Ar-Room 30:33

Ar-Room · from ayah 33

30:33

وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَ ۟ۙوَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوۡا رَبَّهُمۡ مُّنِيۡبِيۡنَ اِلَيۡهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمۡ مِّنۡهُ رَحۡمَةً اِذَا فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ بِرَبِّهِمۡ يُشۡرِكُوۡنَۙ

اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو ایک فرقہ اُن میں سے اپنے پروردگار سے شرک کرنے لگتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when adversity touches the people, they call upon their Lord, turning in repentance to Him. Then when He lets them taste mercy from Him, at once a party of them associate others with their Lord,

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 4 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:33

لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اُسے پکارتے ہیں، پھر جب وہ کچھ اپنی رحمت کا ذائقہ انہیں چکھا دیتا ہے تو یکایک ان میں سے کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو ایک فرقہ اُن میں سے اپنے پروردگار سے شرک کرنے لگتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

لوگوں کو جب کبھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اپنے رب کی طرف (پوری طرح) رجوع ہو کر دعائیں کرتے ہیں، پھر جب وه اپنی طرف سے رحمت کاذائقہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک جماعت اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو وہ اپنے پروردگار سے لو لگا کر اسی کو پکارتے ہیں، پھر جب وہ اپنی طرف سے انہیں کسی رحمت کا ذائقہ چکھا دیتا ہے تو ان میں سے کچھ لوگ یکایک اپنے پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی طرف رجوع لاتے ہوئے پھر جب وہ انہیں اپنے پاس سے رحمت کا مزہ دیتا ہے جبھی ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتے ہیں، پھر جب وہ ان کو اپنی جانب سے رحمت سے لطف اندوز فرماتا ہے تو پھر فوراً ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے وہ اپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتے ہیں، پھر جب وہ انھیں اپنی طرف سے کوئی رحمت چکھاتا ہے تو اچانک ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرکے اسے پکارتے ہیں پھر جب اللہ انھیں اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو اس وقت ان میں سے کچھ لوگ اپنے پروردگار سے شرک کرنے لگتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جب لوگوں کو کوئی تکلیف لاحق ہوتی ہے تو اپنے رب کو پکارتے ہیں اسی کی طرف متوجہ ہو کر۔ پھر جب اللہ ان کو اپنی رحمت سے شادکام کردیتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کے شریک ٹھہرانے لگتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو یہ اپنے رب ہی کو پکارتے (بلاتے) ہیں اسی کی طرف رجوع ہو کر پھر جب وہ ان کو چکھا دیتا ہے اپنی طرف سے کوئی رحمت (و عنایت) تو یکایک ان میں کا ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو اپنے پروردگار کو اسی کی طرف رجوع ہو کر پکارنے لگتے ہیں پھر جب (اللہ) انہیں اپنی طرف سے کچھ عنایت کا مزہ چکھا دیتا ہے تو پھر ان میں سے بعض لوگ اپنے پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب انسانوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ پکارتے ہیں اپنے رب کو اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے پھر جب وہ انہیں اپنی طرف سے رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تو جبھی ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتے ہیں) اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تو ایک فرقہ ان میں سے اپنے رب سے شرک کرنے لگتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(Such are human beings) that when any misfortune befalls them, they cry to their Lord, penitently turning to Him. But no sooner that He lets them have a taste of His Mercy than some of them begin associating others with their Lord in His Divinity

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When the people are visited by some affliction, they invoke their Lord with exclusive concentration on Him. Then once He gives them a taste of His mercy, a group of them starts at once ascribing partners to their Lord,

— Muhammad Taqi Usmani

When the people are visited by some affliction, they invoke their Lord with exclusive concentration on Him. Then once He gives them a taste of His mercy, a group of them starts at once ascribing partners to their Lord,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when harm touches men, they cry sincerely only to their Lord, turning to Him in repentance; but when He gives them a taste of His mercy, behold, a party of them associates partners in worship with their Lord.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when harm toucheth men they cry unto their Lord, turning to Him in repentance; then, when they have tasted of His mercy, behold! some of them attribute partners to their Lord

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when adversity touches the people, they call upon their Lord, turning in repentance to Him. Then when He lets them taste mercy from Him, at once a party of them associate others with their Lord,

— Saheeh International

When people face hardship, they begin praying to their Lord and turn in repentance to Him. When they receive mercy from Him, a group of them begin to consider things equal to God,

— Muhammad Sarwar

And when harm afflicts men, they call upon their Lord, turning to Him, then when He makes them taste of mercy from Him, lo! some of them begin to associate (others) with their Lord,

— Muhammad Habib Shakir

And when hurt toucheth mankind they cry unto their Lord, turning penitently unto Him; then when He causeth them to taste of His mercy, lo! a part of them with their Lord associate others.

