Explained with ayahs 30–32
بچہ اور ماں باپ
ملت ابراہیم حنیف پر جم جاؤ جس دین کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مقرر کردیا ہے اور جسے اے نبی آپ کے ہاتھ پر اللہ نے کمال کو پہنچایا ہے رب کی فطرت سلیمہ پر وہی قائم ہے جو اس دین اسلام کا پابند ہے۔ اسی پر یعنی توحید پر رب نے تمام انسانوں کو بنایا ہے۔ روز اول میں اسی کا سب سے اقرار کرالیا گیا تھا کہ کیا میں سب کا رب نہیں ہوں ؟ تو سب نے اقرار کیا کہ بیشک تو ہی ہمارا رب ہے۔ وہ حدیثیں عنقریب انشاء اللہ بیان ہونگی جن سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جملہ مخلوق کو اپنے سچے دین پر پیدا کیا ہے گو اس کے بعد لوگ یہودیت نصرانیت وغیرہ پر چلے گئے۔ لوگو اللہ کی اس فطرت کو نہ بدلو۔ لوگوں کو اس…
Read the full tafseer →سورة الروم 48
اللہ کی طرف رجوع سے مراد یہ ہے کہ جس نے بھی آزادی و خود مختاری کا رویہ اختیار کرکے اپنے مالک حقیقی سے انحراف کیا ہو، یا جس نے بھی بندگی غیر کا طریقہ اختیار کر کے اپنے اصلی و حقیقی رب سے بےوفائی کی ہو، وہ اپنی اس روش سے باز آجائے اور اسی ایک خدا کی بندگی کی طرف پلٹ آئے جس کا بندہ حقیقت میں وہ پیدا ہوا ہے۔
سورة الروم 49
یعنی تمہارے دل میں اس بات کا خوف ہونا چاہیے کہ اگر اللہ کے پیدائشی بندے ہونے کے باوجود تم نے اس کے مقابلے میں خود مختاری کا رویہ اختیار کیا، یا اس کے بجائے کسی اور کی بندگی کی تو اس غداری و نمک حرامی کی سخت سزا تمہیں بھگتنی ہوگی، اس لیے تمہیں ایسی ہر روش سے بچنا…
Read the full tafseer →وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ، پچھلی آیت میں انسان کی فطرت کو قبول حق کے قابل اور مستعد بنانے کا ذکر تھا۔ اس آیت میں اول قبول حق کی صورت یہ بتلائی گئی کہ نماز قائم کریں کہ وہ عملی طور پر ایمان و اسلام اور اطاعت حق کا اظہار ہے اس کے بعد فرمایا وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ، یعنی شرک کرنے والوں میں شامل نہ ہوجاؤ جنہوں نے اپنی فطرت اور قبول حق کی استعداد سے کام لیا، آگے ان کی گمراہی کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →منیبین الیہ واتقوہ واقیموا الصلوۃ ولا تکونوا من المشرکین (31)
’ منیبین الیہ ‘ حال پڑا ہوا ہے ’ فانم وجھک ‘ کی ضمیر خطاب سے۔ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ لفظاً یہ خطاب اگرچہ واحد ہے، لیکن معناً یہ جمع کے حکم میں ہے۔ اس میں آنحضرت ﷺ سے جو خطاب ہے وہ امت کے وکیل کی حیثیت سے ہے۔ اس حال کے جمع لانے سے خطاب کی یہ نوعیت بالکل واضح ہوگئی۔ اوپر والی آیت میں حنیفیت کی تاکید فرمائی ہے، اس آیت میں ’ انابت ‘ اور تقوی کی تاکید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے لئے مجرد عقلی یکسوئی کافی نہی ہے بلکہ دل کی انابت و خشیت بھی مطلوب ہے، اور حدود الٰہی کی پور پوری پاسداری بھی۔
’ واقیمو الصلوۃ ‘۔ نماز اس دی قیم کے بنیادی احکام…
Read the full tafseer →31-1یعنی ایمان تقوٰی اور اقامت صلاۃ سے گریز کر کے، مشرکین میں سے نہ ہوجاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
13: اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں یہ صلاحیت رکھ دی ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کو پہچانے، اس کی توحید کا قائل ہو، اور اس کے پیغمبروں کے لائے ہوئے دین کی پیروی کرے، اسی کو آیت میں فطرت سے تعبیر کیا گیا ہے۔
14: یہ فطری صلاحیت جو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عطا فرمائی ہے، اس صلاحیت کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ماحول کے اثر سے انسان غلط راستے پر جاسکتا ہے، لیکن اس کی یہ صلاحیت ختم نہیں ہوسکتی، چنانچہ جب کبھی وہ ضد اور عناد کو چھوڑ کر حق پرستی کے جذبے سے غور کرے گا تو اس کی یہ صلاحیت کام دکھائے گی، اور حق تک پہنچ جائے گا، البتہ یہ اور بات ہے کہ کوئی شخص مسلسل ضد اور عناد کی روش اختیار کئے رکھے، اور حق بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
