Explained with ayahs 38–40
صلہ رحمی کی تاکید
قرابتداروں کے ساتھ نیکی سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسکین اسے کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو یا کچھ ہو لیکن بقدر کفایت نہ ہو۔ اس کے ساتھ بھی سلوک واحسان کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسافر جس کا خرچ کم پڑگیا ہو اور سفر خرچ پاس نہ رہا ہو اس کے ساتھ بھی بھلائی کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن دیدار اللہ کریں حقیقت میں انسان کے لئے اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ دنیا اور آخرت میں نجات ایسے ہی لوگوں کو ملے گی۔ اس دوسری آیت کی تفسیر تو ابن عباس مجاہد ضحاک قتادۃ عکرمہ محمد بن کعب اور شعبی سے یہ مروی ہے کہ جو شخص کوئی عطیہ اس ارادے سے دے کہ لوگ…
Read the full tafseer →سورة الروم 59
قرآن مجید میں یہ پہلی آیت ہے جو سود کی مذمت میں نازل ہوئی۔ اس میں صرف اتنی بات فرمائی گئی ہے کہ تم لوگ تو سود یہ سمجھتے ہوئے دیتے ہو کہ جس کو ہم یہ زائد مال دے رہے ہیں اس کی دولت بڑھے گی، لیکن درحقیقت اللہ کے نزدیک سود سے دولت کی افزائش نہیں ہوتی بلکہ زکوٰۃ سے ہوتی ہے۔ آگے چل کر جب مدینہ طیبہ میں سود کی حرمت کا حکم نازل کیا گیا تو اس پر مزید یہ بات ارشاد فرمائی گئی کہ يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ (البقرہ، آیت 276) " اللہ سود کا مٹھ مار دیتا ہے اور صدقات کو نشو و نما دیتا ہے " (بعد کے احکام کے لیے ملاحظہ ہو آل عمران، آیت 130۔ البقرہ، آیات 275 تا 281۔
اس آیت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَال النَّاسِ ، اس آیت میں ایک بری رسم کی اصلاح کی گئی ہے، جو عام خاندانوں اور اہل قرابت میں چلتی ہے۔ وہ یہ کہ عام طور پر کنبہ رشتہ کے لوگ جو کچھ دوسرے کو دیتے ہیں اس پر نظر رکھتے ہیں کہ وہ بھی ہمارے وقت میں کچھ دے گا بلکہ رسمی طور پر کچھ زیادہ دے گا، خصوصاً نکاح، شادی وغیرہ کی تقریبات میں جو کچھ دیا لیا جاتا ہے اس کی یہی حیثیت ہوتی ہے جس کو عرف میں نوتہ کہتے ہیں۔ اس آیت میں ہدایت کی گئی ہے کہ اہل قرابت کا جو حق ادا کرنے کا حکم پہلی آیت میں دیا گیا ہے ان کو یہ حق اس طرح دیا جائے کہ نہ ان پر احسان جتائے اور نہ کسی بدلے پر نظر رکھے اور جس نے…
Read the full tafseer →وما اتیتم من ربا لیربوا فی اموال اناس فلا یربوا عند اللہ وما اتیتم من زکوۃ تریدون وجہ اللہ فاولئک ھم المضعفون (39)
’ ربا ‘ اس مال کو بھی کہتے ہیں جو کسی کو سودی قرض کے طور پر دیا جائے اور اس سود کو بھی کہتے ہیں جو کسی قرض پر حاصل کیا جائے۔ اس لفظ کو جن لوگوں نے ہدیہ یا عطیہ کے معنی میں لیا ہے انہوں نے بالکل غلط لیا ہے۔ یہ لفظ یہاں اس اسلوب پر استعمال ہوا ہے جس کو تم یہ الشئی بما ئیول الیہ کہتے ہیں جس طرح انی اعصر خمرا ہے۔ ہم نے اس آیت پر ایک مستقل مضمون لکھ دیا ہے جو ہمارے مجموعہ مضامین میں ملے گا۔
لفظ ’ زکوۃ ‘ یہاں اصطلاحی زکوٰۃ کے مفہوم میں نہیں بلکہ صدقات کے عام مفہوم میں ہے۔ اس مفہوم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
39-1یعنی سود سے بظاہر اضافہ معلوم ہوتا ہے لیکن دراصل ایسا نہیں ہوتا بلکہ اس کی نحوست بالآخر دنیا اور آخرت میں تباہی کا باعث ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور متعدد صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس آیت میں ربا سے مراد سود نہیں بلکہ وہ تحفہ اور ہدیہ لیا جو کوئی غریب آدمی کسی مال دار کو یا رعایا کا کوئی فرد بادشاہ یا حکمران کو اور ایک خادم اپنے مخدوم کو اس نیت سے دیتا ہے کہ وہ اس کے بدلے میں مجھے اس سے زیادہ دے گا۔ اسے ربا سے اسی لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ دیتے وقت اس میں زیادتی کی نیت ہوتی ہے۔ یہ اگرچہ مباح ہے تاہم اللہ کے ہاں اس پر اجر نہیں ملے گا۔ (فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ) 30۔ الروم :39) سے اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