— Abdul Majid Daryabadi

When trouble touches men, they cry to their Lord, turning back to Him in repentance: but when He gives them a taste of Mercy as from Himself, behold, some of them pay part-worship to other god's besides their Lord,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 30:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 33–37

انسان کی مختلف حالتیں اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہے ہے کہ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کیساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ لیکفروا میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لئے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلوگے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کو توال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائیے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 33–34

سورة الروم 52 یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ ان کے دل کی گہرائیوں میں توحید کی شہادت موجود ہے، امیدوں کے سہاروں جب بھی ٹوٹنے لگتے ہیں، ان کا دل خود ہی اندر سے پکارنے لگتا ہے کہ اصل فرمانروائی کائنات کے مالک ہی کی ہے اور اسی کی مدد ان کی بگڑی بنا سکتی ہے۔ سورة الروم 53 یعنی پھر دوسرے معبودوں کی نذریں اور نیازیں چڑھنی شروع ہوجاتی ہیں اور کہا جانے لگتا ہے کہ یہ مصیبت فلاں حضڑت کے طفیل اور فلاں آستانے کے صدقے میں ٹلی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–37

مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا، یعنی یہ مشرکین وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین فطرت اور دین حق میں تفریق پیدا کردی، یا یہ کہ دین فطرت سے مفارق اور الگ ہوگئے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مختلف پارٹیوں میں بٹ گئے۔ شیعاً شیعہ کی جمع ہے، ایسی جماعت جو کسی مقتداء کی پیرو ہو، اس کو شیعہ کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دین فطرت تو توحید تھا جس کا اثر یہ ہونا چاہئے تھا کہ سب انسان اس کو اختیار کر کے ایک ہی قوم ایک ہی جماعت بنتے مگر انہوں نے اس توحید کو چھوڑا اور مختلف لوگوں کے خیالات کے تابع ہوگئی اور انسانی خیالات اور رایوں میں اختلاف ایک طبعی امر ہے، اس لئے ہر ایک نے اپنا اپنا ایک مذہب بنا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 33–34

واذا من الناس ضردعوا ربھم منیبین الیہ ثم اذا اذاقھم منہ رحمتہ اذا فریق منھم بربھم یشرکون۔ لیکفروا بما اتینھم فتمتوا ھوت تعلمون (33۔ 34) یہ مشرکین کو براہ راست دھمکی ہے کہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب کسی گرداب میں پھنستے ہیں تب تو نہایت نیاز مندی سے اور تذلل کے ساتھ خدا کو پکارتے ہیں لیکن جب خدا انکو اپنی رحمت سے نواز دیتا ہے تو پھر یہ خدا کو بھول کر اپنے انہی معبودوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں جن کی انہوں نے شریک بنا رکھا ہے۔ یہ مضمون پیچھے مختلف اسلوبوں سے گزر چکا ہے اور آگے سورة لقمان کی آیت 32 میں ایک نئے اسلوب سے آئے گا۔ ’ لیکفروا بما اتینھم فتمتعوا فسوف تعلمون۔ ‘ یہ مضون بعینہ عنکبوت کی آیت 66…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 32–33

32-1یعنی اصل دین کو چھوڑ کر یا اس میں من مانی تبدیلیاں کرکے الگ الگ فرقوں میں بٹ گئے، جیسے کوئی یہودی، کوئی نصرانی، کوئی مجوسی وغیرہ ہوگیا۔ 32-2یعنی ہر فرقہ اور گروہ سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دوسرے باطل پر، اور جو سہارے انہوں نے تلاش کر رکھے ہیں جن کو وہ دلائل سے تعبیر کرتے ہیں، ان پر خوش اور مطمئن ہیں، بدقسمتی سے ملت اسلامیہ کا بھی یہی حال ہوا کہ وہ بھی مختلف فرقوں میں بٹ گئی اور ان کا بھی ہر فرقہ اسی زعم باطل میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے، حالانکہ حق پر صرف ایک ہی گروہ ہے جس کی پہچان نبی ﷺ نے بتلا دی ہے کہ میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر چلنے والا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–36

15: انسان جب پہلے پہل دنیا میں آیا تو اس نے فطری صلاحیت سے کام لے کر دین حق کو اختیار کیا، لیکن پھر لوگوں نے الگ الگ طریقے اختیار کرکے اپنے آپ کو مختلف مذاہب میں بانٹ لیا، اسی کو دین کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور فرقوں میں بٹ جانے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 33–37

درس نمبر 184 نظر میں اس سورة کا یہ سفر اور یہ باب اس کے حقیقی موضوع پر ہے۔ یعنی اس کائنات کے واقعات و حادثات اور انسانی زندگی کی اقدار و حادثات کے اندر گہرا ربط ہے۔ اس کائنات کے نوامیس قدرت ، اس زندگی کے قوانین اور اس دین کے قوانین شریعت باہم موافق ، ہم آہنگ ، مربوط اور بلا تضاد ہیں۔ اس سبق میں بتا یا جاتا ہے کہ انسانی خواہشات تو بدلتی رہتی ہیں لیکن سنت الٰہیہ کے اندر کوئی تغیر نہیں ہوتا۔ دین قیم کے اصولوں کے مقابلے میں شرکیہ عقائد پائے چوبیں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر اس سبق میں انسانی نفس کی کیفیات کی مختلف حالات میں تصویر کشی کی گئی ہے۔ حالت امن میں نفس انسانی کی حالت کیا ہوتی اور حالت خطرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 33–34

