Ar-Room 30:45

Ar-Room · from ayah 45

30:45

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ ؕ— اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ ۟لِيَجۡزِىَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا وَعَمِلُوۡا الصّٰلِحٰتِ مِنۡ فَضۡلِهٖ‌ؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡكٰفِرِيۡنَ

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اُن کو خدا اپنے فضل سے بدلہ دے گا۔ بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

That He may reward those who have believed and done righteous deeds out of His bounty. Indeed, He does not like the disbelievers.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 5 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:45

تاکہ اللہ ایمان لانے والوں اور عملِ صالح کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزا دے یقیناً وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اُن کو خدا اپنے فضل سے بدلہ دے گا۔ بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے جزا دے جو ایمان ﻻئے اور نیک اعمال کیے وه کافروں کو دوست نہیں رکھتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

نتیجہ یہ کہ اللہ ان لوگوں کو اپنے فضل سے جزاء دے گا جو ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں۔ یقینا اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تاکہ صلہ دے انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اپنے فضل سے، بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تاکہ اﷲ اپنے فضل سے ان لوگوں کو بدلہ دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تاکہ وہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، اپنے فضل سے جزا دے۔ بیشک وہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انھیں اپنی مہربانی سے اس کا بدلہ دے۔ وہ یقینا کافروں کو پسند نہیں کرتا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بدلہ دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے۔ اللہ کافروں کو ہرگز دوست نہیں رکھتا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تاکہ اللہ بدلہ دے (اپنے کرم اور) اپنی مہربانی سے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے بلاشبہ وہ پسند نہیں کرتا کافروں (اور منکروں) کو

— مولانا اسحاق مدنی

جس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے (اللہ) انہیں اپنے فضل سے (نیک) جزا دے گا واقعی اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تا کہ اللہ بدلہ دے اپنے فضل سے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے یقیناً وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو اللہ اپنے فضل سے بد لہ دے گا بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا“

— محترمہ رفعت اعجاز

so that Allah may, out of His Bounty, reward those who believe and act righteously. Verily He does not love the unbelievers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

so that Allah may give reward, out of His grace, to those who believed and did righteous deeds. Surely He does not love the unbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani

so that Allah may give reward, out of His grace, to those who believed and did righteous deeds. Surely He does not love the unbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That He may reward those who believe and do righteous good deeds, out of His bounty. Verily, He likes not the disbelievers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That He may reward out of His bounty those who believe and do good works. Lo! He loveth not the disbelievers (in His guidance).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That He may reward those who have believed and done righteous deeds out of His bounty. Indeed, He does not like the disbelievers.

— Saheeh International

God will reward the righteously striving believers through His favor. He does not love the unbelievers.

— Muhammad Sarwar

That He may reward those who believe and do good out of His grace; surely He does not love the unbelievers.

— Muhammad Habib Shakir

So that he shall recompense those who believe and work righteous works out of His grace; verily He loveth not the infidels.

— Abdul Majid Daryabadi

That He may reward those who believe and work righteous deeds, out of his Bounty. For He loves not those who reject Faith.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 30:45

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 43–45

اللہ کے دین میں مستحکم ہوجاؤ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دین پر جم جانے کی اور چستی سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے۔ مضبوط دین کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجاؤ۔ اس سے پہلے کہ قیامت کا دن آئے۔ جب اس کے آنے کا اللہ کا حکم ہوچکے گا پھر اس حکم کو یا اس آنے والی جماعت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس دن نیک بد علیحدہ علیحدہ ہوجائیں گے۔ ایک جماعت جنت میں ایک جماعت بھڑکتی ہوئی آگ میں۔ کافر اپنے کفر کے بوجھ تلے دب رہے ہونگے۔ لوگ اپنے کئے ہوئے نیک اعمال بہترین آرام دہ ذخیرے پر خوش وخرم ہونگے۔ رب انہیں ان کی نیکیوں کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر کئی کئی گناہ کرکے دے رہا ہوگا۔ ایک ایک نیکی دس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 44–45

سورة الروم 67 یہ ایک جامع فقرہ ہے جو تمام ان مضرتوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے جو کافر کو اپنے کفر کی بدولت پہنچ سکتی ہے۔ مضرتوں کی کوئی مفصل فہرست بھی اتنی جامع نہیں ہوسکتی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–45

