Explained with ayahs 30–32
بچہ اور ماں باپ
ملت ابراہیم حنیف پر جم جاؤ جس دین کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مقرر کردیا ہے اور جسے اے نبی آپ کے ہاتھ پر اللہ نے کمال کو پہنچایا ہے رب کی فطرت سلیمہ پر وہی قائم ہے جو اس دین اسلام کا پابند ہے۔ اسی پر یعنی توحید پر رب نے تمام انسانوں کو بنایا ہے۔ روز اول میں اسی کا سب سے اقرار کرالیا گیا تھا کہ کیا میں سب کا رب نہیں ہوں ؟ تو سب نے اقرار کیا کہ بیشک تو ہی ہمارا رب ہے۔ وہ حدیثیں عنقریب انشاء اللہ بیان ہونگی جن سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جملہ مخلوق کو اپنے سچے دین پر پیدا کیا ہے گو اس کے بعد لوگ یہودیت نصرانیت وغیرہ پر چلے گئے۔ لوگو اللہ کی اس فطرت کو نہ بدلو۔ لوگوں کو اس…
Read the full tafseer →سورة الروم 51
یہ اشارہ ہے اس چیز کی طرف کہ نوع انسانی کا اصل دین وہی دین فطرت ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ یہ دین مشرکانہ مذاہب سے بتدریج ارتقاء کرتا ہوا توحید تک نہیں پہنچا ہے، جیسا کہ قیاس و گمان سے ایک فلسفہ مذہب گھڑ لینے والے حضرات سمجھتے ہیں، بلکہ اس کے برعکس یہ جتنے مذاہب دنیا میں پائے جاتے ہیں یہ سب کے سب اس اصلی دین میں بگاڑ آنے سے رونما ہوئے ہیں، اور یہ بگاڑ اس لیے آیا ہے کہ مختلف لوگوں نے فطری حقائق پر اپنی اپنی نو ایجاد باتوں کا اضافہ کر کے اپنے الگ دین بنا ڈالے، اور ہر ایک اصل حقیقت کے بجائے اس اضافہ شدہ چیز کا گرویدہ ہوگیا جس کی بدولت وہ دوسروں سے جدا ہو کر ایک مستقل فرقہ بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا، یعنی یہ مشرکین وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین فطرت اور دین حق میں تفریق پیدا کردی، یا یہ کہ دین فطرت سے مفارق اور الگ ہوگئے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مختلف پارٹیوں میں بٹ گئے۔ شیعاً شیعہ کی جمع ہے، ایسی جماعت جو کسی مقتداء کی پیرو ہو، اس کو شیعہ کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دین فطرت تو توحید تھا جس کا اثر یہ ہونا چاہئے تھا کہ سب انسان اس کو اختیار کر کے ایک ہی قوم ایک ہی جماعت بنتے مگر انہوں نے اس توحید کو چھوڑا اور مختلف لوگوں کے خیالات کے تابع ہوگئی اور انسانی خیالات اور رایوں میں اختلاف ایک طبعی امر ہے، اس لئے ہر ایک نے اپنا اپنا ایک مذہب بنا…
Read the full tafseer →من الناس فرقوا دینھم وکانوا شیعا ط کل حزب بما لدیھم فرحون (32)
یہ انہی مشرکین کی تفصیل ہے جن کے طریقہ سے بچنے کی اوپر والی آیت میں ہدایت فرمائی گئی ہے۔ اس وضاحت سے کلام بالکل مطابق حال ہوگیا ہے۔ اس کے اول مصداق قریش ہیں جنہوں نے نے اس دین کو، جوان کو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کے ذریعے سے ملاء شرک میں مبتلا ہو کر، بالکل ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو ایک خدا کی تعلیم دی تھی لیکن انہوں نے سینکڑوں خدا بنا ڈالے اور ہر گروہ اپنے اپنے معبود پر اس طرح فدا تھا کہ اس کے خلاف کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں تھا۔ مسلمانوں کو یہ ہدایت اس لئے نہیں فرمائی گئی کہ ان میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
32-1یعنی اصل دین کو چھوڑ کر یا اس میں من مانی تبدیلیاں کرکے الگ الگ فرقوں میں بٹ گئے، جیسے کوئی یہودی، کوئی نصرانی، کوئی مجوسی وغیرہ ہوگیا۔
32-2یعنی ہر فرقہ اور گروہ سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دوسرے باطل پر، اور جو سہارے انہوں نے تلاش کر رکھے ہیں جن کو وہ دلائل سے تعبیر کرتے ہیں، ان پر خوش اور مطمئن ہیں، بدقسمتی سے ملت اسلامیہ کا بھی یہی حال ہوا کہ وہ بھی مختلف فرقوں میں بٹ گئی اور ان کا بھی ہر فرقہ اسی زعم باطل میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے، حالانکہ حق پر صرف ایک ہی گروہ ہے جس کی پہچان نبی ﷺ نے بتلا دی ہے کہ میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر چلنے والا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