18: واضح رہے کہ سورة روم کی یہ آیت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی تھی، اور یہ پہلی آیت ہے جس میں سود کی مذمت کی گئی ہے، اس وقت تک سود کو واضح لفظوں میں حرام نہیں کیا گیا تھا، لیکن اشارہ فرما دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سود کی آمدنی بڑھتی نہیں، یعنی سود لینے والا لیتا تو اسی ارادے سے ہے کہ اس سے اس کی دولت بڑھے گی، لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بڑھتی نہیں، کیونکہ اول تو دنیا میں بھی حرام مال اگرچہ گنتی میں بڑھ جائے، لیکن اس میں برکت نہیں ہوتی، مال و دولت کا اصل فائدہ تو یہ ہے کہ انسان کو اس سے آرام و راحت نصیب ہو، لیکن حرام آمدنی کی گنتی بڑھانے والے بکثرت دنیا میں بھی پریشانیوں کا شکار رہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
فات ذا القربی ۔۔۔۔۔ ھم المضعفون (38 – 39)
جب تصور یہ ہے کہ تمام دولت اللہ کی ہے اور اللہ نے اپنے بندوں میں سے بعض کو زیادہ اور بعض کو کم دے رکھی ہے۔ اس تصور کے مطابق اللہ تعالیٰ تمام اموال کا مالک اول ہے۔ تو وہ حکم دیتا ہے کہ جو لوگ نادار ہیں ان کی طرف دولت کو منتقل کیا جاتا رہنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اسے ناداروں کا حق کہا ہے۔ یہاں ان ناداروں میں بعض لوگوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
والمسکین وابن السبیل (30: 38) ” رشتہ داروں ، مسکینوں اور مسافر کو “۔ جس دور میں یہ آیت نازل ہوئی ہے اس میں زکوٰۃ کا تعین نہ ہوا تھا۔ نہ اس کے مستحقین کے مدات کا تعین ہوا تھا ۔ اصولاً یہ بات متعین کردی گئی تھی…
Read the full tafseer →6 یعنی سود بیاج سے گو بظاہر مال بڑھتا دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں گھٹ رہا ہے جیسے کسی آدمی کا بدن ورم سے پھول جائے وہ بیماری یا پیام موت ہے اور زکوٰۃ نکالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مال کم ہوگا فی الحقیقت وہ بڑھتا ہے جیسے کسی مریض کا بدن مسہل و تنقیہ سے گھٹتا دکھائی دے مگر انجام اس کا صحت ہو۔ سود اور زکوٰۃ کا حال بھی انجام کے اعتبار سے ایسا ہی سمجھ لو۔ (يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ ) 2 ۔ البقرۃ :276) حدیث میں ہے کہ ایک کھجور جو مومن صدقہ کرے قیامت کے دن بڑھ کر پہاڑ کے برابر نظر آئے گی۔ (تنبیہ) بعض مفسرین نے " ربا " سے یہاں سود بیاج مراد نہیں لیا۔ بلکہ آیت کا مطلب یہ بیان کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
آیت 39 وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاْ فِیْٓ اَمْوَال النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰہِ ج ”
اس آیت کا حوالہ سورة البقرۃ کی آیت 275 کی تشریح کے ضمن میں بھی دیا گیا ہے۔ دراصل اپنے مستقبل کے لیے بچت کرنا انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ پھر ہر شخص نہ صرف اپنی بچت کو سنبھال کر رکھنا چاہتا ہے بلکہ اس کی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بچائی ہوئی رقم وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی بھی رہے۔ قرآن اس بچت کو ”العَفْو“ یعنی قدر زائد surplus value قرار دے کر اسے انفاق فی سبیل اللہ کی مد میں اللہ کے بینک میں جمع کرانے کی ترغیب دیتا ہے : وَیَسْءَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَط قُلِ الْعَفْوَ ط البقرۃ : 219…
Read the full tafseer →44 یہ پہلی آیت ہے جو سود کی مذمت کے سلسلہ میں نازل ہوئی، پھر سورة آل عمران کی آیت نمبر 130 کی رو سے مسلمانوں کو سود در سود سے روک دیا گیا۔ پھر آپ ﷺ کی وفات سے چار ماہ پیشتر سورة بقرہ کی آیات نمبر 275 تا 281 کی رو سے مکمل طور پر حرام قرار دے دیا گیا۔ چونکہ شراب کی طرح سود بھی اہل عرب کی گھٹی میں پڑا ہوا تھا۔ لہذا ایسی برائیوں کلی استیصال بتدریج ہی ممکن تھا۔
اب اصل مسئلہ کی طرف آئے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ سود سے مال بڑھتا ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کسی بھی معاشرہ میں دولت مندوں کی تعداد غریبوں کی تعداد کی نسبت بہت قلیل ہوتی ہے اور سود لینے والے دولت مند ہوتے ہیں اور دینے والے غریب اور محتاج۔…
Read the full tafseer →46۔ (اور پھر بڑھ کر اپنے ہی پاس واپس آجائے) (آیت) ” ربا “۔ ربا یہاں اپنے وسیع اور عام ولغوی معنی میں ہے۔ الزیادۃ علی راس المال (راغب) (آیت) ” الربوا “۔ یا ربائے اصطلاحی یا سود، اسی کی ایک مخصوص و متعین شکل ہے۔ نیوتہ وغیرہ کے نام سے جن رقموں سے برادری کی اکثر تقریبات میں شرکت اس امید سے کی جاتی ہے کہ وہ رقم زائد ہو کر پھر اپنے پاس آجائے گی۔ اکثر محققین نے یہاں یہی مراد لی ہے۔ العطیۃ التی تعطی اللاقارب للزیادۃ فی اموالھم (ابن عباس ؓ العطیۃ التی یتوقع بھا مزید مکافاۃ (روح۔ عن ابن عباس ؓ ومجاہد و سعید والضحاک ومحمد بن کعب القرظی وطاؤس وغیرھم) روی عن ابن عباس ؓ و مجاھد ھو الرجل یھب الشیء یرید ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
