پیدائش انسان کی مرحلہ وار روداد
انسان کی ترقی وتنزل اس کی اصل تو مٹی سے ہے۔ پھر نطفے سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے پھر اسے ہڈیاں پہنائی جاتی ہیں پھر ہڈیوں پر گوشت پوست پہنایا جاتا ہے پھر روح پھونکی جاتی ہے پھر ماں کے پیٹ سے ضعیف ونحیف ہو کر نکلتا ہے پھر تھوڑا تھوڑا بڑھتا ہے اور مضبوط ہوتا جاتا ہے پھر بچپن کے زمانے کی بہاریں دیکھتا ہے پھر جوانی کے قریب پہنچتا ہے پھر جوان ہوتا ہے آخر نشوونما موقوف ہوجاتی ہے۔ اب قوی پھر مضمحل ہونے شروع ہوتے ہیں طاقتیں گھٹنے لگتی ہیں ادھیڑ عمر کر پہنچتا ہے پھر بڈھا ہوتا پھونس ہوجاتا ہے طاقت کے بعد یہ کمزوری بھی قابل عبرت ہوتی ہے۔ کہ ہمت پست ہے، دیکھنا…
Read the full tafseer →سورة الروم 79
یعنی بچپن، جوانی اور بڑھاپا، یہ ساری حالتیں اسی کی پیدا کردہ ہیں۔ یہ اسی کی مشیت پر موقوف ہے کہ جسے چاہے کمزور پیدا کرے اور جس کو چاہے طاقت ور بنائے، جسے چاہے بچپن سے جوانی تک نہ پہنچنے دے اور جس کو چاہے جوان مرگ کردے، جسے چاہے لمبی عمر دے کر بھی تندرست و توانا رکھے اور جس کو چاہے شاندار جوانی کے بعد بڑھاپے میں اس طرح ایڑیاں رگڑوائے کہ دنیا اسے دیکھ کر عبرت کرنے لگے۔ انسان اپنی جگہ جس گھمنڈ میں چاہے مبتلا ہوتا رہے مگر خدا کے قبضہ قدرت میں وہ اس طرح بےبس ہے کہ جو حالت بھی خدا اس پر طاری کردے اسے وہ اپنی کسی تدبیر سے نہیں بدل سکتا۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اللہ ایسا ہے جس نے تم کو ناتوانی کی حالت میں بنایا (مراد اس سے ابتدائی حالت بچپن کی ہے) پھر (اس) ناتوانی کے بعد توانائی (یعنی جوانی) عطا کی پھر (اس) توانائی کے بعد ضعف اور بڑھاپا کیا (اور) وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ (ہر تصرف کو) جاننے والا (اور اس تصرف کے نافذ کرنے پر) قدرت رکھنے والا ہے (پس جو ایسا قادر ہو اس کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ یہ تو بیان تھا بعث کے امکان کا) اور (آگے اس کے وقوع کا بیان ہے یعنی) جس روز قیامت ہوگی مجرم (یعنی کافر) لوگ (وہاں کی ہول وہیبت و پریشانی کو دیکھ کر قیامت کی آمد کو غایت درجہ ناگوار سمجھ کر) قسم کھا بیٹھیں گے کہ (قیامت بہت جلدی آگئی…
Read the full tafseer →اللہ الذی خلقکم من ضعفف ثم جعل من بعد ضعب قوۃ چم جعل من بعد قوۃ ضعفا وشیبۃ یخلق ما یشاء وھو العلیم القدیر (54)
اب یہ آخر میں تنبیہ ہے کہ کسی کو اپنی قوت و صلاحت اور اپنے اسباب وسائل پر ناز نہیں ہونا چاہیے۔ جو کچھ بھی انسان کو ملتا ہے سب خدا ہی کو دیا ہوا ملتا ہے اور پھر اسی کی طرف سے سب لوٹ جاتا ہے۔ تم اپنے وجود ہی پر غور کرو۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی کمزور و ناتواں حالت میں تم کو وجود بخشتا ہے۔ پھر اس ناتوانی کے بعد جوانی کی توانائیاں اور صلاحیتیں عطا فرماتا ہے۔ اس کے بعد پھر بڑھاپے کی صورت میں اسی سابق ناتوانی کا دور عود کر آتا ہے۔ کسی کے امکان میں نہیں ہے کہ اپنی پائی ہوئی جوانی اور طاقت کو…
Read the full tafseer →54-1یہاں سے اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا ایک اور کمال بیان فرما رہا ہے اور وہ ہے مختلف اطوار سے انسان کی تخلیق۔ ضعف (کمزوری کی حالت) سے مراد نطفہ یعنی قطرہ آب ہے یا عالم طفولیت۔
54-2یعنی جوانی، جس میں قوائے عقلی و جسمانی کی تکمیل ہوجاتی ہے۔54-3کمزوری سے مراد کہولت کی عمر ہے جس میں عقلی و جسمانی قوتوں میں نقصان کا آغاز ہوجاتا ہے اور بڑھاپے سے مراد شیخوخت کا وہ دور ہے جس میں ضعف بڑھ جاتا ہے۔ ہمت پست ہاتھ پیروں کی حرکت اور گرفت کمزور، بال سفید اور تمام ظاہری و باطنی صفات متغیر ہوجاتی ہیں۔ قرآن نے انسان کے یہ چار بڑے اطوار بیان کیے ہیں۔ بعض علماء نے دیگر چھوٹے چھوٹے اطوار بھی شمار کر کے انھیں قدرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
23: یعنی وہ اندھے جو کسی کی رہنمائی قبول نہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