فاقم وجھک للدین ۔۔۔۔۔ کل حزب بما لدیھم فرحون (30 – 32)
” ۔ “۔ یہ ہدایت نہایت بروقت آتی ہے کہ اپنی توجہات اس دین کی طرف کر دو ۔ یہ ہدایت اس وقت آتی ہے جب قرآن نے انسانی فکر کو اس کائنات کی ماہیت ، اس کائنات کے مناظر ، نفس انسانی کی گہرائیوں اور اس کی فطرت کے نشیب و فراز میں خوب گھمایا اور دوڑایا۔ اس سیر اور مطالعہ کے بعد سلیم الفطرت ذہن تسلیم کرنے اور استقبال حق کے لیے تیار ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ ہدایت کہ تم لوگ اپنے چہرے کو دین ضعیف کی طرف پھیر دو ، بہت بروقت ہدایت ہے۔ اس کے مقابلے میں منحرفین اور مکذبین کی حالت یہ ہے کہ ان کے سامنے عقل و خرد اور دلیل وبرہان کے تمام ہتھیار کند ہوگئے اور انہوں نے…
Read the full tafseer →8 یعنی اصل دین پکڑے رہو، اس کی طرف رجوع ہو کر۔ اگر محض دنیاوی مصلحت کے واسطے یہ کام کئے تو دین درست نہ ہوگا۔ آگے دین فطرت کے چند اہم اصول کی طرف توجہ دلائی ہے۔ مثلاً اتقاء (خدا سے ڈرتے رہنا) نماز قائم رکھنا، شرک جلی و خفی سے بیزار اور مشرکین سے علیحدہ رہنا، اپنے دین میں پھوٹ نہ ڈالنا۔
Read the full tafseer →آیت 31 مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ وَاتَّقُوْہُ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ”
یہاں مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ کے الفاظ میں گویا پچھلی آیت کے مضمون فَاَقِمْ وَجْہَکَ للدِّیْنِ حَنِیْفًا ط کا ہی تسلسل ہے۔ پچھلی آیت میں صیغہ واحد میں حضور ﷺ سے خطاب تھا اور اب جمع کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے اس حکم میں امت کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ قرآن کے اس اسلوب کا قبل ازیں کئی بار ذکر ہوچکا ہے کہ مکی سورتوں میں اکثر مقامات پر حضور ﷺ سے صیغہ واحد کے پردے میں اصل خطاب امت سے ہی ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →34 لہذا جس کسی نے بھی اس فطری دین کے خلاف کوئی غلط طرز عمل اختیار کر رکھا ہے اسے چاہئے کہ وہ اسی فطری دین کی طرف لوٹ آئے۔ اور اللہ کی نافرمانی اور سرکشی سے ڈر جائے اور سب سے بڑی سرکشی اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پامال کرنا ہے۔ اور چونکہ اللہ سے ڈرنا ایک قلبی عمل ہے لہذا اس صفت کے اظہار کے لئے نماز کو ہمیشگی سے ادا کرتے رہو۔ اس سے تم میں مزید تقویٰ پیدا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
39۔ یعنی حق تو بس ایک ہی ہے، جیسے دو نقطوں کے درمیان خط مستقیم، تو اگر یہ لوگ حق پر قائم رہتے، تو ایک ہی گروہ رہتے، البتہ باطل میں تعدد و کثرت ہے۔ جیسے دو نقطوں کے درمیان خطوط منحنی۔ سو اہل باطل نے بھی یہی کہا ہے کہ کسی نے کہیں سے ایک ٹکڑا حق کا لے لیا ہے، کسی نے کہیں سے دوسرا۔ من الذین فرقوا۔ من المشرکین “۔ سے بدل ہے۔ بدل من المشرکین باعادۃ الجار (مدارک۔ روح۔ بیضاوی) اے لاتکونوا من المشرکین الذین قد فرقوا دینھم (ابن کثیر) ان لوگوں سے مراد نصاری و یہود کا ہونا متعددتابعین سے منقول ہے۔ وقال الربیع بن انس الذین فرقوا دینھم اھل الکتب من الیھود والنصاری واقالہ قتادہ ومعمر (قرطبی) وھم الیھود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
آیت نمبر 28 تا 40