آیت نمبر 28 تا 40
ترجمہ : اے مشرکو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے خود تمہاری ہی مثال بیان فرمائی اور وہ یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے تم کو اموال وغیرہ دے رکھے ہیں کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے تمہارا کوئی شریک ہے ؟ کہ تم اور وہ اس میں برابر درجہ کے ہو اور تم ان سے ایسا اندیشہ رکھتے ہو جیسا کہ خود آپس کا یعنی اپنے آزاد لوگوں کا، اور استفہام نفی کے معنی میں ہے، مطلب یہ کہ تمہارے نزدیک بھی تمہارے غلام تمہارے شریک نہیں ہیں، (الیٰ آخرہ) یعنی ان اموال میں جو ہم نے تم کو دے رکھے ہیں تمہارے غلام تمہارے جیسے آزادوں کے مانند شریک نہیں ہیں کہ برابر کا درجہ رکھتے ہوں، تو پھر تم اللہ کے بعض غلاموں کو اس کو شریک…
Read the full tafseer →وما اتیتم من ربا لیربوا فی اموال الناس فلا یربوا عند اللہ اور جو چیز تم اس غرض سے دو گے کہ وہ
لوگوں کے مال میں پہنچ کر زیادہ ہوجائے تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا۔
وَمَا اٰتَیْتُمْ یعنی جو کچھ تم سود خواروں کو دو گے۔
مِنْ رِّبًا۔ رِبَوا سے مراد ہے لین دین میں ایک طرف سے وہ زیادتی جو شرعاً حرام کردی گئی ہے ‘ یا وہ مباح اور عطیہ اور ہدیہ مراد ہے جس کو دینے کی غرض یہ ہو کہ اس سے زیادہ واپس مل جائے گا۔ اس تشریح پر عطیہ کو ربوا کہنا مآل کے اعتبار سے ہے یعنی وہ زیادتی جو عطیہ کا اصل مقصد ہے۔ فِیْ اَمْوَال النَّاس یعنی دینے والوں کے مال میں یا جن کو دیا جاتا ہے ان کے مال میں۔
فَلاَ یَرْبُوْا عِنْدَ…
Read the full tafseer →اور جو چیز تم اس غرض سے دو گے کہ وہ لوگوں کے مال میں ملکر تمہارے اموال کو زیادہ کر کے لائے تو دوسرے لوگ تمہارے دیے ہوئے اموال سے زیادہ پھر تمہیں دیں تو اس قسم کا دیا ہوا مال اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہیں بڑھتا اور نہ قبول ہوتا ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے نہیں دیا گیا ہے۔
اور جو مساکین وغیرہ کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی نیت سے مال دو گے تو ایسے لوگوں کے صدقات آخرت میں بڑھتے رہیں گے اور دنیا میں بھی ان کے احوال حفاظت و برکت کی وجہ سے زائد ہوتے رہیں گے۔
Read the full tafseer →وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَال النَّاسِ۔۔ : یعنی سود سے بظاہر مال بڑھتا دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا، بلکہ اس کی نحوست دنیا اور آخرت میں تباہی کا باعث ہے، جب کہ زکوٰۃ دینے کے ساتھ دنیا اور آخرت میں مال میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ) [ البقرۃ : 276 ] ”اللہ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقات کو بڑھا دیتا ہے۔“ عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلرِّبَا وَ إِنْ کَثُرَ ، فَإِنَّ عَاقِبَتَہُ تَصِیْرُ إِلٰی قُلٍّ) [ مسند أحمد : 1؍395، ح : 3753، قال المحقق صحیح ] ”سود خواہ…
Read the full tafseer →اس میں چار مسائل ہیں
مسئلہ نمبر 1:
جب اس چیز کا ذکر کیا جس کے ساتھ اس کی رضا کا ارادہ کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر بدلہ عطا فرماتا ہے اس کے علاوہ صفت کا ذکر کیا اور اس کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ کیا جاتا ہے جمبور کی قرأت ہے یہ مد کے ساتھ ہے معنی ہے جو تم دیتے ہو۔ ابن کثیر، مجاہد اور حمید نے مد کے بغیر پڑھا ہے معنی ہے جو تم ربا کا عمل کرو تاکہ وہ بڑھے جس طرح تو کہتا ہے تو نے صحیح کام کیا اور تو نے غلط کام کیا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں مد پر اتفاق کیا ہے۔ زکوۃ ریا کا معنی زیادتی ہے (2) سورة بقرہ میں اس کا معنی گزر چکا ہے، وہاں وہ حرام ہے یہاں حلال ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ منیبین الیہ سے مراد ہے توبہ کرنے والے اس کی طرف
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت من الذین فرقوا دینہم سے یہود و نصاری مراد ہیں آیت ام انزلنا علیہم سلطانا سے مراد ہے کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی کہ جو ان کو اس بات کا حکم دے رہی ہے۔