15: انسان جب پہلے پہل دنیا میں آیا تو اس نے فطری صلاحیت سے کام لے کر دین حق کو اختیار کیا، لیکن پھر لوگوں نے الگ الگ طریقے اختیار کرکے اپنے آپ کو مختلف مذاہب میں بانٹ لیا، اسی کو دین کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور فرقوں میں بٹ جانے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
فاقم وجھک للدین ۔۔۔۔۔ کل حزب بما لدیھم فرحون (30 – 32)
” ۔ “۔ یہ ہدایت نہایت بروقت آتی ہے کہ اپنی توجہات اس دین کی طرف کر دو ۔ یہ ہدایت اس وقت آتی ہے جب قرآن نے انسانی فکر کو اس کائنات کی ماہیت ، اس کائنات کے مناظر ، نفس انسانی کی گہرائیوں اور اس کی فطرت کے نشیب و فراز میں خوب گھمایا اور دوڑایا۔ اس سیر اور مطالعہ کے بعد سلیم الفطرت ذہن تسلیم کرنے اور استقبال حق کے لیے تیار ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ ہدایت کہ تم لوگ اپنے چہرے کو دین ضعیف کی طرف پھیر دو ، بہت بروقت ہدایت ہے۔ اس کے مقابلے میں منحرفین اور مکذبین کی حالت یہ ہے کہ ان کے سامنے عقل و خرد اور دلیل وبرہان کے تمام ہتھیار کند ہوگئے اور انہوں نے…
Read the full tafseer →9 یعنی دین فطرت کے اصول سے علیحدہ ہو کر ان لوگوں نے اپنے مذہب میں پھوٹ ڈالی، بہت سے فرقے بن گئے۔ ہر ایک کا عقیدہ الگ مذہب و مشرب جدا، جس کسی نے غلط کار یا ہوا پرستی سے کوئی عقیدہ قائم کردیا یا کوئی طریقہ ایجاد کرلیا، ایک جماعت اسی کے پیچھے ہوگئی، تھوڑے دن بعد وہ ایک فرقہ بن گیا۔ پھر ہر فرقہ اپنے ٹھہرائے ہوئے اصول و عقائد پر خواہ وہ کتنے ہی مہمل کیوں نہ ہوں ایسا فریفتہ اور مفتون ہے کہ اپنی غلطی کا امکان بھی اس کے تصور میں نہیں آتا۔
Read the full tafseer →آیت 32 مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا ط ”
فَرَقَکے معنی جدا کرنا اور پھاڑ دینا کے ہیں ‘ جبکہ فَرَّقَ میں اس بنیادی معنی پر مستزاد کسی چیز کو کاٹ دینا ‘ توڑ دینا اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیناکا مفہوم بھی شامل ہوجاتا ہے۔ سورة البقرۃ میں ارشاد ہوا : وَاِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰکُمْ وَاَغْرَقْنَا اٰلَ فِرْعَوْنَ آیت 50 ”اور یاد کرو جب کہ ہم نے تمہاری خاطر سمندر کو پھاڑ دیا پھر تمہیں بچالیا اور فرعونیوں کو غرق کردیا“۔ اس طرح فرق یا فرقہ کے معنی کسی چیز کا کٹا ہوا حصہ یا ٹکڑا کے ہیں۔ جیسا کہ سورة الشعراء کی اس آیت میں ہے : فَانْفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ…
Read the full tafseer →35 یعنی فطری دین تو خالص توحید پر مبنی ہے۔ اب جو کوئی اس فطری دین میں کچھ بگاڑ پیدا کرے گا یا اس میں کچھ اضافے کرے گا پھر ان بگڑے ہوئے یا زائد عقائد پر لوگوں کی جتھہ بندی کرکے کوئی ایک فرقہ کھڑا کردے گا جس کا امتیاز وہی بگڑا ہوا یا زائد عقیدہ ہوسکتا ہے تو ایسے سب کام شرک میں داخل ہیں اس طرح اس فطری دین میں بگاڑ پیدا کرنے والے، ان میں اضافے کرنے والے اور ان کی اتباع کرنے والے سب کے سب مشرک ہوئے۔
اس آیت کی رو سے یہ معلوم ہوا کہ انسان ابتداًء توحید پرست تھا۔ توحید ہی اس کا فطری مذہب ہے۔ نیز ابو البشر حضرت آدم (علیہ السلام) خود نبی تھے اور نبی فطری دین یعنی توحید کا داعی ہوتا ہے لیکن جب موجودہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
39۔ یعنی حق تو بس ایک ہی ہے، جیسے دو نقطوں کے درمیان خط مستقیم، تو اگر یہ لوگ حق پر قائم رہتے، تو ایک ہی گروہ رہتے، البتہ باطل میں تعدد و کثرت ہے۔ جیسے دو نقطوں کے درمیان خطوط منحنی۔ سو اہل باطل نے بھی یہی کہا ہے کہ کسی نے کہیں سے ایک ٹکڑا حق کا لے لیا ہے، کسی نے کہیں سے دوسرا۔ من الذین فرقوا۔ من المشرکین “۔ سے بدل ہے۔ بدل من المشرکین باعادۃ الجار (مدارک۔ روح۔ بیضاوی) اے لاتکونوا من المشرکین الذین قد فرقوا دینھم (ابن کثیر) ان لوگوں سے مراد نصاری و یہود کا ہونا متعددتابعین سے منقول ہے۔ وقال الربیع بن انس الذین فرقوا دینھم اھل الکتب من الیھود والنصاری واقالہ قتادہ ومعمر (قرطبی) وھم الیھود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
