Ar-Room 30:55

Ar-Room · from ayah 55

30:55

وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ۙ۬— مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ ؕ— كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ ۟وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ يُقۡسِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ مَا لَبِثُوۡا غَيۡرَ سَاعَةٍ ‌ؕ كَذٰلِكَ كَانُوۡا يُؤۡفَكُوۡنَ

اور جس روز قیامت برپا ہوگی گنہگار قسمیں کھائیں گے کہ وہ (دنیا میں) ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ اسی طرح وہ (رستے سے) اُلٹے جاتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the Day the Hour appears the criminals will swear they had remained but an hour. Thus they were deluded.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 6 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:55

اور جب وہ ساعت برپا ہو گی تو مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھیرے ہیں، اِسی طرح وہ دنیا کی زندگی میں دھوکا کھایا کرتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جس روز قیامت برپا ہوگی گنہگار قسمیں کھائیں گے کہ وہ (دنیا میں) ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ اسی طرح وہ (رستے سے) اُلٹے جاتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جس دن قیامت برپا ہو جائے گی گناه گار لوگ قسمیں کھائیں گے کہ (دنیا میں) ایک گھڑی کے سوا نہیں ٹھہرے، اسی طرح یہ بہکے ہوئے ہی رہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن مجرم لوگ قسم کھا لیں گے کہ وہ (برزخ میں) ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ اسی طرح (دنیا میں بھی) وہ اوندھے چلا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم قسم کھائیں گے کہ نہ رہے تھے مگر ایک گھڑی وہ ایسے ہی اوندھے جاتے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جس دن قیامت برپا ہوگی مُجرم لوگ قَسمیں کھائیں گے کہ وہ (دنیا میں) ایک گھڑی کے سوا ٹھہرے ہی نہیں تھے، اسی طرح وہ (دنیا میں بھی حق سے) پھرے رہتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم قسمیں کھائیں گے کہ وہ ایک گھڑی کے سوا نہیں ٹھہرے۔ اسی طرح وہ بہکائے جاتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مجرم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ : ہم تو ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے اسی طرح وہ (دنیا میں بھی) غلط اندازے لگایا کرتے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جس دن قیامت واقع ہوگی، مجرم قسم کھا کر کہیں گے کہ وہ ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ اسی طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوجاتی رہی ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ وہ ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے اسی طرح (دنیا کی زندگی میں بھی) ان کی مت ماری جا رہی تھی

— مولانا اسحاق مدنی

اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم لوگ قسم کھابیٹھیں گے (کہ) ہم لوگ تو ایک ساعت سے زیادہ رہے ہی نہیں۔ اسی طرح یہ لوگ الٹے چلتے رہتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرمین قسمیں کھاکھا کر کہیں گے کہ وہ ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے اسی طرح وہ (دُنیا میں بھی) الٹے پھرائے جاتے رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جس روز قیامت برپا ہوگی گنہگار قسمیں اٹھائیں گے کہ وہ دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ اسی طرح وہ (رستے سے) الٹے جاتے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

On that Day when the Hour will come to pass the wicked shall swear that they had stayed (in the world) no more than an hour. Thus they used to be deceived in the life of the world.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And on the Day when the Hour (Qiyamah : the Day of Judgement) will take place, the sinners will swear that they did not remain (in the graves) more than one hour. In the similar way they used to be contrary (to truth in their worldly life).

— Muhammad Taqi Usmani

And on the Day when the Hour (Qiyamah : the Day of Judgement) will take place, the sinners will swear that they did not remain (in the graves) more than one hour. In the similar way they used to be contrary (to truth in their worldly life).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And on the Day that the Hour will be established, the criminals will swear that they stayed not but an hour -- thus were they ever deluded.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And on the day when the Hour riseth the guilty will vow that they did tarry but an hour - thus were they ever deceived.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the Day the Hour appears the criminals will swear they had remained but an hour. Thus they were deluded.

— Saheeh International

On the day when the Hour of Doom comes, the criminals will swear that they have remained (in their graves) for no more than an hour. They had been inventing lies in this way.

— Muhammad Sarwar

And at the time when the hour shall come, the guilty shall swear (that) they did not tarry but an hour; thus are they ever turned away.

— Muhammad Habib Shakir

And on the Day whereon the Hour arriveth, the Culprits Will swear that they tarried not but an hour: Thus Were they ever deluded.

— Abdul Majid Daryabadi

On the Day that the Hour (of Reckoning) will be established, the transgressors will swear that they tarried not but an hour: thus were they used to being deluded!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 30:55

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 55–57

واپسی ناممکن ہوگی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفار دنیا اور آخرت کے کاموں سے بالکل جاہل ہیں۔ دنیا میں ان کی جہالت تو یہ ہے کہ اللہ کیساتھ اوروں کو شریک کرتے رہے اور اخرت میں یہ جہالت کریں گے کہ قسمیں کھاکر کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف ایک ساعت ہی رہے۔ اس سے ان کا مقصد یہ ہوگا کہ اتنے تھوڑے سے وقت میں ہم پر کوئی حجت قائم نہیں ہوئی۔ ہمیں معذور سمجھا جائے۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ جیسے یہاں بہکی بہکی باتیں کر رے ہیں دنیا میں یہ بہکے ہوئے ہی رہے۔ فرماتا ہے کہ علماء کرام جس طرح ان کے اس کہنے پر دنیا میں انہیں دلائل دے کر قائل معقول کرتے رہے آخرت میں بھی ان سے کہیں گے کہ تم جھوٹی قسمیں کھا رہے ہو۔ تم کتاب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 55–56

