Explained with ayahs 46–47
مسلمان بھائی کی اعانت پر جہنم سے نجات کا وعدہ
بارش کے آنے سے پہلے بھینی بھینی ہواؤں کا چلنا اور لوگوں کو بارش کی امید دلانا۔ اس کے بعد مینہ برسانا تاکہ بستیاں آباد ہیں اور جاندار زندہ رہیں سمندروں اور دریاؤں میں جہاز اور کشتیاں چلیں۔ کیونکہ کشتیوں کا چلنا بھی ہوا پر موقوف ہے۔ اب تم اپنی تجارت اور کمائی دھندے کے لئے ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر جاسکو۔ پس تمہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی ان بیشمار ان گنت تعمتوں پر اس کا شکریہ ادا کرو۔ پھر اپنے نبی کو تسکین اور تسلی دینے کے لئے فرماتا ہے کہ اگر آپ کو لوگ جھٹلاتے ہیں تو آپ اسے کوئی انوکھی بات نہ سمجھیں۔ آپ سے پہلے کے رسولوں کو بھی ان کی امتوں نے ایسے…
Read the full tafseer →سورة الروم 68
یعنی باران رحمت کی خوشخبری دینے کے لیے۔
سورة الروم 69
یہ ایک اور قسم کی ہواؤں کا ذکر ہے جو جہاز رانی میں مددگار ہوتی ہیں۔ قدیم زمانہ کی بادبانی کشتیوں اور جہازوں کا سفر زیادہ تر باد موافق پر منحصر تھا اور باد مخالف ان کے لیے تباہی کا پیش خیمہ ہوتی تھی۔ اس لیے بارش لانے والی ہواؤں کے بعد ان ہواؤں کا ذکر ایک نعمت خاص کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔
سورة الروم 70
یعنی تجارت کے لیے سفر کرو۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور اللہ تعالیٰ کی (قدرت و وحدت و نعمت کی) نشانیوں میں سے ایک یہ (بھی) ہے کہ وہ (بارش سے پہلے) ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ (بارش کی) خوش خبری دیتی ہیں (پس ان کا بھیجنا ایک تو جی خوش کرنے کے لئے ہوتا ہے) اور (نیز اس واسطے) تاکہ (اس کے بعد بارش ہو اور) تم کو اپنی (اس) رحمت (بارش) کا مزہ چکھاوے (یعنی بارش کے فوائد عنایت فرماوے) اور (نیز اس واسطے ہوا بھیجتا ہے) تاکہ (اس کے ذریعے سے بادبانی) کشتیاں اس کے حکم سے چلیں اور تاکہ (اس ہوا کے ذریعہ سے بواسطہ کشتی دریا کے سفر سے) تم اس کی روزی تلاش کرو (یعنی کشتیوں کا چلنا اور روزی تلاش کرنا دونوں ارسال ریاح سے حاصل ہوتے ہیں اول بلا واسطہ اور…
Read the full tafseer →ومن ایتہ ان یرسل الریاح مبشرت ولیذ یقکم من رحمتہ ولتجری الفلک بامرہ ولیتیتغوا من فضلہ ولعلکم تشکرون (46)
اس آیت اور اس کے بعد کی آیات میں پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح دیکھتے ہو کہ گھٹی ہوئی فضا کے اندر سے اللہ تعالیٰ سازگار ہوا چلا دیتا ہے جو تمہارے لئے اس کے بارانِ رحمت کی بشارت بن کر ظاہر ہوتی ہے تاکہ تم کو اپنے رزق و فضل سے نوازے اسی طرح موجود ناموافق حالات کے اندر سے بھی تمہارے لئے سازگار حالات پیدا کردے گا۔ ولتجری الفلک بامرہ یعنی یہی سازگارہوائیں ہیں جن کے ذریعہ سے تمہاری کشتیاں بحکم خدا چلتی ہیں تاکہ تم ایک مقام سے دوسرے مقام کا سفر کرسکو۔ ولتبتغوا من فضلہ اور تاکہ…
Read the full tafseer →46-1یعنی یہ ہوائیں بارش کی پیامبر ہوتی ہیں۔
46-2یعنی بارش سے انسان بھی لذت و سرور محسوس کرتا ہے اور فصلیں بھی لہلا اٹھتی ہیں۔
46-3یعنی ان ہواؤں کے ذریعے سے کشتیاں بھی چلتی ہیں۔ مراد بادبانی کشتیاں ہیں اب انسان نے اللہ کی دی ہوئی دماغی صلاحیتوں کے بھرپور استعمال سے دوسری کشتیاں اور جہاز ایجاد کرلیے ہیں جو مشینوں کے ذریعے سے چلتے ہیں۔ تاہم ان کے لیے بھی موافق اور مناسب ہوائیں ضروری ہیں۔ ورنہ اللہ تعالیٰ انھیں بھی طوفانی موجوں کے ذریعے سے غرق آب کردینے پر قادر ہے۔
46-4یعنی ان کے ذریعے سے مختلف ممالک میں جاکر تجارت و کاروبار کرکے۔
46-5یعنی ظاہری و باطنی نعمتوں پر جن کا کوئی شمار ہی نہیں۔ یعنی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
