Explained with ayahs 41–42
زمین کی اصلاح اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مضمر ہے
ممکن ہے بر یعنی خشکی سے مراد میدان اور جنگل ہوں اور بحر یعنی تری سے مراد شہر اور دیہات ہوں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ بر کہتے ہیں خشکی کو اور بحر کہتے ہیں تری کو خشکی کے فساد سے مراد بارش کا نہ ہونا پیداوار کا نہ ہونا قحط سالیوں کا آنا۔ تری کے فساد سے مراد بارش کا رک جانا جس سے پانی کے جانور اندھے ہوجاتے ہیں۔ انسان کا قتل اور کشتیوں کا جبر چھین جھپٹ لینا یہ خشکی تری کا فساد ہے۔ بحر سے مراد جزیرے اور بر سے مراد شہر اور بستیاں ہیں۔ لیکن اول قول زیادہ ظاہر ہے اور اسی کی تائید محمد بن اسحاق کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ حضور نے ایلہ کے بادشاہ سے صلح کی اور اس کا…
Read the full tafseer →سورة الروم 64
یہ پھر اس جنگ کی طرف اشارہ ہے جو اس وقت روم و ایران کے درمیان برپا تھی جس کی آگ نے پورے شرق اوسط کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ " لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی " سے مراد وہ فسق و فجور اور ظلم و جور ہے جو شرک یا دہریت کا عقیدہ اختیار کرنے اور آخرت کو نظر انداز کردینے سے لازما انسانی اخلاق و کردار میں رونما ہوتا ہے۔ " شاید کہ وہ باز آئیں " کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت کی سزا سے پہلے اس دنیا میں انسانوں کو ان کے تمام اعمال کا نہیں، بلکہ بعض اعمال کا برا نتیجہ اس لیے دکھاتا ہے کہ وہ حقیقت کو سمجھیں اور اپنے تخیلات کی غلطی کو محسوس کر کے اس عقیدہ صالحہ کی طرف رجوع کریں جو انبیاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
خلاصہ تفسیر
(شرک و معصیت ایسی بری چیز ہے کہ) خشکی اور تری (یعنی تمام دنیا) میں لوگوں کے (برے) اعمال کے سبب بلائیں پھیل رہی ہیں (مثلاً قحط و وباء و طوفان) تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بعضے اعمال (کی سزا) کا مزہ ان کو چکھا دے تاکہ وہ (اپنے ان اعمال سے) باز آجائیں (جیسا دوسری آیت میں ہے وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ ، اور بعض اعمال کا مطلب یہ ہے کہ اگر سب اعمال پر یہ عقوبتیں مرتب ہوں تو ایک دم زندہ نہ رہیں، کقولہ تعالیٰ وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ ، اسی معنی سے آیت بالا میں وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ…
Read the full tafseer →ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقھم بعض الذی عملوا لعلھم یرجعون (41)
جس طرح روز و شب اور صبح و شام وغیرہ کے الفاظ احاطہ پر دلیل ہوتے ہیں اسی طرح بردبحر کے الفاظ بھی اس طرح کے سیاق میں صرف احاطہ پر دلیل ہوتے ہیں۔ مدعا یہ ظاہر کرنا ہے کہ زندگی کے ہر شعبے پر خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی، اعتقادی ہو یا عملی فساد طاری ہوچکا ہے۔ فکر و نظر کی صحت کا انحصار تمام تر اللہ تعالیٰ کیا ایمان پر ہے اور عمل کی ساری استقامت اسلام پر مبنی ہے اور یہ دونوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کا بھی انہدام دوسرے کے انہدام کو متلزم ہے اور جب یہ دونوں منہدم ہوجائیں تو انسانی زندگی کے ہر…
Read the full tafseer →41-1خشکی سے مراد، انسانی آبادیاں اور تری سے مراد سمندر، سمندری راستے اور ساحلی آبادیاں ہیں فساد سے مراد ہر وہ بگاڑ ہے جس سے انسانوں کے معاشرے اور آبادیوں میں امن و سکون تہ وبالا ہوجاتا ہے اور ان کے عیش و آرام میں خلل واقع ہو۔ اس لیے اس کا اطلاق معاصی وسیئات پر بھی صحیح ہے کہ انسان ایک دوسرے پر ظلم کر رہے ہیں اللہ کی حدوں کو پامال اور اخلاقی ضابطوں کو توڑ رہے ہیں اور قتل و خونریزی عام ہوگئی ہے اور ان ارضی و سماوی آفات پر بھی اس کا اطلاق صحیح ہے جو اللہ کی طرف سے بطور سزا و تنبیہ نازل ہوتی ہیں جیسے قحط، کثرت موت، خوف اور سیلاب وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ جب انسان اللہ کی نافرمانیوں کو اپنا وطیرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
20: آیت کریمہ یہ سبق دے رہی ہے کہ عام مصیبتوں کے وقت چاہے ظاہری اسباب کے ماتحت وجود میں آئی ہوں، اپنے گناہوں پر استغفار اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