1 یعنی جیسے بھلے کام ہر انسان کی فطرت پہچانتی ہے۔ اللہ کی طرف رجوع ہونا بھی ہر ایک کی فطرت جانتی ہے۔ چناچہ خوف اور سختی کے وقت اس کا اظہار ہوجاتا ہے۔ بڑے سے بڑا سرکش مصیبت میں گھر کر خدائے واحد کو پکارنے لگتا ہے۔ اس وقت جھوٹے سہارے سب ذہن سے نکل جاتے ہیں۔ وہ ہی سچا مالک یاد رہ جاتا ہے جس کی طرف فطرت انسانی راہنمائی کرتی تھی۔ مگر افسوس کہ انسان اس حالت پر دیر تک قائم نہیں رہتا۔ جہاں خدا کی مہربانی سے مصیبت دور ہوئی، پھر اس کو چھوڑ کر جھوٹے دیوتاؤں کے بھجن گانے لگا۔ گویا اس کے پاس سب کچھ ان ہی کا دیا ہوا ہے ! خدا نے کچھ نہیں دیا ! (العیاذ باللہ) اچھا چند روز مزے اڑالے، آگے چل کر معلوم ہوجائے گا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 33–34

آیت 34 لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰتَیْنٰہُمْ ط ” یعنی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں اور صلاحیتوں کو اللہ کی نافرمانی میں استعمال کر کے عملی طور پر اس کی ناشکری کا ثبوت دیں۔ فَتَمَتَّعُوْاوقفۃ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ” یہ وہی انداز ہے جو سورة التّکاثُر میں آیا ہے : کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ثُمَّ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ کہ تمہاری یہ زندگی چند روزہ ہے ‘ اس محدود مہلت میں تم اپنی من مانیوں کے مزے اڑالو۔ بالآخر تم نے ہمارے پاس ہی آنا ہے اور وہ وقت دور بھی نہیں۔ چناچہ بہت جلد اصل حقائق تم پر منکشف ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

37 جب انسان کو موت سامنے کھڑی نظر آتی ہے یا کوئی اور سخت مشکل پیش آتی ہے تو اس وقت وہ صرف اکیلے اللہ کو پکارتا ہے بلکہ بعض دفعہ وہ بلا ادارہ اور بےاختیار اللہ کو پکارنے لگتا ہے۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ توحید کی پکار انسان کا فطری داعیہ ہے۔ اور اس کے دل کی گہرائیوں میں توحید کی شہادت موجود ہے۔ 38 یعنی جب خوشحالی کے دن آتے ہیں تو اللہ کو تو بھول جاتا ہے۔ اور دوسرے معبودوں یا پیروں، فقیروں کی نذریں نیازیں چڑھنا شروع ہوجاتی ہیں۔ کہ فلاں مصیبت ہم سے فلاں حضرت یا فلاں آستانے کے طفیل دور ہوئی تھی۔ یا یہ معرکہ یہ خوشحالی ہمیں فلاں حضرت کی نظر کرم کی وجہ سے ملی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 33–34

41۔ یعنی حقیقت عنقریب ہی تم پر منکشف ہو کر رہے گی۔ (آیت) ” واذا “۔ الخ۔ لیکفروا “۔ الخ۔ بیان ان دونوں آیتوں میں عام فطرت بشری کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” واذا مس الناس “۔ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ انسان کہ طبیعت مرکب ہے ہدایت وضلال سے۔ مصیبت کے وقت ظہور ہدایت کا ہوتا ہے۔ اور زوال مصیبت کے بعد ضلالت کا۔ (روح) (آیت) ” لیکفروا “۔ ل عاقبۃ کا ہے۔ یعنی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کفر کرنے لگتے ہیں۔ واللام للعاقبۃ (بیضاوی) ل۔ تہدید کے مفہوم میں بھی سمجھا گیا ہے۔ قیل للامر بمعنی التھدید (بیضاوی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 28–40

