Explained with ayahs 38–40
صلہ رحمی کی تاکید
قرابتداروں کے ساتھ نیکی سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسکین اسے کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو یا کچھ ہو لیکن بقدر کفایت نہ ہو۔ اس کے ساتھ بھی سلوک واحسان کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسافر جس کا خرچ کم پڑگیا ہو اور سفر خرچ پاس نہ رہا ہو اس کے ساتھ بھی بھلائی کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن دیدار اللہ کریں حقیقت میں انسان کے لئے اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ دنیا اور آخرت میں نجات ایسے ہی لوگوں کو ملے گی۔ اس دوسری آیت کی تفسیر تو ابن عباس مجاہد ضحاک قتادۃ عکرمہ محمد بن کعب اور شعبی سے یہ مروی ہے کہ جو شخص کوئی عطیہ اس ارادے سے دے کہ لوگ…
Read the full tafseer →سورة الروم 61
یہاں سے پھر کفار و مشرکین کو سمجھانے کے لیے سلسلہ کلام توحید و آخرت کے مضمون کی طرف پھرجاتا ہے۔
سورة الروم 62
یعنی زمین میں تمہارے رزق کے لیے جملہ وسائل فراہم کیے اور ایسا انتظام کردیا کہ رزق کی گردش سے ہر ایک کو کچھ نہ کچھ حصہ پہنچ جائے۔
سورة الروم 63
یعنی اگر تمہارے بنائے ہوئے معبودوں میں سے کوئی بھی نہ پیدا کرنے والا ہے، نہ رزق دینے والا، نہ موت و زیست اس کے قبضہ قدرت میں ہے، اور نہ مرجانے کے بعد وہ کسی کو زندہ کردینے پر قادر ہے، تو آخری لوگ ہیں کس مرض کی دوا کہ تم نے انہیں معبود بنا لیا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَال النَّاسِ ، اس آیت میں ایک بری رسم کی اصلاح کی گئی ہے، جو عام خاندانوں اور اہل قرابت میں چلتی ہے۔ وہ یہ کہ عام طور پر کنبہ رشتہ کے لوگ جو کچھ دوسرے کو دیتے ہیں اس پر نظر رکھتے ہیں کہ وہ بھی ہمارے وقت میں کچھ دے گا بلکہ رسمی طور پر کچھ زیادہ دے گا، خصوصاً نکاح، شادی وغیرہ کی تقریبات میں جو کچھ دیا لیا جاتا ہے اس کی یہی حیثیت ہوتی ہے جس کو عرف میں نوتہ کہتے ہیں۔ اس آیت میں ہدایت کی گئی ہے کہ اہل قرابت کا جو حق ادا کرنے کا حکم پہلی آیت میں دیا گیا ہے ان کو یہ حق اس طرح دیا جائے کہ نہ ان پر احسان جتائے اور نہ کسی بدلے پر نظر رکھے اور جس نے…
Read the full tafseer →6۔ آگے کا مضمون۔ آیات 40۔ 60
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں پیغمبر ﷺ کے مخالفین کو دھمکی دی گئی ہے کہ انہوں نے دین فطرت کی دونوں بنیادیں۔ توحید اور ہمدردی خلق۔ ڈھادی ہیں اور اس طرح پورے نظام معاشرت و تمدن کو بگاڑ کر خدا کی زمین کو فساد سے بھر دیا ہے۔ اس چیز نے ان کو مستحق بنا دیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کسی گرفت میں آئیں تاکہ وہ اپنے اس فساد فی الارض کا کچھ مزا چکھیں، پھر مسلمانوں کو غلبہ و نصرت کی بشارت دی گئی ہے اور اس کائنات کے شواہد سے یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کسی پر نازل کرنا چاہتا ہے تو اپنے تصرف غیبی سے ناسازگار حالات کو بھی سازگار بنا دیتا ہے۔
اسی کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
39-1یعنی سود سے بظاہر اضافہ معلوم ہوتا ہے لیکن دراصل ایسا نہیں ہوتا بلکہ اس کی نحوست بالآخر دنیا اور آخرت میں تباہی کا باعث ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور متعدد صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس آیت میں ربا سے مراد سود نہیں بلکہ وہ تحفہ اور ہدیہ لیا جو کوئی غریب آدمی کسی مال دار کو یا رعایا کا کوئی فرد بادشاہ یا حکمران کو اور ایک خادم اپنے مخدوم کو اس نیت سے دیتا ہے کہ وہ اس کے بدلے میں مجھے اس سے زیادہ دے گا۔ اسے ربا سے اسی لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ دیتے وقت اس میں زیادتی کی نیت ہوتی ہے۔ یہ اگرچہ مباح ہے تاہم اللہ کے ہاں اس پر اجر نہیں ملے گا۔ (فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ) 30۔ الروم :39) سے اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