خلاصہ تفسیر (شرک و معصیت ایسی بری چیز ہے کہ) خشکی اور تری (یعنی تمام دنیا) میں لوگوں کے (برے) اعمال کے سبب بلائیں پھیل رہی ہیں (مثلاً قحط و وباء و طوفان) تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بعضے اعمال (کی سزا) کا مزہ ان کو چکھا دے تاکہ وہ (اپنے ان اعمال سے) باز آجائیں (جیسا دوسری آیت میں ہے وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ ، اور بعض اعمال کا مطلب یہ ہے کہ اگر سب اعمال پر یہ عقوبتیں مرتب ہوں تو ایک دم زندہ نہ رہیں، کقولہ تعالیٰ وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ ، اسی معنی سے آیت بالا میں وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لیجزی الذین امنوا وعملوا لصلحت من فضلہ، ط انہ لا یجب الکفرین (45) اس کا تعلق اوپر والی آیت من قبل ان یاتی یوم سے ہے، یعنی اس دن کے آنے کا صلی مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان و عمل صالح والوں کو اپنے فضل سے صلہ دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کا اصل مقصودِ اہل ایمان کو جزا دینا ہے کفار۔ کو سزا دینا اس کی اصل غایب نہیں بلکہ اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ من فضیلہ کے لفظ سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اہل ایمان کو جو صلہ ملے گا وہ محض ان کے اعمال کے پیمانے سے تول کر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے مطابق ملے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کا فضل ایسی چیز ہے کہ اس کا اندازہ ہم اپنے پیمانوں اور قیاسوں سے نہیں کرسکتے۔ ’ انہ لا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

45-1یعنی محض نیکیاں دخول جنت کے لئے کافی نہیں ہوں گی، جب تک ان کے ساتھ اللہ کا فضل بھی شامل حال نہ ہوگا پس وہ اپنے فضل سے ایک ایک نیکی کا اجر دس سے سات سو گنا تک بلکہ اس سے زیادہ بھی دے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 41–45

20: آیت کریمہ یہ سبق دے رہی ہے کہ عام مصیبتوں کے وقت چاہے ظاہری اسباب کے ماتحت وجود میں آئی ہوں، اپنے گناہوں پر استغفار اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 43–45

فاقم وجھک للدین ۔۔۔۔۔ انہ لا یحب الکفرین (43 – 45) دین قیم کی طرف متوجہ ہونے والے کے لیے قرآن جو شکل تجویز کرتا ہے وہ نہایت ہی اثر انگیز ہے اور یہ بتاتی ہے کہ متوجہ ہونے والا شخص اپنی پوری توجہ سے اس طرف مڑ گیا ہے۔ وہ سنجیدہ اور سیدھا ہے۔ فاقم وجھک للدین القیم (30: 43) ” اپنا رخ مضبوطی کے ساتھ جما دو دین راست کی سمت میں “۔ نہایت اہتما ، نہایت توجہ ، صددر حکم کے انتظار کی طرح ، نہایت پختگی کے ساتھ اپنا رخ عالم بالا کی طرف کر دو جس طرح ایک فوجی (اٹن شن) کی حالت میں ہوتا ہے۔ دین قیم کی طرف رخ جما دینے کا حکم پہلی مرتبہ اس سورة میں اس وقت آیا تھا جب بات لوگوں کی خواہشات نفسانیہ کے پیچھے وڑنے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی کتنا ہی بڑا نیک ہو اسے بھی اللہ کے فضل سے جنت ملے گی۔ 9 جو اس سچے مالک کو نہ بھائے اسکا کہاں ٹھکانا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 45–46

وَّلِیُذِیْقَکُمْ مِّنْ رَّحْمَتِہٖ ” تا کہ باران رحمت برسا کر تمہیں اس کے ثمرات سے مستفیض ہونے کا موقع فراہم کرے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 44–45

