Explained with ayahs 46–47
مسلمان بھائی کی اعانت پر جہنم سے نجات کا وعدہ
بارش کے آنے سے پہلے بھینی بھینی ہواؤں کا چلنا اور لوگوں کو بارش کی امید دلانا۔ اس کے بعد مینہ برسانا تاکہ بستیاں آباد ہیں اور جاندار زندہ رہیں سمندروں اور دریاؤں میں جہاز اور کشتیاں چلیں۔ کیونکہ کشتیوں کا چلنا بھی ہوا پر موقوف ہے۔ اب تم اپنی تجارت اور کمائی دھندے کے لئے ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر جاسکو۔ پس تمہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی ان بیشمار ان گنت تعمتوں پر اس کا شکریہ ادا کرو۔ پھر اپنے نبی کو تسکین اور تسلی دینے کے لئے فرماتا ہے کہ اگر آپ کو لوگ جھٹلاتے ہیں تو آپ اسے کوئی انوکھی بات نہ سمجھیں۔ آپ سے پہلے کے رسولوں کو بھی ان کی امتوں نے ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
سورة الروم 71
یعنی ایک قسم کی نشانیاں تو وہ ہیں جو کائنات فطرت میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں، جن سے انسان کو اپنی زندگی میں ہر آن سابقہ پیش آنا ہے، جن میں سے ایک ہواؤں کی گردش کا یہ نظام ہے جس کا اوپر کی آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ اور دوسری قسم کی نشانیاں وہ ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) معجزات کی صورت میں، کلام الہی کی صورت میں، اپنی غیر معمولی پاکیزہ سیرت کی شکل میں، اور انسانی معاشرے پر اپنی حیات بخش تاثیرات کی شکل میں لے کر آئے۔ یہ دونوں قسم کی نشانیاں ایک ہی حقیقت کی نشان دہی کرتی ہیں، اور وہ یہ ہے کہ جس توحید کی تعلیم انبیاء دے رہے ہیں وہی برحق ہے۔ ان میں سے ہر نشانی دوسری کی مؤید ہے۔ کائنات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
معارف و مسائل
فَانْتَـقَمْنَا مِنَ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا ۭ وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ ، ہم نے مجرموں کافروں سے انتقام لے لیا اور ہمارے ذمہ تھا کہ ہم مومنین کی مدد کرتے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومنین کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اس کا تقاضا بظاہر یہ تھا کہ مسلمانوں کو کفار کے مقابلہ میں کبھی شکست نہ ہو، حالانکہ بہت سے واقعات اس کے خلاف بھی ہوئے ہیں اور ہوتے رہتے ہیں۔ اس کا جواب خود اسی آیت میں موجود ہے کہ مومنین سے مراد وہ مجاہدین فی سبیل اللہ ہیں جو خالص اللہ کے لئے کفار سے جنگ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا ہی انتقام اللہ تعالیٰ مجرمین سے لیتے ہیں…
Read the full tafseer →ولقد ارسلنا من قبلک رسلا الی قومھم فجاء وھم بالبینت فانتقمنا من الذی ارموا وکان احق علینا نصر المومنین (47)
یہ اسی اوپر والی حقیقت کو تاریخ کی روشنی میں واضح فرمایا ہے کہ تم دنیا میں پہلے رسول نہیں ہو بلکہ تم سے پہلے بھی ہم رسول بھیج چکے ہیں تو ماری جو سنت ان کے معاملے میں ظاہر ہوچکی ہے وہی تمہارے معاملے میں بھی ظاہر ہوگی۔ تم سے پہلے جو رسول آئے وہ بھی تمہاری طرح اپنی قوموں کے پاس کھلی کھلی نشانیاں اور دلیلیں لے کر آئے لیکن ان کی قوموں نے ان نشانیوں اور حجتوں کی قدر کرنے کے بجائے مجرمانہ روش اختیار کی اور اپنے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کی دشمن بن گئیں۔ بالآخر ان کی اس مجرمانہ روش کا…
Read the full tafseer →47-1یعنی اے محمد ﷺ جس طرح ہم نے آپ کو رسول بنا کر آپ کی قوم کی طرف بھیجا اسی طرح آپ سے پہلے بھی رسول ان کی قوموں کی طرف بھیجے، ان کے ساتھ دلائل اور معجزات بھی تھے، لیکن قوموں نے ان کی تکذیب کی، ان پر ایمان نہیں لائے بالآخر ان کے اس جرم تکذیب اور ارتکاب معصیت پر ہم نے انھیں اپنی سزا کا نشانہ بنایا اور اہل ایمان کی تائید و نصرت کی جو ہم پر لازم ہے یہ گویا نبی ﷺ اور ان پر ایمان لانے والے مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے کہ کفار و مشرکین کی روش تکذیب سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر نبی کے ساتھ اس کی قوم نے یہی معاملہ کیا ہے۔ نیز کفار کو تنبیہ ہے کہ اگر وہ ایمان نہ لائے تو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