18: واضح رہے کہ سورة روم کی یہ آیت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی تھی، اور یہ پہلی آیت ہے جس میں سود کی مذمت کی گئی ہے، اس وقت تک سود کو واضح لفظوں میں حرام نہیں کیا گیا تھا، لیکن اشارہ فرما دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سود کی آمدنی بڑھتی نہیں، یعنی سود لینے والا لیتا تو اسی ارادے سے ہے کہ اس سے اس کی دولت بڑھے گی، لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بڑھتی نہیں، کیونکہ اول تو دنیا میں بھی حرام مال اگرچہ گنتی میں بڑھ جائے، لیکن اس میں برکت نہیں ہوتی، مال و دولت کا اصل فائدہ تو یہ ہے کہ انسان کو اس سے آرام و راحت نصیب ہو، لیکن حرام آمدنی کی گنتی بڑھانے والے بکثرت دنیا میں بھی پریشانیوں کا شکار رہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
اللہ الذی خلقکم ۔۔۔۔۔ اکثرھم مشرکین (40 – 42)
اللہ ان کی زندگی کی حقیقی صورت حال ان کے سامنے رکھتے ہیں اور ان کے ایسے حالات ان کے سامنے پیش فرماتے ہیں جن کے بارے میں انہیں شک نہیں ہے کہ ان حالات کا موجد اللہ ہے ، یا ایسے حالات جن کے بارے میں وہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ ان کے مزعومہ خدا اور الٰہ ان حالات کے موجد ہیں ، یا شریک ہیں ، یہ کہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ وہی ہے جو تمہارا رزاق ہے ، وہی تمہیں مارتا ہے ، وہی تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ جہاں تک تخلیق کا تعلق ہے ، اس کا وہ اقرار کرتے تھے ، جہاں تک رزق کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں بھی وہ یہ دعویٰ نہ کرسکتے تھے کہ ان کے مزعومہ الٰہ ان کو…
Read the full tafseer →7 یعنی مارنا جلانا، روزی دینا، سب کام تو تنہا اس کے قبضہ میں ہوئے۔ پھر دوسرے شریک کدھر سے آکر الوہیت کے مستحق بن گئے۔
Read the full tafseer →ہَلْ مِنْ شُرَکَآءِکُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِکُمْ مِّنْ شَیْءٍ ط ”
اے گروہ مشرکین ! کیا تمہارے لات ‘ منات اور عزیٰ میں سے کوئی ہے جو ان میں سے کوئی ایک کام بھی سر انجام دینے کی قدرت رکھتا ہو ؟ دراصل مشرکین مکہ خود ہی یہ تسلیم کرتے تھے کہ ان کا خالق اللہ ہے اور زندگی و موت کا اختیار بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ لات و منات وغیرہ کے بارے میں ان کا عقیدہ یہ تھا : ہٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ ط یونس : 18 کہ وہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں گے اور ان کی سفارش سے آخرت میں وہ چھوٹ جائیں گے۔
Read the full tafseer →46 یعنی جب تمہارے بنائے ہوئے معبودوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس نے تمہیں پیدا کیا ہو یا تمہارے رزق کا ذمہ دار ہو یا تمہیں مار سکتا ہو یا تمہیں دوبارہ زندگی بخش سکتا ہو تو پھر آخر یہ ہیں کس کام کے ؟ اور کس لحاظ سے تم انھیں اللہ کے شریک بناتے ہو ؟ واضح رہے کہ مشرکین مکہ ان چار باتوں میں سے پہلی تین باتوں کے قائل تھے کہ جو امور اس آیت میں مذکور ہوئے ہیں۔ یہ صرف اللہ ہی کے کارنامے ہیں اور ان میں ان کے معبودوں کا کوئی حصہ نہیں۔
Read the full tafseer →49۔ (قیامت میں) یعنی ایجاد وابقاء وافناء تینوں صفات کا مالک صرف وہی ہے۔ پیدا کرنے والا۔ پالنے والا، فنا کرنے والا سب صرف وہی ایک ہے۔ الگ الگ اور تین تین ہستیاں نہیں۔ جیسا کہ برہما وشنو اور شیو کی تریمورتی کا عقیدہ ہے۔ اور پھر قیامت میں اٹھانے وصف بھی اسی کے ساتھ مخصوص ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
آیت نمبر 28 تا 40
ترجمہ : اے مشرکو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے خود تمہاری ہی مثال بیان فرمائی اور وہ یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے تم کو اموال وغیرہ دے رکھے ہیں کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے تمہارا کوئی شریک ہے ؟ کہ تم اور وہ اس میں برابر درجہ کے ہو اور تم ان سے ایسا اندیشہ رکھتے ہو جیسا کہ خود آپس کا یعنی اپنے آزاد لوگوں کا، اور استفہام نفی کے معنی میں ہے، مطلب یہ کہ تمہارے نزدیک بھی تمہارے غلام تمہارے شریک نہیں ہیں، (الیٰ آخرہ) یعنی ان اموال میں جو ہم نے تم کو دے رکھے ہیں تمہارے غلام تمہارے جیسے آزادوں کے مانند شریک نہیں ہیں کہ برابر کا درجہ رکھتے ہوں، تو پھر تم اللہ کے بعض غلاموں کو اس کو شریک…
