Explained with ayahs 52–53
مسئلہ سماع موتی
باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ جس طرح یہ تیری قدرت سے خارج ہے کہ مردوں کو جو قبروں میں ہوں تو اپنی آواز سنا سکے۔ اور جس طرح یہ ناممکن ہے کہ بہرے شخص کو جبکہ وہ پیٹھ پھیرے منہ موڑے جارہا ہو تو اپنی بات سنا سکے۔ اسی طرح سے جو حق سے اندھے ہیں تو ان کی رہبری ہدایت کی طرف نہیں کرسکتا۔ ہاں اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے جب وہ چاہے مردوں کو زندوں کو آواز سناسکتا ہے۔ ہدایت ضلالت اسکی طرف سے ہے۔ تو صرف انہیں سناسکتا ہے جو باایمان ہوں اور اللہ کے سامنے جھکنے والے اس کے فرمانبردار ہوں۔ یہ لوگ حق کو سنتے ہیں اور مانتے بھی ہیں یہ تو حالت مسلمان کی ہوئی اور اس سے پہلے جو حالت بیان ہوئی ہے وہ…
Read the full tafseer →سورة الروم 78
یعنی نبی کا کام یہ تو نہیں ہے کہ اندھوں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں ساری عمر راہ راست پر چلاتا رہے، وہ تو راہ راست کی طرف رہنمائی ہی کرسکتا ہے۔ مگر جن لوگوں کی ہے آنکھیں پھوٹ چکی ہوں اور جنہیں وہ راستہ نظر ہی نہ آتا ہو جو نبی انہیں دکھانے کی کوشش کرتا ہے، ان کی رہنمائی کرنا نبی کے بس کا کام نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى، اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ رہا یہ معاملہ کہ مردوں میں سننے کی صلاحیت ہے یا نہیں اور عام مردے زندہ کا کلام سنتے ہیں یا نہیں ؟ اس مسئلہ کی مختصر تحقیق معارف القرآن سورة نمل کی تفسیر میں گذر چکی ہے، اور مکمل تحقیق احقر کے مستقل رسالہ بزبان عربی میں ہے جس کا نام " تکمیل الحبور بسماع اہل القبور " ہے اور جو احکام القرآن بزبان عربی کے حزب خامس کا جز ہو کر شائع ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
فانک لا تسمع الموتی ولا تسمع الصم الداء اذا والو مدبرین وما انت بھذا العمی عن ضللتھم ان تسمع الا من یومن بایتنا فھم مسلمون (52۔ 53)
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایسے متلون مزاج اور بےثبات ہیں کہ آج میں کچھ اور آن میں کچھ ہیں۔ ذرا میں مایوس اور ذرا میں مغرور ہوتے ہیں۔ خدا کی بیشمار نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی ان کے دل خدا پر ہیں جمرتے، وہ روحانی و عقلی اعتبار سے زندہ نہیں بلکہ مردہ ہیں، سننے والے نہیں بلکہ بہرے ہیں، دیکھنے والے نہیں بلکہ اندھے ہیں۔ ایسے مردوں، بہروں اور اندھوں کو سنانا، سمجھانا نہ تمہارے بس میں ہے اور نہ اس کی تمہارے اوپر کوئی ذمہ داری ہے۔ ولا تسمع الصم الدعاء اذ اولو مدبراین میں اس بات…
Read the full tafseer →53-1اس لئے کہ یہ آنکھوں سے کما حقہ فائدہ اٹھانے سے یا بصیرت (دل کی بینائی) سے محروم ہیں۔ یہ گمراہی کی جس دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، اس سے کس طرح نکلیں ؟
53-2یعنی یہی سن کر ایمان لانے والے ہیں، اس لئے کہ یہ اہل تفکر و تدبر ہیں اور آثار قدرت سے مؤثرحقیقی کی معرفت حاصل کرلیتے ہیں۔
53-3یعنی حق کے آگے سر تسلیم خم کردینے والے اور اس کے پیرو کار۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
23: یعنی وہ اندھے جو کسی کی رہنمائی قبول نہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
فانک لا تسمع الموتی ۔۔۔۔۔۔۔ فھم مسلمون (52 – 53) ، “۔
