Explained with ayahs 48–51
نا امیدی کے اندھیروں میں امید کے اجالے رحمت وزحمت کی ہوائیں
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں یا تو سمندر پر سے یا جس طرح اور جہاں سے اللہ کا حکم ہو۔ پھر رب العالمین ابر کو آسمان پر پھیلا دیتا ہے اسے بڑھا دیتا ہے تھوڑے کو زیادہ کردیتا ہے تم نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بالشت دوبالشت کا ابر اٹھا پھر جو وہ پھیلا تو آسمان کے کنارے ڈھانپ لئے۔ اور کبھی یہ بھی دیکھا ہوگا کہ سمندروں سے پانی کے بھرے ابر اٹھتے ہیں۔ اسی مضمون کو آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ 57) 7۔ الاعراف :57) میں بیان فرمایا ہے پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے اور تہہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
سورة الروم 71
یعنی ایک قسم کی نشانیاں تو وہ ہیں جو کائنات فطرت میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں، جن سے انسان کو اپنی زندگی میں ہر آن سابقہ پیش آنا ہے، جن میں سے ایک ہواؤں کی گردش کا یہ نظام ہے جس کا اوپر کی آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ اور دوسری قسم کی نشانیاں وہ ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) معجزات کی صورت میں، کلام الہی کی صورت میں، اپنی غیر معمولی پاکیزہ سیرت کی شکل میں، اور انسانی معاشرے پر اپنی حیات بخش تاثیرات کی شکل میں لے کر آئے۔ یہ دونوں قسم کی نشانیاں ایک ہی حقیقت کی نشان دہی کرتی ہیں، اور وہ یہ ہے کہ جس توحید کی تعلیم انبیاء دے رہے ہیں وہی برحق ہے۔ ان میں سے ہر نشانی دوسری کی مؤید ہے۔ کائنات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
معارف و مسائل
فَانْتَـقَمْنَا مِنَ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا ۭ وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ ، ہم نے مجرموں کافروں سے انتقام لے لیا اور ہمارے ذمہ تھا کہ ہم مومنین کی مدد کرتے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومنین کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اس کا تقاضا بظاہر یہ تھا کہ مسلمانوں کو کفار کے مقابلہ میں کبھی شکست نہ ہو، حالانکہ بہت سے واقعات اس کے خلاف بھی ہوئے ہیں اور ہوتے رہتے ہیں۔ اس کا جواب خود اسی آیت میں موجود ہے کہ مومنین سے مراد وہ مجاہدین فی سبیل اللہ ہیں جو خالص اللہ کے لئے کفار سے جنگ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا ہی انتقام اللہ تعالیٰ مجرمین سے لیتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
اللہ الذی یرسل الریاح تفثیر سحابا یفبطہ فی اسلماء کیف یشلم وجعلہ کسفا فتری الردق یخرج من خللہ فاذ اصبا بہ من یشاء من عبادہ اذاھم یستبشرون وان کانوا من قبل ان ینزل علیھم من قبلہ لمبلسین (48۔ 49)
اوپر کی آیت میں نصرت کی جو بشارت اس قطعیت کے ساتھ دی گئی ہے وقت کے ظاہری حالات اس کے بالکل خلاف تھے اس وجہ سے مسلمانوں، بالخصوص عام مسلمانوں کو، اطمینان دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و رحمت کے ظہور کے ایک ایسی نشانی کی طرف توجہ دلائی جس کا تجربہ و مشاہدہ ہر شخص کو ہوتا رہتا ہے۔ فرمایا کہ یہ اللہ ہی کی قدرت اور شان ہے کہ وہ ہوائوں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں، پھر وہ ان بادلوں کو اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
48-1یعنی بادل جہاں بھی ہوتے ہیں وہاں سے ہوائیں ان کو اٹھا کرلے جاتی ہیں۔
48-2کبھی چلا کر کبھی ٹھہرا کر، کبھی تہ بہ تہ کرکے، کبھی دور دراز تک۔ یہ آسمانوں پر بادلوں کی مختلف کیفیتیں ہوتی ہیں۔
48-3یعنی ان کو آسمان پر پھیلانے کے بعد کبھی ان کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کردیتا ہے۔
48-4یعنی ان بادلوں سے اللہ اگر چاہتا ہے تو بارش ہوجاتی ہے جس سے بارش کے ضرورت مند خوش ہوجاتے ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
