Ar-Room 30:35

Ar-Room · from ayah 35

30:35

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ ۟اَمۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوۡا بِهٖ يُشۡرِكُوۡنَ

کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے کہ اُن کو خدا کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or have We sent down to them an authority, and it speaks of what they were associating with Him?

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 4 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Room

All translations of 30:35

کیا ہم نے کوئی سند اور دلیل ان پر نازل کی ہے جو شہادت دیتی ہو اس شرک کی صداقت پر جو یہ کر رہے ہیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے کہ اُن کو خدا کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی ہے جو اسے بیان کرتی ہے جسے یہ اللہ کے ساتھ شریک کر رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے جو اس شرک کا ارتکاب کرنے کو کہتی ہو جو یہ اللہ کے ساتھ کرتے رہے ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یا ہم نے ان پر کوئی سند اتاری کہ ہو انہیں ہمارے شریک بتارہی ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا ہم نے ان پر کوئی (ایسی) دلیل اتاری ہے جو ان (بتوں) کے حق میں شہادۃً کلام کرتی ہو جنہیں وہ اﷲ کا شریک بنا رہے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی ہے کہ وہ بول کر وہ چیزیں بتاتی ہے جنھیں وہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یا ہم نے ان پر کوئی سند اتاری ہے جو اس شرک کو صحیح بتاتی ہو جو یہ لوگ کر رہے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل اتاری ہے جو ان چیزوں کی شہادت دے رہی ہے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی سند اتاری ہے جو ان کو اس شرک (کی صحت) کے بارے میں بتارہی ہو جو یہ لوگ کر رہے ہیں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا ہم نے ان پر کوئی سند اتاری ہے وہ انہیں شرک کرنے کو کہہ رہی ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی سند اتاری ہے جو انہیں ان چیزوں کے متعلق بتارہی ہے جن کو یہ شریک ٹھہرا رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے جو ان کو اللہ کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Have We sent down any sanction which provides support to their associating others with Allah in His Divinity?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Is it that We have sent down to them any authority that speaks to them about their associating partners with Him?

— Muhammad Taqi Usmani

Is it that We have sent down to them any authority that speaks to them about their associating partners with Him?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or have We revealed to them an authority, which speaks of that which they have been associating with Him

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or have We revealed unto them any warrant which speaketh of that which they associate with Him?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or have We sent down to them an authority, and it speaks of what they were associating with Him?

— Saheeh International

Have We sent them any authority to speak in support of their idols?

— Muhammad Sarwar

Or, have We sent down upon them an authority so that it speaks of that which they associate with Him?

— Muhammad Habib Shakir

Or have We sent unto them any authority, so that it speaketh of that which they have been with Him associating?

— Abdul Majid Daryabadi

Or have We sent down authority to them, which points out to them the things to which they pay part-worship?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 30:35

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 33–37

انسان کی مختلف حالتیں اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہے ہے کہ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کیساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ لیکفروا میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لئے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلوگے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کو توال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائیے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الروم 54 یعنی آخر کس دلیل سے ان لوگوں کو یہ معلوم ہوا کہ بلائیں خدا نہیں ٹالتا بلکہ حضرت ٹالا کرتے ہیں ؟ کیا عقل اس کی شہادت دیتی ہے ؟ یا کوئی کتاب الہی ایسی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہو کہ میں اپنے خدائی کے اختیارات فلاں فلاں حضرتوں کو دے چکا ہوں اور اب وہ تم لوگوں کے کام بنایا کریں گے ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–37

مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا، یعنی یہ مشرکین وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین فطرت اور دین حق میں تفریق پیدا کردی، یا یہ کہ دین فطرت سے مفارق اور الگ ہوگئے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مختلف پارٹیوں میں بٹ گئے۔ شیعاً شیعہ کی جمع ہے، ایسی جماعت جو کسی مقتداء کی پیرو ہو، اس کو شیعہ کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دین فطرت تو توحید تھا جس کا اثر یہ ہونا چاہئے تھا کہ سب انسان اس کو اختیار کر کے ایک ہی قوم ایک ہی جماعت بنتے مگر انہوں نے اس توحید کو چھوڑا اور مختلف لوگوں کے خیالات کے تابع ہوگئی اور انسانی خیالات اور رایوں میں اختلاف ایک طبعی امر ہے، اس لئے ہر ایک نے اپنا اپنا ایک مذہب بنا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اما نزلنا علیھم سلطنا فھو یتکلم بما کانوا بہ یشرکون (35) ہم پیچھے اس اسلوب کی وضاحت کرچکے ہیں کہ اس قسم کے سوالیہ جملوں میں کلام کا ایک ٹکڑا حذف ہوجاتا ہے جس کی خانہ پری متکلم کا لب و لہجہ کردیتا ہے۔ اس حذب کو کھول دیجئے تو مطلب یہ ہوگا کہ ان نادانوں نے یونہی خدا کے شریک بنا رکھے ہیں یا ہم نے کوئی دلیل اتاری ہے جو ان کے شریکوں کے شریک خدا ہونے کی شہادت دے رہی ہو ! ! اس اسلوب کلام میں طنز و تحقیر اور غیظ و غضب سب جمع ہوجاتا ہے۔ آخری گروپ کی سورتوں میں اس کی نہایت بلیغ مثالیں آئیں گی۔ ان آیات میں توحید کی ایک نہایت اہم نفسیاتی دلیل کی طرف توجہ دلائی گئی۔ وہ یہ کہ جب انسانیت پر حقیقی افتقارا اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