Read the full tafseer →اللہ الذی خلقکم ثم رزقکم ثم یمیتکم ثم یحییکم ھل من شرکائکم من یفعل من ذلکم
من شی . اللہ ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو رزق دیا پھر تم کو موت دے گا پھر تم کو زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے (مفروضہ) شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے کہ اس میں سے کچھ بھی کرتا ہو ؟
ھَلْ مِنْ شُرَکَآءِ کُمْ یعنی بتوں وغیرہ کو جو تم شریک الوہیت قرار دیتے ہو ‘ ان میں سے کوئی ایسا کرسکتا ہے ؟
ا اللہ نے پہلے لوازم الوہیت ذکر کئے پھر ان کو اپنی ذات کے لئے ثابت کیا اور دوسرے معبودوں سے ان کی نفی کردی اور بطور تاکید استفہام انکاری کا طرز بیان اختیار کیا۔ عقلی دلائل ‘ مشاہدہ اور اجماع (انسانی) کا یہی لازمی تقاضا ہے۔ اس کے بعد…
Read the full tafseer →اللہ ہی وہ ہے جس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں بچہ کی صورت میں پیدا کیا اور پھر تمہارے اندر روح پھونک کر تمہیں باہر نکالا اور پھر تمہیں مرنے تک پاکیزہ رزق دیا اور پھر تمہاری مدت پوری ہونے پر تمہیں موت دیتا ہے اور پھر مرنے کے بعد قیامت کے دن تمہیں زندہ کرے گا۔
اے مکہ والو اب بتاؤ تو سہی کہ کیا تمہارے معبودوں میں سے کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کرسکے لہٰذا ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ شرک و اولاد سے پاک اور ان کے شریک کردہ بتوں سے بالا و برتر ہے۔
Read the full tafseer →اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ۔۔ : یہاں سے کفار و مشرکین کو سمجھانے کے لیے پھر سلسلۂ کلام توحید اور آخرت کی طرف پھر گیا ہے۔
هَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ مَّنْ يَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَيْءٍ : کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو اس میں سے کچھ بھی کرسکے ؟ ظاہر ہے کہ نہیں کرسکتے تو پھر انھیں پوجنے اور ان کے آستانوں پر نذریں ماننے اور چڑھاوے چڑھانے کا کیا فائدہ ؟
Read the full tafseer →یہ کلام مبتدا اور خبر ہے کلام مشرکوں کے خلاف استدلال کی طرف لوٹ رہی ہے وہ خالق، رزاق، زندگی عطا کرنے والا اور موت دینے والا ہے پھر استفہام کے طریقہ پر کہا یعنی اس کے شریکوں میں سے تو کوئی بھی کچھ نہیں کرتے پھر اپنی انداد، اضداد، بیوی اور اولاد سے پاکی بیان کی۔
شرکء کی نسبت ان کی طرف کی کیونکہ وہ مشرک انہیں الہ اور زشرکاء کا نام دیا کرتے تھے اور اپنے اموال کے لئے مختص کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ منیبین الیہ سے مراد ہے توبہ کرنے والے اس کی طرف
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت من الذین فرقوا دینہم سے یہود و نصاری مراد ہیں آیت ام انزلنا علیہم سلطانا سے مراد ہے کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی کہ جو ان کو اس بات کا حکم دے رہی ہے۔
3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ام انزلنا علیہم سلطنا فہو یتکلم بما کانو بہ یشرکون یعنی کیا ہم نے ان پر کوئی کتاب اتاری ہے جو ان کو شرک کرنے کا کہتی ہے۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت…