21: ہوائیں چلانے کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ وہ بارش کی خوشخبری لاتی ہیں، اور بادلوں کو اٹھا کر پانی برسانے کا سبب بنتی ہیں، اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ وہ سمندروں اور دریاؤں میں کشتیوں کو چلاتی ہیں، بادبانی کشتیوں کا تو سارا دارومدار ہی ہواؤں پر ہوتا ہے، لیکن مشینی جہاز بھی ہوا کی مدد سے بےنیاز نہیں ہوتے، اور سمندروں میں کشتیاں چلانے کا فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے ذریعے لوگ اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کریں، جیسا کہ بار بار عرض کیا گیا، اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنا قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے، جس سے مراد تجارت اور روزگار کے دوسرے ذرائع اختیار کرنا ہے، لہذا قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے کہ اگر یہ ہوائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
ومن ایتہ ان یرسل ۔۔۔۔۔ من بعدہ یکفرون (46 – 51)
ان آیات میں بظاہر نہایت مختلف النوع موضوعات کو جمع کیا گیا ۔ بشارت دینے والی ہوائیں ، رسولوں کو معجزات اور نشانیوں کے ساتھ بھیجنا ، مومنین کا رسولوں کے ذریعہ مدد کرنا ، ایسی بارشوں کا نزول جو مردہ زمین کو زندہ کردیتی ہیں اور بعث بعد الموت کا مسئلہ۔ یہ اجتماع بامقصد ہے۔ یہ سب چیزیں اللہ کی رحمت کی نشانیاں ہیں۔ یہ سب سنت الہیہ کے مظاہر ہیں ، یہ سب اس کائنات کے نظام کے تحت ہیں ، رسولوں کو ہدایت کے ساتھ بھیجنے اور مومنین کی نصرت کے درمیان گہرا تعلق ہے اور یہ سب آیات الہیہ کے مختلف نمونے ہیں۔ یہ سب امور اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں سے متعلق ہیں۔ لوگوں…
Read the full tafseer →2 یعنی پہلے کسی طرف، پیچھے کسی طرف، اسی طرح دین بھی پھیلائے گا۔ چناچہ پھیلا دیا۔
3 اسی طرح جو ایمانی اور روحانی بارش سے منتفع ہوں گے وہ خوشیاں منائیں گے۔
Read the full tafseer →وَیَجْعَلُہٗ کِسَفًا فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِہٖ ج ”
یہ مضمون قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔
Read the full tafseer →56 اس ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کئی نشانیاں فرما دیں مثلاً ہوا جو ایک کنکر کا بوجھ بھی برداشت نہیں کرسکتی اور کنکر زمین پر آپڑتا ہے مگر یہ ہوا آبی بخارات کو ایک کاغذ کے پرزے کی طرح اپنے دوش پر اٹھائے پھرتی ہیں۔ وہ آبی بخارات جن میں کروڑوں ٹن پانی موجود ہوتا ہے۔ اور اس وزن کا اندازہ زمین کے اس رقبہ سے لگایا جاسکتا ہے جس میں یہ بارش ہوئی اور جتنے انچ بارش ہوئی۔ دوسری یہ کہ ان باربردار ہواؤں کا رخ طبیعی طور پر متعین نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ جس طرح خود چاہے اسی طرح ہی موڑ دیتا ہے اس لئے جہاں چاہتا ہے وہیں بارش ہوتی ہے دوسرے علاقہ میں نہیں ہوتی۔ تیسری یہ کہ جب یہ بادل کسی ایسے ٹھنڈے فضائی…
Read the full tafseer →63۔ (آیت) ” یبسطہ “۔ سے مراد یہ ہے کہ بادل کو مجتمع کرکے دور تک پھیلا دیتا ہے۔ جس سے گھنگھور گھٹا چھا جاتی ہے۔ (آیت) ” یجعلہ کسفا “۔ کا مطلب یہ ہے کہ بادل کو گھنا نہیں ہونے دیتا متفرق پتلی پتلی بدلیاں رکھتا ہے۔ (آیت) ” کیف یشآء “۔ کا حاصل یہ ہے کہ بادل کو جس حالت میں چاہتا ہے رکھتا ہے۔ خواہ خوب گہری گھٹا بنا دے، خواہ ہلکی پھلکی بدلی رکھے۔ (آیت) ” فی السمآء “۔ سے مراد صرف ” سمت آسمان میں “ ہے۔ اے فی سم تھا (بیضاوی) لافی نفس السماء بالمعنی المتبادر (روح)
64۔ یعنی اپنے بندوں کے جس ملک، جس سرزمین میں چاہتا ہے۔ لے جاتا ہے۔ یعنی بلادھم واراضیھم (بیضاوی) (آیت) ” الودق “۔ ودق مرادف ہے مطر کے۔ الودق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیت نمبر 41 تا 53
ترجمہ : خشکی یعنی میدانوں میں خشک سالی اور نباتات کی کمی کی وجہ سے اور تری یعنی ان شہروں میں جو نہروں (سمندروں) کے
