Explained with ayahs 33–37
انسان کی مختلف حالتیں
اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہے ہے کہ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کیساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ لیکفروا میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لئے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلوگے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کو توال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائیے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں…
Read the full tafseer →سورة الروم 56
یعنی اہل ایمان اس سے سبق حاصل کرسکتے ہیں کہ کفر و شرک کا انسان کے اخلاق پر کیا اثر پڑتا ہے، اور اس کے برعکس ایمان باللہ کے اخلاقی نتائج کیا ہیں۔ جو شخص سچے دل سے خدا پر ایمان رکھتا ہو اور اسی کو رزق کے خزانوں کا مالک سمجھتا ہو، وہ کبھی اس کم ظرفی میں مبتلا نہیں ہوسکتا جس میں خدا کو بھولے ہوئے لوگ مبتلا ہوتے ہیں۔ اسے کشادہ رزق ملے تو پھولے گا نہیں، شکر کرے گا، خلق خدا کے ساتھ تواضع اور فیاضی سے پیش آئے گا، اور خدا کا مال خدا کی راہ میں صرف کرنے سے ہرگز دریغ نہ کرے گا۔ تنگی کے ساتھ رزق ملے، یا فاقے ہی پڑجائیں، تب بھی صبر سے کام لے گا، دیانت و امانت اور خود داری کو ہاتھ سے نہ دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا، یعنی یہ مشرکین وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین فطرت اور دین حق میں تفریق پیدا کردی، یا یہ کہ دین فطرت سے مفارق اور الگ ہوگئے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مختلف پارٹیوں میں بٹ گئے۔ شیعاً شیعہ کی جمع ہے، ایسی جماعت جو کسی مقتداء کی پیرو ہو، اس کو شیعہ کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دین فطرت تو توحید تھا جس کا اثر یہ ہونا چاہئے تھا کہ سب انسان اس کو اختیار کر کے ایک ہی قوم ایک ہی جماعت بنتے مگر انہوں نے اس توحید کو چھوڑا اور مختلف لوگوں کے خیالات کے تابع ہوگئی اور انسانی خیالات اور رایوں میں اختلاف ایک طبعی امر ہے، اس لئے ہر ایک نے اپنا اپنا ایک مذہب بنا…
Read the full tafseer →اولم یروا ان اللہ یبسطا الرزق لمن یشاء و یقدر ان فی ذلک لایت لقوم یومنون (37)
یعنی کیا ان لوگوں نے اس حقیقت پر غور نہیں کیا کہ رزق کی فراخی ہو یا تنگی دونوں اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہی جس کے لئے چاہتا ہے رزق کو تنگ کردیتا ہے، جس کے لئے چاہتا ہے کشادہ کردیتا ہے۔ اس کا یہ چاہنا تمام تر اس کی حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے نہ تو کسی کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ مایوس ہوا اور نہ یہ جائز ہے کہ وہ اترانے اور اکڑنے والا بنے۔ اترانے کا حق اس کو ہے جس کا رزق اس کے اپنے اختیار میں ہو اور خدا سے مایوس وہ ہو جو اپنے لئے کوئی اور دروازہ تلاش کرسکے۔ جب ان دونوں میں سے کوئی بات بھی ممکن نہیں ہے تو صحیح رویہ…
Read the full tafseer →37-1یعنی اپنی حکمت و مصلحت سے وہ کسی کو مال و دولت زیادہ اور کسی کو کم دیتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض دفعہ عقل و شعور میں اور ظاہری اسباب و وسائل میں دو انسان ایک جیسے ہی محسوس ہوتے ہیں ایک جیسا ہی کاروبار بھی شروع کرتے ہیں لیکن ایک کے کاروبار کو خوب فروغ ملتا ہے اور اس کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں، جب کہ دوسرے شخص کا کاروبار محدود ہی رہتا ہے اور اسے وسعت نصیب نہیں ہوتی۔ آخر یہ کون ہستی ہے جس کے پاس تمام اختیارات ہیں اور وہ اس قسم کے تصرفات فرماتا ہے علاوہ ازیں وہ کبھی دولت فراواں کے مالک کو محتاج کردیتا ہے اور محتاج کو مال ودولت سے نواز دیتا ہے اور یہ سب اسی ایک اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔
Read the full tafseer →16: یعنی تنگی کے مواقع پر مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے کے بجائے اول تو یہ سمجھنا چاہیے کہ وسعت اور تنگی کا فیصلہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور مصلحت کے تحت فرماتا ہے جو ضروری نہیں کہ ہر ایک کی خواہشات کے مطابق ہو، یا اس کی سمجھ میں بھی آجائے، دوسرے چونکہ وسعت اور تنگی اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں، اس لیے تنگی کے مواقع پر اسی کی طرف رجوع کر کے اسی سے مدد مانگنی چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
درس نمبر 184 نظر میں
اس سورة کا یہ سفر اور یہ باب اس کے حقیقی موضوع پر ہے۔ یعنی اس کائنات کے واقعات و حادثات اور انسانی زندگی کی اقدار و حادثات کے اندر گہرا ربط ہے۔ اس کائنات کے نوامیس قدرت ، اس زندگی کے قوانین اور اس دین کے قوانین شریعت باہم موافق ، ہم آہنگ ، مربوط اور بلا تضاد ہیں۔
اس سبق میں بتا یا جاتا ہے کہ انسانی خواہشات تو بدلتی رہتی ہیں لیکن سنت الٰہیہ کے اندر کوئی تغیر نہیں ہوتا۔ دین قیم کے اصولوں کے مقابلے میں شرکیہ عقائد پائے چوبیں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر اس سبق میں انسانی نفس کی کیفیات کی مختلف حالات میں تصویر کشی کی گئی ہے۔ حالت امن میں نفس انسانی کی حالت کیا ہوتی اور حالت خطرہ…
Read the full tafseer →4 یعنی ایمان و یقین والے سمجھتے ہیں کہ دنیا کی سختی نرمی اور روزی کا بڑھانا گھٹانا سب اسی رب قدیر کے ہاتھ میں ہے۔ لہذا جو حال آئے بندہ کو صبر و شکر سے رضا بقضا رہنا چاہئے۔ نعمت کے وقت شکر گزار رہے، اور ڈرتا رہے کہیں چھن نہ جائے اور سختی کے وقت صبر کرے اور امید رکھے کہ حق تعالیٰ اپنے فضل و عنایت سے سختیوں کو دور فرما دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
آیت 39 وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاْ فِیْٓ اَمْوَال النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰہِ ج ”
اس آیت کا حوالہ سورة البقرۃ کی آیت 275 کی تشریح کے ضمن میں بھی دیا گیا ہے۔ دراصل اپنے مستقبل کے لیے بچت کرنا انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ پھر ہر شخص نہ صرف اپنی بچت کو سنبھال کر رکھنا چاہتا ہے بلکہ اس کی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بچائی ہوئی رقم وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی بھی رہے۔ قرآن اس بچت کو ”العَفْو“ یعنی قدر زائد surplus value قرار دے کر اسے انفاق فی سبیل اللہ کی مد میں اللہ کے بینک میں جمع کرانے کی ترغیب دیتا ہے : وَیَسْءَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَط قُلِ الْعَفْوَ ط البقرۃ : 219…
Read the full tafseer →41 یعنی رزق کی فراخی اور تنگی تو خالصتہ اللہ کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے وہ زیادہ دے اور جسے چاہے کم دے اور اس رزق کی کمی و بیشی میں بھی اس کی کئی مصلحتیں ہوتی ہیں (تفصیل کے لئے دیکھئے سورة عنکبوت کی آیت نمبر 62 کا حاشیہ) لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ رزق کی کمی بیشی کی بنا پر انسان اپنے اخلاق ہی بگاڑ لے۔ خوشحالی کا دور آئے تو پھولا نہ سمائے اور کسی کو حتیٰ کہ اللہ کو بھی خاطر میں نہ لائے اور تنگی کیا دور آئے تو اللہ کو ہی اپنے شکوؤں کا ہدف بنالے اور اس کی رحمت سے مایوس ہوجائے۔ بلکہ صحیح طرز عمل یہ ہے کہ رزق کی کمی بیشی سے اللہ اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے اور کامیاب وہ انسان ہے جو ہر حال میں اخلاق…