Read the full tafseer →اَللّٰهُ الَّذِيْ [اللہ وہ ہے جس نے ] خَلَقَكُمْ [پیدا کیا تم کو ] ثُمَّ رَزَقَكُمْ [پھر اس نے رزق دیا تم کو ] ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ [پھر وہ موت دے گا تم کو ] ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ۭ [پھر وہ زندہ کرے گا تم کو ] هَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ [کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ] مَّنْ [وہ ہے جو ] يَّفْعَلُ [کرتا ہے ] مِنْ ذٰلِكُمْ [اس میں سے ] مِّنْ شَيْءٍ ۭ [کوئی بھی چیز (یعنی کام)] سُبْحٰنَهٗ [پاکیزگی اس کی ہے ] وَتَعٰلٰى [اور وہ بلند ہوا ] عَمَّا [اس سے جو ] يُشْرِكُوْنَ [یہ لوگ شریک کرتے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →چوتھی آیت میں پھر توحید کی طرف متوجہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا فرمایا ہے پھر تمہیں رزق دیا، اس رزق کو کھاتے پیتے ہو اور زندہ رہتے ہو، پھر اس زندگی کے بعد تمہیں موت دے گا پھر زندہ فرمائے گا، اسی کی قدرت کے یہ سب مظاہرے ہیں اور وہی مستحق عبادت ہے، وحدہٗ لا شریک ہے تم لوگوں نے جو اس کے لیے شریک بنا رکھے ہیں کیا ان میں سے کوئی ایسا ہے جسے ان چیزوں پر قدرت ہو ؟ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی یہ کام نہیں کرسکتا، جب اس کے علاوہ کوئی بھی قدرت رکھنے والا نہیں ہے تو پھر عبادت میں دوسروں کو شریک کیوں کرتے ہو، (سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ) (وہ ان کے شرک سے پاک ہے اور برتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
بیان مثال برائے اظہار جہالت اہل شرک وضلال
قال اللہ تعالیٰ ضرب لکم مثلا من انفسکم۔۔۔ الی۔۔۔ سبحنہ و تعلی عما یشرکون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے وحدانیت کے دلائل ذکر کئے۔ اب مشرکین کی جہالت اور ضلالت ظاہر کرنے کے لئے خود انہی کے احوال میں سے ایک مثال بیان فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود تمہارے ہی احوال میں سے شرک کی برائی ظاہر کرنے کے لئے ایک مثال بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ کیا اے آزاد لوگو تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ جس چیز کے تمہارے ہاتھ مالک ہیں یعنی تمہارے لونڈی غلام جو تمہارے ہاتھ کا مال ہیں اور محض ظاہری اور مجازی طور پر تم ان کے مالک ہو اور یہ ملک مجازی بھی دائمی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
31:۔ یہ توحید پر دسویں عقلی دلیل ہے۔ تم سب کا خالق و رازق اللہ تعالیٰ ہے اور موت وحیات بھی اسی کے قبضے میں ہے۔ اب تم خود ہی بتاؤ کہ جن برگزیدہ ہستیوں اور اللہ کے جن نیک اور صالح بندوں کو تم نے اللہ کے سوا کارساز سمجھ رکھا ہے کیا ان میں سے کسی ایک نے اس سارے جہان میں کوئی ایک ہی چیز پیدا کی ہے یا پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ یا کسی کی روزی ان میں سے کسی کے اختیار میں ہے یا کسی کی موت اور زندگی ان میں سے کسی کے قبضہ و تصرف میں ہے ؟ ظاہر ہے ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے مشرکین کا بھی اعتقاد تھا کہ ان کے مزعومہ کارساز ان کاموں میں سے کوئی کام کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ سبحانہ وتعالی الخ۔ جب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ربطہ آیات
پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی مذمت اور قیامت کا مسئلہ بیان فرمایا اور دین فطرت کو اختیار کرنے کا حکم دیا۔ اللہ نے خدا کی طرف رجوع کرنے اور اسی سے ڈرنے کی بھی تلقین کی۔ اقامت نماز کا تاکید کا حکم دیا اور فرمایا کہ مشرکو میں سے نہ بنو جو بنیادی عقائد میں خرابی پیدا کرکے گروہ در گروہ ہوگئے حالانکہ ہر گر وہ باطل عقیدے پر تھا۔ پھر اللہ نے انسانوں کی عام حالت بھی بیان فرمائی کہ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ان میں فطری جذبہ بیدار ہوجاتا ہے اور وہ خدا کے سامنے گڑ گڑا کر دعائیں کرتے ہیں پھر جب وہ تکلیف دور ہوجاتی ہے تو اکثر لوگ شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اللہ کے سوا دوسروں کی…
Read the full tafseer →اَللہُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ 0 ۭ ہَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ مَّنْ يَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَيْءٍ 0 ۭ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 40 ۧ
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا .
وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ.
فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
1 ؎ (1) وما اتیتم من ربا یربوا فی اموال الناس تفصیل القام یا موصولہ آتیتیم اس کا صلہ اور حائد محذوف من ربا کا بیان کہلانا منصوب ہے۔ اتیتم سے اور قراءت وہ نظر ہے کہ جس میں اتیتم کو مد کے ساتھ پڑھا ہے (مکی) اور لبریوا کو صیغہ منفرد جو لام کی وجہ سے مفتوح ہے من ربا یربوا کے متعلق ہے اور یہ ہی تسلیم کیا جاوے کہ ربا سے مراد ربا محرم نہیں ہدیہ اوطی خیباً ہدیۃ اور ہتہً یطلب اکروکم باہم المطلوب من الزیادۃ فی المعاملۃ (جلالین اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ وہ جو تم ہدیہ دے رہے ہو کہ جو ہدیہ بڑھے اور دو چند سہ چند ہوجائے لوگوں کے مال میں سے کیونکہ لوگوں کی عادت تھی اور اب بھی ہے کہ ہدیہ کے طور پر کوئی…
Read the full tafseer →اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَـکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُـکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ط ھَلْ مِنْ شُرَکَآئِکُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِکُمْ مِّنْ شَیْ ئٍ ط سُبْحٰنَـہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ (الروم : 40)
(اللہ ہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تمہیں رزق دیا، پھر وہ تمہیں موت دیتا ہے، پھر تم کو زندہ کرے گا، کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو ان میں سے کوئی کام بھی کرتا ہو، وہ پاک ہے اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔ )
شرک کی مذمت میں ایک جامع دلیل
گزشتہ آیات میں شرک کے مختلف مظاہر اور مصادیق پر ہمہ پہلو تنقید اور شرک سے پیدا ہونے والے مفاسد اور فکری اور عملی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سورة الرّوم کی پہلی دس آیات کے بعد کسی نہ کسی انداز میں مسلسل اللہ کی توحید کے دلائل دیے گئے ہیں اب پھر اسی عنوان کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
سابقہ آیات میں یہ بتلایا گیا ہے جب مشرک کو کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے۔ مصیبت ٹل جائے تو مشرک اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتا ہے۔ حالانکہ اسے معلوم ہے کہ اللہ ہی نے سب کو پیدا کیا ہے وہی سب کی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ وہی موت دینے والا ہے اور وہی موت کے بعد سب کو زندہ کرے گا کیا کوئی ہے جو ان کاموں میں اس کا شریک ہو ؟ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا ہر دور کے مشرک اعتراف کرتے آرہے ہیں اور قیامت تک اعتراف کرنے پر مجبور ہوں…
Read the full tafseer →40: پھر انکے معبود ان مجوزہ کی عاجزی کو ذکر کرتے ہوے فرمایا : اَللّٰہُ الَّذیْ خَلَقَکُمْ (اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا) ۔
نحو : یہ مبتدأ و خبر ہے۔
رزق ‘ موت ‘ زندگی اللہ کے پاس ہے :
ثُمَّ رَزَقَکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ (پھر تم کو رزق دیا پھر تم کو موت دے گا پھر وہ تمہیں زندہ کرے گا) ۔ یعنی وہ تخلیق کرنے ‘ روزی دینے اور موت و زندگی دینے کے ساتھ خاص ہے۔ ھَلْ مِنْ شُرَکَآ ئِ کُمْ (کیا تمہارے فرضی شریکوں میں سے) یعنی وہ اصنام جن کے متعلق تمہارا گمان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں۔ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِکُمْ ( کون ایسا ہے جو اس میں سے کوئی کام کرنے کی طاقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
برو بحر میں فساد کی تفسیر
تفسیر 41۔ ، ظھر الفساد فی البر والبحر، بارش کا قحط سبزہ وغیرہ کا نہ اگنا برسے مراد صحرا، بیان اور بحر سے مراد ہیں وہ شہر اور بستیاں جو نہروں اور دریاؤں کے کنارے پر آباد ہیں ۔ عکرمہ کا قول ہے کہ عرب لوگ شہر کو بحر کہتے ہیں جیسے کہاجاتا ہے ، اجدب البر قحط پڑگیا اور سمندر کا پانی بھی منقطع ہوگیا۔