کنارے واقع ہیں پانی کی قلت کی وجہ سے لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد ظاہر ہوگیا تاکہ ہم ان کو ان کے بعض اعمال کی سزا کا مزہ چکھائیں ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں توبہ کریں، آپ مکہ کے کافروں سے کہئے کہ زمین میں چلو پھرو دیکھو پہلوں کا کیا انجام ہوا ؟ جن میں اکثر لوگ مشرک کے سبب ہلاک کردیئے گئے اور ان کے گھر اور مکانات گرے پڑے ہیں آپ اپنی توجہ دین قیم یعنی اسلام کی جانب رکھئے قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کو اللہ (ہرگز) نہیں ٹالے گا اس روز سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے…
Read the full tafseer →اللہ الذی یرسل الریح فتثیر سحابا فیبسطہ فی السماء کیف یشاء ویجعلہ کسفا فتری
الودق یخرج من خللہ اللہ ایسا ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے پھر ہوائیں بادلوں کو اٹھا کر لاتی ہیں پھر اللہ جس طرح چاہتا ہے بادل کو (کبھی) آسمان میں پھیلاتا ہے (اور کبھی) اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے اور (دونوں صورتوں میں) تم کو مینہ اس کے اندر سے نکلتا دکھائی دیتا ہے۔
اَلْسَّمَآء سے مراد ہے اوپر کی سمت جیسے دوسری آیت میں آیا ہے وَفَرْعُھَا فِی السَّمَآءِ ۔
یَبْسُطُ یعنی ایک طرف سے دوسری طرف کو رواں کرتا ہے ‘ گھنگھور گھٹا کی شکل میں یا بغیر گھٹا کے۔ مقصد یہ ہے کہ کبھی پھیلا دیتا ہے اور کبھی ٹکڑے ٹکڑے الگ الگ کردیتا ہے۔
فاذا…
Read the full tafseer →اللہ ایسا ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے اور پھر وہ ہوائیں بارش سے بھرے ہوئے بادلوں کو اٹھاتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ ان بادلوں کو کبھی تو جس طرح چاہتا ہے آسمان کی سمت میں پھیلا دیتا ہے اور کبھی اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے پھر دونوں حالتوں میں تم بارش کو دیکھتے ہو کہ وہ اس بادل کے اندر سے نکلتی ہے۔
پھر جب وہ بارش سرزمین میں اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے برسا دے تو اس بارش سے خوش ہونے لگتے ہیں۔
Read the full tafseer →اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا۔۔ : عبدالرحمان کیلانی ؓ لکھتے ہیں : ”اس ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کئی نشانیاں ذکر فرما دیں، مثلاً ہوا جو ایک کنکر کا بوجھ بھی برداشت نہیں کرسکتی اور کنکر زمین پر آپڑتا ہے، مگر یہ ہوا آبی بخارات کو ایک کاغذ کے پرزے کی طرح اپنے کندھے پر اٹھائے پھرتی ہے۔ وہ آبی بخارات جن میں کروڑوں ٹن پانی موجود ہوتا ہے اور اس وزن کا اندازہ زمین کے اس رقبے سے لگایا جاسکتا ہے جس میں یہ بارش ہوئی اور جتنے انچ بارش ہوئی۔ دوسری یہ کہ ان باربردار ہواؤں کا رخ طبیعی طور پر متعین نہیں ہوتا (کہ لازماً فلاں جانب ہی چلیں گی) بلکہ اللہ تعالیٰ جس طرف خود چاہے اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
ابن محیصن، ابن کثیر، حمزہ اور کسائی نے السیح کو واحد پڑھا باقی قراء نے جمع کا صیغہ پڑھا ہے ابو عمر نے کہا : ریح کا لفظ جہاں بھی رحمت کے معنی میں ہو وہ جمع کا صیغہ ہے اور جو عذاب کے معنی میں ہو وہ واحد ہے سورة بقرہ وغیرہ میں آیت کا معنی گزر چکا ہے۔
کسفۃ کی جمع ہے جس کا معنی قطعہ ہے حضرت حسن بصری، ابو جعفر، عبدالرحمن الاعراج اور ابن عامر نے کسفا سین کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے یہ بھی کسفۃ کی جمع ہے جس طرح کہا جاتا ہے سدرۃ سدارا قرأت کی بناء پر وہ ضمیر جو اس کے بعد ہے اس کی طرف لوٹے گی یعنی تو بارش کو دیھ کے گا جو بادل کے درمیان سے نکلتی ہے کیونکہ جمع اور واحد کے درمیان صرف ہاء کا فرق ہے اس لئے اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
1۔ ابو الشیخ نے العظمۃ میں سدی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ ہواؤں کو حکم دیتا ہے کہ وہ بادلوں کو خافقین کے درمیان سے لاتی ہیں یعنی آسمان کے کنارے جب وہ ملتے ہیں اسے نکالتی ہیں پھر پھیلاتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ اس کو آسمان پر پھیلا دیتا ہے جس طرح چاہتا ہے پھر پانی بادل پر بہتا ہے پھر اس کے بعد بارش برساتا ہے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ ہوا کو بھیجتے ہیں وہ بادلوں سے پانی کو اٹھاتی ہے اور پانی کے ساتھ بادل کے پاس سے گزرتی ہے اسے نچوڑا جاتا ہے جیسے اونٹنی کو دھویا جاتا ہے اور موسلا دھار بارش مشکیزے کا منہ کھولنے کی طرح مگر وہ جدا جدا ہوتی ہے۔