21: ہوائیں چلانے کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ وہ بارش کی خوشخبری لاتی ہیں، اور بادلوں کو اٹھا کر پانی برسانے کا سبب بنتی ہیں، اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ وہ سمندروں اور دریاؤں میں کشتیوں کو چلاتی ہیں، بادبانی کشتیوں کا تو سارا دارومدار ہی ہواؤں پر ہوتا ہے، لیکن مشینی جہاز بھی ہوا کی مدد سے بےنیاز نہیں ہوتے، اور سمندروں میں کشتیاں چلانے کا فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے ذریعے لوگ اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کریں، جیسا کہ بار بار عرض کیا گیا، اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنا قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے، جس سے مراد تجارت اور روزگار کے دوسرے ذرائع اختیار کرنا ہے، لہذا قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے کہ اگر یہ ہوائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
ومن ایتہ ان یرسل ۔۔۔۔۔ من بعدہ یکفرون (46 – 51)
ان آیات میں بظاہر نہایت مختلف النوع موضوعات کو جمع کیا گیا ۔ بشارت دینے والی ہوائیں ، رسولوں کو معجزات اور نشانیوں کے ساتھ بھیجنا ، مومنین کا رسولوں کے ذریعہ مدد کرنا ، ایسی بارشوں کا نزول جو مردہ زمین کو زندہ کردیتی ہیں اور بعث بعد الموت کا مسئلہ۔ یہ اجتماع بامقصد ہے۔ یہ سب چیزیں اللہ کی رحمت کی نشانیاں ہیں۔ یہ سب سنت الہیہ کے مظاہر ہیں ، یہ سب اس کائنات کے نظام کے تحت ہیں ، رسولوں کو ہدایت کے ساتھ بھیجنے اور مومنین کی نصرت کے درمیان گہرا تعلق ہے اور یہ سب آیات الہیہ کے مختلف نمونے ہیں۔ یہ سب امور اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں سے متعلق ہیں۔ لوگوں…
Read the full tafseer →10 یعنی باران رحمت کی خوشخبری لاتی ہیں پھر خدا کی مہربانی سے مینہ برستا ہے
11 یعنی بادبانی جہاز اور کشتیاں ہوا سے چلتی ہیں اور دخانی اسٹیمروں کی رفتار میں بھی باد موافق مدد دیتی ہے۔
12 یعنی جہازوں کے ذریعہ سے تجارتی مال سمندر پار منتقل کرسکو۔ اور اللہ کے فضل سے خوب نفع کماؤ۔ پھر ان نعمتوں پر خدا کا شکر ادا کرتے رہو۔ (تنبیہ) پہلے خشکی تری میں فساد پھیلنے کا ذکر تھا اس کے مقابل یہاں بشارت و نعمت الٰہی کا تذکرہ ہوا۔ شاید یہ بھی اشارہ ہو کہ آندھی اور غبار پھیل جانے کے بعد امید رکھو کہ باران رحمت آیا چاہتی ہے۔ ٹھنڈی ہوائیں چل پڑی ہیں جو رحمت و فضل کی خوشخبری سنا رہی ہیں کافروں کو چاہیے کہ شرارت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
وَّلِیُذِیْقَکُمْ مِّنْ رَّحْمَتِہٖ ”
تا کہ باران رحمت برسا کر تمہیں اس کے ثمرات سے مستفیض ہونے کا موقع فراہم کرے۔
Read the full tafseer →54 قرآن میں جہاں بھی ارسال الریاح کے الفاظ مذکور ہوں (یعنی میح کا لفظ جمع کے صیغہ میں ہو) تو اس سے مراد خوشگوار ہوائیں ہوتی ہیں اس آیت میں دو قسم کی خوشگوار ہواؤں اور ان کے فوائد کا ذکر کیا۔ ایک باران رحمت سے پہلے دلوں کو فرحت بخشنے والی اور بارش کی بشارت دینے والی ہوائیں، جس سے زمین سیراب ہوتی ہے۔ اور اس بارش میں طرح طرح کے فائدے ہوتے ہیں۔ دوسرے وہ موافق ہوائیں جو کشتیوں اور جہازوں کے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ پہلے زمانہ میں تو رواج ہی بادبانی کشتیوں کا تھا جن کے چلنے کا زیادہ تر انحصار باد موافق پر ہی ہوتا ہے۔ آج دخانی کشتیوں اور جہازوں کا دور ہے۔ پھر بھی باد موافق…
Read the full tafseer →57۔ (بارش کی) قرآن کے مخاطب اول، اہل عرب تھے۔ اور عرب جیسے ملک میں برساتی ہواؤں کی خوش گواری خود ایک مستقل نعمت ہے۔ اور عرب کو چھوڑ کر، ہندوستان اور پاکستان جیسے زراعتی ملکوں میں مون سون کسان کے لیے ایک بشارت عظیم نہیں ؟ (آیت) ” من ایتہ “۔ یعنی اس کی قدرت، شفقت و حکمت کی نشانیوں میں سے۔
58۔ یعنی پہلے تو بارشی ہواؤں سے تمہارا دل خوش کرے۔ پھر اصل بارش کے فائدے تمہیں عنایت کرے۔ (آیت) ” رحمتہ “ سے مراد یا بارش ہے یا وہ منافع جو بارش پر مرتب ہوتی ہیں۔ یعنی المنافع التابعۃ لھا (بیضاوی)
59۔ (انہیں ہواؤں کے ذریعہ سے) یعنی ہواؤں کا ایک کام علاوہ بارش لانے کے، یہ بھی ہے کہ وہ بحری سفر کو ممکن بنادے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیت نمبر 41 تا 53
ترجمہ : خشکی یعنی میدانوں میں خشک سالی اور نباتات کی کمی کی وجہ سے اور تری یعنی ان شہروں میں جو نہروں (سمندروں) کے
