Explained with ayahs 55–57
واپسی ناممکن ہوگی
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفار دنیا اور آخرت کے کاموں سے بالکل جاہل ہیں۔ دنیا میں ان کی جہالت تو یہ ہے کہ اللہ کیساتھ اوروں کو شریک کرتے رہے اور اخرت میں یہ جہالت کریں گے کہ قسمیں کھاکر کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف ایک ساعت ہی رہے۔ اس سے ان کا مقصد یہ ہوگا کہ اتنے تھوڑے سے وقت میں ہم پر کوئی حجت قائم نہیں ہوئی۔ ہمیں معذور سمجھا جائے۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ جیسے یہاں بہکی بہکی باتیں کر رے ہیں دنیا میں یہ بہکے ہوئے ہی رہے۔ فرماتا ہے کہ علماء کرام جس طرح ان کے اس کہنے پر دنیا میں انہیں دلائل دے کر قائل معقول کرتے رہے آخرت میں بھی ان سے کہیں گے کہ تم جھوٹی قسمیں کھا رہے ہو۔ تم کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
سورة الروم 83
دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے " نہ ان سے یہ چاہا جائے گا کہ اپنے رب کو راضی کرو " اس لیے کہ توبہ اور ایمان اور عمل صالح کی طرف رجوع کرنے کے سارے مواقع کو وہ کھو چکے ہوں گے اور امتحان کا وقت ختم ہو کر فیصلے کی گھڑی آچکی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
آگے پھر منکرین قیامت کی لغو گوئی اور ان کی جہالت کا بیان ہے، وَيَوْمَ تَــقُوْمُ السَّاعَةُ يُـقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ڏمَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَاعَةٍ۔ یعنی جس روز قیامت قائم ہوگی تو یہ منکرین قیامت اس وقت کے ہولناک مناظر سے مدہوش ہو کر یہ قسمیں کھانے لگیں گے کہ ہمارا قیام تو ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہا۔ مراد اس قیام سے ہوسکتا ہے کہ دنیا کا قیام ہو کیونکہ ان کی دنیا آرام و عیش سے گذری تھی اور اب مصائب شدیدہ سامنے آئے تو جیسے انسان کی طبعی عادت ہے کہ راحت کے زمانے کو بہت مختصر سمجھا کرتا ہے اس لئے قسمیں کھا جائیں کہ دنیا میں تو ہمارا قیام بہت ہی مختصر ایک گھڑی کا تھا۔
اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس…
Read the full tafseer →فیومئذ لا ینفع الذی ظلموا معذرتھم ولا ھم یستعبوت (57)
لفظ استعتاب ‘ پر دوسرے مقام میں بحث ہوچکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن کسی کو اس کی کوئی معذرت نفع نہیں دے گی اور نہ کسی کو یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کرے۔ ان چیزوں کے لئے جو موقع مطلوب ہے وہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں دے دیا ہے۔ جس نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا اس کو یہ موقع پھر کبھی حاصل نہ ہوسکے گا۔ جس کو تیاری کرنی ہو آج تیاری کرلے۔ پھر کسی کو یہ کہنے کا موقع ملنے والا نہیں ہے کہ اس کو تیاری کے لئے وقت نہیں ملا۔
Read the full tafseer →57-1یعنی انھیں دنیا میں بھیج کر یہ موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہاں توبہ و اطاعت کے ذریعے سے عتاب الٰہی کا ازالہ کرلو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
23: یعنی وہ اندھے جو کسی کی رہنمائی قبول نہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