ترجمہ : اے مشرکو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے خود تمہاری ہی مثال بیان فرمائی اور وہ یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے تم کو اموال وغیرہ دے رکھے ہیں کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے تمہارا کوئی شریک ہے ؟ کہ تم اور وہ اس میں برابر درجہ کے ہو اور تم ان سے ایسا اندیشہ رکھتے ہو جیسا کہ خود آپس کا یعنی اپنے آزاد لوگوں کا، اور استفہام نفی کے معنی میں ہے، مطلب یہ کہ تمہارے نزدیک بھی تمہارے غلام تمہارے شریک نہیں ہیں، (الیٰ آخرہ) یعنی ان اموال میں جو ہم نے تم کو دے رکھے ہیں تمہارے غلام تمہارے جیسے آزادوں کے مانند شریک نہیں ہیں کہ برابر کا درجہ رکھتے ہوں، تو پھر تم اللہ کے بعض غلاموں کو اس کو شریک…
Read the full tafseer →منیبین الیہ واتقوہ واقیموا الصلوۃ . تم خدا کی طرف رجوع ہو کر (فطرت کا اتباع کرو) اور اس سے ڈرو اور نماز کی پابندی کرو۔
مُنِیْبِیْنَ ۔ اَنَابَ سے ماخوذ ہے یعنی اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے ‘ یا سب کو چھوڑ کر اللہ ہی کی طرف کٹتے ہوئے۔
ولا تکونوا من المشرکین۔ اور ان شرک کرنے والوں میں سے مت ہوجاؤ
Read the full tafseer →تم ایمان والے ہوجاؤ یا یہ کہ اطاعت و فرمانبرداری کے ذریعہ اللہ کی طرف رجوع کرو اور جن چیزوں کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے ان کو اچھی طرح پورا کرو اور پانچوں نمازوں کی پابندی کرو اور مشرکین کے ساتھ ہو کر ان کے دین کو مت اپناؤ۔
Read the full tafseer →ڎمُنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ۔۔ : یعنی آپ اور آپ کی امت اپنا چہرہ اس دین کے لیے سیدھا رکھیں، اس طرح کہ تم میں سے جس جس نے بھی اپنے مالک حقیقی سے کسی طرح کا انحراف کیا ہو، پھر اسی کی طرف پلٹ آنے والا ہو۔ ”وَاتَّقُوْهُ“ اور دل میں اس سے ڈرتے رہو۔
وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ : اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور اس کا تقویٰ اور خوف دل کے اعمال ہیں۔ سب کے سامنے اس کے اظہار کے لیے لازم ہے کہ نماز قائم کرو، کیونکہ وہ دین کا عمود ہے اور اسلام کا ایسا شعار ہے جس سے کسی شخص کے مومن یا مشرک ہونے کا فیصلہ ہوتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (بَیْنَ الرَّجُلِ وَ بَیْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلَاۃِ) [ مسلم،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
اس کے معنی میں اختلاف کیا گیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے توبہ اور اخلاص کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرنے والے ہیں : یحییٰ بن سلام اور فراء نے کہا : وہ اس کی طرف متوجہ ہونے والے ہیں : عبدالرحمن بن زید نے کہا : اس کی اطاعت کرنے والے ہیں : ایک قول یہ کیا گیا ہے، گناہوں سے توبہ کر کے اس کی طرف لوٹنے والے ہیں، اسی معنی میں ابو قیس بن اسلت کا قول ہے۔
اگر انہوں نے توبہ کی تو بنی سلیم اور ان کی قوم ہوازن نے توبہ کی۔
معنی ایک ہی ہے کیونکہ ناب، تاب، ثاب اور آب سب کا معنی لوٹنا ہے۔ ماوردی نے کہا : انابۃ کی اصل میں دو قول ہیں : (1) اس کا معنی کاٹنا ہے اسی سے ناب کا اسم ہے کیونکہ وہ کاٹنے والا ہوتا ہے، گویا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ منیبین الیہ سے مراد ہے توبہ کرنے والے اس کی طرف
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت من الذین فرقوا دینہم سے یہود و نصاری مراد ہیں آیت ام انزلنا علیہم سلطانا سے مراد ہے کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی کہ جو ان کو اس بات کا حکم دے رہی ہے۔
3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ام انزلنا علیہم سلطنا فہو یتکلم بما کانو بہ یشرکون یعنی کیا ہم نے ان پر کوئی کتاب اتاری ہے جو ان کو شرک کرنے کا کہتی ہے۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت…