Read the full tafseer →43۔ (کہ وہ اہل ایمان وعرفان الہ المعاش بھی تمامتر اسی کو یقین کئے رہتے، اور معاش کی فراخی اور تنگی دونوں کے سارے اسباب بس اسی کے ہاتھ میں سمجھتے ہیں) (آیت) ” اولم ..... یقدر “۔ دو شخص ایک ہی معاش جدوجہد میں مشغول ہوتے ہیں۔ بظاہر دونوں کی صلاحتیں، قابلیتیں تو انائیاں بالکل ایک تھیں، اس پر بھی ایک مالا مال ہوجاتا ہے۔ اور دوسرے کی کوشش رائیگاں ہی رہتی ہے۔ وجہ صرف یہ کہ فلاح و کامیابی کے اسباب خفی ودقیق تمامتر اسی حکیم مطلق مسبب الاسباب کے ہاتھ میں ہیں جو اپنے مصالح تکوینی کے اعتبار سے جسے چاہتا ہے کامیاب بناتا ہے اور جسے چاہتا ہے ناکام رکھتا ہے۔ اسباب معاش اور ان کے درمیانی وسائط کا تمامتر حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
آیت نمبر 28 تا 40
ترجمہ : اے مشرکو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے خود تمہاری ہی مثال بیان فرمائی اور وہ یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے تم کو اموال وغیرہ دے رکھے ہیں کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے تمہارا کوئی شریک ہے ؟ کہ تم اور وہ اس میں برابر درجہ کے ہو اور تم ان سے ایسا اندیشہ رکھتے ہو جیسا کہ خود آپس کا یعنی اپنے آزاد لوگوں کا، اور استفہام نفی کے معنی میں ہے، مطلب یہ کہ تمہارے نزدیک بھی تمہارے غلام تمہارے شریک نہیں ہیں، (الیٰ آخرہ) یعنی ان اموال میں جو ہم نے تم کو دے رکھے ہیں تمہارے غلام تمہارے جیسے آزادوں کے مانند شریک نہیں ہیں کہ برابر کا درجہ رکھتے ہوں، تو پھر تم اللہ کے بعض غلاموں کو اس کو شریک…
Read the full tafseer →اولم یروا ان اللہ یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر . کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ جس شخص کا رزق فراخ کرنا چاہتا ہے فراخ کرتا ہے اور جس کی روزی نپی تلی کرنا چاہتا ہے نپی تلی کردیتا ہے۔ یعنی کوئی وجہ نہیں کہ فراخی حال میں تو اترانے لگیں اور ناشکری کریں اور تنگ حالی میں ناامید ہوجائیں ‘ اللہ کی طرف نہ لوٹیں اور گناہوں پر پشیمان ہو کر توبہ نہ کریں اور گناہوں کو نہ چھوڑیں اور مؤمنوں کی طرح صبر نہ کریں اور مصیبت پڑنے پر ثواب کی امید نہ رکھیں۔
ان فی ذلک لایت لقوم یؤمنون . (رزق کی) اس (تنگی ‘ فراخی) میں مؤمنوں کے لئے بہت نشانیاں ہیں۔ وہ اللہ کی قدرت اور حکمت پر اس سے استدلال کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →کیا ان کفار مکہ کو اللہ کی کتاب کے ذریعے یہ بات نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ آزمائش کے طور پر اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے کم دیتا ہے۔ اس بسط و قدر میں اہل ایمان کے لیے نشانیاں توحید موجود ہیں۔
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَقْدِر ُ : یعنی خوش حالی پر پھول جانے یا مصیبت پر ناامید ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انسان خوش حالی یا مصیبت کے معاملے کو دائمی سمجھ لیتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ہر روز پیش آنے والے مشاہدے کی طرف توجہ دلائی کہ کیا انھوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور تنگ کردیتا ہے۔ ایک ہی شخص کا رزق کبھی فراخ ہے کبھی تنگ اور ایک ہی وقت میں کسی کا رزق فراخ ہے اور کسی کا تنگ۔ رزق کا معاملہ اس نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ بعض اوقات بڑے بڑے عقل مند اور عالم غربت کا شکار ہوتے ہیں اور اَن پڑھوں اور بیوقوفوں کو ایسی…
Read the full tafseer →جس کے لئے چاہتا ہے دنیا میں بھلائی کو وسیع کرتا ہے اور تنگ کرتا ہے اس لئے کوئی ضروری نہیں کہ فقراء انہیں مایوسی کی طرف دعوت دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ منیبین الیہ سے مراد ہے توبہ کرنے والے اس کی طرف
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت من الذین فرقوا دینہم سے یہود و نصاری مراد ہیں آیت ام انزلنا علیہم سلطانا سے مراد ہے کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی کہ جو ان کو اس بات کا حکم دے رہی ہے۔