35-1یہ استفہام انکاری ہے۔ یعنی یہ جن کو اللہ کا شریک گردانتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں، یہ بلا دلیل ہے، اللہ نے اس کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ بھلا اللہ تعالیٰ شرک کے اثبات و جواز کے لئے کس طرح کوئی دلیل اتار سکتا تھا۔ جب کہ اس نے سارے پیغمبر بھیجے ہی اس لئے تھے کہ وہ شرک کی تردید اور توحید کا اثبات کریں۔ چناچہ ہر پیغمبر نے آکر سب سے پہلے اپنی قوم کو توحید ہی کا وعظ کیا۔ اور آج اہل توحید مسلمانوں کو بھی نام نہاد مسلمانوں میں توحید و سنت کا وعظ کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ مسلمان عوام کی اکثریت شرک و بدعت میں مبتلا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–36

15: انسان جب پہلے پہل دنیا میں آیا تو اس نے فطری صلاحیت سے کام لے کر دین حق کو اختیار کیا، لیکن پھر لوگوں نے الگ الگ طریقے اختیار کرکے اپنے آپ کو مختلف مذاہب میں بانٹ لیا، اسی کو دین کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور فرقوں میں بٹ جانے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 33–37

درس نمبر 184 نظر میں اس سورة کا یہ سفر اور یہ باب اس کے حقیقی موضوع پر ہے۔ یعنی اس کائنات کے واقعات و حادثات اور انسانی زندگی کی اقدار و حادثات کے اندر گہرا ربط ہے۔ اس کائنات کے نوامیس قدرت ، اس زندگی کے قوانین اور اس دین کے قوانین شریعت باہم موافق ، ہم آہنگ ، مربوط اور بلا تضاد ہیں۔ اس سبق میں بتا یا جاتا ہے کہ انسانی خواہشات تو بدلتی رہتی ہیں لیکن سنت الٰہیہ کے اندر کوئی تغیر نہیں ہوتا۔ دین قیم کے اصولوں کے مقابلے میں شرکیہ عقائد پائے چوبیں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر اس سبق میں انسانی نفس کی کیفیات کی مختلف حالات میں تصویر کشی کی گئی ہے۔ حالت امن میں نفس انسانی کی حالت کیا ہوتی اور حالت خطرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی عقل سلیم اور فطرت انسانی کی شہادت شرک کو صاف طور پر رد کرتی ہے تو کیا اس کے خلاف وہ کوئی حجت اور سند رکھتے ہیں، جو بتلاتی ہو کہ خدا کی خدائی میں دوسرے بھی اس کے شریک ہیں (معاذاللہ) اگر نہیں تو انھیں معبود بننے کا استحقاق کہاں سے ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 35 اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْہِمْ سُلْطٰنًا فَہُوَ یَتَکَلَّمُ بِمَا کَانُوْا بِہٖ یُشْرِکُوْنَ ” اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے بارے میں کیا ان لوگوں کے پاس کسی آسمانی کتاب میں کوئی دلیل موجود ہے جو اس شرک کی صداقت پر شہادت دیتی ہو جو یہ کر رہے ہیں ؟ کیا ان پر ایسی کوئی ہدایت نازل ہوئی ہے کہ فلاں شخصیت بھی اللہ کے برابر ہوسکتی ہے اور فلاں ہستی بھی اس کے اختیارات میں حصہ دار بن سکتی ہے ؟ یہاں پر آسمانی سند یعنی الہامی کتاب کے بارے میں لفظ یَتَکَلَّم آیا ہے ‘ یعنی کیا اللہ کی نازل کردہ کتاب ان سے اس بارے میں گفتگو کرتی ہے ؟ علامہ اقبال نے اپنے اس شعر میں قرآن کے لیے جو لفظ ”گویا“ گفتگو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 34–35