Read the full tafseer →مُنِيْبِيْنَ [رخ کرنے والے ہوتے ہوئے ] اِلَيْهِ [اس کی طرف ] وَاتَّقُوْهُ [اور تقوی اختیار کرو اس کا ] وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ [اور قائم رکھو نماز کو ] وَلَا تَكُوْنُوْا [اور تم لوگ مت ہونا ] مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ [شرک کرنے والوں میں سے ] ۔
Read the full tafseer →(مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ ) (اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے فطرت کا اتباع کرو) (وَاتَّقُوْہُ ) (اور اللہ سے ڈرو) (وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ ) (اور نماز قائم کرو) (وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) (اور مشرکین میں سے مت ہوجاؤ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
بیان مثال برائے اظہار جہالت اہل شرک وضلال
قال اللہ تعالیٰ ضرب لکم مثلا من انفسکم۔۔۔ الی۔۔۔ سبحنہ و تعلی عما یشرکون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے وحدانیت کے دلائل ذکر کئے۔ اب مشرکین کی جہالت اور ضلالت ظاہر کرنے کے لئے خود انہی کے احوال میں سے ایک مثال بیان فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود تمہارے ہی احوال میں سے شرک کی برائی ظاہر کرنے کے لئے ایک مثال بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ کیا اے آزاد لوگو تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ جس چیز کے تمہارے ہاتھ مالک ہیں یعنی تمہارے لونڈی غلام جو تمہارے ہاتھ کا مال ہیں اور محض ظاہری اور مجازی طور پر تم ان کے مالک ہو اور یہ ملک مجازی بھی دائمی اور…
Read the full tafseer →25:۔ ایہ الزموا مقدر کے فاعل سے حال ہے (مدارک) یعنی غیر اللہ سے کٹ کر صرف اللہ کی طرف رجوع کرنے والے اور حاجات میں غائبانہ صرف اسی کو پکارنے والے۔ ای راجعین الیہ تعالیٰ بالتوبۃ واخلاص العمل و قیل ای امنقطعین الیہ تعالیٰ (روح ج 21 ص 41) ۔ ولا تکونو من المشرکین یہ منیبین کی تفصیل ہے یعنی حاجات میں صرف اللہ کی طرف رجوع کرو اور اس کی عبادت، دعاء اور پکار میں کسی کو شریک نہ بناؤ۔ بعض لوگوں نے اس کو اقیموا الصلوۃ کے ساتھ متعلق کیا ہے یعنی نماز چھوڑ کر مشرک نہ بنو لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ ترک نماز اگرچہ کبیرہ گناہ ہے لیکن شرک نہیں۔ علامہ ابو السعود فرماتے ہیں ولا تکونوا من المشرکین المبدلین لطفرۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
شرک کی مثال
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا۔ جو اس کی وحدانیت اور وقوع قیامت کی دلیل بنتی ہیں ۔ پھر آخر میں فرمایا کہ اللہ کی صفت بلند ہے جس کے ساتھ کوئی چیز مماثلت نہیں رکھتی۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے شرک کی قباحت کو سمجھانے کے لیے ایک مثال بیان کی ہے ارشاد ہوتا ہے ضرب لکم مثلاً من انفسکم اللہ نے تمہارے لیے تمہارے نفسوں میں سے ہی ایک مثال بیان کی ہے۔ یعنی یہ مثال خود تمہارے افراد اور سوسائٹی میں پائی جاتی ہے ، اور وہ یہ ہے ھل لکم من ما ملکت ایمانکم من شرکاء فی مارزقنکم کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی ایسا ہے جو ہماری عطا کردہ روزی میں تمہارا شریک ہو فانتم فیہ…
Read the full tafseer →مُنِيْبِيْنَ اِلَيْہِ وَاتَّقُوْہُ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ 31ۙ
نوب
النَّوْب : رجوع الشیء مرّة بعد أخری. وَأَنِيبُوا إِلى رَبِّكُمْ [ الزمر/ 54] ، مُنِيبِينَ إِلَيْهِ [ الروم/ 31]
( ن و ب ) النوب
۔ کسی چیز کا بار بارلوٹ کر آنا ۔ یہ ناب ( ن ) نوبۃ ونوبا کا مصدر ہے، وَأَنِيبُوا إِلى رَبِّكُمْ [ الزمر/ 54] اپنے پروردگار کی طررجوع کرو ۔ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ [ الروم/ 31] ( مومنو) اس خدا کی طرف رجوع کئے رہو ۔ فلان ینتاب فلانا وہ اس کے پاس آتا جاتا ہے ۔
وقی
الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
ترکیب : من انفسکم فمن للابتداء و فی قولہ من ما ملکت للتبعیض والثالثہ مزید لتاکید الاستفہام الجاری مجری النفی۔ و معنی من انفسکم انہ اخذ مثلاً و انتزعہ من اقرب شیء منکم وھی انفسکم فالمعنی ھل ترضون لانفسکم ان یکون لکم شرکاء من بعض عبید کم یشاء کو نکم فیما رزقکم فانتم ایہا السادات والعبید فی ذلک المرزوق سواء تخافون العبیدان یستعبدوا بالتصرف کخیفتکم انفسکم ای کما یخاف بعضکم بعضا من الاحرار فانتم فیہ سواء والجملۃ فی موضع نصب جواب الاستفہام ای ھل لکم۔ فطرۃ اللہ الزموھا اوعلیکم بھا منیبین الیہ راجعین الیہ من اناب اذا رجع مرۃ بعد اخریٰ وھو حال من الضمیر فی المناصب المقدر لفطرۃ اللہ اوفی اقم لان الایۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ وَاتَّقُوْہُ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَلاَ تَـکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَـھُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا ط کُلُّ حِزْبٍ م بِمَالَدَیْہِمْ فَرِحُوْنَ ۔ (الروم : 31، 32)
(اسی کی طرف متوجہ ہو کر اور اسی سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور نہ ہوجاؤ مشرکین میں سے۔ ان مشرکین میں سے جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور گروہوں میں بٹ گئے، ہر گروہ اسی پر مگن ہے جو اس کے پاس ہے۔ )
دینِ فطرت کے تقاضے
مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ … یہ فَاَقِمْ وَجْھَکَکی ضمیر خطاب سے حال پڑا ہوا ہے۔ فرّاء نے تقدیرِکلام یوں ذکر کی ہے فَاَقِمْ وَجْھَکَ وَمَنْ مَّعَکَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے ایک مثال کے ذریعے انسان کی فطرت کو بیدار کرتے ہوئے شرک سے نفرت دلائی اور عقیدہ توحید سمجھایا۔ اس آیت میں یہ باور کروایا ہے کہ توحید فطرت کی آواز ہے اور انسان کو اپنی حقیقی فطرت پر قائم رہنا چاہیے۔
حکم ہوا کہ اپنے آپ کو دین حنیف پر قائم رکھیں یہی فطرت ہے۔ اور اسی فطرت پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ لیکن اکثر لوگ اس کا علم نہیں رکھتے۔” اللہ “ سے ڈرتے ہوئے اسی کی طرف متوجہ رہو اور نماز قائم کرو، اور مشرکین میں نہ ہوجاؤ۔ اہل علم نے ان الفاظ کے تین مفہوم بیان کیے ہیں۔
1 مشرکین میں نہ ہوجاؤ کا تعلق نماز سے نہیں دونوں حکم الگ، الگ ہیں۔ 2 نماز قائم کرو یعنی…
Read the full tafseer →31: مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ (اسی ہی کی طرف تم رجوع کرو)
نحو : یہ نمبر 1۔ یہ الزموا کی ضمیر سے حال ہے۔ اور اتقوا اور اقیموا اور لا تکونوا یہ تمام اس مضمر پر معطوف ہیں۔ نمبر 2۔ اقم وجھک سے حال ہے۔ کیونکہ آپ کو حکم یہ امت ہی کو حکم ہے گویا اس طرح فرمایا فاقیموا وجوھکم منیبین الیہ تم اپنے چہروں کو درست کرو اس کی بارگاہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے نمبر 3۔ یا تقدیر عبادت یہ ہے کہ کُوْنوا منیبین الیہ تم اس کی طرف رجوع کرنے والے بنو اس کی دلیل ولا تکونوا ہے۔
وَاتَّقُوْہُ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ (اور اس سے ڈرو اور نماز کی پابندی کرو) یعنی اس کے اوقات میں ادا کرو۔ وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ( اور…
Read the full tafseer →تفسیر 31۔” منیبین “ کہ آپ اپنا چہرہ اس دین حنیف کی طرف متوجہ کریں اور آپ کی امت بھی اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے یا سب کو چھوڑکر اللہ ہی کی طرف لو ٹتے ہوئے۔ یہ خطاب تو نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن آپ کے ساتھ اس میں امت بھی شامل ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یایھا النبی اذا طلقتم النساء الیہ یعنی لوٹنے والے توبہ کی طرف اور طاعت کو قبول کرنے والے ۔ واتقوہ واقیموا الصلوۃ ولاتکونو امن المشرکین “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