آیت نمبر 28 تا 40
ترجمہ : اے مشرکو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے خود تمہاری ہی مثال بیان فرمائی اور وہ یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے تم کو اموال وغیرہ دے رکھے ہیں کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے تمہارا کوئی شریک ہے ؟ کہ تم اور وہ اس میں برابر درجہ کے ہو اور تم ان سے ایسا اندیشہ رکھتے ہو جیسا کہ خود آپس کا یعنی اپنے آزاد لوگوں کا، اور استفہام نفی کے معنی میں ہے، مطلب یہ کہ تمہارے نزدیک بھی تمہارے غلام تمہارے شریک نہیں ہیں، (الیٰ آخرہ) یعنی ان اموال میں جو ہم نے تم کو دے رکھے ہیں تمہارے غلام تمہارے جیسے آزادوں کے مانند شریک نہیں ہیں کہ برابر کا درجہ رکھتے ہوں، تو پھر تم اللہ کے بعض غلاموں کو اس کو شریک…
Read the full tafseer →من الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا کل حزب بما لدیہم
فرحون . جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے کرلیا اور بہت سے گروہ ہوگئے۔ ہر گروہ اپنے اس طریقے پر مگن ہے جو اس کے پاس ہے۔
اَلَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَھُمْ ۔ اَلْمُشْرِکِیْنَ سے بدل ہے (یعنی مشرکوں سے مراد ہیں دین کو پارہ پارہ کرنے والے) مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنی خواہشات کے زیر اثر اپنے اپنے معبود الگ الگ بنا لئے اور دین کے طریقہ کو بدل ڈالا تو ان مشرکوں میں سے نہ ہو۔ ان مشرکوں میں سے ہر گروہ مگن ہے اس طریقہ پر جس پر وہ قائم ہے۔ ہر گروہ کا امام جدا ہے جس نے ان کے لئے دین تراش لیا ہے اور پورا گروہ اس کے پیچھے چل رہا ہے۔
بعض لوگوں کا قول ہے کہ دین کو…
Read the full tafseer →جنہوں نے دین اسلام کو چھوڑ دیا اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے کوئی یہودی ہے تو کوئی نصرانی اور کوئی مجوسی اور ہر ایک گروہ اپنے اس طریقہ پر نازاں ہے جو اس کے پاس ہے اور اپنے خیال میں اسی کو حق سمجھ رہا ہے۔
Read the full tafseer →مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا : یعنی ان لوگوں سے نہ ہوجاؤ جنھوں نے اصل اور فطری دین (توحید) کو چھوڑ کر اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور کئی گروہ بن گئے۔ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کوئی کسی کی عبادت کرنے لگا اور کوئی کسی دوسرے کی۔ ان کا مختلف گروہوں میں بٹ جانا ہی ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ حق ایک ہے اور باطل گروہوں کا شمار نہیں۔ ”ۙمِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انعام (159) معلوم ہوا دنیا میں کفر و شرک کے جتنے دین پائے جاتے ہیں وہ سب اصل دین فطرت (توحید) میں بگاڑ سے پیدا ہوئے ہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ (213) اور سورة یونس (19)۔
كُلُّ حِزْبٍۢ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
اس کے معنی میں اختلاف کیا گیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے توبہ اور اخلاص کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرنے والے ہیں : یحییٰ بن سلام اور فراء نے کہا : وہ اس کی طرف متوجہ ہونے والے ہیں : عبدالرحمن بن زید نے کہا : اس کی اطاعت کرنے والے ہیں : ایک قول یہ کیا گیا ہے، گناہوں سے توبہ کر کے اس کی طرف لوٹنے والے ہیں، اسی معنی میں ابو قیس بن اسلت کا قول ہے۔
اگر انہوں نے توبہ کی تو بنی سلیم اور ان کی قوم ہوازن نے توبہ کی۔
معنی ایک ہی ہے کیونکہ ناب، تاب، ثاب اور آب سب کا معنی لوٹنا ہے۔ ماوردی نے کہا : انابۃ کی اصل میں دو قول ہیں : (1) اس کا معنی کاٹنا ہے اسی سے ناب کا اسم ہے کیونکہ وہ کاٹنے والا ہوتا ہے، گویا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ منیبین الیہ سے مراد ہے توبہ کرنے والے اس کی طرف
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت من الذین فرقوا دینہم سے یہود و نصاری مراد ہیں آیت ام انزلنا علیہم سلطانا سے مراد ہے کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی کہ جو ان کو اس بات کا حکم دے رہی ہے۔
