Explained with ayahs 33–37
انسان کی مختلف حالتیں
اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہے ہے کہ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کیساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ لیکفروا میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لئے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلوگے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کو توال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائیے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
سورة الروم 52
یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ ان کے دل کی گہرائیوں میں توحید کی شہادت موجود ہے، امیدوں کے سہاروں جب بھی ٹوٹنے لگتے ہیں، ان کا دل خود ہی اندر سے پکارنے لگتا ہے کہ اصل فرمانروائی کائنات کے مالک ہی کی ہے اور اسی کی مدد ان کی بگڑی بنا سکتی ہے۔
سورة الروم 53
یعنی پھر دوسرے معبودوں کی نذریں اور نیازیں چڑھنی شروع ہوجاتی ہیں اور کہا جانے لگتا ہے کہ یہ مصیبت فلاں حضڑت کے طفیل اور فلاں آستانے کے صدقے میں ٹلی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا، یعنی یہ مشرکین وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین فطرت اور دین حق میں تفریق پیدا کردی، یا یہ کہ دین فطرت سے مفارق اور الگ ہوگئے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مختلف پارٹیوں میں بٹ گئے۔ شیعاً شیعہ کی جمع ہے، ایسی جماعت جو کسی مقتداء کی پیرو ہو، اس کو شیعہ کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دین فطرت تو توحید تھا جس کا اثر یہ ہونا چاہئے تھا کہ سب انسان اس کو اختیار کر کے ایک ہی قوم ایک ہی جماعت بنتے مگر انہوں نے اس توحید کو چھوڑا اور مختلف لوگوں کے خیالات کے تابع ہوگئی اور انسانی خیالات اور رایوں میں اختلاف ایک طبعی امر ہے، اس لئے ہر ایک نے اپنا اپنا ایک مذہب بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
واذا من الناس ضردعوا ربھم منیبین الیہ ثم اذا اذاقھم منہ رحمتہ اذا فریق منھم بربھم یشرکون۔ لیکفروا بما اتینھم فتمتوا ھوت تعلمون (33۔ 34)
یہ مشرکین کو براہ راست دھمکی ہے کہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب کسی گرداب میں پھنستے ہیں تب تو نہایت نیاز مندی سے اور تذلل کے ساتھ خدا کو پکارتے ہیں لیکن جب خدا انکو اپنی رحمت سے نواز دیتا ہے تو پھر یہ خدا کو بھول کر اپنے انہی معبودوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں جن کی انہوں نے شریک بنا رکھا ہے۔ یہ مضمون پیچھے مختلف اسلوبوں سے گزر چکا ہے اور آگے سورة لقمان کی آیت 32 میں ایک نئے اسلوب سے آئے گا۔
’ لیکفروا بما اتینھم فتمتعوا فسوف تعلمون۔ ‘ یہ مضون بعینہ عنکبوت کی آیت 66…
Read the full tafseer →34-1یہ وہی مضمون ہے جو سورة عنکبوت کے آخر میں گزرا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
15: انسان جب پہلے پہل دنیا میں آیا تو اس نے فطری صلاحیت سے کام لے کر دین حق کو اختیار کیا، لیکن پھر لوگوں نے الگ الگ طریقے اختیار کرکے اپنے آپ کو مختلف مذاہب میں بانٹ لیا، اسی کو دین کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور فرقوں میں بٹ جانے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
درس نمبر 184 نظر میں
اس سورة کا یہ سفر اور یہ باب اس کے حقیقی موضوع پر ہے۔ یعنی اس کائنات کے واقعات و حادثات اور انسانی زندگی کی اقدار و حادثات کے اندر گہرا ربط ہے۔ اس کائنات کے نوامیس قدرت ، اس زندگی کے قوانین اور اس دین کے قوانین شریعت باہم موافق ، ہم آہنگ ، مربوط اور بلا تضاد ہیں۔