30 تا 32۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور عبادت کا حکم پیغمبر ﷺ کو دیا کہ تم اپنا منہ سیدھا رکھو دین پر ایک طرف ہو کر شرک کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں یہ اللہ کی وحدانیت کی تاکید ہے اسی واسطے فرمایا لازم پکڑو اللہ کی فطرت کو جس پر اس نے پیدا کیا ہے اس سے مطلب توحید اور خدا کی معرفت ہے کہ اسی پر ساری خلقت پیدا کی گئی ہے جیسا کہ پہلی آیت الست بر بکم قالوا بلیٰ کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مخلوق کو اسلام پر پیدا کیا ہے بعد میں بعضے بعضے لوگ یہودی نصرانی وغیرہ ہوگئے خدا کی بنائی ہوئی فطرت کو بدلنا نہیں چاہئے فطرت کے معنے اسلام کے ہیں صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
آیت نمبر : 30-32
اللہ تبارک و تعالیٰ تمام احوال میں اخلاص اور اقامت دین کا حکم دیتا ہے ‘ لہٰذا فرمایا : (فاقم وجھک) اپنے آپ کو دین کی طرف متوجہ رکھیے اور اس سے مراد اسلام ‘ ایمان اور احسان ہے ‘ یعنی اپنے قلب و قصد اور بدن کے ساتھ ظاہری شرائع کو قائم کیجیے ‘ مثلاً نماز ‘ زکوٰۃ ‘ روزہ اور حج وغیرہ اور اس کے ساتھ ساتھ باطنی شرائع پر عمل کیجیے ‘ مثلاً : اللہ تعالیٰ سے محبت ‘ اس سے خوف ‘ اس پر امید اور اس کی طرف انابت وغیرہ۔ ظاہری اور باطنی شرائع میں احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرے کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے ‘ اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہوسکے تو اس طرح اس کی عبادت کرے کہ اللہ تجھے دیکھ…
Read the full tafseer →40 اِنابت و رجوع الی اللہ کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم فطرت الہیہ یعنی اسی دین حنیف کی پیروی کرو۔ اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس سے ڈرتے رہو۔ نماز قائم کرو اور کبھی مشرکوں سے نہیں ہونا۔ یعنی اللہ پاک کی طرف انابت و رجوع کا اصل تعلق تو دل سے ہے جو ظاہراً نظر آنے والی چیز نہیں۔ پس تم دل کی اس انابت و رجوع کے ساتھ ساتھ نماز بھی قائم کرو کہ یہ اس انابت و رجوع کا ایک کامل اور جامع ترین مظہر ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی ساتھ اس بات کا بھی ہمیشہ خیال رہے کہ مشرکین سے ہمیشہ اور ہر حال میں دور اور مجتنب رہو تاکہ ان کی شرکیات کے ہر دھول دھبے سے محفوظ رہ سکو۔ سو اوپر دین حق کو اپنانے کی تعلیم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
شرک کی تردید کے لیے مثالیں اور فرقہ بندی کا ردّ
تشریح : اللہ ایک ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ مسلمان کا یہ عقیدہ اس کا دل سے یقین زبان سے اقرار اور عمل بےحد ضروری ہے۔ جو لوگ ایمان لے آتے ہیں تو پھر ان کو پوری طرح اسلام میں داخل ہوجانا چاہیے اور پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کو ایمان سے ہٹا نہ سکے۔ ظاہر ہے شیطان بھی انہی لوگوں کی تاک میں رہتا ہے جو اللہ کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کو دین سے ہٹانے اور منتشر کرنے کے لیے شیطان کے دو حربے بڑے زبردست ہـیں ایک یہ کہ ان میں فرقہ بندی پیدا کردیتا ہے۔ اور دوسرے ان کی توجہ اصل اصول دین سے ہٹا کر دوسرے غیر ضروری مسائل میں الجھا دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–40
آیات 28 تا 40
اسرارو معارف