، بما کسبت ایدی الناس ، ان کے گناہوں کی نحوست کی وجہ سے ۔ عطیہ نے کہا کہ روئے زمین پر جو شہر وغیرہ ہیں وہ بر ہیں اور بحرتو معروف ہی ہے۔ یعنی بارش کی کمی کا اثر جس طرح خشکی پر پڑتا ہے اسی طرح سمندرپر بھی پڑتا ہے ۔ جب بارش ہوتی ہے تو سمندر کی تہہ سے سیپ اوپر سطح پر آجاتی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–51
40 تا 51۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ پہلی دفعہ جو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کو پیدا کیا پھر عمر پوری ہونے کے بعد ہر ایک جاندار کی موت اللہ کے حکم سے آتی ہے کسی کو اس میں کچھ دخل نہیں ہے یہ سب کچھ تو ان مکہ کے مشرکوں کی آنکھوں کے سامنے ہے اور ان مشرکوں کے رزق کی سبب جو آسمان سے پانی کا برستا ہے وہ بھی اللہ کے ہی اختیار میں ہے ان کے بتوں کو اس میں کچھ دخل نہیں اور جب ایک دفعہ یہ تمام عالم پیدا ہوچکا تو ان مشرکوں کے روز مرہ کے تجربہ کو گواہی سے دوسری دفعہ انسان کا پیدا ہونا اور نیک وبد کی جزا وسزا کا ہونا بالکل سہل ہے حاصل یہ ہے کہ جب یہ سب اللہ کے اختیار میں ہے تو ان آیتوں…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 40
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ تمہاری تخلیق ‘ تمہیں رزق عطا کرنے ‘ تمہیں مارنے اور تمہیں زندہ کرنے میں اللہ تعالیٰ یکتا ہے اور یہ خود ساختہ الٰہ ‘ جن کو مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے شریک قرار دے رکھا ہے ان افعال میں کوئی بھی شریک نہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ‘ جو ان امور میں یکتا ہے ‘ ایسی ہستیوں کو شریک ٹھہراتے ہیں ‘ جو کسی طرح بھی ان امور میں تصرف کی قدرت نہیں رکھتیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے شرک سے بالاتر ‘ پاک اور منزہ ہے اور ان کے شرک سے اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور اس کا وبال انہی پر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–60
جوانی ، بڑھاپے کی زحمت سے پہلے غنیمت ہے
قول باری ہے : (اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعدقوۃ ضعفا وشیبۃ۔ اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے رحم مادر میں ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر تمہیں اطفال بنایا کہ عہد طفولیت میں تم اپنی ذات کے لئے کسی نفع نقصان کے مالک نہیں تھے۔ پھر تمہیں طاقت وربنایا اور تمہیں اتنی استطاعت ، عقل وفہم اور سمجھ بوجھ عطا کی کہ تم دنیاوی امور میں تصرف کے ذریعے جلب منفعت اور دفع مضرت کرسکو۔ پھر اس نے تمہیں…
Read the full tafseer →55 توحید کے بعض دلائل انفسی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ وہی ہے جس نے تم سب کو پیدا فرمایا اور تمہیں وجود بخشا۔ پھر اسی نے تمہاری روزی کا انتظام فرمایا۔ پھر وہی تم کو موت دیتا اور زندگی بخشتا ہے "۔ تو کیا تمہارے ان شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کرسکے ؟ اور جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر اس وحدہ لاشریک کا کوئی شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اور اس کے سوا کسی بھی اور کیلئے عبادت و بندگی کی کوئی بھی قسم کس طرح جائز ہوسکتی ہے ؟ سو یہ توحید خداوندی کے بعض وہ دلائل ہیں جو خود تمہاری جانوں کے اندر موجود ہیں۔ تمہیں کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں بلکہ تم خود اپنے ہی حالات میں غور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
اللہ کی چار صفات، مشرکین اور اہل ایمان کا مقام
تشریح : جیسا کہ کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے کہ شرک ظلم ہے۔ یعنی اس سے اللہ تعالیٰ کا تو کوئی بھی کسی صورت کچھ بھی نقصان نہیں ہوتا اگر نقصان ہوتا ہے تو صرف شرک کرنے والے کا بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے کیونکہ جو شخص اپنے معبود کے بارے میں ایک یقین نہیں رکھتا ظاہر ہے وہ نہ تو خود مضبوط ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کا راستہ بلکہ وہ ساری عمر ڈانواں ڈول بےیقینی کی زندگی گزارتا ہے اور اس طرح دنیا و آخرت میں عذابوں کا شکار ہوتا ہے شرک انسانی زندگی کے لیے بد ترین زہر سے کم نہیں اسی سے تمام اخلاقی برائیاں بھی پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ان میں صرف دنیاوی زندگی کا تصور بیٹھ جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