3۔ ابو یعلی وابن…
Read the full tafseer →اَللّٰهُ الَّذِيْ [اللہ وہ ہے جو ] يُرْسِلُ [بھیجتا ہے ] الرِّيٰحَ [ہواؤں کو ] فَتُثِيْرُ [تو وہ اوپر اٹھاتی ہیں ] سَحَابًا [بادل کو ] فَيَبْسُطُهٗ [پھر وہ (اللہ) پھیلاتا ہے اس کو ] فِي السَّمَاۗءِ [آسمان میں ] كَيْفَ يَشَاۗءُ [جیسے وہ چاہتا ہے ] وَيَجْعَلُهٗ [اور وہ بناتا ہے اس کو ] كِسَفًا [ٹکڑے ٹکڑے ] [فَتَرَى : پھر تو دیکھتا ہے ] الْوَدْقَ [بارش (کے قطرے) کو ] يَخْرُجُ [وہ نکلتا ہے ] مِنْ خِلٰلِهٖ ۚ [اس کی دراڑوں سے ] فَاِذَآ [پھر جب ] اَصَابَ بِهٖ [وہ پہنچتا ہے اسے ] مَنْ [اس کے پاس جس کو ] يَّشَاۗءُ [وہ چاہتا ہے ] مِنْ عِبَادِهٖٓ [اپنے بندوں میں سے ] اِذَا هُمْ [جب ہی وہ لوگ ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے اور بارش برساتا ہے، وہی مردوں کو زندہ فرمائے گا
ان آیات میں اول تو ہواؤں کا ذکر فرمایا جن کے چلنے سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ بارش آنے والی ہے، یہ ہوائیں بارش آنے سے پہلے بارش کی خوشخبری دے دیتی ہیں۔ پھر جب بارش ہوجاتی ہے انسان ان کے منافع سے مستفید ہوتے ہیں، منافع میں سے یہ بھی ہے کہ ان کے ذریعہ بادبانی کشتیاں چلتی ہیں۔ جب ان کشتیوں میں سوار ہو کر سفر کرتے ہیں تو ان سفروں میں اللہ تعالیٰ کا رزق بھی تلاش کرتے ہیں، تجارت کے لیے بھی مال لاتے ہیں اور آل اولاد کے کھانے پینے کے لیے بھی، ان سب چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے انعامات بھی ہیں اور اس کی قدرت کے دلائل بھی ہیں، ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–57
ذکر بعض دلائل قدرت برائے اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ اللہ الذی یرسل الریح۔۔۔ الی۔۔۔ ولاہم یستعتبون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں زیاد تر ایسے دلائل قدرت ذکر کئے جو الوہیت اور وحدانیت کے مثبت تھے اب ایسے چند دلائل قدرت ذکر کرتے ہیں کہ جو قیامت اور فنا عالم اور بعث بعد الموت اور حیات ثانیہ کے لئے مثبت ہوں اور بعد ازاں کچھ احوال قیامت کو بیان کیا۔
چناچہ فرماتے ہیں خدا برحق وہ ہے جو بھیجتا ہے ہوائیں پھر اٹھاتی ہیں وہ ہوائیں ابر کو پھر پھیلاتا ہے اللہ اس ابر کو آسمان کی جانب میں جس طرح چاہے کہیں کم اور کہیں زیادہ اور کہیں سفید اور کہیں سیاہ پھر اس کو تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش اس ابر کے…
Read the full tafseer →37:۔ یہ توحید پر بارہویں عقلی دلیل ہے۔ اور دلیل مذکور کے ایک جزو کی تفصیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو ہانک کر اللہ کے حکم سے آسمانی فضا میں پھیلا دیتی ہیں اور بادلوں کے ٹکڑوں کو دنیا کے مختلف خطوں پر لیجاتی ہیں اور سب دیکھتے ہیں کہ اللہ کی قدرت سے ان بادلوں کے بیچ میں سے بارش برس رہی ہے۔ جہاں بارش ہوجاتی ہے وہاں کے لوگ خوشی سے پھولے نہیں سماتے وان کانو الخ، ان مخففہ من المثقلۃ ہے اور اس کا اسم ضمیر شان مقدر ہے۔ حالانکہ بارش برسنے سے پہلے وہ ناامید ہوچکے ہوتے ہیں کہ اب بارش نہیں ہوگی، فصلیں تباہ ہوجائیں گی اور مویشی پیاش سے مرجائیں گے۔ من قبلہ کا اعادہ تاکید کے لیے ہے (روح)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دین فیم کی طرف توجہ کرنے کا حکم دیا ، فرمایا کہ بحروبر میں لوگوں کے کفر ، شرک اور بد اعمالیوں کی وجہ سے فساد برپا ہوچکا ہے۔ اللہ نے بعض انسانی اعمال بد کا بدلہ دنیا میں دیا ہے اور تنبیہ کی ہے تاکہ لوگ باز آجائیں پھر ایمان اور اعمال صاحلہ کی فضیلت کا ذکر فرمایا اور ساتھ یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کفر کو کبھی بھی پسند نہیں کرتا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے ایمان اور اعمال صالحہ کی ترغیب اور کفر و شرک کی تردید فرمائی ہے۔
بارش کی ہوائیں
اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی بعض نشانیوں کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے۔ ومن اٰیتہِ ان یرسل الریاح مبشرتٍ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی…
