →62 ان کی ایسی قسمیں سن کر ایمان دار انھیں کہیں گے کہ یہ گھڑی دو گھڑی کا معاملہ نہیں تم دھوکہ میں پڑے ہوئے ہو۔ اللہ کے علم یا لوح محفوظ میں نوشتہ کے مطابق تم قیامت کے دن تک ٹھہرے رہے اور دیکھو یہ آج قیامت کا دن ہے اور یہ وہی دن جسے تم ماننے کو قطعاً تیار نہ تھے۔ اور تم اسے جاننا چاہتے بھی نہ تھے۔
Read the full tafseer →74۔ یہ جواب دینے والے وہ لوگ ہوں گے جنہیں دنیا میں اخبار شرعیہ کا علم تھا۔ فی کتاب اللہ ای فی ماکتب اللہ لکم فی سابق علمہ من اللبث فی القبور (معالم) فی علم اللہ وقضاۂ اوفی ماکتبہ اے اوجبہ بحکمتہ (کشاف) آیت سے یہ بھی مستنبط ہوتا ہے کہ روز حشر کا ہول و انتشار کفار ہی کے ساتھ مخصوص ہوگا، شریعت پر عمل کرنے والے اہل ایمان انشاء اللہ اس وقت تمامتر محفوظ اور باحواس رہیں گے۔ (آیت) ” الذین اوتوا العلم والایمان “۔ بعض نے کہا، اس سے فرشتے مراد ہیں۔ اور بعض نے کہا انبیاء بعض نے کہا علماء امت، اور بعض نے سارے مومنین۔ فقیل الملائکۃ وقیل الانبیاء وقیل علماء الامم وقیل جمیع المومنین (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–60
آیت نمبر 54 تا 60
ترجمہ : اللہ وہ ذات ہے کہ جس نے تم کو ضعف (یعنی) بےوقعت پانی سے پیدا کیا پھر ضعف آخر یعنی ضعف طفولیت کے بعد توانائی بخشی یعنی قوت شباب پھر قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا دیا یعنی کلاں سالی کی کمزوری اور بڑھاپے کی سفیدی اور (لفظ ضعف) تینوں جگہ ضاد کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ ہے (اور) وہ ضعف وقوت جوانی اور بڑھاپا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ اپنی مخلوق کی تدبیر سے باخبر اور جو چاہے اس پر قادر ہے اور جس دن قیامت برپا ہوگی تو یہ مجرم کافر قسمیں کھائیں گے کہ وہ قبروں میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اسی طرح یہ حق یعنی بعث بعد الموت سے (دنیا) میں الٹے چلا کرتے تھے جیسا…
Read the full tafseer →وقال الذین اوتو العلم والایمان لقد لبثتم فی کتب اللہ الی یوم البعث . اور جن لوگوں کو علم اور
ایمان دیا گیا ہے یعنی انبیاء اور مؤمن ‘ وہ کہیں گے : تم اللہ کی کتاب میں (یعنی اللہ کی تحریر کے بموجب) روز حشر تک رہے۔
لَبِثْتُمْ فِیْ کِتَابِ اللہ یعنی جتنے زمانہ تک تمہارا قیام اللہ نے لکھ دیا تھا ‘ اتنی مدت تم رہے۔ یا یہ معنی ہے کہ اللہ کی کتاب میں جتنی تمہاری مدت قیام لکھی ہوئی تھی ‘ اتنی مدت تک رہے۔ یا کتاب سے مراد ہے لوح محفوظ یا ان فرشتوں کی تحریرجو ارحام کے اندر بچہ بننے کے وقت تحریر پر مقرر ہوتے ہیں۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : تمہارا تخلیقی مادہ ماں کے پیٹ میں چالیس روز تک بصورت نطفہ ‘ پھر…
Read the full tafseer →اور جن حضرات کو علم و ایمان کی دولت حاصل ہوگی وہ کفار سے کہیں گے کہ تم تو نوشتہ خداوندی کے مطابق قبروں میں بعث بعد الموت تک رہے ہو اور قیامت کا دن یہی ہے مگر تم دنیا میں نہ اس کو جانتے تھے اور نہ اس کے واقع ہونے کا یقین ہی کرتے تھے۔