53 یعنی ایمان والوں اور نیک لوگوں کو بھی جنت میں داخلہ کسی استحقاق کی بنا پر نہیں ملے گا بلکہ محض اللہ کے فضل یعنی اصل بدلہ سے زائد اجر کے طور پر ملے گا۔ کیونکہ دنیا میں انسان نے اگر اللہ کا شکر ادا کیا یا اس کا فرمانبردار بن کر رہا تو اس سے تو اللہ کے سابقہ احسانات کا بدلہ پورا نہیں ہوتا اب مزید کیسا ؟ یہ اجر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیں گے تو محض اس لئے کہ انہوں نے جو بھی کام کئے تھے اللہ کی رضا کی خاطر کئے تھے اور اللہ ان سے راضی ہو کر زائد بدلہ خاص اپنی مہربانی سے جنت کی صورت میں عطا کرے گا۔ چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : کسی شخص کو اس کا عمل بہشت میں نہیں لے جائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

56۔ (بلکہ سخت مبغوض رکھتا ہے) لان عدم المحبۃ کنایۃ عن البغض فی العرب (روح) فان عدم المحبۃ من اللہ غایۃ العذاب (کبیر) (آیت) ” من فضلہ “۔ پہلی آیت میں ذکر دو طبقوں کا تھا۔ ایک (آیت) ” من کفر “۔ کفر اختیار کرنے والوں کا دوسرے (آیت) من عمل صالحا “۔ راہ حسن عمل پر چلنے والوں کا۔ پہلے کے انجام (آیت) ” علیہ کفرہ “۔ میں صاف علت انجام کا ذکر کردیا۔ یعنی وبال کفر کفر ہی کی بنا پر پڑے گا۔ اور دوسرے کی جزاء میں ’ بجائے علت کے (آیت) ” من فضلہ “۔ بڑھا دینا اشارہ ہے کہ سزا توبلاعلت نہیں ہوتی۔ لیکن رحمت بلاعلت محض فضل سے ہوتی ہے “۔ وذکر من فضلہ للدلالۃ علی انالا ثابۃ تفضل محض (روح) (آیت) ” لیجزی “ میں ل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–53

آیت نمبر 41 تا 53 ترجمہ : خشکی یعنی میدانوں میں خشک سالی اور نباتات کی کمی کی وجہ سے اور تری یعنی ان شہروں میں جو نہروں (سمندروں) کے کنارے واقع ہیں پانی کی قلت کی وجہ سے لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد ظاہر ہوگیا تاکہ ہم ان کو ان کے بعض اعمال کی سزا کا مزہ چکھائیں ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں توبہ کریں، آپ مکہ کے کافروں سے کہئے کہ زمین میں چلو پھرو دیکھو پہلوں کا کیا انجام ہوا ؟ جن میں اکثر لوگ مشرک کے سبب ہلاک کردیئے گئے اور ان کے گھر اور مکانات گرے پڑے ہیں آپ اپنی توجہ دین قیم یعنی اسلام کی جانب رکھئے قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کو اللہ (ہرگز) نہیں ٹالے گا اس روز سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لیجزی الذین امنوا عملوا الصلحت من فضلہ . جس کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ اپنے فضل سے ان لوگوں کو جزا دے گا جو ایمان لائے اور نیک کام کئے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : تاکہ اعمال صالحہ سے زیادہ ان کو ثواب عنایت کرے (یعنی جتنے ثواب کے وہ اللہ کے مقرر کردہ قانون سے مستحق قرار پاتے ہیں اس سے زیادہ اپنے فضل سے ان کو عطا کرے) صرف ثواب اعمال کا آیت میں ذکر کیا (سزائے کفر نہیں بیان کی) ۔ اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ اللہ ثواب دینا ہی چاہتا ہے۔ ہاں جو شخص خود انکار و کفر کر کے عذاب آخرت کو پسند کرے تو اللہ بھی ان کو عذاب دے گا۔ انہ لا یحب الکفرین . بیشک اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔ پس وہ اپنے کفر کی وجہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جنت میں اپنے فضل و کرم سے جزا دے گا جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور اچھے کام کیے۔ واقعی اللہ تعالیٰ کفار کے طریقہ اور خود ان کو پسند نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۔۔ : اس میں قیامت کے دن لوگوں کے جدا جدا ہونے کی وجہ بیان فرمائی ہے۔ بقاعی نے فرمایا : ”یہاں دو جملوں میں سے ہر ایک کا ایک حصہ حذف کردیا اور ایک بیان کردیا ہے، جس سے حذف شدہ حصہ خود بخود معلوم ہو رہا ہے۔“ گویا مفصل کلام یوں ہوگا : ”لِیَجْزِيَ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِہِ إِنَّہُ یُحِبُّ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ لِیَجْزِيَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ عَمِلُوا السَّیِّءَاتِ بِعَدْلِہِ إِنَّہُ لَا یُحِبُّ الْکَافِرِیْنَ“ ”تاکہ وہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے اپنے فضل سے جزا دے، کیونکہ وہ ایمان والوں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اپنے لئے بستر بچھاتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے بدلہ عطا کرے یعنی اس کلام کا تعلق انفسم کے ساتھ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا تعلق یصدعون کے ساتھ ہے کلام یوں ہوگی۔ تاکہ کافر کو مسلمان سے الگ کردے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 43–46

