Ar-Room 30:38

Ar-Room · from ayah 38

30:38

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ ؕ— ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ ؗ— وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۟فَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حَقَّهٗ وَ الۡمِسۡكِيۡنَ وَابۡنَ السَّبِيۡلِ‌ؕ ذٰلِكَ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ وَجۡهَ اللّٰهِ‌ۖ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏

تو اہلِ قرابت اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق دیتے رہو۔ جو لوگ رضائے خدا کے طالب ہیں یہ اُن کے حق میں بہتر ہے۔ اور یہی لوگ نجات حاصل کرنے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

So give the relative his right, as well as the needy and the traveler. That is best for those who desire the countenance of Allah, and it is they who will be the successful.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 4 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:38

پس (اے مومن) رشتہ دار کو اس کا حق دے اور مسکین و مسافر کو (اُس کا حق) یہ طریقہ بہتر ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہوں، اور وہی فلاح پانے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو اہلِ قرابت اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق دیتے رہو۔ جو لوگ رضائے خدا کے طالب ہیں یہ اُن کے حق میں بہتر ہے۔ اور یہی لوگ نجات حاصل کرنے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس قرابت دار کو مسکین کو مسافر کو ہر ایک کو اس کا حق دیجئے، یہ ان کے لئے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کا منھ دیکھنا چاہتے ہوں، ایسے ہی لوگ نجات پانے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا تم رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی جو لوگ اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ بہتر ہے، اور وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو یہ بہتر ہے ان کے لیے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور انہیں کا کام بنا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس آپ قرابت دار کو اس کا حق ادا کرتے رہیں اور محتاج اور مسافر کو (ان کا حق)، یہ ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو اﷲ کی رضامندی کے طالب ہیں، اور وہی لوگ مراد پانے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس قرابت والے کو اس کا حق دے اور مسکین کو اور مسافر کو۔ یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ کا چہرہ چاہتے ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اے مسلمانو !) اپنے قرابت والے کو مسکین اور مسافر کو اس کا حق دو۔ یہ بات ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہوں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس قرابتدار کو اور مسکین و مسافر کو اس کا حق دو۔ یہ بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی رضا کے طالب ہیں اور وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس تم (خوشی بخوشی) دے دیا کرو رشتہ دار کو اس کا حق اور مسکین اور مسافر کو بھی یہ بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور ایسے ہی لوگ ہیں فلاح پانے والے

— مولانا اسحاق مدنی

سو (اے مخاطب) تو قرابت دار کو اس کا حق دیا کر اور (اسی طرح) مسکین اور مسافر کو۔ یہ ان لوگوں کے حق میں بہتر ہے جو اللہ کی رضا کے طالب رہتے ہیں اور یہی لوگ تو فلاح پانے والے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو قرابت داروں مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دو یہی بہتر روش ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تم قرا بتداروں، محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق دو جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ بہتر ہے اور یہی لوگ نجات حاصل کرنے والے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So give his due to the near of kin, and to the needy, and to the wayfarer. That is better for those who desire to please Allah. It is they who will prosper.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So give to the kinsman his right, and to the needy and the wayfarer. That is better for those who seek Allah‘s pleasure, and it is they who will be successful.

— Muhammad Taqi Usmani

So give to the kinsman his right, and to the needy and the wayfarer. That is better for those who seek Allah‘s pleasure, and it is they who will be successful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, give to the kindred his due, and to Al-Miskin and to the wayfarer. That is best for those who seek Allah's Face; and it is they who will be successful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So give to the kinsman his due, and to the needy, and to the wayfarer. That is best for those who seek Allah's Countenance. And such are they who are successful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So give the relative his right, as well as the needy and the traveler. That is best for those who desire the countenance of Allah, and it is they who will be the successful.

— Saheeh International

Give the relatives, the destitute, and the needy travellers their share (of charity). It is better for those who want to please God and they will have everlasting happiness.

— Muhammad Sarwar

Then give to the near of kin his due, and to the needy and the wayfarer; this is best for those who desire Allah's pleasure, and these it is who are successful.

— Muhammad Habib Shakir

So give thou unto the kinsman his due and unto the needy and unto the wayfarer. That is best for those who seek Allah's countenance; and those: they are the blissful ones.

— Abdul Majid Daryabadi

So give what is due to kindred, the needy, and the wayfarer. That is best for those who seek the Countenance, of Allah, and it is they who will prosper.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 30:38