آیت نمبر 28 تا 40 ترجمہ : اے مشرکو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے خود تمہاری ہی مثال بیان فرمائی اور وہ یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے تم کو اموال وغیرہ دے رکھے ہیں کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے تمہارا کوئی شریک ہے ؟ کہ تم اور وہ اس میں برابر درجہ کے ہو اور تم ان سے ایسا اندیشہ رکھتے ہو جیسا کہ خود آپس کا یعنی اپنے آزاد لوگوں کا، اور استفہام نفی کے معنی میں ہے، مطلب یہ کہ تمہارے نزدیک بھی تمہارے غلام تمہارے شریک نہیں ہیں، (الیٰ آخرہ) یعنی ان اموال میں جو ہم نے تم کو دے رکھے ہیں تمہارے غلام تمہارے جیسے آزادوں کے مانند شریک نہیں ہیں کہ برابر کا درجہ رکھتے ہوں، تو پھر تم اللہ کے بعض غلاموں کو اس کو شریک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا مس الناس ضر دعوا ربھم منیبین الیہ . اور جب لوگوں کو (یعنی کفار مکہ کو) کوئی دکھ (یعنی قحط اور تنگ حالی) چھو جاتی ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع ہو کر اس کو پکارتے ہیں۔ یعنی دوسرے معبودوں سے خدا کی طرف لوٹ آتے ہیں اور اپنے کسی معبود کو سوائے خدا کے نہیں پکارتے۔ ثم اذاقھم منہ رحمۃ اذا فریق منھم بربھم یشرکون . پھر جب وہ اپنی طرف سے ان کو کسی قدر رحمت کا مزہ چکھا دیتا ہے تو ان میں سے ایک گرہ اپنے رب کے ساتھ (دوسروں کو عبادت میں) شریک قرار دینے لگتا ہے۔ رحمت سے مراد شدت و تنگ حالی سے خلاصی یا سرسبزی۔ یُشرِکُوْنَ یعنی رحمت تو کرتا ہے رب اور خلاصی مل جاتی ہے تو خلاصی دینے میں ساجھی قرار دیتے ہیں وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جب ان کفار مکہ کو کوئی تکلیف و سختی پہنچتی ہے تو اپنے رب حقیقی کو اسی کی طرف متوجہ ہو کر پکارنے لگتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو اپنی طرف سے کچھ نعمت و عنایت کا مزہ چکھا دیتا ہے تو بس پھر ان کفار میں سے ایک جماعت اپنے پروردگار کے ساتھ بتوں کو شریک ٹھہرانے لگتی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ : اس آیت میں اس بات کی دلیل بیان فرمائی کہ انسان کی فطرت توحید ہے کہ جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ توحید کی شہادت ہر انسان کے دل کی گہرائیوں میں موجود ہے۔ وہ زبان سے اس کا اقرار نہ کرے مگر واقعات سے اس کی شہادت ملتی ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : ”جیسے بھلے برے کام ہر انسان کی جِبِلَّت پہچانتی ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونا بھی ہر انسان کی جِبِلَّت پہچانتی ہے، جو ڈر کے وقت کھل جاتی ہے (یعنی مصیبت پیش آنے پر ظاہر ہوجاتی ہے)۔“ ثُمَّ اِذَآ اَذَاقَهُمْ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 33–35

اس سے مراد قحط اور شدت ہے۔ وہ اپنے رب سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے یہ عذاب اٹھا لے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ اپنے دل سے اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں وہ شرک نہیں کرتے۔ اس کلام کا معنی تعجب ہے اللہ تعالیٰ کے بنی نے مشرکوں پر تعجب کیا اظہار کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں کرتے جبکہ ان پر پے در پے دلائل واقع ہوتے ہیں یعنی جب ان کفار کو مرض یا شدت میں سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو دعوت دیتے ہیں یعنی جو مصیبت ان پر نازل ہوتی ہے وہ اس کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد لیتے ہیں وہ صرف اسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کسی اور (بتوں) کی طرف متوجہ نہیں ہوتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–40

1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ منیبین الیہ سے مراد ہے توبہ کرنے والے اس کی طرف 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت من الذین فرقوا دینہم سے یہود و نصاری مراد ہیں آیت ام انزلنا علیہم سلطانا سے مراد ہے کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی کہ جو ان کو اس بات کا حکم دے رہی ہے۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ام انزلنا علیہم سلطنا فہو یتکلم بما کانو بہ یشرکون یعنی کیا ہم نے ان پر کوئی کتاب اتاری ہے جو ان کو شرک کرنے کا کہتی ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِذَا مَسَّ [اور جب چھوتا ہے ] النَّاسَ [لوگوں کو ] ضُرٌّ [کوئی نقصان ] دَعَوْا رَبَّهُمْ [تو وہ لوگ پکارتے ہیں رب کو ] مُّنِيْبِيْنَ [رخ کرنے والے ہوتے ہوئے ] اِلَيْهِ [اس کی طرف ] ثُمَّ اِذَآ [پھر جب ] اَذَاقَهُمْ [وہ چکھاتا ہے ان کو ] مِّنْهُ [اپنے (پاس) سے ] رَحْمَةً [کوئی رحمت ] اِذَا فَرِيْقٌ [جب ہی ایک فریق ] مِّنْهُمْ [ان میں سے ] بِرَبِّهِمْ [اپنے رب کا ] يُشْرِكُوْنَ [شریک بناتے ہیں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 33–35

رحمت اور زحمت کے بارے میں انسان کا ایک خاص مزاج ان آیات میں اول تو انسان کی ایک عادت کا تذکرہ فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ ان پر جب کوئی مصیبت آتی ہے اور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور پوری توجہ کے ساتھ اسے پکارتے ہیں کہ یہ مصیبت دور ہوجائے، یہ تو مصیبت کے وقت ان کا عمل ہوتا ہے، پھر جب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نوازتا ہے تو اچانک ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے، جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ان لوگوں سے خطاب فرمایا (فَتَمَتَّعُوْافَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ) (کہ تم مزے اڑا لو عنقریب کفر و شرک اور ناشکری کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–40

