Explained with ayahs 43–45
اللہ کے دین میں مستحکم ہوجاؤ
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دین پر جم جانے کی اور چستی سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے۔ مضبوط دین کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجاؤ۔ اس سے پہلے کہ قیامت کا دن آئے۔ جب اس کے آنے کا اللہ کا حکم ہوچکے گا پھر اس حکم کو یا اس آنے والی جماعت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس دن نیک بد علیحدہ علیحدہ ہوجائیں گے۔ ایک جماعت جنت میں ایک جماعت بھڑکتی ہوئی آگ میں۔ کافر اپنے کفر کے بوجھ تلے دب رہے ہونگے۔ لوگ اپنے کئے ہوئے نیک اعمال بہترین آرام دہ ذخیرے پر خوش وخرم ہونگے۔ رب انہیں ان کی نیکیوں کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر کئی کئی گناہ کرکے دے رہا ہوگا۔ ایک ایک نیکی دس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
سورة الروم 67
یہ ایک جامع فقرہ ہے جو تمام ان مضرتوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے جو کافر کو اپنے کفر کی بدولت پہنچ سکتی ہے۔ مضرتوں کی کوئی مفصل فہرست بھی اتنی جامع نہیں ہوسکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
خلاصہ تفسیر
(شرک و معصیت ایسی بری چیز ہے کہ) خشکی اور تری (یعنی تمام دنیا) میں لوگوں کے (برے) اعمال کے سبب بلائیں پھیل رہی ہیں (مثلاً قحط و وباء و طوفان) تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بعضے اعمال (کی سزا) کا مزہ ان کو چکھا دے تاکہ وہ (اپنے ان اعمال سے) باز آجائیں (جیسا دوسری آیت میں ہے وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ ، اور بعض اعمال کا مطلب یہ ہے کہ اگر سب اعمال پر یہ عقوبتیں مرتب ہوں تو ایک دم زندہ نہ رہیں، کقولہ تعالیٰ وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ ، اسی معنی سے آیت بالا میں وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ…
Read the full tafseer →من کفر نعلیہ کفرہ، ومن عمل صالحا فلانسفھم یممھدون (44)
اس دن ہر ایک اپنے عمل کے مطابق جزا یا سزا پائے گا۔ جس نے کفر کیا ہوگا اس کے کفر کا وبال اسی پر آئے گا، کوئی دوسرا اس کا بوجھ اٹھانے والا نہیں بنے گا اسی طرح جو لوگ عمل صالح کر رہے ہیں وہ درحقیقت اپنے ہی مستقبل کو سنوار رہے ہیں اور اسی کا صلہ انہی کو ملنے والا ہے۔
Read the full tafseer →44-1مَھْد کے معنی راستہ ہموار کرنا، فرش بچھانا، یعنی یہ عمل صالح کے ذریعے سے جنت میں جانے اور وہاں اعلٰی منازل حاصل کرنے کے لئے راستہ ہموار کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
20: آیت کریمہ یہ سبق دے رہی ہے کہ عام مصیبتوں کے وقت چاہے ظاہری اسباب کے ماتحت وجود میں آئی ہوں، اپنے گناہوں پر استغفار اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
فاقم وجھک للدین ۔۔۔۔۔ انہ لا یحب الکفرین (43 – 45)
دین قیم کی طرف متوجہ ہونے والے کے لیے قرآن جو شکل تجویز کرتا ہے وہ نہایت ہی اثر انگیز ہے اور یہ بتاتی ہے کہ متوجہ ہونے والا شخص اپنی پوری توجہ سے اس طرف مڑ گیا ہے۔ وہ سنجیدہ اور سیدھا ہے۔
فاقم وجھک للدین القیم (30: 43) ” اپنا رخ مضبوطی کے ساتھ جما دو دین راست کی سمت میں “۔ نہایت اہتما ، نہایت توجہ ، صددر حکم کے انتظار کی طرح ، نہایت پختگی کے ساتھ اپنا رخ عالم بالا کی طرف کر دو جس طرح ایک فوجی (اٹن شن) کی حالت میں ہوتا ہے۔ دین قیم کی طرف رخ جما دینے کا حکم پہلی مرتبہ اس سورة میں اس وقت آیا تھا جب بات لوگوں کی خواہشات نفسانیہ کے پیچھے وڑنے کے…
Read the full tafseer →6 یعنی انکار کا وبال اسی پر پڑیگا۔
7 یعنی جنت میں آرام کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِہِمْ یَمْہَدُوْنَ ”