اللہ الذی خلقکم ۔۔۔۔۔۔۔۔ معذرتھم ولا ھم یستعتبون (54 – 57 یہ ایک بہت ہی طویل مطالعاتی سفر ہے۔ اس کا آغاز تو انسانی زندگی کے آغاز سے ہوتا ہے اور یہ ہمارے سامنے ہے اور آئے دن کا مشاہدہ ہے۔ اس کا آخری حصہ نہایت ہی اگرچہ مشہور نہیں ہے لیکن قرآن کی تصویر کشی ایسے الفاظ میں کرتا ہے کہ گویا وہ ہماری نظروں کے سامنے ہے۔ یہ ایک ایسا مطالعاتی سفر ہے کہ چشم بینا رکھنے والوں کے لیے اور کھلے کان رکھنے والوں کے لئے اور کان لگا کر سننے والوں کے لیے اس میں سامان عبرت ہے۔
اللہ الذی خلقکم من ضعف (30: 54) ” اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی “۔ یہ کہا کہ تمہیں ضعف سے پیدا کیا۔ یہ نہ کہا کہ تمہیں…
Read the full tafseer →5 یعنی نہ کوئی معقول عذر پیش کرسکیں گے جو کام آئے اور نہ ان سے کہا جائیگا کہ اچھا اب توبہ اور اطاعت سے اپنے پروردگار کو راضی کرلو، کیونکہ اس کا وقت گزر چکا اب تو ہمیشہ کی سزا بھگتنے کے سوا چارہ نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 57 فَیَوْمَءِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُہُمْ ”
جن لوگوں نے دنیا میں گناہ کی زندگی بسر کی اور ساری عمر ظلم و زیادتی کا رویہ اپنائے رکھا ‘ قیامت کے دن ان کا معذرت کرنا ‘ بہانے بنانا اور معافیاں مانگنا کام نہیں آئے گا۔
وَلَا ہُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ ”
دنیا میں ہر شخص کے لیے موت کے آثار ظاہر ہونے تک مَا لَمْ یُغَرْ غِرْ توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے اور جو لوگ اپنی دنیوی زندگی میں اس موقع سے فائدہ نہ اٹھائیں ‘ قیامت کے دن انہیں یہ موقع فراہم نہیں کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →63 قیامت کا دن دنیا میں کئے ہوئے اعمال کے بدلہ کا دن ہوگا، عذر معذرت کا دن نہیں ہوگا۔ دنیا میں تو انھیں کہا جاتا تھا کہ اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لو۔ توبہ استغفار کرلو اور اپنے پروردگار کو راضی اور خوش کرلو۔ لیکن اس دن ان ظالموں کو یہ بات بھی کوئی نہ کہے گا۔ کیونکہ عذر معذرت اور توبہ تائب کا وقت صرف دنیا میں ہے اور موت تک ہے۔
Read the full tafseer →75۔ یعنی ان ظالموں، کافروں کو اس کا موقع نہ دیا جائے گا کہ اس روز توبہ کر کرا کے اللہ کو راضی کرلیں۔ اے لایطلب منھم ازالۃ عتب اللہ تعالیٰ والمراد بہ غضبہ سبحانہ علیھم بالتوبۃ والطاعۃ (روح) (آیت) ” یستعتبون “۔ استعتاب کے لفظی معنی ازالہ عتاب یعنی توبہ کے ہیں، جو گناہوں کو مٹادے، وھو ازالۃ العتب یعنی التوبۃ التی تزیل اثار الجریمۃ لاتطلب منھم لانھا لاتقبل منھم (کبیر) یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ انہیں دنیا میں واپسی کا موقع نہ دیا جائے گا۔ ولا ھم یرجعون الی الدنیا (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–60
آیت نمبر 54 تا 60
ترجمہ : اللہ وہ ذات ہے کہ جس نے تم کو ضعف (یعنی) بےوقعت پانی سے پیدا کیا پھر ضعف آخر یعنی ضعف طفولیت کے بعد توانائی بخشی یعنی قوت شباب پھر قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا دیا یعنی کلاں سالی کی کمزوری اور بڑھاپے کی سفیدی اور (لفظ ضعف) تینوں جگہ ضاد کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ ہے (اور) وہ ضعف وقوت جوانی اور بڑھاپا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ اپنی مخلوق کی تدبیر سے باخبر اور جو چاہے اس پر قادر ہے اور جس دن قیامت برپا ہوگی تو یہ مجرم کافر قسمیں کھائیں گے کہ وہ قبروں میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اسی طرح یہ حق یعنی بعث بعد الموت سے (دنیا) میں الٹے چلا کرتے تھے جیسا…