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–40

صلہ رحمی کی تاکید قرابتداروں کے ساتھ نیکی سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسکین اسے کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو یا کچھ ہو لیکن بقدر کفایت نہ ہو۔ اس کے ساتھ بھی سلوک واحسان کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسافر جس کا خرچ کم پڑگیا ہو اور سفر خرچ پاس نہ رہا ہو اس کے ساتھ بھی بھلائی کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن دیدار اللہ کریں حقیقت میں انسان کے لئے اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ دنیا اور آخرت میں نجات ایسے ہی لوگوں کو ملے گی۔ اس دوسری آیت کی تفسیر تو ابن عباس مجاہد ضحاک قتادۃ عکرمہ محمد بن کعب اور شعبی سے یہ مروی ہے کہ جو شخص کوئی عطیہ اس ارادے سے دے کہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الروم 57 یہ نہیں فرمایا کہ رشتہ دار، مسکین اور مسافر کو خیرات دے۔ ارشاد یہ ہوا ہے کہ یہ اس کا حق ہے جو تجھے دینا چاہیے، اور حق ہی سمجھ کر تو اسے دے۔ اس کو دیتے ہوئے یہ خیال تیرے دل میں نہ آنے پائے کہ یہ کوئی احسان ہے جو تو اس پر کر رہا ہے، اور تو کوئی بڑٰ ہستی ہے دان کرنے والی، اور وہ کوئی حقیر مخلوق ہے تیرا دیا کھانے والی۔ بلکہ یہ بات اچھی طرح تیرے ذہن نشین رہے کہ مال کے مالک حقیقی نے اگر تجھے زیادہ دیا ہے اور دوسرے بندوں کو کم عطا فرمایا ہے تو یہ زائد مال ان دوسروں کا حق ہے جو تیری آزمائش کے لیے تیرے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے تاکہ تیرا مالک دیکھے کہ تو ان کا حق پہچانتا اور پہنچاتا ہے یا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ ، اس سے پہلی آیت میں بیان کیا گیا تھا کہ رزق کا معاملہ صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق کو پھیلا دیتا ہے اور زیادہ کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے رزق سمیٹ کر تنگ کردیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو اس کے مصارف میں خرچ کرتا رہے تو اس سے اس میں کمی نہیں آتی اور اگر کوئی خرچ کرنے میں بخل کرے اور جو کچھ اپنے پاس ہے اس کو جمع کر کے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے اس سے مال میں وسعت نہیں ہوتی۔ اس مضمون کی مناسبت سے آیت مذکورہ میں رسول اللہ ﷺ کو اور بقول حسن بصری ہر مخاطب انسان کو جس کو اللہ نے مال…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فات ذا القربی حقہ والمسکین وابن السبیل ذلک خیر للذین یریدون وجہ اللہ واولئک ھم الفلحون (38) اوپر آیت 31 میں دین فطرت کے اولین رکن نماز کا ذکر ہوچکا ہے۔ اس کے بعد بعض مناسب مقام تنبہیات آگئی تھیں جن میں آخری تنبیہ یہ تھی کہ جس کو رزق کی فراخی حاصل ہو تو اس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس کو اب وجد کی وراثت یا اپنے فضل و کمال کا ثمرہ سمجھ کر اس پر اترائے بلکہ اس کو اپنے رب کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ اس آیت میں اس شکرگزاری کا طریقہ بتا دیا کہ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے مال میں سے قرابت داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دے۔ ’ حقہ کے لفظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ رزق کو کشادگی عطا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

38-1جب وسائل رزق تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہیں اور وہ جس پر چاہے اس کے دروازے کھول دیتا ہے تو اصحاب ثروت کو چاہیے کہ وہ اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے ان کا حق ادا کرتے رہیں جو ان کے مال میں مستحق رشتے داروں، مسکین اور مسافروں کا رکھا گیا ہے۔ رشتہ دار کا حق اس لئے مقدم کیا کہ اس کی فضیلت زیادہ ہے حدیث میں آتا ہے کہ غریب رشتہ دار کے ساتھ احسان کرنا دوہرے اجر کا باعث ہے۔ ایک صدقے کا اجر اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ علاوہ ازیں اسے حق سے تعبیر کر کے اس طرف بھی اشارہ فرمایا کہ امداد کر کے ان پر احسان نہیں کرو گے بلکہ ایک حق کی ہی ادائیگی کرو گے۔ 38-2یعنی جنت میں اس کے دیدار سے مشرف ہونا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

17: پچھلی آیت میں بتایا گیا تھا کہ رزق تمام تر اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، اس لئے جو کچھ اس نے عطا فرمایا ہے وہ اسی کے حکم اور ہدایت کے مطابق خرچ ہونا چاہیے، لہذا اس میں غریبوں مسکینوں اور رشتہ داروں کے جو حقوق اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں وہ ان کو دینا ضروری ہے، اور دیتے وقت یہ اندیشہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے مال میں کمی آجائے گی، کیونکہ جیسا کہ پچھلی آیت میں فرمایا گیا رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہے وہ تمہیں حقوق کی ادائیگی کے بعد محروم نہیں فرمائے گا، چنانچہ آج تک نہیں دیکھا گیا کہ حقوق ادا کرنے کے نتیجے میں کوئی مفلس ہوگیا ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 38–39

فات ذا القربی ۔۔۔۔۔ ھم المضعفون (38 – 39) جب تصور یہ ہے کہ تمام دولت اللہ کی ہے اور اللہ نے اپنے بندوں میں سے بعض کو زیادہ اور بعض کو کم دے رکھی ہے۔ اس تصور کے مطابق اللہ تعالیٰ تمام اموال کا مالک اول ہے۔ تو وہ حکم دیتا ہے کہ جو لوگ نادار ہیں ان کی طرف دولت کو منتقل کیا جاتا رہنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اسے ناداروں کا حق کہا ہے۔ یہاں ان ناداروں میں بعض لوگوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ والمسکین وابن السبیل (30: 38) ” رشتہ داروں ، مسکینوں اور مسافر کو “۔ جس دور میں یہ آیت نازل ہوئی ہے اس میں زکوٰۃ کا تعین نہ ہوا تھا۔ نہ اس کے مستحقین کے مدات کا تعین ہوا تھا ۔ اصولاً یہ بات متعین کردی گئی تھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی جب فطرت کی شہادت سے ثابت ہوگیا کہ حقیقی مالک و رب وہ ہی اللہ ہے۔ دنیا کی نعمتیں سب اسی کی عطا کی ہوئی ہیں۔ تو جو لوگ اس کے دئیے ہوئے میں سے خرچ کریں۔ مسافر، محتاج اور غریب رشتہ داروں کی خبر لیں، اہل قرابت کے حقوق درجہ بدرجہ ادا کرتے رہیں۔ ایسے ہی بندوں کو دنیا و آخرت کی بھلائی نصیب ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 37–39