39 کیا ان لوگوں کے پاس کوئی ایسی دلیل ہے جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ فلاں مصیبت سے اللہ نے نہیں بلکہ فلاں حضرت نے نجات دی تھی۔ یا یہ خوشحالی کے دن اللہ کی مہربانی سے نہیں بلکہ فلاں حضرت کی نظر کرم کی وجہ سے میسر آئے ہیں۔ کیا کسی آسمانی کتاب میں یہ لکھا ہوا ہے کہ اللہ نے اپنے فلاں فلاں کے اختیارات و تصرفات فلاں فلاں حضرت کو یا فلاں دیوتا کو یابت کو تفویض کردیئے ہیں اور ان کاموں کے لئے تم ان کی طرف رجوع کرسکتے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 35–36

42۔ اسی سے ملتی ہوئی ایک آیت سورة یونس (پ 11 ع 2) میں آچکی ہے۔ (آیت) ” واذا مس الانسان “۔ الخ۔ آیت میں کھلا ہوا بیان فطرت بشری کا ہے۔ (آیت) ” ام ..... یشرکون “۔ یعنی کوئی بھی دلیل عقلی یا نقلی ان کے پاس ایسی ہے جو شرک کا حکم دے رہی ہو ؟..... دلائل توحید پر تو بیشمار ہیں شرک پر کوئی ایک بھی دلیل قائم کرکے دکھائی جائے۔ (آیت) ” فھویتکلم “۔ تکلم یہاں لفظی معنی میں نہیں، بلکہ ظہور دلالت کے معنی میں ہے۔ (آیت) ” فرحوا بھا “۔ اس اتراہٹ سے ان پر جو غفلت اور بےفکری طاری ہوتی ہے وہ انہیں تحقیق وفکر سے بےنیاز کردیتی ہے، اور وہی انہیں کفر وشرک تک پہنچا دیتی ہے۔ فرح کا استعمال لغت عرب میں مدح وذم دونوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 28–40

آیت نمبر 28 تا 40 ترجمہ : اے مشرکو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے خود تمہاری ہی مثال بیان فرمائی اور وہ یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے تم کو اموال وغیرہ دے رکھے ہیں کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے تمہارا کوئی شریک ہے ؟ کہ تم اور وہ اس میں برابر درجہ کے ہو اور تم ان سے ایسا اندیشہ رکھتے ہو جیسا کہ خود آپس کا یعنی اپنے آزاد لوگوں کا، اور استفہام نفی کے معنی میں ہے، مطلب یہ کہ تمہارے نزدیک بھی تمہارے غلام تمہارے شریک نہیں ہیں، (الیٰ آخرہ) یعنی ان اموال میں جو ہم نے تم کو دے رکھے ہیں تمہارے غلام تمہارے جیسے آزادوں کے مانند شریک نہیں ہیں کہ برابر کا درجہ رکھتے ہوں، تو پھر تم اللہ کے بعض غلاموں کو اس کو شریک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام انزلنا علیھم سلطنا فھو یتکلم بما کانوا بہ یشرکون . کیا ہم نے ان پر کوئی سند نازل کی ہے کہ وہ ان کو شرک کرنے کو کہہ رہی ہے ؟ اَمْ منقطعہ ہے یا متصلہ ہے اور فعل محذوف پر عطف ہے یعنی کیا یہ لوگ بغیر کسی دلیل کے شرک کر رہے ہیں ‘ یا اللہ نے شرک کی کوئی سند نازل کی ہے ‘ استفہام انکاری ہے۔ حضرت ابن عباس نے سلطانا کا ترجمہ کیا دلیل اور عذر۔ قتادہ نے کہا : (آسمانی) کتاب۔ بعض نے کہا : سلطان سے صاحب سلطان مراد ہے۔ یعنی فرشتہ جس کے ساتھ دلیل ہو ‘ یا پیغمبر جس کی تائید معجزہ سے کی گئی ہو۔ یَتَکَلَّمُ کہہ رہی ہو زبان سے یا بدلالت حال۔ دوسری آتی میں کِتَابُنَا یَنْطِقُ عَلَیْکُمْ بالْحَقِّ بِمَا کَانُوْا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

کیا ہم نے ان مکہ والوں پر آسمان سے کوئی کتاب نازل کی ہے کہ جو ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کو کہہ رہی ہے اور کیا اس میں اس چیز کی سند اور دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شرک کا حکم دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطٰنًا۔۔ : ”اَم“ کلام کے درمیان آتا ہے، اس سے پہلے ہمزہ استفہام والا جملہ ہوتا ہے، یہاں وہ جملہ کیا ہے ؟ رازی نے فرمایا : ”تو کیا وہ بلا دلیل محض خواہش نفس کی پیروی میں شریک کر رہے ہیں، یا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی ہے۔۔ ؟“ ہمارے استاذ محمد عبدہ لکھتے ہیں : ”یعنی آخر شرک کی دلیل کیا ہے ؟ کیا ان کی عقل یہ کہتی ہے یا (ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی ہے اور) ہماری کسی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ تمہارے فلاں بزرگ کو ہم نے اپنے اختیارات میں شریک کرلیا ہے، لہٰذا تم انھیں بھی اپنی حاجت روائی کے لیے پکار سکتے ہو ؟“ مزید دیکھیے سورة احقاف (4)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 33–35