Read the full tafseer →فیومئذ لا ینفع الذین ظلموا معذرتھم ولا ھم یستعتبون . سو اس روز ظالموں کو ان کی معذرت فائدہ
نہیں دے گی اور ان سے خدا کی خفگی کا تدارک چاہا جائے گا۔
وَلاَ ھُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ ۔ عتی کا معنی ہے رضامندی (قاموس) یعنی ان سے اللہ کی راضی کرنے والی باتیں ‘ توبہ ‘ استغفار ‘ اطاعت طلب نہیں کی جائیں گی ‘ دنیا میں اللہ کو راضی کرنے والے امور کا ان کو حکم دیا گیا تھا ‘ آخرت میں موجبات رضا کی طلب نہ ہوگی۔ عربی محاورہ ہے : استعتبنی زید فارضیتہ زید نے مجھ سے ان باتوں کی طلب کی جن سے وہ راضی ہوجائے ‘ میں نے زید کو راضی کرنے والی بات کردی (یعنی اس کو راضی کرلیا) یا یہ مطلب ہے کہ قیامت کے دن ظالموں کی رضامندی…
Read the full tafseer →غرضیکہ مشرکین کو قیامت کے دن اپنے گناہوں کی معافی مانگنا فائدہ مند نہ ہوگا اور نہ ان کو گناہوں سے رجوع کرنے اور نہ پھر ان کو دوبارہ دنیا میں واپس ہونے کی مہلت دی جائے گی۔
Read the full tafseer →فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يَنْفَعُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ۔۔ : یعنی اس دن ان کا یہ عذر کہ ہمیں وقت ہی نہیں ملا، انھیں کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ ہی انھیں معافی مانگنے یا اپنے رب کو راضی کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
وقال الذین اوتوا العلم والایمان لقد لبثتم فی کتب اللہ الی یوم البعث الذین اوتوا العلم۔ کی تعبیر میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ملائکہ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد انبیاء ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد امتوں کے علماء ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : مراد اس امت کے مومن ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد تمام مومن ہیں یعنی کافر مومنوں سے کہیں گے، مقصود ان کا رد کرنا ہوگا : تم اپنی قبروں میں یوم بعث تک رہے۔ فھذا یوم البعث میں فاء شرط محذوف کے جواب کے لئے ہے جس پر کلام دلالت کرتی ہے۔ معنی یہ بنتا ہے : ان کنتم منکرین البعث فھذا یوم البعث۔
یعقوب نے بعض قراء سے بیان کیا جب کہ یہ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویم تقوم الساعۃ یقسم المجرمون مالبثوا غیر ساعۃ اور جس روز قیامت ہوگی مجرم لوگ قسمیں کھائیں گے کہ وہ ایک ساعت کے سوا نہیں رہے۔ یعنی وہ لوگ دنیا میں صرف ایک گھڑی رہے اور جب وہ آخرت کو دیکھیں گے تو دنیا میں قیام کی مدت کو تھوڑا جانیں گے۔ کذالک کانوا یوفکون اسی طرح وہ دنیا میں جھوٹ بولتے تھے آیت وقال الذین اوتوالعلم قتادہ نے فرمایا یہ کلام کی تقدیم اور تاویل ہے ،۔ یعنی وہ لوگ جن کو ایمان اور علم عطا کیا تھا انہوں نے کہا اللہ کی کتاب میں ہے کہ تم قیامت کے دن تک وہاں رہے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس ؓ سے آیت لقد لبثتم فی…
Read the full tafseer →فَيَوْمَىِٕذٍ [تو اس دن ] لَّا يَنْفَعُ [نفع نہیں دے گی ] الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا [ان کی جنہوں نے ظلم کیا ] مَعْذِرَتُهُمْ [ان کی معذرت ] وَلَا هُمْ [اور نہ وہ لوگ ] يُسْتَعْتَبُوْنَ [منائے جائیں گے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
قیامت کے دن مجرمین کی جھوٹی قسما دھرمی اور اہل ایمان کی حق بیانی