21: ہوائیں چلانے کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ وہ بارش کی خوشخبری لاتی ہیں، اور بادلوں کو اٹھا کر پانی برسانے کا سبب بنتی ہیں، اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ وہ سمندروں اور دریاؤں میں کشتیوں کو چلاتی ہیں، بادبانی کشتیوں کا تو سارا دارومدار ہی ہواؤں پر ہوتا ہے، لیکن مشینی جہاز بھی ہوا کی مدد سے بےنیاز نہیں ہوتے، اور سمندروں میں کشتیاں چلانے کا فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے ذریعے لوگ اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کریں، جیسا کہ بار بار عرض کیا گیا، اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنا قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے، جس سے مراد تجارت اور روزگار کے دوسرے ذرائع اختیار کرنا ہے، لہذا قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے کہ اگر یہ ہوائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
ومن ایتہ ان یرسل ۔۔۔۔۔ من بعدہ یکفرون (46 – 51)
ان آیات میں بظاہر نہایت مختلف النوع موضوعات کو جمع کیا گیا ۔ بشارت دینے والی ہوائیں ، رسولوں کو معجزات اور نشانیوں کے ساتھ بھیجنا ، مومنین کا رسولوں کے ذریعہ مدد کرنا ، ایسی بارشوں کا نزول جو مردہ زمین کو زندہ کردیتی ہیں اور بعث بعد الموت کا مسئلہ۔ یہ اجتماع بامقصد ہے۔ یہ سب چیزیں اللہ کی رحمت کی نشانیاں ہیں۔ یہ سب سنت الہیہ کے مظاہر ہیں ، یہ سب اس کائنات کے نظام کے تحت ہیں ، رسولوں کو ہدایت کے ساتھ بھیجنے اور مومنین کی نصرت کے درمیان گہرا تعلق ہے اور یہ سب آیات الہیہ کے مختلف نمونے ہیں۔ یہ سب امور اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں سے متعلق ہیں۔ لوگوں…
Read the full tafseer →1 پہلے فرمایا تھا کہ مقبول اور مردود جدا کردیے جائیں گے منکروں پر ان کے انکار کا وبال پڑے گا۔ وہ اللہ کو اچھے نہیں لگتے۔ اب بتلاتے ہیں کہ اسکا اظہار دنیا ہی میں ہو کر رہیگا۔ کیونکہ اللہ کی عادت اور وعدہ ہے کہ مجرمین و مکذبین سے انتقام لے اور مومنین کاملین کو اپنی امداد واعانت سے دشمنوں پر غالب کرے۔ بیچ میں ہوا کا ذکر اس واسطے آیا کہ جیسے باران رحمت کے نزول سے پہلے ہوائیں چلتی ہیں اسی طرح دین کے غلبہ کی نشانیاں روشن ہوتی جاتی ہیں۔
Read the full tafseer →وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ ”
مثلاً حضرت نوح علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں کو سیلاب کی آفت سے بچالیا گیا۔ حضرت ہود علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھی بھی تباہی سے محفوظ رہے اور اسی طرح حضرت صالح علیہ السلام اور آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والے لوگ بھی اللہ کی مدد سے عذاب کی زد میں آنے سے بچ گئے۔
Read the full tafseer →55 وہ روشن دلیلیں کیا تھیں ؟ وہ اللہ کی کتاب تھی، رسولوں کی اپنی پاکیزہ سیرت تھی جسے اللہ تعالیٰ نے ان کی نبوت کے طور پر پیش کیا۔ پھر ان نبیوں نے ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جو احکام الٰہی کا چلتا پھرتا عملی نمونہ تھا۔ اللہ کی کتاب میں اللہ کی ہر سو بکھری ہوئی نشانیوں میں غور و فکر کی دعوت دی گئی تھی۔ کتاب کی آیات کائناتی آیات کی تائید کرتی تھیں اور کائناتی آیات کتاب کی آیات کی تائید کرتی تھیں۔ یہ دونوں قسم کی نشانیاں ایک دوسری تائید و تصدیق کرتی تھیں۔ پھر بھی لوگ اس نبی پر ایمان نہ لائے اور اکڑ گئے۔ الٹا ایمان لانے والوں ہر ستم ڈھانا شروع کردیئے۔ پھر جب ان کی سرکشی بڑھتی ہی گئی تو ہم نے…
Read the full tafseer →61۔ اور وہ جرم یہ تھا کہ ان لوگوں نے ان دلائل حق کی تصدیق نہ کی، بلکہ الٹی ان کی تکذیب کرتے رہے) (آیت) ” فانتقمنا “۔ بعض نافہموں نے انتقام حق کو اللہ تعالیٰ کی شان کے منافی اور اس سے بست سمجھا ہے۔ یہ نتیجہ ہے تمامتر ” انتقام “ اور ” کینہ پروری “ کے درمیان خلط مبحث کردینے کا۔ انتقام جس کے معنی مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے ہیں، وہ تو قیام عدل کے لئے لازمی ہے۔ ورنہ پھر نظام عدل ہی کو سرے سے خیر باد کہ دیا جائے۔
