Ar-Room 30:43

Ar-Room · from ayah 43

30:43

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَىِٕذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ ۟فَاَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّيۡنِ الۡقَيِّمِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِىَ يَوۡمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ‌ۖ يَوۡمَئِذٍ يَّصَّدَّعُوۡنَ

تو اس روز سے پہلے جو خدا کی طرف سے آکر رہے گا اور رک نہیں سکے گا دین (کے رستے) پر سیدھا منہ کئے چلے چلو اس روز (سب) لوگ منتشر ہوجائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So direct your face toward the correct religion before a Day comes from Allah of which there is no repelling. That Day, they will be divided.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 5 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:43

پس (اے نبیؐ) اپنا رُخ مضبوطی کے ساتھ جما دو اِس دین راست کی سمت میں قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹل جانے کی کوئی صورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے اُس دن لوگ پھَٹ کر ایک دُوسرے سے الگ ہو جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو اس روز سے پہلے جو خدا کی طرف سے آکر رہے گا اور رک نہیں سکے گا دین (کے رستے) پر سیدھا منہ کئے چلے چلو اس روز (سب) لوگ منتشر ہوجائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس آپ اپنا رخ اس سچے اور سیدھے دین کی طرف ہی رکھیں قبل اس کے کہ وه دن آجائے جس کا ٹل جانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ہی نہیں، اس دن سب متفرق ہو جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا تم اپنا رخ صحیح دین کی طرف قائم رکھو، قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کا اللہ کی طرف سے کوئی امکان نہیں ہے۔ اس دن لوگ الگ الگ ہوجائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اپنا منہ سیدھا کر عبادت کے لیے قبل اس کے کہ وہ دن آئے جسے اللہ کی طرف ٹلنا نہیں اس دن الگ پھٹ جائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو آپ اپنا رُخِ (انور) سیدھے دین کے لئے قائم رکھیئے قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جسے اﷲ کی طرف سے (قطعاً) نہیں پھرنا ہے۔ اس دن سب لوگ جدا جدا ہو جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس تو اپنا چہرہ سیدھے دین کی طرف سیدھا کرلے، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی اللہ کی طرف سے کوئی صورت نہیں، اس دن وہ جدا جدا ہوجائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس (اے نبی !) اپنی توجہ درست اور متوازن دین کی طرف مرکوز کیجئے بیشتر اس کے کہ وہ دن آجائے جس کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ٹلنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اس دن لوگ پھٹ کر الگ الگ ہوجائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس اپنا رخ دین قیم کی طرف سیدھا رکھو۔ قبل اس کے کہ اللہ کی طرف سے ایک ایسا دن آجائے جس کے لئے پھر واپسی نہیں ہے۔ اس دن وہ جدا جدا ہوجائیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس تم سیدھا رکھو اپنا رخ اس دین قیم (و راست) کی طرف اس سے پہلے کہ آپہنچے وہ دن جس کے ٹالنے (روکنے) کی کوئی صورت نہ ہوگی اللہ (پاک) کی طرف سے اس دن لوگ پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

سو تو اپنا رخ دین مستقیم کی طرف کرلے۔ قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کیلئے پھر اللہ کی طرف سے ہٹنا نہ ہوگا اس روز (سب لوگ) جدا جدا ہوجائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پس اپنے چہرے کو قائم رکھو دین قیم کی طرف اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جسے اللہ کی طرف سے کوئی لوٹانے والا نہیں ہوگا جس دن یہ لوگ علیحدہ علیحدہ ہوجائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو اس دن سے پہلے جو اللہ کی طرف سے آکر رہے گا اور رک نہیں سکے گا دین کے رستے پر سیدھا منہ کیے چلے چلو اس دن سب لوگ منتشر ہوجائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So turn your face exclusively towards the True Faith before there comes the Day whose coming from Allah cannot be averted, the Day when people will split into groups.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then set your face to the straight Faith before the arrival of a day that will never be repulsed by Allah. On that Day the people will be split apart.

— Muhammad Taqi Usmani

Then set your face to the straight Faith before the arrival of a day that will never be repulsed by Allah. On that Day the people will be split apart.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, set you your face to the straight and right religion, before there comes from Allah a Day which none can avert. On that Day men shall be divided.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So set thy purpose resolutely for the right religion, before the inevitable day cometh from Allah. On that day mankind will be sundered-

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So direct your face toward the correct religion before a Day comes from Allah of which there is no repelling. That Day, they will be divided.

— Saheeh International

Be devoted to the upright religion before the coming of the inevitable day when no one can escape from God and people will either be sent to Paradise or hell."

— Muhammad Sarwar

Then turn thy face straight to the right religion before there come from Allah the day which cannot be averted; on that day they shall become separated.

— Muhammad Habib Shakir

So set thy face toward the right religion before the Day cometh from which there is no averting, from Allah, on that Day they shall be sundered.