اللہ الذی خلقکم ۔۔۔۔۔ اکثرھم مشرکین (40 – 42)
اللہ ان کی زندگی کی حقیقی صورت حال ان کے سامنے رکھتے ہیں اور ان کے ایسے حالات ان کے سامنے پیش فرماتے ہیں جن کے بارے میں انہیں شک نہیں ہے کہ ان حالات کا موجد اللہ ہے ، یا ایسے حالات جن کے بارے میں وہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ ان کے مزعومہ خدا اور الٰہ ان حالات کے موجد ہیں ، یا شریک ہیں ، یہ کہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ وہی ہے جو تمہارا رزاق ہے ، وہی تمہیں مارتا ہے ، وہی تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ جہاں تک تخلیق کا تعلق ہے ، اس کا وہ اقرار کرتے تھے ، جہاں تک رزق کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں بھی وہ یہ دعویٰ نہ کرسکتے تھے کہ ان کے مزعومہ الٰہ ان کو…
Read the full tafseer →1 یعنی لوگ دین فطرت پر قائم نہ رہے کفر و ظلم دنیا میں پھیل پڑا اور اس کی شامت سے ملکوں اور جزیروں میں خرابی پھیل گئی۔ نہ خشکی میں امن و سکون رہا نہ تری میں، روئے زمین کو فتنہ و فساد نے گھیر لیا بحری لڑائیوں اور جہازوں کی لوٹ مار سے سمندروں میں بھی طوفان بپا ہوگیا۔ یہ سب اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ بندوں کی بد اعمالیوں کا تھوڑا سا مزہ دنیا میں بھی چکھا دیا جائے پوری سزا تو آخرت میں ملے گی۔ مگر کچھ نمونہ یہاں بھی دکھلا دیں، ممکن ہے بعض لوگ ڈر کر راہ راست پر آجائیں۔ (تنبیہ) بندوں کی بدکاریوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں خرابی پھیلنا گو ہمیشہ ہوتا رہا اور ہوتا رہیگا۔ لیکن جس خوفناک عموم و شمول…
Read the full tafseer →آیت 41 ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ ”
یہ آیت جس شان سے آج دنیا کے افق پر نمایاں ہوئی ہے شاید اپنے نزول کے وقت اس کی یہ کیفیت نہیں تھی۔ آج سے پندرہ سو سال پہلے نہ تو دنیا کی وسعت کے بارے میں لوگوں کو صحیح اندازہ تھا اور نہ ہی ”فساد“ کی اقسام میں وہ تنوع سامنے آیا تھا جس کا نظارہ آج کی دنیا کر رہی ہے۔ آج پوری دنیا میں جس جس نوعیت کے فسادات رونما ہو رہے ہیں ان کی تفصیلات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ آج چونکہ پوری دنیا سمٹ کر ”گلوبل ویلج“ کی صورت اختیار کرچکی ہے اس لیے دنیا کے کسی بھی گوشے میں رونما ہونے والے ”فساد“ کے اثرات ہر انسان کو بھگتنا پڑ رہے…
Read the full tafseer →47 یہاں بر و بحر سے مراد پورا مشرق وسطی بھی ہوسکتا ہے جو ان دنوں روم اور فارس کی جنگوں کی وجہ سے ظلم اور فساد کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ اور عرب کا علاقہ بھی۔ کیونکہ اکثر عربی قباول کا پیشہ ہی مار دھاڑ، لوٹ کھسوٹ اور قتل غارت تھا۔ اور اس فساد سے محفوظ اگر کوئی جگہ تھی تو وہ صرف حرم مکہ کی حدود تھیں۔ اور اس ظلم و فساد اور طغیانی کی اصل وجہ یہی تھی کہ وہ لوگ نہ بعث بعدالموت کے قائل تھے اور اللہ کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی اور جزاء و سزا کے۔ لہذا ہر شخص اپنے ذاتی اور دنیوی مفادات کی خاطر دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے ہر وقت مستعد رہتا تھا اور نتیجتاً یہ سرزمین ظلم و جور سے بھر…
Read the full tafseer →50۔ (آیت) ” فی البروالبحر “۔ یعنی جمیع کائنات میں۔ بشری آبادی کے چونکہ بڑے اور نمایاں مظہر یہی دو ہیں۔ لہذا نام انہیں کے لیے گئے (آیت) ” الفساد “۔ فساد کا لفظ جامع ہے۔ انفرادی واجتماعی زندگی کی ہر قسم کی جسمانی، مادی، اخلاقی، معاشری ابتری اور بدنظمی اس کے تحت میں آجاتی ہے۔ خروج الشیء عن الاعتدال قلیلا کان الخروج عنہ او کثیرا (راغب) انسان کے اپنے کرتوتوں، شرک، کفر، معصیت غرض غیر اسلامی زندگی اور جاہلی نظام کے اتباع سے ہر طرح کے اخلاقی ومعاشری مفسدوں کا اٹھ کھڑا ہونا بالکل ظاہر ہے۔ البتہ آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مادی حوادث تکوینی (قحط، وبا، طوفان وغیرہ) بھی بہت دفعہ اسی جاہلی زندگی کے نتیجے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیت نمبر 41 تا 53
ترجمہ : خشکی یعنی میدانوں میں خشک سالی اور نباتات کی کمی کی وجہ سے اور تری یعنی ان شہروں میں جو نہروں (سمندروں) کے