اللہ الذی خلقکم ۔۔۔۔۔۔۔۔ معذرتھم ولا ھم یستعتبون (54 – 57 یہ ایک بہت ہی طویل مطالعاتی سفر ہے۔ اس کا آغاز تو انسانی زندگی کے آغاز سے ہوتا ہے اور یہ ہمارے سامنے ہے اور آئے دن کا مشاہدہ ہے۔ اس کا آخری حصہ نہایت ہی اگرچہ مشہور نہیں ہے لیکن قرآن کی تصویر کشی ایسے الفاظ میں کرتا ہے کہ گویا وہ ہماری نظروں کے سامنے ہے۔ یہ ایک ایسا مطالعاتی سفر ہے کہ چشم بینا رکھنے والوں کے لیے اور کھلے کان رکھنے والوں کے لئے اور کان لگا کر سننے والوں کے لیے اس میں سامان عبرت ہے۔
اللہ الذی خلقکم من ضعف (30: 54) ” اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی “۔ یہ کہا کہ تمہیں ضعف سے پیدا کیا۔ یہ نہ کہا کہ تمہیں…
Read the full tafseer →1 یعنی بچہ شروع میں پیدائش کے وقت بیحد کمزور ناتواں ہوتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ قوت آنے لگتی ہے حتیٰ کہ جوانی کے وقت اسکا زور انتہا کو پہنچ جاتا ہے اور تمام قوتیں شباب پر ہوتی ہیں، پھر عمر ڈھلنے لگتی ہے اور زور قوت کے پیچھے کمزوری کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ جس کی آخری حد بڑھاپا ہے۔ اس وقت تمام اعضاء ڈھیلے پڑجاتے اور قوی معطل ہونے لگتے ہیں۔ قوت و ضعف کا یہ سب اتار چڑھاؤ اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس طرح چاہے جس چیز کو بنائے۔ اور قوت و ضعف کے مختلف ادوار میں سے گزارے۔ اسی کو قدرت حاصل ہے اور وہی جانتا ہے کہ کس چیز کو کس وقت تک کن حالات میں رکھنا مناسب ہے۔ لہذا اسی خدا کی اور اس کے پیغمبروں کی باتیں…
Read the full tafseer →آیت 54 اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ ضُعْفٍ ”
یعنی انسان کا بچہ اپنی پیدائش کے وقت بہت کمزور ہوتا ہے۔
ثُمَّ جَعَلَ مِنْم بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّۃً ”
پھر اللہ کی قدرت اور مشیت سے وہی ناتواں بچہ بڑا ہو کر کڑیل جوان بن جاتا ہے۔
ثُمَّ جَعَلَ مِنْم بَعْدِ قُوَّۃٍ ضُعْفًا وَّشَیْبَۃً ط ”
پھر رفتہ رفتہ انسان کی تمام صلاحیتیں زوال کا شکار ہوجاتی ہیں اور بڑھاپے میں ایک دفعہ پھر انسان کمزوری اور بےبسی کی تصویر بن کر رہ جاتا ہے۔
Read the full tafseer →59 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی وہ تدریجی حالتیں بیان فرمائی ہیں جن میں مجبور محض ہوتا ہے اور اپنے اختیار سے ان حالتوں میں خود کوئی تبدیلی لانا ممکن نہیں ہے، پیدا ہوتا ہے تو اس قدر کمزور کہ کسی بھی جاندرا کا بچہ اتنا کمزور پیدا نہیں ہوگا۔ ہر جاندار کا بچہ پیدا ہوتے ہیں چلنے پھرنے لگتا ہے مگر انسان کا بچہ چلنا تو درکنار بیٹھ بھی نہیں سکتا اور چلنے کی نوبت تو ڈیڑھ دو سال بعد آتی ہے۔ پھر اس کے بعد اس پر بلوغت اور جوانی کا دور آتا ہے تو وہ جسمانی طور پر طاقتور اور مضبوط ہوتا ہے۔ اس کے فوائے عقلیہ، اس کا فہم و شعور سب جوبن پر ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اس پر انحطاط کا دور آتا ہے۔ قوتیں جواب دینے…
Read the full tafseer →70۔ ہر تصرف میں وہی آزاد خود مختار ہے۔ وہی جب چاہے نیست سے ہست کرے، ضعیف سے قوی اور قوی سے ضعیف، کوئی اس کا مانع ومزاحم کسی درجہ میں بھی نہیں ہوسکتا۔ (آیت) ” خلقکم من ضعیف “۔ اس ناتوانی سے مراد قبل پیدائش حالت جنبین یا نطفہ کی بےحقیقتی اور کمزوری ہے۔ (آیت) ” بعد ضعف “۔ میں ضعف سے مراد بچپن کی ناطاقتی اور بےبسی ہے۔ (آیت) ” قوۃ “۔ سے مراد جوانی اور قوی کے بلوغ اور پختگی کا زمانہ ہے۔
71۔ ہر ضرورت ومصلحت کا علم بھی اسی کو پورا ہے۔ اور ہر تصرف پر قدرت بھی پوری پوری اسی کو حاصل ہے۔ سو اس کے خلق وخلقت میں کسی کمی یا نقص کا امکان ہی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–60
آیت نمبر 54 تا 60