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَالْاِيْمَانَ۔۔ : یعنی جس طرح دنیا میں علم و ایمان والے ان کے جھوٹ کی تردید کیا کرتے تھے اور ان پر حجت قائم کیا کرتے تھے، اب بھی ان کی بات سنتے ہی ان کی تردید کرتے ہوئے کہیں گے کہ تم جھوٹ کہہ رہے ہو کہ تم دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ حقیقت یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے لکھے ہوئے کے مطابق قیامت کے دن تک ٹھہرے ہو۔ تو یہ ہے قیامت کا دن جو ٹھیک وعدے کے مطابق آپہنچا ہے، لیکن تم یہ بات نہیں جانتے تھے بلکہ اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور رسولوں سے کہا کرتے تھے کہ لے آؤ وہ قیامت جس کی تم دھمکی دیتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
وقال الذین اوتوا العلم والایمان لقد لبثتم فی کتب اللہ الی یوم البعث الذین اوتوا العلم۔ کی تعبیر میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ملائکہ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد انبیاء ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد امتوں کے علماء ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : مراد اس امت کے مومن ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد تمام مومن ہیں یعنی کافر مومنوں سے کہیں گے، مقصود ان کا رد کرنا ہوگا : تم اپنی قبروں میں یوم بعث تک رہے۔ فھذا یوم البعث میں فاء شرط محذوف کے جواب کے لئے ہے جس پر کلام دلالت کرتی ہے۔ معنی یہ بنتا ہے : ان کنتم منکرین البعث فھذا یوم البعث۔
یعقوب نے بعض قراء سے بیان کیا جب کہ یہ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویم تقوم الساعۃ یقسم المجرمون مالبثوا غیر ساعۃ اور جس روز قیامت ہوگی مجرم لوگ قسمیں کھائیں گے کہ وہ ایک ساعت کے سوا نہیں رہے۔ یعنی وہ لوگ دنیا میں صرف ایک گھڑی رہے اور جب وہ آخرت کو دیکھیں گے تو دنیا میں قیام کی مدت کو تھوڑا جانیں گے۔ کذالک کانوا یوفکون اسی طرح وہ دنیا میں جھوٹ بولتے تھے آیت وقال الذین اوتوالعلم قتادہ نے فرمایا یہ کلام کی تقدیم اور تاویل ہے ،۔ یعنی وہ لوگ جن کو ایمان اور علم عطا کیا تھا انہوں نے کہا اللہ کی کتاب میں ہے کہ تم قیامت کے دن تک وہاں رہے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس ؓ سے آیت لقد لبثتم فی…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ [اور وہ لوگ کہیں گے جن کو ] اُوْتُوا [دیا گیا تھا ] الْعِلْمَ وَالْاِيْمَانَ [علم اور ایمان ] لَقَدْ لَبِثْتُمْ [یقینا تم لوگ ٹھہر چکے ہو ] فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ [اللہ کی کتاب (ریکارڈ) میں ] اِلٰى يَوْمِ الْبَعْثِ ۡ [اٹھائے جانے کے دن تک ] فَھٰذَا يَوْمُ الْبَعْثِ [تو یہ اٹھائے جانے کا دن ہے ] وَلٰكِنَّكُمْ [اور لیکن تم لوگ ] كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ [نہیں جانتے تھے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
قیامت کے دن مجرمین کی جھوٹی قسما دھرمی اور اہل ایمان کی حق بیانی