سورة الروم 80 یعنی قیامت جس کے آنے کی خبر دی جارہی ہے۔ سورة الروم 81 یعنی مرنے کے وقت سے قیامت کی اس گھڑی تک۔ ان دونوں ساعتوں کے درمیان چاہے دس بیس ہزار برس ہی گزر چکے ہوں، مگر وہ محسوس کریں گے کہ چند گھنٹے پہلے ہم سوئے تھے اور اب اچانک ایک حادثہ نے ہمیں جگا اٹھایا ہے۔ سورة الروم 82 یعنی ایسے ہی غلط اندازے یہ لوگ دنیا میں بھی لگاتے تھے۔ وہاں بھی یہ حقیقت کے اداراک سے محروم تھے اسی وجہ سے یہ حکم لگایا کرتے تھے کہ کوئی قیامت ویامت نہیں آنی، مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں، اور کسی خدا کے سامنے حاضر ہو کر ہمیں حساب نہیں دینا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 55–60

آگے پھر منکرین قیامت کی لغو گوئی اور ان کی جہالت کا بیان ہے، وَيَوْمَ تَــقُوْمُ السَّاعَةُ يُـقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ڏمَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَاعَةٍ۔ یعنی جس روز قیامت قائم ہوگی تو یہ منکرین قیامت اس وقت کے ہولناک مناظر سے مدہوش ہو کر یہ قسمیں کھانے لگیں گے کہ ہمارا قیام تو ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہا۔ مراد اس قیام سے ہوسکتا ہے کہ دنیا کا قیام ہو کیونکہ ان کی دنیا آرام و عیش سے گذری تھی اور اب مصائب شدیدہ سامنے آئے تو جیسے انسان کی طبعی عادت ہے کہ راحت کے زمانے کو بہت مختصر سمجھا کرتا ہے اس لئے قسمیں کھا جائیں کہ دنیا میں تو ہمارا قیام بہت ہی مختصر ایک گھڑی کا تھا۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ویوم تقوم الساعۃ یقسم المجرمون۔ ما لبثوا غیر ساعۃ کذلک کان ایوفکون (55) یہ دوسری تنبیہ ہے کہ اس دنیا کی زندگی کو بہت طویل نہیں خیال کرنا چاہیے۔ قیامت کے دن جب مجرم لوگ اٹھیں گے تو قسم کھا کے آپس میں کہیں گے کہ ہمارا یہ سارا زمانہ جو گزرا ہے ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج تو یہ نچنت ہیں کہ اگر قیامت ہے بھی تو اس کے ظہور میں زندگی، موت، برزخ اور حشر و نشر کے بہت سے طول طویل مراحل حائل ہیں، ابھی سے اس کے لئے فکر مند ہونے اور پان عیش مکدر کرنے کی کیا ضرورت ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس دن یہ اٹھیں گے تو اس دن ان کا احساس یہ ہوگا کہ یہ سارے مراحل پلک جھپکتے گزر گئے۔ ’ وکذلک کانوا یوفکون ‘…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

55-1ساعت کے معنی ہیں گھڑی، لمحہ، مراد قیامت ہے، اس کو ساعت اس لئے کہا گیا کہ اس واقعہ کو جب اللہ چاہے گا، ایک گھڑی میں ہوجائے گا۔ یا اس لئے کہ یہ اس گھڑی میں ہوگی جو دنیا کی آخری گھڑی ہوگی۔ 55-2دنیا میں یا قبروں میں یہ اپنی عادت کے مطابق جھوٹی قسم کھائیں گے اس لیے کہ دنیا میں وہ جتنا عرصہ رہے ہوں گے ان کے علم میں ہی ہوگا اور اگر مراد قبر کی زندگی ہے تو ان کا حلف جہالت پر ہوگا کیونکہ وہ قبر کی مدت نہیں جانتے ہوں گے۔ بعض کہتے کہ آخرت کے شدائد اور ہولناک احوال کے مقابلے میں دنیا کی زندگی انھیں گھڑی کی طرح ہی لگے گی۔ 55-3اَفَکَ الرَّجُلُ کے معنی ہیں۔ سچ سے پھر گیا، مطلب ہوگا، اسی پھرنے کے مثل وہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 54–57

اللہ الذی خلقکم ۔۔۔۔۔۔۔۔ معذرتھم ولا ھم یستعتبون (54 – 57 یہ ایک بہت ہی طویل مطالعاتی سفر ہے۔ اس کا آغاز تو انسانی زندگی کے آغاز سے ہوتا ہے اور یہ ہمارے سامنے ہے اور آئے دن کا مشاہدہ ہے۔ اس کا آخری حصہ نہایت ہی اگرچہ مشہور نہیں ہے لیکن قرآن کی تصویر کشی ایسے الفاظ میں کرتا ہے کہ گویا وہ ہماری نظروں کے سامنے ہے۔ یہ ایک ایسا مطالعاتی سفر ہے کہ چشم بینا رکھنے والوں کے لیے اور کھلے کان رکھنے والوں کے لئے اور کان لگا کر سننے والوں کے لیے اس میں سامان عبرت ہے۔ اللہ الذی خلقکم من ضعف (30: 54) ” اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی “۔ یہ کہا کہ تمہیں ضعف سے پیدا کیا۔ یہ نہ کہا کہ تمہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی قبر میں یا دنیا میں رہنا تھوڑا معلوم ہوگا جب مصیبت سر پر کھڑی نظر آئے گی کہیں گے کہ افسوس بڑی جلدی دنیا کی اور برزخ کی زندگی ختم ہوگئی۔ کچھ بھی مہلت نہ ملی جو ذرا سی دیر اور اس عذاب الیم سے بچے رہتے۔ یا دنیا میں کچھ زیادہ مدت ٹھہرنے کا موقع ملتا تو اس دن کے لئے تیاری کرتے یہ تو ایک دم مصیبت کی گھڑی سامنے آگئی۔ 3 یعنی جیسے اس وقت یہ کہنا جھوٹ اور غلط ہوگا اسی طرح سمجھ لو کہ دنیا میں بھی یہ لوگ غلط خیالات جماتے اور الٹی باتیں کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 55 وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَلا مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَۃٍ ط ” کہ وہ دنیا میں یا عالم برزخ میں گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے۔ کَذٰلِکَ کَانُوْا یُؤْفَکُوْنَ ” جس طرح وہ لوگ روز قیامت اپنی زندگی کے دورانیے کے بارے میں انتہائی غیر معقول بات کریں گے بالکل ایسے ہی دنیا میں بھی ان کی سوچ اور فکر حقیقت سے بہت دور تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