بیان مثال برائے اظہار جہالت اہل شرک وضلال قال اللہ تعالیٰ ضرب لکم مثلا من انفسکم۔۔۔ الی۔۔۔ سبحنہ و تعلی عما یشرکون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے وحدانیت کے دلائل ذکر کئے۔ اب مشرکین کی جہالت اور ضلالت ظاہر کرنے کے لئے خود انہی کے احوال میں سے ایک مثال بیان فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود تمہارے ہی احوال میں سے شرک کی برائی ظاہر کرنے کے لئے ایک مثال بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ کیا اے آزاد لوگو تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ جس چیز کے تمہارے ہاتھ مالک ہیں یعنی تمہارے لونڈی غلام جو تمہارے ہاتھ کا مال ہیں اور محض ظاہری اور مجازی طور پر تم ان کے مالک ہو اور یہ ملک مجازی بھی دائمی اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 32–33

26:۔ یہ مشرکین پر زجر ہے۔ اس سے پہلے مومنوں کو پند و نصیحت تھی اب یہاں سے مشرکین پر زجریں ہیں۔ مشرکین کا یہ حال ہے کہ جب ان پر کوئی مسیبت آجاتی ہے تو وہ معبودان باطلہ سے مایوس ہو کر اللہ کی طرف راغب ہوجاتے اور خالص اسی کو پکارنے لگتے ہیں کیونکہ وہحضور ﷺ سے سنتے تھے کہ اگر توحید کی مخالفت کرو گے تو اللہ کا عذاب آجائے گا۔ تو جب ان پر کوئی مصیبت آپڑتی تو سمجھتے شاید یہ اللہ کا عذاب ہے اس لیے اس وقت خالصۃً اللہ کو پکارنے لگتے۔ ثم اذا الخ لیکن اللہ تعالیٰ محض اپنی مہربانی اور رحمت سے انہیں اس مصیبت سے نجات وخلاصی دیدیتا ہے تو فورًا شرک کرنے لگتے ہیں اور اپنی نجات اور کامیابی کو غیر اللہ کی طرف…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 33–37

ربطہ آیات گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور قیامت کا ذکر فرمایا تھا نیز یہ کہ توحید ایک فطری چیز ہے۔ ہر موادد اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے یعنی اس میں توحید خداوندی کو تسلیم کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ اسی کی طرف رجوع کرو اور اسی سے ڈرو۔ نیز فرمایا کہ نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ بنو۔ شرک خلاف فطرت چیز ہے یہ عقل اور نقل دونوں کیخلاف ہے جب عقائد بگڑتے ہیں تو فرقے پیدا ہوتے ہیں اور ہر فرقہ اپنے اپنے عقیدہ پر خوش ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ صرف وہی راہ راست پر ہے۔ یہ سب گمراہی ہے ، توحید کو ماننا ہی فطری امر ہے۔ اس کی دلیل اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے واذا مس الناس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّہُمْ مُّنِيْبِيْنَ اِلَيْہِ ثُمَّ اِذَآ اَذَاقَہُمْ مِّنْہُ رَحْمَۃً اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْہُمْ بِرَبِّہِمْ يُشْرِكُوْنَ۝ 3 3ۙ مسس المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ، ( م س س ) المس کے معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔ اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا جاتا ہے جو انسان تو پہنچے ۔ جیسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 33–35

ترکیب : واذا مس الناس شرط دعوا جواب منیبین حال من الضمیر الفاعل فی دعوا اذا فریق اذا مکانیۃ للمفاجاۃ نائب عن الفاء فی جواب الشرط فتمتعوا فیہ التفات عن الغیبۃ سلطنا یذکر لانہ بمعنی الدلیل و یونث لانہ بمعنی الحجۃ۔ وقیل ھو جمع سلیط کر غیف درغفان۔ واسناد التکلم الیہ مجاز کما تقول نطقت الحال بکذا ای یتکلم تکلم دلالۃ بما کانوا ما مصدریۃ والضمیر فی بہ اللہ۔ اوموصولۃ والضمیر لھا ای بالامر الذی بسببہ یشرکون۔ تفسیر : واذا مس الناس ضر دعواربہم الخ یہاں سے انسانی جذبات میں فطرت الہیہ کا ثبوت کیا جاتا ہے کہ جب انسان پر کوئی سخت مصیبت آپڑتی ہے جو اس کے بیرونی آثار سے اس کو قدرے بیخبر کر ڈالتی ہے تو یہ پھر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 33–34

وَاَذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّدَعَوْا رَبَّھُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ ثُمَّ اِذَآ اَذَاقَھُمْ مِّنْہُ رَحْمَۃً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ بِرَبِّھِمْ یُشْرِکُوْنَ ۔ لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰ تَیْنٰـھُمْ ط فَتَمَتَّعُوْا وقفۃ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (الروم : 33، 34) (جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتے ہیں، اسی کی طرف رجوع کرکے، پھر جب وہ کچھ اپنی رحمت کا ذائقہ انھیں چکھا دیتا ہے تو یکایک ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔ تاکہ ناشکری کریں اس کی جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا ہے، اچھا مزے کرلو، عنقریب تم کو پتہ چل جائے گا۔ ) توحید کے اثبات اور شرک کا رد، انسانی رویے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 33–35