62۔ (چنانچہ عذاب الہی سے کفار مغلوب ومقہور ہوئے اور اہل ایمان محفوظ ومقصور رہے) یہاں مومنوں اور کافروں کی عام آویزش کا بیان نہیں اور نہ ہر حال میں مومنین کی نصرت کا کوئی عام وعدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیت نمبر 41 تا 53
ترجمہ : خشکی یعنی میدانوں میں خشک سالی اور نباتات کی کمی کی وجہ سے اور تری یعنی ان شہروں میں جو نہروں (سمندروں) کے
کنارے واقع ہیں پانی کی قلت کی وجہ سے لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد ظاہر ہوگیا تاکہ ہم ان کو ان کے بعض اعمال کی سزا کا مزہ چکھائیں ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں توبہ کریں، آپ مکہ کے کافروں سے کہئے کہ زمین میں چلو پھرو دیکھو پہلوں کا کیا انجام ہوا ؟ جن میں اکثر لوگ مشرک کے سبب ہلاک کردیئے گئے اور ان کے گھر اور مکانات گرے پڑے ہیں آپ اپنی توجہ دین قیم یعنی اسلام کی جانب رکھئے قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کو اللہ (ہرگز) نہیں ٹالے گا اس روز سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے…
Read the full tafseer →ولقد ارسلنا من قبلک رسلا الی قومھم فجاء وھم بالبینت . اور آپ سے پہلے ہم بہت سے پیغمبر
ان کی قوموں کے پاس بھیج چکے ہیں اور پیغمبر (اپنی سچائی کی) واضح نشانیاں لے کر ان کے پاس گئے (قوم میں سے کسی نے ان کو سچا مانا اور کسی نے جھوٹا قرار دیا) ۔
فانتقمنا من الذین اجرموا . تو ہم نے مجرموں سے انتقام لیا یعنی جن لوگوں نے انبیاء کو ماننے سے انکار کیا ‘ ان
کو سزا دی۔
وکان حقا علینا نصر المؤمنین . اور مؤمنوں کی مدد ہم پر لازم ہے۔ یعنی جو لوگ پیغمبروں پر ایمان لائے ہم نے ان کی مدد کی کیونکہ مؤمنوں کی مدد کرنے کا ہم پر حق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مؤمنوں کو فتح یاب کرنے کے لئے ہم نے کافروں کو عذاب دیا۔
ایک…
Read the full tafseer →اور ہم نے نبی اکرم ﷺ آپ سے پہلے بہت سے پیغمبر ان کی قوموں کے پاس بھیجے جو ان کے پاس اوامرو نواہی اور دلائل لے کر آئے مگر بعض ان میں سے ایمان نہیں لائے سو ہم نے مشرکین سے بذریعہ عذاب انتقام لیا اور اہل ایمان کو رسولوں کے ساتھ بچا لینا اور ان کے دشمنوں کو ہلاک کردینا ہمارے ذمہ تھا۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا۔۔ : اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قیامت برپا ہونے کے دلائل سن کر بھی کفار ایمان نہ لائے اور اپنی ضد ہی پر اڑے رہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تسلی کے لیے فرمایا کہ آپ پہلے شخص نہیں جسے جھٹلایا گیا ہو، بلکہ آپ سے پہلے ہم نے بہت سے رسول بھیجے جو اپنی اقوام کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، جو وحی الٰہی کی آیات بھی تھیں اور پیغمبر کو ملنے والے معجزے بھی، مگر کفار اپنے جرائم پر اڑے رہے تو ہم نے ان مجرموں سے انتقام لیا اور مومنوں کی نصرت فرمائی اور مومنوں کی مدد کرنا ہم پر ہمیشہ سے لازم رہا ہے۔ (کَان استمرار کے لیے ہے) ”المومنین“ میں پیغمبر، ان کے صحابہ اور…
Read the full tafseer →بینات سے مراد معجزات اور روشن دلائل ہیں انہوں نے کفر کیا تو ہم نے کفر کرنے والے سے انتقام لیا۔ کان کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور نصر کان کا اسم ہے ابوبکر حقا پر وقف کرتے تقدیر کلام یہ ہے پھر فرمایا : یہ مبتدا اور خبر ہے یعنی اس نے خبر دی کہ وہ وعدہ خلافی نہیں کرتی اور ہماری خبر بھی خلاف واقع نہیں ہو سکتی حضرت ابو درداء ؓ سے حدیث مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔
جو مسلمان بھی اپنے بھائی کی عزت کی حفاظت کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ کرم پر لے لیا ہے کہ قیامت کے روز اس سے جہنم کی آگ کو دور کر دے گا پھر اس آیت کی تلاوت نحاس، ثعلبی زمحشری وغیرہ نے اس کا ذکر کیا ہے۔