3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ام انزلنا علیہم سلطنا فہو یتکلم بما کانو بہ یشرکون یعنی کیا ہم نے ان پر کوئی کتاب اتاری ہے جو ان کو شرک کرنے کا کہتی ہے۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت…
Read the full tafseer →مِنَ الَّذِيْنَ [ان لوگوں میں سے جنہوں نے ] فَرَّقُوْا [الگ الگ کیا ] دِيْنَهُمْ [اپنے دین (کی راہوں ) کو ] وَكَانُوْا [اور ہوگئے ] شِيَعًا ۭ [فرقے فرقے ] كُلُّ حِزْبٍۢ [ہر گروہ ] بِمَا [اس کے ساتھ ] لَدَيْهِمْ [ان کے پاس ہے ] فَرِحُوْنَ [خوش ہے ] ۔
نوٹ۔ 1: مشرکین مکہ اپنے بزرگوں کو شریک خدا جانتے تھے لیکن ساتھ ہی یہ بھی مانتے تھے کہ یہ سب خدا کے غلام ہیں۔ چناچہ وہ حج و عمرے کے موقع پر لبیک پکارتے ہوئے کہتے تھے لبیک لا شریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ وما ملک یعنی ہم تیرے دربار میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ کہ وہ خود اور جس چیز کا وہ مالک ہے سب تیری ملکیت میں ہے۔ پس یہاں انھیں ایک…
Read the full tafseer →(الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَھُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا) (جنہوں نے اپنے دین میں پھوٹ ڈالی اور جو دین اختیار کیا اسے ٹکڑے ٹکڑے کیا) دین حق تو ہمیشہ سے ایک ہی ہے اس کے ٹکڑے نہیں ہوسکتے، جو لوگ اسے چھوڑتے ہیں ان کے سامنے مختلف راہیں ہوتی ہیں، ان راہوں میں سے کسی راہ کو اختیار کرلیتے ہیں، اگر حق پر رہتے تو سب ایک راہ پر ہوتے۔ (کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ ) (ہر جماعت اس سے خوش ہے جو ان کے پاس ہے) حالانکہ ان باطل والوں میں سے کسی کی راہ بھی حق نہیں ہے، اور اگر اللہ کے بھیجے ہوئے دین پر ہوتے تو افتراق بھی نہ ہوتا اور اللہ کے دین پر ہی خوش اور نازاں ہوتے۔
شاید یہاں کوئی یہ سوال کرے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
بیان مثال برائے اظہار جہالت اہل شرک وضلال
قال اللہ تعالیٰ ضرب لکم مثلا من انفسکم۔۔۔ الی۔۔۔ سبحنہ و تعلی عما یشرکون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے وحدانیت کے دلائل ذکر کئے۔ اب مشرکین کی جہالت اور ضلالت ظاہر کرنے کے لئے خود انہی کے احوال میں سے ایک مثال بیان فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود تمہارے ہی احوال میں سے شرک کی برائی ظاہر کرنے کے لئے ایک مثال بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ کیا اے آزاد لوگو تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ جس چیز کے تمہارے ہاتھ مالک ہیں یعنی تمہارے لونڈی غلام جو تمہارے ہاتھ کا مال ہیں اور محض ظاہری اور مجازی طور پر تم ان کے مالک ہو اور یہ ملک مجازی بھی دائمی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
26:۔ یہ مشرکین پر زجر ہے۔ اس سے پہلے مومنوں کو پند و نصیحت تھی اب یہاں سے مشرکین پر زجریں ہیں۔ مشرکین کا یہ حال ہے کہ جب ان پر کوئی مسیبت آجاتی ہے تو وہ معبودان باطلہ سے مایوس ہو کر اللہ کی طرف راغب ہوجاتے اور خالص اسی کو پکارنے لگتے ہیں کیونکہ وہحضور ﷺ سے سنتے تھے کہ اگر توحید کی مخالفت کرو گے تو اللہ کا عذاب آجائے گا۔ تو جب ان پر کوئی مصیبت آپڑتی تو سمجھتے شاید یہ اللہ کا عذاب ہے اس لیے اس وقت خالصۃً اللہ کو پکارنے لگتے۔ ثم اذا الخ لیکن اللہ تعالیٰ محض اپنی مہربانی اور رحمت سے انہیں اس مصیبت سے نجات وخلاصی دیدیتا ہے تو فورًا شرک کرنے لگتے ہیں اور اپنی نجات اور کامیابی کو غیر اللہ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
شرک کی مثال
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا۔ جو اس کی وحدانیت اور وقوع قیامت کی دلیل بنتی ہیں ۔ پھر آخر میں فرمایا کہ اللہ کی صفت بلند ہے جس کے ساتھ کوئی چیز مماثلت نہیں رکھتی۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے شرک کی قباحت کو سمجھانے کے لیے ایک مثال بیان کی ہے ارشاد ہوتا ہے ضرب لکم مثلاً من انفسکم اللہ نے تمہارے لیے تمہارے نفسوں میں سے ہی ایک مثال بیان کی ہے۔ یعنی یہ مثال خود تمہارے افراد اور سوسائٹی میں پائی جاتی ہے ، اور وہ یہ ہے ھل لکم من ما ملکت ایمانکم من شرکاء فی مارزقنکم کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی ایسا ہے جو ہماری عطا کردہ روزی میں تمہارا شریک ہو فانتم فیہ…