اس سے مراد قحط اور شدت ہے۔ وہ اپنے رب سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے یہ عذاب اٹھا لے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ اپنے دل سے اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں وہ شرک نہیں کرتے۔ اس کلام کا معنی تعجب ہے اللہ تعالیٰ کے بنی نے مشرکوں پر تعجب کیا اظہار کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں کرتے جبکہ ان پر پے در پے دلائل واقع ہوتے ہیں یعنی جب ان کفار کو مرض یا شدت میں سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو دعوت دیتے ہیں یعنی جو مصیبت ان پر نازل ہوتی ہے وہ اس کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد لیتے ہیں وہ صرف اسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کسی اور (بتوں) کی طرف متوجہ نہیں ہوتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–40

1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ منیبین الیہ سے مراد ہے توبہ کرنے والے اس کی طرف 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت من الذین فرقوا دینہم سے یہود و نصاری مراد ہیں آیت ام انزلنا علیہم سلطانا سے مراد ہے کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی کہ جو ان کو اس بات کا حکم دے رہی ہے۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ام انزلنا علیہم سلطنا فہو یتکلم بما کانو بہ یشرکون یعنی کیا ہم نے ان پر کوئی کتاب اتاری ہے جو ان کو شرک کرنے کا کہتی ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَمْ اَنْزَلْنَا [یا ہم نے اتارا ] عَلَيْهِمْ [ان لوگوں پر ] سُلْطٰنًا [کوئی دلیل ] فَهُوَ [پھر وہ ] يَتَكَلَّمُ [بولتی ہے ] بِمَا [اس کے بارے میں ] كَانُوْا بِهٖ يُشْرِكُوْنَ [یہ لوگ جس کو شریک کیا کرتے ہیں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 33–35

رحمت اور زحمت کے بارے میں انسان کا ایک خاص مزاج ان آیات میں اول تو انسان کی ایک عادت کا تذکرہ فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ ان پر جب کوئی مصیبت آتی ہے اور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور پوری توجہ کے ساتھ اسے پکارتے ہیں کہ یہ مصیبت دور ہوجائے، یہ تو مصیبت کے وقت ان کا عمل ہوتا ہے، پھر جب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نوازتا ہے تو اچانک ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے، جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ان لوگوں سے خطاب فرمایا (فَتَمَتَّعُوْافَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ) (کہ تم مزے اڑا لو عنقریب کفر و شرک اور ناشکری کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–40

بیان مثال برائے اظہار جہالت اہل شرک وضلال قال اللہ تعالیٰ ضرب لکم مثلا من انفسکم۔۔۔ الی۔۔۔ سبحنہ و تعلی عما یشرکون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے وحدانیت کے دلائل ذکر کئے۔ اب مشرکین کی جہالت اور ضلالت ظاہر کرنے کے لئے خود انہی کے احوال میں سے ایک مثال بیان فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود تمہارے ہی احوال میں سے شرک کی برائی ظاہر کرنے کے لئے ایک مثال بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ کیا اے آزاد لوگو تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ جس چیز کے تمہارے ہاتھ مالک ہیں یعنی تمہارے لونڈی غلام جو تمہارے ہاتھ کا مال ہیں اور محض ظاہری اور مجازی طور پر تم ان کے مالک ہو اور یہ ملک مجازی بھی دائمی اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 35–36

28:۔ واذا اذقنا الناس الخ سے مشرکین مراد ہیں یعنی جب ہم لوگوں کو بارش، صحت، وسعت رزق وغیرہ کی صورت میں اپنی رحمت سے بہروہ ور کرتے ہیں تو وہ خوش ہوجاتے ہیں اور اترانے لگتے ہیں۔ لیکن اگر اپنی ہی بد اعمالیوں کی وجہ سے کوئی مصیبت آگئی تو اپنے معبودوں سے مایوس ہوگئے کیونکہ ان کے مزعومہ معبود اور کارساز اس مصیبت سے ان کو بچانے میں ناکام رہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 33–37

ربطہ آیات گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور قیامت کا ذکر فرمایا تھا نیز یہ کہ توحید ایک فطری چیز ہے۔ ہر موادد اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے یعنی اس میں توحید خداوندی کو تسلیم کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ اسی کی طرف رجوع کرو اور اسی سے ڈرو۔ نیز فرمایا کہ نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ بنو۔ شرک خلاف فطرت چیز ہے یہ عقل اور نقل دونوں کیخلاف ہے جب عقائد بگڑتے ہیں تو فرقے پیدا ہوتے ہیں اور ہر فرقہ اپنے اپنے عقیدہ پر خوش ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ صرف وہی راہ راست پر ہے۔ یہ سب گمراہی ہے ، توحید کو ماننا ہی فطری امر ہے۔ اس کی دلیل اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے واذا مس الناس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْہِمْ سُلْطٰنًا فَہُوَيَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِہٖ يُشْرِكُوْنَ۝ 35 نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 33–35