آیات 28 تا 40
اسرارو معارف
اللہ کریم تمہارے لیے ایک مثال ارشاد فرماتا ہے کہ تم خود اپنی ذات پر غور کرو تمہارے جیسے انسان جو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں اور تمام انسانی اوصاف میں تمہارے ساتھ ہیں مگر تمہارے غلام اور خادم ہیں صرف اس ایک وجہ سے وہ تمہارے مال میں تمہاری مرضی کے بغیر داخلت نہیں کرسکتے اور اگر کوئی تمہارا معمولی سا حصہ دار اور شریک ہو تو پھر تم اس کی ناراضگی سے کس قدر ڈرتے ہو اور اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرتے تو جنہیں تم نے اللہ کا شریک ٹھرایا ہے وہ تو اس کی مخلوق ہیں کسی بھی وصف میں اس کے شریک نہیں اور اللہ کا اگر کوئی شریک ہوتا تو اللہ کی مرضی سے نظام نہ چلتا اور یوں تباہ…
Read the full tafseer →ف 1 اور ظاہر ہے کہ نہیں کرسکتے تو پھر انہیں پوجنے اور ان کے آستانوں پر نذریں ماننے اور چڑھاوے چڑھانے کا کیا فائدہ ؟
Read the full tafseer →(30:40) ہل من شرکائکم : ہل استفہام انکاری ہے۔ من تبعیضیہ ہے۔ شرکائکم مضاف مضاف الیہ ہے۔ تمہارے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی ایک۔
من ذلکم۔ ان کاموں میں سے کوئی ۔ یہ شئی کی صفت ہے من تبعیض کا ہے کوئی شئی۔ (یہاں صفت کو موصوف سے مقدم لایا گیا ہے) شئی یفعل کا مفعول ہے کیا تمہارے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی جو ان کاموں میں کچھ بھی کرسکتا ہو۔
تعالیٰ : ماضی واحد مذکر غائب تعالیٰ (تفاعل) مصدر سے۔ بمعنی وہ برتر ہے۔ وہ بلند ہے۔ باب تفاعل مبالغہ کے لئے لایا گیا ہے
عما : عن اور ما سے مرکب ہے ما موصولہ ہے۔ اس چیز سے جسے۔
یشرکون۔ (جیسے) وہ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اشتراک (باب افعال) سے مصدر ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
لغات القرآن آیت نمبر (38 تا 40 ) ۔
یریدون (وہ چاہتے ہیں) ۔ لا یربوا (وہ نہیں بڑھتا ہے ) ۔ المضعفون (دو گنا حاصل کرنے والے ) ۔ تعالیٰ (بلندو بر تر ذات ) ۔
تشریح : آیت نمبر (38 تا 40) ۔ ” مومن کا ہر کام اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہوتا ہے تاکہ اس پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں اور وہ اللہ کی ناراضگی سے محفوظ رہے۔ وہ اگر اپنے رشتہ داروں، ضرورت مندوں اور مسافروں کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے تو وہ یہ نہیں سمجھتا کہ دوسروں کو بھیک دے رہا ہے بلکہ ان کا حق سمجھ کر ان کی مدد کرتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ اللہ نے اسے اس قابل کیا کہ وہ دوسروں کے کام آسکے۔ اس کے بر خلاف کفارو مشرکین اور دنیا دار اگر…
Read the full tafseer →اعمال بد کی سزا دنیا میں بھی ہوا کرتی ہے۔
(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو ارشاد فرمایا ہے کہ ان مشرکوں سے دریافت کیا جائے کہ ان کا پیدا ہونا، ان کا جینا، ان کا مرنا، ان کارزق، کون سی چیز ان کے بتوں کے اختیار میں ہے اور جب آنکھوں دیکھتے ہیں کہ ان بتوں کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے تو عبادت کے وقت ان بتوں کو یہ لوگ جو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں ذران کو نادم ہونا چاہیے کہ ایسے بےاختیار اور عاجز کو جو خود دوسرے کے اختیار اور قابو میں ہو، معبود ہونے کا کون ساحق حاصل ہے اللہ پاک ہے اور بلند تر ہے اس سے جس سے وہ شریک کرتے ہیں۔
صفات خداوندی۔
پھر فرمایا کہ زمین میں قحط وبا اور دریا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
[21] یعنی لوگ دین فطرت پر قائم نہ رہے اور شرک و معصیت میں مبتلا ہوگئے جس کی وجہ سے تمام دنیا میں خرابی پھیل گئی، نہ خشکی میں امن و سکون رہا نہ تری میں۔ روئے زمین کو فتنہ و فساد نے گھیر لیا۔ بحری لڑائیوں اور جہازوں کی لوٹ مار سے سمندروں میں طوفان بپا ہوگیا۔ یہ سب اس لئے کہ اللہ نے چاہا کہ لوگوں کی بداعمالیوں کا تھوڑا سا مزا دنیا میں بھی چکھا دیا جائے۔ پوری سزا تو آخرت میں ملے گی مگر کچھ نمونہ یہاں بھی دکھا دیا جائے تاکہ کچھ لوگ ڈر کر راہ راست پر آجائیں۔ واضح رہے کہ لوگوں کی بدکاریوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں خرابی کا پھیلنا تو ہمیشہ ہوتا رہا اور ہوتا رہے گا لیکن نزول قرآن سے پہلے پوری دنیا پر…