یہ لوگ مردے ہیں ، ان میں زندگی کی رمق نہیں ، یہ بہرے ہیں ، کوئی آواز نہیں سن سکتے۔ یہ اندھے ہیں ان کو کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ جو شخص اپنے احساس کے دروازے اس کائنات ثوامیس فطرت کے لیے بند کردیتا ہے اور اسے فطرت کے یہ نشانات نظر نہیں آتے وہ مر چکا ہے۔ اس میں حیات نہیں ہے۔ اگر کوئی زندگی ہے تو پھر یہ حیوانی زندگی ہے بلکہ وہ حیوانوں سے بھی زیادہ گمراہ ہے۔ حیوانوں میں ایک فطری شعور ہوتا ہے اور وہ شعور کبھی بھی غلطی نہیں کرتا۔ جو شخص اللہ کی ان نشانیوں کی پکار نہیں سنتا وہ بالکل بہرہ ہے۔ اگرچہ اس کے کان ہوں اور ان کے ساتھ آواز ٹکراتی ہو۔ جو شخص اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
8 یعنی اللہ کو سب قدرت ہے، مردہ کو زندہ کردے، تم کو یہ قدرت نہیں کہ مردوں سے اپنی بات منوا سکو یا بہروں کو سنا دو ۔ یا اندھوں کو دکھلا دو ۔ خصوصاً جب وہ سننے اور دیکھنے کا ارادہ بھی نہ کریں۔ پس آپ ان کے کفر و ناسپاسی سے ملول و غمگین نہ ہوں۔ آپ صرف دعوت و تبلیغ کے ذمہ دار ہیں کوئی بدبخت نہ مانے تو آپ کا کیا نقصان ہے آپ کی بات وہ ہی سنیں گے جو ہماری باتوں پر یقین کر کے تسلیم وانقیاد کی خو اختیار کرتے ہیں۔
(تنبیہ) اسی قسم کی آیت سورة " نمل " کے آخر میں گزر چکی، اس پر ایک نظر ڈال لی جائے۔ مفسرین نے اس موقع پر " سماع موتیٰ " کی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس مسئلہ میں صحابہ ؓ کے عہد سے اختلاف چلا آتا ہے اور…
Read the full tafseer →آیت 53 وَمَآ اَنْتَ بِہٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِہِمْ ط ”
ان دل کے اندھوں کو آپ گمراہی میں بھٹکنے سے نہیں بچا سکتے اور ان کو ضلالت سے نکال کر راہ راست پر نہیں لاسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
58 اس سورة کی آیات نمبر 52، 53 اور سورة نمل کی آیات نمبر 80، 81 کے الفاظ تک آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ لہذا انہی آیات کے حواشی ملاحظہ فرما لئے جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
69۔ یعنی یہ لوگ بےادرا کی میں مردوں، بہروں، اندھوں کی سطح پر ہیں آپ ان سے نہ ایمان کی توقع رکھیے نہ ان کے انکار وتکذیب پر غم وتردد کیجئے۔ (آیت) ” فانک لا تسمع الموتی “۔ مردوں کے سننے نہ سننے پر حاشیہ سورة النمل (پ 20) آیت (آیت) ” انک لا تسمع الموتی “۔ کے تحت میں گزر چکا۔ کسی بندہ سے یہ کہنا کہ تم مردوں کو اپنی آواز سنا نہیں سکتے۔ اس کا مستلزم نہیں کہ سرے سے سماع میت کا انکار ہی مقصود ہے۔ کسی سے یہ کہنا کہ تم آسمان کی سیر نہی کرسکتے، اس کے مرادف نہیں کہ حق تعالیٰ بھی آسمان کی سیر نہیں کراسکتا۔ سماع موتی اپنے حدود کے اندر اہل سنت کے ہاں ایک متفقہ مسئلہ ہے۔ اس سے کلیۃ انکار درست نہیں۔ مرشد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیت نمبر 41 تا 53
ترجمہ : خشکی یعنی میدانوں میں خشک سالی اور نباتات کی کمی کی وجہ سے اور تری یعنی ان شہروں میں جو نہروں (سمندروں) کے
کنارے واقع ہیں پانی کی قلت کی وجہ سے لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد ظاہر ہوگیا تاکہ ہم ان کو ان کے بعض اعمال کی سزا کا مزہ چکھائیں ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں توبہ کریں، آپ مکہ کے کافروں سے کہئے کہ زمین میں چلو پھرو دیکھو پہلوں کا کیا انجام ہوا ؟ جن میں اکثر لوگ مشرک کے سبب ہلاک کردیئے گئے اور ان کے گھر اور مکانات گرے پڑے ہیں آپ اپنی توجہ دین قیم یعنی اسلام کی جانب رکھئے قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کو اللہ (ہرگز) نہیں ٹالے گا اس روز سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے…