یہ تین آیات ہیں، پہلی آیت میں یہ بتایا کہ جب قیامت قائم ہوگی اور زندہ ہو کر قبروں سے نکلیں گے تو اس وقت مجرمین یعنی کافر لوگ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ ہم تو موت کے بعد قبروں میں تھوڑی سی ہی دیر رہے ہیں۔ اور بعض مفسرین نے بتایا کہ اس سے دنیا کی زندگی مراد لیں گے اور ان کے کہنے کا مطلب یہ ہوگا کہ دنیا میں ہم ذرا دیر ہی رہے تھے، عمریں تو اچھی خاصی گزاریں لیکن ایمان نہ لائے اور نیک عمل نہ کیے، اتنی بڑی زندگی بیکار ہی چلی گئی، جو چیز زیادہ ہو اور اس سے نفع نہ اٹھایا جائے تو وہ قلیل مانی جاتی ہے جیسا کہ قلیل چیز نفع مند ہو تو اسے کثیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–57
ذکر بعض دلائل قدرت برائے اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ اللہ الذی یرسل الریح۔۔۔ الی۔۔۔ ولاہم یستعتبون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں زیاد تر ایسے دلائل قدرت ذکر کئے جو الوہیت اور وحدانیت کے مثبت تھے اب ایسے چند دلائل قدرت ذکر کرتے ہیں کہ جو قیامت اور فنا عالم اور بعث بعد الموت اور حیات ثانیہ کے لئے مثبت ہوں اور بعد ازاں کچھ احوال قیامت کو بیان کیا۔
چناچہ فرماتے ہیں خدا برحق وہ ہے جو بھیجتا ہے ہوائیں پھر اٹھاتی ہیں وہ ہوائیں ابر کو پھر پھیلاتا ہے اللہ اس ابر کو آسمان کی جانب میں جس طرح چاہے کہیں کم اور کہیں زیادہ اور کہیں سفید اور کہیں سیاہ پھر اس کو تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش اس ابر کے…
Read the full tafseer →44:۔ قیامت کے دن مشرکین کے لیے کوئی عذر و بہانہ مفید ثابت نہ ہوگا، ان کی طرف سے کوئی معذرت قبول نہیں کی جائے گی اور نہ انہیں توبہ کر کے اور اپنے گناہوں کی تلافی کر کے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا موقع ہی دیا جائے گا۔ ای لایطلب منہم الاعتاب وھو ازالۃ العتب یعنی التوبۃ التی تزیل اثار الجریمۃ لاتطلب منہم لانہا لا تقبل منہم (کبیر) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفر و شرک کی تردید کے ساتھ اپنے رخ کو دین حق کی طرف پھیرنے کا حکم دیا ، اہل ایمان اور کفار کا انجام بیان فرمایا اور پھر قدرت کے عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے۔ ہوائوں کا چلنا ، سمندروں میں کشتی رانی ، فضا میں بادلوں کا پھیلانا اور بارش برسانا اور اس کے ذریعے خشک زمین کو سرسبز بنانا سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں ، پھر اللہ نے بےانصاف لوگوں کے متعلق فرمایا کہ وہ ہدایت کی بات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے بلکہ وہ تو قبروں میں پڑے ہوئے مردوں کی مانند ہیں جنہیں کتنا بھی وعظ و نصیحت کیا جائے ، وہ مستفید نہیں ہو سکتے۔ اس کی مثال بہرہ اور اندھا آدمی ہے کہ وہ بھی…
Read the full tafseer →فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يَنْفَعُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُہُمْ وَلَا ہُمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ 57
نفع
النَّفْعُ : ما يُسْتَعَانُ به في الوُصُولِ إلى الخَيْرَاتِ ، وما يُتَوَصَّلُ به إلى الخَيْرِ فهو خَيْرٌ ، فَالنَّفْعُ خَيْرٌ ، وضِدُّهُ الضُّرُّ. قال تعالی: وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3]
( نع ) النفع
ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے خیرات تک رسائی کے لئے استعانت حاصل کی جائے یا وسیلہ بنایا جائے پس نفع خیر کا نام ہے اور اس کی ضد ضر ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے…