کنارے واقع ہیں پانی کی قلت کی وجہ سے لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد ظاہر ہوگیا تاکہ ہم ان کو ان کے بعض اعمال کی سزا کا مزہ چکھائیں ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں توبہ کریں، آپ مکہ کے کافروں سے کہئے کہ زمین میں چلو پھرو دیکھو پہلوں کا کیا انجام ہوا ؟ جن میں اکثر لوگ مشرک کے سبب ہلاک کردیئے گئے اور ان کے گھر اور مکانات گرے پڑے ہیں آپ اپنی توجہ دین قیم یعنی اسلام کی جانب رکھئے قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کو اللہ (ہرگز) نہیں ٹالے گا اس روز سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے…
Read the full tafseer →ظھر الفساد فی البرو البحر . خشکی اور سمندر میں فساد پھیل رہا ہے۔
یعنی اموات کی کثرت ‘ غرقابی ‘ آگ لگانا اور جلانا ‘ جنگ وجدال ‘ مار دھاڑ ‘ خوں ریزی ‘ ظلم ‘ دکھ ‘ ضرر ‘ امراض اور گمراہی کی کثرت ہوگئی ‘ سمندروں میں طوفان اور آندھیاں آنے لگیں ‘ سمندر کے جانور باہم لڑنے لگے۔
بغوی نے لکھا ہے بر سے مراد ہے صحرا ‘ بیابان اور بحر سے مراد ہیں وہ شہر اور بستیاں جو نہروں اور دریاؤں کے کنارے پر آباد ہیں۔ عطیہ نے کہا : روئے زمین پر جو شہر وغیرہ ہیں ‘ وہ بر ہیں اور بحر تو معروف ہی ہے (یعنی سمندر) بارش کی کمی کا اثر جس طرح خشکی پر پڑتا ہے اسی طرح سمندر پر بھی پڑتا ہے۔
بارش ہوتی ہے تو سمندر کی تہہ سے سیپ…
Read the full tafseer →خشکی اور تری میں لوگوں کی برائیوں کی وجہ سے بلائیں پھیل رہی ہیں خشکی کے علاقے میں تو ان بلاؤں کا سبب وہ قابیل کا اپنے بھائی ہابیل کو قتل کرنا ہے اور تری میں وہ جلندن کا لوگوں کی کشتیوں کا غصب کرنا ہے۔
یا یہ کہ قحط سالی جانوروں کا مرجانا پیداوار کا کم ہونا خواہ خشکی ہو یا تری میدان ہو یا پہاڑ جنگل ہو یا دیہات و شہر ہوں ہر جگہ یہ تمام چیزیں لوگوں کے برے اعمال کی وجہ سے پھیل رہی ہیں تاکہ وہ اپنے گناہوں سے باز آجائیں اور یہ تکالیف ان سے دور ہوجائیں۔
Read the full tafseer →ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ۔۔ : خشکی سے مراد زمین کے میدان، پہاڑ اور صحرا وغیرہ ہیں اور سمندر سے مراد سمندری جزیرے، ساحلوں پر آباد شہر اور بستیاں اور سمندروں میں سفر کرنے والے جہاز اور کشتیاں ہیں۔ فساد (خرابی) سے مراد ہر آفت اور مصیبت ہے، چاہے وہ جنگ و جدال اور قتل و غارت کی صورت میں نازل ہو یا قحط، بیماری، فصلوں کی تباہی، بدحالی، سیلاب اور زلزلے وغیرہ کی صورت میں ہو۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے بحر و بر میں جو فتنہ و فساد بپا ہے اور آسمان کے نیچے جو ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں، یہ سب شرک کی وجہ سے ہیں۔ جب سے لوگوں نے توحید اور دین فطرت کو چھوڑ کر شرک کی راہیں اختیار کی ہیں اس…
Read the full tafseer →علماء نے فساد بر اور بحر کے معنی میں اختلاف کیا ہے : قتادہ اور سدی نے کہا : فساد کا معنی شرک ہے، یہ سب سے بڑا فساد ہے
حضرت ابن عباس ؓ عکرمہ اور مجاہد نے کہا : زمین میں فساد سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) کے بیٹے کا اپنے بھائی کو قتل کرنا ہے۔ قابیل نے حضرت ہابیل کو قتل کردیا تھا بحر میں فساد سے مراد یہ ہے کہ وہ بادشاہ جو ہر کشی کو غصب کرلیتا ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ فساد سے مراد قحط نباتات کی کمی اور برکت کا چلا جانا ہے اسی کی مثل حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : فرمایا : اس سے مراد بندوں کے اعمال کی وجہ سے برکت کا کم ہوجانا ہے تاکہ وہ توبہ کرلیں۔
نحاس نے کہا : اس آیت کی تفسیر میں جو کچھ کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
زمین پر گناہ کرنا فساد کا ذریعہ ہے
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ظہر الفساد فی البر والبحر کے بارے میں فرمایا کہ البر سے مراد ایسی خش زمین جس کے پاس پانی نہ ہو اور والبحر سے مراد ہے ان شہروں اور بستیوں کو کہتے ہیں جو دریا کے کنارے پر ہو۔
2۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ظہرا لفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس سے مراد ہے برکت میں کمی بندوں کے اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے تاکہ وہ توبہ کریں۔
3۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ظہر الفساد فی البر والبحر سے مراد ہے قحط سالی ان سے کہا گیا کہ بارش کا کم ہونا سمندر کو تو نقصان نہیں دیتا تو انہوں نے…