یہ تین آیات ہیں، پہلی آیت میں یہ بتایا کہ جب قیامت قائم ہوگی اور زندہ ہو کر قبروں سے نکلیں گے تو اس وقت مجرمین یعنی کافر لوگ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ ہم تو موت کے بعد قبروں میں تھوڑی سی ہی دیر رہے ہیں۔ اور بعض مفسرین نے بتایا کہ اس سے دنیا کی زندگی مراد لیں گے اور ان کے کہنے کا مطلب یہ ہوگا کہ دنیا میں ہم ذرا دیر ہی رہے تھے، عمریں تو اچھی خاصی گزاریں لیکن ایمان نہ لائے اور نیک عمل نہ کیے، اتنی بڑی زندگی بیکار ہی چلی گئی، جو چیز زیادہ ہو اور اس سے نفع نہ اٹھایا جائے تو وہ قلیل مانی جاتی ہے جیسا کہ قلیل چیز نفع مند ہو تو اسے کثیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–57
ذکر بعض دلائل قدرت برائے اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ اللہ الذی یرسل الریح۔۔۔ الی۔۔۔ ولاہم یستعتبون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں زیاد تر ایسے دلائل قدرت ذکر کئے جو الوہیت اور وحدانیت کے مثبت تھے اب ایسے چند دلائل قدرت ذکر کرتے ہیں کہ جو قیامت اور فنا عالم اور بعث بعد الموت اور حیات ثانیہ کے لئے مثبت ہوں اور بعد ازاں کچھ احوال قیامت کو بیان کیا۔
چناچہ فرماتے ہیں خدا برحق وہ ہے جو بھیجتا ہے ہوائیں پھر اٹھاتی ہیں وہ ہوائیں ابر کو پھر پھیلاتا ہے اللہ اس ابر کو آسمان کی جانب میں جس طرح چاہے کہیں کم اور کہیں زیادہ اور کہیں سفید اور کہیں سیاہ پھر اس کو تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش اس ابر کے…
Read the full tafseer →43:۔ لیکن جو لوگ دنیا میں علم و ایمان کی دولت سے بہرہ ور تھے وہ کہیں گے تم اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق قیامت تک کا طویل عرصہ قبروں میں رہے ہو اب قیامت قائم ہوچکی ہے اور آج قیامت ہی کا دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا لین تم اس کی آمد پر یقین نہیں کرتے تھے۔ اور اسے حق نہیں جانتے تھے۔ ولکنکم کنتم لا تعلمون انہ حق (روح ج 21 ص 61) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفر و شرک کی تردید کے ساتھ اپنے رخ کو دین حق کی طرف پھیرنے کا حکم دیا ، اہل ایمان اور کفار کا انجام بیان فرمایا اور پھر قدرت کے عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے۔ ہوائوں کا چلنا ، سمندروں میں کشتی رانی ، فضا میں بادلوں کا پھیلانا اور بارش برسانا اور اس کے ذریعے خشک زمین کو سرسبز بنانا سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں ، پھر اللہ نے بےانصاف لوگوں کے متعلق فرمایا کہ وہ ہدایت کی بات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے بلکہ وہ تو قبروں میں پڑے ہوئے مردوں کی مانند ہیں جنہیں کتنا بھی وعظ و نصیحت کیا جائے ، وہ مستفید نہیں ہو سکتے۔ اس کی مثال بہرہ اور اندھا آدمی ہے کہ وہ بھی…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَالْاِيْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِيْ كِتٰبِ اللہِ اِلٰى يَوْمِ الْبَعْثِ ۡ فَھٰذَا يَوْمُ الْبَعْثِ وَلٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ 56
آتینا
وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] .
[ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] . وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ
[ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
ترکیب : الضعف بالفتح والضم لغتان، من ضعف من للابتدائے ابتداء کم ضعفاء و اساس الانسان الضعف کما قال خلق الانسان من عجل ای من العجلۃ ویمکن ان یقال خلقکم من اصل ضعیف و ہوا لنطفہ علی ان یاول المصدر باسم الفاعل او علی ٰ تقدیر المضاف، ویوم تقوم الساعۃ والعامل فیہ یقسم ای یحلف مالبثوا فی الدنیا اوفی القبور۔ فی کتاب اللہ ای فی علمہ او اللوح المحفوظ، فیومئذ ای یوم کان کذا لاینفع المعذرۃ۔ الذین مفعول لئلا ینفع معذرتھم مصدر مضاف الی الفاعل والمجموع فاعلہ ولاھم یستعتبون ای لا یدعون الیٰ مایزیل عنھم عتبھم ای غضبھم۔
تفسیر : اللہ الذی الخ یہاں سے پھر دلائلِ توحید شروع ہوتے ہیں، پہلے دلائلِ آفاق تھے۔ یہ…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَالْاِیْمَانَ لَقَدْلَبِثْـتُمْ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ اِلٰی یَوْمِ الْبَعْثِ ز فَھٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَلٰـکِنَّـکُمْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (الروم : 56)
(جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا ہے وہ کہیں گے کہ خدا کے نوشتے میں تو تم قیامت تک رہے ہو، سو یہ حشر کا دن ہے لیکن تم جانتے نہیں تھے۔ )
صاحبِ ایمان و علم کی ہوشمندی
مجرم لوگ جب قسمیں کھا کھا کر یہ کہیں گے کہ ہم تو دنیا یا برزخ میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے تو آخر آج ہم سے یہ لمبا چوڑا حساب کیوں لیا جارہا ہے۔ تو وہ لوگ جنھیں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ایمان نصیب ہوا، یعنی وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ موت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
فہم القرآن
ربط کلام : جو ” اللہ “ انسان کو پیدا کرنے، جوان اور بوڑھا کرنے پر قادر ہے وہی قیامت کے دن انسان کو پیدا کرنے پر قادر ہے۔
اللہ تعالیٰ قیامت برپا فرما کر لوگوں کو زندہ کرکے اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا۔ مجرم قیامت کی سختی اور اللہ تعالیٰ کا جلال دیکھ کر قسمیں اٹھا اٹھا کر ایک دوسرے سے کہیں گے کہ ہم دنیا میں ایک لمحہ سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے۔ انہیں فرمایا جائے گا جس طرح تم دنیا میں رہنے کی مدّت کو بھول چکے ہو اسی طرح تم قیامت کو فراموش کرچکے تھے۔ جس بنا پر تم سوچتے نہیں تھے کہ کل ہمیں اپنے عقائد اور اعمال کا جواب دینا ہے۔ جب مجرم ایک دوسرے کے سامنے قسمیں کھا رہے ہوں گے تو قیامت پر یقین…
Read the full tafseer →علم کی مراد :
56: وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ وَالْاِ یْمَانَ (اور وہ لوگ جن کو علم اور ایمان دیا گیا) ۔ اوتوا العلمؔ سے مراد نمبر 1۔ ملائکہ نمبر 2۔
انبیاء (علیہم السلام) اور مومن لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ (تم اللہ تعالیٰ کی کتاب میں رہے) کتاب سے مراد نمبر 1۔ وہ علم الٰہی جو لوح محفوظ میں درج ہے۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور تقدیر اِلٰی یَوْمِ الْبَعْثِ (قیامت کے دن تک) انہوں نے اس بات کی تردید کی جو کفار قسمیں اٹھا کر کہا کرتے تھے اور ان کو حقیقت سے مطلع کیا پھر قیامت کے انکار پر کفار کو جو وہ خبردار کررہے تھے اس کے ساتھ ملاکر اس کو پیش کیا۔ فَھٰذَا یَوْمُ…
