Ar-Room 30:42

Ar-Room · from ayah 42

30:42

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ ؕ— كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ ۟قُلۡ سِيۡرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ فَانْظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلُ‌ؕ كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّشۡرِكِيۡنَ

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جو لوگ (تم سے) پہلے ہوئے ہیں ان کا کیسا انجام ہوا ہے۔ ان میں زیادہ تر مشرک ہی تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, [O Muhammad], "Travel through the land and observe how was the end of those before. Most of them were associators [of others with Allah].

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 5 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:42

(اے نبیؐ) اِن سے کہو کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہو چکا ہے، ان میں سے اکثر مشرک ہی تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جو لوگ (تم سے) پہلے ہوئے ہیں ان کا کیسا انجام ہوا ہے۔ ان میں زیادہ تر مشرک ہی تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ اگلوں کا انجام کیا ہوا۔ جن میں اکثر لوگ مشرک تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ : زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جو لوگ پہلے گزرے ہیں، ان کا کیسا انجام ہوا۔ ان میں سے اکثر مشرک تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ زمین میں چل کر دیکھو کیا انجام ہوا اگلوں کا، ان میں بہت مشرک تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ فرما دیجئے کہ تم زمین میں سیر و سیاحت کیا کرو پھر دیکھو پہلے لوگوں کا کیسا (عبرت ناک) انجام ہوا، ان میں زیادہ تر مشرک تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، ان کے اکثر مشرک تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے : ذرا زمین میں چل پھر کر تو دیکھو کہ جو لوگ تم سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا ؟ ان میں اکثر مشرک ہی تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان سے کہو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو پہلے ہو گزرے ہیں ! ان میں سے اکثر مشرک ہی تھے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے) کہو کہ تم لوگ چلو پھرو (اللہ کی عبرتوں بھری) اس زمین میں پھر دیکھو کہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان میں سے اکثر (باغی اور) مشرک ہی تھے

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہیے کہ زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ جو لوگ پہلے گذرے ہیں ان کا انجام کیسا ہوا ہے اس میں سے اکثر مشرک ہی تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ ! ان سے) کہیے کہ تم زمین میں گھومو پھرو اور دیکھو کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو (تم سے) پہلے تھے ان میں سے اکثر مشرک ہی تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جو لوگ تم سے پہلے ہوئے ہیں ان کا کیسا انجام ہوا، ان میں زیادہ تر مشرک ہی تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), say: “Traverse in the earth and see what was the end of those who went before you: most of them associated others with Allah in His Divinity.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :Go about in the land, and see how was the end of those who were before. Most of them were Mushriks (i.e. those who ascribe partners to Allah) .

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :Go about in the land, and see how was the end of those who were before. Most of them were Mushriks (i.e. those who ascribe partners to Allah) .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Travel in the land and see what was the end of those before (you)! Most of them were idolators."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say (O Muhammad, to the disbelievers): Travel in the land, and see the nature of the consequence for those who were before you! Most of them were idolaters.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, [O Muhammad], "Travel through the land and observe how was the end of those before. Most of them were associators [of others with Allah].

— Saheeh International

(Muhammad), tell them, "Travel through the land to see how terrible was the end of those who lived before. Many of them were pagans.

— Muhammad Sarwar

Say: Travel in the land, then see how was the end of those before; most of them were polytheists.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: go forth in the land and behold what wise hath been the end of those of aforetime? And most of them were associaters.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "Travel through the earth and see what was the end of those before (you): Most of them worshipped others besides Allah."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 30:42

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–42

زمین کی اصلاح اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مضمر ہے ممکن ہے بر یعنی خشکی سے مراد میدان اور جنگل ہوں اور بحر یعنی تری سے مراد شہر اور دیہات ہوں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ بر کہتے ہیں خشکی کو اور بحر کہتے ہیں تری کو خشکی کے فساد سے مراد بارش کا نہ ہونا پیداوار کا نہ ہونا قحط سالیوں کا آنا۔ تری کے فساد سے مراد بارش کا رک جانا جس سے پانی کے جانور اندھے ہوجاتے ہیں۔ انسان کا قتل اور کشتیوں کا جبر چھین جھپٹ لینا یہ خشکی تری کا فساد ہے۔ بحر سے مراد جزیرے اور بر سے مراد شہر اور بستیاں ہیں۔ لیکن اول قول زیادہ ظاہر ہے اور اسی کی تائید محمد بن اسحاق کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ حضور نے ایلہ کے بادشاہ سے صلح کی اور اس کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الروم 65 یعنی روم و ایران کی تباہ کن جنگ آج کوئی نیا حادثہ نہیں ہے۔ پچھلی تاریخ بڑی بڑی قوموں کی تباہی و بربادی کے ریکارڈ سے بھری ہوئی ہے۔ اور ان سب قوموں کو جن خرابیوں نے برباد کیا ان سب کی جڑ یہی شرک تھا جس سے باز آنے کے لیے آج تم سے کہا جارہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–45