آیت 39 وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاْ فِیْٓ اَمْوَال النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰہِ ج ” اس آیت کا حوالہ سورة البقرۃ کی آیت 275 کی تشریح کے ضمن میں بھی دیا گیا ہے۔ دراصل اپنے مستقبل کے لیے بچت کرنا انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ پھر ہر شخص نہ صرف اپنی بچت کو سنبھال کر رکھنا چاہتا ہے بلکہ اس کی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بچائی ہوئی رقم وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی بھی رہے۔ قرآن اس بچت کو ”العَفْو“ یعنی قدر زائد surplus value قرار دے کر اسے انفاق فی سبیل اللہ کی مد میں اللہ کے بینک میں جمع کرانے کی ترغیب دیتا ہے : وَیَسْءَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَط قُلِ الْعَفْوَ ط البقرۃ : 219…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

42 اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ قرابتداروں کو، محتاجوں کو اور مساروں کو بطور صدقہ خیرات کچھ دے دیا کرو۔ بلکہ یوں فرمایا کہ ان کا حق انھیں ادا کرو۔ اور اس لفظ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر دہرایا ہے۔ جس کا واضح مطلب ہے کہ تمہارے اموال میں ان قرابتداروں اور محتاجوں کا رزق بھی آگیا ہے۔ لہذا ان کا حق انھیں ادا کردو۔ اور اس کی ادائیگی میں تمہاری ان پر کچھ احسان نہیں ہوگا۔ بلکہ تمہارے سر سے تمہارا اپنا بوجھ اترے گا۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ قرابت داروں سے مراد وہ رشتہ دار ہیں جن سے نکاح حرام ہے۔ لیکن اس صراحت کا کوئی خاص فائدہ معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ ہر شخص اپنے ناطے والوں کو خوب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

44۔ (اس کا اس کا حق) اسلامی نظام معاشیات میں درجہ بدرجہ عزیزوں کے اور پھر تمام دوسرے اہل حاجت کے حصے مقرر ہیں۔ (آیت) ” حقہ “۔ لفظ حق بہت قابل غور ہے۔ ہر صاحب جائداد کے مال میں ان سب کے حق مقرر ہوگئے ہیں، ان کی ادائی خود اپنے سود و بہبود کے لحاظ سے واجب۔ دوسروں کو دیتے رہنا ان پر کوئی احسان کرنا اور منت رکھنا نہیں۔ فقہائے حنفیہ نے آیت سے استنباط کیا ہے کہ قریب کے حاجت مند عزیزوں کا نفقہ واجب ہے۔ فیہ دلیل وجوب النفقہ للمحارم کما ھو مذھبنا (مدارک) 45۔ نظام معاشیات کو ان ضوابط الہی کے ماتحت چلانے والے، انفرادی طور پر بھی فلاح یاب رہیں گے اور اجتماعی طور پر بھی، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 28–40