اس سبق میں بتا یا جاتا ہے کہ انسانی خواہشات تو بدلتی رہتی ہیں لیکن سنت الٰہیہ کے اندر کوئی تغیر نہیں ہوتا۔ دین قیم کے اصولوں کے مقابلے میں شرکیہ عقائد پائے چوبیں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر اس سبق میں انسانی نفس کی کیفیات کی مختلف حالات میں تصویر کشی کی گئی ہے۔ حالت امن میں نفس انسانی کی حالت کیا ہوتی اور حالت خطرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
1 یعنی جیسے بھلے کام ہر انسان کی فطرت پہچانتی ہے۔ اللہ کی طرف رجوع ہونا بھی ہر ایک کی فطرت جانتی ہے۔ چناچہ خوف اور سختی کے وقت اس کا اظہار ہوجاتا ہے۔ بڑے سے بڑا سرکش مصیبت میں گھر کر خدائے واحد کو پکارنے لگتا ہے۔ اس وقت جھوٹے سہارے سب ذہن سے نکل جاتے ہیں۔ وہ ہی سچا مالک یاد رہ جاتا ہے جس کی طرف فطرت انسانی راہنمائی کرتی تھی۔ مگر افسوس کہ انسان اس حالت پر دیر تک قائم نہیں رہتا۔ جہاں خدا کی مہربانی سے مصیبت دور ہوئی، پھر اس کو چھوڑ کر جھوٹے دیوتاؤں کے بھجن گانے لگا۔ گویا اس کے پاس سب کچھ ان ہی کا دیا ہوا ہے ! خدا نے کچھ نہیں دیا ! (العیاذ باللہ) اچھا چند روز مزے اڑالے، آگے چل کر معلوم ہوجائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
آیت 34 لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰتَیْنٰہُمْ ط ”
یعنی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں اور صلاحیتوں کو اللہ کی نافرمانی میں استعمال کر کے عملی طور پر اس کی ناشکری کا ثبوت دیں۔
فَتَمَتَّعُوْاوقفۃ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ”
یہ وہی انداز ہے جو سورة التّکاثُر میں آیا ہے : کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ثُمَّ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ کہ تمہاری یہ زندگی چند روزہ ہے ‘ اس محدود مہلت میں تم اپنی من مانیوں کے مزے اڑالو۔ بالآخر تم نے ہمارے پاس ہی آنا ہے اور وہ وقت دور بھی نہیں۔ چناچہ بہت جلد اصل حقائق تم پر منکشف ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
39 کیا ان لوگوں کے پاس کوئی ایسی دلیل ہے جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ فلاں مصیبت سے اللہ نے نہیں بلکہ فلاں حضرت نے نجات دی تھی۔ یا یہ خوشحالی کے دن اللہ کی مہربانی سے نہیں بلکہ فلاں حضرت کی نظر کرم کی وجہ سے میسر آئے ہیں۔ کیا کسی آسمانی کتاب میں یہ لکھا ہوا ہے کہ اللہ نے اپنے فلاں فلاں کے اختیارات و تصرفات فلاں فلاں حضرت کو یا فلاں دیوتا کو یابت کو تفویض کردیئے ہیں اور ان کاموں کے لئے تم ان کی طرف رجوع کرسکتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
41۔ یعنی حقیقت عنقریب ہی تم پر منکشف ہو کر رہے گی۔ (آیت) ” واذا “۔ الخ۔ لیکفروا “۔ الخ۔ بیان ان دونوں آیتوں میں عام فطرت بشری کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” واذا مس الناس “۔ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ انسان کہ طبیعت مرکب ہے ہدایت وضلال سے۔ مصیبت کے وقت ظہور ہدایت کا ہوتا ہے۔ اور زوال مصیبت کے بعد ضلالت کا۔ (روح) (آیت) ” لیکفروا “۔ ل عاقبۃ کا ہے۔ یعنی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کفر کرنے لگتے ہیں۔ واللام للعاقبۃ (بیضاوی) ل۔ تہدید کے مفہوم میں بھی سمجھا گیا ہے۔ قیل للامر بمعنی التھدید (بیضاوی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
آیت نمبر 28 تا 40