3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ام انزلنا علیہم سلطنا فہو یتکلم بما کانو بہ یشرکون یعنی کیا ہم نے ان پر کوئی کتاب اتاری ہے جو ان کو شرک کرنے کا کہتی ہے۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت…
Read the full tafseer →وَمَآ اٰتَيْتُمْ [اور جو تم لوگ دیتے ہو ] مِّنْ رِّبًا [سود میں سے ] لِّيَرْبُوَا۟ [تاکہ وہ بڑھے ] فِيْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ [لوگوں کے مالوں میں ] فَلَا يَرْبُوْا [تو وہ نہیں بڑھتا ] عِنْدَ اللّٰهِ ۚ [اللہ کے پاس ] وَمَآ اٰتَيْتُمْ [اور جو لوگ دیتے ہو ] مِّنْ زَكٰوةٍ [زکوٰۃ میں سے ] تُرِيْدُوْنَ [چاہتے ہوئے ] وَجْهَ اللّٰهِ [اللہ کے چہرے (توجہ) کو ] فَاُولٰۗىِٕكَ [تو وہ لوگ ] هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ [ہی بڑھانے والے ہیں ] ۔
نوٹ۔ 1: زیر مطالعہ آیت۔ 39 ۔ قرآن مجید میں پہلی آیت ہے جو سود کی مذمت میں نازل ہوئی۔ پھر مدینہ میں سود کی حرمت کا حکم نازل کیا گیا۔ اس آیت کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔ ایک رائے…
Read the full tafseer →آیت کے ختم پر فرمایا (وَ مَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوۃٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُضْعِفُوْنَ ) (اور جو بھی تم زکوٰۃ دو گے جس سے اللہ کی رضا مقصود ہو تو ایسا عمل کرنے والے ہی بڑھانے والے ہیں) اس میں مفسرین نے لفظ زکوٰۃ سے صدقہ نافلہ مراد لیا ہے (کیونکہ سورة روم مکیہ ہے اور زکوٰۃ بمعنی معروف مدینہ منورہ میں فرض ہوئی تھی) چونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے مال کا خرچ کرنا نفس کے بخل سے پاک کرنے کے لیے بھی ہے اس لیے عام صدقات کو بھی زکوٰۃ سے تعبیر کردیا جاتا ہے، جیسا کہ نیک کام ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ مفروضہ کو بھی صدقہ سے تعبیر فرمایا ہے۔ کَمَا فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالیٰ : (اِنَّمَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
بیان مثال برائے اظہار جہالت اہل شرک وضلال
قال اللہ تعالیٰ ضرب لکم مثلا من انفسکم۔۔۔ الی۔۔۔ سبحنہ و تعلی عما یشرکون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے وحدانیت کے دلائل ذکر کئے۔ اب مشرکین کی جہالت اور ضلالت ظاہر کرنے کے لئے خود انہی کے احوال میں سے ایک مثال بیان فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود تمہارے ہی احوال میں سے شرک کی برائی ظاہر کرنے کے لئے ایک مثال بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ کیا اے آزاد لوگو تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ جس چیز کے تمہارے ہاتھ مالک ہیں یعنی تمہارے لونڈی غلام جو تمہارے ہاتھ کا مال ہیں اور محض ظاہری اور مجازی طور پر تم ان کے مالک ہو اور یہ ملک مجازی بھی دائمی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
31:۔ یہ توحید پر دسویں عقلی دلیل ہے۔ تم سب کا خالق و رازق اللہ تعالیٰ ہے اور موت وحیات بھی اسی کے قبضے میں ہے۔ اب تم خود ہی بتاؤ کہ جن برگزیدہ ہستیوں اور اللہ کے جن نیک اور صالح بندوں کو تم نے اللہ کے سوا کارساز سمجھ رکھا ہے کیا ان میں سے کسی ایک نے اس سارے جہان میں کوئی ایک ہی چیز پیدا کی ہے یا پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ یا کسی کی روزی ان میں سے کسی کے اختیار میں ہے یا کسی کی موت اور زندگی ان میں سے کسی کے قبضہ و تصرف میں ہے ؟ ظاہر ہے ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے مشرکین کا بھی اعتقاد تھا کہ ان کے مزعومہ کارساز ان کاموں میں سے کوئی کام کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ سبحانہ وتعالی الخ۔ جب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ربطہ آیات
پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی مذمت اور قیامت کا مسئلہ بیان فرمایا اور دین فطرت کو اختیار کرنے کا حکم دیا۔ اللہ نے خدا کی طرف رجوع کرنے اور اسی سے ڈرنے کی بھی تلقین کی۔ اقامت نماز کا تاکید کا حکم دیا اور فرمایا کہ مشرکو میں سے نہ بنو جو بنیادی عقائد میں خرابی پیدا کرکے گروہ در گروہ ہوگئے حالانکہ ہر گر وہ باطل عقیدے پر تھا۔ پھر اللہ نے انسانوں کی عام حالت بھی بیان فرمائی کہ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ان میں فطری جذبہ بیدار ہوجاتا ہے اور وہ خدا کے سامنے گڑ گڑا کر دعائیں کرتے ہیں پھر جب وہ تکلیف دور ہوجاتی ہے تو اکثر لوگ شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اللہ کے سوا دوسروں کی…