61 یہ مدت دنیا کی بھی ہوسکتی ہے اور عالم برزخ کی بھی اور دونوں کی بھی۔ اگرچہ مجرموں کی قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے مگر یہ عذاب اخروی عذاب کے مقابلہ میں اتنا ہلکا ہوتا ہے کہ مجرم لوگ اس عذاب قبر کو بھی راحت کی گھڑیاں ہی تصور کریں گے۔ قیامت میں اپنا انجام اور اپنے لئے عذاب دیکھ کر قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم محض ایک گھڑی دنیا میں رہے تھے کیا اچھا ہوتا کہ اتنا تھوڑا سا وقت ہم اللہ کی فرمانبرداری میں گزار لیتے اور یہ برا دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ وہاں تو ان کا یہ اندازہ ہوگا اور دنیا میں وہ ایسے اندازے لگاتے ہیں اور ایسے کام کرتے ہیں جیسے انھیں اس دنیا میں ہمیشہ کے لئے رہنا ہے۔ اللہ سے بھی غافل ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

72۔ (عالم برزخ میں یا دنیا میں) (آیت) ” المجرمون “۔ کافروں کو یوم حشر کی انتہائی گھبراہٹ اور بدحواسی میں محسوس واقعی ایسا ہی ہوگا کہ جیسے قیامت اپنے وقت موعود سے بہت پہلے آگئی اور ان لوگوں کو کچھ مہلت ہی نہ ملی (آیت) ” ما لبثوا غیر ساعۃ “۔ یہ گھڑی بھر کی مدت قیام عالم برزخ میں بھی ہوسکتی ہے۔ اور دنیا میں بھی۔ ائمہ مفسرین دونوں طرف گئے ہیں۔ فی قبورھم (معالم عن مقاتل والکلبی) فی قبورھم (ابن جریر) فی الدنیا (ابن کثیر) فی الدنیا (معالم) اے ما اقاموا فی القبور وروی غیر واحد عن قتادۃ انھم یعنون ما لبثوا فی الدنیا ورجع الاول بانہ الاظہر (روح) 73۔ یعنی ادراک حقائق کے سلسلہ میں ان کی غلط بینیاں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 54–60

آیت نمبر 54 تا 60 ترجمہ : اللہ وہ ذات ہے کہ جس نے تم کو ضعف (یعنی) بےوقعت پانی سے پیدا کیا پھر ضعف آخر یعنی ضعف طفولیت کے بعد توانائی بخشی یعنی قوت شباب پھر قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا دیا یعنی کلاں سالی کی کمزوری اور بڑھاپے کی سفیدی اور (لفظ ضعف) تینوں جگہ ضاد کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ ہے (اور) وہ ضعف وقوت جوانی اور بڑھاپا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ اپنی مخلوق کی تدبیر سے باخبر اور جو چاہے اس پر قادر ہے اور جس دن قیامت برپا ہوگی تو یہ مجرم کافر قسمیں کھائیں گے کہ وہ قبروں میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اسی طرح یہ حق یعنی بعث بعد الموت سے (دنیا) میں الٹے چلا کرتے تھے جیسا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویوم تقوم الساعۃ . اور جس روز قیامت برپا ہوگی۔ قیامت کو ساعت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ قیامت دنیا کی آخری ساعت ہوگی ‘ یا یہ وجہ ہے کہ قیامت یکدم آجائے گی (یعنی السَّاعَۃ کا معنی ہے فوراً ‘ یکدم ‘ آن کی آن میں ‘ مترجم) اَلسَّاعَۃ غلبۂ استعمال کی وجہ سے قیامت کا نام ہوگیا جیسے الکوکب زہرہ کو کہتے ہیں۔ یقسم المجرمون . مجرم یعنی مشرک قسمیں کھائیں گے کہ مالبثوا غیر ساعۃ . وہ ایک ساعت سے سوا نہیں رہے۔ یعنی دنیا میں یا قبروں میں۔ آگے دوسری آیت میں آیا ہے : لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ کِتَاب اللّٰہِ اِلٰی یَوْمِ الْبَعْثِ تم روز حشر تک قبروں میں رہے۔ اخروی عذاب کی مدت کے مقابلہ میں انہوں نے دنیا میں یا قبروں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مشرکین قسم کھائیں گے کہ وہ قبروں میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ جیسا کہ یہ لوگ آخرت میں اس پختگی کے ساتھ جھوٹ بولیں گے اسی طرح یہ دنیا میں بھی جھوٹ بولا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَيَوْمَ تَــقُوْمُ السَّاعَةُ يُـقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ۔۔ : قیامت کے دن مجرم لوگ قسمیں کھائیں گے کہ وہ ایک گھڑی کے سوا نہیں ٹھہرے، یعنی دنیا میں ان کی زندگی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں تھی۔ انھیں اتنا وقت ہی نہیں ملا کہ وہ اپنے رب کو پہچانتے یا اپنے پیغمبروں کی باتوں پر عمل کرتے۔ اس سے ان کا مقصد یہ ہوگا کہ اتنے تھوڑے وقت میں ہم پر حجت قائم نہیں ہوئی، اس لیے ہم معذور ہیں۔ (ابن کثیر) یعنی جس طرح یہ لوگ دنیا میں حق کو پہچانتے تھے اور جانتے بوجھتے ہوئے اسے چھوڑ کر باطل کی طرف جاتے اور باطل کے سچا ہونے پر قسمیں اٹھاتے تھے، اسی طرح آخرت میں بھی یہ جانتے ہوئے کہ وہ دنیا میں اتنی مدت رہے ہیں کہ اگر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 54–55