ترکیب : واذا مس الناس شرط دعوا جواب منیبین حال من الضمیر الفاعل فی دعوا اذا فریق اذا مکانیۃ للمفاجاۃ نائب عن الفاء فی جواب الشرط فتمتعوا فیہ التفات عن الغیبۃ سلطنا یذکر لانہ بمعنی الدلیل و یونث لانہ بمعنی الحجۃ۔ وقیل ھو جمع سلیط کر غیف درغفان۔ واسناد التکلم الیہ مجاز کما تقول نطقت الحال بکذا ای یتکلم تکلم دلالۃ بما کانوا ما مصدریۃ والضمیر فی بہ اللہ۔ اوموصولۃ والضمیر لھا ای بالامر الذی بسببہ یشرکون۔ تفسیر : واذا مس الناس ضر دعواربہم الخ یہاں سے انسانی جذبات میں فطرت الہیہ کا ثبوت کیا جاتا ہے کہ جب انسان پر کوئی سخت مصیبت آپڑتی ہے جو اس کے بیرونی آثار سے اس کو قدرے بیخبر کر ڈالتی ہے تو یہ پھر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَمْ اَنْزَلْـنَا عَلَیْہِمْ سُلْطٰنًا فَھُوَا یَتَـکَلَّمُ بِمَا کَانُوْا بِہٖ یُشْرِکُوْنَ ۔ (الروم : 35) (کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل اتاری ہے جو ان چیزوں کی شہادت دے رہی ہو جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔ ) مشرکین سے ایک سوال مشرکین جن قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے تھے جب ان سے پوچھا جاتا تو وہ اپنے شرک کی تائید میں اللہ تعالیٰ ہی کو دلیل کے طور پر پیش کرتے کہ ہم نے اپنے آبائواجداد کو چونکہ اسی طرح شرک میں مبتلا دیکھا ہے تو یقینا ان پر کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی دلیل نازل کی گئی ہوگی۔ اس لیے وہ اس پر عامل رہے اور ہم بھی اسی لیے اس طرزعمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسے رد…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 33–35

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ مفاد اور تعصبات کی خاطر دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے اور اس پر خوش ہوتے ہیں ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ انہیں معمولی تکلیف پہنچے تو وہ مخلص ہو کر اپنے رب کو پکارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بات ماننے کے دل میں وعدے بھی کرتے ہیں۔ ایک رب کو ماننا اور ہر حال میں اسی کو پکارنا ہی انسان کی فطرت ہے اور ہونی چاہیے۔ اکثر انسانوں کی فطرت ہے کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی تو اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں اور گڑگڑا کر دعائیں کرتے ہیں کہ الٰہی میری مشکل حل فرما اور مجھے اس تکلیف سے نجات دے دے۔ جب تکلیف رفع ہوجاتی ہے تو اپنے رب سے اس طرح لاتعلق ہوجاتے ہیں جیسے انہوں نے اپنے رب کو پکارا ہی نہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

35: اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْہِمْ سُلْطٰنًا (کیا ہم نے ان پر کوئی سند نازل کی ہے) سلطاناً کا معنی حجت و دلیل ہے۔ فَھُوَ یَتَکَلَّمُ (وہ ان سے کہہ رہی ہے۔ ) یہاں تکلمہؔ مجازی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ جیسا کہتے ہیں کتابہ ناطق بکذا وھذا مما نطق بہ القرآن۔ یعنی شہادت و گواہی گویا تقدیر کلام اس طرح ہے فھو یشہد بشرکھم وبصحتہٖ وہ گواہی دیتا ہے ان کے شرک اور اس کی درستی کی۔ بِمَا کَانُوْا بِہٖ یُشْرِکُوْنَ (جس کے سبب سے وہ شرک کر رہے ہیں) ما ؔ مصدریہ ہے ان کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کے سبب نمبر 2۔ ماؔ موصولہ ہے اور ضمیر بہؔ کی اس کی طرف لوٹتی ہے تقدیر کلام اس طرح ہوا فھو یتکلم بالا مرالذی بسببہٖ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

35۔ ، ام انزلنا علیھم سلطانا، حضرت ابن عباس ؓ نے ، سلطانا، کا ترجمہ کیا ہے دلیل اور عذر۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد کتاب ہے۔ ، فھویتکلم، وہ زبان سے کہہ رہے ہوں یا دلالت حال سے ۔ ، بماکانو ابہ بشرکون، یعنی شرکت اور صحت شرک کی شہادت دے رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 33–38