Read the full tafseer →1۔ ابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی مسلمان صرف اپنے بھائی کی عزت وآبر و کا دفاع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ قیامت کے دن اس سے جہنم کی آگ کو دور کردے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی آیت وکان حق علینا نصر المومنین۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا [اور یقینا ہم نے بھیجا ہے ] مِنْ قَبْلِكَ [آپ ﷺ سے پہلے ] رُسُلًا [رسولوں کو ] اِلٰى قَوْمِهِمْ [ان کی قوم کی طرف ] فَجَــاۗءُوْهُمْ [پھر وہ لوگ آئے ان کے پاس ] بِالْبَيِّنٰتِ [واضح (نشانیوں) کے ساتھ ] فَانْتَـقَمْنَا [پھر ہم نے انتقام لیا ] مِنَ الَّذِيْنَ [ان لوگوں سے جنہوں نے ] اَجْرَمُوْا ۭ [جرم کیا ] وَكَانَ حَقًّا [اور واجب ہے ] عَلَيْنَا [ہم پر ] نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ [مومنوں کی نصرت کرنا ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے اور بارش برساتا ہے، وہی مردوں کو زندہ فرمائے گا
ان آیات میں اول تو ہواؤں کا ذکر فرمایا جن کے چلنے سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ بارش آنے والی ہے، یہ ہوائیں بارش آنے سے پہلے بارش کی خوشخبری دے دیتی ہیں۔ پھر جب بارش ہوجاتی ہے انسان ان کے منافع سے مستفید ہوتے ہیں، منافع میں سے یہ بھی ہے کہ ان کے ذریعہ بادبانی کشتیاں چلتی ہیں۔ جب ان کشتیوں میں سوار ہو کر سفر کرتے ہیں تو ان سفروں میں اللہ تعالیٰ کا رزق بھی تلاش کرتے ہیں، تجارت کے لیے بھی مال لاتے ہیں اور آل اولاد کے کھانے پینے کے لیے بھی، ان سب چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے انعامات بھی ہیں اور اس کی قدرت کے دلائل بھی ہیں، ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–47
ذکر وبال ونحوست کفر ومعصیت در دار دنیا
قال اللہ تعالیٰ ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقہم بعض الذی عملوا لعلہم یرجعون۔۔۔ الی۔۔۔ وکان حقا علینا نصر المومنین۔
(ربط) گذشتہ آیات میں کفر اور شرک اور معصیت پر تہدید تھی اب ان آیات میں کفر اور معصیت کی نحوست کو بیان کرتے ہیں کہ یہ ایسی منحوس چیزیں ہیں کہ بسا اوقات دنیا ہی میں بد اعمالی کی وجہ سے طرح طرح کی بلائیں اور آفتیں اور مصیبتیں پیش آتی ہیں جیسے قحط اور سیلاب اور طاعون وغیرہ اور آخرت سے پہلے دنیا ہی میں سزا کا کچھ مزا چکھا دیا جاتا ہے باقی پوری سزا تو آخرت میں ملے گی اور ان دنیاوی مصائب وآفات کے نازل کرنے سے مقصد یہ ہوتا ہے…
Read the full tafseer →36:۔ یہ مشرکین کے لیے تخویف دنیوی ہے، مومنین کے لیے بشارت دنیوی اور آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے مشرکین مکہ نے آپ کے ساتھ عند و تکذیب کا جو رویہ اختیار کر رکھا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں۔ آپ سے پہلے بھی جو انبیاء و رسل (علیہم السلام) دلائل وبینات لے کر اپنی وموں کے پاس گئے ان کے ساتھ ان کی اقوام نے بھی یہی سلوک کیا آخر ہم نے مجرمین کو ہلاک کردیا اور ایمان والوں کو بچا لیا۔ وکان حق علینا نصر المومنین یہ وعدہ نصرت کا اعادہ ہے جس کا ابتدائے سورت میں وعد اللہ لا یخلف اللہ وعدہ سے ذکر کیا گیا۔ یعنی میرا وعدہ ہے کہ اگر تم توحید پر قائم رہو گے اور اس کی خاطر مصائب کا مقابلہ کرتے رہو گے تو میں تمہیں فتح دوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دین فیم کی طرف توجہ کرنے کا حکم دیا ، فرمایا کہ بحروبر میں لوگوں کے کفر ، شرک اور بد اعمالیوں کی وجہ سے فساد برپا ہوچکا ہے۔ اللہ نے بعض انسانی اعمال بد کا بدلہ دنیا میں دیا ہے اور تنبیہ کی ہے تاکہ لوگ باز آجائیں پھر ایمان اور اعمال صاحلہ کی فضیلت کا ذکر فرمایا اور ساتھ یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کفر کو کبھی بھی پسند نہیں کرتا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے ایمان اور اعمال صالحہ کی ترغیب اور کفر و شرک کی تردید فرمائی ہے۔
بارش کی ہوائیں
اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی بعض نشانیوں کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے۔ ومن اٰیتہِ ان یرسل الریاح مبشرتٍ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِہِمْ فَجَــاۗءُوْہُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَانْتَـقَمْنَا مِنَ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا 0 ۭ وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ 47