آیت نمبر 28 تا 40 ترجمہ : اے مشرکو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے خود تمہاری ہی مثال بیان فرمائی اور وہ یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے تم کو اموال وغیرہ دے رکھے ہیں کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے تمہارا کوئی شریک ہے ؟ کہ تم اور وہ اس میں برابر درجہ کے ہو اور تم ان سے ایسا اندیشہ رکھتے ہو جیسا کہ خود آپس کا یعنی اپنے آزاد لوگوں کا، اور استفہام نفی کے معنی میں ہے، مطلب یہ کہ تمہارے نزدیک بھی تمہارے غلام تمہارے شریک نہیں ہیں، (الیٰ آخرہ) یعنی ان اموال میں جو ہم نے تم کو دے رکھے ہیں تمہارے غلام تمہارے جیسے آزادوں کے مانند شریک نہیں ہیں کہ برابر کا درجہ رکھتے ہوں، تو پھر تم اللہ کے بعض غلاموں کو اس کو شریک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فات ذا القربی حقہ والمسکین وابن السبیل جب یہ معلوم ہوگیا کہ رزق کی تنگی ‘ فراخی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے) تو قرابتداروں کو ان کا حق ادا کرو (یعنی ان کے ساتھ صلہ رحمی کرو ‘ اچھا سلوک کرو اور جو حق ان کا واجب ہے اس کو ادا کرو۔ اس کی تفصیل آیت وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ کی تفسیر میں گزر چکی ہے) اور مسکین و مسافر کو بھی اس کا حق ادا کرو۔ یعنی جس مسافر کے پاس پردیس میں کچھ نہ ہو اور وطن میں مال ہو اس کو اور دوسرے مسکینوں کو زکوٰۃ کے مال میں سے دو ۔ ذٰلِکَ خَیْرٌ یعنی قرابت داروں وغیرہ کو دینا خود لذت اندوز ہونے سے بہتر ہے۔ وَجْہَ اللہ اللہ کی ذات یا اللہ کی جہت۔ مراد یہ ہے کہ وہ اللہ ہی کی رضا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے نبی اکرم ﷺ بس آپ تو قرابت دار کے ساتھ صلہ رحمی کیا کرو اور مسکین کو بھی کھانا اور لباس دیا کرو اور مسافر جو آپ کے پاس آکر ٹھہرے تین دن تک اس کی خوب مہمان نوازی کرو اور اس سے زیادہ مہمان نوازی کرنا یہ آپ کی طرف سے نیکی اور احسان ہے۔ یہ مذکورہ چیزیں ان لوگوں کے لیے ثواب و کرامت کے اعتبار سے آخرت میں بہتر ہیں جو اپنی ان بخششوں میں اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہیں اور ایسے ہی لوگ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے عذاب سے نجات پانے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ : فاء (پس) کا مطلب یہ ہے کہ جب ثابت ہوگیا کہ رزق کا فراخ ہونا یا تنگ ہونا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے تو آدمی کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اگر اس کا رزق فراخ ہے تو خرچ کرنے سے کم نہیں ہوگا اور اگر تنگ ہے تو روک کر رکھنے سے زیادہ نہیں ہوگا، بلکہ صدقے کی برکت سے اس میں اضافہ ہی ہوگا۔ ”حَقَّهٗ“ (اس کا حق) کا مطلب یہ ہے کہ تم قرابت دار، مسکین اور مسافر کو کچھ دے رہے ہو تو یہ اس کا حق ہے، جو تم ادا کر رہے ہو، جس کے ادا نہ کرنے پر اسی طرح باز پرس ہوگی جس طرح کسی قرض خواہ کا قرض ادا نہ کرنے پر باز…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1:۔ جب یہ بات گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے رزق میں کمی کردیتا ہے جس کا رزق وسیع کیا گیا اس کو حکم دیا کہ وہ فقیر کو اس کی ضرورت کو چیز پہنچائے تاکہ غنی کے شکر کا امتحان لیا جائے۔ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور مراد آپ اور آپ کی امت ہے کیونکہ اس نے فرمایا : رشتہ داروں کو رشتہ داری کی وجہ سے مال دینے کا حکم دیا بہترین صدقہ وہ ہوتا ہے جو قریبی رشتہ دار کو دیا جائے، اس میں صلہ رحمی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے قریبی رشتہ داروں کو صدقہ دینے کو غلام آزاد کرنے پر فضلیت دی ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت میمونہ ؓ نے فرمایا جب کہ آپ نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–40

1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ منیبین الیہ سے مراد ہے توبہ کرنے والے اس کی طرف 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت من الذین فرقوا دینہم سے یہود و نصاری مراد ہیں آیت ام انزلنا علیہم سلطانا سے مراد ہے کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی کہ جو ان کو اس بات کا حکم دے رہی ہے۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ام انزلنا علیہم سلطنا فہو یتکلم بما کانو بہ یشرکون یعنی کیا ہم نے ان پر کوئی کتاب اتاری ہے جو ان کو شرک کرنے کا کہتی ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاٰتِ [پس تو دے ] ذَا الْقُرْبٰى [قرابت والے کو ] حَقَّهٗ [اس کا حق ] وَالْمِسْكِيْنَ [اور مسکین کو ] وَابْنَ السَّبِيْلِ ۭ [اور راستے کے بیٹے (مسافر) کو ] ذٰلِكَ خَيْرٌ [یہ بہتر ہے ] لِّــلَّذِيْنَ [ان کے لئے جو ] يُرِيْدُوْنَ [چاہتے ہیں ] وَجْهَ اللّٰهِ ۡ [اللہ کے چہرے (توجہ) کو ] وَاُولٰۗىِٕكَ [اور وہ لوگ ] هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ [ہی مراد پانے والے ہیں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

رشتہ دار، مسکین اور مسافر کو دینے کا حکم، اللہ کی رضا میں خرچ کرنے کی فضیلت یہ چار آیات ہیں، پہلی آیت میں تو یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ شانہ اپنے بندوں کو رزق دیتا ہے اور رزق دینے میں وہ جس کو چاہتا ہے زیادہ رزق دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق میں تنگی فرما دیتا ہے، اور کھلی ہوئی بات ہے جو سب کے سامنے ہے، اہل ایمان اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں، دیکھا جاتا ہے کہ بعض لوگوں کو تھوڑی سی محنت سے اور بعض لوگوں کو بلامحنت ہی میراث یا ہبہ کے ذریعہ بہت زیادہ مال مل جاتا ہے، اور بعض لوگ بہت زیادہ محنت کرتے ہیں، طرح طرح کی تجارت میں ہاتھ ڈالتے ہیں، بڑی بڑی اسکیمیں سوچتے ہیں لیکن ان کا اصل مال بھی ختم ہوجاتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–40