مَھَدَ یَمْھَدُکے معنی ہیں : زمین ہموار کرنا ‘ بستر بچھانا ‘ ساز و سامان تیار کرنا یا کمائی کرنا۔ یعنی یہ لوگ اپنے لیے فلاح کا راستہ ہموار کر رہے ہیں یا جنت میں آرام کرنے کے لیے اپنا بستر بچھا رہے ہیں اور ساز و سامان تیار کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
53 یعنی ایمان والوں اور نیک لوگوں کو بھی جنت میں داخلہ کسی استحقاق کی بنا پر نہیں ملے گا بلکہ محض اللہ کے فضل یعنی اصل بدلہ سے زائد اجر کے طور پر ملے گا۔ کیونکہ دنیا میں انسان نے اگر اللہ کا شکر ادا کیا یا اس کا فرمانبردار بن کر رہا تو اس سے تو اللہ کے سابقہ احسانات کا بدلہ پورا نہیں ہوتا اب مزید کیسا ؟ یہ اجر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیں گے تو محض اس لئے کہ انہوں نے جو بھی کام کئے تھے اللہ کی رضا کی خاطر کئے تھے اور اللہ ان سے راضی ہو کر زائد بدلہ خاص اپنی مہربانی سے جنت کی صورت میں عطا کرے گا۔ چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : کسی شخص کو اس کا عمل بہشت میں نہیں لے جائے…
Read the full tafseer →55۔ (آیت) ” فعلیہ کفرہ ....... فلانفسھم یمھدون “۔ اجزاء کلام کی یہ تقدیم وتاخیر زور وتاکید مفہوم کے لیے ہے (آیت) ” یمھدون “۔ مھد کے لفظی معنی بچھانے کے ہیں۔ تو گویا یہاں ارشاد یہ ہورہا ہے کہ جو اہل ایمان دنیا میں حسن عمل میں مصروف رہتے ہیں، وہ اپنے ہاتھ سے اپنے لئے راحت دائمی کا فرش بچھا رہے ہیں۔ اے فلانفسھم یستعدون ویسخرون المضجع لیسلموا من عقاب ربھم ونجوا من عذابہ (ابن جریر) (آیت) ” علیہ کفرہ “۔ کے صیغہ واحد سے اور لانفسھم یمھدون کے صیغہ جمع سے، امام المفسرین امام رازی (رح) نے یہ پہلو پیدا کیا ہے کہ حق تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب سے کہیں وسیع تر ہے۔ بدی کا بدلہ بدکار کی ذات تک محدود رہے گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیت نمبر 41 تا 53
ترجمہ : خشکی یعنی میدانوں میں خشک سالی اور نباتات کی کمی کی وجہ سے اور تری یعنی ان شہروں میں جو نہروں (سمندروں) کے
کنارے واقع ہیں پانی کی قلت کی وجہ سے لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد ظاہر ہوگیا تاکہ ہم ان کو ان کے بعض اعمال کی سزا کا مزہ چکھائیں ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں توبہ کریں، آپ مکہ کے کافروں سے کہئے کہ زمین میں چلو پھرو دیکھو پہلوں کا کیا انجام ہوا ؟ جن میں اکثر لوگ مشرک کے سبب ہلاک کردیئے گئے اور ان کے گھر اور مکانات گرے پڑے ہیں آپ اپنی توجہ دین قیم یعنی اسلام کی جانب رکھئے قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کو اللہ (ہرگز) نہیں ٹالے گا اس روز سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے…
Read the full tafseer →من کفر فعلیہ کفرہ . جو کفر کر رہا ہے اسی پر اس کا کفر (یعنی دنیا اور آخرت میں کفر کا وبال) پڑے گا۔
ومن عمل صالحا فلا نفسھم یمھدون اور جو نیک عمل کر رہے ہیں سو وہ اپنے ہی لئے سامان کر رہے ہیں۔
یعنی قبروں میں اور جنت میں اپنی اپنی اچھی فرود گاہیں تیار کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →ایک جماعت جنتیوں کی اور ایک دوزخیوں کی کہ جو کفر کر رہی ہے اس پر تو اس کا وبال کفر پڑے گا کہ وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔
اور جو حالت ایمانی میں نیک کام کر رہے ہیں وہ جنت میں اپنا بستر بچھا رہے ہیں اور ثواب و کرامت جمع کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →مَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُه ٗ۔۔ : اس میں جدا جدا ہونے والے دونوں فریقوں کا حال بیان فرمایا کہ جس نے کفر کیا اس کے کفر کا وبال اسی پر ہوگا اور جو نیک عمل کریں گے وہ اپنے ہی لیے آرام کی جگہ تیار کر رہے ہیں، یا سامان تیار کر رہے ہیں قبر میں، جنت میں بلکہ دنیا میں بھی۔ ”کَفَرَ“ کے ساتھ دوسرے برے اعمال کا ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ کفر کے بعد کسی عمل کا اعتبار ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاۗءً مَّنْثُوْرًا) [ الفرقان : 23 ] ”اور ہم اس کی طرف آئیں گے جو انھوں نے کوئی بھی عمل کیا ہوگا تو اسے بکھرا ہوا غبار بنادیں گے۔“ اور کفر کے مقابلے میں…
Read the full tafseer →کفر سے پہلے جزاء کا لفظ مخذوف ہے وہ اپنے لئے عمل صالحہ کے بدلہ میں بستر مسکن اور قرار کو تیار کریں گے اسی سے مہد الصبی ہے مہاد سے مراد فراش ہے میں نے بستر کو بچھا دیا سے مراد ان کو درست کرنا ہے مراد عذر کو پیش کرنا ہے اور اس کو قبول کرنا ہے کا معنی قدرت حاصل کرنا ہے ابن ابی نجبیح نے مجاہد سے یہ قول نقل کیا ہے۔ یعنی قبر میں بستر بچھاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
دین اسلام پر قائم رہنا کامیابی ہے
1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاقم وجہک للدین القیم آپ اپنا رخ دین قیم یعنی اسلام کی طرف کر لیجیے۔ آیت من قبل ان یاتی یوم لا مرد لہ من اللہ قبل اس کے کہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے کہ جس کو لوٹانا ممکن نہیں یعنی قیامت کا دین آیت یومئذ یصدعون یعنی ایک فریق جنت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں ہوگا۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یومئذ یصدعون سے مراد ہے کہ اس میں وہ لوگ جداجدا ہوجائیں گے۔
3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) نے فرمایا کہ آیت یومئذ یصدعون سے مراد ہے…
Read the full tafseer →مَنْ كَفَرَ [جس نے کفر کیا ] فَعَلَيْهِ [تو اس پر ہے ] كُفْرُه ٗ ۚ [اس کا کفر ] وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا [اور جس نے عمل کیا نیکی کا ] فَلِاَنْفُسِهِمْ [تو اپنی جانوں کے لئے ] يَمْهَدُوْنَ [وہ لوگ آرام دہ بناتے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →پھر فرمایا (مَنْ کَفَرَ فَعَلَیْہِ کُفْرُہٗ ) (کہ جو شخص کفر کرے اس کا وبال اسی پر پڑے گا) (وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًافَلِاَنْفُسِھِمْ یَمْھَدُوْنَ ) (اور جو شخص نیک کام کرے سو ایسے اپنی ہی جانوں کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں) یعنی پیشگی سامان کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–47
ذکر وبال ونحوست کفر ومعصیت در دار دنیا
قال اللہ تعالیٰ ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقہم بعض الذی عملوا لعلہم یرجعون۔۔۔ الی۔۔۔ وکان حقا علینا نصر المومنین۔
(ربط) گذشتہ آیات میں کفر اور شرک اور معصیت پر تہدید تھی اب ان آیات میں کفر اور معصیت کی نحوست کو بیان کرتے ہیں کہ یہ ایسی منحوس چیزیں ہیں کہ بسا اوقات دنیا ہی میں بد اعمالی کی وجہ سے طرح طرح کی بلائیں اور آفتیں اور مصیبتیں پیش آتی ہیں جیسے قحط اور سیلاب اور طاعون وغیرہ اور آخرت سے پہلے دنیا ہی میں سزا کا کچھ مزا چکھا دیا جاتا ہے باقی پوری سزا تو آخرت میں ملے گی اور ان دنیاوی مصائب وآفات کے نازل کرنے سے مقصد یہ ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
ف 35 یہ توحید پر گیارہویں عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت و عظمت اور اس کی وحدانیت کہ ایک دلیل یہ بھی ہے کہ وہ بارانِ رحمت کی خوشخبری لانے والی ہوائیں چلاتا ہے اور بارانِ رحمت سے سرسبز و شاداب اور لہلہاتے کھیت اگاتا ہے۔ اللہ کے حکم سے ہوا بادبانی کشتیوں کو ادھر سے ادھر لیجاتی ہے جس سے ہم آسانی سے سفر کرتے ہیں اور تجارتی سفروں میں نفع کماتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اس کے ساتھ شرک نہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