Read the full tafseer →ظَهَرَ الْفَسَادُ [ظاہر ہوا فساد ] فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [خشکی اور سمندر میں ] بِمَا كَسَبَتْ [بسبب اس کے جو کمایا ] اَيْدِي النَّاسِ [لوگوں کے ہاتھوں نے ] لِيُذِيْقَهُمْ [تاکہ وہ (اللہ) چکھائے ان کو ] بَعْضَ الَّذِيْ [اس کا کچھ جو ] عَمِلُوْا [انھوں نے عمل کئے ] لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ [شاید وہ لوگ لوٹ آئیں ] ۔
نوٹ۔ 1: آیت ۔ 41 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جو مصائب و آفات تم پر آتی ہیں ان کا حقیقی سبب تمہارے گناہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ دنیا میں نہ ان گناہوں کا پورا بدلہ دیا جاتا ہے اور نہ ہر گنا ہ پر آفت آتی ہے بلکہ بہت سے گناہوں کو تو معاف کردیا جاتا ہے۔ اور جو معاف نہیں ہوتے ان کا بھی پورا…
Read the full tafseer →لوگوں کے اعمال بد کی وجہ سے بحر وبر میں فساد ظاہر ہوگیا
اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں بھیجا اور اسے ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کرنے کا حکم فرمایا، امتحان کے لیے اس میں خیر و شر کے اپنانے کی قوت رکھ دی، اس کے اندر ایسے جذبات ہیں جو اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی طرف کھینچتے ہیں اور شیطان بھی ساتھ لگا ہوا ہے وہ لوگوں کو ایمان سے اور اعمال صالحہ سے ہٹاتا ہے اور کفر اور شرک کی راہ پر ڈالتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ یہ بتادیا کہ کفر اور شرک اور برے اعمال کا نتیجہ برا ہے، کفر اور شرک کی سزا دنیا میں بھی مل جاتی ہے اور آخرت میں بھی ملے گی اور کفر اور شرک کے علاوہ جو برے اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–47
ذکر وبال ونحوست کفر ومعصیت در دار دنیا
قال اللہ تعالیٰ ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقہم بعض الذی عملوا لعلہم یرجعون۔۔۔ الی۔۔۔ وکان حقا علینا نصر المومنین۔
(ربط) گذشتہ آیات میں کفر اور شرک اور معصیت پر تہدید تھی اب ان آیات میں کفر اور معصیت کی نحوست کو بیان کرتے ہیں کہ یہ ایسی منحوس چیزیں ہیں کہ بسا اوقات دنیا ہی میں بد اعمالی کی وجہ سے طرح طرح کی بلائیں اور آفتیں اور مصیبتیں پیش آتی ہیں جیسے قحط اور سیلاب اور طاعون وغیرہ اور آخرت سے پہلے دنیا ہی میں سزا کا کچھ مزا چکھا دیا جاتا ہے باقی پوری سزا تو آخرت میں ملے گی اور ان دنیاوی مصائب وآفات کے نازل کرنے سے مقصد یہ ہوتا ہے…
Read the full tafseer →32:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ دنیا میں جو شر و فساد بپا ہوتا ہے اور مصائب و بلیات کے جو طوفان آتے ہیں اس کی وجہ لوگوں کی بد اعمالیاں ہیں یہ شرک، یہ معاصی اور یہ عصیان و طغیان ہی دنیا میں سارے فساد کی جڑ (بما کسبت ایدی الناس) بسبب معاصیہم و شرکہم (مدارک ج 3 ص 210) ۔ شرک و معاصی کی وجہ سے گناہوں کا وبال دنیا میں بھی ان پر آتا ہے تاکہ وہ شرک و عصیان سے باز آجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
ربطہ آیات
پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید اور توحید کے دلائل بیان فرمائے۔ اور ساتھ ساتھ قیامت کا مسئلہ بھی سمجھایا۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ تمام اسباب پر اسی کا تصرف ہے اور رزق کی تنگی اور کشادگی ہونا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ وہی انسانوں کو زندگی بخشتا ، روزی دیتا اور موت طاری کرتا ہے اور پھر قیامت کو دوبارہ بھی زندہ کریگا اللہ نے شکوہ بیان کیا کہ جب یہ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے تو پھر لوگ شرک سے باز کیوں نہیں آتے اور اللہ کی دی ہوئی روزی میں بخل کیوں کرتے ہیں ؟
بحردبر میں فساد کا ظہور
اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ بسا اوقات لوگوں کی نافرمانیوں اور…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 8
ظَہَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ 41
ظَاهَرَ