Read the full tafseer →وما انت بھد العمی عن ضللتھم . اور نہ آپ اندھوں کو راستہ دکھا سکتے ہیں کہ ان کو گمراہی سے نکال دیں۔
اندھوں سے مراد کفار ہیں ‘ کافروں کے پاس آنکھیں تھیں لیکن دیکھنے کا جو مقصد تھا وہ ان کو حاصل نہ تھا اس لئے ان کو نابینا قرار دیا۔ یا اندھے پن سے مراد ہے دل کا اندھا ہونا۔
ان تسمع الا من یومن بایتنا فھم مسلمون . آپ تو بس انہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں (یعنی ایسا سنا سکتے ہیں
کہ وہ سمجھ جائیں اور مان لیں) جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں ‘ پس وہ ہی (آپ کے حکم کی) اطاعت کرنے والے ہیں۔
یعنی جو ایمان لانے والے ہیں ‘ وہی آیات کے معانی پر غور کرتے ہیں (اس لئے آپ کے سنانے کا فائدہ انہی کو پہنچتا ہے) یہ بھی…
Read the full tafseer →اور اسی طرح آپ اندھوں کو ان کی بےراہی سے ہدایت کی طرف نہیں لاسکتے۔
آپ تو بس اپنی دعوت ان ہی لوگوں سنا سکتے ہیں جو ہماری کتاب اور ہمارے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر وہ عبادت الہی اور توحید خداوندی میں سچے اور مخلص بھی ہیں۔
Read the full tafseer →وَمَآ اَنْتَ بِهٰدِي الْعُمْىِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ۔۔ : یہاں اندھوں سے بھی دل کے اندھے ہی مراد ہیں، جنھیں گمراہی سے نکال کر نجات کی راہ پر لے آنا آپ کے بس میں نہیں اور نہ ایسا کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ دیکھیے سورة نمل (80، 81)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
اے محمد ﷺ آپ نے دلائل کو واضح کردیا لیکن وہ کفر میں اپنے اسلاف کی تقلید سے محبت کرتے ہیں اس وجہ سے ان کی معقول مر گئی ہیں اور ان کی بصیرتیں ناپید ہوگئی ہیں انہیں یہ پیغام حق سناتا اور انہیں ہدایت آپ کے لئے ممکن نہیں (1) یہ قدریہ کا رد ہے یعنی آپ مومنوں کو ہی وعظ سنا سکتے ہو جو توحید کے اولہ کو توجہ سے سنتے ہیں اور میں نے ان کے لئے ہدایت کو تخلیق فرمایا ہے سورة نمل میں یہ بحث گزر چکی ہے یہاں کا لفظ یاء کے بغیر واقع ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
1۔ مسلم وابن مردویہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے مشرک مقتولین کو کئی دنوں تک یونہی چھوڑ دیا۔ یہاں تک کہ ان کے جسم گلنے سڑنے لگے پھر آپ ان کے پاس تشریف لائے اور ان کو آواز دینے لگے فرمایا اے امیہ بن خلف ابوجہل عتبہ بن ربیعہ کیا تم نے سچا پایا اس وعدے کو جو تمہارے رب نے تم سے وعدہ کیا تھا عمر ؓ نے آپ کی آواز سن کر فرمایا رسول اللہ آپ تین دنوں کے بعد ان کو پکار رہے ہیں کیا وہ آواز کو سنتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں آیت فانک لا تسمع الموتی کہ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے تو آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم اس نے زیادہ سننے والے نہیں ہو لیکن…
Read the full tafseer →وَمَآ اَنْتَ [اور آپ ﷺ نہیں ہیں ] بِهٰدِي الْعُمْىِ [اندھوں کو راہ سجھانے والے ] عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ ۭ [ان کی گمراہی سے ] اِنْ تُسْمِعُ [آپ ﷺ نہیں سناتے ] اِلَّا مَنْ [مگر اس کو جو ] يُّؤْمِنُ [ایمان لاتا ہے ] بِاٰيٰتِنَا [ہماری آیت پر ] فَهُمْ [تو وہی ] مُّسْلِمُوْنَ [فرمانبرداری کرنے والے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
آپ مردوں اور بہروں کو نہیں سنا سکتے اور اندھوں کو ہدایت نہیں دے سکتے