ربطہ آیات
پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید اور توحید کے دلائل بیان فرمائے۔ اور ساتھ ساتھ قیامت کا مسئلہ بھی سمجھایا۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ تمام اسباب پر اسی کا تصرف ہے اور رزق کی تنگی اور کشادگی ہونا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ وہی انسانوں کو زندگی بخشتا ، روزی دیتا اور موت طاری کرتا ہے اور پھر قیامت کو دوبارہ بھی زندہ کریگا اللہ نے شکوہ بیان کیا کہ جب یہ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے تو پھر لوگ شرک سے باز کیوں نہیں آتے اور اللہ کی دی ہوئی روزی میں بخل کیوں کرتے ہیں ؟
بحردبر میں فساد کا ظہور
اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ بسا اوقات لوگوں کی نافرمانیوں اور…
Read the full tafseer →مَنْ كَفَرَ فَعَلَيْہِ كُفْرُہٗ 0 ۚ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِہِمْ يَمْہَدُوْنَ 4 4ۙ
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
ترکیب : لیذیقیہم متعلق یظہر ای لیصیرحا لھم الیٰ ذلک وقیل التقدیر عاقبھم لیذلقیھم، کان اکثر ھم استینات من اللہ متعلق بیاتی۔ ویجوزان یتعلق بمرد لانہ مصدر علیٰ معنی لایردہ لتعلق ارادتہ القدیمۃ بمجیئہ۔ یومئذ، بدل من یوم والناصب یصدعون ای یتفرقون فریق فی الجنۃ و فریق فی النار کما یقول من کفر فعلیہ کفرہ ای علیہ وبال کفر یمہدون یستو وں منزلا فی الجنۃ لیجزی علۃ لیمہدون او لیصدعون۔ والاقتصار علی جزاء المومنین۔ للاکتفاء علی فحوی قولہ انہ لا یحب الکفرین۔
تفسیر : ظہر الفساد فی البر والبحر ردّ شرک کے قوی دلائل بیان فرما کر اب اس جگہ یہ بات ظاہر فرماتا ہے کہ فطرت اللہ کے ترک کرنے سے اور کفر و شرک اور ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
مَنْ کَفَرَ فَعَلَیْہِ کُفْرُہٗ ج وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِہِمْ یَمْھَدُوَنَ ۔ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِہٖ ط اِنَّـہٗ لاَ یُحِبُّ الْـکٰفِرِیْنَ ۔ (الروم : 44 45)
(جس نے کفر کیا اس کے کفر کا وبال اسی پر ہے، اور جنھوں نے نیک اعمال کیے وہ بیشک اپنے لیے زمین ہموار کررہے ہیں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزاء دے، یقینا وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔ )
قیامت میں کفر کا نتیجہ
قیامت کی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آج کافر لوگ اپنے کفر پر نازاں ہیں اور ایمان لانے والوں کو حقارت کی نگاہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
فہم القرآن
ربط کلام : دنیا کے فساد اور برے انجام سے بچنے کے لیے لازم ہے کہ انسان اپنے چہرے کو اللہ ہی کی طرف متوجہ رکھے۔ انسان اسی بنیاد پر ہی دنیا اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
عقیدہ توحید اور دین کی اہمیّت اور اس کی فضیلت کے پیش نظر براہ راست سرور دوعالم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ مشرک جس قدر چاہیں عقیدہ توحید اور دین اسلام کو ناپسند کریں اور اس کی مخالفت کرتے رہیں آپ کو ہر حال میں اپنے چہرے کو اپنے رب کی طرف رکھنا اور دین اسلام پر قائم رہنا چاہیے۔ اس دن سے پہلے جو ہر صورت آکر رہے گا جو کسی کے انکار یا اقرار سے ٹل نہیں سکتا۔ اس دن سب لوگ منتشر ہوں گے کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکے گا جس نے کفر…
Read the full tafseer →44: : پھر اللہ تعالیٰ کی بےنیازی کی طرف اشارہ کیا۔
اللہ کی بےنیازی کافر کو کفر کی سزا اور نیک عمل کا بدلہ جنت ہوگا :