Read the full tafseer →اَللہُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُہٗ فِي السَّمَاۗءِ كَيْفَ يَشَاۗءُ وَيَجْعَلُہٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِہٖ 0 ۚ فَاِذَآ اَصَابَ بِہٖ مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِہٖٓ اِذَا ہُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ 4 8ۚ
رسل ( ارسال)
والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
اللہ الذی یرسل الریح الخ یہاں سے اور دوسری نعمت ظاہر فرماتا ہے کہ جس پر نظام عالم منحصر ہے، وہ کیا ؟ بارش کا بھیجنا پھر اس سے زمین کا شاداب کرنا، پھر اس نعمت کے بیان میں کیا کیا اشارات لطیفہ ہیں۔ (1) الذی سے شروع کیا کہ یہ کام جس کا ہے وہ اللہ ہے نہ کہ تمہارے خیالی معبود (2) یرسل الریح کو مقدم ذکر کیا کہ مینہ سے پہلے ہم کیسی ہوائیں چلاتے ہیں، پھر وہ ہوائیں بدلیاں اٹھا لاتی ہیں، پھر اس کو آسمان پر ابر بناکر کس طرح پھیلاتی ہیں۔ کیف یشاء مگر جس طرح اللہ چاہتا ہے کہیں کم ‘ کہیں زیادہ، کبھی ہر جگہ مساوی ‘ کبھی سیاہ رنگ کے بادل، کبھی اور رنگ کے پھر سب کو گھنگھور گھٹا کردیتا ہے، پھر اس میں سے مینہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
اَللّٰہُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَـتُـثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُہٗ فِی السَّمَآئِ کَیْفَ یَشَآئُ وَیَجْعَلُـہٗ کِسَفًا فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰـلِہٖ ج فَاِذَٓا اَصَابَ بِہٖ مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖٓ اِذَاھُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ ۔ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْہِمْ مِّنْ قَبْلِہٖ لَمُبْلِسِیْنَ ۔
(الروم : 48، 49)
(اللہ ہی ہے جو ہَوائوں کو بھیجتا ہے، پس وہ بادلوں کو ابھارتی ہیں، پھر وہ ان باد لوں کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے جس طرح چاہتا ہے اور ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ بارش بادلوں میں سے نکلتی چلی آتی ہے، پس جب وہ اس بارش کو اپنے بندوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
فہم القرآن
ربط کلام : نبوت کے بیان کے بعد توحید کے دلائل دئیے جاتے ہیں۔
جس ” اللہ “ نے اپنی پہچان کے لیے انبیاء کرام (علیہ السلام) بھیجے۔ وہی ہوائیں چلاتا ہے جو ابر کرم کو اٹھاتی، فضا میں پھیلاتی اور برساتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ بادلوں کو ٹکڑیوں کی صورت میں تقسیم کرتا ہے پھر اسی کے حکم سے بادلوں سے بارش برستی ہے۔ بارش برسنے سے پہلے لوگ مایوسی کا اظہار کررہے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جنہیں چاہتا ہے بارش سے سیراب کرتا ہے جن پر بارش برستی ہے وہ خوش ہوجاتے ہیں۔ بارش اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ اس پر انسان سوچے تو اسے معلوم ہوجائے کہ لوگوں کو سیراب کرنے کے…
Read the full tafseer →دلیل قدرت ‘ بادل سے بارش نکالنا :
48: اَللّٰہُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ (اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جو ہوائوں کو بھیجتا ہے ) ۔
قراءت :ـ مکی نے الریح پڑھا ہے۔
فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُہٗ (پس وہ بادلوں کو اٹھا کر لاتی ہیں۔ پھر وہ بادلوں کو پھیلاتی ہیں) ہٗ کی ضمیر سحاب کی طرف ہے۔ فِی السَّمَآئِ (آسمان میں) آسمان کی جانب و طرف جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا۔ وفرعھا فی السماء (یعنی آسمان کی جانب) ] ابراہیم : 24[ کَیْفَ یَشَآ ئُ (جس طرح وہ چاہتا ہے) شمال کی جانب یا جنوب یا پچھم یا پورب کی طرف۔ وَیَجْعَلُہٗ کِسَفًا (اور وہ اس کے ٹکڑے کردیتا ہے) کِسَف جمع کسفۃ کی ہے۔ معنی ہیں ٹکڑا۔ مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →48، اللہ الذی یرسل الریاح فتثیر سحابا، ان کو پھیلا دیتا ہے ۔ ، فیبسطہ فی السماء کیف یشائ، ایک دن یادودن کی مسافت یا اس سے زیادہ ۔ ویجعلہ کسفا، متفرق ٹکڑے ۔ ، فتری الودق، اس سے مرادبارش ہے ۔ ، یخرج من خلالہ ، اس کے درمیان سے ۔