Read the full tafseer →فیومئذ لاینفع الخ فرماتا ہے، اس روز ظالموں کا کوئی عذر نہ قبول ہوگا۔ ولا ھم یستعبتون لایطلب منھم العتبیٰ ای الرجوع الی مایرضی اللہ جلالین یعنی کسی نیک کم کرنے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کی مہلت نہ ملے گی۔
Read the full tafseer →فَیَوْمَئِذٍ لاَّ یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُھُمْ وَلاَ ھُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ ۔ (الروم : 57)
(پس اس دن ان لوگوں کو ان کی عذرخواہی کچھ نفع نہ دے گی جنھوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہوگا اور نہ ان سے یہ کہا جائے گا کہ وہ اللہ کو راضی کریں۔ )
قیامت یوم الجزاء ہے کسی عمل کا موقع نہیں
جن لوگوں نے دنیا کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے حقوق سے انکار کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور اپنے مقصدزندگی کے حوالے سے قدم قدم پر غلطیاں کیں۔ انھیں جب قیامت کا یقین ہوجائے گا کہ واقعی آج کا دن وہی دن ہے جس میں ہمیں اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے اور ہم سے ہماری ہر زیادتی اور ہر کوتاہی کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
فہم القرآن
ربط کلام : جو ” اللہ “ انسان کو پیدا کرنے، جوان اور بوڑھا کرنے پر قادر ہے وہی قیامت کے دن انسان کو پیدا کرنے پر قادر ہے۔
اللہ تعالیٰ قیامت برپا فرما کر لوگوں کو زندہ کرکے اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا۔ مجرم قیامت کی سختی اور اللہ تعالیٰ کا جلال دیکھ کر قسمیں اٹھا اٹھا کر ایک دوسرے سے کہیں گے کہ ہم دنیا میں ایک لمحہ سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے۔ انہیں فرمایا جائے گا جس طرح تم دنیا میں رہنے کی مدّت کو بھول چکے ہو اسی طرح تم قیامت کو فراموش کرچکے تھے۔ جس بنا پر تم سوچتے نہیں تھے کہ کل ہمیں اپنے عقائد اور اعمال کا جواب دینا ہے۔ جب مجرم ایک دوسرے کے سامنے قسمیں کھا رہے ہوں گے تو قیامت پر یقین…
Read the full tafseer →57: فَیَوْمَپذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (پس اس دن ظالموں کو فائدہ نہ دے گی) ۔
قراءت : کوفی قراء نے لا ینفع یاء ؔ سے پڑھا ہے۔ ظلموا کا معنی کفروا ہے جنہوں نے کفر اختیار کیا۔ مَعْذِرَتُھُمْ (ان کی
معذرت) یعنی عذر وَلَا ھُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ (اور نہ ان کو تدارک کا موقعہ دیا جائے گا) یعنی ان کو یہ نہ کہا جائے گا لو توبہ کر کے اپنے رب کو راضی کرلو۔ جیسے کہتے ہیں۔ استعتبنی فلان فاعتبتہٗ ای استرضانی فار ضیتہٗ اس نے مجھے منایا پس میں مان گیا۔
Read the full tafseer →57، فیومئذ لا ینفع الذین ظلموا معذرتھم، ان کا عذر۔ ولا ھم یستعتبون، یعنی ان سے اللہ کو راضی کرنے والی باتیں توبہ استغفار اطاعت طلب نہیں کی جائے گی اور نہ دنیا کی طرف ان کو دوبارہ لوٹایا جائے گا۔ ، لاینفع ، یہاں پر یاء کے ساتھ ہے اور حم اور مؤمن میں بھی اسی طرح ہے اور باقی قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