Read the full tafseer →ف 2: شرک کی تردید فرمائی ہے ۔ اور مشرکین سے پوچھا ہے کہ بتاؤ تمہاری اس ساری زندگی میں تمہارے معبودوں کو کس درجہ دخل حاصل ہے ۔ کیا اللہ ہی نے تمہیں پیدا نہیں کیا ؟ پھر کیا عمر بھر وہی تمہاری ضروریات کا کفیل نہیں رہا ؟ موت کس کے قبضہ میں ہے اور وہ کون ہے جو پھر تمہیں زندہ کرے گا اگر ان سب باتوں کا جواب یہ ہے کہ یہ سب باتیں اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں ۔ تو پھر تمہارے معبودوں کے اختیارات کیا رہے ؟ ارشاد ہے ۔ کہ وہ تمہارے ان مشر کا نہ خیالات سے پاک اور اعلیٰ ہے اور وہ شرک کی بات کو کسی طرح پسند نہیں کرتا ۔
Read the full tafseer →40۔ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو اس نے رزق دیا پھر تم کو وہ موت دیتا ہے پھر تم کو وہ دوبارہ زندہ کرے گا بھلا کیا تمہارے خود ساختہ شرکاء جن کو تم خدا کو شریک سمجھتے ہو ان میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو ان مذکورہ کاموں میں سے کوئی کام کرسکے وہ اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کے شرک سے بہت پاک اور بالاتر ہے یعنی وہی تم کو پیدا کرتا ہے پیدا کرنے کے بعد وہی تمہاری روزی کا سامان کرتا ہے اور تم کو روزی دیتا ہے پھر موت بھی اسی کے قبضے میں ہے اسی کے حکم سے مرتے ہو پھر دوبارہ زندگی بھی اسی کے اختیار میں ہے خواہ وہ زندگی عالم برزخ کی ہو یا قیامت کی زندگی ، اچھا اب بتائو یہ تمہارے خود ساختہ شریک جن…
Read the full tafseer →ف 2۔ ظاہر ہے کہ ایسا کوئی بھی نہیں۔
Read the full tafseer →روزی دینا ‘ زندہ کرنا اور مارنا اللہ تعالیٰ کے مخصوص کاموں میں سے ہے :
40۔ آسمان و زمین اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں اور اسی طرح جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کا پیدا کرنے والا اسی طرح ہمارا اور تمہارا اور دنیا کے سارے انسانوں اور حیوانوں کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اور اس کائنات کی ہرچیز کا رزق بھی اس کے ہاتھ میں ہے پھر جس طرح زندگی اور رزق اللہ تعالیٰ ہی کی عطا ہے اسی طرح موت دینا بھی اسی کا کام ہے ۔ قرآن کریم نے واضح الفاظ میں پوچھا ہے کہ تم جن جن کی بھی پرستش کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہراتے ہو کیا ان میں سے کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کوئی ایک کام ہی کر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
وَمَا آتَيْتُم مِّن رِّبًا لِّيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ (And whatever Riba [ increased amount ] you give so that it may increase in the wealth of the people, - 30:39). This verse is meant to correct an evil custom which is common in close relatives and the families at large. When people extend a gift or a present to relatives, especially at the time of marriages, they make a note of the amount they have given, in the hope that they will get back an equal amount in return when it is their turn, rather a little more. This custom is known in Urdu as 'neota'. It is emphasized in this…
Read the full tafseer →61 From here again the discourse turns to the theme of Tauhid and the Hereafter for the admonition of the disbelievers and the mushriks.
62 That is, "He provided all the various means in the earth for your sustenance and made such arrangements that everyone should receive something from the circulation of the provision."
63 That is, "If those whom you have set up as deities can neither create, nor provide sustenance, nor have power over life and death, nor can raise you back to life after death, then what for have you set them up as your deities?"
Read the full tafseer →