رسل
وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ،
( ر س ل ) الرسل
اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
ترکیب : وکان حقًا خبر کان مقدم و نصر اسمہا ویجوزان یکون حقا مصدر اوعلینا الخبر ویجوز ان یکون فی کان ضمیر الشان و حقا مصدر اوعلینا الخبر ویجوز ان یکون نصر مبتداء و خبر فی موضع خبرکان کسفا بفتح السین علی انہ جمع کسفۃ و سکونہا علی ھذا المعنی تخفیفاً قطعاً متفرقہ الودق المطر۔
تفسیر : بروبحر میں انسان کی بدکاری کی وجہ سے خرابی ظاہر ہونے کا بیان فرما کر یہ بات بتلاتا ہے، اس پر بھی ہم رحیم و کریم نظام عالم کو باقی رکھتے ہیں۔ ہوائیں چلاتے ہیں، الخ فقال ومن آیتہ ہواؤں کے چند فوائد بیان فرماتا ہے کہ جن پر بقائِ انسانی موقوف ہے۔ (1) مبشرات کہ وہ خوشی دیتی ہیں، انسان کے بدن پر جب ہوا لگتی ہے تو اس کو…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ رُسُلاً اِلٰی قَوْمِہِمْ فَجَآئُ وْھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا ط وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُالْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الروم : 47)
(اور ہم نے آپ سے پہلے رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا، پس وہ ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے، تو ہم نے ان لوگوں سے انتقام لیا جنھوں نے جرم کیا، اور اہل ایمان کی نصرت ہم پر لازم تھی۔ )
گزشتہ آیت کی وضاحت تاریخ کے آئینہ میں
گزشتہ آیت میں نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو جو تسلی دی گئی ہے، اسے تاریخ کی روشنی میں واضح فرمایا ہے اور ساتھ ہی ساتھ کفار کو تنبیہ بھی کی گئی ہے، یعنی یہ بات واضح کی گئی ہے کہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانیاں بتلانے اور توحید کا سبق سکھلانے کے لیے اپنے رسول بھیجے۔
پہلے ابر کرم کا ذکر کیا اب رحمت نبوت کا ذکر کیا جاتا۔ جس طرح بارش سب کے لیے ہوتی ہے اسی طرح نبوت کی دعوت بھی عام اور سب کے لیے ہے۔ جس طرح لوگوں کی اکثریت اپنے رب کی شکر گزار نہیں ہوتی اسی طرح لوگوں کی اکثریت نبوت کی ناقدری کرتے اور اس کا انکار کرتے ہیں۔
نبوت کا فیض سب کے لیے عام ہوتا ہے جس سے مومن فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی دنیا اور آخرت بہتر بناتے ہیں کافر اس کی مخالفت کرکے دنیا اور آخرت میں نقصان پاتے ہیں حالانکہ ان کے سامنے انبیاء کرام (علیہ السلام) ٹھوس دلائل اور کھلے معجزات پیش کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →تسلی رسول اللہ ﷺ :
( علیہ السلام) 47: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ رُسُلًا اِلٰی (اور تحقیق آپ سے پہلے بہت سے پیغمبر انکی اقوام کی طرف) قَوْمِھِمْ فَجَآ ئُ وْ ھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ (بھیج چکے اور وہ پیغمبر ان کے پاس واضح نشانیاں لائے) پس بعض لوگ ان پیغمبروں پر ایمان لائے اور بعض نے انکار کیا اس پر آیت اضمار دلالت کر رہا ہے۔ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا (پس ہم نے مجرموں سے بدلہ لیا) اجرموا کا معنی کفروا ہے انتقام سے مراد دنیا میں ہلاکت کا شکار ہونا ہے۔ وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ (اور مؤمنوں کی مدد ہم پر لازم ہے) یعنی مؤمنوں کی مدد ہم پر لازم تھی ان کو…
Read the full tafseer →47 ولقد ارسلنا من قبلک رسلا الی قومھم فجاء وھم بالبینات واضح دلالت کے ساتھ اس کے سچائی پر۔ فانتقمنا من الذین اجرموا، ، ہمارا عذاب جنہوں نے اس کو جھٹلایا۔ وکان حقا علینا نصرالمؤمنین، ان کو عذاب سے نجات سے نجات دی ۔ گویا نبی کریم ﷺ کو عاقبت میں کامیابی کی خوشخبری دی اور دشمنوں کے مقابلے میں مددو نصرت کی بشارت سنائی۔ حسن کا قول ہے کہ ہمیں اور اس امت کو عذاب سے نجات دی ۔ آپ ﷺ کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ۔ حضرت ابو الدرداء ؓ کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے جو مسلم اپنے بھائی کی ابرو کی طرف سے دفاع کرتا ہے اللہ پر اس کا حق ہوجاتا ہے کہ وہ قیامت کے دن دوزخ کی آگ کو اس کی طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–51