بیان مثال برائے اظہار جہالت اہل شرک وضلال قال اللہ تعالیٰ ضرب لکم مثلا من انفسکم۔۔۔ الی۔۔۔ سبحنہ و تعلی عما یشرکون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے وحدانیت کے دلائل ذکر کئے۔ اب مشرکین کی جہالت اور ضلالت ظاہر کرنے کے لئے خود انہی کے احوال میں سے ایک مثال بیان فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود تمہارے ہی احوال میں سے شرک کی برائی ظاہر کرنے کے لئے ایک مثال بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ کیا اے آزاد لوگو تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ جس چیز کے تمہارے ہاتھ مالک ہیں یعنی تمہارے لونڈی غلام جو تمہارے ہاتھ کا مال ہیں اور محض ظاہری اور مجازی طور پر تم ان کے مالک ہو اور یہ ملک مجازی بھی دائمی اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

30:۔ دفع عذاب کے لیے امور ثلاثہ کا ذکر، شرک نہ کرو، مذکورہ بالا تفصیلات میں یہی مذکور ہوا، ظلم نہ کرو اور احسان کرو یہاں یہ دونوں باتیں مذکور ہیں۔ دوسری صراحۃ اور پہلی ضمنا۔ تمام حقداروں کے حقوق ادا کرو اس کے ضمن میں بےانصافی اور حق تلفی کی ممانعت آگئی۔ ذلک خیر الخ، اہل حقوق کے حقوق ادا کرنا ہی ان لوگوں کے حق میں بہتر ہے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہوں گے۔ وما اتیتم من ربا الخ، دولت کا صحیح مصرف یہ ہے کہ اس میں واجب حقوق پر اسے صرف کیا جائے لیکن لوگوں سے سود پر قرض لینا اور سود ادا کر کے ان کی دولت میں اضافہ کرنا اللہ کی دی ہوئی دولت کا جائز اور صحیح مصرف نہیں۔ اس سے لوگوں کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–40

ربطہ آیات پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی مذمت اور قیامت کا مسئلہ بیان فرمایا اور دین فطرت کو اختیار کرنے کا حکم دیا۔ اللہ نے خدا کی طرف رجوع کرنے اور اسی سے ڈرنے کی بھی تلقین کی۔ اقامت نماز کا تاکید کا حکم دیا اور فرمایا کہ مشرکو میں سے نہ بنو جو بنیادی عقائد میں خرابی پیدا کرکے گروہ در گروہ ہوگئے حالانکہ ہر گر وہ باطل عقیدے پر تھا۔ پھر اللہ نے انسانوں کی عام حالت بھی بیان فرمائی کہ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ان میں فطری جذبہ بیدار ہوجاتا ہے اور وہ خدا کے سامنے گڑ گڑا کر دعائیں کرتے ہیں پھر جب وہ تکلیف دور ہوجاتی ہے تو اکثر لوگ شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اللہ کے سوا دوسروں کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّہٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ۝ 0 ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ لِّــلَّذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ وَجْہَ اللہِ۝ 0 ۡوَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝ 38 إِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 37–38

ترکیب : وما اتیتم مافی موضع نصب باتیتم بالمد بمعنی اعطیتم والقصر بمعنی جئتم وقصدتم۔ لیربوا ای الربا۔ اس تقدیر پر لیربوا صیغہ و احد غائب کا ہے، اس کا فاعل الربا فالمعنی لیزید الرباویز کوا فی اموال الناس فاؤلئک فیہ التفات حسن کانہ قال ذلک لخواصہ ولملائکتہ وھو مدح لھم من ان یقول فانتم المضعفون کشاف۔ ھل من الخ من الاولیٰ للتبعیض کانہ اقام فعل البعض مقام فعل الکل توسعۃ علی الخصم والثالثۃ لتاکید الاستفہام والمتوسطۃ للابتداء۔ تفسیر : انسان کی اس حالت قنوط یعنی نا امیدی کے جذبہ کی دوا بتلاتا ہے، فقال اولم یروان اللہ یبسط الرزق کہ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ تنگدستی اور فراخ دستی اللہ کی طرف سے ہے۔ محقق کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ ط ذٰلِکَ خَیْرٌلِّـلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ ز وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (الروم : ۃ 38) (پس قرابت دار اور مسکین و مسافر کو اس کا حق دو ، یہ طریقہ بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چاہتے ہیں، اور وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری کا صحیح طریقہ قرآن کریم نے بار بار یہ بات واضح فرمائی ہے کہ رزق دینے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس لیے رزق کی فراوانی پر کسی کے لیے اس بات کی گنجائش نہیں کہ وہ اس پر اترائے اور فخروغور کا اظہار کرے، وہ اسے اپنے اب و جد کی وراثت سمجھے یا اسے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : رزق کی کمی، بیشی کا سبب بیان کرنے کے بعد مال داروں کو مال کے معاملہ میں ان کے فرض سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید بات سے بات نکال کر انسان کی تربیت کا اہتمام کرتا ہے۔ پچھلی آیت میں رزق کی کشادگی اور تنگی کا ذکر ہوا ہے۔ اب ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے رزق کی کشادگی سے نوازے اس کا فرض بنتا ہے کہ اللہ کے دئیے ہوئے مال سے لوگوں پر خرچ کرے یہ اس کا غریبوں پر احسان نہیں بلکہ یہ غریبوں کا حق ہے مال دار جو اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے مال سے لٹاتا ہے۔ مال دار اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق خرچ کرے جس کی ترتیب یہ بیان فرمائی ہے کہ پہلے قریبی لوگوں سے ابتدا کرے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