ترجمہ : اے مشرکو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے خود تمہاری ہی مثال بیان فرمائی اور وہ یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے تم کو اموال وغیرہ دے رکھے ہیں کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے تمہارا کوئی شریک ہے ؟ کہ تم اور وہ اس میں برابر درجہ کے ہو اور تم ان سے ایسا اندیشہ رکھتے ہو جیسا کہ خود آپس کا یعنی اپنے آزاد لوگوں کا، اور استفہام نفی کے معنی میں ہے، مطلب یہ کہ تمہارے نزدیک بھی تمہارے غلام تمہارے شریک نہیں ہیں، (الیٰ آخرہ) یعنی ان اموال میں جو ہم نے تم کو دے رکھے ہیں تمہارے غلام تمہارے جیسے آزادوں کے مانند شریک نہیں ہیں کہ برابر کا درجہ رکھتے ہوں، تو پھر تم اللہ کے بعض غلاموں کو اس کو شریک…
Read the full tafseer →لیکفروا بما اتینھم . (جس کا حاصل یہ ہے کہ) ہم نے جو ان کو دیا ہے اس کی ناشکری کریں۔
لِیَکْفُرُوْا میں لام عاقبت ہے یعنی اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی عطا کردہ رحمت کے منکر ہوجاتے ہیں ‘ یا لام امر ہے اور امر سے مراد ہے دھمکی دینا یعنی وہ اب تو ہماری رحمت کا انکار کرلیں (اس کا نتیجہ جب عذاب کی شکل میں نکلے گا تو پتہ چلے گا) ۔
فتمتعوا فسوف تعلمون . (اب تو) مزے کرلو آئندہ تم کو (اس کا برا انجام) معلوم ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے جو ان کو خوشحالی دی ہے اس کی ناشکری کرتے ہیں سو مکہ والو دنیا میں چند روز اور مزے اڑا لو پھر جلد ہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ آخرت میں تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →لِيَكْفُرُوْا بِمَآ اٰتَيْنٰهُمْ ۭ فَتَمَتَّعُوْا ۪۔۔ : اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة عنکبوت (66)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
اس سے مراد قحط اور شدت ہے۔ وہ اپنے رب سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے یہ عذاب اٹھا لے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ اپنے دل سے اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں وہ شرک نہیں کرتے۔ اس کلام کا معنی تعجب ہے اللہ تعالیٰ کے بنی نے مشرکوں پر تعجب کیا اظہار کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں کرتے جبکہ ان پر پے در پے دلائل واقع ہوتے ہیں یعنی جب ان کفار کو مرض یا شدت میں سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو دعوت دیتے ہیں یعنی جو مصیبت ان پر نازل ہوتی ہے وہ اس کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد لیتے ہیں وہ صرف اسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کسی اور (بتوں) کی طرف متوجہ نہیں ہوتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ منیبین الیہ سے مراد ہے توبہ کرنے والے اس کی طرف
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت من الذین فرقوا دینہم سے یہود و نصاری مراد ہیں آیت ام انزلنا علیہم سلطانا سے مراد ہے کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی کہ جو ان کو اس بات کا حکم دے رہی ہے۔
3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ام انزلنا علیہم سلطنا فہو یتکلم بما کانو بہ یشرکون یعنی کیا ہم نے ان پر کوئی کتاب اتاری ہے جو ان کو شرک کرنے کا کہتی ہے۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت…
Read the full tafseer →لِيَكْفُرُوْا [نتیجتاً وہ ناشکری کرتے ہیں ] بِمَآ [اس کی جو ] [اٰتَيْنٰهُمْ ۭ : جو ہم نے ان کو بخشی ] [فَتَمَتَّعُوْا ۪ [تو تم لوگ فائدہ اٹھالو ] فَسَوْفَ [پھر عنقریب ] تَعْلَمُوْنَ [جان لو گے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