انسان کی ذات میں موجود اس کی قدرت پر ایک اور استدلال کا ذکر کیا ہے کہ وہ عبرت حاصل کرے۔ کا معنی ہے کمزور نطفہ سے ایک قول یہ کیا گیا ہے کا معنی ہے کمزور حالت میں اس سے مراد ہے جب وہ ابتدا میں طفولت اور چھوٹی عمر میں تھے مراد جوانی ہے مراد بڑھاپا ہے عاصم اور حمزہ نے اسے پڑھا سب میں ضاد مفتوح ہے باقی قراء نے ضاد پر ضمہ پڑھا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں۔ ضمہ پر نبی کریم ﷺ کی لغت ہے ضعفا یہ ضمہ کے ساتھ خاص ہے۔ ارادہ یہ کیا کہ دونوں لغتوں کو جمع کردے فراء نے کہا : ضاد پر ضمہ یہ قریش کی لغت ہے اور فتحہ یہ بنو تمیم کی لغت ہے جوہری نے کہا یہ قوت کی ضد ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ جب ضاد کے فتحہ کے ساتھ ہو تو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 55–60

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویم تقوم الساعۃ یقسم المجرمون مالبثوا غیر ساعۃ اور جس روز قیامت ہوگی مجرم لوگ قسمیں کھائیں گے کہ وہ ایک ساعت کے سوا نہیں رہے۔ یعنی وہ لوگ دنیا میں صرف ایک گھڑی رہے اور جب وہ آخرت کو دیکھیں گے تو دنیا میں قیام کی مدت کو تھوڑا جانیں گے۔ کذالک کانوا یوفکون اسی طرح وہ دنیا میں جھوٹ بولتے تھے آیت وقال الذین اوتوالعلم قتادہ نے فرمایا یہ کلام کی تقدیم اور تاویل ہے ،۔ یعنی وہ لوگ جن کو ایمان اور علم عطا کیا تھا انہوں نے کہا اللہ کی کتاب میں ہے کہ تم قیامت کے دن تک وہاں رہے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس ؓ سے آیت لقد لبثتم فی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَيَوْمَ [اور جس دن ] تَــقُوْمُ السَّاعَةُ [قائم ہوگی وہ گھڑی (قیامت)] يُـقْسِمُ [قسمیں کھائیں گے ] الْمُجْرِمُوْنَ ڏ [مجرم لوگ ] مَا لَبِثُوْا [(کہ) وہ نہیں ٹھہرے ] غَيْرَ سَاعَةٍ ۭ [سوائے ایک گھڑی کے ] كَذٰلِكَ [اس طرح ] كَانُوْا يُؤْفَكُوْنَ [وہ الٹے پھیرے جاتے تھے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 55–57

قیامت کے دن مجرمین کی جھوٹی قسما دھرمی اور اہل ایمان کی حق بیانی یہ تین آیات ہیں، پہلی آیت میں یہ بتایا کہ جب قیامت قائم ہوگی اور زندہ ہو کر قبروں سے نکلیں گے تو اس وقت مجرمین یعنی کافر لوگ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ ہم تو موت کے بعد قبروں میں تھوڑی سی ہی دیر رہے ہیں۔ اور بعض مفسرین نے بتایا کہ اس سے دنیا کی زندگی مراد لیں گے اور ان کے کہنے کا مطلب یہ ہوگا کہ دنیا میں ہم ذرا دیر ہی رہے تھے، عمریں تو اچھی خاصی گزاریں لیکن ایمان نہ لائے اور نیک عمل نہ کیے، اتنی بڑی زندگی بیکار ہی چلی گئی، جو چیز زیادہ ہو اور اس سے نفع نہ اٹھایا جائے تو وہ قلیل مانی جاتی ہے جیسا کہ قلیل چیز نفع مند ہو تو اسے کثیر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–57

ذکر بعض دلائل قدرت برائے اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ اللہ الذی یرسل الریح۔۔۔ الی۔۔۔ ولاہم یستعتبون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں زیاد تر ایسے دلائل قدرت ذکر کئے جو الوہیت اور وحدانیت کے مثبت تھے اب ایسے چند دلائل قدرت ذکر کرتے ہیں کہ جو قیامت اور فنا عالم اور بعث بعد الموت اور حیات ثانیہ کے لئے مثبت ہوں اور بعد ازاں کچھ احوال قیامت کو بیان کیا۔ چناچہ فرماتے ہیں خدا برحق وہ ہے جو بھیجتا ہے ہوائیں پھر اٹھاتی ہیں وہ ہوائیں ابر کو پھر پھیلاتا ہے اللہ اس ابر کو آسمان کی جانب میں جس طرح چاہے کہیں کم اور کہیں زیادہ اور کہیں سفید اور کہیں سیاہ پھر اس کو تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش اس ابر کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