افعالِ لازمہ کا تذکرہ : 38: اور جب یہ ذکر کردیا گیا کہ تنگدستی اور بدحالی ان کے گناہوں کی وجہ سے آئی ہے اس کے بعد اس چیز کا ذکر کیا کہ کن افعال کو کرنا لازم اور کن سے دست کش ہونا ضروری ہے چناچہ فرمایا۔ فَٰاتِ ذَاالْقُرْبٰی حَقَّہٗ (تم اپنے قرابت والے کو اس کا حق) صلہ رحمی اور حسن سلوک میں سے دو ۔ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ (اور مسکین اور مسافر کو) ان کا حق صدقہ جو ان کے لئے مقرر کیا گیا ہے وہ دو ۔ مسئلہ : محارم پر خرچ کرنا واجب و فرض ہے جیسا کہ مذہب احناف رحمہم اللہ ہے۔ ذٰلِکَ (یہ) یعنی ان کے حقوق کی ادائیگی خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ (بہت بہتر ہے ان لوگوں کے حق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 37–38

38۔ ، فات ذالقربی حقہ، نیکی اور صلہ رحمی ۔ ، والمسکین، اس کا حق یہ ہے کہ اس پر صدقہ کرے ۔ ، وابن السبیل ، اس سے مراد مساف رہے۔ اس سے مراد مساف رہے۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد بوڑھا ہے۔ ، ذلک خیرللذین یریدون وجہ اللہ ، وہ اللہ کے ثواب کے طلبگار ہیں جو وہ عمل کرتے ہیں۔ ، واولئک ھم المفلحون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 33–38

33 تا 38۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فطرت اسلامی کا یہ ثبوت بیان فرمایا کہ مشرک فطرت کے تقاضے سے ناچار ہونے کے وقت اللہ وحدہ لاشریک لہ کو پکارتے ہیں اور جب اللہ چکھائے ان کو کچھ مہر اور ان پر نعمت کے دروازے کھول دے کہ وہ آسودہ ہوجاویں تو خدا تعالیٰ کے ساتھ شرک اور بتوں کی پوجا کرنے لگتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کے منکر ہوجاتے ہیں اور آسود گی کو بتوں کی مدد کا نتیجہ خیال کرتے ہیں پھر فرمایا کہ فائدہ اٹھائیں چند روز کام چلالیں اب آگے عنقریب یہ لوگ معلوم کرلیں گے کہ ان کے عملوں کی شامت سے ان کو کیا بات پیش آئی اب آگے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی بیوقوفی کا ذکر فرمایا کہ کیا ہم نے ان کے اوپر کوئی سند…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 38–39

آیت نمبر : 39 ۔ 38 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے قرابت دار کو اس کی قرابت اور ضرورت کے مطابق اس کا حق ادا کرو جو شارع نے واجب قرار دیا ہے یا اس کی ترغیب دی ہے مثلاً نفقات واجبہ اور صدقات کی ادائیگی کرنا ‘ ہدیہ دینا ‘ نیک سلوک کرنا ‘ سلام کرنا ‘ عزت و تکریم کرنا ‘ دوسرے کی لغزش کو معاف کرنا اور اس کی بدکلامی پر رواداری سے کام لینا۔ اسی طرح مسکین کو ‘ جسے فقر و فاقہ نے لاچار کردیا ہو ‘ اتنا عطا کرنا جس سے اس کے کھانے پینے اور لباس کی ضرورت پوری ہوجائے۔ (وابن السبیل) وہ غریب الوطن مسافر جس کا زاد راہ ختم ہوگیا ہو ‘ اپنے شہر سے دور ہو جس کے بارے میں گمان ہو کہ وہ انتہائی ضرورت مند ہوگا اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 37–38

49 مالداروں کے مال میں دوسروں کے حقوق ہیں : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ " مالداروں کے مال میں دوسروں کے بھی حقوق ہیں "۔ سو فرمایا گیا پس تم ۔ خوشی خوشی ۔ دے دیا کرو رشتہ داروں کو اس کا حق "۔ یعنی جب روزی کی کشائش اور اس کی تنگی دونوں اللہ پاک ہی کے ہاتھ میں اور اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں تو پھر تمہیں نہ تو کسی اور کے در پر بھیک مانگنے اور لجاجت کرنے کی ضرورت ہے اور نہ کسی کے خوف اور خطرے کی کوئی پروا۔ پس تم اللہ کے بندوں کے وہ حقوق پوری طرح ادا کردیا کرو جو اس نے تمہارے مالوں میں رکھ دئیے ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اوپر آیت نمبر 31 میں دین فطرت کے اولین رکن نماز کا ذکر فرمایا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 38–39