رحمت اور زحمت کے بارے میں انسان کا ایک خاص مزاج
ان آیات میں اول تو انسان کی ایک عادت کا تذکرہ فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ ان پر جب کوئی مصیبت آتی ہے اور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور پوری توجہ کے ساتھ اسے پکارتے ہیں کہ یہ مصیبت دور ہوجائے، یہ تو مصیبت کے وقت ان کا عمل ہوتا ہے، پھر جب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نوازتا ہے تو اچانک ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے، جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ان لوگوں سے خطاب فرمایا (فَتَمَتَّعُوْافَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ) (کہ تم مزے اڑا لو عنقریب کفر و شرک اور ناشکری کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
بیان مثال برائے اظہار جہالت اہل شرک وضلال
قال اللہ تعالیٰ ضرب لکم مثلا من انفسکم۔۔۔ الی۔۔۔ سبحنہ و تعلی عما یشرکون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے وحدانیت کے دلائل ذکر کئے۔ اب مشرکین کی جہالت اور ضلالت ظاہر کرنے کے لئے خود انہی کے احوال میں سے ایک مثال بیان فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود تمہارے ہی احوال میں سے شرک کی برائی ظاہر کرنے کے لئے ایک مثال بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ کیا اے آزاد لوگو تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ جس چیز کے تمہارے ہاتھ مالک ہیں یعنی تمہارے لونڈی غلام جو تمہارے ہاتھ کا مال ہیں اور محض ظاہری اور مجازی طور پر تم ان کے مالک ہو اور یہ ملک مجازی بھی دائمی اور…
Read the full tafseer →ف 27: لام بمعنی کَیْ ہے یعنی وہ اپنی کامیابی کو غیر الہ کی طرف منسوب کر کے کے اللہ کے انعام و احسان کی نا شکری کرتے ہیں۔ اچھا دنیا کی چند روزہ زندگی میں ہماری نعمتوں سے فائدہ اٹھا لو اور کفرانِ نعمت کرلو عنقریب اس کا انجام دیکھ لو گے۔ ام انزلنا الخ ام منقطعہ ہے بمعنی بل والہمزۃ اور استفہام انکاری ہے اور اس میں خطاب سے غیبت کی طرف الفتفات ہے۔ کیا ان مشرکین کے پاس ہماری طرف سے کوئی دلیل و حجت موجود ہے جس سے شرک کا ثبوت ہوتا ہو ؟ ہرگز نہیں ان کے پاس ایسی کوئی دلیل موجود نہیں محض اہواء و ظنون کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ ام بمعنی بل والہمزۃ للاضراب عن الکلام السابق والاستفہام عن الحجۃ استفہام انکار و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور قیامت کا ذکر فرمایا تھا نیز یہ کہ توحید ایک فطری چیز ہے۔ ہر موادد اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے یعنی اس میں توحید خداوندی کو تسلیم کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ اسی کی طرف رجوع کرو اور اسی سے ڈرو۔ نیز فرمایا کہ نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ بنو۔ شرک خلاف فطرت چیز ہے یہ عقل اور نقل دونوں کیخلاف ہے جب عقائد بگڑتے ہیں تو فرقے پیدا ہوتے ہیں اور ہر فرقہ اپنے اپنے عقیدہ پر خوش ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ صرف وہی راہ راست پر ہے۔ یہ سب گمراہی ہے ، توحید کو ماننا ہی فطری امر ہے۔
اس کی دلیل اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے واذا مس الناس…
Read the full tafseer →لِيَكْفُرُوْا بِمَآ اٰتَيْنٰہُمْ 0 ۭ فَتَمَتَّعُوْا 0 ۪ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ 34