Read the full tafseer →56، وقال الذین اوتوا العلم والا یمان لقدلبثتم فی کتاب اللہ، ، یعنی جتنا تمہارے لیے اللہ نے لکھ دیا تھا اتنی مدت تم قبروں میں رہے۔ بعض نے کہافی کتاب اللہ سے مراد اللہ کا حکم مراد ہے۔ قتادہ اور مقاتل کا بیان ہے کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے یا اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ کی کتاب میں جتنی تمہاری مدت قیام لکھی ہوئی تھی اتنی مدت تک رہے۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ، ومن ورائھم برزخ الی یوم یبعثون، متکبرین سے سوال کیا جائے گا کہ تم کتنے دن وہاں ٹھہرے ۔ الی یوم البعث فھذا یوم البعث ، یعنی یہ وہی دن ہے جس دن کا تم انکار کرتے تھے۔ ، ولکنکم کنتم لا تعلمون، دنیا میں وقوع پذیرہونے سے ان کو کوئی علم وعمل نفع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
55 تا 59۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ انسان کی حالت کو ذرا بھی قیام نہیں ہے کبھی بالکل نادان بچہ ہوتا ہے کبھی جوانی کے نشہ میں اپنے آپ کو بھول جاتا ہے پھر تھوڑے دنوں میں دیکھوں تو بڑھاپا آ کر وہ جوانی کا نشہ جاتا رہتا ہے نہ جوانی کا سا کھانا پینا ہے نہ وہ تندرستی ہے دانتوں نے الگ جواب دے دیا نگاہ جدا کمزور ہوگئی ہاتھ پیروں میں بالکل وہ سکت اور بوتا باقی نہیں رہا یہ سب کچھ ہو کر ایک سانس باقی تھا تھوڑے دنوں میں وہ بھی نہیں اور سینکڑوں ایسے دنیا سے اٹھ گئے کہ گویا کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے لیکن باوجود اس ناپائیدار زیست کے غافل لوگ دنیا کو ہیمشہ رہنے کا ٹھکانہ جانتے تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
آیت نمبر : 55 ۔ 57
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کے بارے میں آگاہ فرما رہا ہے کہ وہ بہت جلد آنے والا ہے اور جب قیامت قائم ہوگی تو (یقسم المجرمون) ” مجرم اللہ کی قسمیں اٹھا اٹھا کر کہیں گے “ کہ بلاشبہ وہ (مالبتوا) ” نہیں رہے تھے “ دنیا میں (غیر ساعۃ) ” سوائے ایک گھڑی کے “ وہ یہ عذر اس لیے پیش کریں گے کہ شاید دنیا کی مدت کو کم کہنا انہیں کوئی فائدہ دے۔
چونکہ ان کی یہ بات جھوٹ پر مبنی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ فرمائے گا : (کذلک کانوا یؤفکون) ” وہ اسی طرح غلط اندازے لگایا کرتے تھے۔ “ یعنی وہ دنیا کے اندر بھی ہمیشہ حقائق کو چھوڑ کر کذب بیان کرتے رہے اور جھوٹ گھڑتے رہے ‘ دنیا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–60
جوانی ، بڑھاپے کی زحمت سے پہلے غنیمت ہے
قول باری ہے : (اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعدقوۃ ضعفا وشیبۃ۔ اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے رحم مادر میں ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر تمہیں اطفال بنایا کہ عہد طفولیت میں تم اپنی ذات کے لئے کسی نفع نقصان کے مالک نہیں تھے۔ پھر تمہیں طاقت وربنایا اور تمہیں اتنی استطاعت ، عقل وفہم اور سمجھ بوجھ عطا کی کہ تم دنیاوی امور میں تصرف کے ذریعے جلب منفعت اور دفع مضرت کرسکو۔ پھر اس نے تمہیں…