خلاصہ تفسیر (شرک و معصیت ایسی بری چیز ہے کہ) خشکی اور تری (یعنی تمام دنیا) میں لوگوں کے (برے) اعمال کے سبب بلائیں پھیل رہی ہیں (مثلاً قحط و وباء و طوفان) تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بعضے اعمال (کی سزا) کا مزہ ان کو چکھا دے تاکہ وہ (اپنے ان اعمال سے) باز آجائیں (جیسا دوسری آیت میں ہے وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ ، اور بعض اعمال کا مطلب یہ ہے کہ اگر سب اعمال پر یہ عقوبتیں مرتب ہوں تو ایک دم زندہ نہ رہیں، کقولہ تعالیٰ وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ ، اسی معنی سے آیت بالا میں وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قل سیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبل ط کان اکثرھم مشرکین۔ (42) یعنی ان لوگوں سے کہو کہ اپنے آپ کو طفل تسلیوں سے نہ بہلائو بلکہ خود اپنی آنکھوں سے اپنے ملک کی پچھلی قوموں کے آثار پر نگاہ ڈالو کہ ان کا انجام کیا ہوچکا ہے۔ ان کی اکثریت بھی تمہاری ہی طرح مشرک تھی۔ جس طرح تمہارے اندر سے موحد بہت تھوڑے نکلے ہیں اسی طرح ان کے اندر سے بھی خالص خدا پرست بہت تھوڑے نکلے۔ بالآخر اللہ نے ان تھوڑے سے خدا پرستوں کو علیحدہ کرلیا اور اکثریت کو اپنے عذاب سے تباہ کردیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

42-1شرک کا خاص طور پر ذکر کیا، کہ یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ علاوہ ازیں اس میں دیگر برائیوں سیأت و معاصی بھی آجاتی ہے کیونکہ ان کا ارتکاب بھی انسان اپنے نفس کی بندگی ہی اختیار کر کے کرتا ہے اسی لئے اسے بعض لوگ عملی شرک سے تعبیر کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 41–45

20: آیت کریمہ یہ سبق دے رہی ہے کہ عام مصیبتوں کے وقت چاہے ظاہری اسباب کے ماتحت وجود میں آئی ہوں، اپنے گناہوں پر استغفار اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قل سیروا فی الارض ۔۔۔۔۔ اکثرھم مشرکین (30: 42) ”(اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ زمین میں چل کر پھر کر دیکھو۔ پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہوچکا ہے ، ان میں سے اکثر مشرک ہی تھے “۔ ان کا انجام وہ بار بار دیکھتے تھے جب وہ زمین میں پھرتے تھے۔ یہ انجام ایسا تھا جو کسی کو اس رویے پر آمادہ نہ کرتا تھا جو ان لوگوں نے اختیار کیا ہوا تھا۔ یہاں آکر اب دوسرا راستہ بھی بتا دیا جاتا ہے جس پر چلنے والے کبھی گمراہ نہیں ہوتے۔ اور ایک دوسرے بلند افق کی طرف ان کی نظریں مبذول کرائی جاتی ہیں جس کی طرف جانے والے کبھی نامراد نہیں ہوتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی اکثروں کی شامت شرک کی وجہ سے آئی۔ بعضوں پر دوسرے گناہوں کی وجہ سے آئی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 42–43

آیت 43 فَاَقِمْ وَجْہَکَ للدِّیْنِ الْقَیِّمِ ” قبل ازیں آیت 30 میں بھی یہی ہدایت دی گئی ہے۔ یَوْمَءِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ ” اس دن تمام نسل انسانی اپنے اپنے اعتقادات اور اعمال کے اعتبار سے مختلف گروہوں میں بٹ جائے گی۔ گویا دودوھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