یعنی آپ کے جو مخاطبین ہیں آپ ان کے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کرتے ہیں، ان کے سامنے دلائل پیش کرتے ہیں، یہ سننے کا ارادہ ہی نہیں کرتے۔ جس طرح آپ مردوں کو اور بہروں کو نہیں سنا سکتے جبکہ یہ بہرے پیٹھ پھیر کر چل دیں اور اشارہ کو بھی نہ دیکھیں، اسی طرح یہ لوگ ہیں ان کا سننے کا ارادہ نہیں ہے، مردوں کی طرح بنے ہوئے ہیں، پھر یہ لوگ اندھے بھی بنے ہوئے ہیں، راہ پر آنے کو تیار ہی نہیں لہٰذا آپ کی ہدایت پر نہ آئیں گے۔ (صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ ) آپ تو بس انہیں لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو اللہ کی یاد پر یقین رکھتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–57
ذکر بعض دلائل قدرت برائے اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ اللہ الذی یرسل الریح۔۔۔ الی۔۔۔ ولاہم یستعتبون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں زیاد تر ایسے دلائل قدرت ذکر کئے جو الوہیت اور وحدانیت کے مثبت تھے اب ایسے چند دلائل قدرت ذکر کرتے ہیں کہ جو قیامت اور فنا عالم اور بعث بعد الموت اور حیات ثانیہ کے لئے مثبت ہوں اور بعد ازاں کچھ احوال قیامت کو بیان کیا۔
چناچہ فرماتے ہیں خدا برحق وہ ہے جو بھیجتا ہے ہوائیں پھر اٹھاتی ہیں وہ ہوائیں ابر کو پھر پھیلاتا ہے اللہ اس ابر کو آسمان کی جانب میں جس طرح چاہے کہیں کم اور کہیں زیادہ اور کہیں سفید اور کہیں سیاہ پھر اس کو تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش اس ابر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
40:۔ مشرکین کے عناد و مکابرہ کا ذکر کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی کہ ایسے واضح دلائل کے باوجود مشرکین انکار و تکذیب سے باز نہیں آرہے۔ آپ کے انذار و تبلیغ میں کوئی قصور نہیں ان کے دلوں پر ضد وعناد کی وجہ سے مہر جباریت لگ چکی ہے اب وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، اس لیے آپ ان کے نہ ماننے کی وجہ سے غمگین نہ ہوں۔ یہاں مشرکین کے لیے تین تمثیلیں ذکر کی گئی ہیں۔ اول، لاتسمع الموتی، یہ تو مردے ہیں اور مردوں کو آپ کسی طرح بھی اپنی بات نہیں سنوا سکتے۔ دوم، ولا تسمع الصم الخ، یہ تو بہرے ہیں اور بہرے بھی وہ جو آپ ہی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے بلکہ پیٹھ پھیر کر دور جا رہے ہیں بھلا ان کے کانوں میں آپ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا ردّ فرمایا اور ساتھ ساتھ اپنی قدرت کی کچھ نشانیاں بیان فرمائیں جو اثبات توحید اور وقوع قیامت کی دلیل بنتی ہیں۔ ان نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہوائوں کو چلاتا ہے ، فضا میں بادل اٹھتے ہیں اور پھر ان سے بارش برسا کر اپنی مخلوق کو خوش کرتا ہے اگرچہ لوگ قبل از بارش مایوس ہوچکے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو زمین میں روئیدگی پیدا ہوتی ہے۔ پھل ، پھول اور اناج پیدا ہوتے ہیں جو انسانوں اور جانوروں کے لیے خوراک بنتے ہیں اور اسی لیے یہ ان کے لیے راحت کا سامان ہوتا ہے۔
مردہ سے زندہ
اب اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا فانظر الی…
Read the full tafseer →وَمَآ اَنْتَ بِہٰدِي الْعُمْىِ عَنْ ضَلٰلَتِہِمْ 0 ۭ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ يُّؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَہُمْ مُّسْلِمُوْنَ 5 3ۧ
هدى
الهداية دلالة بلطف،
وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه :
الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل،
والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى
[ طه/ 50] .
الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء،
وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا
[ الأنبیاء/ 73] .
الثالث :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
ترکیب : لاتسمع خبر ان اذا متعلق بتسمع۔ مدبرین حال من فاعل ولوا انت اسم ما بہٰد، العمی خبرہ والباء زائدۃ۔
تفسیر : یہاں تک توحید و نبوت و معاد کے مسائل کو براہین قاطعہ و حجج ساطعہ سے ایسا ثابت کیا تھا کہ جو کوئی ذرا بھی عقل سلیم رکھے تو خود سمجھ لے اور جو اس سے بھی بلید الذہن ہو تو ان کی کیفیت کسی سے سن کر مان لے، مگر کفار مکہ اپنی بدقسمتی اور ازلی محرومی سے اس مرتبہ میں بھی نہ تھے، اس پر بھی ان کا وہی اصرار ‘ وہی انکار چلا جاتا تھا۔ تو اب ان کی نسبت یہی صادق آگیا تھا کہ وہ حیات انسانی سے بہرہ ور نہیں۔ گویا مرے ہیں اور نہ ان کے حواس سلیمہ بجا ہیں۔ اندھے، بہرے بھی ہیں۔ ان آیات میں خدا تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
فَاِنَّـکَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَلاَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآئَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ۔ وَمَآ اَنْتَ بِھٰدِالْعُمْیِ عَنْ ضَلٰـلَتِہِمْ ط اِنْ تُسْمِعُ اِلاَّ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰـتِنَا فَھُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔
(الروم : 52، 53)
(اے پیغمبر ! آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے، اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر چلے جارہے ہیں۔ اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر راہ دکھا سکتے ہیں، آپ تو بس ان کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لائیں، پس وہی اطاعت کرنے والے ہیں۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
انسان کو حیوان پر جو شرف حاصل ہے وہ دو وجہ سے ہے۔ ایک تو اس لیے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیاں پوری کائنات میں پھیلا رکھی ہیں اور اس نے اپنی توحید کے دلائل کھول کھول کر بیان کر دئیے ہیں لیکن اندھے اور بہرے لوگ اس کی نشانیوں کو غور سے دیکھنے اور دلائل کو توجہ کے ساتھ سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
سروردوعالم ﷺ لوگوں کو دن رات اللہ کی توحید اور اس کے دین کی دعوت دیتے لیکن کافر اور مشرک اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے باوجود اس کی ذات کو بلاشرکت غیرے ماننے اور اس کی توحید کے دلائل سننے کے لیے تیار نہ تھے۔ ایسے لوگوں کی حقیقت بتلانے اور آپ کو تسلی دینے کے لیے فرمایا گیا کہ اے رسول آپ نے اپنے کام میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی اگر…
Read the full tafseer →53: وَمَآ اَنْتَ بِھٰدِ الْعُمْیِ (اور نہ آپ اندھوں کو راستہ دکھا سکتے ہیں) ۔ العمیؔ سے دلوں کے اندھے مراد ہیں۔
قراءت : حمزہ نے وما انت تہدی العُمْیَ پڑھا ہے۔
عَنْ ضَلٰلَتِھِمْ (ان کی گمراہی سے) آپ کے لئے ممکن نہیں کہ آپ اندھے کی راہنمائی اپنے اشارہ سے اس راستہ کی طرف کردیں جس کو وہ بھول چکا ہے۔ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمْ مُّسْلِمُوْنَ (نہیں سنا سکتے مگر اسی ہی کو جو ہماری آیات پر ایمان لانے والے ہیں پس وہی اطاعت کرنے والے ہیں) اِنَّ یہاں ماؔ کے معنی میں ہے۔ مسلمون کا معنی وہ اطاعت اختیار کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے بتلانے کی وجہ سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