Read the full tafseer →77 ایمان و علم کی روشنی ایک عظیم الشان اور بےمثال روشنی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کی اس بات کی تردید و تغلیط کے لیے ایمان و علم والے ان سے کہیں گے کہ نہیں بلکہ تم تو اللہ کی کتاب کے مطابق حشر کے دن تک اس طرح پڑے رہے ہو۔ سو اس سے بات واضح ہوجاتی ہے کہ علم و ایمان کی روشنی دارین میں راہنمائی کرنے والی روشنی ہے ۔ سبحان اللہ !۔ علم و ایمان کی شان کیسی عظیم شان ہے کہ وہاں بھی ایسے حضرات ان لوگوں کے اس قول باطل کی تصحیح کریں گے۔ سو علم و ایمان کی راہنمائی و روشنی دونوں جہانوں میں کام آنے والی روشنی اور دولت ہے۔ کیا کہنے اس کی عظمت شان کے ؟ سو کتنے کوتاہ نظر اور ناقص الفہم ہیں وہ لوگ جو اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–60
گمراہوں کی تشبیہ، یوم قیامت کفار کی حالت
تشریح : قرآن پاک کا نصیحت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مثال دیکر نصیحت کرتا ہے۔ کیونکہ جو بات کسی کو مثال دے کر سمجھائی جائے وہ زیادہ واضح اور پر اثر ہوتی ہے۔ اسی لیے قرآن پاک میں پچھلی قوموں کا ذکر بار بار کیا گیا ہے۔ تاکہ ان سے سبق سکھیں۔ انسان کو اپنی زندگی میں اس طریقہ کو دھیان میں رکھنا چاہیے۔ عبرت ناک حادثات اور ملکوں کے حالات قوموں کا تنزل ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے ماضی میں بھی ہوتا رہا حال میں بھی ہو رہا ہے اور مستقبل میں بھی ہوتا رہے گا۔ بات صرف سمجھ کی ہے۔ اسی لیے رب العزت پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کا کام ہے نصیحت کرنا، تبلیغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–60
آیات 54 تا 60
اسرارومعارف
اللہ ہی عظیم ذات ہے جو انسان کو بہت کمزار اور ناتوں پیدا فرماتا ہے زرا اپنی تخلیق پر غور کرو کیسے چھوٹے سے جرثومے سے تمہیں انسانی قالب عطا کیا اس کی یہ ساری صنعت اس کی عظمت پہ گواہ ہے پھر ننھے منے بچے کو بتدریج جوان بنا دیتا ہے طاقتور اور شاہ زور۔ دانشور حاکم عالم اور پھر ایک ایک کر کے اس کے قوی ڈھلنے لگتے ہیں اور پھر ایک کمزور سفید بالوں والا بوڑھا بن جاتا ہے اور اس سارے نظام میں کسی کا کوئی بس نہیں چلتا۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے جو نظام اس نے ترتیب دے دیا ہے وہی چلتا ہے اور وہ خود اس سارے نظام کو خوب جانتا ہے کہ وہ ہر شے پر قادر ہے بلکہ ان کا شعور تو ایسا مسخ ہوا…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی ابنیا فرشتے اور تمام امتوں کے اہل علم و ایمان (قرطبی)5 یعنی جیسے دنیا میں علما ان پر حجت قائم کیا کرتے تھے اس دن بھی ان کا رد کریں گے اور کریں گے اور کہیں گے تم جھوٹ بکتے ہو جو یہ کہتے ہیں کہ دنیا یا عالم برزخ میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے تم ٹھیک کتاب اللہ (یعنی اللہ کے علم یا لوح محفوظ کے نوشتہ) کے مطابق قیامت کے دن تک ٹھہرے رہے ہو بعض مفسرین نے اس آیت میں ’ دفی کتاب اللہ “ کو ” اوتوا “ سے متعلق قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ تقدیر کلام یوں ہے اوتوالعلم فی الکتاب والایمان سا صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ” جن لوگوں کو کتاب اللہ کا علم اور ایمان دیا گیا وہ کہیں گے …“ (قرطبی ابن کثیر)6 جو…