دین اسلام پر قائم رہنا کامیابی ہے 1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاقم وجہک للدین القیم آپ اپنا رخ دین قیم یعنی اسلام کی طرف کر لیجیے۔ آیت من قبل ان یاتی یوم لا مرد لہ من اللہ قبل اس کے کہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے کہ جس کو لوٹانا ممکن نہیں یعنی قیامت کا دین آیت یومئذ یصدعون یعنی ایک فریق جنت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں ہوگا۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یومئذ یصدعون سے مراد ہے کہ اس میں وہ لوگ جداجدا ہوجائیں گے۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) نے فرمایا کہ آیت یومئذ یصدعون سے مراد ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لِيَجْزِيَ [تاکہ وہ (اللہ) بدلہ دے ] الَّذِيْنَ [ان کو جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [اور عمل کئے نیکیوں کے ] مِنْ فَضْلِهٖ ۭ [اپنے فضل سے ] اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ [بیشک وہ پسند نہیں کرتا ] الْكٰفِرِيْنَ [کفر کرنے والوں کو ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِہٖ ) (تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اپنے فضل سے جزا دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے) اللہ تعالیٰ کے اس فضل سے کافر محروم ہوں گے، (اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْکٰفِرِیْنَ ) (بلاشبہ اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا) جب دنیا میں کافر اللہ کی ذات پر ایمان نہ لایا، اس کے انعامات کا شکریہ ادا نہ کیا اور مزید یہ کہا کہ دوسروں کو اس کی عبادت میں شریک کرلیا تو قیامت کے دن اس کی سزا پائیں گے، ایمان لاتے تو اللہ کے محبوب ہوتے، اب انہیں کفر کی سزا دی جائے گی اور دوزخ میں داخل ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–47

ذکر وبال ونحوست کفر ومعصیت در دار دنیا قال اللہ تعالیٰ ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقہم بعض الذی عملوا لعلہم یرجعون۔۔۔ الی۔۔۔ وکان حقا علینا نصر المومنین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں کفر اور شرک اور معصیت پر تہدید تھی اب ان آیات میں کفر اور معصیت کی نحوست کو بیان کرتے ہیں کہ یہ ایسی منحوس چیزیں ہیں کہ بسا اوقات دنیا ہی میں بد اعمالی کی وجہ سے طرح طرح کی بلائیں اور آفتیں اور مصیبتیں پیش آتی ہیں جیسے قحط اور سیلاب اور طاعون وغیرہ اور آخرت سے پہلے دنیا ہی میں سزا کا کچھ مزا چکھا دیا جاتا ہے باقی پوری سزا تو آخرت میں ملے گی اور ان دنیاوی مصائب وآفات کے نازل کرنے سے مقصد یہ ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 44–46

ف 35 یہ توحید پر گیارہویں عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت و عظمت اور اس کی وحدانیت کہ ایک دلیل یہ بھی ہے کہ وہ بارانِ رحمت کی خوشخبری لانے والی ہوائیں چلاتا ہے اور بارانِ رحمت سے سرسبز و شاداب اور لہلہاتے کھیت اگاتا ہے۔ اللہ کے حکم سے ہوا بادبانی کشتیوں کو ادھر سے ادھر لیجاتی ہے جس سے ہم آسانی سے سفر کرتے ہیں اور تجارتی سفروں میں نفع کماتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اس کے ساتھ شرک نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–45