ترجمہ : اللہ وہ ذات ہے کہ جس نے تم کو ضعف (یعنی) بےوقعت پانی سے پیدا کیا پھر ضعف آخر یعنی ضعف طفولیت کے بعد توانائی بخشی یعنی قوت شباب پھر قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا دیا یعنی کلاں سالی کی کمزوری اور بڑھاپے کی سفیدی اور (لفظ ضعف) تینوں جگہ ضاد کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ ہے (اور) وہ ضعف وقوت جوانی اور بڑھاپا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ اپنی مخلوق کی تدبیر سے باخبر اور جو چاہے اس پر قادر ہے اور جس دن قیامت برپا ہوگی تو یہ مجرم کافر قسمیں کھائیں گے کہ وہ قبروں میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اسی طرح یہ حق یعنی بعث بعد الموت سے (دنیا) میں الٹے چلا کرتے تھے جیسا…
Read the full tafseer →اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعد قوۃ ضعفا وشیبۃ
ا اللہ ہی تو ہے جس نے تم کو ناتوانی کی حالت میں بنایا ‘ پھر ناتوانی کے بعد توانائی عطا کی ‘ پھر توانائی کے بعد ضعف اور بڑھاپا کردیا۔
یعنی تمہاری ابتداء آفرنیش ضعف طفولیت سے کی ‘ یا مراد ہے کہ ضعف تمہاری زندگی کی بنیاد ہے (یعنی تمہاری تخلیق میں داخل ہے) جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ یعنی عجلت انسان کی سرشت میں داخل ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ تم کو ضعیف اصل یعنی نطفہ سے پیدا کیا ہے جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : اَلَمْ نَخْلُقْکُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّھِیْنٍ کیا حقیر پانی سے ہم نے تم کو نہیں پیدا…
Read the full tafseer →اللہ ایسا ہے جس نے تمہیں ایک کمزور نطفہ سے بنایا پھر اس کمزوری کے بعد طاقت عطا کر کے ایک نوجوان طاقتور انسان بنا دیا اور پھر اس توانائی کے بعد ضعف اور بڑھاپا طاری کیا۔
اور وہ ان تمام امور کو جاننے والا اور ان اختیارات کے نافذ کرنے پر قادر ہے وہ اپنی مخلوق کو جس طرح چاہتا ہے ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف بدلتا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ۔۔ : مفسر ابن کثیر فرماتے ہیں : ”انسان کا اصل تو مٹی سے ہے، پھر نطفے سے، پھر جمے ہوئے خون کے ٹکڑے سے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے، پھر اسے ہڈیاں پہنائی جاتی ہیں، پھر ہڈیوں پر گوشت پوست پہنایا جاتا ہے، پھر روح پھونکی جاتی ہے، پھر ماں کے پیٹ سے ضعیف و نحیف ہو کر نکلتا ہے، پھر تھوڑا تھوڑا بڑھتا ہے اور مضبوط ہوتا جاتا ہے، پھر بچپن کے زمانے کی بہاریں دیکھتا ہے، پھر جوانی کے قریب پہنچتا ہے، پھر جوان ہوتا ہے، آخر نشو و نما موقوف ہوجاتی ہے۔ اب قویٰ پھر مضمحل ہونا شروع ہوتے ہیں، طاقتیں گھٹنے لگتی ہیں، ادھیڑ عمر کو پہنچتا ہے، پھر بوڑھا ہوجاتا ہے۔ طاقت کے بعد یہ کمزوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
انسان کی ذات میں موجود اس کی قدرت پر ایک اور استدلال کا ذکر کیا ہے کہ وہ عبرت حاصل کرے۔ کا معنی ہے کمزور نطفہ سے ایک قول یہ کیا گیا ہے کا معنی ہے کمزور حالت میں اس سے مراد ہے جب وہ ابتدا میں طفولت اور چھوٹی عمر میں تھے مراد جوانی ہے مراد بڑھاپا ہے عاصم اور حمزہ نے اسے پڑھا سب میں ضاد مفتوح ہے باقی قراء نے ضاد پر ضمہ پڑھا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں۔
ضمہ پر نبی کریم ﷺ کی لغت ہے ضعفا یہ ضمہ کے ساتھ خاص ہے۔ ارادہ یہ کیا کہ دونوں لغتوں کو جمع کردے فراء نے کہا : ضاد پر ضمہ یہ قریش کی لغت ہے اور فتحہ یہ بنو تمیم کی لغت ہے جوہری نے کہا یہ قوت کی ضد ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ جب ضاد کے فتحہ کے ساتھ ہو تو…
Read the full tafseer →1۔ سعید بن منصور واحمد وابوداوٗد والترمذی وحسنہ وابن المنذر والطبرانی والشیرازی فی الالقاب والدارقطنی فی الافراد وابن سدی والحاکم وابو نعیم فی الحلیہ وابن مردویہ والخطیب فی تالی التلخیص ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے سامنے میں نے یوں پڑھا آیت اللہ الذی خلقکم من ضعف اللہ تعالیٰ نے تم کو کمزور پیدا کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ من ضعف ہے۔
2۔ الخطیب نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے یوں پڑھا آیت اللہ الذی خلقکم من ضعف کے ساتھ