49 یعنی سابقہ اقوام کی تباہی کا اصل سبب شرک تھا۔ اب مشرکین میں سے اکثر تو ایسے ہوتے ہیں جو روز آخرت کے منکر ہوتے ہیں۔ جب کہ مشرکین مکہ کا حال تھا اور اگر ان کا آخرت پر عقیدہ ہو بھی تو پھر وہ اس عقیدہ میں کچھ ایسے اضافے کرلیتے ہیں تو عقیدہ آخرت کے اصل مقصد کو بےکار کرکے رکھ دیتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی کا یہ عقیدہ ہو کہ ہم قیامت کے دن فلاں حضرت کا دامن پکڑ لیں گے اور ان کے ساتھ ہی جنت میں جا داخل ہوں گے۔ یا مثلاً فلاں پیر حضرت کی بیعت کرلی جائے تو ان کی شفاعت سے ہم نجات پاجائیں گے یا یہ کہ فلاں بزرگ کے مزار پر جو بہشتی دروازہ بنا ہوا ہے اس کے عرس کے دن اگر گزرا جائے تو بہشت واجب ہوجائے گی۔ اب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–53

آیت نمبر 41 تا 53 ترجمہ : خشکی یعنی میدانوں میں خشک سالی اور نباتات کی کمی کی وجہ سے اور تری یعنی ان شہروں میں جو نہروں (سمندروں) کے کنارے واقع ہیں پانی کی قلت کی وجہ سے لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد ظاہر ہوگیا تاکہ ہم ان کو ان کے بعض اعمال کی سزا کا مزہ چکھائیں ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں توبہ کریں، آپ مکہ کے کافروں سے کہئے کہ زمین میں چلو پھرو دیکھو پہلوں کا کیا انجام ہوا ؟ جن میں اکثر لوگ مشرک کے سبب ہلاک کردیئے گئے اور ان کے گھر اور مکانات گرے پڑے ہیں آپ اپنی توجہ دین قیم یعنی اسلام کی جانب رکھئے قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کو اللہ (ہرگز) نہیں ٹالے گا اس روز سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل سیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبل کان اکثرھم مشرکین آپ کہہ دیجئے کہ زمین میں گھوم پھر کر دیکھو کہ (تم سے) پہلے لوگوں کا انجام کیا ہوا ‘ ان میں سے اکثر مشرک تھے (اس لئے ان پر عذاب آیا۔ دیکھو لو کہ ان کے گھر کھنڈر پڑے ہیں) ۔ کَانَ اَکْثَرْھُمْ مُّشْرِکِیْنَکا یہ مطلب ہے کہ (گو ان کے گناہ دوسرے بھی ہیں لیکن) شرک ان پر غالب تھا اس لئے تباہ کر دئیے گئے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ شرک بہتوں میں تھا اور دوسرے گناہ کم لوگوں میں تھے لیکن ہلاک ان کو بھی کردیا گیا کیونکہ مشرکوں کے ساتھ ان ی مصاحبت تھی ‘ یا اس لئے کہ انہوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو چھوڑ دیا تھا (خود مشرک نہ تھے لیکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

آپ ان کفار مکہ سے فرما دیجیے کہ زمین پر چلو پھرو پھر غور کرو کہ جو لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں ان کا کیا انجام ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کی تکذیب پر ان کو ہلاک کردیا اس لیے کہ وہ مشرک ہی تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ۔۔ : یعنی قوم نوح، عاد وثمود، قوم شعیب و قوم لوط، فرعون، ہامان اور قارون وغیرہ۔ پچھلی جن قوموں پر تباہی آئی اسی شرک کی بدولت آئی، جس سے بچنے کی تمہیں تلقین کی جا رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 42–43