، فاذا اصاب بہ من یشاء ، جہاں وہ چاہتا ہے وہاں پہنچادیتا ہے۔ ، من عبادہ اذاھم یستبشرون، وہ بارش کی وجہ سے خوش ہوتے ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–51
40 تا 51۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ پہلی دفعہ جو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کو پیدا کیا پھر عمر پوری ہونے کے بعد ہر ایک جاندار کی موت اللہ کے حکم سے آتی ہے کسی کو اس میں کچھ دخل نہیں ہے یہ سب کچھ تو ان مکہ کے مشرکوں کی آنکھوں کے سامنے ہے اور ان مشرکوں کے رزق کی سبب جو آسمان سے پانی کا برستا ہے وہ بھی اللہ کے ہی اختیار میں ہے ان کے بتوں کو اس میں کچھ دخل نہیں اور جب ایک دفعہ یہ تمام عالم پیدا ہوچکا تو ان مشرکوں کے روز مرہ کے تجربہ کو گواہی سے دوسری دفعہ انسان کا پیدا ہونا اور نیک وبد کی جزا وسزا کا ہونا بالکل سہل ہے حاصل یہ ہے کہ جب یہ سب اللہ کے اختیار میں ہے تو ان آیتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
آیت نمبر : 48 ۔ 50
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور نعمت تامہ کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ (یرسل الریح فتثیر سحابا) ” وہ ہواؤں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو اٹھاتی ہیں “ زمین سے (فیبسطہ فی السمآء) پھر اللہ تعالیٰ ان بادلوں کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے (کیف یشآء) جس حالت میں چاہتا ہے (ویجعلہ) ” اور اس کو کردیتا ہے “ یعنی اس لمبے چوڑے بادل کو (کسفا) ایک گہرا بادل بنا دیتا ہے جو ایک دوسرے کے اوپر جما ہوا ہوتا ہے۔ (فتری الودق یخرج من خللہ) پھر تم اس بادل میں سے چھوٹے چھوٹے قطرے گرتے دیکھتے ہو۔ بارش کے یہ قطرے بیک وقت نہیں گرتے ‘ تاکہ ایسا نہ ہو کہ یہ قطرے جس پر گریں اسے خراب کردیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–60
جوانی ، بڑھاپے کی زحمت سے پہلے غنیمت ہے
قول باری ہے : (اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعدقوۃ ضعفا وشیبۃ۔ اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے رحم مادر میں ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر تمہیں اطفال بنایا کہ عہد طفولیت میں تم اپنی ذات کے لئے کسی نفع نقصان کے مالک نہیں تھے۔ پھر تمہیں طاقت وربنایا اور تمہیں اتنی استطاعت ، عقل وفہم اور سمجھ بوجھ عطا کی کہ تم دنیاوی امور میں تصرف کے ذریعے جلب منفعت اور دفع مضرت کرسکو۔ پھر اس نے تمہیں…
Read the full tafseer →66 بادلوں اور باد و باراں میں درسہائے عبرت و بصیرت کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ وہی تو ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اس طور پر کہ وہ بادل اٹھاتی ہیں۔ پھر اللہ اس بادل کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے جس طرح چاہتا ہے اور وہ اس کو تقسیم کردیتا ہے مختلف ٹکڑیوں کی شکل میں "۔ یعنی کبھی تو بادل سارے آسمان پر محیط ہوجاتے ہیں اور کبھی مختلف ٹکڑیوں میں بٹ جاتے ہیں۔ سو یہ سب اللہ پاک ہی کی قدرت و عنایت کے مظاہر ہیں جو تمہارے سامنے بار بار آتے اور تم کو دعوت غور و فکر دیتے ہیں مگر لوگ ان سے سبق نہیں لیتے۔ ورنہ ابرو باد کے ان مختلف سلسلوں میں طرح طرح کے درسہائے عبرت و بصیرت پوشیدہ و پنہاں ہیں جن میں غور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
باران رحمت اور انسان کی ناشکری
تشریح : اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں اور قدرتوں میں سے ہوائیں، بادل، پانی، زمین اور انسان کا مرنے کے بعد زندہ ہوجانا شامل ہے یہ تمام موضوعات تفصیل سے بیان کیے جا چکے ہیں۔ بہر حال سوچنے والوں کے لیے ان تمام باتوں میں بڑے بڑے سائنسی معجزات موجود ہیں۔ ہوائیں چلتی ہیں جو کئی اور کاموں کے علاوہ ایک بہت بڑا کام یہ کرتی ہیں کہ بادلوں کو اپنے زور سے دور دراز علاقوں میں پہنچا دیتی ہیں جہاں بارش ہوتی ہے اور سرد علاقوں میں وہی بادل درجہ حرارت کے تبدیل ہونے سے بجائے پانی کے قطروں کے برف کے ذرات میں بدل کر برف باری کرتے ہیں۔ سمندر میں ہواؤں کے زور پر ہی بادبانی کشتیاں چلتی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیات 41 تا 53