40 تا 51۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ پہلی دفعہ جو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کو پیدا کیا پھر عمر پوری ہونے کے بعد ہر ایک جاندار کی موت اللہ کے حکم سے آتی ہے کسی کو اس میں کچھ دخل نہیں ہے یہ سب کچھ تو ان مکہ کے مشرکوں کی آنکھوں کے سامنے ہے اور ان مشرکوں کے رزق کی سبب جو آسمان سے پانی کا برستا ہے وہ بھی اللہ کے ہی اختیار میں ہے ان کے بتوں کو اس میں کچھ دخل نہیں اور جب ایک دفعہ یہ تمام عالم پیدا ہوچکا تو ان مشرکوں کے روز مرہ کے تجربہ کو گواہی سے دوسری دفعہ انسان کا پیدا ہونا اور نیک وبد کی جزا وسزا کا ہونا بالکل سہل ہے حاصل یہ ہے کہ جب یہ سب اللہ کے اختیار میں ہے تو ان آیتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
آیت نمبر : 46
یہ ان دلائل کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ مردوں کو زندہ کرے گا لیے کہ اللہ تعالیٰ ہی الٰہ معبود اور بادشاہ محمود ہے۔ ان دلائل میں سے ایک (ان یرسل الریاح) بارش سے پہلے اس کا ہواؤں کو بھیجنا ہے۔ (مبشرت) جو بادلوں کو اٹھا کر خوشخبری دیتی ہیں ‘ پھر بادلوں کو اکٹھا کرتی ہیں اور بارش کے برسنے سے پہلے نفس خوش ہوتے ہیں۔ (ولیذیقکم من رحمتہ) ” اور تاکہ وہ تمہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھائے۔ “ وہ تم پر بارش برساتا ہے ‘ جس سے زمین اور بندوں میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ تم اس کی رحمت کا مزا چکھتے ہو اور وہ تمہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–60
جوانی ، بڑھاپے کی زحمت سے پہلے غنیمت ہے
قول باری ہے : (اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعدقوۃ ضعفا وشیبۃ۔ اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے رحم مادر میں ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر تمہیں اطفال بنایا کہ عہد طفولیت میں تم اپنی ذات کے لئے کسی نفع نقصان کے مالک نہیں تھے۔ پھر تمہیں طاقت وربنایا اور تمہیں اتنی استطاعت ، عقل وفہم اور سمجھ بوجھ عطا کی کہ تم دنیاوی امور میں تصرف کے ذریعے جلب منفعت اور دفع مضرت کرسکو۔ پھر اس نے تمہیں…
Read the full tafseer →64 پیغمبر کے لیے تسلی کا سامان تاریخ کے حوالے سے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو بھیجا ان کی قوموں کی طرف جو ان کے پاس کھلے دلائل لے کر آئے "۔ سو آپ کوئی نئے اور انوکھے رسول تو نہیں ہیں کہ یہ لوگ اس طرح بدکیں اور تعجب کریں جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ } ۔ (الاحقاف : 9) ہاں یہ فرق ضرور ہے کہ ان کی نبوت و رسالت ان کی اپنی قوموں کی طرف اور خاص علاقوں اور محدود زمانوں کے لئے تھی۔ جبکہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت قیامت تک کے تمام زمانوں تک کیلئے اور ساری دنیا اور جملہ اقوام کے لئے ہے۔ مگر گزشتہ اقوام نے اپنے رسولوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
باران رحمت اور انسان کی ناشکری
تشریح : اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں اور قدرتوں میں سے ہوائیں، بادل، پانی، زمین اور انسان کا مرنے کے بعد زندہ ہوجانا شامل ہے یہ تمام موضوعات تفصیل سے بیان کیے جا چکے ہیں۔ بہر حال سوچنے والوں کے لیے ان تمام باتوں میں بڑے بڑے سائنسی معجزات موجود ہیں۔ ہوائیں چلتی ہیں جو کئی اور کاموں کے علاوہ ایک بہت بڑا کام یہ کرتی ہیں کہ بادلوں کو اپنے زور سے دور دراز علاقوں میں پہنچا دیتی ہیں جہاں بارش ہوتی ہے اور سرد علاقوں میں وہی بادل درجہ حرارت کے تبدیل ہونے سے بجائے پانی کے قطروں کے برف کے ذرات میں بدل کر برف باری کرتے ہیں۔ سمندر میں ہواؤں کے زور پر ہی بادبانی کشتیاں چلتی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیات 41 تا 53