کنارے واقع ہیں پانی کی قلت کی وجہ سے لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد ظاہر ہوگیا تاکہ ہم ان کو ان کے بعض اعمال کی سزا کا مزہ چکھائیں ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں توبہ کریں، آپ مکہ کے کافروں سے کہئے کہ زمین میں چلو پھرو دیکھو پہلوں کا کیا انجام ہوا ؟ جن میں اکثر لوگ مشرک کے سبب ہلاک کردیئے گئے اور ان کے گھر اور مکانات گرے پڑے ہیں آپ اپنی توجہ دین قیم یعنی اسلام کی جانب رکھئے قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کو اللہ (ہرگز) نہیں ٹالے گا اس روز سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے…
Read the full tafseer →ومن ایتہ ان یرسل الریاح مبشرات ولیذیقکم من رحمتہ ولتجری الفلک بامرہ ولتبتغوا
من فضلہ ولعلکم تشکرون اور اسی کی نشانیوں میں سے (ایک) یہ ہے کہ وہ ہواؤں کو بھیجتا ہے خوش خبریاں دیتی ہوئی اور اس لئے کہ تم کو اپنی رحمت کا مزہ چکھائے اور اس لئے کہ کشتیاں اس کے حکم سے (ہواؤں کی مدد سے) رواں ہوں اور اس لئے کہ تم اس کے فضل کی تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔
مِنْ اٰیٰتِہٖ یعنی اللہ کی قدرت کے دلائل میں سے ایک دلیل یہ ہے۔
وَلِیُذِیْقَکُمْ تاکہ طرح طرح کے اناج اور پھلوں کے مزے چکھائے۔
وَلِتَجْرِیَ الْفُلْکُ اور اس غرض سے ہوائیں چلاتا ہے کہ ہواؤں کے ذریعہ سے بحکم خدا کشتیاں (اور جہاز)…
Read the full tafseer →اور اللہ تعالیٰ کی وحدت وقدرت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو مخلوق کو بارش کی خوشخبری دیتی ہیں تاکہ تمہیں اپنی نعمت کا مزہ چکھائے اور تاکہ سمندروں میں اس کے حکم سے کشتیاں چلیں کہ تم کشتیوں میں سوار ہو کر اس کا رزق تلاش کرو اور تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکرو کرو۔
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ۔۔ : بروبحر میں فساد کا باعث شرک بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل کے طور پر چند چیزیں ذکر فرمائیں جن کا سب لوگ مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔ قرآن مجید میں جہاں بھی ”إِرْسَال الرِّیَاحِ“ کے الفاظ مذکور ہوں (رِیْحٌ کی جمع کے صیغے کے ساتھ) ان سے مراد خوش گوار ہوائیں ہوتی ہیں۔ اس آیت میں دو قسم کی خوش گوار ہواؤں کا اور ان کے فوائد کا ذکر فرمایا، ایک رحمت کی بارش کی خوش خبری دینے والی، جس سے گردوغبار اور فضا میں پھیلی ہوئی زہر ناکی ختم ہوتی ہے، مردہ زمین سیراب ہوتی ہے، طرح طرح کی فصلیں، پودے اور درخت پیدا ہوتے ہیں اور تمام جان داروں کی…
Read the full tafseer →اس کی کمال قدرت کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ ہوائوں کو بھیجے بارش کی خوشخبری دینے والیاں کیونکہ ہوائیں بارش سے پہلے آتی ہیں سورة الحجر میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے رحمت سے مراد بارش اور سر سبز وشادابی ہے تاکہ ہوائوں کے چلنے کے ساتھ سمندر میں کشیاں چلیں کو زیادہ کیا ہوائیں کبھی چلتی ہیں مگر موافق نہیں ہوتی اس لئے ضروری ہے کہ کشتیوں کو ساحل پر باندھا جائے اور ان کے روکنے کا حلیہ کیا جائے بعض اوقات ہوائیں چلتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے کشتیوں کو غرق کردیتی ہیں یہاں فضل سے مراد تجارت سے رزق ہے۔ توحید اور اطاعت کے ساتھ ان نعمتوں پر شکر بجا لائو یہ سب کچھ مفصل گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
دین اسلام پر قائم رہنا کامیابی ہے
1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاقم وجہک للدین القیم آپ اپنا رخ دین قیم یعنی اسلام کی طرف کر لیجیے۔ آیت من قبل ان یاتی یوم لا مرد لہ من اللہ قبل اس کے کہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے کہ جس کو لوٹانا ممکن نہیں یعنی قیامت کا دین آیت یومئذ یصدعون یعنی ایک فریق جنت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں ہوگا۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یومئذ یصدعون سے مراد ہے کہ اس میں وہ لوگ جداجدا ہوجائیں گے۔