— Abdul Majid Daryabadi

But set thou thy face to the right Religion before there come from Allah the Day which there is no chance of averting: on that Day shall men be divided (in two).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 30:43

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 43–45

اللہ کے دین میں مستحکم ہوجاؤ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دین پر جم جانے کی اور چستی سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے۔ مضبوط دین کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجاؤ۔ اس سے پہلے کہ قیامت کا دن آئے۔ جب اس کے آنے کا اللہ کا حکم ہوچکے گا پھر اس حکم کو یا اس آنے والی جماعت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس دن نیک بد علیحدہ علیحدہ ہوجائیں گے۔ ایک جماعت جنت میں ایک جماعت بھڑکتی ہوئی آگ میں۔ کافر اپنے کفر کے بوجھ تلے دب رہے ہونگے۔ لوگ اپنے کئے ہوئے نیک اعمال بہترین آرام دہ ذخیرے پر خوش وخرم ہونگے۔ رب انہیں ان کی نیکیوں کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر کئی کئی گناہ کرکے دے رہا ہوگا۔ ایک ایک نیکی دس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الروم 66 یعنی جس کو نہ اللہ تعالیٰ خود ٹالے گا اور اس نے کسی کے لیے ایسی کسی تدبیر کی کوئی گنجائش چھوڑی ہے کہ وہ اسے ٹال سکے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–45

خلاصہ تفسیر (شرک و معصیت ایسی بری چیز ہے کہ) خشکی اور تری (یعنی تمام دنیا) میں لوگوں کے (برے) اعمال کے سبب بلائیں پھیل رہی ہیں (مثلاً قحط و وباء و طوفان) تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بعضے اعمال (کی سزا) کا مزہ ان کو چکھا دے تاکہ وہ (اپنے ان اعمال سے) باز آجائیں (جیسا دوسری آیت میں ہے وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ ، اور بعض اعمال کا مطلب یہ ہے کہ اگر سب اعمال پر یہ عقوبتیں مرتب ہوں تو ایک دم زندہ نہ رہیں، کقولہ تعالیٰ وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ ، اسی معنی سے آیت بالا میں وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فاقھم وجھک للدین القبیم من قبل ان یاتی یوم لا مردلہ من اللہ یومئذ یصدعون (43) یہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی طرف اس قسم کا التفات ہے جس قسم کا التفات اوپر آیت 31 میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ ہٹ دھرم اور شامت زدہ لوگ نہیں سنتے تو ان کی پروانہ کرو بلکہ تم خدا کے سیدھے اور فطری دین کی طرف یکسو ہوجائو اور اس دن کی مسئولیت سے بچنے کی فکر کرو جس کا آنا قطعی ہے، اور جب وہ دن خدا کی طرف سے ظہور میں آئے گا تو کسی کی طاقت نہیں ہوگی کہ اس کو لوٹا سکے۔ ’ یومئذ یصدعون۔ ‘ یعنی آج تو ان لوگوں کو اپنے شرکاء شفعا پر بھی اعتماد ہے اور اپنی جمعیت پر بھی ناز ہے لیکن اس دن سب متفرق ہوجائیں گے، کوئی کسی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

43-1یعنی اس دن کے آنے کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اس لئے اس دن (قیامت) کے آنے سے پہلے پہلے اطاعت الٰہی کا راستہ اختیار کرلیں اور نیکیوں سے اپنا دامن بھر لیں۔ 43-2یعنی دو گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے ایک مومنوں کا دوسرا کافروں کا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 41–45

20: آیت کریمہ یہ سبق دے رہی ہے کہ عام مصیبتوں کے وقت چاہے ظاہری اسباب کے ماتحت وجود میں آئی ہوں، اپنے گناہوں پر استغفار اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 43–45

فاقم وجھک للدین ۔۔۔۔۔ انہ لا یحب الکفرین (43 – 45) دین قیم کی طرف متوجہ ہونے والے کے لیے قرآن جو شکل تجویز کرتا ہے وہ نہایت ہی اثر انگیز ہے اور یہ بتاتی ہے کہ متوجہ ہونے والا شخص اپنی پوری توجہ سے اس طرف مڑ گیا ہے۔ وہ سنجیدہ اور سیدھا ہے۔ فاقم وجھک للدین القیم (30: 43) ” اپنا رخ مضبوطی کے ساتھ جما دو دین راست کی سمت میں “۔ نہایت اہتما ، نہایت توجہ ، صددر حکم کے انتظار کی طرح ، نہایت پختگی کے ساتھ اپنا رخ عالم بالا کی طرف کر دو جس طرح ایک فوجی (اٹن شن) کی حالت میں ہوتا ہے۔ دین قیم کی طرف رخ جما دینے کا حکم پہلی مرتبہ اس سورة میں اس وقت آیا تھا جب بات لوگوں کی خواہشات نفسانیہ کے پیچھے وڑنے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی دنیا میں فساد پھیل گیا تو تم دین قیم پر جو دین فطرت ہے ٹھیک ٹھیک قائم رہو۔ سب خرابیوں کا ایک یہ ہی علاج ہے۔ 4 یعنی اللہ کی طرف سے اس دن کا آنا اٹل ہے نہ کوئی طاقت اسے پھیر سکتی ہے نہ خود اللہ ملتوی کرے گا۔ 5 یعنی نیک جنت میں اور بد دوزخ میں بھیج دیے جائینگے۔ " فریق فی الجنۃ و فریق فی السعیر " (شوریٰ ۔ رکوع 1) حضرت شاہ صاحب اس کو دنیا کے احوال پر حمل کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ " یعنی دین کا غلبہ ہو، سزا پانیوالے الگ ہوں اور اللہ کے مقبول بندے الگ۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 42–43