54۔ ، اللہ الذی خلقکم من ضعف، ضاد کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ ۔ ضمہ کی صورت میں قریش کی لغت ہے اور فتحہ کی صورت میں بنوتمیم کی لغت ہے ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ تم کو ضعیف اصل یعنی نظفہ سے پیدا کیا ہے ۔ یعنی ایسے پانی کے ساتھ جو بہت کمزور تھی ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان۔۔۔۔ ، ثم جعل من بعد ضعف قوۃ، ضعف طفولیت کے بعد جوانی دی ۔ ، ثم جعل من بعد قوۃ ضعفاوشیبۃ یخلق مایشائ، ضعف قوت جوانی اور بڑھاپا۔ ، وھوالعلیم ، اس کی مخلوق کی تدبیر۔ ، القدیر، جس پر دہ چاہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
52، 53۔ آنحضرت ﷺ جس قدر توحید کی باتیں کفار مکہ کو سناتے اور سمجھانے کی کوشش کرتے اسی قدر لوگ سن کر مچلے بنتے جاتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ مردے اور بہرے کے مانند ہیں اور بہرہ بھی وہ جسکی پیٹھ پھری ہوئی کیوں کہ اگر بہرے آدمی کا منہ کسی بات کرنے والے شخص کی طرف ہو تو ہونٹوں کی جنبش یا اشارہ سے بھی کچھ سمجھ سکے ان لوگوں میں وہ بات بھی نہیں یہ ایسے بہرے ہیں کہ ان کا منہ بھی بات کرنے والے شخص کی طرف نہیں بلکہ پیٹھ پھری ہوئی ہے اس طرح کی آیتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مردے کچھ نہیں سنتے ایسی ہی عالم حکم کی آیتوں سے حضرت عئاشہ ؓ ‘ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی اس روایت کا انکار کیا کرتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
آیت نمبر : 51 ۔ 53
اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوق کا حال بیان کرتا ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت کے سایہ کناں ہونے ‘ زمین کے مرجانے کے بعد اس کے زندہ ہونے پر بہت خوش ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اس بارش کے بعد اگنے والی نباتات اور ان کی کھیتیوں پر نقصان دہ اور انہیں تلف کردینے والی ہوا بھیج دے (فراوہ مصفرا) ” لہٰذا وہ اس (کھیتی) کو زرد پڑتا دیکھیں “ جو تلف ہونے کی حالت کو پہنچ چکی ہے (لظلوا من م بعدہ یکفرون) ” تو وہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے لگ جائیں گے “ اور اس کی گزشتہ نعمتوں کو بھول جائیں گے۔ ان لوگوں کو وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ (فانک لاتسمع الموتی ولا تسمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–60
جوانی ، بڑھاپے کی زحمت سے پہلے غنیمت ہے
قول باری ہے : (اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعدقوۃ ضعفا وشیبۃ۔ اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے رحم مادر میں ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر تمہیں اطفال بنایا کہ عہد طفولیت میں تم اپنی ذات کے لئے کسی نفع نقصان کے مالک نہیں تھے۔ پھر تمہیں طاقت وربنایا اور تمہیں اتنی استطاعت ، عقل وفہم اور سمجھ بوجھ عطا کی کہ تم دنیاوی امور میں تصرف کے ذریعے جلب منفعت اور دفع مضرت کرسکو۔ پھر اس نے تمہیں…
Read the full tafseer →73 سننا اور ماننا سعادت و سرفرازی کی اصل و اساس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ تو بس انہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں "۔ اور وہ سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ " آیات " سے یہاں پر مراد آفاق وانفس کی وہ نشانیاں ہیں جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی وحدانیت اور اس کی عظمت شان پر دلالت کرتی ہیں اور جن کا ذکر اس سے پہلے تفصیل کے ساتھ ہوچکا ہے۔ معلوم ہوا کہ قرآن پاک سے مستفید ہونے کی شرط اولین اس پر ایمان رکھنا اور اس کے احکام و فرامین پر عمل کرنا اور اسکے آگے سر تسلیم خم کرنا ہے ۔ وَقَدْ مَرَّ اَکْثَرَ مِنْ مَرِّۃ ۔ سو جو لوگ اس پر ایمان رکھنے کی سعادت سے محروم ہیں وہ اس سے کما حقہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–60
گمراہوں کی تشبیہ، یوم قیامت کفار کی حالت