وظَهَرَ الشّيءُ أصله : أن يحصل شيء علی ظَهْرِ الأرضِ فلا يخفی، وبَطَنَ إذا حصل في بطنان الأرض فيخفی، ثمّ صار مستعملا في كلّ بارز مبصر بالبصر والبصیرة . قال تعالی: أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسادَ [ غافر/ 26] ، ما ظَهَرَ مِنْها وَما بَطَنَ [ الأعراف/ 33] ، إِلَّا مِراءً ظاهِراً [ الكهف/ 22] ، يَعْلَمُونَ ظاهِراً مِنَ الْحَياةِ الدُّنْيا[ الروم/ 7] ، أي : يعلمون الأمور الدّنيويّة دون الأخرويّة، والعلمُ الظَّاهِرُ والباطن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
ترکیب : لیذیقیہم متعلق یظہر ای لیصیرحا لھم الیٰ ذلک وقیل التقدیر عاقبھم لیذلقیھم، کان اکثر ھم استینات من اللہ متعلق بیاتی۔ ویجوزان یتعلق بمرد لانہ مصدر علیٰ معنی لایردہ لتعلق ارادتہ القدیمۃ بمجیئہ۔ یومئذ، بدل من یوم والناصب یصدعون ای یتفرقون فریق فی الجنۃ و فریق فی النار کما یقول من کفر فعلیہ کفرہ ای علیہ وبال کفر یمہدون یستو وں منزلا فی الجنۃ لیجزی علۃ لیمہدون او لیصدعون۔ والاقتصار علی جزاء المومنین۔ للاکتفاء علی فحوی قولہ انہ لا یحب الکفرین۔
تفسیر : ظہر الفساد فی البر والبحر ردّ شرک کے قوی دلائل بیان فرما کر اب اس جگہ یہ بات ظاہر فرماتا ہے کہ فطرت اللہ کے ترک کرنے سے اور کفر و شرک اور ہر…
Read the full tafseer →ظَہَرَالْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ (الروم : 41)
(خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے لوگوں کی اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ اللہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید کہ وہ باز آئیں۔ )
بروبحر میں فساد انسانی اعمال کا نتیجہ ہے
بروبحر کے الفاظ معنوی احاطہ پر دلیل ہوتے ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی، اعتقادی ہو یا عملی، فساد برپا ہوگیا ہے۔ یعنی زندگی کا کوئی شعبہ بھی فکری اور عملی ابتری سے بچا ہوا نہیں ہے۔ اس میں ممکن ہے روم و ایران کے درمیان ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں صدقہ کرنے کا حکم دینے کے ساتھ سود خوری اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اب ان کے دنیا میں پیدا ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
قرآن مجید نے انسان کو بارہا دفعہ یہ حقیقت بتلائی اور سمجھائی ہے کہ اے انسان تیرا خالق، رازق، مالک اور بادشاہ صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ جس کا پہلا اور بنیادی تقاضا ہے کہ تم بلاشرکت غیرے میری بندگی کرو اور آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرو۔ لیکن انسانوں کی غالب اکثریت نے اپنے رب کی ذات اور اس کے احکام کو فراموش کیا اور ایک دوسرے کے ساتھ زیادتی کی بالخصوص مالی استحاصل کیا۔ جس کا نتیجہ نکلا کہ دنیا امن وامان کی…
Read the full tafseer →فساد سے مراد :
41: ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (خشکی اور سمندر میں فساد پھیل رہا ہے) الفساد سے نمبر 1۔ قحط نمبر 2۔ بارشوں کی قلت نمبر 3۔ کھیتوں پر ہوائوں کا چلنا۔ نمبر 4۔ تجارتوں میں نقصان نمبر 5۔ انسانوں اور چوپایوں میں کثرت اموات نمبر 6۔ کثرت غرق نمبر 7۔ ہر چیز سے برکت کا مٹ جانا مراد ہے۔ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ (لوگوں کی بداعمالیوں کے سبب) وہ بداعمالیاں شرک اور دیگر کبائر ہیں جیسا کہ فرمایا وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ] الشوری : 30[ لِیُذِیْقَھُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا (تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے بعض اعمال کا بدلہ چکھائے) مطلب یہ ہے تاکہ ان کو دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
برو بحر میں فساد کی تفسیر
تفسیر 41۔ ، ظھر الفساد فی البر والبحر، بارش کا قحط سبزہ وغیرہ کا نہ اگنا برسے مراد صحرا، بیان اور بحر سے مراد ہیں وہ شہر اور بستیاں جو نہروں اور دریاؤں کے کنارے پر آباد ہیں ۔ عکرمہ کا قول ہے کہ عرب لوگ شہر کو بحر کہتے ہیں جیسے کہاجاتا ہے ، اجدب البر قحط پڑگیا اور سمندر کا پانی بھی منقطع ہوگیا۔
، بما کسبت ایدی الناس ، ان کے گناہوں کی نحوست کی وجہ سے ۔ عطیہ نے کہا کہ روئے زمین پر جو شہر وغیرہ ہیں وہ بر ہیں اور بحرتو معروف ہی ہے۔ یعنی بارش کی کمی کا اثر جس طرح خشکی پر پڑتا ہے اسی طرح سمندرپر بھی پڑتا ہے ۔ جب بارش ہوتی ہے تو سمندر کی تہہ سے سیپ اوپر سطح پر آجاتی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–51