Read the full tafseer →مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَہُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا 0 ۭ كُلُّ حِزْبٍؚبِمَا لَدَيْہِمْ فَرِحُوْنَ 32
تَّفْرِيقُ ( فرقان)
أصله للتّكثير، ويقال ذلک في تشتیت الشّمل والکلمة . نحو :
يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ [ البقرة/ 102] ، رَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرائِيلَ
[ طه/ 94] ، وقوله : لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ [ البقرة/ 285] ، وقوله : لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ البقرة/ 136] ، إنما جاز أن يجعل التّفریق منسوبا إلى (أحد) من حيث إنّ لفظ (أحد) يفيد في النّفي، وقال : إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ [ الأنعام/ 159] ، وقرئ :
فَارَقُوا «1» والفِراقُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
ترکیب : من انفسکم فمن للابتداء و فی قولہ من ما ملکت للتبعیض والثالثہ مزید لتاکید الاستفہام الجاری مجری النفی۔ و معنی من انفسکم انہ اخذ مثلاً و انتزعہ من اقرب شیء منکم وھی انفسکم فالمعنی ھل ترضون لانفسکم ان یکون لکم شرکاء من بعض عبید کم یشاء کو نکم فیما رزقکم فانتم ایہا السادات والعبید فی ذلک المرزوق سواء تخافون العبیدان یستعبدوا بالتصرف کخیفتکم انفسکم ای کما یخاف بعضکم بعضا من الاحرار فانتم فیہ سواء والجملۃ فی موضع نصب جواب الاستفہام ای ھل لکم۔ فطرۃ اللہ الزموھا اوعلیکم بھا منیبین الیہ راجعین الیہ من اناب اذا رجع مرۃ بعد اخریٰ وھو حال من الضمیر فی المناصب المقدر لفطرۃ اللہ اوفی اقم لان الایۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ وَاتَّقُوْہُ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَلاَ تَـکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَـھُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا ط کُلُّ حِزْبٍ م بِمَالَدَیْہِمْ فَرِحُوْنَ ۔ (الروم : 31، 32)
(اسی کی طرف متوجہ ہو کر اور اسی سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور نہ ہوجاؤ مشرکین میں سے۔ ان مشرکین میں سے جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور گروہوں میں بٹ گئے، ہر گروہ اسی پر مگن ہے جو اس کے پاس ہے۔ )
دینِ فطرت کے تقاضے
مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ … یہ فَاَقِمْ وَجْھَکَکی ضمیر خطاب سے حال پڑا ہوا ہے۔ فرّاء نے تقدیرِکلام یوں ذکر کی ہے فَاَقِمْ وَجْھَکَ وَمَنْ مَّعَکَ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ” اَلدِّیْنُ “ ایک تھا لیکن لوگوں نے ” اَلدِّیْنُ “ کو تقسیم کیا اور فرقہ واریّت میں مبتلا ہوگئے۔
عقیدہ توحید وحدت فکر دیتا ہے۔ اس کا مختصر مفہوم یہ ہے کہ جس طرح تمہارا الٰہ ایک ہے اسی طرح تمہیں بھی ایک ہونا چاہیے یہی پورے دین کی فکر ہے۔ لیکن جن لوگوں نے عقیدہ توحید میں ملاوٹ کی اور ” اَلدِّیْنُ “ کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور گروہ بندی کا شکار ہوگئے۔ توحید میں شرک کی آمیزش کرنے اور الدّین کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی وجہ سے لوگ توحید کی وحدت اور ” اَلدِّیْنُ “ سے دور ہوئے۔ انہیں اس پر افسوس کی بجائے اپنی گروہ بندی پر فخر ہے اور اسی کو اصل دین سمجھتے ہیں ہر کوئی اس پر شاداں اور…
Read the full tafseer →32: مِنَ الَّذِیْنَ (جنہوں نے)
نحو : یہ المشرکینؔ سے بدل ہے حرف جر کو دوبارہ لایا گیا ہے۔
فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ (اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ) ۔ اور اختلاف خواہشات کی وجہ سے اس کو کئی دین بنا ڈالا۔