ربطہ آیات پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید اور توحید کے دلائل بیان فرمائے۔ اور ساتھ ساتھ قیامت کا مسئلہ بھی سمجھایا۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ تمام اسباب پر اسی کا تصرف ہے اور رزق کی تنگی اور کشادگی ہونا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ وہی انسانوں کو زندگی بخشتا ، روزی دیتا اور موت طاری کرتا ہے اور پھر قیامت کو دوبارہ بھی زندہ کریگا اللہ نے شکوہ بیان کیا کہ جب یہ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے تو پھر لوگ شرک سے باز کیوں نہیں آتے اور اللہ کی دی ہوئی روزی میں بخل کیوں کرتے ہیں ؟ بحردبر میں فساد کا ظہور اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ بسا اوقات لوگوں کی نافرمانیوں اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِہٖ۝ 0 ۭ اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ۝ 45 جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 41–45

ترکیب : لیذیقیہم متعلق یظہر ای لیصیرحا لھم الیٰ ذلک وقیل التقدیر عاقبھم لیذلقیھم، کان اکثر ھم استینات من اللہ متعلق بیاتی۔ ویجوزان یتعلق بمرد لانہ مصدر علیٰ معنی لایردہ لتعلق ارادتہ القدیمۃ بمجیئہ۔ یومئذ، بدل من یوم والناصب یصدعون ای یتفرقون فریق فی الجنۃ و فریق فی النار کما یقول من کفر فعلیہ کفرہ ای علیہ وبال کفر یمہدون یستو وں منزلا فی الجنۃ لیجزی علۃ لیمہدون او لیصدعون۔ والاقتصار علی جزاء المومنین۔ للاکتفاء علی فحوی قولہ انہ لا یحب الکفرین۔ تفسیر : ظہر الفساد فی البر والبحر ردّ شرک کے قوی دلائل بیان فرما کر اب اس جگہ یہ بات ظاہر فرماتا ہے کہ فطرت اللہ کے ترک کرنے سے اور کفر و شرک اور ہر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 44–45

مَنْ کَفَرَ فَعَلَیْہِ کُفْرُہٗ ج وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِہِمْ یَمْھَدُوَنَ ۔ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِہٖ ط اِنَّـہٗ لاَ یُحِبُّ الْـکٰفِرِیْنَ ۔ (الروم : 44 45) (جس نے کفر کیا اس کے کفر کا وبال اسی پر ہے، اور جنھوں نے نیک اعمال کیے وہ بیشک اپنے لیے زمین ہموار کررہے ہیں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزاء دے، یقینا وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔ ) قیامت میں کفر کا نتیجہ قیامت کی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آج کافر لوگ اپنے کفر پر نازاں ہیں اور ایمان لانے والوں کو حقارت کی نگاہ سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 43–45

فہم القرآن ربط کلام : دنیا کے فساد اور برے انجام سے بچنے کے لیے لازم ہے کہ انسان اپنے چہرے کو اللہ ہی کی طرف متوجہ رکھے۔ انسان اسی بنیاد پر ہی دنیا اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ عقیدہ توحید اور دین کی اہمیّت اور اس کی فضیلت کے پیش نظر براہ راست سرور دوعالم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ مشرک جس قدر چاہیں عقیدہ توحید اور دین اسلام کو ناپسند کریں اور اس کی مخالفت کرتے رہیں آپ کو ہر حال میں اپنے چہرے کو اپنے رب کی طرف رکھنا اور دین اسلام پر قائم رہنا چاہیے۔ اس دن سے پہلے جو ہر صورت آکر رہے گا جو کسی کے انکار یا اقرار سے ٹل نہیں سکتا۔ اس دن سب لوگ منتشر ہوں گے کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکے گا جس نے کفر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دلیل قدرت : 45: لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں اور اعمال صالحہ کرنے والوں کو جزاء عنایت فرمائے گا) ۔ نحو : لیجزی یہ یمھدون کے متعلق ہے اور اس کی تعلیل و تکریر ہے یہاں ضمیر کی بجائے امنوا وعملوا صریح لائے تاکہ اس بات کو پختہ طور پر ثابت کردیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کامیاب فقط اور فقط مومن ہے۔ مِنْ فَضْلِہٖ (اپنے فضل سے) یعنی اپنی خاص عطاء سے اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْکٰفِرِیْنَ (اور بیشک وہ کافروں کو پسند نہیں فرماتے) ۔ اس میں سابقہ مضمون کو مزید پختہ کیا گیا ہے پہلی تقریر مثبت انداز میں تھی اور یہ منفی اور عکس کے انداز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