اللہ کریم تمہارے لیے ایک مثال ارشاد فرماتا ہے کہ تم خود اپنی ذات پر غور کرو تمہارے جیسے انسان جو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں اور تمام انسانی اوصاف میں تمہارے ساتھ ہیں مگر تمہارے غلام اور خادم ہیں صرف اس ایک وجہ سے وہ تمہارے مال میں تمہاری مرضی کے بغیر داخلت نہیں کرسکتے اور اگر کوئی تمہارا معمولی سا حصہ دار اور شریک ہو تو پھر تم اس کی ناراضگی سے کس قدر ڈرتے ہو اور اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرتے تو جنہیں تم نے اللہ کا شریک ٹھرایا ہے وہ تو اس کی مخلوق ہیں کسی بھی وصف میں اس کے شریک نہیں اور اللہ کا اگر کوئی شریک ہوتا تو اللہ کی مرضی سے نظام نہ چلتا اور یوں تباہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ف 1 یعنی توحید کے اصلی اور فطری دین میں باگڑ پیدا کر کے اپنے الگ الگ دین بنا لئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کفر و شرک کے جتنے دین پائے جاتے ہیں وہ سب اصل دین فطرۃ …توحید/ میں بگاڑ سے پیدا ہوئے ہیں (دیکھیے سورة یونس آی 19
Read the full tafseer →(30:31) منیبین۔ اسم فاعل جمع مذکر ۔ منصوب۔ منیب واحد۔ انابۃ افعال مصدر نوب مادہ۔ ہر طرف سے مڑ کر اللہ کی طرف لوٹنے والا۔ اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ناب ینوب نوبۃ (نصر) کسی چیز کا بار بار لوٹنا۔ اسی سے ہے نوبت بمعنی باری ۔
منیبین یا تو اقم کی ضمیر فاعل سے حال ہے یا الناس سے حال ہے اور دریں وجہ منصوب ہے۔
اتقوہ۔ فعل امر جمع مذکر حاضر ہ ضمیر واحد مذکر غائب (جس کا مرجع اللہ ہے) تم اس سے ڈرو۔ اتقاء (افتعال) مصدر مادہ وقی باب افتعال میں واؤ کو تاء میں تبدیل کرکے تاء میں مدغم کیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
لغات القرآن آیت نمبر ( 28 تا 32 ) ۔
ضرب (اس نے چلایا۔ بیان کیا) ۔ ایمان (داہنا (ہاتھ) ۔ سواء (برابر) ۔ اھوآئ (ھوائ) (خواہشیں۔ تمنائیں) ۔ اقم (قائم کر) ۔ وجھ (چہرہ) ۔ حنیف (اللہ ہی کا ہوجانا) ۔ فطرۃ اللہ (دین اسلام۔ اللہ کی فطرت) ۔ دین القیم (بہترین دین) ۔ منیبین (رجوع کرنے والے۔ پلٹنے والے ) ۔ فرقوا (وہ گروہ بن گئے۔ جداجدا ہوگئے) ۔ حزب (جماعت۔ گروہ) ۔ فرحون (خوش اور مگن رہنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر (28 تا 32) ۔ ” دین اسلام اور نبی کریم ﷺ کے ارشادات کی برکت سے آج دنیا سے لونڈی اور غلاموں کا رواج تو ختم ہوچکا ہے لیکن نزول قرآن کے وقت غلام اور لونڈیوں کا نہ صرف رواج تھا بلکہ انسانوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
خوشی میں خدا کا شکر ، اور تکلیف میں صبر کرنا مومن کی شان ہے۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فطرت اسلامی کا یہ ثبوت بیان فرمایا ہے کہ مشرک فطرت کے تقاضے سے ناچار ہونے کے وقت اللہ وحدہ لاشریک کو پکارتے ہیں پھر جب اللہ ان کو اپنی طرف سے کچھ رحمت کا مزہ چکھادیتا ہے اور ان کا مطلب پورا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے اور بتوں کی پوجا کرنے لگتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کے منکر ہوجاتے ہیں اور آسودگی کو بتوں کی مدد کا نتیجہ خیال کرتے ہیں پھر فرمایا کہ دنیا میں چند روزہ فائدہ اٹھالیں عنقریب یہ لوگ معلوم کرلیں گے کہ ان کے عملوں کی شامت سے ان کو کیا بات پیش آئی آگے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
[17] یعنی جب اللہ کی مہربانی سے مصیبت دور ہوئی تو بجائے اس کا شکر ادا کرنے کے کوئی جھوٹے دیوی دیوتاؤں کے بھجن گانے لگتا ہے اور کوئی کسی گزرے ہوئے پیر یا ولی کی نذر و نیاز چڑھاتا ہے۔ گویا مصیبت دور کرنے والے یہی ہیں۔
Read the full tafseer →نماز نہ پڑھنا شرک ہے
1: ان آیتوں میں تین چیزوں پر روشنی ڈالی ہے ۔ ایک تو یہ بتایا ہے کہ نماز نہ پڑھنااعلانیہ شرک کا ارتکاب کرنا ہے ۔ دوسرے یہ فرمایا ہے کہ تفرق وتشت پیدا کرنا مشرکین کی صفت ہے ! اور تیسرے یہ ارشاد ہے کہ اختلاف اور گروہ بندی کے لئے کوئی وجہ جواز نہیں ۔ یوں تو ہر گروہ اپنے پاس کچھ ایسے دلائل رکھتا ہے جس کی وجہ سے وہ شاداں وفرماں ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰ کو کسی عنوان گروہ بندی اور فرقہ سازی پسند نہیں غور فرمائیے ۔ نماز مسلمانوں کے لئے کتنی ضروری ہے اس کے بغیر یہ سمجھنا کہ ہم مسلمان ہیں ۔ کیا محض حسن ظن نہیں ہے ! قرآن تو کہتا ہے کہ نماز نہیں پڑھتا ۔ وہ مشرکین کی سی عادات کا حامل…