Read the full tafseer →وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللہِ 0 ۚ وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ زَكٰوۃٍ تُرِيْدُوْنَ وَجْہَ اللہِ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَ 39
إِيتاء
: الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247]
الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
1 ؎ (1) وما اتیتم من ربا یربوا فی اموال الناس تفصیل القام یا موصولہ آتیتیم اس کا صلہ اور حائد محذوف من ربا کا بیان کہلانا منصوب ہے۔ اتیتم سے اور قراءت وہ نظر ہے کہ جس میں اتیتم کو مد کے ساتھ پڑھا ہے (مکی) اور لبریوا کو صیغہ منفرد جو لام کی وجہ سے مفتوح ہے من ربا یربوا کے متعلق ہے اور یہ ہی تسلیم کیا جاوے کہ ربا سے مراد ربا محرم نہیں ہدیہ اوطی خیباً ہدیۃ اور ہتہً یطلب اکروکم باہم المطلوب من الزیادۃ فی المعاملۃ (جلالین اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ وہ جو تم ہدیہ دے رہے ہو کہ جو ہدیہ بڑھے اور دو چند سہ چند ہوجائے لوگوں کے مال میں سے کیونکہ لوگوں کی عادت تھی اور اب بھی ہے کہ ہدیہ کے طور پر کوئی…
Read the full tafseer →وَمَآ اٰ تَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاْ فِیْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلاَ یَرْبُوْا عِنْدَاللّٰہِ ج ومَآ اٰ تَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوۃٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُضْعِفُوْنَ ۔ (الروم : 39)
(اور جو روپیہ تم سود پر دیتے ہو تاکہ وہ لوگوں کے مالوں میں بڑھتا رہے، تو وہ اللہ کے یہاں نہیں بڑھتا، اور جو زکوٰۃ تم دیتے ہو اللہ کی رضا جوئی کے لیے، تو یہی لوگ ہیں جو اللہ کے یہاں اپنے مال کو بڑھانے والے ہیں۔ )
انسانی سوچ کی اصلاح اور ربا کا مفہوم
عام انسانوں کی سوچ اس دائرے سے باہر نہیں نکلتی کہ اپنے مال میں سے کسی کو اگر مدد کے طور پر کچھ دے دیا جائے یا کسی بھلائی کے کام پر خرچ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : پہلی آیت میں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ اب جو چیز صدقہ کرنے میں رکاوٹ بنتی اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کرتی ہے اس کے بارے میں پہلا حکم۔
اسلامی نظام معیشت جن بنیادوں پر قائم ہے۔ اس میں سود کی ممانعت اور زکوٰۃ و صدقات کی ترویج کی بڑی اہمیت و کردار ہے۔ مسلمانوں کی معیشت کی ترقی اور اس کا استحکام اسی میں ہے کہ وہ ہر قسم کے معاشی استحاصل بالخصوص سود کے لین دین سے پاک ہو۔ سودی معیشت کے پیچھے صرف ایک ہی اصول کارفرما ہوتا ہے کہ مال دینے والے کے مال میں اضافہ ہوتا چلا جائے بیشک دوسرا کنگال سے کنگال ہی کیوں نہ ہوجائے۔ اس فرمان میں اس سوچ کی نفی کرتے ہوئے سود خوروں کو…
Read the full tafseer →سود مال کو گھٹاتا اور زکوٰۃ بڑھاتی ہے :
39: وَمَآ ٰاتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَا فِیْ اَمْوَالِ النَّاسِ (اور وہ چیز جو تم اس لئے دو گے تاکہ لوگوں کے مال میں پہنچ کر وہ بڑھ جائے) مراد یہ ہے کہ جو مال تو سود کھانے کیلئے لگائو گے تاکہ لوگوں کے مال میں وہ نشونما پائے اور بڑھ جائے۔ فَلاَ یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰہِ (وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں بڑھتا) اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ نشونما نہیں پاتا۔ اور نہ ہی اس میں برکت ڈالی جاتی ہے۔ ایک قول یہ ہے اس سے مراد وہ اضافہ و نمو ہے جو حلال ہے اب مطلب اس طرح ہوا جو ہدیہ تم اس غرض سے دیتے ہو کہ اضافہ کے ساتھ تمہیں واپس دیا جائے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں بڑھتا…
Read the full tafseer →39۔ ، ومااتیتم من ربا، ابن کثیر نے ، اتیتم، مقصور پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے مد کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی تم عطاکرو اور جو اس کو قصر کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ اس کا معنی یہ بیان کرتے ہیں جو تم لاؤگے زیادتی اور یہ لانا بطور عطا کے ہوگا۔ ، لیربوافی اموال الناس، اہل مدینہ اور یعقوب نے، لتربوا، تاء کے ساتھ پڑھا ہے ضمہ کے ساتھ اور واؤ کے سکون کے ساتھ۔ اس صورت میں یہ خطاب ہوگا تاکہ تم اس میں زیادتی کرو اور یہ لوگوں کے مال کی زیادتی کا سبب بنے۔
دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ اور فتحہ سے پڑھا ہے اور واؤمنصوب ہے۔ ، فلا یربواعند اللہ ، لوگوں کے اموال میں اللہ کے نزدیک اس طرح برکت نہیں ہوتی ، اللہ کے نزدیک وہ بڑھتا…
Read the full tafseer →39۔ اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا کہ رشتہ داروں اور فقیر یا مسافر کو جو کوئی اللہ کے واسطے کچھ دیوے گا تو ایسے دینے والے کا عاقبت میں بھلا ہوگا اس اوپر کی آیت کی مناسبت کے سبب سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ مجاہد ؓ ‘ عکرمہ (رح) ‘ ضحاک (رح) شبعی (رح) اور قتادہ (رح) وغیرہ 1 ؎ مفسرین متقدمین نے اس آیت کے یہ معنے کئے ہیں کہ جس تحفہ میں ثواب کی نیت نہ ہو بلکہ یہ نیت ہو کہ آج ہم کسی کو کچھ تحفہ دیویں گے کل ہم کو وہ شخص بڑھا کر دیوے گا تو ایسے دینے کا کچھ اجر اللہ کے نزدیک نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو اسی دینے کا اجر ہے اور وہی دنیا اللہ کے نزدیک بڑھتا اور دوچند ہوتا ہے جس میں خالص ثواب کی نیت ہو نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
آیت نمبر : 39 ۔ 38
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے قرابت دار کو اس کی قرابت اور ضرورت کے مطابق اس کا حق ادا کرو جو شارع نے واجب قرار دیا ہے یا اس کی ترغیب دی ہے مثلاً نفقات واجبہ اور صدقات کی ادائیگی کرنا ‘ ہدیہ دینا ‘ نیک سلوک کرنا ‘ سلام کرنا ‘ عزت و تکریم کرنا ‘ دوسرے کی لغزش کو معاف کرنا اور اس کی بدکلامی پر رواداری سے کام لینا۔ اسی طرح مسکین کو ‘ جسے فقر و فاقہ نے لاچار کردیا ہو ‘ اتنا عطا کرنا جس سے اس کے کھانے پینے اور لباس کی ضرورت پوری ہوجائے۔ (وابن السبیل) وہ غریب الوطن مسافر جس کا زاد راہ ختم ہوگیا ہو ‘ اپنے شہر سے دور ہو جس کے بارے میں گمان ہو کہ وہ انتہائی ضرورت مند ہوگا اس…
Read the full tafseer →سود کی بےبرکتی
قول باری ہے : (وما اتیتم من ربا لیربو فی اموال الناس فلا یربوا عنداللہ۔ جو سود تم دبتے ہوتا کہ لوگوں کے امول میں شامل ہوکر وہ بڑھ جائے اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا۔ ) حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد سے مروی ہے کہ اس سے وہ شخص مراد ہے جو کوئی چیز کسی کو ہبہ کرتا ہے اور اس کی نیت یہ ہوتی ہے کہ اسے بدلے میں اس سے بڑھ کر چیز دی جائے ، یہی وہ چیز ہے جو اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتی اور نہ ہی اس کے دینے والے کو کوئی اجر ملتا ہے نہ ہی اس پر کوئی گناہ لازم آتا ہے۔
قول باری ہے : (وما اتیتم من زکوٰۃ تریدون وجد اللہ فاولئک ھم المضعفون۔ ) اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے دیتے ہو، اسی…
Read the full tafseer →52 لفظِ { ربوا } کا مفہوم اور اس کی حقیقت کا بیان : بعض مفسرین کرام کے نزدیک یہاں پر اس " ربوا " ۔ زیادتی ۔ سے مراد اصطلاحی سود نہیں کہ اس کی حرمت تو مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی تھی جبکہ یہ سورة کریمہ مکی ہے۔ بلکہ اس سے مراد ہر وہ مال ہے جو دوسروں کو اس غرض سے دیا جائے کہ وہ اس کے بدلے میں اسے بڑھا کر واپس کریں۔ جیسا کہ اس غرض کے لئے دیا جانے والا کوئی ہدیہ اور نیوتہ وغیرہ۔ کیونکہ یہ طریقہ ان مکارم اخلاق کے خلاف ہے جو اسلام اپنے پیروکاروں میں دیکھنا چاہتا ہے۔ لہٰذا یہ اگر حرام نہ بھی ہو تو بھی یہ مذموم ضرور ہے۔ اور پیغمبر۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) ۔ کی عظمت شان کے پیش نظر ان کے لئے تو سرے سے جائز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
مال کے حق دار، سود اور زکوٰۃ کا فرق
تشریح : اسلام کے دین فطری ہونے کی ایک دلیل ہمیں ان آیات میں ملتی ہے۔ یہاں معاشیات اور اخلاق کا آپس میں ربط بتایا گیا ہے۔ مال کمانا اللہ کا فضل ہے مگر اس فضل کو بہترین طریقہ سے خرچ کرنے کی کچھ حدود وقیود مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے بتا دی ہیں سب سے پہلے تو یہ کہ جو کچھ کماؤ اس کو خرچ کرو جو زیادہ ہو اس کو اپنے رشتہ دار محتاج اور مسافر یعنی ہر ضرورت مند پر خرچ کرو۔ یہ خرچ کرنا صدقہ و زکوٰۃ نہیں بلکہ محض اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اور آپس کی ہمدردی اور خلوص کی بنیاد پر بخوشی خرچ کرو۔ اس کے بعد سود اور زکوٰۃ کا موازنہ اس طرح کیا گیا ہے کہ سود غریب انسان کو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