3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) نے فرمایا کہ آیت یومئذ یصدعون سے مراد ہے…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ [اور اس کی نشانیوں میں سے ہے ] اَنْ يُّرْسِلَ [کہ وہ بھیجتا ہے ] الرِّيَاحَ [ہواؤں کو ] مُبَشِّرٰتٍ [خوشخبری دینے والی ہوتے ہوئے ] وَّلِيُذِيْقَكُمْ [اور تاکہ وہ چکھائے تم کو ] مِّنْ رَّحْمَتِهٖ [اپنی رحمت میں سے ] وَلِتَجْرِيَ [اور تاکہ رواں ہوں ] الْفُلْكُ [کشتیاں ] بِاَمْرِهٖ [اس کے حکم سے ] وَلِتَبْتَغُوْا [اور تاکہ تم لوگ تلاش کرو ] مِنْ فَضْلِهٖ [اس کے فضل میں سے (روزی)] وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ [اور شاید تم لوگ شکر ادا کرو ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے اور بارش برساتا ہے، وہی مردوں کو زندہ فرمائے گا
ان آیات میں اول تو ہواؤں کا ذکر فرمایا جن کے چلنے سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ بارش آنے والی ہے، یہ ہوائیں بارش آنے سے پہلے بارش کی خوشخبری دے دیتی ہیں۔ پھر جب بارش ہوجاتی ہے انسان ان کے منافع سے مستفید ہوتے ہیں، منافع میں سے یہ بھی ہے کہ ان کے ذریعہ بادبانی کشتیاں چلتی ہیں۔ جب ان کشتیوں میں سوار ہو کر سفر کرتے ہیں تو ان سفروں میں اللہ تعالیٰ کا رزق بھی تلاش کرتے ہیں، تجارت کے لیے بھی مال لاتے ہیں اور آل اولاد کے کھانے پینے کے لیے بھی، ان سب چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے انعامات بھی ہیں اور اس کی قدرت کے دلائل بھی ہیں، ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–47
ذکر وبال ونحوست کفر ومعصیت در دار دنیا
قال اللہ تعالیٰ ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقہم بعض الذی عملوا لعلہم یرجعون۔۔۔ الی۔۔۔ وکان حقا علینا نصر المومنین۔
(ربط) گذشتہ آیات میں کفر اور شرک اور معصیت پر تہدید تھی اب ان آیات میں کفر اور معصیت کی نحوست کو بیان کرتے ہیں کہ یہ ایسی منحوس چیزیں ہیں کہ بسا اوقات دنیا ہی میں بد اعمالی کی وجہ سے طرح طرح کی بلائیں اور آفتیں اور مصیبتیں پیش آتی ہیں جیسے قحط اور سیلاب اور طاعون وغیرہ اور آخرت سے پہلے دنیا ہی میں سزا کا کچھ مزا چکھا دیا جاتا ہے باقی پوری سزا تو آخرت میں ملے گی اور ان دنیاوی مصائب وآفات کے نازل کرنے سے مقصد یہ ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
ف 35 یہ توحید پر گیارہویں عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت و عظمت اور اس کی وحدانیت کہ ایک دلیل یہ بھی ہے کہ وہ بارانِ رحمت کی خوشخبری لانے والی ہوائیں چلاتا ہے اور بارانِ رحمت سے سرسبز و شاداب اور لہلہاتے کھیت اگاتا ہے۔ اللہ کے حکم سے ہوا بادبانی کشتیوں کو ادھر سے ادھر لیجاتی ہے جس سے ہم آسانی سے سفر کرتے ہیں اور تجارتی سفروں میں نفع کماتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اس کے ساتھ شرک نہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دین فیم کی طرف توجہ کرنے کا حکم دیا ، فرمایا کہ بحروبر میں لوگوں کے کفر ، شرک اور بد اعمالیوں کی وجہ سے فساد برپا ہوچکا ہے۔ اللہ نے بعض انسانی اعمال بد کا بدلہ دنیا میں دیا ہے اور تنبیہ کی ہے تاکہ لوگ باز آجائیں پھر ایمان اور اعمال صاحلہ کی فضیلت کا ذکر فرمایا اور ساتھ یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کفر کو کبھی بھی پسند نہیں کرتا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے ایمان اور اعمال صالحہ کی ترغیب اور کفر و شرک کی تردید فرمائی ہے۔
بارش کی ہوائیں
اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی بعض نشانیوں کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے۔ ومن اٰیتہِ ان یرسل الریاح مبشرتٍ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰيٰتِہٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِہٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِہٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 46
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع .
الایۃ ۔
اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
ترکیب : وکان حقًا خبر کان مقدم و نصر اسمہا ویجوزان یکون حقا مصدر اوعلینا الخبر ویجوز ان یکون فی کان ضمیر الشان و حقا مصدر اوعلینا الخبر ویجوز ان یکون نصر مبتداء و خبر فی موضع خبرکان کسفا بفتح السین علی انہ جمع کسفۃ و سکونہا علی ھذا المعنی تخفیفاً قطعاً متفرقہ الودق المطر۔
تفسیر : بروبحر میں انسان کی بدکاری کی وجہ سے خرابی ظاہر ہونے کا بیان فرما کر یہ بات بتلاتا ہے، اس پر بھی ہم رحیم و کریم نظام عالم کو باقی رکھتے ہیں۔ ہوائیں چلاتے ہیں، الخ فقال ومن آیتہ ہواؤں کے چند فوائد بیان فرماتا ہے کہ جن پر بقائِ انسانی موقوف ہے۔ (1) مبشرات کہ وہ خوشی دیتی ہیں، انسان کے بدن پر جب ہوا لگتی ہے تو اس کو…
Read the full tafseer →وَمِنْ اٰیٰـتِہٖٓ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِیُذِیْقَـکُمْ مِّنْ رَّحْمَتِہٖ وَلِتَجْرِیَ الْفُلْکُ بِاَمْرِہٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّـکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ (الروم : 46)
(اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ بھیجتا ہے ہَوائوں کو بشارت دینے والی بنا کر تاکہ وہ تم کو اپنی رحمت سے بہرہ مند کرے، اور تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو۔ )
اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی
گزشتہ آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔ اس میں جو نفرت و کراہت چھپی ہوئی ہے اسے صرف محسوس ہی کیا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کفار کو اس لیے پسند نہیں کرتا کہ وہ اس کی ذات کے منکر اور اس کی نعمتوں کے ناشکرے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو ان کے اعمال کے بدلے جزا دینے کے ساتھ اپنے فضل سے مزیدنوازے گا اور کفار کو پسند نہیں کرتا جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مومن اللہ کی ذات پر بلاشرکت غیرے ایمان لانے کے ساتھ اس کے احکام مانتے ہوئے اس کی نعمتوں پر شکر گزار رہتا ہے۔ اس کے مقابلے میں کافر اللہ کی ذات اور اس کی صفات کا انکار کرنے کے ساتھ اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے حالانکہ ” اللہ “ کی پہچان کے لیے، اس کی قدرت کی نشانیاں اور اس کی رحمتیں اس قدر ہمہ گیر اور ہمیشہ سے جاری…
Read the full tafseer →46: وَمِنْ ٰایٰتِہٖٓ (اور اس کی قدرت کی آیات میں سے) یہ ہے اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ (ہوائوں کا بھیجنا) الریاح سے جنوبی، شمالی اور صبا کی ہوائیں مراد ہیں یہ رحمت کی ہوائیں ہیں۔ باقی دبور (مغربی ہوا) یہ عذاب کی ہوا ہے آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی میں اسی کا تذکرہ ہے اللھم اجعلھا ریاحا ولا تجعلھا ریحًا۔ (ریح سے یہاں دبور مراد ہے) ] ابو یعلی 2456، الطبرانی[ ہوائوں کے فوائد شمار کرتے ہوئے فرمایا۔ مُبَشِّرٰتٍ (خوشخبریاں دیتی ہوئی) ان کو بھیجا بارش کی خوشخبری سنانے کیلئے وَّ لِیُذِیْقَکُمْ مِّنْ رَّحْمَتِہٖ (اور اس لئے کہ تمہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھائے) رحمت کا چکھانا یہ ہے : بارش کے اترنے، سبزہ کے حاصل…
Read the full tafseer →46۔ ، ومن آیاتہ ان یر سلالریاح مبشرات ، بارش کی خوشخبری دینے والیاں ۔ ، ولیذیقکم من رحمتہ، بارش کی نعمتیں وہ پھل وغیرہ ہیں ۔ ، ولتجری الفلک ، ان ہواؤں سے بامرہ ولتبتغوامن فضلہ ، تا کہ تم اس کے رزق کو طلب کرو سمندر میں تجارت کے ذریعے سے ، ولعلکم تشکرون اپنے رب کا ان نعمتوں کے بدلے میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–51