3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ام انزلنا علیہم سلطنا فہو یتکلم بما کانو بہ یشرکون یعنی کیا ہم نے ان پر کوئی کتاب اتاری ہے جو ان کو شرک کرنے کا کہتی ہے۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَرَوْا [اور کیا انھوں نے غور ہی نہیں کیا ] اَنَّ اللّٰهَ [کہ اللہ ] يَبْسُطُ [کشادہ کرتا ہے ] الرِّزْقَ [رزق کو ] لِمَنْ [اس کے لئے جس کے لئے ] يَّشَاۗءُ [وہ چاہتا ہے ] [وَيَقْدِر ُ ۭ : اور نپا تلا دیتا ہے (جس کے لئے چاہتا ہے ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک اس میں ] لَاٰيٰتٍ [یقینا نشانیاں ہیں ] لِّـقَوْمٍ [ایسے لوگوں کے لئے جو ] يُّؤْمِنُوْنَ [ایمان لاتے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
پھر فرمایا (وَ اِذَآ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَۃً فَرِحُوْابِھَا) (الآیۃ) کہ جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت چکھا دیتے ہیں تو اس پر خوش ہوتے ہیں اور پھولے نہیں سماتے، ان کی یہ خوشی غفلت اور مستی کی حد تک پہنچ جاتی ہے اور نعمت دینے والے کو بھول جاتے ہیں اور اس کی نافرمانیوں میں لگ جاتے ہیں، اسی خوشی اور مستی کے بارے میں (اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ ) فرمایا۔ (بلاشبہ اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا) یہ تو ہوا رحمت الٰہی کے ساتھ انسان کا معاملہ۔ اب اس کے مزاج کا دوسرا رخ یہ ہے کہ جب انہیں ان کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچ جاتی ہے تو ناامید ہو کر آس توڑ بیٹھے رہتے ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
بیان مثال برائے اظہار جہالت اہل شرک وضلال
قال اللہ تعالیٰ ضرب لکم مثلا من انفسکم۔۔۔ الی۔۔۔ سبحنہ و تعلی عما یشرکون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے وحدانیت کے دلائل ذکر کئے۔ اب مشرکین کی جہالت اور ضلالت ظاہر کرنے کے لئے خود انہی کے احوال میں سے ایک مثال بیان فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود تمہارے ہی احوال میں سے شرک کی برائی ظاہر کرنے کے لئے ایک مثال بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ کیا اے آزاد لوگو تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ جس چیز کے تمہارے ہاتھ مالک ہیں یعنی تمہارے لونڈی غلام جو تمہارے ہاتھ کا مال ہیں اور محض ظاہری اور مجازی طور پر تم ان کے مالک ہو اور یہ ملک مجازی بھی دائمی اور…
Read the full tafseer →29:۔ یہ توحید پر نویں عقلی دلیل ہے یعنی رزق کی فرخی اور تنگی تو اللہ کے اختیار میں ہے لہذا جب وہ اپنی رحمت سے روزی میں وسعت عطا کرے تو اس کا شکر کرنا چاہئے اور اگر وہ روزی تنگ کردے تو صبر و استقلال کے ساتھ اسی کو پکارنا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور قیامت کا ذکر فرمایا تھا نیز یہ کہ توحید ایک فطری چیز ہے۔ ہر موادد اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے یعنی اس میں توحید خداوندی کو تسلیم کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ اسی کی طرف رجوع کرو اور اسی سے ڈرو۔ نیز فرمایا کہ نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ بنو۔ شرک خلاف فطرت چیز ہے یہ عقل اور نقل دونوں کیخلاف ہے جب عقائد بگڑتے ہیں تو فرقے پیدا ہوتے ہیں اور ہر فرقہ اپنے اپنے عقیدہ پر خوش ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ صرف وہی راہ راست پر ہے۔ یہ سب گمراہی ہے ، توحید کو ماننا ہی فطری امر ہے۔
اس کی دلیل اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے واذا مس الناس…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللہَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَقْدِرُ 0 ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّـقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 37