آیت 43 فَاَقِمْ وَجْہَکَ للدِّیْنِ الْقَیِّمِ ” قبل ازیں آیت 30 میں بھی یہی ہدایت دی گئی ہے۔ یَوْمَءِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ ” اس دن تمام نسل انسانی اپنے اپنے اعتقادات اور اعمال کے اعتبار سے مختلف گروہوں میں بٹ جائے گی۔ گویا دودوھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

50 لہذا اے نبی ! اور اے مسلمانو ! مشرکوں کے ان تمام لغویات سے منہ موڑ کر دین فطرت کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔ کیونکہ ہر طرح کی خرابیوں اور فسادات کی جڑ یہ شرک ہی ہے۔ اور ان کا علاج صرف یہی ہے کہ اپنی تمام تر توجہ اللہ کی طرف مبذول کرلو اور اسی پر توکل رکھو۔ 51 یعنی جیسے موت ایک اٹل حقیقت ہے اور اسے کوئی بھی اپنے سے ٹال نہیں سکتا اور نہ اس کے وقت وہ تقدیم و تاخیر ہوسکتی ہے۔ اسی طرح قیامت بھی ایک اٹل حقیقت ہے جو نہ کسی کے ٹالے ٹل سکتی ہے نہ کوئی اسے اپنے آپ سے ٹال سکتا ہے اور نہ ہی اس میں تقدیم و تاخیر ممکن ہے اور ان دونوں حقیقتوں میں مناسبت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو کوئی مرگیا تو اسی دن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

53۔ (اے مخاطب) دین مستقیم کی طرف یعنی توحید اسلامی کی طرف۔ 54۔ (باعتبار جزاء کے) یعنی اہل جہنم کا گروہ الگ ہوجائے گا اور اہل جنت کا الگ۔ فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر (بحر) (آیت) ” یوم لامردلہ “۔ یعنی آج جس طرح عذاب ٹلتا رہتا ہے۔ اس یوم موعود کے وعدہ پر۔ جب یوم موعود آجائے گا۔ تو اب کوئی صورت اس عذاب کے ٹلنے کی باقی نہ رہے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–53

آیت نمبر 41 تا 53 ترجمہ : خشکی یعنی میدانوں میں خشک سالی اور نباتات کی کمی کی وجہ سے اور تری یعنی ان شہروں میں جو نہروں (سمندروں) کے کنارے واقع ہیں پانی کی قلت کی وجہ سے لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد ظاہر ہوگیا تاکہ ہم ان کو ان کے بعض اعمال کی سزا کا مزہ چکھائیں ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں توبہ کریں، آپ مکہ کے کافروں سے کہئے کہ زمین میں چلو پھرو دیکھو پہلوں کا کیا انجام ہوا ؟ جن میں اکثر لوگ مشرک کے سبب ہلاک کردیئے گئے اور ان کے گھر اور مکانات گرے پڑے ہیں آپ اپنی توجہ دین قیم یعنی اسلام کی جانب رکھئے قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کو اللہ (ہرگز) نہیں ٹالے گا اس روز سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاقم وجھک للذین القیم من قبل ان یاتی یوم لا مردلہ من اللہ . سو آپ اپنا رخ دین قیم (یعنی اسلام) کی طرف کرلیجئے قبل اس کے کہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے کہ جس کو لوٹانا ممکن نہیں۔ فَاَقِمْ وَجْھَکَ یعنی گزشتہ کافروں کی بدانجامی سے ڈر کر آپ اپنا رخ دین مستقیم کی طرف کرلیجئے۔ لاَ مَرَدَّلَہٗ یعنی جس کو لوٹا دینے والا کوئی نہیں۔ ممکن ہے اس دن سے مراد ہو دنیوی عذاب کا مقرر دن ‘ لیکن صحیح یہ ہے کہ اس سے قیامت کا دن مراد ہے۔ یومئذ یصدعون . اس روز سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے۔ یعنی آخرت کے روز ایک فریق جنت میں اور دوسرا فریق دوزخ میں چلا جائے گا۔ یا دنیا میں ایک فریق عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا اور دوسرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