55 تا 59۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ انسان کی حالت کو ذرا بھی قیام نہیں ہے کبھی بالکل نادان بچہ ہوتا ہے کبھی جوانی کے نشہ میں اپنے آپ کو بھول جاتا ہے پھر تھوڑے دنوں میں دیکھوں تو بڑھاپا آ کر وہ جوانی کا نشہ جاتا رہتا ہے نہ جوانی کا سا کھانا پینا ہے نہ وہ تندرستی ہے دانتوں نے الگ جواب دے دیا نگاہ جدا کمزور ہوگئی ہاتھ پیروں میں بالکل وہ سکت اور بوتا باقی نہیں رہا یہ سب کچھ ہو کر ایک سانس باقی تھا تھوڑے دنوں میں وہ بھی نہیں اور سینکڑوں ایسے دنیا سے اٹھ گئے کہ گویا کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے لیکن باوجود اس ناپائیدار زیست کے غافل لوگ دنیا کو ہیمشہ رہنے کا ٹھکانہ جانتے تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
آیت نمبر : 55 ۔ 57
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کے بارے میں آگاہ فرما رہا ہے کہ وہ بہت جلد آنے والا ہے اور جب قیامت قائم ہوگی تو (یقسم المجرمون) ” مجرم اللہ کی قسمیں اٹھا اٹھا کر کہیں گے “ کہ بلاشبہ وہ (مالبتوا) ” نہیں رہے تھے “ دنیا میں (غیر ساعۃ) ” سوائے ایک گھڑی کے “ وہ یہ عذر اس لیے پیش کریں گے کہ شاید دنیا کی مدت کو کم کہنا انہیں کوئی فائدہ دے۔
چونکہ ان کی یہ بات جھوٹ پر مبنی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ فرمائے گا : (کذلک کانوا یؤفکون) ” وہ اسی طرح غلط اندازے لگایا کرتے تھے۔ “ یعنی وہ دنیا کے اندر بھی ہمیشہ حقائق کو چھوڑ کر کذب بیان کرتے رہے اور جھوٹ گھڑتے رہے ‘ دنیا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–60
جوانی ، بڑھاپے کی زحمت سے پہلے غنیمت ہے
قول باری ہے : (اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعدقوۃ ضعفا وشیبۃ۔ اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے رحم مادر میں ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر تمہیں اطفال بنایا کہ عہد طفولیت میں تم اپنی ذات کے لئے کسی نفع نقصان کے مالک نہیں تھے۔ پھر تمہیں طاقت وربنایا اور تمہیں اتنی استطاعت ، عقل وفہم اور سمجھ بوجھ عطا کی کہ تم دنیاوی امور میں تصرف کے ذریعے جلب منفعت اور دفع مضرت کرسکو۔ پھر اس نے تمہیں…
Read the full tafseer →80 ظالموں کے لیے آخرت میں کسی معافی کا کوئی موقع نہیں ہوگا : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ آخرت میں ظالموں کے لیے معافی کا کوئی موقع و محل نہیں ہوگا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " ظالموں کو اس روز نہ کوئی معذرت کام دیگی اور نہ ہی انکے لیے کسی استعتاب کا کوئی موقع ہوگا کہ اس سب کا وقت گزر چکا ہوگا۔ " اِسْتِعْتَابَ " کے معنی " اِسْتِرْضَاء " کے آتے ہیں۔ چناچہ کہا جاتا ہے " اِسْتَعْتَبَنِیْ فَلانٌ فَاَعْتَبْتُہ ۔ اَیْ اِسْتَرْضَانِیْ فَاَرْضَیْتُہ " (الکشاف : ج 3 ص 227) ۔ یعنی اس وقت ان سے یہ نہیں کہا جائے گا تم اپنے رب کو راضی کرو کہ اس کا موقع دنیاوی زندگی میں تھا جس کو انہوں نے ضائع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–60
گمراہوں کی تشبیہ، یوم قیامت کفار کی حالت
تشریح : قرآن پاک کا نصیحت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مثال دیکر نصیحت کرتا ہے۔ کیونکہ جو بات کسی کو مثال دے کر سمجھائی جائے وہ زیادہ واضح اور پر اثر ہوتی ہے۔ اسی لیے قرآن پاک میں پچھلی قوموں کا ذکر بار بار کیا گیا ہے۔ تاکہ ان سے سبق سکھیں۔ انسان کو اپنی زندگی میں اس طریقہ کو دھیان میں رکھنا چاہیے۔ عبرت ناک حادثات اور ملکوں کے حالات قوموں کا تنزل ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے ماضی میں بھی ہوتا رہا حال میں بھی ہو رہا ہے اور مستقبل میں بھی ہوتا رہے گا۔ بات صرف سمجھ کی ہے۔ اسی لیے رب العزت پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کا کام ہے نصیحت کرنا، تبلیغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–60