Read the full tafseer →(30:56) فی کتب اللہ : فی علم اللہ او ما کتبہ سبحانہ : اواللوح المحفوظ علم الٰہی کے مطابق یا نوشتہ الٰہی کے مطابق یا جیسا کہ لوح محفوظ میں تحریر ہے۔
یوم البعث۔ مضاف مضاف الیہ۔ جی کر اٹھ کھڑا ہونے کے دن۔ یعنی روز قیامت۔ بعث کے معنی جی اٹھنا۔ بھیجنا۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا رسولوں کو مبعوث کرنا ۔ یعنی بھیجنا۔
فھذا۔ میںجواب شرط ہے تقدیر کلام ہے : ان کنتم منکرین للبعث فھذا یوم البعث الذی انکر تمرہ۔ اگر تم یوم بعث سے انکار کیا کرتے تھے تو یہ ہے یوم بعث جس سے تم منکر تھے۔
ولکنکم کنتم لا تعلمون۔ لیکن تم تو سمجھتے ہی نہ تھے۔ یعنی یقین ہی نہ کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
لغات القرآن آیت نمبر 55 تا 60
الساعتہ (گھڑی۔ قیامت) ۔ یقسم (قسم کھائے گا) ۔ مالبوا (وہ نہیں ٹھہرے۔ وہ نہیں رہے) ۔ یوفکون (وہ الٹے چلتے ہیں) ۔ البعث (اٹھنا) ۔ لا ھم یستعیبون (نہ وہ معافی مانگے جائیں گے) ۔ مبطلون (جھوٹا بنانے والے) ۔ یطبع (وہ مہر لگا دیتا ہے) ۔ لا یستخفن (وہ ہلکا نہ کرے گا) ۔ لا یوقنون (وہ یقین نہیں رکھتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر (55 تا 60) ” اللہ تعالیٰ کے نافرمان کا فرد مشرک قیامت کے ہولناک دن کو دیکھ کر عجیب بہکی بہکی باتیں کرنے لگیں گے کبھی وہ اپنے جھوٹے معبودوں کا انکار کرتے ہوئے کہیں گے اے اللہ درحقیقت ہم مشرک نہیں تھے ہمیں غلط مشورہ دینے والوں یا ان بتوں نے گمراہ کیا تھا۔…
Read the full tafseer →قیامت کے دن کسی کا عذر نہیں سناجائے گا۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ دنیا میں گھڑی دو گھڑی یہ غافل لوگ اس عذر کے طور پر بتلائیں گے کہ گویا دنیا میں زیادہ رہنے اور اللہ کے رسول کی نصیحت سننے کا موقع ان کو نہیں ملا، اس واسطے وہ لوگ جن کو علم اور ایمان ملا، قسم کھاکرغافلوں کے اس عذر کا جواب دیں گے کیوں جھوٹ بولتے ہو، جس قدر اللہ کے وعدہ کے موافق دنیا میں ہم رہے ہیں اسی قدرتم بھی رہے اور تم انکار کرتے تھے پھر مرکرزندہ ہونا اور خدا کے سامنے جاکرحساب وکتاب ہونا، ہماری کچھ سمجھ میں نہیں آیا، اب عذرکاوقت ہاتھ سے جاتارہا، بےوقت اب عذر سے کچھ فائدہ نہیں ۔ ترمذی میں ہے کہ دنیا میں عقل مند وہی شخص ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
[30] یعنی ان کو موقع نہ دیا جائے گا کہ اس دن توبہ کر کرا کے اللہ کو راضی کرلیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
اعتراف حقیقت
1: گذشتہ آیتوں میں یہ بقایا تھا کہ گو اس وقت یہ اس وقت یہ لوگ قیامت کے منکر ہیں ۔ مگر ایک وقت آئے گا ۔ جبکہ یہ سب اس کی حقانیت کا اعتراف کریں گے ۔ اور محسوس کرینگے کہ وہ خدا کے سامنے ہیں ۔ اس وقت ان کے عوام تو جس طرح دنیا میں ہمیشہ الٹی باتیں کہتے تھے ۔ اور ان کو واقعات کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا تھا ۔ یہ کہیں گے کہ ہم عالم برزخ بس ایک ساعت ہی رہے ۔ مگر ان میں کے اہل علم و ایمان یہ ہی ان کی غلط فہمی یہ کہہ کر دور کردینگے کہ یہ میدان حشر ہے ۔ تم کتاب اللہ کے موافق یوم المعیت تک اس عالم میں رہے ہو اب تیار ہوجاؤ کہ احتساب کا وقت آگیا قیل وقال اور بحث و مباحثہ کا وقت نہیں ہے ! اس وقت…