سو اے مخاطب تو اپنے عمل اور دین کو خالص اللہ تعالیٰ ہی کے لیے رکھ اور اس دین پر جو کہ دین مستقیم ہے قائم رہ اس سے پہلے کہ قیامت آجائے سو اس روز عذاب الہی سے تمہیں کوئی بھی بچانے والا نہ ہوگا اور قیامت کے دن سب الگ الگ جماعتیں ہوجائیں گی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاَقِمْ وَجْهَكَ للدِّيْنِ الْقَيِّمِ : یعنی جب بر و بحر میں شرک کی وجہ سے فساد پھیل گیا ہے تو اے مخاطب ! تو اپنا چہرہ اس دین کی طرف سیدھا کرلے جو بالکل سیدھا اور فطرت توحید پر قائم ہے۔ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ : ”مَرَدَّ“ ”رَدَّ یَرُدُّ“ سے مصدر میمی ہے، ہٹانا، پھیر دینا۔ یعنی اس دن سے پہلے پہلے دین قیم کی طرف اپنا رخ سیدھا کرلے جس کا واقع ہونا اللہ تعالیٰ نے طے کردیا ہے اور اللہ کی طرف سے اس کے ٹلنے کی کوئی صورت نہیں، پھر کوئی اور اسے کس طرح ٹال سکتا ہے ؟ يَوْمَىِٕذٍ يَّصَّدَّعُوْنَ : ”يَّصَّدَّعُوْنَ“ اصل میں ”یَتَصَدَّعُوْنَ“ ہے ”پھٹ جائیں گے“ یعنی قیامت کے دن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 42–43

اے محمد ﷺ انہیں کیسے زمین میں گھومو پھرو تاکہ پہلے لوگوں کے احوال سے عبرت حاصل کرسکو اور دیکھو کہ رسولوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ ” پس کرلو اپنا رخ اس قیم کی طرف اس سے پہلے کہ آجائے وہ دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے جسے ٹلنا نہیں اس روز یہ لوگ جدا جدا ہوجائیں گے۔ “ زجاج نے کہا : اپنے ارادہ سیدھا رکھو اور اپنی جہت کو دین قیم کی اتباع کی طرف رکھو۔ دین قیم سے مراد اسلام ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ معنی ہے حق واضح کرو معذرت پیش کرنے میں مبالغہ سے کام لو جو کام کر رہے ہو اس میں مشغول رہو اور ان پر غمگین نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ اسے ان سے نہیں لوٹائے گا جب اللہ تعالیٰ انسے نہیں لوٹائے گا تو کسی کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 43–46

دین اسلام پر قائم رہنا کامیابی ہے 1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاقم وجہک للدین القیم آپ اپنا رخ دین قیم یعنی اسلام کی طرف کر لیجیے۔ آیت من قبل ان یاتی یوم لا مرد لہ من اللہ قبل اس کے کہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے کہ جس کو لوٹانا ممکن نہیں یعنی قیامت کا دین آیت یومئذ یصدعون یعنی ایک فریق جنت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں ہوگا۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یومئذ یصدعون سے مراد ہے کہ اس میں وہ لوگ جداجدا ہوجائیں گے۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) نے فرمایا کہ آیت یومئذ یصدعون سے مراد ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاَقِمْ [پس آپ ﷺ قائم رکھیں ] وَجْهَكَ [اپنے چہرے کو ] لِلدِّيْنِ الْقَيِّمِ [اس سیدھے دین کے لئے ] مِنْ قَبْلِ اَنْ [اس سے پہلے کہ ] يَّاْتِيَ [آئے ] يَوْمٌ [ایک ایسا دن ] لَّا مَرَدَّ [کوئی بھی لوٹانے کی جگہ (یعنی امکان) نہیں ہے ] لَهٗ [جس کے لئے ] مِنَ اللّٰهِ [اللہ (کی طرف) سے ] يَوْمَىِٕذٍ [اس دن ] يَّصَّدَّعُوْنَ [لوگ الگ الگ ہوں گے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے لیے فرمایا کہ (فَاَقِمْ وَجْھَکَ للدِّیْنِ الْقَیِّمِ ) (الآیۃ) اے مخاطب ! اپنا رخ دین قیم کی طرف رکھ یعنی توحید پر جما رہ، اس سے پہلے کہ ایسا دن آجائے یعنی اللہ کی طرف سے عذاب والا دن آجائے اور اس عذاب کو ہٹایا نہ جائے گا (اس سے قیامت کا دن مراد ہے) اس دن لوگ متفرق یعنی جدا جدا ہوجائیں گے، نیک اعمال والے الگ اور برے اعمال والے الگ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–47

ذکر وبال ونحوست کفر ومعصیت در دار دنیا قال اللہ تعالیٰ ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقہم بعض الذی عملوا لعلہم یرجعون۔۔۔ الی۔۔۔ وکان حقا علینا نصر المومنین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں کفر اور شرک اور معصیت پر تہدید تھی اب ان آیات میں کفر اور معصیت کی نحوست کو بیان کرتے ہیں کہ یہ ایسی منحوس چیزیں ہیں کہ بسا اوقات دنیا ہی میں بد اعمالی کی وجہ سے طرح طرح کی بلائیں اور آفتیں اور مصیبتیں پیش آتی ہیں جیسے قحط اور سیلاب اور طاعون وغیرہ اور آخرت سے پہلے دنیا ہی میں سزا کا کچھ مزا چکھا دیا جاتا ہے باقی پوری سزا تو آخرت میں ملے گی اور ان دنیاوی مصائب وآفات کے نازل کرنے سے مقصد یہ ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