33 تا 38۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فطرت اسلامی کا یہ ثبوت بیان فرمایا کہ مشرک فطرت کے تقاضے سے ناچار ہونے کے وقت اللہ وحدہ لاشریک لہ کو پکارتے ہیں اور جب اللہ چکھائے ان کو کچھ مہر اور ان پر نعمت کے دروازے کھول دے کہ وہ آسودہ ہوجاویں تو خدا تعالیٰ کے ساتھ شرک اور بتوں کی پوجا کرنے لگتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کے منکر ہوجاتے ہیں اور آسود گی کو بتوں کی مدد کا نتیجہ خیال کرتے ہیں پھر فرمایا کہ فائدہ اٹھائیں چند روز کام چلالیں اب آگے عنقریب یہ لوگ معلوم کرلیں گے کہ ان کے عملوں کی شامت سے ان کو کیا بات پیش آئی اب آگے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی بیوقوفی کا ذکر فرمایا کہ کیا ہم نے ان کے اوپر کوئی سند…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 33–35

آیت نمبر : 33-35 (واذا مس الناس ضر) ” اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔ “ یعنی مرض یا ہلاکت کا خوف وغیرہ (دعوا ربھم منیبین الیہ) ” تو اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہوئے اسے پکارتے ہیں۔ “ اور اس حال میں وہ اپنے اس شرک کو فراموش کردیتے ہیں جو وہ کیا کرتے تھے کیونکہ انہیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو ان کی تکلیف کو دور کرسکے۔ (ثم اذآ قھم منہ رحمۃ) ” پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے۔ “ یعنی ان کو ان کی بیماری سے شفایاب اور ہلاکت کے خوف سے نجات دیتا ہے (اذا فریق منھم) تو ان میں سے ایک فریق اس انابت کو ترک کرتے ہوئے جو اس سے صادر ہوئی تھی ‘ ایسی ہستیوں کو اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

46 شرک کی تردید کے لیے مشرکوں سے سوال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہم نے ان پر ایسی کوئی سند اتاری ہے جو انکے شرک کے حق میں گواہی دے رہی ہو ؟۔ استفہام انکاری ہے۔ یعنی کسی نقل صحیح یا عقل سلیم کی کوئی سند و دلیل ایسی ہے ہی نہیں جو تمہاری ان مزعومات کی تصدیق و تائید کرسکے ؟ قرآن و سنت کی ایسی کوئی نص اگر تمہارے پاس موجود ہے تو اس کو پیش کرو۔ اور اگر نہیں ہے، اور یقینا نہیں ہے، تو پھر تم لوگ کیوں شیطان کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہو ؟ اور کیوں ان شرکیات کا ارتکاب کر کے اپنے اوپر ظلم ڈھا رہے ہو ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو شرک کے جواز کیلئے کسی سند اور دلیل کا کوئی سوال نہیں پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کا اصل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 28–37

شرک کی تردید کے لیے مثالیں اور فرقہ بندی کا ردّ تشریح : اللہ ایک ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ مسلمان کا یہ عقیدہ اس کا دل سے یقین زبان سے اقرار اور عمل بےحد ضروری ہے۔ جو لوگ ایمان لے آتے ہیں تو پھر ان کو پوری طرح اسلام میں داخل ہوجانا چاہیے اور پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کو ایمان سے ہٹا نہ سکے۔ ظاہر ہے شیطان بھی انہی لوگوں کی تاک میں رہتا ہے جو اللہ کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کو دین سے ہٹانے اور منتشر کرنے کے لیے شیطان کے دو حربے بڑے زبردست ہـیں ایک یہ کہ ان میں فرقہ بندی پیدا کردیتا ہے۔ اور دوسرے ان کی توجہ اصل اصول دین سے ہٹا کر دوسرے غیر ضروری مسائل میں الجھا دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 28–40

آیات 28 تا 40 اسرارو معارف اللہ کریم تمہارے لیے ایک مثال ارشاد فرماتا ہے کہ تم خود اپنی ذات پر غور کرو تمہارے جیسے انسان جو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں اور تمام انسانی اوصاف میں تمہارے ساتھ ہیں مگر تمہارے غلام اور خادم ہیں صرف اس ایک وجہ سے وہ تمہارے مال میں تمہاری مرضی کے بغیر داخلت نہیں کرسکتے اور اگر کوئی تمہارا معمولی سا حصہ دار اور شریک ہو تو پھر تم اس کی ناراضگی سے کس قدر ڈرتے ہو اور اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرتے تو جنہیں تم نے اللہ کا شریک ٹھرایا ہے وہ تو اس کی مخلوق ہیں کسی بھی وصف میں اس کے شریک نہیں اور اللہ کا اگر کوئی شریک ہوتا تو اللہ کی مرضی سے نظام نہ چلتا اور یوں تباہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 35–36