3۔ ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اس حرف کو سورة روم میں یوں پڑھتے تھے۔ آیت اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعد قوۃ ضعفا یعنی تم…
Read the full tafseer →اَللّٰهُ الَّذِيْ [اللہ وہ ہے جس نے ] خَلَقَكُمْ [پیدا کیا تم تو ] مِّنْ ﮨـعْفٍ [کمزوری سے (کمزور)] ثُمَّ جَعَلَ [پھر اس نے بنایا ] مِنْۢ بَعْدِ ﮨـعْفٍ [کمزوری کے بعد ] قُوَّةً [قوت (طاقتور)] ثُمَّ جَعَلَ [پھر اس نے بنایا ] مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ [قوت کے بعد ] ﮨـعْفًا [کمزوری ] وَّشَيْبَةً ۭ [اور بڑھاپا ] يَخْلُقُ [وہ پیدا کرتا ہے ] مَا [وہ جو ] يَشَاۗءُ ۚ [وہ چاہتا ہے ] وَهُوَ الْعَلِيْمُ [اور وہ ہی جاننے والا ہے ] الْقَدِيْرُ [قدرت والا ہے ] ۔
Read the full tafseer →انسان ضعف و قوت کے مختلف احوال سے گزرتا ہے، جو صرف اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے ہوتا ہے
آیت میں انسان کی پیدائش اور اس کی قوت وضعف کی حالت بیان فرمائی ہے۔ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو ایسی حالت میں پیدا فرمایا کہ تم کمزور تھے یعنی بچے تھے پھر ضعف کے بعد قوت سے نواز دیا، انسان پہلے دودھ پیتا بچہ ہوتا ہے حرکت کے قابل بھی نہیں ہوتا، پھر ہاتھ پاؤں چلاتا ہے، نظریں گھماتا ہے، اپنے گھر والوں کو پہچانتا ہے، پھر لیٹے لیٹے پلٹیں کھانا شروع کردیتا ہے، پھر ٹیک لگا کر بیٹھنے کے قابل ہوتا ہے، پھر بغیر سہارے کے بیٹھنے لگتا ہے، پھر گھٹنوں کے بل چلنا شروع کردیتا ہے، پھر سہارے سے کھڑا ہوتا ہے ایک دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–57
ذکر بعض دلائل قدرت برائے اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ اللہ الذی یرسل الریح۔۔۔ الی۔۔۔ ولاہم یستعتبون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں زیاد تر ایسے دلائل قدرت ذکر کئے جو الوہیت اور وحدانیت کے مثبت تھے اب ایسے چند دلائل قدرت ذکر کرتے ہیں کہ جو قیامت اور فنا عالم اور بعث بعد الموت اور حیات ثانیہ کے لئے مثبت ہوں اور بعد ازاں کچھ احوال قیامت کو بیان کیا۔
چناچہ فرماتے ہیں خدا برحق وہ ہے جو بھیجتا ہے ہوائیں پھر اٹھاتی ہیں وہ ہوائیں ابر کو پھر پھیلاتا ہے اللہ اس ابر کو آسمان کی جانب میں جس طرح چاہے کہیں کم اور کہیں زیادہ اور کہیں سفید اور کہیں سیاہ پھر اس کو تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش اس ابر کے…
Read the full tafseer →41:۔ یہ توحید پر تیرہویں عقلی دلیل ہے۔ اے بنی آدم اپنی پیدائش کے مختلف اطوار و ادوار دیکھو جب تم پیدا ہوئے اس وقت تم ہر لحاظ سے کمزور تھے۔ بچپن کے بعد عمر میں اضافے کے ساتھ ساتھ بدن میں قوت بھی بڑھتی گئی یہاں تک کہ عین عالم شباب میں تمہاری بدنی قوت بھی عروج کو پہنچ گئی۔ اس کے بعد عمر ڈھلنا شروع ہوئی تو قوت میں ضعف نمودار ہونے لگا۔ یہاں تک کہ ضعف کی آخری حد بڑھاپے تک پہنچ گئے۔ یہ قوت و ضعف، جوانی و بڑھاپا سب اللہ کے اختیار میں ہے۔ وھو العلیم القدیر اور وہی سب کچھ جاننے والا اور وہی سب کچھ کرنے والا ہے لہذا وہی سب کا کارساز اور حاجت روا ہے اور اس کے سوا کوئی دعاء اور پکار کے لائق نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفر و شرک کی تردید کے ساتھ اپنے رخ کو دین حق کی طرف پھیرنے کا حکم دیا ، اہل ایمان اور کفار کا انجام بیان فرمایا اور پھر قدرت کے عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے۔ ہوائوں کا چلنا ، سمندروں میں کشتی رانی ، فضا میں بادلوں کا پھیلانا اور بارش برسانا اور اس کے ذریعے خشک زمین کو سرسبز بنانا سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں ، پھر اللہ نے بےانصاف لوگوں کے متعلق فرمایا کہ وہ ہدایت کی بات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے بلکہ وہ تو قبروں میں پڑے ہوئے مردوں کی مانند ہیں جنہیں کتنا بھی وعظ و نصیحت کیا جائے ، وہ مستفید نہیں ہو سکتے۔ اس کی مثال بہرہ اور اندھا آدمی ہے کہ وہ بھی…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 9
اَللہُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّۃٍ ضُؔعْفًا وَّشَيْبَۃً 0 ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ 0 ۚ وَہُوَالْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ 54
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا .
وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ.
فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
ترکیب : الضعف بالفتح والضم لغتان، من ضعف من للابتدائے ابتداء کم ضعفاء و اساس الانسان الضعف کما قال خلق الانسان من عجل ای من العجلۃ ویمکن ان یقال خلقکم من اصل ضعیف و ہوا لنطفہ علی ان یاول المصدر باسم الفاعل او علی ٰ تقدیر المضاف، ویوم تقوم الساعۃ والعامل فیہ یقسم ای یحلف مالبثوا فی الدنیا اوفی القبور۔ فی کتاب اللہ ای فی علمہ او اللوح المحفوظ، فیومئذ ای یوم کان کذا لاینفع المعذرۃ۔ الذین مفعول لئلا ینفع معذرتھم مصدر مضاف الی الفاعل والمجموع فاعلہ ولاھم یستعتبون ای لا یدعون الیٰ مایزیل عنھم عتبھم ای غضبھم۔
تفسیر : اللہ الذی الخ یہاں سے پھر دلائلِ توحید شروع ہوتے ہیں، پہلے دلائلِ آفاق تھے۔ یہ…
Read the full tafseer →اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ ضُعْفً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ م بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ م بَعْدِقُوَّۃٍ ضُعْفًا وَّشَیْبَۃً ط یَخْلُقُ مُایَشَآئُ ج وَھُوَالْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ ۔ (الروم : 54)
(اللہ ہی ہے جس نے تم کو ناتوانی سے پیدا کیا، پھر ناتوانی کے بعد قوت بخشی، پھر قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا طاری کردیا، وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وہ سب کچھ جاننے والا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ )
توحید، قدرت قاہرہ اور قیامت پر دلیل
یہ سورة کا آخری رکوع ہے۔ اس لیے اب تک قرآن کریم نے جن مباحث پر دلائل پیش کیے ہیں انھیں نہایت احسن طریق سے سمیٹتے ہوئے یکجا صورت میں پیش کیا جارہا ہے۔…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جو ” رب “ بارش برستا اور ہوائیں چلاتا ہے اس کی مزید صفات ملاحظہ فرمائیں۔
” اللہ “ ہی وہ ذات ہے جس نے تم کو کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد قوت عطا فرمائی۔ قوت دینے کے بعد پھر وہ تمہیں کمزوری اور بڑھاپے میں مبتلا کردیتا ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ وہ ہر بات کا علم رکھنے والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی کے تین مرحلوں کا ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کو پیدائش کے وقت انتہائی کمزور پیدا کرتا ہے۔ انسان اعضاء کے اعتبار سے اس قدر چھوٹا اور کمزور ہوتا ہے کہ وہ نہ چل سکتا ہے نہ اپنے آپ بیٹھ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی چیز اپنے ہاتھ…
Read the full tafseer →ناتوانی سے جوانی دی :
54: اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ ضُعْفٍ (اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے تمہیں ناتوانی کی حالت میں بنایا) ضعف سے مراد نطفہ سے بنانا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا من مائٍ مھین ] المرسلات : 20[ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ 0 بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّ ۃً (پھر اس نے ناتوانی کے بعد توانائی عطاء فرمائی) قوت سے حالت جوانی اور کامل بلوغ مراد ہے۔ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِقُوَّۃٍ ضُعْفًا وَّ شَیْبَۃً (پھر اس نے توانائی کے بعد ضعف اور بڑھا پا بنادیا) ۔ شیبۃؔ سے انتہائی بڑھاپا مراد ہے اور یَخْلُقُ مَا یَشَآء (وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے) ضعف وناتوانی (بچپن) توانائی، شباب و جوانی اور بڑھاپا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