آیات 28 تا 40
اسرارو معارف
اللہ کریم تمہارے لیے ایک مثال ارشاد فرماتا ہے کہ تم خود اپنی ذات پر غور کرو تمہارے جیسے انسان جو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں اور تمام انسانی اوصاف میں تمہارے ساتھ ہیں مگر تمہارے غلام اور خادم ہیں صرف اس ایک وجہ سے وہ تمہارے مال میں تمہاری مرضی کے بغیر داخلت نہیں کرسکتے اور اگر کوئی تمہارا معمولی سا حصہ دار اور شریک ہو تو پھر تم اس کی ناراضگی سے کس قدر ڈرتے ہو اور اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرتے تو جنہیں تم نے اللہ کا شریک ٹھرایا ہے وہ تو اس کی مخلوق ہیں کسی بھی وصف میں اس کے شریک نہیں اور اللہ کا اگر کوئی شریک ہوتا تو اللہ کی مرضی سے نظام نہ چلتا اور یوں تباہ…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی ان کے مال و دولت میں شامل ہو کر بیٹھ جائے۔10 یعنی اللہ تعالیٰ اس میں کوئی برکت نہیں دیتا بلکہ وہ آدمی کے لئے دنیا و آخرت دونوں میں وبال اور لعنت کا سبب بنتا ہے۔ بعض مفسرین (جیسے قتادہ ضحاک اور عکرمہ وغیرہ) کیا خیال ہے کہ اس آیت میں ربا سے مراد و سود نہیں جو شرعاً حرام کیا گیا ہے بلکہ اس سے وہ عطیہ یا تحفہ مراد ہے جو آدمی دوسرے کو اس نیت سے دے کہ وہ بعد میں اس سے زیادہ واپس کرے گا۔ ایسا عطیہ دینا حرام نہیں ہے لیکن اس کا کوئی ثواب بھی نہیں ملتا۔ ان کے خیال میں فلا ربوا عند اللہ “ (وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا) کا یہی مطلب ہے۔ واللہ اعلم (قرطبی)11 دس گنے سے سات سو گنے تک دراصل اس بڑھوتری…
Read the full tafseer →(30:39) ربا۔ مادہ ربو سے مشتق ہے ربوۃ بلند جگہ یا ٹیلے کو کہتے ہیں ربا یربوا (باب نصر) رباء وربوۃ مصدر۔ مال کے متعلق ہو تو بمعنی مال کا بڑھنا۔ مال کا زیادہ ہونا۔ بلندی کے متعلق ہو تو ٹیلہ پر چڑھنا۔
آیت شریف ہے فاذا انزلنا رلیہا الماء اھتزت وربت (22:5) پھر جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو وہ لہلہانے اور ابھرنے لگتی ہے۔
الربا زیادتی۔ سود۔ بیاج۔ قرآن مجید میں ہے یمحق اللہ الربوا ویربی الصدقات (2:276) اللہ تعالیٰ سود کو بےبرکت کردیتا ہے اور خیرات کو بڑھاتا ہے۔ وما اتیتم من ربا۔ اور جو (روپیہ) تم بیاج پر دیتے ہو۔
لیربوا۔ لام تعلیل کا ہے۔ یربوا مضارع منصوب بوجہ ان محذوف ای لان یربوا۔ تاکہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
لغات القرآن آیت نمبر (38 تا 40 ) ۔
یریدون (وہ چاہتے ہیں) ۔ لا یربوا (وہ نہیں بڑھتا ہے ) ۔ المضعفون (دو گنا حاصل کرنے والے ) ۔ تعالیٰ (بلندو بر تر ذات ) ۔
تشریح : آیت نمبر (38 تا 40) ۔ ” مومن کا ہر کام اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہوتا ہے تاکہ اس پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں اور وہ اللہ کی ناراضگی سے محفوظ رہے۔ وہ اگر اپنے رشتہ داروں، ضرورت مندوں اور مسافروں کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے تو وہ یہ نہیں سمجھتا کہ دوسروں کو بھیک دے رہا ہے بلکہ ان کا حق سمجھ کر ان کی مدد کرتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ اللہ نے اسے اس قابل کیا کہ وہ دوسروں کے کام آسکے۔ اس کے بر خلاف کفارو مشرکین اور دنیا دار اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–39
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ تم جو چیز ہدیہ یاتحفہ دوست احباب یا آشناؤں کو یا اور کسی شخص کو اس نیت سے دو کہ وہ پلٹ کر اس سے زیادہ دے گا تو اس کا ثواب اللہ کے ہاں نہ ملے گا، کیونکہ یہ عمل خالصتا اللہ نہیں ہوا، آگے فرمایا کہ صدقہ دینے سے ظاہر میں اگرچہ مال گھٹتا ہوا معلوم ہوتا ہے لیکن اللہ کے نزدیک وہ بڑھتا ہے کیونکہ دنیا میں اللہ تعالیٰ ایسے مال میں برکت دیتا ہے اور عقبی میں ایک روپیہ خرچ کرنے کا اجر دس سے لے کر سات سو تک ہے اب آگے مشرکوں کو یہ تنبیہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کو اور ان کی ضرورت کی سب چیزوں کو پیدا کیا اور وہی مقررہ کے آنے پر ان کو دنیا سے اٹھائے گا اور پھر سزا وجزا کے…
Read the full tafseer →[20] سود کے بارے میں یہ پہلی آیت ہے جس میں صرف سود کی مذمت کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
سود خواروں کی دولت