40 تا 51۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ پہلی دفعہ جو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کو پیدا کیا پھر عمر پوری ہونے کے بعد ہر ایک جاندار کی موت اللہ کے حکم سے آتی ہے کسی کو اس میں کچھ دخل نہیں ہے یہ سب کچھ تو ان مکہ کے مشرکوں کی آنکھوں کے سامنے ہے اور ان مشرکوں کے رزق کی سبب جو آسمان سے پانی کا برستا ہے وہ بھی اللہ کے ہی اختیار میں ہے ان کے بتوں کو اس میں کچھ دخل نہیں اور جب ایک دفعہ یہ تمام عالم پیدا ہوچکا تو ان مشرکوں کے روز مرہ کے تجربہ کو گواہی سے دوسری دفعہ انسان کا پیدا ہونا اور نیک وبد کی جزا وسزا کا ہونا بالکل سہل ہے حاصل یہ ہے کہ جب یہ سب اللہ کے اختیار میں ہے تو ان آیتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
آیت نمبر : 46
یہ ان دلائل کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ مردوں کو زندہ کرے گا لیے کہ اللہ تعالیٰ ہی الٰہ معبود اور بادشاہ محمود ہے۔ ان دلائل میں سے ایک (ان یرسل الریاح) بارش سے پہلے اس کا ہواؤں کو بھیجنا ہے۔ (مبشرت) جو بادلوں کو اٹھا کر خوشخبری دیتی ہیں ‘ پھر بادلوں کو اکٹھا کرتی ہیں اور بارش کے برسنے سے پہلے نفس خوش ہوتے ہیں۔ (ولیذیقکم من رحمتہ) ” اور تاکہ وہ تمہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھائے۔ “ وہ تم پر بارش برساتا ہے ‘ جس سے زمین اور بندوں میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ تم اس کی رحمت کا مزا چکھتے ہو اور وہ تمہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–60
جوانی ، بڑھاپے کی زحمت سے پہلے غنیمت ہے
قول باری ہے : (اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعدقوۃ ضعفا وشیبۃ۔ اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے رحم مادر میں ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر تمہیں اطفال بنایا کہ عہد طفولیت میں تم اپنی ذات کے لئے کسی نفع نقصان کے مالک نہیں تھے۔ پھر تمہیں طاقت وربنایا اور تمہیں اتنی استطاعت ، عقل وفہم اور سمجھ بوجھ عطا کی کہ تم دنیاوی امور میں تصرف کے ذریعے جلب منفعت اور دفع مضرت کرسکو۔ پھر اس نے تمہیں…
Read the full tafseer →62 باران رحمت کی خوشخبری دینے والی ہواؤں کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے خوشخبری سنانے کو "۔ کہ باران رحمت آنے والی ہے جس سے طرح طرح کے فوائد حاصل ہوں گے۔ سو اس طرح وہ خالق کل اور مالک مطلق اپنی گوناں گوں مخلوق کی طرح طرح کی ضروریات کی تحصیل و تکمیل کیلئے پانی کا انتظام فرماتا ہے جس پر ہر جاندار کی زندگی کا مدارو انحصار ہے۔ سو ذرا دیکھو کہ وہ خالق ومالک اپنی رحمت و عنایت سے ان بنیادی ضروریات کا کس طرح رحمتوں بھرا انتظام فرماتا ہے تاکہ تم لوگ اس کی گوناگوں رحمتوں اور عنایتوں سے مستفید و فیضاب ہوسکو۔ سو اس سب کے باوجود اس سے منہ موڑنا کس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
باران رحمت اور انسان کی ناشکری
تشریح : اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں اور قدرتوں میں سے ہوائیں، بادل، پانی، زمین اور انسان کا مرنے کے بعد زندہ ہوجانا شامل ہے یہ تمام موضوعات تفصیل سے بیان کیے جا چکے ہیں۔ بہر حال سوچنے والوں کے لیے ان تمام باتوں میں بڑے بڑے سائنسی معجزات موجود ہیں۔ ہوائیں چلتی ہیں جو کئی اور کاموں کے علاوہ ایک بہت بڑا کام یہ کرتی ہیں کہ بادلوں کو اپنے زور سے دور دراز علاقوں میں پہنچا دیتی ہیں جہاں بارش ہوتی ہے اور سرد علاقوں میں وہی بادل درجہ حرارت کے تبدیل ہونے سے بجائے پانی کے قطروں کے برف کے ذرات میں بدل کر برف باری کرتے ہیں۔ سمندر میں ہواؤں کے زور پر ہی بادبانی کشتیاں چلتی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیات 41 تا 53