54۔ ، اللہ الذی خلقکم من ضعف، ضاد کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ ۔ ضمہ کی صورت میں قریش کی لغت ہے اور فتحہ کی صورت میں بنوتمیم کی لغت ہے ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ تم کو ضعیف اصل یعنی نظفہ سے پیدا کیا ہے ۔ یعنی ایسے پانی کے ساتھ جو بہت کمزور تھی ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان۔۔۔۔ ، ثم جعل من بعد ضعف قوۃ، ضعف طفولیت کے بعد جوانی دی ۔ ، ثم جعل من بعد قوۃ ضعفاوشیبۃ یخلق مایشائ، ضعف قوت جوانی اور بڑھاپا۔ ، وھوالعلیم ، اس کی مخلوق کی تدبیر۔ ، القدیر، جس پر دہ چاہے۔
Read the full tafseer →54۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کے حالات میں جو تغیر تبدل اول سے بڑھاپے تک ہے وہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اول مٹی سے پھر پانی جیسی پیلح چیز کی بوند سے پھر جمے خون سے پھر بوٹی سے انسان کو پیدا کیا اس کے بعد پھر ہڈیاں پھر ان پر گوشت چڑھایا اور پھر ماں اور روح پھونکنے، پھر ماں کے پیٹ سے بچہ کمزور پیدا ہو کر پھر رفتہ رفتہ کچھ کچھ زور پکڑتا گیا غرضیکہ جوانی تک کم زور بچہ کہلاتا ہے پھر بلوغ کے قریب ہوتا ہے پھر جوان ہوتا ہے یہ نہایت قوت کا زمانہ ہے اس کے بعد پھر نقصان کا زمانہ شروع ہوتا ہے طاقت کم ہونے لگتی ہے یہاں تک کہ نہایت بڈھا ہوجاتا ہے اور یہ قوت کی کمزوری کا زمانہ ہے جس…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 54
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے وسعت علم ‘ عظمت اقتدار اور کمال حکمت کو بیان کرتا ہے کہ اس نے انسان کو کمزوری سے پیدا کیا اور وہ اس کی تخلیق کے ابتدائی مراحل ہیں یعنی اس نطفے سے جما ہوا خون بنایا پھر گوشت کا لوتھڑا بنایا اور پھر رحم کے اندر زندہ انسان بنایا پھر اس کو ماں کے پیٹ سے پیدا کیا۔ جب وہ سن طفولیت میں ہوتا ہے تو انتہائی ضعیف اور اس میں قوت وقدرت معدوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی قوت میں اضافہ کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جوانی کو پہنچ جاتا ہے ‘ اس کی قوت اور اس کے ظاہری و باطنی قویٰ مکمل ہوجاتے ہیں۔ پھر اس مرحلے سے کمزوری اور بڑھاپے کی طرف لوٹتا ہے۔
(یخلق مایشآء) وہ اپنی حکمت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–60
جوانی ، بڑھاپے کی زحمت سے پہلے غنیمت ہے
قول باری ہے : (اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعدقوۃ ضعفا وشیبۃ۔ اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے رحم مادر میں ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر تمہیں اطفال بنایا کہ عہد طفولیت میں تم اپنی ذات کے لئے کسی نفع نقصان کے مالک نہیں تھے۔ پھر تمہیں طاقت وربنایا اور تمہیں اتنی استطاعت ، عقل وفہم اور سمجھ بوجھ عطا کی کہ تم دنیاوی امور میں تصرف کے ذریعے جلب منفعت اور دفع مضرت کرسکو۔ پھر اس نے تمہیں…
Read the full tafseer →74 خود اپنی جانوں میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اللہ ہی نے پیدا فرمایا تم سب لوگوں کو کمزوری وناتوانی سے " سو اپنی تخلیق کے شروع و آخر کی یہ کمزوریاں جن کو روکنا اور ان سے بچنا تمہارے بس میں نہیں بلکہ آغاز و انجام کی ان دونوں کمزوریوں کے سامنے تم سراسر عاجز اور لاچار ہو۔ تو پھر تمہارے لیے کسی تکبر و اعراض کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے ؟ پس اپنے اندر کی اس شہادت و گواہی اور اپنی جانوں کے اندر پائی جانے والی اس حقیقت واقعیہ کو ہمیشہ یاد رکھتے ہوئے اور اپنے آغاز و انجام کو دیکھتے ہوئے تم لوگ ان دونوں کے بیچ میں ملنے والی قوت و فرصت سے فائدہ اٹھاؤ اور اس کو اللہ پاک کی رضا و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–60
گمراہوں کی تشبیہ، یوم قیامت کفار کی حالت