45۔ ، لیجزی الذین امنو اوعملو الصالحات من فضلہ، ابن عباس ؓ کا قول ہے تاکہ اعمال صالحہ سے زیادہ ان کو ثواب عنایت کرے صرف ثواب اعمال کا آیت میں ذکر کیا گیا۔ ، انہ لایحب الکافرین، ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 40–51

40 تا 51۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ پہلی دفعہ جو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کو پیدا کیا پھر عمر پوری ہونے کے بعد ہر ایک جاندار کی موت اللہ کے حکم سے آتی ہے کسی کو اس میں کچھ دخل نہیں ہے یہ سب کچھ تو ان مکہ کے مشرکوں کی آنکھوں کے سامنے ہے اور ان مشرکوں کے رزق کی سبب جو آسمان سے پانی کا برستا ہے وہ بھی اللہ کے ہی اختیار میں ہے ان کے بتوں کو اس میں کچھ دخل نہیں اور جب ایک دفعہ یہ تمام عالم پیدا ہوچکا تو ان مشرکوں کے روز مرہ کے تجربہ کو گواہی سے دوسری دفعہ انسان کا پیدا ہونا اور نیک وبد کی جزا وسزا کا ہونا بالکل سہل ہے حاصل یہ ہے کہ جب یہ سب اللہ کے اختیار میں ہے تو ان آیتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 43–45

آیت نمبر : 43 ۔ 45 اپنے دل ‘ چہرے اور بدن کو سیدھے اور مستقیم دین کو قائم رکھنے پر متوجہ رکھیے ‘ کوشش اور جدوجہد سے اللہ تعالیٰ کے اوامرو نواہی کو نافذ کیجیے اور دین کے ظاہری اور باطنی تمام وظائف ادا کیجیے۔ اپنے زمانے ‘ اپنی زندگی اور اپنے شباب میں جلدی سے نیک عمل کرلیجیے (من قبل ان یاتی یوم لا مرد لہ من اللہ) ” اس دن سے پہلے جو اللہ کی طرف سے آکر رہے گا اور رک نہیں سکے گا۔ “ اس سے مراد روز قیامت ہے اور جب وہ دن آجائے گا تو اسے روکنا ممکن نہ ہوگا۔ عمل کرنے والوں کو مہلت نہ دی جائے گی کہ اپنے عمل کو نئے سرے سے سرانجام دیں بلکہ وہ اعمال سے فارغ ہوچکے اب تو عمل کرنے والوں کی جزا کے سوا کچھ باقی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 40–60

جوانی ، بڑھاپے کی زحمت سے پہلے غنیمت ہے قول باری ہے : (اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعدقوۃ ضعفا وشیبۃ۔ اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے رحم مادر میں ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر تمہیں اطفال بنایا کہ عہد طفولیت میں تم اپنی ذات کے لئے کسی نفع نقصان کے مالک نہیں تھے۔ پھر تمہیں طاقت وربنایا اور تمہیں اتنی استطاعت ، عقل وفہم اور سمجھ بوجھ عطا کی کہ تم دنیاوی امور میں تصرف کے ذریعے جلب منفعت اور دفع مضرت کرسکو۔ پھر اس نے تمہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 43–45

61 قیام قیامت کا اصل مقصد اہل ایمان کو نوازنا : سو قیام قیامت کی غرض وغایت کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ اللہ ایمان اور عمل صالح والوں کو اپنے فضل سے نوازے "۔ یعنی جنت تو انسان کو اپنے اعمال کے بل بوتے پر نہیں بلکہ اللہ پاک کے فضل و کرم اور اس کی رحمت و عنایت ہی سے ملے گی۔ ورنہ ہمارے تو زندگی بھر کے تمام نیک اعمال تو اللہ پاک کی ان نعمتوں کا بھی بدلہ نہیں ہوسکتے جن سے ہم لوگ اس دنیاوی زندگی میں فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اور پھر انسانی اعمال تو بہرحال محدود ہیں جبکہ جنت کی زندگی اور اس کی نعمتیں ابدی اور لامحدود۔ تو وہاں کی لامحدود نعمتیں ان محدود اعمال کا صلہ اور بدلہ کس طرح ہوسکتی ہیں ؟…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 40–45