اسرارومعارف
کفر و شرک کی مصیبت اللہ کی ناراضگی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اس سے نظام عالم میں خرابی پیدا ہو کر خشکی و تری میں فساد پھیلتا ہے اگرچہ رحمت باری انسان کے سب گناہوں کی سزا اس پر فورا نہیں ڈالتی اور اللہ انسان کو مہلت دیتا ہے مگر اس کے باوجود گناہوں کے اثراتبد کا اظہار ہوتا رہت ہے جسے کافر دنیا ہیں بےحیائی کو عورت کی آزادی کا نام دے کر رواج کردیا گیا آج وہی مصیبت ان کے لیے ہت بڑا عذاب ہے ہر گر کا سکون تباہ ہورہا ہے اولاد کا کوئی نصب نہیں ملتا اور ایڈز جیسے موذی امراض بدکاری کا پھل ہیں ایسے معاش میں سودی نظام کے بڑے برے نتائج دیکھ کر لوگ توبہ کریں اور واپس آجائیں۔ ان سے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
ف 6 یعنی بارش سے غلے اور میوے پیدا ہوں اور تم کھائو اور جانور موٹے تازے ہوں۔ تم ان کا گوشت کھائو اور دودھ پیو یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت ہے۔ جس سے سب لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔
Read the full tafseer →(30:46) مبشرات۔ اسم فاعل جمع مؤنث تبشیر (تفعیل) مصدر۔ خوشخبری دینے والیاں َ بارش کی خوشخبری دینے والی ٹھنڈی ہوائیں جو بارش ہونے سے کچھ پہلے چلتی اور پیام رحمت لاتی ہیں۔
ولیذیقکم۔ واؤ عطف کا ہے اس کا عطف علت محذوف پر ہے جس پر مبشرات کے معنی دلالت کرتے ہیں۔ عبارت یوں ہوگی۔ لیبشرکم ولیذیقکم۔ لام تعلیل کا ہے تاکہ وہ تمہیں (اپنی رحمت کا مزہ) چکھائے بارش برساکر۔ یذیقکم مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ لام تعلیل۔
ولتجری الفلک۔ اور تاکہ کشتیاں چلیں۔ اس میں بھی واؤ عاطفہ ہے اور معطوف علیہ یا تو لیذیقکم ہے۔ تجری واحد مؤنث غائب۔ منصوب بوجہ لام تعلیل۔ جری ضرب سے مصدر۔
ولتبتغوا۔ اور تاکہ تم ڈھونڈو۔ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
لغات آیت نمبر 46 تا 50
مبشرات (کوش خبری دینے والیاں) ۔ اجرموا (جنہوں نے جرم کیا) ۔ حق (حق ہے۔ ذمہ داری ہے) ۔ تشیر (وہ پھیلاتا ہے) ۔ سحاب (بادل) ۔ کسف (ٹکڑا۔ تقسیم کرنا ) ۔ ودق (بارش) ۔ اثر (اثر) (نشایاں) ۔
تشریح : آیت نمبر ( 46 تا 50)
اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے خزاں کے بعد بہار، مصیبت کے بعد راحت، دکھ کے بعد آرام و سکون اور ہر مشکل کے بعد آسانی پیدا ہوتی رہتی ہے۔ اسی طرح کفرو شرک اور اللہ کی نافرمانیاں جب حد سے برھ جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے پاکیزہ نفوس انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بھیجتا ہے جو اپنی قوم کے لوگوں کو یہ بات بتاتے ہیں کہ اگر انہوں نے کفر و شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
علامات قیامت اور جنتی دوزخیوں کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں ہوا کا ذکر اور ہوا کے سبب سے بادل جو آتے ہیں ان کا ذکر، اور بادلوں کے سبب سے جو مینہ برستا ہے اس کا ذکر فرما کر فرمایا ہے کہ جس طرح ہر سال برسات کے موسم میں زمین کی مری ہوئی مٹی زندہ ہوجاتی ہے اور اس میں ہر طرح کے اناج کے پیدا ہونے کی قوت آجاتی ہے اس طرح حشر کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک مرے ہوئے شخص کے جسم کو پھر تیار کرکے ان جسموں میں پھر روح پھونکے گا۔ صحیح بخاری ومسلم کی حضرت ابوہریرہ سے حدیث ہے کہ دوسرے صور سے پہلے شبنم کی طرح ایک مینہ برسے گا جس سے زمین کے سب مرے ہوئے لوگوں کے پتلے بن کرتیارہوجائیں گے پھر دوسراصور پھونکا جائے گا جس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
[24] یعنی معاش۔