Read the full tafseer →56۔ اور جن لوگوں کو علم اور ایمان عطا کیا گیا وہ اہل علم اور اہل ایمان کہیں گے تم لوگ تو اللہ تعالیٰ کے لکھے اور نوشتہ خداوندی کے موافق قیامت کے دن تک رہے ہو یعنی دنیا اور قبر کی میعاد اللہ تعالیٰ کے نوشتے کے موافق دوبارہ جی اٹھنے کی میعاد تھی سو اس میعاد میں رہے ہو سو قیامت کا دن یہی تو ہے لیکن تم لوگ یقین نہیں کیا کرتے تھے ۔ یہ جواب مسلمان دیں گے اور مسلمان اور فرشتے دونوں کی طرف سے دیا جائیگا کہ میعاد مقررہ میں کچھ کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ مردوں کے جی اٹھنے کے دن کی جو میعاد تھی وہ اللہ تعالیٰ کے نوشتے کے موافق پوری ہوگئی اور قیامت کا اور مردوں کے جی اٹھنے کا دن یہی تو ہے لیکن تم تو وقوع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
ف 4۔ مراد اہل ایمان ہیں کہ اخبار شرعیہ کا علم ان کو حاصل ہے۔
5۔ اس انکار کے وبال میں آج پریشانی کا سامنا ہوا، اس وجہ سے گھبرا کر خیال ہوا کہ ابھی تو میعاد پوری نہیں ہوئی، اور اگر تصدیق کرتے اور ایمان لے آتے تو اس کے وقوع کو جلدی نہ سمجھتے، بلکہ یوں چاہتے کہ اس سے بھی جلدی آجاوے۔
Read the full tafseer →اہل علم ان کو مخاطب کرکے ان کی ساری حالت کی حقیقت ان کے سامنے کھول دیں گے :
56۔ اہل علم سے مراد وہ لوگ ہیں جو قیامت کی گھڑی پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور ان کا عمل بھی ان کے اس نظریہ کی تصدیق کرتا ہے ، جب وہ لوگ دنیوی زندگی کو ایک پل بھر کی زندگی قرار دیں گے اور کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں صرف ایک ساعت کی ساعت گئے تھے یا بھیجے گئے تھے تو وہ لوگ جو قیامت کے دن پر پختہ یقین رکھتے ہیں ان کی مخاطب کرکے کہیں گے کہ کتاب اللہ کے مطابق تو دنیا میں قیامت تک رہے ہو اور اس جگہ قیامت سے مراد ہر شخص کی انفرادی قیامت یعنی موت کی گھڑی ہے اور ان کی مراد بھی یہی ہے کہ کتاب اللہ کے مطابق تو تم اپنی موت تک دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
After this, the falsehood and ignorance of the deniers of the Dooms Day is mentioned وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ that is, ‘When the Dooms Day will come, these deniers of the Dooms Day will start swearing by losing senses after looking at the horrid scenes, that their stay was not more than one hour'. It is probable that the stay referred to here is the stay in this world, because they spent the time in this world in comfort and ease. And when they will encounter troubles in the Hereafter, they, by way of a natural habit of man to regard…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
83 Another translation can be:". .nor it will be required of them to please their Lord", because they will have lost all opportunity for recourse to repentance and Faith and righteous acts, and wasted the time allotted for the test and reached the eve of the announcement of the result.
Read the full tafseer →