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
ترکیب : واذا مس الناس شرط دعوا جواب منیبین حال من الضمیر الفاعل فی دعوا اذا فریق اذا مکانیۃ للمفاجاۃ نائب عن الفاء فی جواب الشرط فتمتعوا فیہ التفات عن الغیبۃ سلطنا یذکر لانہ بمعنی الدلیل و یونث لانہ بمعنی الحجۃ۔ وقیل ھو جمع سلیط کر غیف درغفان۔ واسناد التکلم الیہ مجاز کما تقول نطقت الحال بکذا ای یتکلم تکلم دلالۃ بما کانوا ما مصدریۃ والضمیر فی بہ اللہ۔ اوموصولۃ والضمیر لھا ای بالامر الذی بسببہ یشرکون۔
تفسیر : واذا مس الناس ضر دعواربہم الخ یہاں سے انسانی جذبات میں فطرت الہیہ کا ثبوت کیا جاتا ہے کہ جب انسان پر کوئی سخت مصیبت آپڑتی ہے جو اس کے بیرونی آثار سے اس کو قدرے بیخبر کر ڈالتی ہے تو یہ پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
وَاَذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّدَعَوْا رَبَّھُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ ثُمَّ اِذَآ اَذَاقَھُمْ مِّنْہُ رَحْمَۃً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ بِرَبِّھِمْ یُشْرِکُوْنَ ۔ لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰ تَیْنٰـھُمْ ط فَتَمَتَّعُوْا وقفۃ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۔
(الروم : 33، 34)
(جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتے ہیں، اسی کی طرف رجوع کرکے، پھر جب وہ کچھ اپنی رحمت کا ذائقہ انھیں چکھا دیتا ہے تو یکایک ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔ تاکہ ناشکری کریں اس کی جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا ہے، اچھا مزے کرلو، عنقریب تم کو پتہ چل جائے گا۔ )
توحید کے اثبات اور شرک کا رد، انسانی رویے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ مفاد اور تعصبات کی خاطر دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے اور اس پر خوش ہوتے ہیں ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ انہیں معمولی تکلیف پہنچے تو وہ مخلص ہو کر اپنے رب کو پکارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بات ماننے کے دل میں وعدے بھی کرتے ہیں۔ ایک رب کو ماننا اور ہر حال میں اسی کو پکارنا ہی انسان کی فطرت ہے اور ہونی چاہیے۔
اکثر انسانوں کی فطرت ہے کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی تو اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں اور گڑگڑا کر دعائیں کرتے ہیں کہ الٰہی میری مشکل حل فرما اور مجھے اس تکلیف سے نجات دے دے۔ جب تکلیف رفع ہوجاتی ہے تو اپنے رب سے اس طرح لاتعلق ہوجاتے ہیں جیسے انہوں نے اپنے رب کو پکارا ہی نہیں…
Read the full tafseer →34: لِیَکْفُرُوْا (تاکہ وہ ناشکری کریں) ۔
نحو : یہ لام کَیْ ہے۔ نمبر 2۔ یہ لام امر ہے جو وعید کیلئے لائی گئی ہے۔
بِمَآ ٰاتَیْنٰھُمْ (جو کچھ نعمتیں ہم نے ان کو دیں) ۔ فَتَمَتَّعُوْا (پس تم مزے اڑا لو) اپنے کفر کے سبب تھوڑی دیر دنیا میں۔ یہ امر و عید کیلئے لایا گیا ہے۔ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (تم عنقریب اپنے اس نفع اٹھانے کا وبال جان لوگے) ۔
Read the full tafseer →تفسیر 34۔” لیکفروابما اتیناھم “ پھر یہاں سے ان لوگوں کی طرف خطاب فرمایا جنہوں نے یہ فعل کیا ۔ یہ خطاب بطور تہدید کے بھی ہے۔ ، فتمتعوافسوف تعلمون، آخرت میں ان کا حال جانتے ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