Read the full tafseer →ف 2: درمیان میں مظاہر قدرت کے جمال کی طرف نظروں کو متوجہ کیا ہے ۔ تاکہ قرآن کا انداز تنوع قائم رہے ۔ اور مسلمان احکام و شریعت کے ساتھ تکوینی اسرارروموز پر بھی غور کریں ۔ اور یہ یقین رکھیں ۔ کہ دونوں کا سرچشمہ ایک ہے ۔ دونوں ایک ہی ذات کے پر تو ہیں ۔ ایک ہی جمال کے دو پہلو ہیں اور ایک ہی حسین کی دوا دائیں ہیں فرمایا ہے کہ اس کی نشانیوں میں ہواؤں کو بڑی اہمیت حاصل ہے ان کی افادیت پر غور کرو ۔ کیونکہ وہ آنے والی بارش کا پتہ دیتی ہیں ۔ پھر کس طرح ان کی وساطت سے کشتیاں چلتی ہیں ۔ اور جہاز سطح سمندر پر رواں دواں نظر آتے ہیں یہ سب نعمتیں اس لئے ہیں تاکہ تم قدرت کے ان فیوض کو دیکھو ۔
اور اپنا ذہن…
Read the full tafseer →46۔ آگے پھر دلائل توحید کا بیان ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک یہ نشانی ہے کہ وہ ہوائیں اس لئے چلاتا ہے اور ہوائوں کو اس لئے بھیجتا ہے کہ وہ بارش کی خوشخبری دینے والی ہوں اور تا کہ وہ تم اپنی رحمت سے لذت اندوز کرے اور اپنی رحمت کا تم کو مزہ چکھائے اور تا کہ اس کے حکم سے کشتیاں جاری ہوں اور تا کہ تم اس کا فضل یعنی روزی تلاش کرو اور تا کہ تم اسکا شکر بجا لائو ۔ یعنی اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ بارش سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوائیں چلتی ہیں جن سے بارش کے ہونے کا پتہ چلتا ہے پھر بارش ہوتی ہے اس بارش کے مزے سے تم کو لطف اندوز فرماتا ہے اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
ف 2۔ یعنی جریان فلک اور ابتغاء فضل دونوں ارسال ریاح کے مسبب ہیں، اول قریب بلا واسطہ اور ثانی بعید بواسطہ اول کے۔
Read the full tafseer →خوشخبری دینے والی ہواؤں کو چلانا اس کا کام ہے اور کشتیاں بھی اسی کے حکم سے چلتی ہیں :
46۔ اس کائنات میں جو کچھ ہے وہ بلاشبہ اس کے فضل و کرم سے ہے اور ہر ایک چیز اس ذات کی مرہون منت ہے اس کی قدرت کی نشانیاں اس قدر ہیں کہ اگر کوئی شخص ان کو شمار کرنا چاہے تو ممکن ہی نہیں کہ وہ ان کو شمار کرسکے ذرا غور کرو کہ ان ہواؤں کا چلنا کیا ہے اور یہ کہ ان کی اقسام کتنی ہیں اور ان کے نام کیا کیا ہیں ‘ گیسوں اور ہواؤں میں کیا فرق ہے ‘ اس فضا کے اندر کتنی گیسیں اور ہوائیں ہیں جو ایک دوسرے کے مخالف ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اس فضا میں موجود ہیں اور وہ کون ذات ہے جو ان سب کو الگ الگ اور جدا جدا کرکے رکھ رہا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
Commentary
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ (Plight has appeared on land and sea because of what the hands of the people have earned 30:41). The author of Ruh ul-Ma’ ani has explained that the word fasad' (translated in the text as 'plight' ) means all sorts of calamities, such as famine, epidemic diseases, frequency of the incidents of fire, drowning, lack of Allah's blessing in everything, and reduction in profits and incurring of losses in lucrative businesses. It can also be deduced from this verse that the cause of falling of calamities in the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
68 That is, to give good news of the rain.
69 This refers to winds, which are helpful in sailing. In ancient times, sailing boats and ships mostly depended on favourable winds and adverse winds were disastrous for them. Therefore, the mention of these winds after the rainbringing winds has been made as a special favour of Allah.
70 "To seek His bounty": To perform trade journeys.
Read the full tafseer →