34:۔ یہ پہلے فاقم وجہک الخ کے مضمون کا اعادہ اور اس کی تاکید ہے۔ قیامت کا دن جو لا محالہ آ کر رہے گا اور کسی کے روکے سے رک نہیں سکے گا اس کی آمد سے پہلے توحید پر قائم ہوجاؤ۔ دنیا میں توحید کو مان لینا آخرت میں فائدہ دے گا لیکن آخرت کا ایمان و یقین بےسود ہوگا۔ یومئذ یصدعون وہاں تو مومنوں اور مشرکوں کو الگ الگ کردیا جائے گا فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر من کفر فعلیہ الخ، یہ تخویف اخروی ہے جس نے دنیا میں کفر و شرک اختیار کیا آخرت میں اس کا وبال اسی پر پڑے گا۔ ومن عمل صالحا الخ۔ یہ بشارت اخروی ہے اور جن لوگوں نے دنیا میں توحید کو مان لیا اور اعمال صالحہ بجا لائے وہ اپنی ہی آخرت سنوار رہے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–45

ربطہ آیات پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید اور توحید کے دلائل بیان فرمائے۔ اور ساتھ ساتھ قیامت کا مسئلہ بھی سمجھایا۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ تمام اسباب پر اسی کا تصرف ہے اور رزق کی تنگی اور کشادگی ہونا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ وہی انسانوں کو زندگی بخشتا ، روزی دیتا اور موت طاری کرتا ہے اور پھر قیامت کو دوبارہ بھی زندہ کریگا اللہ نے شکوہ بیان کیا کہ جب یہ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے تو پھر لوگ شرک سے باز کیوں نہیں آتے اور اللہ کی دی ہوئی روزی میں بخل کیوں کرتے ہیں ؟ بحردبر میں فساد کا ظہور اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ بسا اوقات لوگوں کی نافرمانیوں اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَقِـمْ وَجْہَكَ لِلدِّيْنِ الْقَيِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللہِ يَوْمَىِٕذٍ يَّصَّدَّعُوْنَ۝ 43 اقامت والْإِقَامَةُ في المکان : الثبات . وإِقَامَةُ الشیء : توفية حقّه، وقال : قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] أي : توفّون حقوقهما بالعلم والعمل، وکذلک قوله : وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] ولم يأمر تعالیٰ بالصلاة حيثما أمر، ولا مدح بها حيثما مدح إلّا بلفظ الإقامة، تنبيها أنّ المقصود منها توفية شرائطها لا الإتيان بهيئاتها، نحو : أَقِيمُوا الصَّلاةَ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 41–45

ترکیب : لیذیقیہم متعلق یظہر ای لیصیرحا لھم الیٰ ذلک وقیل التقدیر عاقبھم لیذلقیھم، کان اکثر ھم استینات من اللہ متعلق بیاتی۔ ویجوزان یتعلق بمرد لانہ مصدر علیٰ معنی لایردہ لتعلق ارادتہ القدیمۃ بمجیئہ۔ یومئذ، بدل من یوم والناصب یصدعون ای یتفرقون فریق فی الجنۃ و فریق فی النار کما یقول من کفر فعلیہ کفرہ ای علیہ وبال کفر یمہدون یستو وں منزلا فی الجنۃ لیجزی علۃ لیمہدون او لیصدعون۔ والاقتصار علی جزاء المومنین۔ للاکتفاء علی فحوی قولہ انہ لا یحب الکفرین۔ تفسیر : ظہر الفساد فی البر والبحر ردّ شرک کے قوی دلائل بیان فرما کر اب اس جگہ یہ بات ظاہر فرماتا ہے کہ فطرت اللہ کے ترک کرنے سے اور کفر و شرک اور ہر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لاَّمَرَدَّلَـہٗ مِنَ اللّٰہِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ ۔ (الروم : 43) (پس اپنا رخ دین قیم کی طرف سیدھا رکھئے، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس کے ٹل جانے کی کوئی صورت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے، اس دن یہ لوگ جدا جدا ہوجائیں گے۔ ) آنحضرت ﷺ کی طرف التفات قریشِ مکہ اور دیگر اہل دنیا کو تاریخ کا آئینہ دکھانے کے بعد آنحضرت ﷺ سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جہاں تک تبلیغ و دعوت اور افہام و تفہیم کا تعلق ہے آپ ﷺ نے اس میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ تنبیہ اور تہدید بھی بہت کچھ ہوچکی۔ اگر یہ ہٹ دھرم اور شامت زدہ لوگ آپ ﷺ کی بات نہیں مانتے تو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 43–45

فہم القرآن ربط کلام : دنیا کے فساد اور برے انجام سے بچنے کے لیے لازم ہے کہ انسان اپنے چہرے کو اللہ ہی کی طرف متوجہ رکھے۔ انسان اسی بنیاد پر ہی دنیا اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ عقیدہ توحید اور دین کی اہمیّت اور اس کی فضیلت کے پیش نظر براہ راست سرور دوعالم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ مشرک جس قدر چاہیں عقیدہ توحید اور دین اسلام کو ناپسند کریں اور اس کی مخالفت کرتے رہیں آپ کو ہر حال میں اپنے چہرے کو اپنے رب کی طرف رکھنا اور دین اسلام پر قائم رہنا چاہیے۔ اس دن سے پہلے جو ہر صورت آکر رہے گا جو کسی کے انکار یا اقرار سے ٹل نہیں سکتا۔ اس دن سب لوگ منتشر ہوں گے کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکے گا جس نے کفر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