قراءت : حمزہ و علی نے فارقواؔ پڑھا یہ علی مرتضی ؓ کی قراءت ہے اسی طرح معنی یہ ہے انہوں نے دین اسلام کو چھوڑدیا۔ وَکَانُوْا شِیَعًا (اور وہ بہت سے گروہ بن گے) شیعہ کا معنی گروہ ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک اپنے مقتداء کے پیچھے چل رہا ہے۔ جس نے اس کو گمراہ کیا۔ کُلُّ حِزْبٍ (ان میں سے ہر گروہ) ۔ بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ (جو اس کے پاس ہے اس پر مگن ہے) اپنے مذہب پر خوش و خرم ہے اس کے باطل کو حق جانتا…
Read the full tafseer →32۔” من الذین فرقوادینھم وکانو اشیعا “ وہ مختلف فرقوں میں تقسیم ہوگئے یعنی کوئی یہودی بن گئے اور کوئی نصرانی۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراداس امت کے بدعتی لوگ ہیں ۔ کل حزب بمالدیھم فرحون جو ان کے پاس موجود ہے وہ اس پر راضی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
30 تا 32۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور عبادت کا حکم پیغمبر ﷺ کو دیا کہ تم اپنا منہ سیدھا رکھو دین پر ایک طرف ہو کر شرک کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں یہ اللہ کی وحدانیت کی تاکید ہے اسی واسطے فرمایا لازم پکڑو اللہ کی فطرت کو جس پر اس نے پیدا کیا ہے اس سے مطلب توحید اور خدا کی معرفت ہے کہ اسی پر ساری خلقت پیدا کی گئی ہے جیسا کہ پہلی آیت الست بر بکم قالوا بلیٰ کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مخلوق کو اسلام پر پیدا کیا ہے بعد میں بعضے بعضے لوگ یہودی نصرانی وغیرہ ہوگئے خدا کی بنائی ہوئی فطرت کو بدلنا نہیں چاہئے فطرت کے معنے اسلام کے ہیں صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
آیت نمبر : 30-32
اللہ تبارک و تعالیٰ تمام احوال میں اخلاص اور اقامت دین کا حکم دیتا ہے ‘ لہٰذا فرمایا : (فاقم وجھک) اپنے آپ کو دین کی طرف متوجہ رکھیے اور اس سے مراد اسلام ‘ ایمان اور احسان ہے ‘ یعنی اپنے قلب و قصد اور بدن کے ساتھ ظاہری شرائع کو قائم کیجیے ‘ مثلاً نماز ‘ زکوٰۃ ‘ روزہ اور حج وغیرہ اور اس کے ساتھ ساتھ باطنی شرائع پر عمل کیجیے ‘ مثلاً : اللہ تعالیٰ سے محبت ‘ اس سے خوف ‘ اس پر امید اور اس کی طرف انابت وغیرہ۔ ظاہری اور باطنی شرائع میں احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرے کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے ‘ اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہوسکے تو اس طرح اس کی عبادت کرے کہ اللہ تجھے دیکھ…
Read the full tafseer →41 مشرکوں سے اجتناب و بیزاری کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم ان لوگوں میں سے نہیں ہوجانا جنہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اپنے دین کو اور وہ مختلف گروہ اور گروپ بن گئے۔ ہر فرقہ اور گروہ اپنے اسی طریقے پر نازاں اور مست و مگن ہے جو اس کے پاس ہے۔ " یعنی اصل دین تو دین توحید ہی تھا جو کہ ہمیشہ سے ایک ہی دین رہا ہے اور تمام انبیاء و رسل نے ہمیشہ اسی کی دعوت دی ہے۔ مگر لوگوں نے اس پر اپنی طرف سے طرح طرح کے اضافے کرکے اس کو کچھ کا کچھ بنادیا۔ طرح طرح کے طریقے اور دین گھڑ لئے اور وہ ان پر اس طرح جم گئے کہ اس کے خلاف حق بات سننے تک کو تیار نہیں ہوتے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس کا اولین اور واضح مصداق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
شرک کی تردید کے لیے مثالیں اور فرقہ بندی کا ردّ
تشریح : اللہ ایک ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ مسلمان کا یہ عقیدہ اس کا دل سے یقین زبان سے اقرار اور عمل بےحد ضروری ہے۔ جو لوگ ایمان لے آتے ہیں تو پھر ان کو پوری طرح اسلام میں داخل ہوجانا چاہیے اور پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کو ایمان سے ہٹا نہ سکے۔ ظاہر ہے شیطان بھی انہی لوگوں کی تاک میں رہتا ہے جو اللہ کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کو دین سے ہٹانے اور منتشر کرنے کے لیے شیطان کے دو حربے بڑے زبردست ہـیں ایک یہ کہ ان میں فرقہ بندی پیدا کردیتا ہے۔ اور دوسرے ان کی توجہ اصل اصول دین سے ہٹا کر دوسرے غیر ضروری مسائل میں الجھا دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