مال کے حق دار، سود اور زکوٰۃ کا فرق تشریح : اسلام کے دین فطری ہونے کی ایک دلیل ہمیں ان آیات میں ملتی ہے۔ یہاں معاشیات اور اخلاق کا آپس میں ربط بتایا گیا ہے۔ مال کمانا اللہ کا فضل ہے مگر اس فضل کو بہترین طریقہ سے خرچ کرنے کی کچھ حدود وقیود مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے بتا دی ہیں سب سے پہلے تو یہ کہ جو کچھ کماؤ اس کو خرچ کرو جو زیادہ ہو اس کو اپنے رشتہ دار محتاج اور مسافر یعنی ہر ضرورت مند پر خرچ کرو۔ یہ خرچ کرنا صدقہ و زکوٰۃ نہیں بلکہ محض اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اور آپس کی ہمدردی اور خلوص کی بنیاد پر بخوشی خرچ کرو۔ اس کے بعد سود اور زکوٰۃ کا موازنہ اس طرح کیا گیا ہے کہ سود غریب انسان کو اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 28–40

آیات 28 تا 40 اسرارو معارف اللہ کریم تمہارے لیے ایک مثال ارشاد فرماتا ہے کہ تم خود اپنی ذات پر غور کرو تمہارے جیسے انسان جو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں اور تمام انسانی اوصاف میں تمہارے ساتھ ہیں مگر تمہارے غلام اور خادم ہیں صرف اس ایک وجہ سے وہ تمہارے مال میں تمہاری مرضی کے بغیر داخلت نہیں کرسکتے اور اگر کوئی تمہارا معمولی سا حصہ دار اور شریک ہو تو پھر تم اس کی ناراضگی سے کس قدر ڈرتے ہو اور اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرتے تو جنہیں تم نے اللہ کا شریک ٹھرایا ہے وہ تو اس کی مخلوق ہیں کسی بھی وصف میں اس کے شریک نہیں اور اللہ کا اگر کوئی شریک ہوتا تو اللہ کی مرضی سے نظام نہ چلتا اور یوں تباہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو مال دیا ہے وہ صرف اس لئے نہیں ہے کہ تم اسے صرف اپنی ذات پر خرچ کرو بلکہ اس کی شکر گزاری یہ ہے کہ اس میں سے رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں پر بھی خرچ کیا کرو اور یہ سمجھ کر خرچ کرو کہ تمہارا ان پر احسان نہیں ہے بلکہ یہ ان کا تمہارا اوپر حق ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(30:38) فات۔ پس تو دے۔ فعل امر واحد مذکر حاضر ایتاء (افعال) مصدر ۔ مصدر اتی یؤتی سے ۔ یہاں خطاب حضور ﷺ سے ہے اور آپ کی وساطت سے ساری امت کے ان اشخاص کو ہے جن کو کھلی روزی دی گئی ہو۔ لمن بسط لہ رزقہ۔ ابن السبیل۔ راہی، مسافر۔ یریدون وجہ اللہ۔ جو اللہ کی رضا کے طالب ہیں۔ وجہ اسم مفرد۔ مضاف اللہ مضاف الیہ۔ اللہ کی خوشنودی۔ اللہ کی رضا۔ اللہ کا ثواب۔ اولئک۔ وہ لوگ جو اللہ کی رضا کی خاطر (اپنے مال سے) قرابت داروں کا حق ادا کرتے ہیں اور مساکین و مسافروں کو دیتے ہیں۔ المفلحون۔ اسم فاعل جمع مذکر ۔ افلاح مصدر۔ فلاح پانے والے۔ مراد حاصل کرنے والے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 38–40

لغات القرآن آیت نمبر (38 تا 40 ) ۔ یریدون (وہ چاہتے ہیں) ۔ لا یربوا (وہ نہیں بڑھتا ہے ) ۔ المضعفون (دو گنا حاصل کرنے والے ) ۔ تعالیٰ (بلندو بر تر ذات ) ۔ تشریح : آیت نمبر (38 تا 40) ۔ ” مومن کا ہر کام اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہوتا ہے تاکہ اس پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں اور وہ اللہ کی ناراضگی سے محفوظ رہے۔ وہ اگر اپنے رشتہ داروں، ضرورت مندوں اور مسافروں کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے تو وہ یہ نہیں سمجھتا کہ دوسروں کو بھیک دے رہا ہے بلکہ ان کا حق سمجھ کر ان کی مدد کرتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ اللہ نے اسے اس قابل کیا کہ وہ دوسروں کے کام آسکے۔ اس کے بر خلاف کفارو مشرکین اور دنیا دار اگر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 33–39

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ تم جو چیز ہدیہ یاتحفہ دوست احباب یا آشناؤں کو یا اور کسی شخص کو اس نیت سے دو کہ وہ پلٹ کر اس سے زیادہ دے گا تو اس کا ثواب اللہ کے ہاں نہ ملے گا، کیونکہ یہ عمل خالصتا اللہ نہیں ہوا، آگے فرمایا کہ صدقہ دینے سے ظاہر میں اگرچہ مال گھٹتا ہوا معلوم ہوتا ہے لیکن اللہ کے نزدیک وہ بڑھتا ہے کیونکہ دنیا میں اللہ تعالیٰ ایسے مال میں برکت دیتا ہے اور عقبی میں ایک روپیہ خرچ کرنے کا اجر دس سے لے کر سات سو تک ہے اب آگے مشرکوں کو یہ تنبیہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کو اور ان کی ضرورت کی سب چیزوں کو پیدا کیا اور وہی مقررہ کے آنے پر ان کو دنیا سے اٹھائے گا اور پھر سزا وجزا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 35–38