Read the full tafseer →31۔ تم سب اللہ کی طرف رجوع ہو کر فطرت الٰہی یعنی خداداد صلاحیت کی پیروی کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور نماز کی پابندی کرو اور شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوجانا ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر صحیح فطرت کی پیروی کرو اور دین فطرت کی مخالفت کر کے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے رہو اور دین حق قبول کر کے نماز کی پابندی کرو اور مشرکوں میں سے نہ ہوجانا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اصل دین پکڑو اس کی طرف رجوع ہو کر اگر صلاح دنیا کے واسطے یہ کام کئے تو دین درست نہ ہو ۔ 12
خلاصہ ! یہ کہ دین کا کام دین ہی کی غرض سے ہو دین کے کام میں دنیا کی غرض شامل نہ کرو دنیا کو مقدم رکھو گے تو دین مجروح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ف 5۔ یعنی حق تو ایک تھا اور باطل بہت ہیں، انہوں نے حق کو چھوڑ دیا، اور باطل کی مختلف راہیں اختیار کرلیں، یہ ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے کہ ایک نے ایک لے لیا، دوسرے نے دوسرا۔
Read the full tafseer →اللہ کی طرف رجوع کرو اور نماز قائم کرو اور شرک مت کرو :
31۔ ” اللہ کی طرف رجوع کرو “ خود سر اور خود مختار بن کر زندگی نہ گزارو کیونکہ اس طرح تم مالک حقیقی سے انحراف کرجاؤ گے اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس دنیا میں بھی خائب و خاسر ہو گے اور آخرت بھی تمہاری برباد ہوجائے گی ” اس سے ڈرتے رہو “ اللہ کا تقوی اختیار کرو اور اللہ کے سامنے اپنی خود مختاری کا اعلان نہ کرو بلکہ اللہ کی بندگی اختیار کرو کیونکہ یہی اللہ سے ڈرنا ہے معلوم ہوا کہ جو شرک کا مرتکب ہوتا ہے اگر وہ اللہ کی بندگی کرتا بھی ہو تو اس کا یقینا کوئی اعتبار نہیں ہوگا کیونکہ شرک اور اسلام دونوں اکٹھے نہیں چل سکتے ” نماز کو قائم کرو “…
Read the full tafseer →وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (And establish Salah, and do not be among those who associate partners with Allah - 30:31). In the previous verse it was mentioned that the human nature is designed in a manner that it has an inherent capability to accept the Truth. Now in this verse it is emphasized that establishment of prayer is the first requisite for the acceptance of Truth, because it is the manifestation of submission to Truth and practical affirmation of Faith in Islam. After that, it is said وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (30:31), that is, ` Do not…
Read the full tafseer →48 That is, "Whoever has adopted an attitude of independence and freedom and turned away from his we Lord, and whoever has adopted service of another than Allah and proved to be disloyal to his real and we Lord, should desist from this, and return to the service of the One God. Whose real servant he is by birth."
49 That is, "You should have the fear that if in spite of being a servant of Allah by birth, you adopted the way of living independently of Him, or served another beside Him, you will have to suffer a severe punishment for rebellion and ingratitude. Therefore, you should avoid every…
Read the full tafseer →