اے محمد ﷺ انہیں کیسے زمین میں گھومو پھرو تاکہ پہلے لوگوں کے احوال سے عبرت حاصل کرسکو اور دیکھو کہ رسولوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ ” پس کرلو اپنا رخ اس قیم کی طرف اس سے پہلے کہ آجائے وہ دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے جسے ٹلنا نہیں اس روز یہ لوگ جدا جدا ہوجائیں گے۔ “ زجاج نے کہا : اپنے ارادہ سیدھا رکھو اور اپنی جہت کو دین قیم کی اتباع کی طرف رکھو۔ دین قیم سے مراد اسلام ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ معنی ہے حق واضح کرو معذرت پیش کرنے میں مبالغہ سے کام لو جو کام کر رہے ہو اس میں مشغول رہو اور ان پر غمگین نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ اسے ان سے نہیں لوٹائے گا جب اللہ تعالیٰ انسے نہیں لوٹائے گا تو کسی کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–42

زمین پر گناہ کرنا فساد کا ذریعہ ہے 1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ظہر الفساد فی البر والبحر کے بارے میں فرمایا کہ البر سے مراد ایسی خش زمین جس کے پاس پانی نہ ہو اور والبحر سے مراد ہے ان شہروں اور بستیوں کو کہتے ہیں جو دریا کے کنارے پر ہو۔ 2۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ظہرا لفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس سے مراد ہے برکت میں کمی بندوں کے اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے تاکہ وہ توبہ کریں۔ 3۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ظہر الفساد فی البر والبحر سے مراد ہے قحط سالی ان سے کہا گیا کہ بارش کا کم ہونا سمندر کو تو نقصان نہیں دیتا تو انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] سِيْرُوْا [تم لوگ گھومو پھرو ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] فَانْظُرُوْا [پھر دیکھو ] كَيْفَ كَانَ [کیسا تھا ] عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ [ان کا انجام جو ] مِنْ قَبْلُ ۭ [پہلے تھے ] كَانَ اَكْثَرُهُمْ [ان کے اکثر تھے ] مُّشْرِكِيْنَ [شرک کرنے والے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (قُلَ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ) (الآیۃ) کہ آپ اپنے مخاطبین یعنی مشرکین مکہ وغیرہ ہم سے فرما دیجیے کہ تم زمین میں چل پھر کر دیکھ لو۔ تم سے پہلے جو قومیں تھیں ان کا کیا انجام ہوا ؟ ان لوگوں میں اکثر مشرک تھے، ان لوگوں کے کفر اور شرک کی وجہ سے عام عذاب آیا اور ہلاک و برباد ہوئے، ان کے گھروں کے نشانات تمہارے سامنے ہیں، چلو پھرو، دیکھو اور عبرت حاصل کرو۔ اس آیت میں جو (کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّشْرِکِیْنَ ) فرمایا اس میں یہ بتادیا کہ ان برباد ہونے والوں میں اکثر تو مشرکین تھے اور بعض ایسے تھے جو کفر کی دوستی میں مبتلا تھے۔ اور اس میں اس طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ شرک کفر کی بدترین اقسام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–47

ذکر وبال ونحوست کفر ومعصیت در دار دنیا قال اللہ تعالیٰ ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقہم بعض الذی عملوا لعلہم یرجعون۔۔۔ الی۔۔۔ وکان حقا علینا نصر المومنین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں کفر اور شرک اور معصیت پر تہدید تھی اب ان آیات میں کفر اور معصیت کی نحوست کو بیان کرتے ہیں کہ یہ ایسی منحوس چیزیں ہیں کہ بسا اوقات دنیا ہی میں بد اعمالی کی وجہ سے طرح طرح کی بلائیں اور آفتیں اور مصیبتیں پیش آتی ہیں جیسے قحط اور سیلاب اور طاعون وغیرہ اور آخرت سے پہلے دنیا ہی میں سزا کا کچھ مزا چکھا دیا جاتا ہے باقی پوری سزا تو آخرت میں ملے گی اور ان دنیاوی مصائب وآفات کے نازل کرنے سے مقصد یہ ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

33:۔ یہ تخویف دنیوی ہے شرک و معاصی کے وبال کا انجام دیکھنا ہو تو زمین میں چل پھر کر گذشتہ زمانے کے معاندین کی ہلاکت و تباہی کے آثار دیکھو۔ وہ بھی مشرک ہی تھے اور نہوں نے توحید کا پیغام لانے والوں کو جھٹلایا اور دعوت توحید کو قبول نہ کیا تو دنیا ہی میں ان کو ذلت آمیز اور رسوا کن عذاب سے ہلاک کردیا گیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–45