ف 5 یعنی آخر شرک کی دلیل کیا ہے ؟ کیا انکی عقل یہی کہتی ہے یا ہماری کسی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ تمہارے فلاں بزرگ کو ہم نے اپنے اختیارات میں شریک کرلیا ہے لہٰذا تم انہیں بھی اپنی حاجت روائی کے لئے پکار سکتے ہو ؟6 یعنی ہم ہار بیٹھتے ہیں کہ اب کوئی نہیں جو ہماری مصیبت ٹال سکے۔ یہ کافر کی حالت ہے کہ سختی کے وقت مایوس ہوجاتا ہے اور عیش و آرام کے وقت تکبر و غرور کرنے لگتا ہے بہت سے کمزور ایمان ولاوں کا بھی یہی حال ہے مگر مومن کا حال اس کے برعکس ہے۔ اسے جب عیش و آرام میسر ہوتا ہے تو اللہ کا شکر بجا لاتا ہے اور جب مصیبت یا تنگی پہنچی ہے تو صبر و تحمل سے کام لیتا ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ آنحضرت نے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(30:35) ام۔ منقطعہ ہے۔ اضراب کے معنی میں ہے اور استفہام انکاری کو بھی شامل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ شرک اور ناشکری کا ارتکاب کرتے ہیں جو بزاتہ گناہ عظیم ہے۔ اس پر مستزادیہ کہ اس کے لئے ان کے پاس کوئی دلیل بھی تو نہیں ہے۔ سلطانا۔ بحالت نصب بوجہ مفعول انزلنا۔ سلطان دلیل ۔ برہان ۔ حجت ۔ سند۔ زور۔ طاقت۔ بما کانوا بہ یشرکون ۔ یاء سببیہ ہے۔ ما کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) ما۔ مصدریہ ہے اس صورت میں بہ میں ضمیر واحد مذکر غائب اللہ کی طرف راجع ہے۔ (2) ما۔ موصولہ ہے اور ضمیر ہ اس چیز کے لئے ہے جس کو وہ اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے۔ پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا۔ کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل یا حجت ایسی نازل…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–37

لغات القرآن آیت نمبر (33 تا 37 ) ۔ مس (اس نے چھوا ۔ ہاتھ لگایا) ۔ ضر (تکلیف۔ مصیبت ) ۔ اذاق (اس نے چکھایا ) ۔ تمتعوا (تم فائدہ حاصل کرلو۔ مزے اڑالو ) ۔ سلطان (قوت۔ سند۔ حجت ) ۔ یتکلم (بات کرتا ہے۔ بتاتا ہے) ۔ یقنطون (وہ مایوس ہوتے ہیں) ۔ یبسط (وہ کھولتا ہے۔ کشادہ کرتا ہے) ۔ یقدر (اندازہ کرتا ہے۔ کم دیتا ہے ) ۔ تشریح : آیت نمبر (33 تا 37 ) ۔ ” مومن دل کی گہرائیوں سے اس بات پر یقین کامل رکھتا ہے کہ اس کائنات کا خالق، مالک اور رازق صرف ایک اللہ ہے۔ جو کچھ ہوتا ہے اسی کے حکم سے ہوتا ہے، راحت و آرام، تکلیف یا مصیبت، رزق میں اضافہ یا کمی سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ مومن کو راحت و آرام ملتا ہے تو وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 33–39

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ تم جو چیز ہدیہ یاتحفہ دوست احباب یا آشناؤں کو یا اور کسی شخص کو اس نیت سے دو کہ وہ پلٹ کر اس سے زیادہ دے گا تو اس کا ثواب اللہ کے ہاں نہ ملے گا، کیونکہ یہ عمل خالصتا اللہ نہیں ہوا، آگے فرمایا کہ صدقہ دینے سے ظاہر میں اگرچہ مال گھٹتا ہوا معلوم ہوتا ہے لیکن اللہ کے نزدیک وہ بڑھتا ہے کیونکہ دنیا میں اللہ تعالیٰ ایسے مال میں برکت دیتا ہے اور عقبی میں ایک روپیہ خرچ کرنے کا اجر دس سے لے کر سات سو تک ہے اب آگے مشرکوں کو یہ تنبیہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کو اور ان کی ضرورت کی سب چیزوں کو پیدا کیا اور وہی مقررہ کے آنے پر ان کو دنیا سے اٹھائے گا اور پھر سزا وجزا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 35–38