40 تا 51۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ پہلی دفعہ جو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کو پیدا کیا پھر عمر پوری ہونے کے بعد ہر ایک جاندار کی موت اللہ کے حکم سے آتی ہے کسی کو اس میں کچھ دخل نہیں ہے یہ سب کچھ تو ان مکہ کے مشرکوں کی آنکھوں کے سامنے ہے اور ان مشرکوں کے رزق کی سبب جو آسمان سے پانی کا برستا ہے وہ بھی اللہ کے ہی اختیار میں ہے ان کے بتوں کو اس میں کچھ دخل نہیں اور جب ایک دفعہ یہ تمام عالم پیدا ہوچکا تو ان مشرکوں کے روز مرہ کے تجربہ کو گواہی سے دوسری دفعہ انسان کا پیدا ہونا اور نیک وبد کی جزا وسزا کا ہونا بالکل سہل ہے حاصل یہ ہے کہ جب یہ سب اللہ کے اختیار میں ہے تو ان آیتوں…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 41
بحر و بر میں فساد برپا ہوگیا ‘ یعنی ان کی معیشت میں فساد اور اس میں کمی ‘ ان کی معیشت پر آفات کا نزول اور خود ان کے اندر امراض اور وباؤں کا پھیلنا ‘ یہ سب کچھ ان کے کرتوتوں کی پاداش اور فطری طور پر فاسد اور فساد برپا کرنے والے اعمال کے سبب سے ہے۔ یہ مذکور عذاب اس لیے ہے (لیذیقھم بعض الذی عملوا) ” تاکہ وہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے۔ “ یعنی وہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اعمال کی جزا دینے والا ہے۔ اس نے انہیں دنیا ہی میں ان کے اعمال کی جزا کا ایک نمونہ دکھا دیا۔ (لعلھم یرجعون) ” شاید کہ وہ (اپنے ان اعمال سے) باز آجائیں “ جن کی وجہ سے فساد برپا ہوا ہے۔ اس طرح ان کے احوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–60
جوانی ، بڑھاپے کی زحمت سے پہلے غنیمت ہے
قول باری ہے : (اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعدقوۃ ضعفا وشیبۃ۔ اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے رحم مادر میں ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر تمہیں اطفال بنایا کہ عہد طفولیت میں تم اپنی ذات کے لئے کسی نفع نقصان کے مالک نہیں تھے۔ پھر تمہیں طاقت وربنایا اور تمہیں اتنی استطاعت ، عقل وفہم اور سمجھ بوجھ عطا کی کہ تم دنیاوی امور میں تصرف کے ذریعے جلب منفعت اور دفع مضرت کرسکو۔ پھر اس نے تمہیں…
Read the full tafseer →56 لوگوں کے اعمال کا کچھ بدلہ اسی دنیا میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " فساد پھیل گیا خشکی اور تری میں لوگوں کی اپنے ہاتھوں کی کمائی کی بنا پر۔ تاکہ اللہ انکو مزہ چکھائے انکے کچھ اعمال کا "۔ معلوم ہوا کہ اعمال کی اصل اور کامل سزا و جزا تو اگرچہ انسان کو آخرت ہی میں ملے گی لیکن اس کا کچھ اثر یہاں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ نیکی کا بدلہ نیکی اور برائی کا بدلہ برائی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جب لوگ اپنے اعمالِ بد سے زندگی کے ہر شعبے کو فساد سے بھر دیتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ان کے ان کرتوتوں کا کچھ مزہ ان کو اسی دنیا میں چکھا دیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ لوگوں کے ہاتھوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
اللہ کی چار صفات، مشرکین اور اہل ایمان کا مقام
تشریح : جیسا کہ کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے کہ شرک ظلم ہے۔ یعنی اس سے اللہ تعالیٰ کا تو کوئی بھی کسی صورت کچھ بھی نقصان نہیں ہوتا اگر نقصان ہوتا ہے تو صرف شرک کرنے والے کا بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے کیونکہ جو شخص اپنے معبود کے بارے میں ایک یقین نہیں رکھتا ظاہر ہے وہ نہ تو خود مضبوط ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کا راستہ بلکہ وہ ساری عمر ڈانواں ڈول بےیقینی کی زندگی گزارتا ہے اور اس طرح دنیا و آخرت میں عذابوں کا شکار ہوتا ہے شرک انسانی زندگی کے لیے بد ترین زہر سے کم نہیں اسی سے تمام اخلاقی برائیاں بھی پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ان میں صرف دنیاوی زندگی کا تصور بیٹھ جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیات 41 تا 53
اسرارومعارف