ربطہ آیات پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید اور توحید کے دلائل بیان فرمائے۔ اور ساتھ ساتھ قیامت کا مسئلہ بھی سمجھایا۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ تمام اسباب پر اسی کا تصرف ہے اور رزق کی تنگی اور کشادگی ہونا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ وہی انسانوں کو زندگی بخشتا ، روزی دیتا اور موت طاری کرتا ہے اور پھر قیامت کو دوبارہ بھی زندہ کریگا اللہ نے شکوہ بیان کیا کہ جب یہ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے تو پھر لوگ شرک سے باز کیوں نہیں آتے اور اللہ کی دی ہوئی روزی میں بخل کیوں کرتے ہیں ؟ بحردبر میں فساد کا ظہور اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ بسا اوقات لوگوں کی نافرمانیوں اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلُ۝ 0 ۭ كَانَ اَكْثَرُہُمْ مُّشْرِكِيْنَ۝ 42 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ سير السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير ( س ی ر )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 41–45

ترکیب : لیذیقیہم متعلق یظہر ای لیصیرحا لھم الیٰ ذلک وقیل التقدیر عاقبھم لیذلقیھم، کان اکثر ھم استینات من اللہ متعلق بیاتی۔ ویجوزان یتعلق بمرد لانہ مصدر علیٰ معنی لایردہ لتعلق ارادتہ القدیمۃ بمجیئہ۔ یومئذ، بدل من یوم والناصب یصدعون ای یتفرقون فریق فی الجنۃ و فریق فی النار کما یقول من کفر فعلیہ کفرہ ای علیہ وبال کفر یمہدون یستو وں منزلا فی الجنۃ لیجزی علۃ لیمہدون او لیصدعون۔ والاقتصار علی جزاء المومنین۔ للاکتفاء علی فحوی قولہ انہ لا یحب الکفرین۔ تفسیر : ظہر الفساد فی البر والبحر ردّ شرک کے قوی دلائل بیان فرما کر اب اس جگہ یہ بات ظاہر فرماتا ہے کہ فطرت اللہ کے ترک کرنے سے اور کفر و شرک اور ہر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ ط کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّشْرِکِیْنَ ۔ (الروم : 42) (اے پیغمبر ! ان سے کہئے کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو پہلے گزر چکے ہیں، ان میں سے اکثر مشرک ہی تھے۔ ) تاریخ سے استدلال قریشِ مکہ چونکہ آنحضرت ﷺ کی تنبیہات اور عذاب کی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتے تھے بلکہ یہ سمجھتے تھے کہ خالی خولی دھمکیاں ہیں جس کا کبھی کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ محض ہمیں ڈرایا جارہا ہے تاکہ ہم آپ ﷺ کی دعوت قبول کرلیں۔ اور باقی اہل دنیا کا بھی حال اس سے مختلف نہیں تھا۔ ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی گرفت ایک…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 41–42

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں صدقہ کرنے کا حکم دینے کے ساتھ سود خوری اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اب ان کے دنیا میں پیدا ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید نے انسان کو بارہا دفعہ یہ حقیقت بتلائی اور سمجھائی ہے کہ اے انسان تیرا خالق، رازق، مالک اور بادشاہ صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ جس کا پہلا اور بنیادی تقاضا ہے کہ تم بلاشرکت غیرے میری بندگی کرو اور آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرو۔ لیکن انسانوں کی غالب اکثریت نے اپنے رب کی ذات اور اس کے احکام کو فراموش کیا اور ایک دوسرے کے ساتھ زیادتی کی بالخصوص مالی استحاصل کیا۔ جس کا نتیجہ نکلا کہ دنیا امن وامان کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

42: قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ (آپ کہہ دیجئے ! زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ تم سے پہلے لوگوں) عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّشْرِکِیْنَ (کا انجام کیا ہوا ان میں سے اکثر مشرک تھے) اس آیت میں زمین میں گھوم پھر کر ہلاک ہونے والی امم کے حالات دیکھنے کا حکم فرمایا تاکہ گناہوں کے باعث ان کا جو برا انجام ہوا اس کو وہ دیکھیں اور اسپر غور و فکر کریں) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

42۔ ، قل سیرو افی الا رض فانظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبل، تاکہ دیکھ لوان کے گھر کیسے ویران اور کھنڈرپڑے ہوئے ہیں۔ ، کان اکثرھم مشرکین، کہ ان مشرکین کو ان کے کفر باعث ہلاک کردیا گیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 40–51