مَنْ کَفَرَ فَعَلَیْہِ کُفْرُہٗ (جو کفر کر رہا ہے اسی پر اس کا کفر پڑے گا) یعنی کفر کا وبال واقع ہوگا۔ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِھِمْ یَمْھَدُوْنَ (اور جو نیک عمل کر رہے ہیں وہ اپنے ہی لئے سامان کر رہے ہیں) یعنی وہ اپنے نفوسوں کیلئے اسے درست کر رہے ہیں اپنے نفس کیلئے وہ آدمی درست کرتا ہے جو بستر بچھاتا ہے تاکہ نیند کو خراب کرنے والی کوئی چیز ابھاروغیرہ اس کی خوابگاہ میں باقی نہ رہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی وجہ سے جنت ان کے لئے تیار فرما رہے ہیں۔
نکتہ :…
Read the full tafseer →44۔ ، من کفر فعلیہ کفرہ، ان کے کفر کا وبال ۔ ومن عمل صالحا فلانفسھم یمھدون، وہ اپنی خواب گاہوں کو روند رہے ہوں گے اور قبروں میں اپنے لیے سامان تیارکر رہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–51
40 تا 51۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ پہلی دفعہ جو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کو پیدا کیا پھر عمر پوری ہونے کے بعد ہر ایک جاندار کی موت اللہ کے حکم سے آتی ہے کسی کو اس میں کچھ دخل نہیں ہے یہ سب کچھ تو ان مکہ کے مشرکوں کی آنکھوں کے سامنے ہے اور ان مشرکوں کے رزق کی سبب جو آسمان سے پانی کا برستا ہے وہ بھی اللہ کے ہی اختیار میں ہے ان کے بتوں کو اس میں کچھ دخل نہیں اور جب ایک دفعہ یہ تمام عالم پیدا ہوچکا تو ان مشرکوں کے روز مرہ کے تجربہ کو گواہی سے دوسری دفعہ انسان کا پیدا ہونا اور نیک وبد کی جزا وسزا کا ہونا بالکل سہل ہے حاصل یہ ہے کہ جب یہ سب اللہ کے اختیار میں ہے تو ان آیتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
آیت نمبر : 43 ۔ 45
اپنے دل ‘ چہرے اور بدن کو سیدھے اور مستقیم دین کو قائم رکھنے پر متوجہ رکھیے ‘ کوشش اور جدوجہد سے اللہ تعالیٰ کے اوامرو نواہی کو نافذ کیجیے اور دین کے ظاہری اور باطنی تمام وظائف ادا کیجیے۔ اپنے زمانے ‘ اپنی زندگی اور اپنے شباب میں جلدی سے نیک عمل کرلیجیے (من قبل ان یاتی یوم لا مرد لہ من اللہ) ” اس دن سے پہلے جو اللہ کی طرف سے آکر رہے گا اور رک نہیں سکے گا۔ “ اس سے مراد روز قیامت ہے اور جب وہ دن آجائے گا تو اسے روکنا ممکن نہ ہوگا۔ عمل کرنے والوں کو مہلت نہ دی جائے گی کہ اپنے عمل کو نئے سرے سے سرانجام دیں بلکہ وہ اعمال سے فارغ ہوچکے اب تو عمل کرنے والوں کی جزا کے سوا کچھ باقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–60
جوانی ، بڑھاپے کی زحمت سے پہلے غنیمت ہے
قول باری ہے : (اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعدقوۃ ضعفا وشیبۃ۔ اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے رحم مادر میں ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر تمہیں اطفال بنایا کہ عہد طفولیت میں تم اپنی ذات کے لئے کسی نفع نقصان کے مالک نہیں تھے۔ پھر تمہیں طاقت وربنایا اور تمہیں اتنی استطاعت ، عقل وفہم اور سمجھ بوجھ عطا کی کہ تم دنیاوی امور میں تصرف کے ذریعے جلب منفعت اور دفع مضرت کرسکو۔ پھر اس نے تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
61 قیام قیامت کا اصل مقصد اہل ایمان کو نوازنا : سو قیام قیامت کی غرض وغایت کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ اللہ ایمان اور عمل صالح والوں کو اپنے فضل سے نوازے "۔ یعنی جنت تو انسان کو اپنے اعمال کے بل بوتے پر نہیں بلکہ اللہ پاک کے فضل و کرم اور اس کی رحمت و عنایت ہی سے ملے گی۔ ورنہ ہمارے تو زندگی بھر کے تمام نیک اعمال تو اللہ پاک کی ان نعمتوں کا بھی بدلہ نہیں ہوسکتے جن سے ہم لوگ اس دنیاوی زندگی میں فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اور پھر انسانی اعمال تو بہرحال محدود ہیں جبکہ جنت کی زندگی اور اس کی نعمتیں ابدی اور لامحدود۔ تو وہاں کی لامحدود نعمتیں ان محدود اعمال کا صلہ اور بدلہ کس طرح ہوسکتی ہیں ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