اللہ کی چار صفات، مشرکین اور اہل ایمان کا مقام تشریح : جیسا کہ کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے کہ شرک ظلم ہے۔ یعنی اس سے اللہ تعالیٰ کا تو کوئی بھی کسی صورت کچھ بھی نقصان نہیں ہوتا اگر نقصان ہوتا ہے تو صرف شرک کرنے والے کا بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے کیونکہ جو شخص اپنے معبود کے بارے میں ایک یقین نہیں رکھتا ظاہر ہے وہ نہ تو خود مضبوط ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کا راستہ بلکہ وہ ساری عمر ڈانواں ڈول بےیقینی کی زندگی گزارتا ہے اور اس طرح دنیا و آخرت میں عذابوں کا شکار ہوتا ہے شرک انسانی زندگی کے لیے بد ترین زہر سے کم نہیں اسی سے تمام اخلاقی برائیاں بھی پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ان میں صرف دنیاوی زندگی کا تصور بیٹھ جاتا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–53

آیات 41 تا 53 اسرارومعارف کفر و شرک کی مصیبت اللہ کی ناراضگی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اس سے نظام عالم میں خرابی پیدا ہو کر خشکی و تری میں فساد پھیلتا ہے اگرچہ رحمت باری انسان کے سب گناہوں کی سزا اس پر فورا نہیں ڈالتی اور اللہ انسان کو مہلت دیتا ہے مگر اس کے باوجود گناہوں کے اثراتبد کا اظہار ہوتا رہت ہے جسے کافر دنیا ہیں بےحیائی کو عورت کی آزادی کا نام دے کر رواج کردیا گیا آج وہی مصیبت ان کے لیے ہت بڑا عذاب ہے ہر گر کا سکون تباہ ہورہا ہے اولاد کا کوئی نصب نہیں ملتا اور ایڈز جیسے موذی امراض بدکاری کا پھل ہیں ایسے معاش میں سودی نظام کے بڑے برے نتائج دیکھ کر لوگ توبہ کریں اور واپس آجائیں۔ ان سے کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 45–46

ف 6 یعنی بارش سے غلے اور میوے پیدا ہوں اور تم کھائو اور جانور موٹے تازے ہوں۔ تم ان کا گوشت کھائو اور دودھ پیو یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت ہے۔ جس سے سب لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 44–45

(30:45) لیجزی۔ میں لام تعلیل کا ہے اور جملہ لیجزی الذین امنوا وعملوا الصلحت من فضلہ۔ علت ہے یمھدون کی یا یصدعون کی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 41–45

(لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 45 ( ظھر (ظاہر ہوگیا۔ کھل گیا) ۔ بحر (تری۔ دریا۔ سمندر) ۔ کسبت (اس نے کمایا) ۔ یذیق (وہ چکھاتا ہے) ۔ سیروا (تم چلو پھرو) ۔ دین القیم (بہترین اور مستحکم دین) ۔ لا مرد (ٹلنے والا نہیں ہے) ۔ یصدعون (الگ الگ ہوجائیں گے) ۔ یمھدون (وہ ہدایت حاصل کرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 41 تا 45 اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کر کے کسی کو اس کا شریک نہ ماننا، اسی کی عبادت و بندگی اور اعمال صالحہ کی روش پر چلنا، ہر طرح کے گناہوں اور برے اعمال سے رک جانا دین فطرت ہے۔ لیکن اس کے بر خلاف کفروشرک اور اللہ کی نافرمانیوں میں مبتلا ہو کر کھلم کھلا ظلم و زیادتی پر اتا آنا خلاف فطرت ہے جو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–48

علامات قیامت اور جنتی دوزخیوں کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں ہوا کا ذکر اور ہوا کے سبب سے بادل جو آتے ہیں ان کا ذکر، اور بادلوں کے سبب سے جو مینہ برستا ہے اس کا ذکر فرما کر فرمایا ہے کہ جس طرح ہر سال برسات کے موسم میں زمین کی مری ہوئی مٹی زندہ ہوجاتی ہے اور اس میں ہر طرح کے اناج کے پیدا ہونے کی قوت آجاتی ہے اس طرح حشر کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک مرے ہوئے شخص کے جسم کو پھر تیار کرکے ان جسموں میں پھر روح پھونکے گا۔ صحیح بخاری ومسلم کی حضرت ابوہریرہ سے حدیث ہے کہ دوسرے صور سے پہلے شبنم کی طرح ایک مینہ برسے گا جس سے زمین کے سب مرے ہوئے لوگوں کے پتلے بن کرتیارہوجائیں گے پھر دوسراصور پھونکا جائے گا جس سے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 43–45