42:۔ یہ تخویف دنیوی ہے قیامت کے دن مجرمین قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ قبروں میں وہ ایک ساعت سے زیادہ نہیں ٹھہرے قیامت کی ہولناکی کے باعث انہیں یہ بھی یاد نہیں رہے گا کہ وہ قبروں میں بہت طویل عرصہ ٹھہرے ہیں۔ کذلک کانو یوفکون جس طرح وہ قیامت میں صحیح بات نہیں بتا سکیں گے اسی طرح دنیا میں بھی حق سے پھیر دئیے جاتے تھے اور باطل کی پیروی کرتے تھے۔ یصرفون من الحق الی الباطل و من الصدق الی الکذب (کبیر ج 6 ص 728) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 54–57

ربطہ آیات گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفر و شرک کی تردید کے ساتھ اپنے رخ کو دین حق کی طرف پھیرنے کا حکم دیا ، اہل ایمان اور کفار کا انجام بیان فرمایا اور پھر قدرت کے عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے۔ ہوائوں کا چلنا ، سمندروں میں کشتی رانی ، فضا میں بادلوں کا پھیلانا اور بارش برسانا اور اس کے ذریعے خشک زمین کو سرسبز بنانا سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں ، پھر اللہ نے بےانصاف لوگوں کے متعلق فرمایا کہ وہ ہدایت کی بات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے بلکہ وہ تو قبروں میں پڑے ہوئے مردوں کی مانند ہیں جنہیں کتنا بھی وعظ و نصیحت کیا جائے ، وہ مستفید نہیں ہو سکتے۔ اس کی مثال بہرہ اور اندھا آدمی ہے کہ وہ بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَوْمَ تَــقُوْمُ السَّاعَۃُ يُـقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ۝ 0ۥۙ مَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَاعَۃٍ۝ 0 ۭ كَذٰلِكَ كَانُوْا يُؤْفَكُوْنَ۝ 55 ساعة السَّاعَةُ : جزء من أجزاء الزّمان، ويعبّر به عن القیامة، قال : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] ، يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] ( س و ع ) الساعۃ ( وقت ) اجزاء زمانہ میں سے ایک جزء کا نام ہے اور الساعۃ بول کر قیامت بھی مراد جاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] قیامت قریب آکر پہنچی ۔ يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] اے پیغمبر لوگ ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ قْسَمَ ( حلف) حلف، وأصله من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 54–56

ترکیب : الضعف بالفتح والضم لغتان، من ضعف من للابتدائے ابتداء کم ضعفاء و اساس الانسان الضعف کما قال خلق الانسان من عجل ای من العجلۃ ویمکن ان یقال خلقکم من اصل ضعیف و ہوا لنطفہ علی ان یاول المصدر باسم الفاعل او علی ٰ تقدیر المضاف، ویوم تقوم الساعۃ والعامل فیہ یقسم ای یحلف مالبثوا فی الدنیا اوفی القبور۔ فی کتاب اللہ ای فی علمہ او اللوح المحفوظ، فیومئذ ای یوم کان کذا لاینفع المعذرۃ۔ الذین مفعول لئلا ینفع معذرتھم مصدر مضاف الی الفاعل والمجموع فاعلہ ولاھم یستعتبون ای لا یدعون الیٰ مایزیل عنھم عتبھم ای غضبھم۔ تفسیر : اللہ الذی الخ یہاں سے پھر دلائلِ توحید شروع ہوتے ہیں، پہلے دلائلِ آفاق تھے۔ یہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ 5 لا مَالَبِثُوْا غَیْرَسَاعَۃٍط کَذٰلِکَ کَانُوْا یُؤْفَکُوْنَ ۔ (الروم : 55) (اور جس دن قیامت برپا ہوگی تو مجرم قسم کھا کر کہیں گے کہ وہ ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے ہیں۔ اسی طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوجاتی رہی ہیں۔ ) قیامت میں مجرمین کی کیفیت قریش کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ جب انھیں نبی کریم ﷺ قیامت کے دن سے ڈراتے ہیں کہ یہ دنیا ہمیشہ نہیں رہے گی ایک دن اس دنیا کی صف لپیٹی جانے والی ہے۔ قیامت برپا ہوگی اور سب لوگ اپنی اپنی قبروں سے نکل کر زندگی بھر کے اعمال کی جواب دہی کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے۔ وہاں نہ دولت کام آئے گی نہ کوئی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 55–57