33 تا 38۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فطرت اسلامی کا یہ ثبوت بیان فرمایا کہ مشرک فطرت کے تقاضے سے ناچار ہونے کے وقت اللہ وحدہ لاشریک لہ کو پکارتے ہیں اور جب اللہ چکھائے ان کو کچھ مہر اور ان پر نعمت کے دروازے کھول دے کہ وہ آسودہ ہوجاویں تو خدا تعالیٰ کے ساتھ شرک اور بتوں کی پوجا کرنے لگتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کے منکر ہوجاتے ہیں اور آسود گی کو بتوں کی مدد کا نتیجہ خیال کرتے ہیں پھر فرمایا کہ فائدہ اٹھائیں چند روز کام چلالیں اب آگے عنقریب یہ لوگ معلوم کرلیں گے کہ ان کے عملوں کی شامت سے ان کو کیا بات پیش آئی اب آگے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی بیوقوفی کا ذکر فرمایا کہ کیا ہم نے ان کے اوپر کوئی سند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
آیت نمبر : 33-35
(واذا مس الناس ضر) ” اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔ “ یعنی مرض یا ہلاکت کا خوف وغیرہ (دعوا ربھم منیبین الیہ) ” تو اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہوئے اسے پکارتے ہیں۔ “ اور اس حال میں وہ اپنے اس شرک کو فراموش کردیتے ہیں جو وہ کیا کرتے تھے کیونکہ انہیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو ان کی تکلیف کو دور کرسکے۔ (ثم اذآ قھم منہ رحمۃ) ” پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے۔ “ یعنی ان کو ان کی بیماری سے شفایاب اور ہلاکت کے خوف سے نجات دیتا ہے (اذا فریق منھم) تو ان میں سے ایک فریق اس انابت کو ترک کرتے ہوئے جو اس سے صادر ہوئی تھی ‘ ایسی ہستیوں کو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →45 شرک کا نتیجہ کفران نعمت : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ ایسے موقع پر یہ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں تاکہ اس طرح یہ لوگ کفر کریں ہمارے بخشی ہوئی نعمتوں کے ساتھ۔ معلوم ہوا کہ اللہ پاک کی عنایت فرمودہ کسی نعمت کو اس واہب مطلق کی بجائے اس کی مخلوق میں سے کسی کی طرف منسوب کرنا اور اللہ پاک کی رحمت و عنایت سے توجہ ہٹا دنیا کفر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ظاہر ہے کہ منعم حقیقی کو بھول کر اس کی بخشی ہوئی نعمتوں کو دوسروں کی طرف منسوب کرنا کفر اور ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔ سو ایسوں سے نہایت تند لہجے میں ارشاد فرمایا گیا کہ میری نعمتوں پر دوسروں کے گن گانے والو ! تم لوگ کچھ عرصہ تک مزے کرلو۔ عنقریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
شرک کی تردید کے لیے مثالیں اور فرقہ بندی کا ردّ
تشریح : اللہ ایک ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ مسلمان کا یہ عقیدہ اس کا دل سے یقین زبان سے اقرار اور عمل بےحد ضروری ہے۔ جو لوگ ایمان لے آتے ہیں تو پھر ان کو پوری طرح اسلام میں داخل ہوجانا چاہیے اور پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کو ایمان سے ہٹا نہ سکے۔ ظاہر ہے شیطان بھی انہی لوگوں کی تاک میں رہتا ہے جو اللہ کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کو دین سے ہٹانے اور منتشر کرنے کے لیے شیطان کے دو حربے بڑے زبردست ہـیں ایک یہ کہ ان میں فرقہ بندی پیدا کردیتا ہے۔ اور دوسرے ان کی توجہ اصل اصول دین سے ہٹا کر دوسرے غیر ضروری مسائل میں الجھا دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
آیات 28 تا 40
اسرارو معارف