[19] ہر صاحب جائیداد کے مال میں ان سب کے حق مقرر کئے گئے ہیں۔ سود کی حرمت کے احکام سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں بیان ہوئے ہیں۔ یہ نہیں فرمایا کہ رشتہ دار، مسکین اور مسافر کو خیرات دو ۔ ارشاد یہ ہوا ہے کہ ان لوگوں کا حق ہے جو ان کو دینا چاہئے۔ ان کو دیتے رہو۔ یہ خیال دل میں ہرگز نہ آنے پائے کہ یہ کوئی احسان ہے جو ان لوگوں پر کیا جا رہا ہے بلکہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ مال کے مالک حقیقی نے اگر تمہیں زیادہ دیا ہے اور دوسرے بندوں کو کم تو یہ زائد مال ان دوسروں کا حق ہے جو تمہاری آزمائش کے لئے تمہیں دیا گیا ہے کہ اصل مالک کو ان کا حق پہنچاتے ہو یا نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–36

ف 1: ان آیات میں انسانی نفسیات بیان فرمائی ہیں ۔ کہ کیونکر وہ حالات کے عدم توازن سے اپنے دماغی توازن کو کھوبیٹھتا ہے اور یہ نہیں سمجھتا کہ یہ سب انقلابات اللہ کی طرف سے ہیں ۔ اور ناگریز ہیں جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو پھر خلوص قلب کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکتا ہے ! اور رو رو کر دعائیں مانگتا ہے اور اللہ کی رحمت و شفقت سے دوچار ہوتا ہے ۔ تو پھر اللہ کے ساتھ اپنی کوششوں اور نتائج کو شریک وسہیم ٹھہرا لیتا ہے ۔ حالانکہ یہ کفر ہے ۔ اور اس کے لئے کوئی دلیل نہیں ۔ پھر زندگی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مسرت میں یہ انسان بہت خوش ہوتا ہے ۔ اور تکلیف میں جو سراسر ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ مایوس ہوجاتا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

35۔ کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی سند نازل کی ہے وہ سند خدا تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کو ان سے کہتی ہے۔ یعنی کوئی کتاب ان پر ایسی نازل کی ہے جس میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا کرو اور کسی کو اس کا شریک ٹھہرائو ، مطلب یہ ہے کہ شرک پر ان کے پاس کوئی دلیل نقلی بھی نہیں اور عقل صحیح تو مانتی ہی نہیں جب ہی تو مصیبت میں خدا ہی پکارتے ہیں جب شرک کے لئے نہ دلیل عقلی نہ نقلی تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک باطل ہوا ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 34–39

ف 1۔ جب دلائل توحید میں معلوم ہوا کہ رزق کا بسط و قبض اللہ ہی کی طرف سے ہے تو اس سے ایک بات اور ثابت ہوئی کہ بخل کرنا مذموم ہے کیونکہ اس سے تقدیر سے زیادہ نہیں مل سکتا، پھر امساک بےفائدہ ہے۔ اور خیر ہونے کے لئے جو یریدون وجہ اللہ کی قید لگائی ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ مطلق انفاق خیر اور موجب فلاح نہیں، خدا کے نزدیک پہنچنا اور بڑہنا اس مال کے ساتھ خاص ہے جو اللہ کی خوشنودی کے لئے خرچ کیا جاوے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا اس شرک پر وہ کوئی دلیل بھی رکھتے ہیں جو وہ کر رہے ہیں : 35۔ یہ سوال اگر اس وقت کفار مکہ یا مشرکین مکہ سے کیا گیا ہے کہ کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل اتاری ہے جو انہیں شرک کرنے کو کہہ رہی ہے ؟ تو یہ سوال بدستور آج بھی موجود ہے جو فی زماننا شرک کرتے چلے جا رہا ہے بلکہ اس شرک کا نام انہوں نے اسلام رکھ دیا ہے اور اس اسلامی شرک میں وہ مبتلا ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ نہ تو اس کی کوئی دلیل اس وقت مشرکین کے پاس تھی اور نہ ہی کوئی دلیل آج کے مشرکوں کے پاس ہے جس میں وہ آج مبتلا ہیں کہ بلائیں اللہ تعالیٰ نہیں ٹالتا بلکہ علی ہجویری (رح) ‘ عبدالقادر جیلانی (رح) ‘ صابر کلیری (رح) ‘ مجدد الف ثانی (رح) ‘ شہباز…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–37

مِنَ الَّذِينَ فَرَّ‌قُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا (Among those who split up religion and became sects - 30:32) that is, these disbelievers are those who have created a difference between Natural Faith and the true religion, or they have alienated themselves from the Natural Faith, as a result of which they are divided into different sects. شِيَعًا :Shiya'an is the plural of شِیعۃ shi` ah. A group of people following a leader is called shi ah. The fact is that the Natural Faith was based on the Oneness of Allah, by following which the entire human kind should have been one solid unit and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–35

54 That is "What authority have they got to say that the calamities are not averted by God but by the so-called saint? Does common sense approve of it? Or, is there any Divine Book which says that AIlah has delegated His powers to such and such saints, and that they should now be invoked by the people to help them out of difficulties?"

Read the full tafseer →