خدا انسان کا حریف نہیں ہے 1: ان آیتوں میں بتایا ہے ۔ کہ جہاں تک کفر و انکار کا تعلق ہے اس سے ذات صویت کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔ اسی طرح ایمان و اعمال صالح سے اس کی جلالت قدر میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا اگر ساری دنیا کفر و طغیان کو اپنا شیوہ بنا لے ۔ اور برملا خدا کا انکار کردے ۔ تو اس کے وجود باجود میں اور اس کے تحفق قومیت میں ذرہ برابر فرق نہیں ہوتا ۔ اسی طرح اگر دنیا میں کوئی منکر نہ رہے تمام ملحد اپنے غلط عقائد سے توبہ کرلیں ۔ اور مومن صادق بن جائیں ۔ اور زہد وورع کا لباس زیت تن کرلیں ۔ تو اس کی عظمت اور رفعت میں کچھ بھی ترقی نہیں ہوتی ۔ یہ کفروعصیاں تو محض اس لئے مذموم ہے ۔ کہ اس سے خود…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

45۔ جس کا نتیجہ اور ماحصل یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان لوگوں کو صلہ اور جزا عطا فرمائے گا جو ایمان لائے اور نیک عمل کے پابند رہے ۔ واقعی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں کو پسند نہیں کرتا اور دوست نہیں رکھتا۔ من فضلہ کی قید سے معلوم ہوا کہ اعمال خواہ کتنے ہی ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل کی بہر حال احتیاج ہے رحمت بلا علت محض فضل سے ہوتی ہے اور سزا بلا علت نہیں ہوتی جس چیز کو اللہ تعالیٰ پسند نہ فرمائے اس کے مرتکب کا کہاں ٹھکانا ہوسکتا ہے ۔ نعوذ باللہ من الکفر۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 44–46

ف 2۔ یعنی جریان فلک اور ابتغاء فضل دونوں ارسال ریاح کے مسبب ہیں، اول قریب بلا واسطہ اور ثانی بعید بواسطہ اول کے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نیک عمل کرنے والے اپنے کئے کا انجام دیکھ لیں اور کافروں کو وہ پسند نہیں کرتا : 45۔ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کا بدلہ دیتا ہے اور ان کو شرف پذیرائی بخشتا ہے تو بلاشبہ یہ اس کا فضل ہے کیونکہ اس کے فضل سے کوئی نیک عمل کرسکتا ہے غور کرو کہ کتنے لوگ ہیں جو کفر میں ڈوبے پڑے ہیں حالانکہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام تو کبھی کفر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا پھر اگر وہ پسند نہیں کرتا تو کیا ان کی روزی اس نے بند کردی نہیں کی ہاں ! اس کو کشادہ کردیتا ہے تاکہ وہ خوب فائدہ اٹھا سکیں اور ان کی کوئی کسر باقی رہ نہ جائے حالانکہ یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ وہ کسی کی حالت کفر کو پسند نہیں کرتا اور اسی طرح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–46

Commentary ظَهَرَ‌ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ‌ وَالْبَحْرِ‌ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ (Plight has appeared on land and sea because of what the hands of the people have earned 30:41). The author of Ruh ul-Ma’ ani has explained that the word fasad' (translated in the text as 'plight' ) means all sorts of calamities, such as famine, epidemic diseases, frequency of the incidents of fire, drowning, lack of Allah's blessing in everything, and reduction in profits and incurring of losses in lucrative businesses. It can also be deduced from this verse that the cause of falling of calamities in the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 45–46

68 That is, to give good news of the rain. 69 This refers to winds, which are helpful in sailing. In ancient times, sailing boats and ships mostly depended on favourable winds and adverse winds were disastrous for them. Therefore, the mention of these winds after the rainbringing winds has been made as a special favour of Allah. 70 "To seek His bounty": To perform trade journeys.

Read the full tafseer →