اللہ کریم تمہارے لیے ایک مثال ارشاد فرماتا ہے کہ تم خود اپنی ذات پر غور کرو تمہارے جیسے انسان جو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں اور تمام انسانی اوصاف میں تمہارے ساتھ ہیں مگر تمہارے غلام اور خادم ہیں صرف اس ایک وجہ سے وہ تمہارے مال میں تمہاری مرضی کے بغیر داخلت نہیں کرسکتے اور اگر کوئی تمہارا معمولی سا حصہ دار اور شریک ہو تو پھر تم اس کی ناراضگی سے کس قدر ڈرتے ہو اور اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرتے تو جنہیں تم نے اللہ کا شریک ٹھرایا ہے وہ تو اس کی مخلوق ہیں کسی بھی وصف میں اس کے شریک نہیں اور اللہ کا اگر کوئی شریک ہوتا تو اللہ کی مرضی سے نظام نہ چلتا اور یوں تباہ…
Read the full tafseer →ف 4 کہ شرک اور ناشکری کی تمہیں کیا سزا ملتی ہے۔
Read the full tafseer →(30:34) لیکفروا بما اتینھم میں لام کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) یہ لام امر کا ہے اور تہدید اور دھمکی کے معنی دیتا ہے جیسے کسی کو غصہ سے کہا جاتا ہے۔ اعصنی ما استطعت تو میری نافرمانی کرلے جتنی کرسکتا ہے (انجام کار تجھے اس کا مزہ چکھاؤں گا) یہاں معنی یہ ہیوں گے کہ بیشک وہ کفر کی روشن اختیار کرلیں۔ اور چند روزہ زندگی میں مزے اڑالیں۔ لیکن جب ان کو اپنا انجام معلوم ہوگا تو پچھتائیں گے مگر بےسود۔ لفظی ترجمہ : وہ کرلیں ناشکری اس نعمت کی جو ہم نے ان کو عطا کی ہے۔
(2) یہ لام، لام عاقبت ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ کہ عاقبت کار وہ ناشکری کریں اس نعمت و رحمت کی جو ہم نے ان کو عطا کی ۔ مثال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
لغات القرآن آیت نمبر (33 تا 37 ) ۔
مس (اس نے چھوا ۔ ہاتھ لگایا) ۔ ضر (تکلیف۔ مصیبت ) ۔ اذاق (اس نے چکھایا ) ۔ تمتعوا (تم فائدہ حاصل کرلو۔ مزے اڑالو ) ۔ سلطان (قوت۔ سند۔ حجت ) ۔ یتکلم (بات کرتا ہے۔ بتاتا ہے) ۔ یقنطون (وہ مایوس ہوتے ہیں) ۔ یبسط (وہ کھولتا ہے۔ کشادہ کرتا ہے) ۔ یقدر (اندازہ کرتا ہے۔ کم دیتا ہے ) ۔
تشریح : آیت نمبر (33 تا 37 ) ۔ ” مومن دل کی گہرائیوں سے اس بات پر یقین کامل رکھتا ہے کہ اس کائنات کا خالق، مالک اور رازق صرف ایک اللہ ہے۔ جو کچھ ہوتا ہے اسی کے حکم سے ہوتا ہے، راحت و آرام، تکلیف یا مصیبت، رزق میں اضافہ یا کمی سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ مومن کو راحت و آرام ملتا ہے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–39
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ تم جو چیز ہدیہ یاتحفہ دوست احباب یا آشناؤں کو یا اور کسی شخص کو اس نیت سے دو کہ وہ پلٹ کر اس سے زیادہ دے گا تو اس کا ثواب اللہ کے ہاں نہ ملے گا، کیونکہ یہ عمل خالصتا اللہ نہیں ہوا، آگے فرمایا کہ صدقہ دینے سے ظاہر میں اگرچہ مال گھٹتا ہوا معلوم ہوتا ہے لیکن اللہ کے نزدیک وہ بڑھتا ہے کیونکہ دنیا میں اللہ تعالیٰ ایسے مال میں برکت دیتا ہے اور عقبی میں ایک روپیہ خرچ کرنے کا اجر دس سے لے کر سات سو تک ہے اب آگے مشرکوں کو یہ تنبیہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کو اور ان کی ضرورت کی سب چیزوں کو پیدا کیا اور وہی مقررہ کے آنے پر ان کو دنیا سے اٹھائے گا اور پھر سزا وجزا کے…
Read the full tafseer →[18] یعنی اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو دوسروں کی دی ہوئی سمجھنا اللہ کی ناشکری کرنا ہے اور ناشکری بھی بڑے درجے کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