43: فَاَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ (پس آپ اپنا چہرہ دین قیم کی طرف کرلیں) القیمؔ ایسی کامل استقامت جس میں کوئی ٹیڑھ نہ ہو۔ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ (اس سے قبل کہ ایسا دن آئے جس کو لوٹانا ممکن نہیں) مردؔ یہ مصدر بمعنی الردّ (لوٹانا) کے آیا ہے۔ مِنَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) ۔ مسئلہ : یہ یأتی کے متعلق ہے مطلب یہ ہے اس سے قبل کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا دن آئے جس کو کوئی لوٹا نہ سکے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا فلا یستطیعون ردھا ] الانبیاء : 40[ نمبر 2۔ مردٌ کے متعلق ہے اس کا معنی یہ ہے وہ اس کو لانے کے بعد واپس نہ فرمائے گا اور خود وہ لوٹے گا نہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 43۔ ، فاقم وجھک للدین القیم ، ، سید ھاراستہ اور وہ اسلام ہے ۔ ، من قبل ان یاتی یوم لا مردلہ من اللہ، قیامت کے دن کوئی بھی اس بات پر قادر نہیں کہ اسے اللہ سے لوٹا دیا جائے۔ ، یومئذ یصد عون، یعنی وہ جداجدا ہوتے ہیں ، فریق جنت میں اور ایک فریق دوزخ میں ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 40–51

40 تا 51۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ پہلی دفعہ جو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کو پیدا کیا پھر عمر پوری ہونے کے بعد ہر ایک جاندار کی موت اللہ کے حکم سے آتی ہے کسی کو اس میں کچھ دخل نہیں ہے یہ سب کچھ تو ان مکہ کے مشرکوں کی آنکھوں کے سامنے ہے اور ان مشرکوں کے رزق کی سبب جو آسمان سے پانی کا برستا ہے وہ بھی اللہ کے ہی اختیار میں ہے ان کے بتوں کو اس میں کچھ دخل نہیں اور جب ایک دفعہ یہ تمام عالم پیدا ہوچکا تو ان مشرکوں کے روز مرہ کے تجربہ کو گواہی سے دوسری دفعہ انسان کا پیدا ہونا اور نیک وبد کی جزا وسزا کا ہونا بالکل سہل ہے حاصل یہ ہے کہ جب یہ سب اللہ کے اختیار میں ہے تو ان آیتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 43–45

آیت نمبر : 43 ۔ 45 اپنے دل ‘ چہرے اور بدن کو سیدھے اور مستقیم دین کو قائم رکھنے پر متوجہ رکھیے ‘ کوشش اور جدوجہد سے اللہ تعالیٰ کے اوامرو نواہی کو نافذ کیجیے اور دین کے ظاہری اور باطنی تمام وظائف ادا کیجیے۔ اپنے زمانے ‘ اپنی زندگی اور اپنے شباب میں جلدی سے نیک عمل کرلیجیے (من قبل ان یاتی یوم لا مرد لہ من اللہ) ” اس دن سے پہلے جو اللہ کی طرف سے آکر رہے گا اور رک نہیں سکے گا۔ “ اس سے مراد روز قیامت ہے اور جب وہ دن آجائے گا تو اسے روکنا ممکن نہ ہوگا۔ عمل کرنے والوں کو مہلت نہ دی جائے گی کہ اپنے عمل کو نئے سرے سے سرانجام دیں بلکہ وہ اعمال سے فارغ ہوچکے اب تو عمل کرنے والوں کی جزا کے سوا کچھ باقی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 40–60

جوانی ، بڑھاپے کی زحمت سے پہلے غنیمت ہے قول باری ہے : (اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعدقوۃ ضعفا وشیبۃ۔ اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے رحم مادر میں ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر تمہیں اطفال بنایا کہ عہد طفولیت میں تم اپنی ذات کے لئے کسی نفع نقصان کے مالک نہیں تھے۔ پھر تمہیں طاقت وربنایا اور تمہیں اتنی استطاعت ، عقل وفہم اور سمجھ بوجھ عطا کی کہ تم دنیاوی امور میں تصرف کے ذریعے جلب منفعت اور دفع مضرت کرسکو۔ پھر اس نے تمہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 43–45

61 قیام قیامت کا اصل مقصد اہل ایمان کو نوازنا : سو قیام قیامت کی غرض وغایت کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ اللہ ایمان اور عمل صالح والوں کو اپنے فضل سے نوازے "۔ یعنی جنت تو انسان کو اپنے اعمال کے بل بوتے پر نہیں بلکہ اللہ پاک کے فضل و کرم اور اس کی رحمت و عنایت ہی سے ملے گی۔ ورنہ ہمارے تو زندگی بھر کے تمام نیک اعمال تو اللہ پاک کی ان نعمتوں کا بھی بدلہ نہیں ہوسکتے جن سے ہم لوگ اس دنیاوی زندگی میں فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اور پھر انسانی اعمال تو بہرحال محدود ہیں جبکہ جنت کی زندگی اور اس کی نعمتیں ابدی اور لامحدود۔ تو وہاں کی لامحدود نعمتیں ان محدود اعمال کا صلہ اور بدلہ کس طرح ہوسکتی ہیں ؟…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 40–45