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
ترکیب : وما اتیتم مافی موضع نصب باتیتم بالمد بمعنی اعطیتم والقصر بمعنی جئتم وقصدتم۔ لیربوا ای الربا۔ اس تقدیر پر لیربوا صیغہ و احد غائب کا ہے، اس کا فاعل الربا فالمعنی لیزید الرباویز کوا فی اموال الناس فاؤلئک فیہ التفات حسن کانہ قال ذلک لخواصہ ولملائکتہ وھو مدح لھم من ان یقول فانتم المضعفون کشاف۔ ھل من الخ من الاولیٰ للتبعیض کانہ اقام فعل البعض مقام فعل الکل توسعۃ علی الخصم والثالثۃ لتاکید الاستفہام والمتوسطۃ للابتداء۔
تفسیر : انسان کی اس حالت قنوط یعنی نا امیدی کے جذبہ کی دوا بتلاتا ہے، فقال اولم یروان اللہ یبسط الرزق کہ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ تنگدستی اور فراخ دستی اللہ کی طرف سے ہے۔ محقق کی…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ۔ (الروم : 37)
(کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے، یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ )
تدبر کی دعوت
گزشتہ آیت کریمہ میں کفار و مشرکین کی کم ظرفی پر تنقید کرتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ ان کا حال یہ ہے کہ یہ خوشحال ہوتے ہیں تو اکڑنے اور اترانے لگتے ہیں۔ اور حالات بگڑتے ہیں تو مایوس و دل شکستہ ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ وہ ذرا غور کرتے تو انھیں احساس ہوجاتا کہ رزق کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
فہم القرآن
ربط کلام : جو رب انسان خوشی سے سرفراز اور غم سے دوچار کرتا ہے وہی اس کے رزق پر اختیار رکھتا ہے۔ انسان ان باتوں پر غور کرے تو وہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے سے باز آجائے۔
اکثر لوگوں کی یہ بھی عادت ہوتی ہے کہ انہیں کسی معاملے میں اللہ تعالیٰ خود کفیل کرتا ہے تو وہ اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے اترانے لگتے ہیں اگر انہیں کسی غلطی یا کمزوری کی وجہ سے تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کی رحمت سے مایوس ہوجاتے ہیں بالخصوص رزق کے معاملے میں اکثر لوگوں کا یہی وطیرہ ہوتا ہے کہ مال کی فراوانی ہو تو اتراتے ہیں اور مال اللہ کی نافرمانی کے کاموں پر خرچ کرتے ہیں۔ انہیں سمجھایا جائے تو ان کے روّیے سے صاف معلوم…
Read the full tafseer →37: اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآ ئُ وَیَقْدِرُ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کا رزق فراخ کرنا چاہتے ہیں فراخ کردیتے ہیں اور جس کی روزی تنگ کرنا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے اس میں مؤمنوں کیلئے نشانیاں ہیں) استفہام انکاری ہے اس میں ان پر انکار کیا گیا کہ وہ یقینی طور پر جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی رزق کو کھولنے اور تنگ کرنے والے ہیں پھر یہ کیوں کر اس کی رحمت سے ناامید ہوتے ہیں ؟ اور اللہ تعالیٰ کی طرف گناہوں سے توبہ کر کے کیوں نہیں آتے وہ گناہ جن کی سختی کی وجہ سے یہ سزا ملی ہے تاکہ ایسا کرنے سے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
38۔ ، فات ذالقربی حقہ، نیکی اور صلہ رحمی ۔ ، والمسکین، اس کا حق یہ ہے کہ اس پر صدقہ کرے ۔ ، وابن السبیل ، اس سے مراد مساف رہے۔ اس سے مراد مساف رہے۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد بوڑھا ہے۔ ، ذلک خیرللذین یریدون وجہ اللہ ، وہ اللہ کے ثواب کے طلبگار ہیں جو وہ عمل کرتے ہیں۔ ، واولئک ھم المفلحون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