ف 1: ان آیات میں انسانی نفسیات بیان فرمائی ہیں ۔ کہ کیونکر وہ حالات کے عدم توازن سے اپنے دماغی توازن کو کھوبیٹھتا ہے اور یہ نہیں سمجھتا کہ یہ سب انقلابات اللہ کی طرف سے ہیں ۔ اور ناگریز ہیں جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو پھر خلوص قلب کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکتا ہے ! اور رو رو کر دعائیں مانگتا ہے اور اللہ کی رحمت و شفقت سے دوچار ہوتا ہے ۔ تو پھر اللہ کے ساتھ اپنی کوششوں اور نتائج کو شریک وسہیم ٹھہرا لیتا ہے ۔ حالانکہ یہ کفر ہے ۔ اور اس کے لئے کوئی دلیل نہیں ۔ پھر زندگی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مسرت میں یہ انسان بہت خوش ہوتا ہے ۔ اور تکلیف میں جو سراسر ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ مایوس ہوجاتا…
Read the full tafseer →34۔ جس کا انجام اور حاصل یہ ہوتا ہے کہ جو احسان ہم نے ان کے ساتھ کیا ہے اور جو آرام ان کو دیا ہے اس کی نا شکری اور کفران نعمت کریں سو اچھا چند روز اور فائدہ اٹھا لو اب عنقریب تم کو سب حال معلوم ہوجائے گا ۔ یعنی اس کا ماحصل یہی ہے کہ کفران نعمت ان نعمتوں پر جو ہم نے عطا کی ہیں یعنی مصیبت لے گئے راحت عنایت فرما دی ۔ سو چند دن اس آرام و عیش کا اور فائدہ اٹھالو مرنے کے بعد عذاب کے وقت سب معلوم ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
ف 1۔ جب دلائل توحید میں معلوم ہوا کہ رزق کا بسط و قبض اللہ ہی کی طرف سے ہے تو اس سے ایک بات اور ثابت ہوئی کہ بخل کرنا مذموم ہے کیونکہ اس سے تقدیر سے زیادہ نہیں مل سکتا، پھر امساک بےفائدہ ہے۔ اور خیر ہونے کے لئے جو یریدون وجہ اللہ کی قید لگائی ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ مطلق انفاق خیر اور موجب فلاح نہیں، خدا کے نزدیک پہنچنا اور بڑہنا اس مال کے ساتھ خاص ہے جو اللہ کی خوشنودی کے لئے خرچ کیا جاوے۔
Read the full tafseer →اچھا وہ فائدہ اٹھالیں عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا کہ اس کفر کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ ۔
34۔ یہ روش وہ لوگ کیوں اختیار کرتے ہیں ؟ فرمایا اس لئے یہ روش اختیار کرتے ہیں تاکہ ہم یعنی اللہ تعالیٰ نے جو قوت عطا فرما کر ان پر انعام و احسان فرمایا ہے تاکہ اس کی ناقدری اور ناشکری کریں ، اچھا چند روز مزے اڑا لیں آخر کار اپنے کئے کا انجام جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا اس دنیوی زندگی میں جو ان کو ڈھیل دی گئی ہے اس کی مدت پوری ہونے کی دیر ہے کہ ان کو چھٹی کا دودھ یاد آجائے گا اور بلاشبہ وہ امن کا زمانہ افسوس کے ساتھ یاد کریں گے اگرچہ اس افسوس کا ان کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا (Among those who split up religion and became sects - 30:32) that is, these disbelievers are those who have created a difference between Natural Faith and the true religion, or they have alienated themselves from the Natural Faith, as a result of which they are divided into different sects. شِيَعًا :Shiya'an is the plural of شِیعۃ shi` ah. A group of people following a leader is called shi ah. The fact is that the Natural Faith was based on the Oneness of Allah, by following which the entire human kind should have been one solid unit and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
54 That is "What authority have they got to say that the calamities are not averted by God but by the so-called saint? Does common sense approve of it? Or, is there any Divine Book which says that AIlah has delegated His powers to such and such saints, and that they should now be invoked by the people to help them out of difficulties?"
Read the full tafseer →