اسرارومعارف
کفر و شرک کی مصیبت اللہ کی ناراضگی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اس سے نظام عالم میں خرابی پیدا ہو کر خشکی و تری میں فساد پھیلتا ہے اگرچہ رحمت باری انسان کے سب گناہوں کی سزا اس پر فورا نہیں ڈالتی اور اللہ انسان کو مہلت دیتا ہے مگر اس کے باوجود گناہوں کے اثراتبد کا اظہار ہوتا رہت ہے جسے کافر دنیا ہیں بےحیائی کو عورت کی آزادی کا نام دے کر رواج کردیا گیا آج وہی مصیبت ان کے لیے ہت بڑا عذاب ہے ہر گر کا سکون تباہ ہورہا ہے اولاد کا کوئی نصب نہیں ملتا اور ایڈز جیسے موذی امراض بدکاری کا پھل ہیں ایسے معاش میں سودی نظام کے بڑے برے نتائج دیکھ کر لوگ توبہ کریں اور واپس آجائیں۔ ان سے کہ…
Read the full tafseer →ف 1 اور مبداو معاد کو براہین و دلائل سے ثابت کرنے کے بعد اب اس آیت میں اصل ثالث یعنی نبوت کو ثابت کیا ہے یعنی آپ بھی گزشتہ پیغمبروں کی طرح اللہ کے پیغمبر ہیں، جیسے ان کے مخالفین سے انتقام لیا گیا۔ اسی طرح آپ کے مخالفین سے بھی بدلہ لیا جائے گا۔ نیز اس آیت میں آنحضرت کو تسلی دی ہے اور اہل ایمان کے لئے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کا مددگار ہے اور وہ ہمیشہ مغلوب نہیں رہیں گے بلکہ ایک نہ ایک دن کو غلبہ نصیب ہوگا۔ یہاں حقاً خبر مقدم اور نصر المومنین اسم کان ہے اور المومنین میں پیغمبر، ان کے صحابہ اور ان کے بعد امت کے تمام مونین شامل ہیں۔ بعض نے حقا پر وقف تام کیا ہے اور کان میں ضمیر کا…
Read the full tafseer →(30:47) انتقمنا۔ ماضی جمع متکلم انتقام (افعال) مصدر۔ نقم مادہ۔ نقم و نقم (باب سمع و ضرب) کسی چیز کو برا سمجھنا۔ یہ کبھی زبان کے ساتھ عیب لگانے اور کبھی سزا دینے پر بولا جاتا ہے قرآن مجید میں ہے وما نقموا منہم الا ان منوا باللہ (85:8) وہ ان کی کسی چیز کو برا نہیں سمجھتے تھے سوائے اس کے کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ یعنی ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ اللہ پر ایمان لائے ہوئے تھے۔
باب افتعال سے بمعنی سزا دینا مثلا فانتقمنا منہم فاغرقنھم فی الیم (7:36) تو ہم نے ان سے بدلہ لیکر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں غرق کردیا۔ آیۃ ہذا میں بھی بمعنی سزا دینے کے ہے۔ فانتقمنا من الذین اجرموا۔ پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
لغات آیت نمبر 46 تا 50
مبشرات (کوش خبری دینے والیاں) ۔ اجرموا (جنہوں نے جرم کیا) ۔ حق (حق ہے۔ ذمہ داری ہے) ۔ تشیر (وہ پھیلاتا ہے) ۔ سحاب (بادل) ۔ کسف (ٹکڑا۔ تقسیم کرنا ) ۔ ودق (بارش) ۔ اثر (اثر) (نشایاں) ۔
تشریح : آیت نمبر ( 46 تا 50)
اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے خزاں کے بعد بہار، مصیبت کے بعد راحت، دکھ کے بعد آرام و سکون اور ہر مشکل کے بعد آسانی پیدا ہوتی رہتی ہے۔ اسی طرح کفرو شرک اور اللہ کی نافرمانیاں جب حد سے برھ جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے پاکیزہ نفوس انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بھیجتا ہے جو اپنی قوم کے لوگوں کو یہ بات بتاتے ہیں کہ اگر انہوں نے کفر و شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
علامات قیامت اور جنتی دوزخیوں کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں ہوا کا ذکر اور ہوا کے سبب سے بادل جو آتے ہیں ان کا ذکر، اور بادلوں کے سبب سے جو مینہ برستا ہے اس کا ذکر فرما کر فرمایا ہے کہ جس طرح ہر سال برسات کے موسم میں زمین کی مری ہوئی مٹی زندہ ہوجاتی ہے اور اس میں ہر طرح کے اناج کے پیدا ہونے کی قوت آجاتی ہے اس طرح حشر کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک مرے ہوئے شخص کے جسم کو پھر تیار کرکے ان جسموں میں پھر روح پھونکے گا۔ صحیح بخاری ومسلم کی حضرت ابوہریرہ سے حدیث ہے کہ دوسرے صور سے پہلے شبنم کی طرح ایک مینہ برسے گا جس سے زمین کے سب مرے ہوئے لوگوں کے پتلے بن کرتیارہوجائیں گے پھر دوسراصور پھونکا جائے گا جس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