33 تا 38۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فطرت اسلامی کا یہ ثبوت بیان فرمایا کہ مشرک فطرت کے تقاضے سے ناچار ہونے کے وقت اللہ وحدہ لاشریک لہ کو پکارتے ہیں اور جب اللہ چکھائے ان کو کچھ مہر اور ان پر نعمت کے دروازے کھول دے کہ وہ آسودہ ہوجاویں تو خدا تعالیٰ کے ساتھ شرک اور بتوں کی پوجا کرنے لگتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کے منکر ہوجاتے ہیں اور آسود گی کو بتوں کی مدد کا نتیجہ خیال کرتے ہیں پھر فرمایا کہ فائدہ اٹھائیں چند روز کام چلالیں اب آگے عنقریب یہ لوگ معلوم کرلیں گے کہ ان کے عملوں کی شامت سے ان کو کیا بات پیش آئی اب آگے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی بیوقوفی کا ذکر فرمایا کہ کیا ہم نے ان کے اوپر کوئی سند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
آیت نمبر : 36-37
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ نرمی اور سخی کے حالات میں اکثر لوگوں کی فطرت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ صحت ‘ فراخی اور نصرت وغیرہ کے ذریعے سے انہیں اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمت پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے فرحت کا اظہار نہیں کرتے بلکہ تکبر کے ساتھ اتراتے ہوئے خوش ہوتے ہیں (وان تصبھم سیءۃ) ” اور اگر انہیں کوئی تکلیف پہنچے “ یعنی اگر ان کا حال ایسا ہوتا ہے جس سے ان کو تکلیف پہنچتی ہو (بما قدمت ایدیھم) ” ان کے عملوں کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجے “ یعنی اپنے کرتوتوں کے باعث (اذا ھم یقنطون) ” تو ناامید ہوجاتے ہیں۔ “ یعنی فقر اور بیماری وغیرہ کے دور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
49 مالداروں کے مال میں دوسروں کے حقوق ہیں : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ " مالداروں کے مال میں دوسروں کے بھی حقوق ہیں "۔ سو فرمایا گیا پس تم ۔ خوشی خوشی ۔ دے دیا کرو رشتہ داروں کو اس کا حق "۔ یعنی جب روزی کی کشائش اور اس کی تنگی دونوں اللہ پاک ہی کے ہاتھ میں اور اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں تو پھر تمہیں نہ تو کسی اور کے در پر بھیک مانگنے اور لجاجت کرنے کی ضرورت ہے اور نہ کسی کے خوف اور خطرے کی کوئی پروا۔ پس تم اللہ کے بندوں کے وہ حقوق پوری طرح ادا کردیا کرو جو اس نے تمہارے مالوں میں رکھ دئیے ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اوپر آیت نمبر 31 میں دین فطرت کے اولین رکن نماز کا ذکر فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
شرک کی تردید کے لیے مثالیں اور فرقہ بندی کا ردّ
تشریح : اللہ ایک ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ مسلمان کا یہ عقیدہ اس کا دل سے یقین زبان سے اقرار اور عمل بےحد ضروری ہے۔ جو لوگ ایمان لے آتے ہیں تو پھر ان کو پوری طرح اسلام میں داخل ہوجانا چاہیے اور پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کو ایمان سے ہٹا نہ سکے۔ ظاہر ہے شیطان بھی انہی لوگوں کی تاک میں رہتا ہے جو اللہ کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کو دین سے ہٹانے اور منتشر کرنے کے لیے شیطان کے دو حربے بڑے زبردست ہـیں ایک یہ کہ ان میں فرقہ بندی پیدا کردیتا ہے۔ اور دوسرے ان کی توجہ اصل اصول دین سے ہٹا کر دوسرے غیر ضروری مسائل میں الجھا دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
آیات 28 تا 40
اسرارو معارف
اللہ کریم تمہارے لیے ایک مثال ارشاد فرماتا ہے کہ تم خود اپنی ذات پر غور کرو تمہارے جیسے انسان جو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں اور تمام انسانی اوصاف میں تمہارے ساتھ ہیں مگر تمہارے غلام اور خادم ہیں صرف اس ایک وجہ سے وہ تمہارے مال میں تمہاری مرضی کے بغیر داخلت نہیں کرسکتے اور اگر کوئی تمہارا معمولی سا حصہ دار اور شریک ہو تو پھر تم اس کی ناراضگی سے کس قدر ڈرتے ہو اور اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرتے تو جنہیں تم نے اللہ کا شریک ٹھرایا ہے وہ تو اس کی مخلوق ہیں کسی بھی وصف میں اس کے شریک نہیں اور اللہ کا اگر کوئی شریک ہوتا تو اللہ کی مرضی سے نظام نہ چلتا اور یوں تباہ…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی روزی کا معاملہ اللہ تعالیٰ نے خالصتاً اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ بعض اوقات ان پڑھوں اور بیوقوفوں کو ایسی روزی دیتا ہے کہ پڑھے لکھے اور دانا حیران ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت نہیں تو کیا ہے ؟ اسی کو اپنی حکمت عملوم ہے کوئی دم نہیں مار سکتا۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →(30:37) یقدر مضارع واحد مذکر غائب قدر (باب ضرب) مصدر سے۔ وہ تنگ کرتا ہے۔ مقدار مقرر کردیتا ہے۔ اندازہ مقرر کردیتا ہے۔ وہ جچاتلا ہے۔ بسط کی ضد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
لغات القرآن آیت نمبر (33 تا 37 ) ۔
مس (اس نے چھوا ۔ ہاتھ لگایا) ۔ ضر (تکلیف۔ مصیبت ) ۔ اذاق (اس نے چکھایا ) ۔ تمتعوا (تم فائدہ حاصل کرلو۔ مزے اڑالو ) ۔ سلطان (قوت۔ سند۔ حجت ) ۔ یتکلم (بات کرتا ہے۔ بتاتا ہے) ۔ یقنطون (وہ مایوس ہوتے ہیں) ۔ یبسط (وہ کھولتا ہے۔ کشادہ کرتا ہے) ۔ یقدر (اندازہ کرتا ہے۔ کم دیتا ہے ) ۔
تشریح : آیت نمبر (33 تا 37 ) ۔ ” مومن دل کی گہرائیوں سے اس بات پر یقین کامل رکھتا ہے کہ اس کائنات کا خالق، مالک اور رازق صرف ایک اللہ ہے۔ جو کچھ ہوتا ہے اسی کے حکم سے ہوتا ہے، راحت و آرام، تکلیف یا مصیبت، رزق میں اضافہ یا کمی سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ مومن کو راحت و آرام ملتا ہے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–39
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ تم جو چیز ہدیہ یاتحفہ دوست احباب یا آشناؤں کو یا اور کسی شخص کو اس نیت سے دو کہ وہ پلٹ کر اس سے زیادہ دے گا تو اس کا ثواب اللہ کے ہاں نہ ملے گا، کیونکہ یہ عمل خالصتا اللہ نہیں ہوا، آگے فرمایا کہ صدقہ دینے سے ظاہر میں اگرچہ مال گھٹتا ہوا معلوم ہوتا ہے لیکن اللہ کے نزدیک وہ بڑھتا ہے کیونکہ دنیا میں اللہ تعالیٰ ایسے مال میں برکت دیتا ہے اور عقبی میں ایک روپیہ خرچ کرنے کا اجر دس سے لے کر سات سو تک ہے اب آگے مشرکوں کو یہ تنبیہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کو اور ان کی ضرورت کی سب چیزوں کو پیدا کیا اور وہی مقررہ کے آنے پر ان کو دنیا سے اٹھائے گا اور پھر سزا وجزا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
[19] ہر صاحب جائیداد کے مال میں ان سب کے حق مقرر کئے گئے ہیں۔ سود کی حرمت کے احکام سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں بیان ہوئے ہیں۔ یہ نہیں فرمایا کہ رشتہ دار، مسکین اور مسافر کو خیرات دو ۔ ارشاد یہ ہوا ہے کہ ان لوگوں کا حق ہے جو ان کو دینا چاہئے۔ ان کو دیتے رہو۔ یہ خیال دل میں ہرگز نہ آنے پائے کہ یہ کوئی احسان ہے جو ان لوگوں پر کیا جا رہا ہے بلکہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ مال کے مالک حقیقی نے اگر تمہیں زیادہ دیا ہے اور دوسرے بندوں کو کم تو یہ زائد مال ان دوسروں کا حق ہے جو تمہاری آزمائش کے لئے تمہیں دیا گیا ہے کہ اصل مالک کو ان کا حق پہنچاتے ہو یا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
سود خواروں کی دولت
2: سود خوار لوگ قوم کے لئے اس لئے باعث لعنت ہوتے ہیں ۔ کہ ان کی دولت اور ثروت ملی ضروریات میں صرف نہیں ہوتی ، وہ دن رات مال جمع کرنے کی فکر میں غلطان وییچان رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہ رقم جو ہم خیرات اور صدقات کے نام سے دینگے بالکل ضائع جائیگی ۔ کیوں نہ یہ رقم سود میں لگادی جائے تاکہ مزید نفع ہو ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ بدبختو ! تم اس حقیقت کو سمجھتے ۔ کہ چاندی اور سونے کے ان ڈھیروں سے کیا فائدہ ، جو سفر آخرت میں تمہارے کام نہ آسکیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمہاری دولت جس طرح دنیا کے کاموں کو سنوارتی ہے اسی طرح عقبے کے کام بھی سنوارے ۔ اور تمہارے لئے مرجب خیروبرکت ہو ۔…