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ مفاد اور تعصبات کی خاطر دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے اور اس پر خوش ہوتے ہیں ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ انہیں معمولی تکلیف پہنچے تو وہ مخلص ہو کر اپنے رب کو پکارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بات ماننے کے دل میں وعدے بھی کرتے ہیں۔ ایک رب کو ماننا اور ہر حال میں اسی کو پکارنا ہی انسان کی فطرت ہے اور ہونی چاہیے۔ اکثر انسانوں کی فطرت ہے کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی تو اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں اور گڑگڑا کر دعائیں کرتے ہیں کہ الٰہی میری مشکل حل فرما اور مجھے اس تکلیف سے نجات دے دے۔ جب تکلیف رفع ہوجاتی ہے تو اپنے رب سے اس طرح لاتعلق ہوجاتے ہیں جیسے انہوں نے اپنے رب کو پکارا ہی نہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کیا شرک کی دلیل ہے : 33: وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ (اور جب لوگوں کو کوئی دکھ چھو لیتا ہے) ضُر سے جسمانی کمزوری نمبر 2۔ مرض نمبر 3۔ قحط نمبر 4۔ اسی طرح کی دیگر چیزیں مراد ہیں۔ دَعَوْارَ بَّھُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ ثُمَّ اِذَآ اَذَا قَھُمْ مِّنْہُ رَحْمَۃً (وہ پکارتے ہیں اپنے رب کو اس کی طرف رجوع کر کے پھر جب وہ اپنی طرف سے کسی قدر رحمت کا مزہ ان کو چکھاتا ہے) ۔ رحمتؔ سے یہاں مراد اس شدت و سختی سے چھٹکارا ہے۔ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ بِرَبِّھِمْ یُشْرِکُوْنَ (اسی وقت ہی ایک جماعت ان میں سے اپنے رب کا شریک بنانے لگ جاتی ہے) ۔ عبادت میں شریک ٹھہرانے لگتے ہیں۔ یعنی خلاصی دلانے میں دوسروں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

33۔” واذا مس الناس ضر “ تنگی اور قحط مراد ہے ۔ دعواربھم منیبینالیہ ان کی طرف سے ان کی دعاؤں کو قبول کردیا جائے گا۔ ثم اذا اذاقھم منہ رحمۃ رحمت سے مراد نعمت ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 33–38

33 تا 38۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فطرت اسلامی کا یہ ثبوت بیان فرمایا کہ مشرک فطرت کے تقاضے سے ناچار ہونے کے وقت اللہ وحدہ لاشریک لہ کو پکارتے ہیں اور جب اللہ چکھائے ان کو کچھ مہر اور ان پر نعمت کے دروازے کھول دے کہ وہ آسودہ ہوجاویں تو خدا تعالیٰ کے ساتھ شرک اور بتوں کی پوجا کرنے لگتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کے منکر ہوجاتے ہیں اور آسود گی کو بتوں کی مدد کا نتیجہ خیال کرتے ہیں پھر فرمایا کہ فائدہ اٹھائیں چند روز کام چلالیں اب آگے عنقریب یہ لوگ معلوم کرلیں گے کہ ان کے عملوں کی شامت سے ان کو کیا بات پیش آئی اب آگے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی بیوقوفی کا ذکر فرمایا کہ کیا ہم نے ان کے اوپر کوئی سند…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 33–35

آیت نمبر : 33-35 (واذا مس الناس ضر) ” اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔ “ یعنی مرض یا ہلاکت کا خوف وغیرہ (دعوا ربھم منیبین الیہ) ” تو اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہوئے اسے پکارتے ہیں۔ “ اور اس حال میں وہ اپنے اس شرک کو فراموش کردیتے ہیں جو وہ کیا کرتے تھے کیونکہ انہیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو ان کی تکلیف کو دور کرسکے۔ (ثم اذآ قھم منہ رحمۃ) ” پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے۔ “ یعنی ان کو ان کی بیماری سے شفایاب اور ہلاکت کے خوف سے نجات دیتا ہے (اذا فریق منھم) تو ان میں سے ایک فریق اس انابت کو ترک کرتے ہوئے جو اس سے صادر ہوئی تھی ‘ ایسی ہستیوں کو اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

42 مصیبت کے وقت مشرکین کا رجوع الی اللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو یہ اپنے رب ہی کو پکارتے ہیں "۔ اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ سو یہ اسی اصل اور فطرت کی پکار اور اس کا اظہار ہے جو اللہ پاک نے انسان کے اندر ودیعت فرما رکھی ہے کہ اس وقت مشرک لوگ اپنے تمام معبودان باطلہ کو بھول جاتے ہیں اور اللہ وحدہ لاشریک ہی کو پکارتے ہیں کہ ان کے تحت الشعور میں یہ حقیقت پیوست و جاگزین ہوتی ہے کہ حاجت روا و مشکل کشا اللہ ہی ہے۔ مشکلوں اور مصیبتوں کو ٹالنے والا وہی وحدہ لاشریک ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کے کلمہ گو مشرک کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ مشکل و مصیبت کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 28–37