تشریح : قرآن پاک کا نصیحت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مثال دیکر نصیحت کرتا ہے۔ کیونکہ جو بات کسی کو مثال دے کر سمجھائی جائے وہ زیادہ واضح اور پر اثر ہوتی ہے۔ اسی لیے قرآن پاک میں پچھلی قوموں کا ذکر بار بار کیا گیا ہے۔ تاکہ ان سے سبق سکھیں۔ انسان کو اپنی زندگی میں اس طریقہ کو دھیان میں رکھنا چاہیے۔ عبرت ناک حادثات اور ملکوں کے حالات قوموں کا تنزل ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے ماضی میں بھی ہوتا رہا حال میں بھی ہو رہا ہے اور مستقبل میں بھی ہوتا رہے گا۔ بات صرف سمجھ کی ہے۔ اسی لیے رب العزت پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کا کام ہے نصیحت کرنا، تبلیغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–60
آیات 54 تا 60
اسرارومعارف
اللہ ہی عظیم ذات ہے جو انسان کو بہت کمزار اور ناتوں پیدا فرماتا ہے زرا اپنی تخلیق پر غور کرو کیسے چھوٹے سے جرثومے سے تمہیں انسانی قالب عطا کیا اس کی یہ ساری صنعت اس کی عظمت پہ گواہ ہے پھر ننھے منے بچے کو بتدریج جوان بنا دیتا ہے طاقتور اور شاہ زور۔ دانشور حاکم عالم اور پھر ایک ایک کر کے اس کے قوی ڈھلنے لگتے ہیں اور پھر ایک کمزور سفید بالوں والا بوڑھا بن جاتا ہے اور اس سارے نظام میں کسی کا کوئی بس نہیں چلتا۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے جو نظام اس نے ترتیب دے دیا ہے وہی چلتا ہے اور وہ خود اس سارے نظام کو خوب جانتا ہے کہ وہ ہر شے پر قادر ہے بلکہ ان کا شعور تو ایسا مسخ ہوا…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی انسان پر قوت و ضعف کے یہ ادوار واطوار طبعی نہیں ہیں بلکہ یہ سب حالتیں اللہ علیم و قدیر کی پیدا کی ہوئی ہیں اور انسان پر ان حالتوں کا وار ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اوپر دلائل آفاق کا ذکر تھا۔ اب یہاں دلائل انفس کی طرف اشارہ فرما دیا۔ (کبیر)
Read the full tafseer →(30:54) ضعف اصل میں ضعیف ہے مصدر کو مبالغہ کے لئے صفت کے لئے استعمال کیا ہے یا اس سے مراد من ذی ضعف ہے یعنی نطفہ۔ جسے دوسری جگہ ماء مہین (بہت حقیر) کہا گیا ہے۔
من بعد ضعف قوۃ۔ (عطا کی) کمزوری کے بعد طاقت (جوابی) اور من بعد قوۃ ضعفا وشیبۃ اور قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا (جوانی کے بعد الخطاط اور پھر بڑھاپا) شیبۃ بڑھاپا۔ بالوں کا سفید ہونا۔ اشیب بوڑھا آدمی اس کی جمع شیب جیسے ابیض کی جمع بیض ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ یجعل الولدان شیبا (73:17) (جو) بچوں کو بوڑھا بنا دیگا۔ شیب مادہ۔
القدیر۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ قدیر وہ ہے جو اقتضائے حکمت کے موافق جو چاہے کرے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 54
مصفر (زرد) ۔ مدبرین (پیٹھ دکھانے والے) ۔ شیبتہ (بڑھاپا) ۔ یخلق (وہ پیدا کرتا ہے)
تشریح : آیت نمبر (51 تا 54) ” گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ جب بارش سے پہلے خوش خبری دینے والی ہوائیں چلتی ہیں تو وہ اس تصور سے پھولے نہیں سماتے کہ بارش کے بعد موسم کی شدت کم ہوجائے گی اور ان کی کھیتیاں ہری بھری ہوجائیں گی درختوں پر رونق آجائے گی ایسے لوگ خوش تو ہوتے ہیں مگر اس اللہ کا شکرادا نہیں کرتے جس نے اپنے کرم سے بادل بھیج کر ان سے ان کو سکون عطا کیا ہے۔ اس کے برخلاف اگر ان کی ہری بھری کھیتیوں پر سخت سردی، شدید گرمی یا خشک اور جھلسا دینے والی ہوائیں چل پڑتی ہیں جن سے ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
(ف 1) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کے حالات میں تغیر وتبدل اول سے برھاپے تک ہے وہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اول مٹی سے پھر پانی جیسی پتلی چیز نطفہ سے پھر جمے خون سے ، پھر بوٹی سے انسان کو پیدا کیا ہے اس کے بعد پھر ہڈیاں پھر ان پر گوشت چڑھایا پھر روح پھونکی، پھر ماں کے پیٹ سے بچہ کمزور پیدا ہوکر پھر رفتہ رفتہ کچھ زور پکڑتا گیا پھر بلوغ کے قریب ہوتا ہے پھر جوان ہوتا ہے یہ نہایت قوت کا زمانہ ہے ، اس کے بعد پھر نقصان کا زمانہ شروع ہوتا ہے ، طاقت کم ہونے لگتی ہے یہاں تک کہ بڈھا ہوجاتا ہے بال سفید ہوجاتے ہیں غرض اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے اپنے بندوں میں اپنی قدرت کے موافق تصرف کرتا…