فہم القرآن ربط کلام : جو ” اللہ “ انسان کو پیدا کرنے، جوان اور بوڑھا کرنے پر قادر ہے وہی قیامت کے دن انسان کو پیدا کرنے پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت برپا فرما کر لوگوں کو زندہ کرکے اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا۔ مجرم قیامت کی سختی اور اللہ تعالیٰ کا جلال دیکھ کر قسمیں اٹھا اٹھا کر ایک دوسرے سے کہیں گے کہ ہم دنیا میں ایک لمحہ سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے۔ انہیں فرمایا جائے گا جس طرح تم دنیا میں رہنے کی مدّت کو بھول چکے ہو اسی طرح تم قیامت کو فراموش کرچکے تھے۔ جس بنا پر تم سوچتے نہیں تھے کہ کل ہمیں اپنے عقائد اور اعمال کا جواب دینا ہے۔ جب مجرم ایک دوسرے کے سامنے قسمیں کھا رہے ہوں گے تو قیامت پر یقین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قیامت کو ساعت کہنے کی وجہ : 55: وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ (اور جس دن قیا مت قائم ہوگی) ۔ الساعہؔ سے قیامت مرد ہے اس کے نام کی وجہ یہ ہے کیونکہ ساعات دنیا کے آخری ساعت میں پیش آئے گی۔ نمبر 2۔ کیونکہ وہ اچانک واقع ہوگی جیسا کہتے ہیں۔ فی ساعۃ اس کے جواب میں بولتے ہیں جو جلد بازی کا طالب ہو اور یہ قیامت کا نام بن گیا جیسا کہ الثریا کو نجم کہتے ہیں۔ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ( اور مجرمین قسمیں اٹھائیں گے) المجرمونؔ سے کافر مراد ہیں کہ کافر قسمیں اٹھائیں گے یہاں وقف نہ کریں گے۔ قلت وقت : کیونکہ مَا لَبِثُوْا (وہ نہیں ٹھہرے) قبور میں یا دنیا میں غَیْرَ سَاعَۃٍ (سوائے ایک گھڑی کے) یہ جواب قسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 55۔ ، ویوم تقوم الساعۃ یقسم المجرمون، مشرک لوگ قسمیں کھائیں گے۔ ، مالبثوا، وہ دنیا میں نہیں رہے مگر، غیر ساعۃ ایک گھڑی ۔ جب وہ آخرت کے دن کا معائنہ کرلیں گے تو وہ اس دنیاوی زندگی کو بھول جائیں گے ۔ مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ وہ یہ کہیں گے کہ قبروں میں ہم تھوڑی دیر ٹھہرے ہیں ۔ جیسا کہ ان کے لیے کہاجاتا ہے ، کانھم یوم یرون ما یوعدو ن لم یلبثو ا الاساعۃ من نھار۔۔۔۔ ، کذلک کانو ایئوفکون، دنیا میں وہ حق سے اسی طرح بہرہ ورہوتے تھے۔ کلبی اور مقاتل کا بیان ہے کہ انہوں نے قیامت کے دن صداقت اور تحقیقی مدت سے جس طرح وہ روگرداں ہوں گے اسی طرح دنیا میں حق کی طرف سے وہ روگرداں تھے ۔ معنی اس کا یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 55–59

55 تا 59۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ انسان کی حالت کو ذرا بھی قیام نہیں ہے کبھی بالکل نادان بچہ ہوتا ہے کبھی جوانی کے نشہ میں اپنے آپ کو بھول جاتا ہے پھر تھوڑے دنوں میں دیکھوں تو بڑھاپا آ کر وہ جوانی کا نشہ جاتا رہتا ہے نہ جوانی کا سا کھانا پینا ہے نہ وہ تندرستی ہے دانتوں نے الگ جواب دے دیا نگاہ جدا کمزور ہوگئی ہاتھ پیروں میں بالکل وہ سکت اور بوتا باقی نہیں رہا یہ سب کچھ ہو کر ایک سانس باقی تھا تھوڑے دنوں میں وہ بھی نہیں اور سینکڑوں ایسے دنیا سے اٹھ گئے کہ گویا کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے لیکن باوجود اس ناپائیدار زیست کے غافل لوگ دنیا کو ہیمشہ رہنے کا ٹھکانہ جانتے تھے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 55–57

آیت نمبر : 55 ۔ 57 اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کے بارے میں آگاہ فرما رہا ہے کہ وہ بہت جلد آنے والا ہے اور جب قیامت قائم ہوگی تو (یقسم المجرمون) ” مجرم اللہ کی قسمیں اٹھا اٹھا کر کہیں گے “ کہ بلاشبہ وہ (مالبتوا) ” نہیں رہے تھے “ دنیا میں (غیر ساعۃ) ” سوائے ایک گھڑی کے “ وہ یہ عذر اس لیے پیش کریں گے کہ شاید دنیا کی مدت کو کم کہنا انہیں کوئی فائدہ دے۔ چونکہ ان کی یہ بات جھوٹ پر مبنی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ فرمائے گا : (کذلک کانوا یؤفکون) ” وہ اسی طرح غلط اندازے لگایا کرتے تھے۔ “ یعنی وہ دنیا کے اندر بھی ہمیشہ حقائق کو چھوڑ کر کذب بیان کرتے رہے اور جھوٹ گھڑتے رہے ‘ دنیا کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 40–60

جوانی ، بڑھاپے کی زحمت سے پہلے غنیمت ہے قول باری ہے : (اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعدقوۃ ضعفا وشیبۃ۔ اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے رحم مادر میں ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر تمہیں اطفال بنایا کہ عہد طفولیت میں تم اپنی ذات کے لئے کسی نفع نقصان کے مالک نہیں تھے۔ پھر تمہیں طاقت وربنایا اور تمہیں اتنی استطاعت ، عقل وفہم اور سمجھ بوجھ عطا کی کہ تم دنیاوی امور میں تصرف کے ذریعے جلب منفعت اور دفع مضرت کرسکو۔ پھر اس نے تمہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