کفر و شرک کی مصیبت اللہ کی ناراضگی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اس سے نظام عالم میں خرابی پیدا ہو کر خشکی و تری میں فساد پھیلتا ہے اگرچہ رحمت باری انسان کے سب گناہوں کی سزا اس پر فورا نہیں ڈالتی اور اللہ انسان کو مہلت دیتا ہے مگر اس کے باوجود گناہوں کے اثراتبد کا اظہار ہوتا رہت ہے جسے کافر دنیا ہیں بےحیائی کو عورت کی آزادی کا نام دے کر رواج کردیا گیا آج وہی مصیبت ان کے لیے ہت بڑا عذاب ہے ہر گر کا سکون تباہ ہورہا ہے اولاد کا کوئی نصب نہیں ملتا اور ایڈز جیسے موذی امراض بدکاری کا پھل ہیں ایسے معاش میں سودی نظام کے بڑے برے نتائج دیکھ کر لوگ توبہ کریں اور واپس آجائیں۔ ان سے کہ…
Read the full tafseer →ف 2 خشکی سے مراد زمین، تری سے مراد سمندر اور فساد (خرابی) سے مراد ہر آفت اور صمیبت ہے چاہے وہ جنگ وجدال اور قتل و غارت کی صورت میں نازل ہو یا قحط بیماری فصلوں کی تباہی تنگ حالی سیلاب اور زلزلہ وغیرہ کی صورت میں آیت کا مطلب یہ ہے کہ برو بحر (عالم ہیں جو فتنہ و فساد بپا ہے اور آسمان کے نیچے جو ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں یہ سب شرک کی وجہ سے ہیں جب سے لوگوں نے توحید (دین فطرت) کو چھوڑ کر شرک کی راہیں اختیار کی ہیں اس وقت سے یہ ظلم و فساد بھی بڑھ گیا ہے اور شرک جیسے قولی اور اقتصادی ہوتا ہے اسی طرح شرک عملی بھی ہے جو فسق فجور اور معاصی کا روپ دھار لیتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ شرک اعتقادی اور قول تو…
Read the full tafseer →(30:41) ظھر۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ ظاہر ہوا۔ آشکار ہوا۔ غالب ہوا۔ پھیل پڑا ۔ ظھور (باب فتح) مصدر سے۔
بما۔ الباء سببیہ ہے ما موصولہ ہے۔
لیذیقھم۔ لام تعلیل کا ہے۔ لوگوں کی بداعمالی کے نتیجے میں خشکی اور تری کا نظام بگڑ گیا۔ اور یہ بگاڑ اپنے اثرات میں امن و سکون کو ختم کرنے کا باعث بنا اور اللہ تعالیٰ نے ان کا امن و سکون اس واسطے ختم کردیا کہ وہ لوگوں کو ان کے بعض اعمال کے نتائج کا مزہ چکھائے (کیونکہ جملہ اعمال کی سز اوجزاء کا دن روز قیامت ہے) یذیق مضارع واحد مذکر غائب اذافۃ (افعال) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (الناس کی رعایت سے یہاں صیغہ جمع آیا ہے۔ وہ ان کو مزہ چکھائے) ۔
لعلہم یرجعون۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
(لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 45 (
ظھر (ظاہر ہوگیا۔ کھل گیا) ۔ بحر (تری۔ دریا۔ سمندر) ۔ کسبت (اس نے کمایا) ۔ یذیق (وہ چکھاتا ہے) ۔ سیروا (تم چلو پھرو) ۔ دین القیم (بہترین اور مستحکم دین) ۔ لا مرد (ٹلنے والا نہیں ہے) ۔ یصدعون (الگ الگ ہوجائیں گے) ۔ یمھدون (وہ ہدایت حاصل کرتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 41 تا 45
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کر کے کسی کو اس کا شریک نہ ماننا، اسی کی عبادت و بندگی اور اعمال صالحہ کی روش پر چلنا، ہر طرح کے گناہوں اور برے اعمال سے رک جانا دین فطرت ہے۔ لیکن اس کے بر خلاف کفروشرک اور اللہ کی نافرمانیوں میں مبتلا ہو کر کھلم کھلا ظلم و زیادتی پر اتا آنا خلاف فطرت ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
علامات قیامت اور جنتی دوزخیوں کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں ہوا کا ذکر اور ہوا کے سبب سے بادل جو آتے ہیں ان کا ذکر، اور بادلوں کے سبب سے جو مینہ برستا ہے اس کا ذکر فرما کر فرمایا ہے کہ جس طرح ہر سال برسات کے موسم میں زمین کی مری ہوئی مٹی زندہ ہوجاتی ہے اور اس میں ہر طرح کے اناج کے پیدا ہونے کی قوت آجاتی ہے اس طرح حشر کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک مرے ہوئے شخص کے جسم کو پھر تیار کرکے ان جسموں میں پھر روح پھونکے گا۔ صحیح بخاری ومسلم کی حضرت ابوہریرہ سے حدیث ہے کہ دوسرے صور سے پہلے شبنم کی طرح ایک مینہ برسے گا جس سے زمین کے سب مرے ہوئے لوگوں کے پتلے بن کرتیارہوجائیں گے پھر دوسراصور پھونکا جائے گا جس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
[21] یعنی لوگ دین فطرت پر قائم نہ رہے اور شرک و معصیت میں مبتلا ہوگئے جس کی وجہ سے تمام دنیا میں خرابی پھیل گئی، نہ خشکی میں امن و سکون رہا نہ تری میں۔ روئے زمین کو فتنہ و فساد نے گھیر لیا۔ بحری لڑائیوں اور جہازوں کی لوٹ مار سے سمندروں میں طوفان بپا ہوگیا۔ یہ سب اس لئے کہ اللہ نے چاہا کہ لوگوں کی بداعمالیوں کا تھوڑا سا مزا دنیا میں بھی چکھا دیا جائے۔ پوری سزا تو آخرت میں ملے گی مگر کچھ نمونہ یہاں بھی دکھا دیا جائے تاکہ کچھ لوگ ڈر کر راہ راست پر آجائیں۔ واضح رہے کہ لوگوں کی بدکاریوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں خرابی کا پھیلنا تو ہمیشہ ہوتا رہا اور ہوتا رہے گا لیکن نزول قرآن سے پہلے پوری دنیا پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