آیات 54 تا 60
اسرارومعارف
اللہ ہی عظیم ذات ہے جو انسان کو بہت کمزار اور ناتوں پیدا فرماتا ہے زرا اپنی تخلیق پر غور کرو کیسے چھوٹے سے جرثومے سے تمہیں انسانی قالب عطا کیا اس کی یہ ساری صنعت اس کی عظمت پہ گواہ ہے پھر ننھے منے بچے کو بتدریج جوان بنا دیتا ہے طاقتور اور شاہ زور۔ دانشور حاکم عالم اور پھر ایک ایک کر کے اس کے قوی ڈھلنے لگتے ہیں اور پھر ایک کمزور سفید بالوں والا بوڑھا بن جاتا ہے اور اس سارے نظام میں کسی کا کوئی بس نہیں چلتا۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے جو نظام اس نے ترتیب دے دیا ہے وہی چلتا ہے اور وہ خود اس سارے نظام کو خوب جانتا ہے کہ وہ ہر شے پر قادر ہے بلکہ ان کا شعور تو ایسا مسخ ہوا…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی آخرت میں توبہ کرنے اور پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کا انہیں کوئی موقع نہ دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →(30:57) یؤمئذ۔ اس دن۔ یوم اسم ظرف۔ مضاف اذ مضاف الیہ۔ جیسے کہ حینئذ ، حین مضاف اذ مضاف الیہ۔ اس وقت۔
معذرتھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی معذرت۔ ان کا عذر۔
ولاہم یستعتبون۔ واؤ عاطفہ۔ لا یستعتبون۔ مضارع منفی مجہول جمع مذکر غائب۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا دوبارہ تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ اور نہ اسن کی معذرت قبول کرکے عتاب کو دور کیا جائے گا۔
استعتب : عتب سے باب استفعال ہے العتب ہر اس جگہ کو کہتے ہیں کہ جو وہاں اترنے والے کے لئے سازگار نہ ہو۔ استعارہ کے طور پر وعتب کے معنی ناراضگی یا سختی کے ہیں جو انسان کے دل میں دوسرے کے متعلق پیدا ہوجاتی ہے۔
الاستعتاب رضا مندی چاہنا۔ کسی سے یہ خواہش کرتا کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
لغات القرآن آیت نمبر 55 تا 60
الساعتہ (گھڑی۔ قیامت) ۔ یقسم (قسم کھائے گا) ۔ مالبوا (وہ نہیں ٹھہرے۔ وہ نہیں رہے) ۔ یوفکون (وہ الٹے چلتے ہیں) ۔ البعث (اٹھنا) ۔ لا ھم یستعیبون (نہ وہ معافی مانگے جائیں گے) ۔ مبطلون (جھوٹا بنانے والے) ۔ یطبع (وہ مہر لگا دیتا ہے) ۔ لا یستخفن (وہ ہلکا نہ کرے گا) ۔ لا یوقنون (وہ یقین نہیں رکھتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر (55 تا 60) ” اللہ تعالیٰ کے نافرمان کا فرد مشرک قیامت کے ہولناک دن کو دیکھ کر عجیب بہکی بہکی باتیں کرنے لگیں گے کبھی وہ اپنے جھوٹے معبودوں کا انکار کرتے ہوئے کہیں گے اے اللہ درحقیقت ہم مشرک نہیں تھے ہمیں غلط مشورہ دینے والوں یا ان بتوں نے گمراہ کیا تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
(ف 1) اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو مخاطب کرکے تسلی کے طور پر ارشافرماتا ہے کہ تم انکی مخالفت اور دشمنی پر صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے اور تمہارے ساتھ والوں سے غلبہ کا اور مدد کرنے کا جو وعدہ کیا ہے اللہ تعالیٰ اپنے اسوعدہ کو ضرور پورا کرے گا اس وعدہ میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں ہے آخربدر کی لڑائی کے وقت اور فتح مکہ کے وقت اس وعدہ کا ظہور ہوا کہ بدر کی لڑائی میں بڑے بڑے مخالف دین مارے گئے اللہ تعالیٰ سچا ہے ، اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