75 قیامت کے روز مجرموں کی بدحواسی کے ایک منظر کا ذکر وبیان : سو اس سے قیامت کے روز مجرموں کی بدحواسی اور ان کے یاس وحسرت کا ایک منظر پیش فرمایا گیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز مجرم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ وہ ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے "۔ یعنی دنیا و برزخ میں کہ آخرت کی اس لامحدود زندگی اور وہاں کے ان خوفناک عذابوں کے مقابلے میں ان کو دنیا و برزخ کی یہ تمام مدت طویلہ گھڑی بھر کے برابر معلوم ہوگی۔ جبکہ آج اپنی اسی عارضی وفانی زندگی پر مست ہو کر یہ لوگ آخرت اور اس کی زندگی کا مذاق اڑانے اور جلد عذاب لانے کے مطالبے کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 52–60

گمراہوں کی تشبیہ، یوم قیامت کفار کی حالت تشریح : قرآن پاک کا نصیحت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مثال دیکر نصیحت کرتا ہے۔ کیونکہ جو بات کسی کو مثال دے کر سمجھائی جائے وہ زیادہ واضح اور پر اثر ہوتی ہے۔ اسی لیے قرآن پاک میں پچھلی قوموں کا ذکر بار بار کیا گیا ہے۔ تاکہ ان سے سبق سکھیں۔ انسان کو اپنی زندگی میں اس طریقہ کو دھیان میں رکھنا چاہیے۔ عبرت ناک حادثات اور ملکوں کے حالات قوموں کا تنزل ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے ماضی میں بھی ہوتا رہا حال میں بھی ہو رہا ہے اور مستقبل میں بھی ہوتا رہے گا۔ بات صرف سمجھ کی ہے۔ اسی لیے رب العزت پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کا کام ہے نصیحت کرنا، تبلیغ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 54–60

آیات 54 تا 60 اسرارومعارف اللہ ہی عظیم ذات ہے جو انسان کو بہت کمزار اور ناتوں پیدا فرماتا ہے زرا اپنی تخلیق پر غور کرو کیسے چھوٹے سے جرثومے سے تمہیں انسانی قالب عطا کیا اس کی یہ ساری صنعت اس کی عظمت پہ گواہ ہے پھر ننھے منے بچے کو بتدریج جوان بنا دیتا ہے طاقتور اور شاہ زور۔ دانشور حاکم عالم اور پھر ایک ایک کر کے اس کے قوی ڈھلنے لگتے ہیں اور پھر ایک کمزور سفید بالوں والا بوڑھا بن جاتا ہے اور اس سارے نظام میں کسی کا کوئی بس نہیں چلتا۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے جو نظام اس نے ترتیب دے دیا ہے وہی چلتا ہے اور وہ خود اس سارے نظام کو خوب جانتا ہے کہ وہ ہر شے پر قادر ہے بلکہ ان کا شعور تو ایسا مسخ ہوا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یا اپنی برزخی زندگی میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ قیامت کے دن کی ہولناکیوں اور عذاب جہنم کے سامنے دیکھ کر یہ احساس پیدا ہوگا ہوسکتا ہے کہ قیامت سے پہلے کچھ وقفہ ہوجی اٹھنے کے بعد ایک ساعت محسوس ہو۔3 یعنی وہاں بھی یہ اسی طرح کے غلط اندازے لگایا کرتے تھے چناچہ جھوٹی قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ مرنے کے بعد بس فنا ہوجانا ہے کوئی آخرت و آخرت آنے والی نہیں ہے جس کے لئے کوئی تیاری کی جائے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(30:55) ویوم : ای واذکر یوم۔ اور یاد کرو وہ دن۔ یقوم الساعۃ۔ قیامت قائم ہوگی۔ جب قیامت کی گھڑی آجائے گی۔ الساعۃ (وقت) اجزائے زمانہ میں سے ایک جزء کا نام ہے ساعت، گھڑی، پل، الساعۃ بول کر قیامت بھی مراد لی جاتی ہے۔ س و ع مادہ۔ یقسم۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ اقسام (افعال) مصدر۔ قسمیں کھائیں گے۔ یؤفکون ۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ ماضی استمراری کے معنی میں۔ وہ پھیرے جاتے تھے۔ الٹے چلتے رہتے تھے۔ علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں :۔ ای اکنوا یکذبون فی الدنیا یعنی وہ دنیا میں بھی جھوٹ بولا کرتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی سچائی اور بھلائی سے روگرداں ہوجائے تو اہل عرب کہتے ہیں۔ افک الرجل۔ مدارک التنزیل…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 55–60

لغات القرآن آیت نمبر 55 تا 60 الساعتہ (گھڑی۔ قیامت) ۔ یقسم (قسم کھائے گا) ۔ مالبوا (وہ نہیں ٹھہرے۔ وہ نہیں رہے) ۔ یوفکون (وہ الٹے چلتے ہیں) ۔ البعث (اٹھنا) ۔ لا ھم یستعیبون (نہ وہ معافی مانگے جائیں گے) ۔ مبطلون (جھوٹا بنانے والے) ۔ یطبع (وہ مہر لگا دیتا ہے) ۔ لا یستخفن (وہ ہلکا نہ کرے گا) ۔ لا یوقنون (وہ یقین نہیں رکھتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر (55 تا 60) ” اللہ تعالیٰ کے نافرمان کا فرد مشرک قیامت کے ہولناک دن کو دیکھ کر عجیب بہکی بہکی باتیں کرنے لگیں گے کبھی وہ اپنے جھوٹے معبودوں کا انکار کرتے ہوئے کہیں گے اے اللہ درحقیقت ہم مشرک نہیں تھے ہمیں غلط مشورہ دینے والوں یا ان بتوں نے گمراہ کیا تھا۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) اس آیت میں فرمایا ہے کہ وہ غافل دنیا کے فریفتہ لوگ جو دنیا کو اپنی غفلت سے اپنا ہمیشہ کا ٹھکانا جانتے ہیں پس مجرم لوگ قیامت کے دن لاکھوں کروڑوں برس کا عذاب دیکھیں گے توقسمیں کھاکھا کر کہیں گے کہ اس لاکھوں برس کے عذاب کے حساب سے تو گویا ہم دنی اور قبروں میں گھڑدوگھڑی رہے فرمایا یہ عذر ان لوگوں کے کچھ کام نہ آئے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[29] یعنی دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہ رہنے کو بطورعذر پیش کریں گے کہ ہم کو مہلت ہی کب ملی کہ نیک عمل کرتے۔ ایسے ہی غلط اندازے وہ دنیا میں بھی لگاتے تھے۔ وہاں بھی یہ حقیقت کے ادراک سے محروم تھے اور اسی وجہ سے قیامت اور جزا و سزا کا انکار کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 55–57