اللہ کی چار صفات، مشرکین اور اہل ایمان کا مقام تشریح : جیسا کہ کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے کہ شرک ظلم ہے۔ یعنی اس سے اللہ تعالیٰ کا تو کوئی بھی کسی صورت کچھ بھی نقصان نہیں ہوتا اگر نقصان ہوتا ہے تو صرف شرک کرنے والے کا بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے کیونکہ جو شخص اپنے معبود کے بارے میں ایک یقین نہیں رکھتا ظاہر ہے وہ نہ تو خود مضبوط ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کا راستہ بلکہ وہ ساری عمر ڈانواں ڈول بےیقینی کی زندگی گزارتا ہے اور اس طرح دنیا و آخرت میں عذابوں کا شکار ہوتا ہے شرک انسانی زندگی کے لیے بد ترین زہر سے کم نہیں اسی سے تمام اخلاقی برائیاں بھی پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ان میں صرف دنیاوی زندگی کا تصور بیٹھ جاتا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–53

آیات 41 تا 53 اسرارومعارف کفر و شرک کی مصیبت اللہ کی ناراضگی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اس سے نظام عالم میں خرابی پیدا ہو کر خشکی و تری میں فساد پھیلتا ہے اگرچہ رحمت باری انسان کے سب گناہوں کی سزا اس پر فورا نہیں ڈالتی اور اللہ انسان کو مہلت دیتا ہے مگر اس کے باوجود گناہوں کے اثراتبد کا اظہار ہوتا رہت ہے جسے کافر دنیا ہیں بےحیائی کو عورت کی آزادی کا نام دے کر رواج کردیا گیا آج وہی مصیبت ان کے لیے ہت بڑا عذاب ہے ہر گر کا سکون تباہ ہورہا ہے اولاد کا کوئی نصب نہیں ملتا اور ایڈز جیسے موذی امراض بدکاری کا پھل ہیں ایسے معاش میں سودی نظام کے بڑے برے نتائج دیکھ کر لوگ توبہ کریں اور واپس آجائیں۔ ان سے کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 43–44

ف 5 یا (جنت یا قبر میں) اپنے لئے آرام کی جگہ بنائیں گے۔ یہ ” لانفسھم یمھدون “ کا لفظی ترجمہ ہے اور یہ آیت ’ دیصرعون “ کی تفسیر ہے۔ یعنی آخرت میں کافر اور مومن الگ الگ ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 42–43

(30:43) فاقم وجھل للدین القیم ملاحظہ ہو 30:30 مرد۔ مصدر میمی۔ رد مادہ۔ لوٹنا۔ پھر آنا۔ من اللہ۔ یہ یا تو یاتی سے متعلق ہے یا مرد سے۔ پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ بیشتر اس کے کہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے جو لوٹنے والا نہیں ۔ دوسری صورت میں : قبل اس کے کہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے کہ جس کے لئے پھر اللہ کی طرف سے ہٹنا نہ ہوگا۔ یصدعون۔ مضارع جمع مذکر غائب تصدع (تفعل) مصدر سے۔ اصل میں یہ یتصدعون تھا۔ تاء کو ص سے بدلا بھر ص کو ص میں مدغم کیا۔ وہ منتشر ہوجائیں گے۔ ای فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر۔ اہل جنت کا فریق الگ دوزخ کا فریق الگ۔ اس کا مادہ صدع ہے جس کے معنی پھاڑ دینے کے ہیں۔ تصدع القوم قوم کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 41–45

(لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 45 ( ظھر (ظاہر ہوگیا۔ کھل گیا) ۔ بحر (تری۔ دریا۔ سمندر) ۔ کسبت (اس نے کمایا) ۔ یذیق (وہ چکھاتا ہے) ۔ سیروا (تم چلو پھرو) ۔ دین القیم (بہترین اور مستحکم دین) ۔ لا مرد (ٹلنے والا نہیں ہے) ۔ یصدعون (الگ الگ ہوجائیں گے) ۔ یمھدون (وہ ہدایت حاصل کرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 41 تا 45 اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کر کے کسی کو اس کا شریک نہ ماننا، اسی کی عبادت و بندگی اور اعمال صالحہ کی روش پر چلنا، ہر طرح کے گناہوں اور برے اعمال سے رک جانا دین فطرت ہے۔ لیکن اس کے بر خلاف کفروشرک اور اللہ کی نافرمانیوں میں مبتلا ہو کر کھلم کھلا ظلم و زیادتی پر اتا آنا خلاف فطرت ہے جو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–48