شرک کی تردید کے لیے مثالیں اور فرقہ بندی کا ردّ تشریح : اللہ ایک ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ مسلمان کا یہ عقیدہ اس کا دل سے یقین زبان سے اقرار اور عمل بےحد ضروری ہے۔ جو لوگ ایمان لے آتے ہیں تو پھر ان کو پوری طرح اسلام میں داخل ہوجانا چاہیے اور پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کو ایمان سے ہٹا نہ سکے۔ ظاہر ہے شیطان بھی انہی لوگوں کی تاک میں رہتا ہے جو اللہ کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کو دین سے ہٹانے اور منتشر کرنے کے لیے شیطان کے دو حربے بڑے زبردست ہـیں ایک یہ کہ ان میں فرقہ بندی پیدا کردیتا ہے۔ اور دوسرے ان کی توجہ اصل اصول دین سے ہٹا کر دوسرے غیر ضروری مسائل میں الجھا دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 28–40

آیات 28 تا 40 اسرارو معارف اللہ کریم تمہارے لیے ایک مثال ارشاد فرماتا ہے کہ تم خود اپنی ذات پر غور کرو تمہارے جیسے انسان جو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں اور تمام انسانی اوصاف میں تمہارے ساتھ ہیں مگر تمہارے غلام اور خادم ہیں صرف اس ایک وجہ سے وہ تمہارے مال میں تمہاری مرضی کے بغیر داخلت نہیں کرسکتے اور اگر کوئی تمہارا معمولی سا حصہ دار اور شریک ہو تو پھر تم اس کی ناراضگی سے کس قدر ڈرتے ہو اور اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرتے تو جنہیں تم نے اللہ کا شریک ٹھرایا ہے وہ تو اس کی مخلوق ہیں کسی بھی وصف میں اس کے شریک نہیں اور اللہ کا اگر کوئی شریک ہوتا تو اللہ کی مرضی سے نظام نہ چلتا اور یوں تباہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 معلوم ہوا کہ توحید کی شہادت ہر انسان کے دل کی گہرائیوں میں موجود ہے، چاہے وہ زبان سے اس کا اقرار نہ کرے مگر واقعات سے اس کی شہادت ملتی ہے شاہ صاحب فرماتے ہیں ” جیسے بھلے برے کام ہر انسان کی جبلت پہنچاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونا بھی ہر ایک کی جبلت جانتی ہے ڈر کے وقت کھل جاتی ہے۔ “3 چناچہ وہ دوسروں معبودوں کی نذریں ماننے اور چڑھاوے چڑھانے لگتا ہے اور کہنا شروع کردیتا ہے کہ ہم سے یہ مصیبت فلاں بزرگ یا فلاں آستانہ کے صدقے میں ٹلی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(30:33) مسن۔ ماضی واحد مذکر غائب اس نے چھوا ۔ وہ لگ گیا۔ دعوا ماضی جمع مذکر غائب۔ الناس کی رعایت سے جمع کا صیغہ آیا ہے۔ اصل میں دعو وا تھا۔ واؤ متحرک اس کا ما قبل مفتوح اس کو الف سے بدلا۔ اب الف اور واؤ دو ساکن جمع ہوئے اس لئے الف کو حذف کرلیا گیا۔ دعوا رہ گیا۔ انہوں نے پکارا۔ یہاں مس اور دعوا ماضی کے صیغے حال کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں ۔ جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو اسی کی طرف رجوع ہوکر پکارنے لگتے ہیں۔ دعاء مصدر ہے د ع و مادہ۔ اذانھم : اذاق ماضی واحد مذکر غائب۔ اذاقۃ (افعال) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (جب) اس نے ان کو چکھایا۔ یا (جب) وہ ان کو چکھاتا ہے ۔ منہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–37

لغات القرآن آیت نمبر (33 تا 37 ) ۔ مس (اس نے چھوا ۔ ہاتھ لگایا) ۔ ضر (تکلیف۔ مصیبت ) ۔ اذاق (اس نے چکھایا ) ۔ تمتعوا (تم فائدہ حاصل کرلو۔ مزے اڑالو ) ۔ سلطان (قوت۔ سند۔ حجت ) ۔ یتکلم (بات کرتا ہے۔ بتاتا ہے) ۔ یقنطون (وہ مایوس ہوتے ہیں) ۔ یبسط (وہ کھولتا ہے۔ کشادہ کرتا ہے) ۔ یقدر (اندازہ کرتا ہے۔ کم دیتا ہے ) ۔ تشریح : آیت نمبر (33 تا 37 ) ۔ ” مومن دل کی گہرائیوں سے اس بات پر یقین کامل رکھتا ہے کہ اس کائنات کا خالق، مالک اور رازق صرف ایک اللہ ہے۔ جو کچھ ہوتا ہے اسی کے حکم سے ہوتا ہے، راحت و آرام، تکلیف یا مصیبت، رزق میں اضافہ یا کمی سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ مومن کو راحت و آرام ملتا ہے تو وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 33–39