آیات 28 تا 40
اسرارو معارف
اللہ کریم تمہارے لیے ایک مثال ارشاد فرماتا ہے کہ تم خود اپنی ذات پر غور کرو تمہارے جیسے انسان جو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں اور تمام انسانی اوصاف میں تمہارے ساتھ ہیں مگر تمہارے غلام اور خادم ہیں صرف اس ایک وجہ سے وہ تمہارے مال میں تمہاری مرضی کے بغیر داخلت نہیں کرسکتے اور اگر کوئی تمہارا معمولی سا حصہ دار اور شریک ہو تو پھر تم اس کی ناراضگی سے کس قدر ڈرتے ہو اور اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرتے تو جنہیں تم نے اللہ کا شریک ٹھرایا ہے وہ تو اس کی مخلوق ہیں کسی بھی وصف میں اس کے شریک نہیں اور اللہ کا اگر کوئی شریک ہوتا تو اللہ کی مرضی سے نظام نہ چلتا اور یوں تباہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ف 1 یعنی توحید کے اصلی اور فطری دین میں باگڑ پیدا کر کے اپنے الگ الگ دین بنا لئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کفر و شرک کے جتنے دین پائے جاتے ہیں وہ سب اصل دین فطرۃ …توحید/ میں بگاڑ سے پیدا ہوئے ہیں (دیکھیے سورة یونس آی 19
Read the full tafseer →(30:32) من الذین فرقوا وینھم یہ جملہ من المشرکین سے بدل ہے من (حرف جار) عادۃ آیا ہے ای لاتکونوا من المشرکین الذین فرقوا دینھم یعنی ان مشرکین میں سے مت نبو جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور خود گروہ گروہ ہوگئے۔ اکثر مفسرین کے نزدیک ان لوگوں سے مراد یہود و نصاری ہیں کہ نہ صرف فروعات میں کئی فرقوں میں بٹ گئے ہیں بلکہ منہیات میں بھی مختلف گروہوں میں منقسم ہوگئے ہیں۔
فرقوا ماضی جمع مذکر غائب تفریق (تفعیل) مصدر ۔ انہوں نے ٹکڑے کر دئیے۔
وکانوا شیعا : شیعۃ کی جمع ہے ۔ بمعنی فرقے۔ گروہ۔ شیعا بوجہ کانوا کی خبر کے منصوب ہے ۔ اور وہ گروہ گروہ ہوگئے۔
حزب۔ گروہ ۔ جماعت۔ احزاب جمع ۔
لدیہم : لدی مضاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
لغات القرآن آیت نمبر ( 28 تا 32 ) ۔
ضرب (اس نے چلایا۔ بیان کیا) ۔ ایمان (داہنا (ہاتھ) ۔ سواء (برابر) ۔ اھوآئ (ھوائ) (خواہشیں۔ تمنائیں) ۔ اقم (قائم کر) ۔ وجھ (چہرہ) ۔ حنیف (اللہ ہی کا ہوجانا) ۔ فطرۃ اللہ (دین اسلام۔ اللہ کی فطرت) ۔ دین القیم (بہترین دین) ۔ منیبین (رجوع کرنے والے۔ پلٹنے والے ) ۔ فرقوا (وہ گروہ بن گئے۔ جداجدا ہوگئے) ۔ حزب (جماعت۔ گروہ) ۔ فرحون (خوش اور مگن رہنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر (28 تا 32) ۔ ” دین اسلام اور نبی کریم ﷺ کے ارشادات کی برکت سے آج دنیا سے لونڈی اور غلاموں کا رواج تو ختم ہوچکا ہے لیکن نزول قرآن کے وقت غلام اور لونڈیوں کا نہ صرف رواج تھا بلکہ انسانوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
خوشی میں خدا کا شکر ، اور تکلیف میں صبر کرنا مومن کی شان ہے۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فطرت اسلامی کا یہ ثبوت بیان فرمایا ہے کہ مشرک فطرت کے تقاضے سے ناچار ہونے کے وقت اللہ وحدہ لاشریک کو پکارتے ہیں پھر جب اللہ ان کو اپنی طرف سے کچھ رحمت کا مزہ چکھادیتا ہے اور ان کا مطلب پورا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے اور بتوں کی پوجا کرنے لگتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کے منکر ہوجاتے ہیں اور آسودگی کو بتوں کی مدد کا نتیجہ خیال کرتے ہیں پھر فرمایا کہ دنیا میں چند روزہ فائدہ اٹھالیں عنقریب یہ لوگ معلوم کرلیں گے کہ ان کے عملوں کی شامت سے ان کو کیا بات پیش آئی آگے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
[17] یعنی جب اللہ کی مہربانی سے مصیبت دور ہوئی تو بجائے اس کا شکر ادا کرنے کے کوئی جھوٹے دیوی دیوتاؤں کے بھجن گانے لگتا ہے اور کوئی کسی گزرے ہوئے پیر یا ولی کی نذر و نیاز چڑھاتا ہے۔ گویا مصیبت دور کرنے والے یہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