اللہ کی چار صفات، مشرکین اور اہل ایمان کا مقام
تشریح : جیسا کہ کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے کہ شرک ظلم ہے۔ یعنی اس سے اللہ تعالیٰ کا تو کوئی بھی کسی صورت کچھ بھی نقصان نہیں ہوتا اگر نقصان ہوتا ہے تو صرف شرک کرنے والے کا بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے کیونکہ جو شخص اپنے معبود کے بارے میں ایک یقین نہیں رکھتا ظاہر ہے وہ نہ تو خود مضبوط ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کا راستہ بلکہ وہ ساری عمر ڈانواں ڈول بےیقینی کی زندگی گزارتا ہے اور اس طرح دنیا و آخرت میں عذابوں کا شکار ہوتا ہے شرک انسانی زندگی کے لیے بد ترین زہر سے کم نہیں اسی سے تمام اخلاقی برائیاں بھی پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ان میں صرف دنیاوی زندگی کا تصور بیٹھ جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیات 41 تا 53
اسرارومعارف
کفر و شرک کی مصیبت اللہ کی ناراضگی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اس سے نظام عالم میں خرابی پیدا ہو کر خشکی و تری میں فساد پھیلتا ہے اگرچہ رحمت باری انسان کے سب گناہوں کی سزا اس پر فورا نہیں ڈالتی اور اللہ انسان کو مہلت دیتا ہے مگر اس کے باوجود گناہوں کے اثراتبد کا اظہار ہوتا رہت ہے جسے کافر دنیا ہیں بےحیائی کو عورت کی آزادی کا نام دے کر رواج کردیا گیا آج وہی مصیبت ان کے لیے ہت بڑا عذاب ہے ہر گر کا سکون تباہ ہورہا ہے اولاد کا کوئی نصب نہیں ملتا اور ایڈز جیسے موذی امراض بدکاری کا پھل ہیں ایسے معاش میں سودی نظام کے بڑے برے نتائج دیکھ کر لوگ توبہ کریں اور واپس آجائیں۔ ان سے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ف 5 یا (جنت یا قبر میں) اپنے لئے آرام کی جگہ بنائیں گے۔ یہ ” لانفسھم یمھدون “ کا لفظی ترجمہ ہے اور یہ آیت ’ دیصرعون “ کی تفسیر ہے۔ یعنی آخرت میں کافر اور مومن الگ الگ ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
(30:45) لیجزی۔ میں لام تعلیل کا ہے اور جملہ لیجزی الذین امنوا وعملوا الصلحت من فضلہ۔ علت ہے یمھدون کی یا یصدعون کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
(لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 45 (
ظھر (ظاہر ہوگیا۔ کھل گیا) ۔ بحر (تری۔ دریا۔ سمندر) ۔ کسبت (اس نے کمایا) ۔ یذیق (وہ چکھاتا ہے) ۔ سیروا (تم چلو پھرو) ۔ دین القیم (بہترین اور مستحکم دین) ۔ لا مرد (ٹلنے والا نہیں ہے) ۔ یصدعون (الگ الگ ہوجائیں گے) ۔ یمھدون (وہ ہدایت حاصل کرتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 41 تا 45
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کر کے کسی کو اس کا شریک نہ ماننا، اسی کی عبادت و بندگی اور اعمال صالحہ کی روش پر چلنا، ہر طرح کے گناہوں اور برے اعمال سے رک جانا دین فطرت ہے۔ لیکن اس کے بر خلاف کفروشرک اور اللہ کی نافرمانیوں میں مبتلا ہو کر کھلم کھلا ظلم و زیادتی پر اتا آنا خلاف فطرت ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
علامات قیامت اور جنتی دوزخیوں کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں ہوا کا ذکر اور ہوا کے سبب سے بادل جو آتے ہیں ان کا ذکر، اور بادلوں کے سبب سے جو مینہ برستا ہے اس کا ذکر فرما کر فرمایا ہے کہ جس طرح ہر سال برسات کے موسم میں زمین کی مری ہوئی مٹی زندہ ہوجاتی ہے اور اس میں ہر طرح کے اناج کے پیدا ہونے کی قوت آجاتی ہے اس طرح حشر کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک مرے ہوئے شخص کے جسم کو پھر تیار کرکے ان جسموں میں پھر روح پھونکے گا۔ صحیح بخاری ومسلم کی حضرت ابوہریرہ سے حدیث ہے کہ دوسرے صور سے پہلے شبنم کی طرح ایک مینہ برسے گا جس سے زمین کے سب مرے ہوئے لوگوں کے پتلے بن کرتیارہوجائیں گے پھر دوسراصور پھونکا جائے گا جس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