تشریح : قرآن پاک کا نصیحت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مثال دیکر نصیحت کرتا ہے۔ کیونکہ جو بات کسی کو مثال دے کر سمجھائی جائے وہ زیادہ واضح اور پر اثر ہوتی ہے۔ اسی لیے قرآن پاک میں پچھلی قوموں کا ذکر بار بار کیا گیا ہے۔ تاکہ ان سے سبق سکھیں۔ انسان کو اپنی زندگی میں اس طریقہ کو دھیان میں رکھنا چاہیے۔ عبرت ناک حادثات اور ملکوں کے حالات قوموں کا تنزل ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے ماضی میں بھی ہوتا رہا حال میں بھی ہو رہا ہے اور مستقبل میں بھی ہوتا رہے گا۔ بات صرف سمجھ کی ہے۔ اسی لیے رب العزت پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کا کام ہے نصیحت کرنا، تبلیغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیات 41 تا 53
اسرارومعارف
کفر و شرک کی مصیبت اللہ کی ناراضگی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اس سے نظام عالم میں خرابی پیدا ہو کر خشکی و تری میں فساد پھیلتا ہے اگرچہ رحمت باری انسان کے سب گناہوں کی سزا اس پر فورا نہیں ڈالتی اور اللہ انسان کو مہلت دیتا ہے مگر اس کے باوجود گناہوں کے اثراتبد کا اظہار ہوتا رہت ہے جسے کافر دنیا ہیں بےحیائی کو عورت کی آزادی کا نام دے کر رواج کردیا گیا آج وہی مصیبت ان کے لیے ہت بڑا عذاب ہے ہر گر کا سکون تباہ ہورہا ہے اولاد کا کوئی نصب نہیں ملتا اور ایڈز جیسے موذی امراض بدکاری کا پھل ہیں ایسے معاش میں سودی نظام کے بڑے برے نتائج دیکھ کر لوگ توبہ کریں اور واپس آجائیں۔ ان سے کہ…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی انکے دل اندھے ہیں جنہیں گمراہی سے نکال کر نجات کی راہ پر لے آنا آپ کے بس میں نہیں ہے اور نہ ایسا کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔8 کیونکہ انہی میں یہ صلاحیت ہے کہ کسی بات کو سن کر اس پر غور و فکر کرسکیں۔9 یعنی حق کے سامنے سر تسلیم خم کرتے اور اس کی راہ پر چلتے ہیں۔ (دیکھیے سورة نمل آیت 81)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
(30:53) ھدا لعمی۔ مضاف مضاف الیہ۔ ھادی کی ی بوجہ اضافت ساقط ہوگئی۔ اندھوں کو ہدایت دینے والا۔ وما انت بھد العمی ای وما انت بھدی العمی اور تو اندھوں کو ہدایت نہیں دے سکتا۔
ضللتھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی گمراہی۔
ان تسمع۔ میں ان نافیہ ہے۔ تو نہیں سنا سکتا۔
فہم مسلمون : تعریف ہے من یؤمن بایتنا کی۔ پھر وہ ان آیات کو مانتے بھی ہیں۔ یعنی ان میں جو احکام دئیے گئے ہیں ان کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 54
مصفر (زرد) ۔ مدبرین (پیٹھ دکھانے والے) ۔ شیبتہ (بڑھاپا) ۔ یخلق (وہ پیدا کرتا ہے)
تشریح : آیت نمبر (51 تا 54) ” گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ جب بارش سے پہلے خوش خبری دینے والی ہوائیں چلتی ہیں تو وہ اس تصور سے پھولے نہیں سماتے کہ بارش کے بعد موسم کی شدت کم ہوجائے گی اور ان کی کھیتیاں ہری بھری ہوجائیں گی درختوں پر رونق آجائے گی ایسے لوگ خوش تو ہوتے ہیں مگر اس اللہ کا شکرادا نہیں کرتے جس نے اپنے کرم سے بادل بھیج کر ان سے ان کو سکون عطا کیا ہے۔ اس کے برخلاف اگر ان کی ہری بھری کھیتیوں پر سخت سردی، شدید گرمی یا خشک اور جھلسا دینے والی ہوائیں چل پڑتی ہیں جن سے ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
(ف 1) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کے حالات میں تغیر وتبدل اول سے برھاپے تک ہے وہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اول مٹی سے پھر پانی جیسی پتلی چیز نطفہ سے پھر جمے خون سے ، پھر بوٹی سے انسان کو پیدا کیا ہے اس کے بعد پھر ہڈیاں پھر ان پر گوشت چڑھایا پھر روح پھونکی، پھر ماں کے پیٹ سے بچہ کمزور پیدا ہوکر پھر رفتہ رفتہ کچھ زور پکڑتا گیا پھر بلوغ کے قریب ہوتا ہے پھر جوان ہوتا ہے یہ نہایت قوت کا زمانہ ہے ، اس کے بعد پھر نقصان کا زمانہ شروع ہوتا ہے ، طاقت کم ہونے لگتی ہے یہاں تک کہ بڈھا ہوجاتا ہے بال سفید ہوجاتے ہیں غرض اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے اپنے بندوں میں اپنی قدرت کے موافق تصرف کرتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