[19] ہر صاحب جائیداد کے مال میں ان سب کے حق مقرر کئے گئے ہیں۔ سود کی حرمت کے احکام سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں بیان ہوئے ہیں۔ یہ نہیں فرمایا کہ رشتہ دار، مسکین اور مسافر کو خیرات دو ۔ ارشاد یہ ہوا ہے کہ ان لوگوں کا حق ہے جو ان کو دینا چاہئے۔ ان کو دیتے رہو۔ یہ خیال دل میں ہرگز نہ آنے پائے کہ یہ کوئی احسان ہے جو ان لوگوں پر کیا جا رہا ہے بلکہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ مال کے مالک حقیقی نے اگر تمہیں زیادہ دیا ہے اور دوسرے بندوں کو کم تو یہ زائد مال ان دوسروں کا حق ہے جو تمہاری آزمائش کے لئے تمہیں دیا گیا ہے کہ اصل مالک کو ان کا حق پہنچاتے ہو یا نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 37–39

سود خواروں کی دولت 2: سود خوار لوگ قوم کے لئے اس لئے باعث لعنت ہوتے ہیں ۔ کہ ان کی دولت اور ثروت ملی ضروریات میں صرف نہیں ہوتی ، وہ دن رات مال جمع کرنے کی فکر میں غلطان وییچان رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہ رقم جو ہم خیرات اور صدقات کے نام سے دینگے بالکل ضائع جائیگی ۔ کیوں نہ یہ رقم سود میں لگادی جائے تاکہ مزید نفع ہو ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ بدبختو ! تم اس حقیقت کو سمجھتے ۔ کہ چاندی اور سونے کے ان ڈھیروں سے کیا فائدہ ، جو سفر آخرت میں تمہارے کام نہ آسکیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمہاری دولت جس طرح دنیا کے کاموں کو سنوارتی ہے اسی طرح عقبے کے کام بھی سنوارے ۔ اور تمہارے لئے مرجب خیروبرکت ہو ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

38۔ اے مخاطب ! قرابت دار کو اس کا حق دیا کرو اور مسکین اور مسافرکو بھی اس کا حق دیا کرو اور ہر ایک مستحق کا حق ادا کرنا ان لوگوں کے لئے بہت بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے طلب گار ہیں اور ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔ یعنی جب ہر شخص کا رزق مقرر ہے تو بخل کرنا نہیں چاہئے بلکہ ہر شخص کو اسکے حق سے بہرہ مند کرنا چاہئے یہ ان لوگوں کے لئے جن کا مقصد اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی رضا ہے بہت بہتر ہے کہ اہل قرابت اور مسکین و مسافر کی خبر گیری کیا کریں اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہی قیامت میں اور دنیا میں فلاح پانے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 34–39

ف 1۔ جب دلائل توحید میں معلوم ہوا کہ رزق کا بسط و قبض اللہ ہی کی طرف سے ہے تو اس سے ایک بات اور ثابت ہوئی کہ بخل کرنا مذموم ہے کیونکہ اس سے تقدیر سے زیادہ نہیں مل سکتا، پھر امساک بےفائدہ ہے۔ اور خیر ہونے کے لئے جو یریدون وجہ اللہ کی قید لگائی ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ مطلق انفاق خیر اور موجب فلاح نہیں، خدا کے نزدیک پہنچنا اور بڑہنا اس مال کے ساتھ خاص ہے جو اللہ کی خوشنودی کے لئے خرچ کیا جاوے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حقوق العباد کو ادا کرنا نہایت ضروری ہے اور رضائے الہی کی تلاش بھی : 38۔ حقوق العباد میں سے اس جگہ قرابت داروں کے حقوق ‘ مسکینوں اور مسافروں کے حقوق کا ذکر کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی تلاش کو نہایت مستحسن نگاہ سے دیکھا جانے کا ذکر ہے اور آیت کے اخیر میں وضاحت کردی ہے کہ جو لوگ ان حقوق کو ادا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے متلاشی رہتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو صحیح معنوں میں فلاں پانے والے ہیں ۔ اسلام میں حقوق العباد کا تعلق انسان کی اخلاقی تعلیمات سے ہے اور ان اخلاقی حقوق کو اسلام نے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے ‘ حقوق ‘ فضائل ورذائل اور آداب ۔ اسلامی تعلیمات میں ہر انسان پر دوسرے انسانوں کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

فَآتِ ذَا الْقُرْ‌بَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ (So give to the kinsman his right, and to the needy and the wayfarer - 30:38). In the preceding verse, it was stated that provision of sustenance is the sole prerogative of Allah Ta` a1a. He makes it abundant for whom He likes and curtails the sustenance whenever and whomever He so wills. It clearly gives the message that whoever spends it in the way of Allah, He does not make his sustenance dwindle. But if someone acts miserly and tries to accumulate what he has, then his possession does not expand. In the background of this…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

57 It has not been said: "Give charity to the relative, the needy and the wayfarer, but their due because this is their right (due to them from you), which you must give them in any case. You will not do them any favour if you part with a part of your wealth for their sake. You should remember it well that if the real owner of the wealth has given you more than others, your extra wealth is, in fact, the right of others, which has been given to you for your trial so that your Lord may see whether you recognize the rights of others and render their rights to them or not." Anyone who reflects…

Read the full tafseer →