اسرارومعارف
کفر و شرک کی مصیبت اللہ کی ناراضگی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اس سے نظام عالم میں خرابی پیدا ہو کر خشکی و تری میں فساد پھیلتا ہے اگرچہ رحمت باری انسان کے سب گناہوں کی سزا اس پر فورا نہیں ڈالتی اور اللہ انسان کو مہلت دیتا ہے مگر اس کے باوجود گناہوں کے اثراتبد کا اظہار ہوتا رہت ہے جسے کافر دنیا ہیں بےحیائی کو عورت کی آزادی کا نام دے کر رواج کردیا گیا آج وہی مصیبت ان کے لیے ہت بڑا عذاب ہے ہر گر کا سکون تباہ ہورہا ہے اولاد کا کوئی نصب نہیں ملتا اور ایڈز جیسے موذی امراض بدکاری کا پھل ہیں ایسے معاش میں سودی نظام کے بڑے برے نتائج دیکھ کر لوگ توبہ کریں اور واپس آجائیں۔ ان سے کہ…
Read the full tafseer →ف 2 اور کہتے ہیں کہ اب غلہ اگے گا پھل پیدا ہوں گے جانور سیراب ہوں گے اور ارزانی بڑھے گی وغیرہ
3 اور ملول و مفہوم تھے لیکن بارش ہوتے ہی خوشیاں منانے لگے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت معلوم ہوتی ہے کہ لمحہ بھر میں دنیا کی حالت بدل جاتی ہے یا تو سب کے چہرے اترے ہوئے تھے اور یا اب ہر طرف رنگ رلیاں ہو رہی ہیں اور خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔
Read the full tafseer →(30:48) تثیر۔ مضارع واحد مؤنث غائب اثارہ (افعال) سے۔ ثار یثور تورا (باب نصر) ثار الغبار وثار السحاب کے معنی غبار یا بادل کے اوپر اٹھنے اور پھیلنے کے ہیں۔ باب افعال سے فعل متعدی اوپر اٹھانا فتثیر سحابا۔ پس (وہ ہوائیں) بادل کو اوپر اٹھاتی ہیں۔ اور زمین جوتنے کے معنی میں بھی آتا ہے کیونکہ زمین جب جوتی جاتی ہے تو ابھرتی ہے اوپر اٹھتی ہے۔ اور بیل کو الثور بھی اسی لئے کہتے ہیں کہ اس سے زمین جوتی جاتی ہے یہ اصل میں مصدر بمعنی فاعل ہے جیسے ضیف بمعنی ضائف استعمال ہوتا ہے۔
یبسطہ۔ مضارع واحد مذکر غائب بسط مصدر (باب نصر) کشادہ کرتا ہے، فراخ کرتا ہے ۔ وسیع کرتا ہے۔ پھیلاتا ہے ۔ ضمیر فاعل کا مرجع اللہ ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
لغات آیت نمبر 46 تا 50
مبشرات (کوش خبری دینے والیاں) ۔ اجرموا (جنہوں نے جرم کیا) ۔ حق (حق ہے۔ ذمہ داری ہے) ۔ تشیر (وہ پھیلاتا ہے) ۔ سحاب (بادل) ۔ کسف (ٹکڑا۔ تقسیم کرنا ) ۔ ودق (بارش) ۔ اثر (اثر) (نشایاں) ۔
تشریح : آیت نمبر ( 46 تا 50)
اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے خزاں کے بعد بہار، مصیبت کے بعد راحت، دکھ کے بعد آرام و سکون اور ہر مشکل کے بعد آسانی پیدا ہوتی رہتی ہے۔ اسی طرح کفرو شرک اور اللہ کی نافرمانیاں جب حد سے برھ جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے پاکیزہ نفوس انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بھیجتا ہے جو اپنی قوم کے لوگوں کو یہ بات بتاتے ہیں کہ اگر انہوں نے کفر و شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
علامات قیامت اور جنتی دوزخیوں کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں ہوا کا ذکر اور ہوا کے سبب سے بادل جو آتے ہیں ان کا ذکر، اور بادلوں کے سبب سے جو مینہ برستا ہے اس کا ذکر فرما کر فرمایا ہے کہ جس طرح ہر سال برسات کے موسم میں زمین کی مری ہوئی مٹی زندہ ہوجاتی ہے اور اس میں ہر طرح کے اناج کے پیدا ہونے کی قوت آجاتی ہے اس طرح حشر کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک مرے ہوئے شخص کے جسم کو پھر تیار کرکے ان جسموں میں پھر روح پھونکے گا۔ صحیح بخاری ومسلم کی حضرت ابوہریرہ سے حدیث ہے کہ دوسرے صور سے پہلے شبنم کی طرح ایک مینہ برسے گا جس سے زمین کے سب مرے ہوئے لوگوں کے پتلے بن کرتیارہوجائیں گے پھر دوسراصور پھونکا جائے گا جس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
[25] یعنی جو اللہ مردہ زمین کو زندہ کرسکتا ہے وہ یقینا مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
حشرونشر