Read the full tafseer →[28] یعنی آدمی پیدائش سے پہلے ماں کے پیٹ میں جنین تھا، پھر بچہ بن کر پیدا ہوا اور شیرخوار رہا۔ یہ احوال ضعف کے ہیں۔
Read the full tafseer →حشر کے متعلق یہ دوسرے انداز کا استدلال ہے ارشاد ہے کہ تم خود اپنی حالت پر غور کرو ۔ اس میں کتنی تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں ۔ جب تمہیں پیدا کیا گیا تھا اس وقت تم سخت ناتواں تھے ۔ پھر تمہیں رفتہ رفتہ توانائی بخشی ۔ جہاں ہوئے اور پھر اصولوں وضعف کی طرف لوٹادیئے گئے ۔ اس طرح کیا موت کے بعد پھر کسی دوسری تبدیلی کا مکان نہیں ہے ۔
Read the full tafseer →54۔ اللہ تعالیٰ وہ قادر مطلق ہے جس نے تم کو ابتداء ً کمزور اور ضعیف حالت میں پیدا کیا اور بنایا پھر کمزوری کے بعد طاقت اور توانائی عطا کی پھر طاقت اور قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا کیا وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ بڑا جاننے والا بڑی قدرت والا ہے ، یعنی انسان کی ابتداء ضعف کے ساتھ ہوتی ہے ۔ وخلق الانسان ضعیفا ً ، منی اور نطفہ ، مضغہ ، علقہ پھر روح کا پڑنا ، پیدا ہونا ، پیدا ہوتا ہے تو بھی نا تواں ، نہ گردن ٹھہرتی ہے نہ آنکھ ٹھہرتی ہے غرض کمزوری اور نا توانی بچے کو گھیرے رہتی ہے پھر بتدریج طاقت اور توانائی آتی ہے اور جوانی بھرتی ہے جوانی کے بعد پھرنا توانی اور بڑھاپا شروع ہوتا ہے یہ تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
ف 1۔ مراد اس سے ابتدائی حالت بچپن کی ہے۔
2۔ یعنی جوانی عطا کی۔
3۔ پس جو ایسا قادر ہو اس کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جس نے تم کو مختلف ادوار سے گزار کر بڑھاپے میں ڈال دیا :
54۔ زیر نظر آیت میں لفظ (ضعف) تین بار ذکر کیا گیا اس کے تلفظ کے متعلق یہ بات قابل یادداشت ہے کہ اس کو ہمارے ہاں ضاد کی پیش سے پڑھا جاتا ہے اور باقی مشرقی وسطی کے اسلامی ممالک میں ضاد کے زبر سے لیکن معنی کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں کیا گیا ۔ گزشتہ آیات میں توحید الہی کا بیان آفاقی سے استدلال کرتے ہوئے کیا تھا اور اب اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت کاملہ کی ایک دلیل انسان کے اپنے نفس سے کی جا رہی ہے کہ اگر تمہاری نگاہ کائنات کی دوسری اشیاء تک نہیں پہنچ سکتی تمہاری توجہی کے باعث یا کوتاہ نظری کے باعث اور تم اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Commentary
Greater part of this Surah aims at removing the doubts of the deniers of the Hereafter. For meeting this end, many verses deal with the signs of Allah's omnipotence and His all-encompassing wisdom in order to awake people from their slumber. The first of the above-referred verses deals with the same subject in a different manner. It is pointed out that man is impetuous by nature, in the sense that he gets involved in the present so much that he forgets the past and the future. This habit leads him to many a serious problems. When he is young, his strength is at its peak, and he…
Read the full tafseer →79 That is, "The states of childhood and youth and old age have all been created by Him. It is dependent upon His will that He may create whomever He pleases weak and whomever He pleases strong; He may give death to whomever He pleases before attaining manhood and whomever He pleases in the prime of youth; He may grant a long life and yet keep in sound health whomever He pleases and bring to a wretched, agonising old age after a brimful youth whomever He likes. Man may live in self-conceit and arrogance if he so likes, but he is so helpless in God's powerful grip that he cannot change by any…
Read the full tafseer →