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ تم جو چیز ہدیہ یاتحفہ دوست احباب یا آشناؤں کو یا اور کسی شخص کو اس نیت سے دو کہ وہ پلٹ کر اس سے زیادہ دے گا تو اس کا ثواب اللہ کے ہاں نہ ملے گا، کیونکہ یہ عمل خالصتا اللہ نہیں ہوا، آگے فرمایا کہ صدقہ دینے سے ظاہر میں اگرچہ مال گھٹتا ہوا معلوم ہوتا ہے لیکن اللہ کے نزدیک وہ بڑھتا ہے کیونکہ دنیا میں اللہ تعالیٰ ایسے مال میں برکت دیتا ہے اور عقبی میں ایک روپیہ خرچ کرنے کا اجر دس سے لے کر سات سو تک ہے اب آگے مشرکوں کو یہ تنبیہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کو اور ان کی ضرورت کی سب چیزوں کو پیدا کیا اور وہی مقررہ کے آنے پر ان کو دنیا سے اٹھائے گا اور پھر سزا وجزا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 31–33

[17] یعنی جب اللہ کی مہربانی سے مصیبت دور ہوئی تو بجائے اس کا شکر ادا کرنے کے کوئی جھوٹے دیوی دیوتاؤں کے بھجن گانے لگتا ہے اور کوئی کسی گزرے ہوئے پیر یا ولی کی نذر و نیاز چڑھاتا ہے۔ گویا مصیبت دور کرنے والے یہی ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–36

ف 1: ان آیات میں انسانی نفسیات بیان فرمائی ہیں ۔ کہ کیونکر وہ حالات کے عدم توازن سے اپنے دماغی توازن کو کھوبیٹھتا ہے اور یہ نہیں سمجھتا کہ یہ سب انقلابات اللہ کی طرف سے ہیں ۔ اور ناگریز ہیں جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو پھر خلوص قلب کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکتا ہے ! اور رو رو کر دعائیں مانگتا ہے اور اللہ کی رحمت و شفقت سے دوچار ہوتا ہے ۔ تو پھر اللہ کے ساتھ اپنی کوششوں اور نتائج کو شریک وسہیم ٹھہرا لیتا ہے ۔ حالانکہ یہ کفر ہے ۔ اور اس کے لئے کوئی دلیل نہیں ۔ پھر زندگی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مسرت میں یہ انسان بہت خوش ہوتا ہے ۔ اور تکلیف میں جو سراسر ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ مایوس ہوجاتا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

33۔ آگے اسی صحیح فطرت کا اثر بتاتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے اور جب لوگوں کو کوئی سختی اور تکلف پہنچتی ہے تو اپنے حقیقی رب اور پروردگار کی طرف رجوع ہوکر اس کو پکارنے لگتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو اپنی طرف سے کچھ رحمت اور مہربانی کا مزہ چکھا دیتا ہے تب ہی ان لوگوں میں سے ایک فریق اپنے پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔ یعنی جب کبھی لوگوں پر کوئی مصیبت آتی ہے خواہ وہ قحط ہو یا مرض ہو یا کوئی بلا اور وبا ہو۔ یا سیلاب اور طوفان ہو تو معبود حقیقی کی طرف رجوع ہو کر اور متوجہ ہوکر اسی کو پکارتے ہیں اور یہی وہ فطرت الٰہی ہے جس پر ہر انسان پیدا ہوا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی مہر کا مزہ چکھا دیتا ہے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 6۔ یعنی جس توحید کی طرف ہم بلاتے ہیں اضطرار کے وقت عام طور پر حال و قال سے باوجود اس خلاف و انکار کے اس کا اظہار و اقرار بھی ہونے لگتا ہے جس سے اس کے فطری ہونے کی بھی تائید ہونی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اپنی تکلیف کے وقت رجوع الی اللہ اور رحمت الہی کے وقت شرک باللہ : 33۔ آج کی بات نہیں بلکہ گزشتہ ساری قوموں میں یہ بات مشترک چلی آرہی ہے کہ جب کوئی انسان ‘ گروہ ‘ جماعت یا پارٹی تکلیف میں مبتلا ہوتی ہے تو جس قدر اس کو زیادہ سے زیادہ تکلیف پہنچتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتی ہے پھر جب اللہ تعالیٰ اپنا فضل کردیتا ہے اور اس انسان ‘ گروہ ‘ جماعت یا پارٹی کا دکھ دور کردیتا ہے اور اپنی رحمت کے سایہ میں اس کو لے لیتا ہے تو اچانک پتہ اس وقت چلتا ہے کہ وہی انسان گروہ ‘ جماعت یا پارٹی اپنے پروردگار کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگتی ہے ۔ اس کی صورت پہلے بھی یہی رہی اور آج بھی یہی ہے کہ وہ اللہ رب ذوالجلال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–37

مِنَ الَّذِينَ فَرَّ‌قُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا (Among those who split up religion and became sects - 30:32) that is, these disbelievers are those who have created a difference between Natural Faith and the true religion, or they have alienated themselves from the Natural Faith, as a result of which they are divided into different sects. شِيَعًا :Shiya'an is the plural of شِیعۃ shi` ah. A group of people following a leader is called shi ah. The fact is that the Natural Faith was based on the Oneness of Allah, by following which the entire human kind should have been one solid unit and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

52 This is a clear proof of the fact that in the depths of their heart there still exists an evidence of Tauhid. Whenever the hopes start crumbling, their hearts cry out from within that the real Ruler of the universe is its Master and His help alone can improve their lot. 53 That is, "They again start presenting offerings before other deities, and claiming that their misfortune has been removed through the help and grace of such and such a saint and shrine."

Read the full tafseer →