[25] یعنی جو اللہ مردہ زمین کو زندہ کرسکتا ہے وہ یقینا مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔
Read the full tafseer →ف 3: مقصد یہ ہے کہ آپ سے پہلے بھی انبیاء آئے ہیں اور لوگوں نے ان کی حسب عادت مخالفت کی ہے ۔ پھر جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی ۔ تو اللہ تعالیٰ کا قانون مکافات حرکت میں آیا اور ان لوگوں کو سخت ترین سزائیں دی گئیں ۔
حقا علینا نصراللومنین سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی زمانے میں بھی اپنے بندوں کو ذلیل اور رسوا نہیں کرتے ۔ ہر دن اور ہر وقت وہ ان کے لئے اعانت کا ہاتھ بڑھاتے ہیں کیونکہ ازراہ نوازش وکرم اس چیز کو اللہ نے پانے اوپر لازم قرار دیا ہے ۔
Read the full tafseer →47۔ اور اے پیغمبر ہم نے بلا شبہ آپ سے پہلے بہت سے پیغمبروں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا تھا سو وہ ان کے پاس صاف اور کھلے کھلے دلائل لے کر آئے پھر ہم نے ان لوگوں سے انتقام لیا جو جرائم کے مرتکب ہوئے تھے اور جنہوں نے جرائم کئے تھے اور مسلمانوں کی مدد کرنا اور اہل ایمان کی مدد کرنا حب وعدہ ہمارے ذمہ لازم تھا۔
آیت میں نبی کریم ﷺ کی تسلی فرمائی کہ اگر آپ کی مخالفت کرتے ہیں تو آپ غمگین نہ ہوں کیوں آپ سے پیشتر بھی انبیاء کی قوموں نے ایسا ہی کیا ہے اور باوجود دلائل واضحہ کے جرائم کفریہ کا ارتکاب کرتے رہے ہیں آخرکار ہم نے مجرموں سے انتقام لیا اور مسلمانوں کی امداد کرنا ہمارا شیوہ رہا ہے اور حسب وعدہ ہم…
Read the full tafseer →ف 3۔ اور وہ جرائم تکذیب حق و مخالفت اہل حق ہیں، اور اس انتقام میں ہم نے ان کو مغلوب اور اہل ایمان کو غالب کیا۔
4۔ وہ انتقام عذاب الہی تھا، اور اس میں کفار کا ہلاک ہونا ان کا مغلوب ہونا ہے اور مسلمانوں کا بچ جانا ان کا غالب آنا ہے، غرض اسی طرح ان کفار سے کام لیا جاوے گا، خواہ دنیا میں خواہ بعد موت۔
Read the full tafseer →پہلی قوموں میں بھی رسول بھیجے گئے اور پھر نہ ماننے والوں سے بدلہ لینے میں ہم کو کیا دیر لگی ؟ :
47۔ اب اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ کی امت کوئی نئی امت نہیں ہے اور نہ ہی آپ ﷺ کی رسالت کوئی نئی رسالت ہے ہم نے آپ ﷺ سے پہلے بھی ساری قوموں کی طرف ان کو پیغام پہنچانے کے لئے ان میں رسول مبعوث کیے جو ان کے پاس یعنی اپنی قوموں کے پاس روشن دلائل لے کر آئے لیکن ان کی قوموں کے لوگوں نے ان کی ایک نہ سنی اور ان کی اکثریت نے ان کی سخت مخالفت کی اور ہم نے ان کو جو مہلت دی اس مہلت کا سارا وقت ان قوموں نے اس مخالفت میں ضائع کردیا اور انجام کار جب ان کی پکڑ کا وقت قریب آگیا تو ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
Commentary
فَانتَقَمْنَا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ (Then We took vengeance upon those who were guilty. And it was due on Us to help the believers. -30:47). This verse tells us that Allah Ta’ ala has taken it upon Himself to help the believers. On the face of this statement, one would have expected that Muslims would never be defeated against the infidels. But on many occasions, results have been exactly opposite. Answer to this confusion is at hand in this very verse, that by the word 'believers' those believers are intended who fight with…
Read the full tafseer →71 That is, "One kind of the Signs are those which are scattered in the world around man, which he comes across at every moment of his life, one of which is the system of the circulation of winds, as mentioned in the preceding verse. The other kind of the Signs are those which the Prophets of Allah brought in the form of the miracles and Divine Revelations and the extraordinary pure characters and their healthy and life-giving influence on human society. Both kinds of the Signs point to the same Reality, which is this: The Tauhid which the prophets teach is based on the Truth. Each of these…
Read the full tafseer →