علامات قیامت اور جنتی دوزخیوں کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں ہوا کا ذکر اور ہوا کے سبب سے بادل جو آتے ہیں ان کا ذکر، اور بادلوں کے سبب سے جو مینہ برستا ہے اس کا ذکر فرما کر فرمایا ہے کہ جس طرح ہر سال برسات کے موسم میں زمین کی مری ہوئی مٹی زندہ ہوجاتی ہے اور اس میں ہر طرح کے اناج کے پیدا ہونے کی قوت آجاتی ہے اس طرح حشر کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک مرے ہوئے شخص کے جسم کو پھر تیار کرکے ان جسموں میں پھر روح پھونکے گا۔ صحیح بخاری ومسلم کی حضرت ابوہریرہ سے حدیث ہے کہ دوسرے صور سے پہلے شبنم کی طرح ایک مینہ برسے گا جس سے زمین کے سب مرے ہوئے لوگوں کے پتلے بن کرتیارہوجائیں گے پھر دوسراصور پھونکا جائے گا جس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 42–43

[22] یعنی روز قیامت جس کا اللہ کی طرف سے آنا اٹل ہے اور کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتا۔ [23] یعنی حساب و کتاب کے بعد نیک جنت میں اور بد دوزخ میں بھیج دئیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 43–45

خدا انسان کا حریف نہیں ہے 1: ان آیتوں میں بتایا ہے ۔ کہ جہاں تک کفر و انکار کا تعلق ہے اس سے ذات صویت کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔ اسی طرح ایمان و اعمال صالح سے اس کی جلالت قدر میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا اگر ساری دنیا کفر و طغیان کو اپنا شیوہ بنا لے ۔ اور برملا خدا کا انکار کردے ۔ تو اس کے وجود باجود میں اور اس کے تحفق قومیت میں ذرہ برابر فرق نہیں ہوتا ۔ اسی طرح اگر دنیا میں کوئی منکر نہ رہے تمام ملحد اپنے غلط عقائد سے توبہ کرلیں ۔ اور مومن صادق بن جائیں ۔ اور زہد وورع کا لباس زیت تن کرلیں ۔ تو اس کی عظمت اور رفعت میں کچھ بھی ترقی نہیں ہوتی ۔ یہ کفروعصیاں تو محض اس لئے مذموم ہے ۔ کہ اس سے خود…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

43۔ سو اے مخاطب تو اپنے رخ کو اس سیدھے اور راست دین کی طرف قائم رکھ اور اپنے منہ کو اس صحیح دن کی جانب سیدھا رکھ اس سے پہلے کہ وہ دن آئے اور وہ دن آپہنچے جس دن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہٹنا اور پھرنا نہیں اس دن سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے۔ بعض لوگوں نے من اللہ کو ان یاتی کے متعلق کیا ہے اور بعض نے لا مرد کے متعلق کیا ہے ، ہم نے ترجمے اور تیسیر میں دونوں ترکیبوں کی رعایت رکھی ہے۔ اسی طرح فاقم میں بعض نے عام خطاب مراد لیا ہے اور بعض نے نبی کریم ﷺ کو خطاب مراد لیا ہے ہم نے ترجمے اور تیسیر میں دونوں کی رعایت رکھی ہے ۔ یعنی وہ دن قیامت کا ہے کہ آئے پیچھے ٹلے گا نہیں دنیا کے عذاب میں کبھی مہلت مل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 42–43

ف 4۔ یعنی توحید اسلامی کی طرف۔ 1۔ یعنی جیسے دنیا میں خاص عذاب کے وقت کو اللہ تعالیٰ قیامت کے وعدہ پر ہٹاتا جاتا ہے، جب وہ موعود دن آجاوے گا پھر اس کو نہ ہٹادے گا اور توقف و امہال نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اپنا رخ دین حق کی طرف کرلو قبل اس سے کہ لوگ جدا جدا ہوجائیں : 43۔ تم نے مختلف ممالک کی سیر کی تو بلاشبہ تم نے اپنی سیر کے دوران اجڑے ہوئے امصار ودیار دیکھے ہوں گے اور کبھی غور کیا ہوگا کہ یہاں کے بسنے والوں نے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے شرک کیا ہوگا اور پھر اور اس کے نتیجہ میں ان کے ساتھ جو کچھ کیا گیا اس کو بھی ملاحظہ کرلیا ہوگا کہ ان لوگوں کو کس طرح تہس نہس کرکے رکھ دیا گیا ہاں ! اگر وہ لوگ تمہارے لئے باعث عبرت ہوچکے ہیں تو تم ان کے لئے باعث عبرت نہ بنو جو تمہارے بعد آنے والے ہیں اس لئے تم کو تلقین کی جا رہی ہے کہ تم دین قیم کو اچھی طرح مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو اور اس دن سے قبل ہی اپنی اصلاح کرلو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–46

Commentary ظَهَرَ‌ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ‌ وَالْبَحْرِ‌ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ (Plight has appeared on land and sea because of what the hands of the people have earned 30:41). The author of Ruh ul-Ma’ ani has explained that the word fasad' (translated in the text as 'plight' ) means all sorts of calamities, such as famine, epidemic diseases, frequency of the incidents of fire, drowning, lack of Allah's blessing in everything, and reduction in profits and incurring of losses in lucrative businesses. It can also be deduced from this verse that the cause of falling of calamities in the…

Read the full tafseer →