Read the full tafseer →37۔ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں اور کیا یہ لوگ نہیں دیکھ چکے کہ اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے روزی کو کشادہ اور فراخ کردیتا ہے اور پھیلا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے روزی پنی تلی دیتا ہے اور گھٹا دیتا ہے بیشک اس روزی کی کمی بیشی میں ان لوگوں کے لئے توحید کے بڑے دلائل ہیں جو یقین رکھتے ہیں ۔ اس بات کا ان کو بھی اعتراف تھا کہ روزی کا گھٹانا بڑھانا اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار ہے ، اسی لئے فرمایا کہ جب روزی اس کے قبضے میں ہے سو استحقاق عبودیت بھی اسی کیلئے ہے اہل ایمان تو اس کو سمجھتے ہی ہیں دوسرے بھی اگر سمجھنا چاہیں تو سمجھ سکتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جس کو چاہے ماپ دے روزی جس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
ف 1۔ جب دلائل توحید میں معلوم ہوا کہ رزق کا بسط و قبض اللہ ہی کی طرف سے ہے تو اس سے ایک بات اور ثابت ہوئی کہ بخل کرنا مذموم ہے کیونکہ اس سے تقدیر سے زیادہ نہیں مل سکتا، پھر امساک بےفائدہ ہے۔ اور خیر ہونے کے لئے جو یریدون وجہ اللہ کی قید لگائی ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ مطلق انفاق خیر اور موجب فلاح نہیں، خدا کے نزدیک پہنچنا اور بڑہنا اس مال کے ساتھ خاص ہے جو اللہ کی خوشنودی کے لئے خرچ کیا جاوے۔
Read the full tafseer →کیا انہوں نے دیکھا ہی نہیں کہ رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ کے قانون کے مطابق ہے :
37۔ رزق کی کشادگی اور تنگی کا تعلق انسان کے نیک وبد ہونے سے نہیں ہے اس کے لئے مشیت خداوندی کا قانون طے ہے اور اس قانون کے مطابق سلسلہ جاری وساری ہے اس کی وضاحت پیچھے عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة الرعد کی آیت 26 جلد پنجم سورة بنی اسرائیل کی آیت 30 ‘ جلد ششم سورة القصص کی آیت 82 ‘ جلد ہذا سورة العنکبوت کی آیت 62 میں کرچکے ہیں اس لئے محولہ حوالوں کی طرف رجوع کریں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس میں بلاشبہ نشانیاں موجود ہیں لیکن کن لوگوں کے لئے ؟ قرآن کریم کہتا ہے ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا (Among those who split up religion and became sects - 30:32) that is, these disbelievers are those who have created a difference between Natural Faith and the true religion, or they have alienated themselves from the Natural Faith, as a result of which they are divided into different sects. شِيَعًا :Shiya'an is the plural of شِیعۃ shi` ah. A group of people following a leader is called shi ah. The fact is that the Natural Faith was based on the Oneness of Allah, by following which the entire human kind should have been one solid unit and…
Read the full tafseer →56 That is, "The believers can learn how disbelief and shirk affect man's morality and what is the impact of belief in Allah on his morals. The person who sincerely believes Allah and looks upon Him as the Master of the treasure-houses of provisions, can never be involved in meanness, in which those forgetful of God are involved. If he is given abundantly he will not be puffed up; he will rather be grateful to Allah, will treat his fellowmen generously and benevolently, and will expend 'his God-given wealth for His sake. On the other hand, he will exercise patience; he will never gamble away…
Read the full tafseer →