اعتراف حقیقت 1: گذشتہ آیتوں میں یہ بقایا تھا کہ گو اس وقت یہ اس وقت یہ لوگ قیامت کے منکر ہیں ۔ مگر ایک وقت آئے گا ۔ جبکہ یہ سب اس کی حقانیت کا اعتراف کریں گے ۔ اور محسوس کرینگے کہ وہ خدا کے سامنے ہیں ۔ اس وقت ان کے عوام تو جس طرح دنیا میں ہمیشہ الٹی باتیں کہتے تھے ۔ اور ان کو واقعات کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا تھا ۔ یہ کہیں گے کہ ہم عالم برزخ بس ایک ساعت ہی رہے ۔ مگر ان میں کے اہل علم و ایمان یہ ہی ان کی غلط فہمی یہ کہہ کر دور کردینگے کہ یہ میدان حشر ہے ۔ تم کتاب اللہ کے موافق یوم المعیت تک اس عالم میں رہے ہو اب تیار ہوجاؤ کہ احتساب کا وقت آگیا قیل وقال اور بحث و مباحثہ کا وقت نہیں ہے ! اس وقت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

55۔ اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو یہ مجرم قسمیں کھا کھاکر کہیں گے کہ وہ دنیا اور برزخ میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے جس طرح یہ آج غلط اور الٹی بات کہہ رہے ہیں اسی طرح دنیا میں بھی یہ لوگ حق بات سے پھرے ہوئے تھے اور صحیح بات سے الٹے چلا کرتے تھے۔ یعنی دنیا کا رہنا یا برزخ کا رہنا یا دونوں کی مدت قیامت کی ہولناکی اور شدت عذاب کے مقابلے میں ایک گھڑی معلوم ہوگی اور دنیا میں یہ قسمیں کھا کھا کر دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرتے تھے آج وہاں کی مدت کو قسمیں کھا کر ایک گھڑی بتا رہے ہیں جو بےڈھنگی اور الٹی چال وہاں چلتے تھے وہی الٹی بات آج کہہ رہے ہیں ۔ پہلی آیت میں قیامت کے امکان کا ذکر تھا اس آیت میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 55–56

ف 4۔ مراد اہل ایمان ہیں کہ اخبار شرعیہ کا علم ان کو حاصل ہے۔ 5۔ اس انکار کے وبال میں آج پریشانی کا سامنا ہوا، اس وجہ سے گھبرا کر خیال ہوا کہ ابھی تو میعاد پوری نہیں ہوئی، اور اگر تصدیق کرتے اور ایمان لے آتے تو اس کے وقوع کو جلدی نہ سمجھتے، بلکہ یوں چاہتے کہ اس سے بھی جلدی آجاوے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس روز قیامت قائم ہوگی تو مجرم کیا بیان دیں گے اور ان کی حالت دیدنی ہوگی : 55۔ آج جب ان کو حشر کا دن بتایا جاتا ہے تو یہ طرح طرح سے استہزاء کرتے ہیں اور باتیں بناتے ہیں اور اپنے جرائم سے باز آنے کا نام بھی نہیں لیتے لیکن اس وقت جب وہ بارگاہ ایزدی میں کھڑے کئے جائیں گے تو وہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں صرف ایک پل بھر ہی رہے تھے یہ اتنا لمبا چوڑا حساب ہمارا کس چیز کا لیا جا رہا ہے گویا اتنے ڈھیٹ ہیں کہ ایسے نازک حالات میں بھی وہ کذب بیانی سے نہیں چوکیں گے لیکن ان کی اس کذب گوئی پر تعجب اور حیرت کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ان کی تو یہ پرانی عادت ہے دنیا میں انہوں نے دن رات جھوٹ بولے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 55–60

After this, the falsehood and ignorance of the deniers of the Dooms Day is mentioned وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِ‌مُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ‌ سَاعَةٍ that is, ‘When the Dooms Day will come, these deniers of the Dooms Day will start swearing by losing senses after looking at the horrid scenes, that their stay was not more than one hour'. It is probable that the stay referred to here is the stay in this world, because they spent the time in this world in comfort and ease. And when they will encounter troubles in the Hereafter, they, by way of a natural habit of man to regard…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

80 That is, Resurrection, which is being foretold here. 81 That is, from the time of death till Resurrection. Even if thousands of years might have elapsed since their death they will feel that they had gone to sleep a few hours earlier and then a sudden calamity had roused them froth sleep. 82 That is, "They used to make similar wrong estimates in the world, There also they lacked the realization of Reality, and therefore, used to assert there was going to be no Resurrection, no life-after-death, and no too. that accountability before God."

Read the full tafseer →