[27] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نمل حاشیہ 27 صفحہ 905۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
ف 2: مشرکین کہ ان دلائل کو سنتے ۔ مگر بیکار ان پر ذرہ برابر اثر نہ ہوتا ۔ قرآن کہتا ہے کہ یہ مردہ ہیں ان کے دلوں میں زندگی کی قوتیں ختم ہوچکی ہیں ۔ یہ دل کے کانوں کے لحاظ سے بہرے ہیں ۔ ان میں حق وصداقت کو سننے کی مطلقات اہلیت نہیں ۔ اس لئے اگر آپ کے پیغام حق سے یہ متمتع نہ ہوں ۔ تو آپ متفکر نہ ہوں ۔ ملال نہ کریں ۔ وہ محردمان فضل وکرم ہیں جن سے زندگی کی تمام استعدادیں چھن چکی ہیں ۔ یہ دل کے اندھے ہیں ۔ ان میں قوت بصیرت باقی نہیں رہی ۔ یہ آپ کے اختیار میں نہیں ۔ کہ آپ کی باتیں سنیں اور متاثر ہوں ۔ قبولیت کے لئے قلب دماغ کی صحت بہت ضروری ہے ۔
حل لغات :۔ الصم ۔ اصم کی جمع ہے ۔ یعنی بہرہ شیبد ۔…
Read the full tafseer →53۔ اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے بچا کر راہ لگا سکتے ہیں آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں کی تصدیق کرتے ہیں سو وہی فرماں بردار ہوتے ہیں ۔ یعنی ظاہری اسباب سننے دیکھنے کے مفقود ہیں ایسوں کی ہدایت مشکل ہے بہر حال ! آپ اپنی تبلیغ کا حق ادا کرتے رہئے ایسے لوگ یقینا آپ کی تذکیر سے مستفید ہوں گے جو ہماری آیتوں کو مانتے ہیں اور فرمانبرداری کرتے ہیں اور انھے بہروں کو نہ سنتے نہ ماننے سے غم نہ کیجئے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے اس آیت سے مردے کے نہ سننے پر استدلال کیا ہے اور یہی اکثر مشائخ حنیفہ کا مسلک ہے۔ ( واللہ اعلم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
ف 1۔ مراد اس سے ابتدائی حالت بچپن کی ہے۔
2۔ یعنی جوانی عطا کی۔
3۔ پس جو ایسا قادر ہو اس کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ اندھوں کو ہدایت نہیں دے سکتے :
53۔ جس طرح گزشتہ آیت میں (موتی) سے مراد وہ لوگ تھے جو کفر کی موت مر چکے ہیں اگرچہ وہ چلتے پھر تے اور کھاتے پیتے ہیں اور اسی طرح (الصم) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے دل کے کان حق بات کے سننے سے بہرے ہوچکے ہیں اور زیر نظر آیت میں (الاعمی) سے وہ لوگ مراد ہیں جن کی آنکھیں نور ہدایت دیکھنے سے اندھی ہوچکی ہیں اور گمراہی میں ڈوبے پڑے ہیں ۔ دراصل یہ انہی لوگوں کا بیان ہے جو نہایت ضدی قسم کے ہوتے ہیں اور کبھی سیدھی بات کو وہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے اس لئے قانون الہی کے مطابق ان کی عقلیں ماری جاتی ہیں اور سمجھ بوجھ الٹی ہوجاتی ہے کتنی ہی صاف بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ (So you cannot make the dead to hear 30:52). As for the issue whether the dead have the ability to hear or not, and if they have this ability, whether it is exclusive to some, or all can hear, this subject has been dealt with briefly in the commentary of Sarah An-Naml in this volume, and a detailed discussion can be seen in my book تکمیل الحبور بسماع اھل القبور .
Read the full tafseer →78 That is, "It is not for the Prophet that he should help and guide the blind by the hand to the the right way all through the life. He can only show guidance to the right path. But guiding those whose mind's eyes have been blinded and who do not at all see the way that the Prophet tries to show them, is not within the power of the Prophets."
Read the full tafseer →