40 تا 51۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ پہلی دفعہ جو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کو پیدا کیا پھر عمر پوری ہونے کے بعد ہر ایک جاندار کی موت اللہ کے حکم سے آتی ہے کسی کو اس میں کچھ دخل نہیں ہے یہ سب کچھ تو ان مکہ کے مشرکوں کی آنکھوں کے سامنے ہے اور ان مشرکوں کے رزق کی سبب جو آسمان سے پانی کا برستا ہے وہ بھی اللہ کے ہی اختیار میں ہے ان کے بتوں کو اس میں کچھ دخل نہیں اور جب ایک دفعہ یہ تمام عالم پیدا ہوچکا تو ان مشرکوں کے روز مرہ کے تجربہ کو گواہی سے دوسری دفعہ انسان کا پیدا ہونا اور نیک وبد کی جزا وسزا کا ہونا بالکل سہل ہے حاصل یہ ہے کہ جب یہ سب اللہ کے اختیار میں ہے تو ان آیتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت نمبر : 42 زمین میں چلنے پھرنے کے حکم میں ‘ بدنی سیر اور قلبی سیر دونوں شامل ہیں۔ قلبی سیر کا مقصد گزرے ہوئے لوگوں کے انجام پر غور و فکر ہے۔ (کان اکثر ھم مشرکین) ” ان میں زیادہ تر مشرک ہی تھے۔ “ تم ان کے انجام کو بدترین انجام پاؤ گے۔ عذاب نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی طرف سے مذمت ‘ لعنت اور لگاتار رسوائی ان کا پیچھا کرتی رہی۔ پس تم بھی ان جیسے اعمال سے بچو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہی عذاب نازل ہوجائے جو ان پر نازل ہوا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا عدل اور اس کی حکمت ہر زمان و مکان میں جاری ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 40–60

جوانی ، بڑھاپے کی زحمت سے پہلے غنیمت ہے قول باری ہے : (اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعدقوۃ ضعفا وشیبۃ۔ اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے رحم مادر میں ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر تمہیں اطفال بنایا کہ عہد طفولیت میں تم اپنی ذات کے لئے کسی نفع نقصان کے مالک نہیں تھے۔ پھر تمہیں طاقت وربنایا اور تمہیں اتنی استطاعت ، عقل وفہم اور سمجھ بوجھ عطا کی کہ تم دنیاوی امور میں تصرف کے ذریعے جلب منفعت اور دفع مضرت کرسکو۔ پھر اس نے تمہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

58 ہلاک شدہ قوموں پر نگاہ عبرت ڈالنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ چلو پھرو زمین میں تاکہ تمہارے سامنے یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ شرک اور مشرکوں کا آخری انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی زیادہ تر لوگوں کی تباہی شرک کی نحوست ہی کی وجہ سے ہوئی۔ کیونکہ ان میں کے اکثر مشرک ہی تھے۔ معلوم ہوا کہ شرک کا جرم اور اس کی نحوست سب سے بڑھ کر ہے اور اس کا انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ آج توحید کی دعویدار و علمبردار امت مسلمہ میں بھی کتنے ہی لوگ ہیں جو طرح طرح سے اسی جرم کے مرتکب اور اسی گناہ میں مبتلا ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اسی بنا پر یہاں { سیروا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 40–45

اللہ کی چار صفات، مشرکین اور اہل ایمان کا مقام تشریح : جیسا کہ کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے کہ شرک ظلم ہے۔ یعنی اس سے اللہ تعالیٰ کا تو کوئی بھی کسی صورت کچھ بھی نقصان نہیں ہوتا اگر نقصان ہوتا ہے تو صرف شرک کرنے والے کا بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے کیونکہ جو شخص اپنے معبود کے بارے میں ایک یقین نہیں رکھتا ظاہر ہے وہ نہ تو خود مضبوط ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کا راستہ بلکہ وہ ساری عمر ڈانواں ڈول بےیقینی کی زندگی گزارتا ہے اور اس طرح دنیا و آخرت میں عذابوں کا شکار ہوتا ہے شرک انسانی زندگی کے لیے بد ترین زہر سے کم نہیں اسی سے تمام اخلاقی برائیاں بھی پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ان میں صرف دنیاوی زندگی کا تصور بیٹھ جاتا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–53