ف 2: اس وقت کا نقشہ ہے جب قرآن دنیا میں نازل ہورہا تھا ۔ بتایا ہے کہ کائنات میں اعتقاد اور عمل کا فساد اور طوفان رونما ہے ۔ شرک اور بت پرستی کی تاریکیوں سے افق حیات تیرہ و تاریک ہے انسانیت کے قول اعتدال میں فتورا کیا ہے ۔ اخلاق ذلیل ترین صورت اختیار کرچکے ہیں ۔ اور اب اگر اسلام کی روشنی اور اس کی برکات سے انسان نے استفادہ نہ کیا ۔ تو ہلاکت لازم درلابد ہے ۔ چناچہ تاریخ کے ورق الٹ کر دیکھئے ۔ معذب قوموں کے حالات کا معائنہ کیجئے کیونکر اللہ تعالیٰ نے ان کو صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا محض اس پاداش میں کہ انہوں نے خدا کے حکموں کو نہ مانا ۔ اور فطرت کے پیغام سے روگردانی کی ۔ پھر اگر یہ مکہ…
Read the full tafseer →41۔ خشکی اور تری میں ان لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے ہلاکت و تباہی پھیل گئی تا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ان کے بعض اعمال کی سزا کا مزہ چکھا دے تا کہ وہ باز آجائیں اور اعمال بد کے ارتکاب سے لوٹ جائیں ۔ برو بحر سے مرادعام آبادیاں ہیں خواہ وہ دریا سے قریب ہوں یا دریا سے دور ہوں ۔ فساد سے ہر قسم کے مصائب اور بلائیں مراد ہیں خواہ وہ قحط ہو یا سیلاب ہو ۔ وبائیں ہوں قتل و غارت گری ہو یہ سب باتیں ان گناہوں کی وجہ سے ہیں جو لوگ کرتے رہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ کچھ اعمال کی سزا کا مزہ لوگوں کو دنیا میں چکھا دے ورنہ اگر تمام اعمال کا مواخذہ شروع ہوجائے تو روئے زمین پر ایک متنفس بھی باقی…
Read the full tafseer →ف 3۔ بعض کا مطلب یہ ہے کہ اگر سب پر عقوبتیں مرتب ہوں تو ایک دم زندہ نہ رہیں۔
Read the full tafseer →فساد جب بھی پھیلتا ہے تو وہ لوگوں کے کیے کا نتیجہ ہوتا ہے :
41۔ آپ کو یاد ہوگا کہ زیر نظر سورة کے شروع میں ایک فساد فی الارض کا ذکر کیا گیا تھا جو ایرانیوں اور رومیوں کے درمیان پھیلا ہوا تھا جس کا نتیجہ اس وقت اس طرح ظاہر ہو رہا تھا کہ رومی ایرانیوں کے ہاتھوں پٹتے جا رہے تھے ، حالانکہ ایرانی آتش پرست تھے اور رومی خالصتا عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والے تھے اگرچہ یہ لوگ بھی غلو میں مبتلا تھے ۔ زیر نظر آیت میں اس جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے تو بلاشبہ ” یہ لوگوں ہی کے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہے ۔ “ کہ وہ لوگ ایک دوسرے کے درپے ہیں اور ایک دوسرے کو ختم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
Commentary
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ (Plight has appeared on land and sea because of what the hands of the people have earned 30:41). The author of Ruh ul-Ma’ ani has explained that the word fasad' (translated in the text as 'plight' ) means all sorts of calamities, such as famine, epidemic diseases, frequency of the incidents of fire, drowning, lack of Allah's blessing in everything, and reduction in profits and incurring of losses in lucrative businesses. It can also be deduced from this verse that the cause of falling of calamities in the…
Read the full tafseer →64 This is again an allusion to the war that was going on between Byzantium and Iran, which was telling on the whole of the Middle East. "Man's own doings" means the wickedness and oppression and tyranny, which inevitably appear in human conduct and character as a result of adopting shirk and atheism and ignoring the Hereafter. "Maybe they mend their ways" means that Allah shows the evil consequences of some of the acts of men in this world before the punishment of the Hereafter so that they understand the reality, feel the error of their conjectures and turn to the righteous belief, which…
Read the full tafseer →