[24] یعنی معاش۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
خدا انسان کا حریف نہیں ہے
1: ان آیتوں میں بتایا ہے ۔ کہ جہاں تک کفر و انکار کا تعلق ہے اس سے ذات صویت کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔ اسی طرح ایمان و اعمال صالح سے اس کی جلالت قدر میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا
اگر ساری دنیا کفر و طغیان کو اپنا شیوہ بنا لے ۔ اور برملا خدا کا انکار کردے ۔ تو اس کے وجود باجود میں اور اس کے تحفق قومیت میں ذرہ برابر فرق نہیں ہوتا ۔ اسی طرح اگر دنیا میں کوئی منکر نہ رہے تمام ملحد اپنے غلط عقائد سے توبہ کرلیں ۔ اور مومن صادق بن جائیں ۔ اور زہد وورع کا لباس زیت تن کرلیں ۔ تو اس کی عظمت اور رفعت میں کچھ بھی ترقی نہیں ہوتی ۔ یہ کفروعصیاں تو محض اس لئے مذموم ہے ۔ کہ اس سے خود…
Read the full tafseer →44۔ جو شخص کفر و انکار کا خوگر ہو اور کفر کا شیوہ اختیار کیا تو اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑنے والا ہے اور جو کوئی نیک عمل کر رہا ہے اور نیک عمل کا پابند ہے تو ایسے ہی لوگ اپنی آرام گاہ سنوار رہے ہیں اپنے نفع کا سامان کر رہے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ کافروں پر کفر کا وبال ہوگا اور اہل ایمان اور اعمال صالحہ کے پابند اپنی جنت کو سنوارتے اور آراستہ کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
ف 2۔ یعنی جریان فلک اور ابتغاء فضل دونوں ارسال ریاح کے مسبب ہیں، اول قریب بلا واسطہ اور ثانی بعید بواسطہ اول کے۔
Read the full tafseer →کفر کا وبال کافر ہی پر پڑے گا کوئی نیک عمل ہے تو خود فائدہ میں ہوگا :
44۔ آج سے نہیں بلکہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو پیدا کیا اس وقت سے یہ بات طے چلی آرہی ہے کہ یہ کفر کرنے والے کو کفر کے وبال سے دوچار ہونا ہے ایسا نہیں ہو سکتا کہ کفر تو کرے الف اور اس کا وبال ب پر پڑے کیونکہ وہاں اندھیر کھاتا نہیں اور نہ ہی ایسا قانون ہے کہ ہرچیز ٹکے سیر بک رہی ہو ‘ نہیں بلکہ اصول خداوندی ایک مدت سے یہی چلا آرہا ہے کہ جو عمل کرتا ہے اس کے نتیجہ سے وہی دو چار ہوتا ہے اس لئے یہی اصول اس جگہ بھی کام کر رہا ہے کہ نیک عمل کرنے والے اپنی ہی لیے راہ ہموار کر رہے ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
Commentary
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ (Plight has appeared on land and sea because of what the hands of the people have earned 30:41). The author of Ruh ul-Ma’ ani has explained that the word fasad' (translated in the text as 'plight' ) means all sorts of calamities, such as famine, epidemic diseases, frequency of the incidents of fire, drowning, lack of Allah's blessing in everything, and reduction in profits and incurring of losses in lucrative businesses. It can also be deduced from this verse that the cause of falling of calamities in the…
Read the full tafseer →67 This is a comprehensive sentence which encompasses all those harms which can afflict a disbeliever on account of his disbelief. No list of the harms could be so comprehensive as this.
Read the full tafseer →