آیات 41 تا 53 اسرارومعارف کفر و شرک کی مصیبت اللہ کی ناراضگی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اس سے نظام عالم میں خرابی پیدا ہو کر خشکی و تری میں فساد پھیلتا ہے اگرچہ رحمت باری انسان کے سب گناہوں کی سزا اس پر فورا نہیں ڈالتی اور اللہ انسان کو مہلت دیتا ہے مگر اس کے باوجود گناہوں کے اثراتبد کا اظہار ہوتا رہت ہے جسے کافر دنیا ہیں بےحیائی کو عورت کی آزادی کا نام دے کر رواج کردیا گیا آج وہی مصیبت ان کے لیے ہت بڑا عذاب ہے ہر گر کا سکون تباہ ہورہا ہے اولاد کا کوئی نصب نہیں ملتا اور ایڈز جیسے موذی امراض بدکاری کا پھل ہیں ایسے معاش میں سودی نظام کے بڑے برے نتائج دیکھ کر لوگ توبہ کریں اور واپس آجائیں۔ ان سے کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی پچھلی جن قوموں پر تباہی آئی۔ اسی شرک کی بدولت آئی جس سے باز رہنے کی آج تمہیں تلقین کی جا رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 42–43

(30:43) فاقم وجھل للدین القیم ملاحظہ ہو 30:30 مرد۔ مصدر میمی۔ رد مادہ۔ لوٹنا۔ پھر آنا۔ من اللہ۔ یہ یا تو یاتی سے متعلق ہے یا مرد سے۔ پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ بیشتر اس کے کہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے جو لوٹنے والا نہیں ۔ دوسری صورت میں : قبل اس کے کہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے کہ جس کے لئے پھر اللہ کی طرف سے ہٹنا نہ ہوگا۔ یصدعون۔ مضارع جمع مذکر غائب تصدع (تفعل) مصدر سے۔ اصل میں یہ یتصدعون تھا۔ تاء کو ص سے بدلا بھر ص کو ص میں مدغم کیا۔ وہ منتشر ہوجائیں گے۔ ای فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر۔ اہل جنت کا فریق الگ دوزخ کا فریق الگ۔ اس کا مادہ صدع ہے جس کے معنی پھاڑ دینے کے ہیں۔ تصدع القوم قوم کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 41–45

(لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 45 ( ظھر (ظاہر ہوگیا۔ کھل گیا) ۔ بحر (تری۔ دریا۔ سمندر) ۔ کسبت (اس نے کمایا) ۔ یذیق (وہ چکھاتا ہے) ۔ سیروا (تم چلو پھرو) ۔ دین القیم (بہترین اور مستحکم دین) ۔ لا مرد (ٹلنے والا نہیں ہے) ۔ یصدعون (الگ الگ ہوجائیں گے) ۔ یمھدون (وہ ہدایت حاصل کرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 41 تا 45 اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کر کے کسی کو اس کا شریک نہ ماننا، اسی کی عبادت و بندگی اور اعمال صالحہ کی روش پر چلنا، ہر طرح کے گناہوں اور برے اعمال سے رک جانا دین فطرت ہے۔ لیکن اس کے بر خلاف کفروشرک اور اللہ کی نافرمانیوں میں مبتلا ہو کر کھلم کھلا ظلم و زیادتی پر اتا آنا خلاف فطرت ہے جو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–48

علامات قیامت اور جنتی دوزخیوں کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں ہوا کا ذکر اور ہوا کے سبب سے بادل جو آتے ہیں ان کا ذکر، اور بادلوں کے سبب سے جو مینہ برستا ہے اس کا ذکر فرما کر فرمایا ہے کہ جس طرح ہر سال برسات کے موسم میں زمین کی مری ہوئی مٹی زندہ ہوجاتی ہے اور اس میں ہر طرح کے اناج کے پیدا ہونے کی قوت آجاتی ہے اس طرح حشر کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک مرے ہوئے شخص کے جسم کو پھر تیار کرکے ان جسموں میں پھر روح پھونکے گا۔ صحیح بخاری ومسلم کی حضرت ابوہریرہ سے حدیث ہے کہ دوسرے صور سے پہلے شبنم کی طرح ایک مینہ برسے گا جس سے زمین کے سب مرے ہوئے لوگوں کے پتلے بن کرتیارہوجائیں گے پھر دوسراصور پھونکا جائے گا جس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 42–43