2: سود خوار لوگ قوم کے لئے اس لئے باعث لعنت ہوتے ہیں ۔ کہ ان کی دولت اور ثروت ملی ضروریات میں صرف نہیں ہوتی ، وہ دن رات مال جمع کرنے کی فکر میں غلطان وییچان رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہ رقم جو ہم خیرات اور صدقات کے نام سے دینگے بالکل ضائع جائیگی ۔ کیوں نہ یہ رقم سود میں لگادی جائے تاکہ مزید نفع ہو ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ بدبختو ! تم اس حقیقت کو سمجھتے ۔ کہ چاندی اور سونے کے ان ڈھیروں سے کیا فائدہ ، جو سفر آخرت میں تمہارے کام نہ آسکیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمہاری دولت جس طرح دنیا کے کاموں کو سنوارتی ہے اسی طرح عقبے کے کام بھی سنوارے ۔ اور تمہارے لئے مرجب خیروبرکت ہو ۔…
Read the full tafseer →39۔ اور جو مال تم بڑھانے کو اس لئے دو گے کہ وہ لوگوں کے مال میں ملکر زیادہ ہوجائے اور بڑھ کر واپس آئے مثلا ً سود اور بیاج کے لئے یا نوتہ اور سلامی وغیرہ تو اس دینے سے یہ مال اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں بڑھا کرتا اور جو صدقہ تم محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے ارادہ سے دیتے ہو اور مقصد محض اللہ تعالیٰ ذات اور اس کی خوشنودی ہوتی ہے جو لوگ ایسا کرتے ہیں تو وہی اپنا مال اور اپنااجر وثواب بڑھانے والے ہیں ۔ یعنی دنیوی رسوم میں جو لوگ اپنا مال اس توقع پر خرچ کرتے ہیں کہ ہماری رقم بڑھ کر آئے گی خواہ وہ سود کے لئے رقم لگائیں خواہ سلامی وغیرہ میں دیں یا برادریوں میں نوتہ کی رقم ہو اور اسی قسم کے لین دین تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
ف 1۔ جب دلائل توحید میں معلوم ہوا کہ رزق کا بسط و قبض اللہ ہی کی طرف سے ہے تو اس سے ایک بات اور ثابت ہوئی کہ بخل کرنا مذموم ہے کیونکہ اس سے تقدیر سے زیادہ نہیں مل سکتا، پھر امساک بےفائدہ ہے۔ اور خیر ہونے کے لئے جو یریدون وجہ اللہ کی قید لگائی ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ مطلق انفاق خیر اور موجب فلاح نہیں، خدا کے نزدیک پہنچنا اور بڑہنا اس مال کے ساتھ خاص ہے جو اللہ کی خوشنودی کے لئے خرچ کیا جاوے۔
Read the full tafseer →سود اور زکوۃ کی وضاحت اور زکوۃ ادا کرنے والوں کے مال کے اضافہ کی تشریح :
39۔ سورة الروم نبی کریم ﷺ پر مکہ مکرمہ میں بعثت کے چھٹے یا ساتویں سال نازل ہوئی اور سود کی حرمت مدینہ منورہ میں بعد از ہجرت ہوئی ہے ، قرآن کریم کی زیر نظر آیت میں سود کی حرمت کا اعلان نہیں ہے بلکہ سود کی مذمت کا ذکر کیا گیا ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ جس مقصد کے لئے تم لوگ سود لیتے دیتے ہو وہ مقصد اللہ تعالیٰ کے نزدیک پورا نہیں ہوتا کیونکہ یہ وہ چیز ہے جس کا نفع کم اور نقصان زیادہ ہے اور جس چیز میں نفع کم اور نقصان زیادہ ہو وہ کبھی کسی بھی عقل مند کے نزدیک درست نہیں ہو سکتی اس لئے اس بات کا اعلان کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
وَمَا آتَيْتُم مِّن رِّبًا لِّيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ (And whatever Riba [ increased amount ] you give so that it may increase in the wealth of the people, - 30:39). This verse is meant to correct an evil custom which is common in close relatives and the families at large. When people extend a gift or a present to relatives, especially at the time of marriages, they make a note of the amount they have given, in the hope that they will get back an equal amount in return when it is their turn, rather a little more. This custom is known in Urdu as 'neota'. It is emphasized in this…
Read the full tafseer →59 This is the first verse revealed in the Qur'an that condemned interest. It only says this: "You pay interest thinking that it will cause an increase in the wealth of the money-lender. But actually, in the sight of Allah, interest does not increase the wealth, but the wealth is increased by the payment of the Zakat ". Afterwards when the Commandment prohibiting interest was sent down at Madinah, it was said: "Allah deprives interest of all blessing and develops charity." (For the later Commands, see AI-i-`Imran: 130, and AI-Baqarah: 275 to 281).
This verse has been given two interpretations…
Read the full tafseer →