ف 1: ان آیات میں انسانی نفسیات بیان فرمائی ہیں ۔ کہ کیونکر وہ حالات کے عدم توازن سے اپنے دماغی توازن کو کھوبیٹھتا ہے اور یہ نہیں سمجھتا کہ یہ سب انقلابات اللہ کی طرف سے ہیں ۔ اور ناگریز ہیں جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو پھر خلوص قلب کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکتا ہے ! اور رو رو کر دعائیں مانگتا ہے اور اللہ کی رحمت و شفقت سے دوچار ہوتا ہے ۔ تو پھر اللہ کے ساتھ اپنی کوششوں اور نتائج کو شریک وسہیم ٹھہرا لیتا ہے ۔ حالانکہ یہ کفر ہے ۔ اور اس کے لئے کوئی دلیل نہیں ۔ پھر زندگی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مسرت میں یہ انسان بہت خوش ہوتا ہے ۔ اور تکلیف میں جو سراسر ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ مایوس ہوجاتا…
Read the full tafseer →32۔ یہ اہل شرک وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرلیا اور خود فرقہ فرقہ ہوگئے ہر فرقہ اس طریقہ پر ناراں ہے جس کا وہ پابند ہے اور جو اس کے پاس ہے اسی پر ریچھ رہا ہے۔ یعنی دین حق تو ایک ہی ہے اور باطل بہت ہی ہیں انہوں نے دین حق کو چھوڑ دیا اور باطل کی مختلف راہیں اختیار کرلیں ہر فرقہ کسی ایک باطل کو اختیار کر بیٹھا۔
اب لطف یہ ہے کہ جو باطل اس کے پاس ہے اور جس کا وہ پابند ہے اسی پر ریچھ رہا ہے اور نازاں ہے اب یہ مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اگر دین حق پر رہتے تو تم ایک ہی گروہ رہتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ف 5۔ یعنی حق تو ایک تھا اور باطل بہت ہیں، انہوں نے حق کو چھوڑ دیا، اور باطل کی مختلف راہیں اختیار کرلیں، یہ ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے کہ ایک نے ایک لے لیا، دوسرے نے دوسرا۔
Read the full tafseer →گروہ بندی میں تقسیم ہوجانا بھی شرک ہے اور ایسا شرک ہے جس کی اصلاح ممکن نہیں :
32۔ عام طور پر لوگ بتوں کی پرستش کو شرک سمجھتے ہیں اور علاوہ ازیں وہ کسی چیز کو شرک نہیں سمجھتے یہاں تک کہ غیر اللہ کو پکارتے ہیں ‘ ان کے نام کے وظیفے پڑھتے ہیں ‘ ان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں اور برملا کہتے ہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ سجدہ سلام مانتے اور کرتے ہیں ‘ غیر اللہ کی نذر ونیاز دیتے ہیں اور اس کو تبرک سمجھ کر سب میں تقسیم کرتے ہیں حالانکہ یہ سارے کام ہی کھلا شرک ہیں ‘ جن کے شرک ہونے میں کسی طرح کا کوئی شک وشبہ نہیں رہتا لیکن اس کی وضاحت یہاں درکار نہیں کیونکہ اس کی وضاحت بیسیوں مقامات پر پیچھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا (Among those who split up religion and became sects - 30:32) that is, these disbelievers are those who have created a difference between Natural Faith and the true religion, or they have alienated themselves from the Natural Faith, as a result of which they are divided into different sects. شِيَعًا :Shiya'an is the plural of شِیعۃ shi` ah. A group of people following a leader is called shi ah. The fact is that the Natural Faith was based on the Oneness of Allah, by following which the entire human kind should have been one solid unit and…
Read the full tafseer →51 This is an allusion to the fact that the real way of life for mankind is the same Way of Nature as elucidated above. This way of life has not evolved from a polytheistic crced to Tauhid as thought by those who invent a philosophy of religion on the basis of speculation. But, contrary to this, all the religions found in the world today have appeared because of the corruption of the original Way of life. This corruption occurred because different people added their different self-made creeds to the natural realities and created separate sects and every-one became a devotee of the additional…
Read the full tafseer →