[30] یعنی ان کو موقع نہ دیا جائے گا کہ اس دن توبہ کر کرا کے اللہ کو راضی کرلیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
اعتراف حقیقت
1: گذشتہ آیتوں میں یہ بقایا تھا کہ گو اس وقت یہ اس وقت یہ لوگ قیامت کے منکر ہیں ۔ مگر ایک وقت آئے گا ۔ جبکہ یہ سب اس کی حقانیت کا اعتراف کریں گے ۔ اور محسوس کرینگے کہ وہ خدا کے سامنے ہیں ۔ اس وقت ان کے عوام تو جس طرح دنیا میں ہمیشہ الٹی باتیں کہتے تھے ۔ اور ان کو واقعات کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا تھا ۔ یہ کہیں گے کہ ہم عالم برزخ بس ایک ساعت ہی رہے ۔ مگر ان میں کے اہل علم و ایمان یہ ہی ان کی غلط فہمی یہ کہہ کر دور کردینگے کہ یہ میدان حشر ہے ۔ تم کتاب اللہ کے موافق یوم المعیت تک اس عالم میں رہے ہو اب تیار ہوجاؤ کہ احتساب کا وقت آگیا قیل وقال اور بحث و مباحثہ کا وقت نہیں ہے ! اس وقت…
Read the full tafseer →57۔ بہر حال اس دن نہ تو کافروں کو ان کا معذرت کرنا کوئی نفع دے گا اور نہ ان سے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے اور اللہ تعالیٰ کی خفگی کا تدراک کرنے کی کوئی خواہش کی جائے گی یعنی نہ کوئی جھوٹا سچا عذر نفع دے گا اور نہ کوئی یہ کہے گا کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرلو۔
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی اس کا موقع نہ دیا جاوے گا کہ توبہ کر کے خدا کو راضی کرلیں۔
Read the full tafseer →آج ظالموں کو ان کا عذر کچھ فائدہ نہیں دے گا اور نہ ہی وہ تم کو ہلکا کرسکیں گے :
57۔ فرمایا ان ظالموں کو جو اس روز معذرت پیش کریں گے ان کی معذرت سے کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ معذرت کا وقت گزر چکا وہ دن تو نتیجہ کا دن ہوگا اور نتیجہ کے روز تو بہرحال معذرت پیش کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ معذرت کا تعلق تو دار دنیا سے ہے اور اس وقت وہ دار الآخرۃ میں کھڑے ہوں گے وہاں تو ان کو اس کے سامنے عذر پیش کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی ان سے اس بات کی طلب کی جائے گی کہ وہ توبہ و اطاعت کرکے اپنے رب کو رضا مند کریں کیونکہ اس روز یہ چیزیں مفید نہیں ہوں گی ۔ یستعتبون اے لا یطلب منھم ان یرضوا ربھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
After this, the falsehood and ignorance of the deniers of the Dooms Day is mentioned وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ that is, ‘When the Dooms Day will come, these deniers of the Dooms Day will start swearing by losing senses after looking at the horrid scenes, that their stay was not more than one hour'. It is probable that the stay referred to here is the stay in this world, because they spent the time in this world in comfort and ease. And when they will encounter troubles in the Hereafter, they, by way of a natural habit of man to regard…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
83 Another translation can be:". .nor it will be required of them to please their Lord", because they will have lost all opportunity for recourse to repentance and Faith and righteous acts, and wasted the time allotted for the test and reached the eve of the announcement of the result.
Read the full tafseer →