1: قرآن کا طرز استدلال اتباسا اور اتنا موثر ہے کہ اس میں زیادہ غوروفکر کی ضرورت ہی نہیں ۔ جہاں آپ نے سنا دل میں اتر گیا مظاہر قدرت کو قرآن پیش کرتا ہے ۔ جن کو ہم روزانہ دیکھتے ہیں ۔ اور کوئی حرف مدار کا پہلو ہمارے ذہن میں پیدا نہیں ہوتا ۔ پھر ان سے اتنے چھوٹے انداز میں بڑے بڑے فلسفیانہ مسائل کا استباط کرتا ہے کہ وہی معمولی واقعات منطق کی شہادتیں معلوم دیتی ہیں ۔ مکہ والوں میں ایک گروہ احیاء موتیٰ کا منکر تھا ۔ یعنی اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ کیونکر فنائے عام کے بعد پھر انسانوں کے عساکر اٹھ کھڑے ہونگے ۔ وہ حشرونشر کے واقعات کو محض افسانہ سمجھتے تھے ۔ اور ان کی رائے میں یہ…
Read the full tafseer →48۔ اللہ تعالیٰ وہ قادر مطلق ہے جو ہوائوں کو بھیجتا ہے پھر وہ ہوائیں بادلوں کو اٹھا لاتی اور ابھار لاتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ جس چاہتا ہے اس بادل کو آسمان میں پھیلادیتا ہے اور کبھی اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے سو اے مخاطب تو بارش کو دیکھتا ہے کہ ان بادلوں کے درمیان سے نکلتی ہے پھر جب وہ اس بارش کو اپنے بندوں میں سے جن بندوں کو چاہے پہنچا دیتا ہے تو بس وہ شادماں ہوجاتے ہیں۔
بادلوں کے اٹھنے اور گھٹائوں کے آنے کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں یہاں صرف دو صورتیں بیان فرمائیں کچھ سورة نور میں گزرچکی کبھی تو ہوا کے دوش پر ایک لمبی گھٹا کر اٹھا لاتے ہیں اور جہاں چاہتے ہیں اس کو برسا دیتے ہیں کبھی بجائے طویل گھٹا…
Read the full tafseer →ف 5۔ بسط کا مطلب یہ ہے کہ مجتمع کر کے دور تک پھیلا دیتا ہے اور کیف کا مطلب یہ کہ کبھی تھوڑی دور تک کبھی بہت دور تک، اور کسفا کا مطلب یہ کہ مجتمع نہیں ہوتا، متفرق رہتا ہے۔
Read the full tafseer →ہواؤں اور بادلوں کی آمد کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور ناظم اعلیٰ خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے :
48۔ یہ بادلوں اور ہواؤں سے بار بار توحید الہی پر استشہاد کیوں ؟ اس لئے کہ ایک تو ہر انسان کا ایک گہرا تعلق ان کے ساتھ ہے خواہ وہ انسان ادنی عقل کا مالک ہو یا اعلی کا اور دوسرا یہ کہ ہر ایک انسان ان ضرورت کی چیزوں کی طرف خیال دوڑا سکتا ہے اور ان کی ضرورت کو محسوس کرسکتا ہے اگر ہوا نہ چلے تو کیا ہوا ہے اگر بادل نہ برسے تو کیا ‘ اگر ہوا کہیں زیادہ زور دار چلنا شروع ہوجائے تو نتیجہ کیا ہوتا ہے اور اگر بارش زور دار اور مسلسل شروع ہوجائے تو اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ اتنی عام فہم باتیں ہیں کہ ان کی ضرورت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
Commentary
فَانتَقَمْنَا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ (Then We took vengeance upon those who were guilty. And it was due on Us to help the believers. -30:47). This verse tells us that Allah Ta’ ala has taken it upon Himself to help the believers. On the face of this statement, one would have expected that Muslims would never be defeated against the infidels. But on many occasions, results have been exactly opposite. Answer to this confusion is at hand in this very verse, that by the word 'believers' those believers are intended who fight with…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
73 There is a subtle allusion in the mention of the Prophethood and the rain, one after the other, to the reality that the advent of a Prophet is a blessing for man's moral life even as the coming of the rain proves to be a blessing for his material life. Just as the dead earth awakens to life by a shower of the rain from the sky and starts blooming and swelling with vegetation, so is the morally and spiritually desolate human world quickened to life at the coming down of Divine Revelation and starts blossoming with moral excellences and virtues. This is the disbelievers' own misfortune that…
Read the full tafseer →