[22] یعنی روز قیامت جس کا اللہ کی طرف سے آنا اٹل ہے اور کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتا۔ [23] یعنی حساب و کتاب کے بعد نیک جنت میں اور بد دوزخ میں بھیج دئیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–42

ف 2: اس وقت کا نقشہ ہے جب قرآن دنیا میں نازل ہورہا تھا ۔ بتایا ہے کہ کائنات میں اعتقاد اور عمل کا فساد اور طوفان رونما ہے ۔ شرک اور بت پرستی کی تاریکیوں سے افق حیات تیرہ و تاریک ہے انسانیت کے قول اعتدال میں فتورا کیا ہے ۔ اخلاق ذلیل ترین صورت اختیار کرچکے ہیں ۔ اور اب اگر اسلام کی روشنی اور اس کی برکات سے انسان نے استفادہ نہ کیا ۔ تو ہلاکت لازم درلابد ہے ۔ چناچہ تاریخ کے ورق الٹ کر دیکھئے ۔ معذب قوموں کے حالات کا معائنہ کیجئے کیونکر اللہ تعالیٰ نے ان کو صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا محض اس پاداش میں کہ انہوں نے خدا کے حکموں کو نہ مانا ۔ اور فطرت کے پیغام سے روگردانی کی ۔ پھر اگر یہ مکہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

42۔ اے پیغمبر آپ ان منکرین دین حق سے فرمایئے کہ تم لوگ زمین میں چلو پھر وپھر دیکھو کہ جو لوگ تم سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا آخر اور ان کا انجام کیسا ہوا ان گزشتہ لوگوں میں اکثر اور بہت سے مشرک ہی تھے۔ یعنی یہ مشرک اس بات کے قائل نہیں ہوتے کہ گناہوں کی پاداش کبھی دنیا میں بھی ملتی ہے تو ان سے کہو کہ دنیا میں چل پھر کر دیکھو کہ پہلی قومیں کس طرح تباہ کی گئیں او تم ان کو دیکھ کر ان جرائم سے باز آئو جو وہ کیا کرتے تھے ، یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ حوادثات کی علت اگر گناہ ہوں تو بعض دفعہ حوادثات تو نیک بندوں کو بھی پیش آتے ہیں کیونکہ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ مطلق حوادث کی علت معاصی اور گناہوں میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 42–43

ف 4۔ یعنی توحید اسلامی کی طرف۔ 1۔ یعنی جیسے دنیا میں خاص عذاب کے وقت کو اللہ تعالیٰ قیامت کے وعدہ پر ہٹاتا جاتا ہے، جب وہ موعود دن آجاوے گا پھر اس کو نہ ہٹادے گا اور توقف و امہال نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

زمین میں چلو پھرو اور گزشتہ قوموں کے مقامات ہلاکت کو دیکھو : 42۔ زیر نظر آیت اس سورت کی آیت 9 کے طور پر گزر چکی ہے اور نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ زمین میں وہ چلیں پھریں اور دیکھیں کہ ان لوگوں کا کیا حال ہوا جو ان سے پہلے موجود تھے اور شرک میں ڈوبے ہوئے تھے بلاشبہ یہ ان لوگوں کے کھنڈرات ہی سے اندازہ لگا سکیں گے کہ ان کی عمارات کتنی عجیب تھیں اور ان کے شرک نے ان کو کسی طرح برباد کر ڈالا تھا ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–46

Commentary ظَهَرَ‌ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ‌ وَالْبَحْرِ‌ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ (Plight has appeared on land and sea because of what the hands of the people have earned 30:41). The author of Ruh ul-Ma’ ani has explained that the word fasad' (translated in the text as 'plight' ) means all sorts of calamities, such as famine, epidemic diseases, frequency of the incidents of fire, drowning, lack of Allah's blessing in everything, and reduction in profits and incurring of losses in lucrative businesses. It can also be deduced from this verse that the cause of falling of calamities in the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

65 That is, "The disastrous war between Byzantium and Iran is not a new thing of its kind. The past history of mankind is full of the accounts of the destruction of great nations. The root cause of the evils that caused the destruction of those nations was shirk which you are today being admonished to avoid."

Read the full tafseer →